زنا کی سزا (حصہ سوم)

زنا کی سزا (حصہ سوم)


روایتی علمی ذخیرے میں زیر بحث سوال کے حوالے سے پیش کی جانے والی توجیہات کے غیراطمینان بخش ہونے کے تناظر میں متاخرین میں سے بعض اہل علم نے ان سے ہٹ کر بعض نئی توجیہات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب تک الجھن موجود ہے، مزید غور وفکر اور تحقیق کی گنجایش،بلکہ ضرورت موجود رہے گی اور اہل علم اگر اس ضمن میں نئی اور متبادل آرا پیش کرتے ہیں تو ان کو سنجیدہ توجہ کا مستحق سمجھا جانا چاہیے۔ یہ توجیہات حسب ذیل ہیں:

۵۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ قرآن مجید میں رجم کا حکم کسی واضح آیت کی صورت میں نہیں، بلکہ سورۂ مائدہ (۵) کی آیات ۴۱۔۴۳ میں مذکور اس واقعے کے ضمن میں نازل ہوا ہے جس میں یہود کے، منافقانہ اغراض کے تحت، ایک مقدمے کے فیصلے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کرنے کا ذکر ہے۔ روایات کے مطابق یہ زنا کا مقدمہ تھا اور یہود نے نرم سزا کی توقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رجوع کیا تھا، لیکن آپ نے ان پر تورات ہی کی سزا ،یعنی رجم کو نافذ کر دیا۔ ۳۶؂مولانا کی راے میں قرآن مجید میں اس واقعے کا ذکر اس کو فی الجملہ حکم کا ماخذ بنانے کے لیے کافی ہے، تاہم قرآن نے رجم کا ذکر اصلاً شریعت محمدیہ کے ایک حکم کے طور پر نہیں بلکہ شریعت موسوی کے آثار وباقیات کے ضمن میں کیا ہے جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے اور وہ عمومی طور پر اسے رجم کی سزا نہیں دینا چاہتا۔ گویا قرآن کی رو سے زانی کے لیے کوڑے کی سزا تو لازم ہے جبکہ رجم ایک ثانوی سزا ہے جس کو نمایاں اور عملاً رائج نہ کرنا مقصود ہے، اور اگر اس کا ذکر قرآن میں نصاً وتصریحاً کر دیا جاتا تو اس سے اس کی اہمیت نمایاں ہو جاتی اور اس کے نفاذ کو ٹالنے کا مقصد حاصل نہ ہوتا۔ شاہ صاحب کے نزدیک قرآن نے اسی پہلو سے اس سزا کے نفاذ کی شرائط، یعنی مجرم کے شادی شدہ اور مسلمان ہونے کی وضاحت نہیں کی،بلکہ ان کے اخذ واستنباط کو روایات ومقدمات پر چھوڑ دیا ہے تاکہ ان کی تعیین میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش باقی رہے، اور اسی لیے معمولی شبہات اور اعذار کی بنا پر رجم کی سزا کو ساقط کر کے سو کوڑوں کی سزا دینے پر اکتفا کی جاتی ہے۔ ۳۷؂

شاہ صاحب کی توجیہ پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر قرآن مجید کے رجم کی سزا کو مبہم طور پر بیان کرنے سے مقصود یہ تھاکہ عمومی طور پر رجم کی سزا نافذ نہ کی جائے اور اس کے نفاذ میں اجتہادی اختلاف کی گنجایش باقی رہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کے منشا کے برعکس شادی شدہ زانی کے لیے متعین طور پر رجم کی سزا کیوں مقرر کر دی؟ اگر قرآن کا منشا آپ پر بھی واضح نہیں ہو سکا تو بلاغت کے پہلو سے ابہام کا یہ اسلوب کمال نہیں،بلکہ نقص کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ اور اگر خود قرآن کا منشاوہی ہے جو روایت میں بیان ہوا ہے تووہی سوال عود کر آتا ہے کہ قرآن خود صاف لفظوں میں اس کی تصریح کیوں نہیں کرتا اور اس کے لیے ایک جگہ زنا کی سزا مطلقاً سو کوڑے مقرر کرنے اور دوسری جگہ رجم کی سزا کا مبہم انداز میں ذکر کرنے اور پھر اس کے نفاذ کی شرائط و تفصیلات کو روایات ومقدمات پر، جو ابھی وجود میں بھی نہیں آئے تھے، منحصر چھوڑ دینے کا پر پیچ طریقہ کیوں اختیارکرتا ہے؟

۶۔ مولانا امین احسن اصلاحی نے یہ راے ظاہر کی ہے کہ روایت میں جلا وطنی یا رجم کی سزا آیت محاربہ پر مبنی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے 'محاربہ' اور 'فساد فی الارض' کے مجرموں کے لیے عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی چڑھانے، ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے اور جلا وطن کر دینے کی سزائیں بیان کی ہیں۔ مولانا کا کہنا ہے کہ شادی شدہ زانی کے لیے بھی اصل سزا سو کوڑے ہی ہے، جبکہ جلاوطنی یا رجم دراصل اوباشی اور آوارہ منشی کی سزا ہے جو 'فساد فی الارض' کے تحت آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی نوعیت کے بعض مجرموں پر زنا کی سزا کے ساتھ ساتھ، سورۂ مائدہ کی مذکورہ آیت کے تحت 'فساد فی الارض' کی پاداش میں جلا وطن کرنے یا سنگ سار کرنے کی سزا بھی نافذ کی تھی۔ ۳۸؂اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد 'الثیب بالثیب جلد ماءۃ والرجم' کے بارے میں مولانا اصلاحی کی راے یہ ہے کہ یہاں حرف 'و'جمع کے لیے نہیں، بلکہ تقسیم کے مفہوم میں ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ زانی کی اصل سزا تو تازیانہ ہی ہے، البتہ آیت محاربہ کے تحت مصلحت کے پہلو سے اسے جلاوطن یا سنگ سار بھی کیا جا سکتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح آیت مائدہ کے تحت ازروے مصلحت بعض مجرموں کو جلاوطنی کی سزا دی، اسی طرح بعض سنگین نوعیت کے مجرموں کے شر وفساد سے بچنے کے لیے آیت مائدہ ہی کے تحت انھیں رجم کی سزا بھی دی۔ ۳۹؂

اس راے کو درست ماننے کے نتیجے میں 'رجم' کی بنیاد زانی کا شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونا نہیں، بلکہ اس کے جرم کی نوعیت قرار پاتی ہے۔ اس طرح نہ ہر شادی شدہ زانی کو رجم کرنا لازم رہتا ہے اور نہ کوئی غیر شادی شدہ محض اپنے کنوارے ہونے کی بنا پر اس سزا سے محفوظ قرار پاتا ہے، بلکہ اگر زنا کے جرم میں سنگینی یا شناعت کا کوئی بھی اضافی پہلو پایا جائے تو مجرم کی ازدواجی حیثیت سے قطع نظر، اسے رجم کیا جا سکتا ہے۔

رجم کی سزا کو زنا کے عام مجرموں کے بجاے زیادہ سنگین نوعیت کے مجرموں سے متعلق قرار دینے کی مذکورہ توجیہ کو قبول کر لیا جائے تو قرآن مجید اور روایات کا ظاہری تعارض باقی نہیں رہتا۔ یہ راے اس پہلو سے بھی قابل توجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا کے ایک مقدمے میں فیصلہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا کہ 'لاقضین بینکما بکتاب اللّٰہ'، یعنی میں تمھارے مابین کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کروں گا، اور پھر آپ نے کنوارے زانی کو سو کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کا، جبکہ شادی شدہ زانیہ کو رجم کرنے کاحکم دیا۔ ۴۰؂قرآن مجید میں سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ ہی وہ واحد مقام ہے جہاں مجرموں کو سزا کے طور پر جلا وطن کرنے یا عبرت ناک طریقے سے قتل کر دینے کا ذکر ہوا ہے۔ شارحین حدیث نے اس مقام پر 'کتاب اللّٰہ'سے اللہ کا حکم یا اس کا قانون مراد لیا ہے، لیکن اگر زانی کو جلا وطن یا سنگ سار کرنے کا ماخذ سورۂ مائدہ کی آیت محاربہ کو قرار دینے کی راے درست تسلیم کر لی جائے تو 'کتاب اللّٰہ' کے لفظ کی مذکورہ تاویل کی ضرورت نہیں رہتی، البتہ اس امر کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں کہ یہ توجیہ رجم سے متعلق تمام روایات پر پوری طرح منطبق نہیں ہوتی، کیونکہ اس توجیہ کی رو سے یہ محض زنا کے سادہ مقدمات نہیں تھے، بلکہ ان میں سزا پانے والے مجرموں کو درحقیقت آوارہ منشی اور بدکاری کو ایک پیشے اور عادت کے طور پر اختیار کر لینے کی پاداش میں آیت محاربہ کے تحت رجم کیا گیا۔ اب اگر آیت محاربہ کو رجم کا ماخذ مانا جائے تو یہ ضروری تھا کہ احساس ندامت کے تحت اپنے آپ کو خود قانون کے حوالے کرنے والے مجرم سے درگذر کیا جائے یا کم ازکم سنگین سزا دینے کے بجاے ہلکی سزا پر اکتفا کی جائے، جبکہ قبیلۂ غامد سے تعلق رکھنے والی خاتون کو خود عدالت میں پیش ہونے اور سزا پانے پر خود اصرار کرنے کے باوجود رجم کیا گیا۔ ۴۱؂

ماعز اسلمی کے جرم کی نوعیت اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں خود پیش ہونے یا پکڑ کر لائے جانے کے حوالے سے روایات الجھی ہوئی ہیں اور تفصیلی تحقیق وتنقید کا تقاضا کرتی ہیں۔ بعض روایات کے مطابق ماعز کو رجم کرنے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطبہ ارشاد فرمایا، اس سے اس کا ایک عادی مجرم ہونا واضح ہوتا ہے۔ ۴۲؂اسی طرح بعض روایات کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو بھی طلب کیا جس کے ساتھ ماعز نے زنا کیا تھا، لیکن کوئی سزا دیے بغیر اسے چھوڑ دیا ۴۳؂جو بظاہر اس امر کی دلیل ہے کہ یہ رضامندی کے زنا کا نہیں، بلکہ زنا بالجبر کا واقعہ تھا، تاہم بعض دیگر روایات کے مطابق آپ نے نہ صرف ماعز کو رجم کرنے والوں سے فرمایا کہ اگر وہ رجم سے بچنے کے لیے بھاگ کھڑا ہوا تھا تو تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا، ۴۴؂بلکہ اس کے سرپرست ہزال سے بھی کہا کہ ''اگر تم اس کے جرم پر پردہ ڈال دیتے تو یہ تمھارے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔'' ۴۵؂اگر یہ بات درست ہے تو پھر ماعز کا آیت محاربہ کے تحت ماخوذ ہونا قابل فہم نہیں رہتا۔

عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

لا یحل دم امرئ مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ وانی رسول اللّٰہ الا باحدی ثلاث: النفس بالنفس والثیب الزانی والمارق من الدین التارک للجماعۃ.(بخاری، رقم ۶۳۷۰)

''کسی مسلمان کی، جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں، جان لینا تین صورتوں کے سوا جائز نہیں: جان کے بدلے جان، شادی شدہ زانی اور وہ شخص جو دین سے نکل کر مسلمانوں کی جماعت کا ساتھ چھوڑ دے۔''

یہاں شادی شدہ کے لیے رجم کی سزا بیان کی گئی ہے اور روایت میں اسے عادی مجرموں کے ساتھ مخصوص قراردینے کا کوئی قرینہ بظاہرموجود نہیں۔ یہی صورت حال مزدور کے مقدمے میں دکھائی دیتی ہے اور روایت کے داخلی قرائن یہی بتاتے ہیں کہ یہ کوئی مستقل یاری آشنائی کا نہیں، بلکہ اتفاقیہ زنا میں ملوث ہو جانے کا ایک واقعہ تھا۔ ۴۶؂

اسی طرح یہ بات بھی بعض روایات سے بظاہر لگا نہیں کھاتی کہ مجرم کا شادی شدہ ہونا اس سزا کے نفاذ میں محض 'ایک' عامل کی حیثیت رکھتا تھا نہ کہ 'واحد' فیصلہ کن بنیاد کی۔ مثال کے طور پر مزدور کے مقدمے میں اس کے مالک کی بیوی کو رجم کی، جبکہ خود مزدور کو سو کوڑوں کی سزا دی گئی اور روایت سے اس فرق کی وجہ بظاہر شادی شدہ اور غیر شادی شدہ ہونا ہی سمجھ میں آتی ہے۔ 'لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ اِلَّا بِاِحْدٰی ثَلَاثٍ' میں بھی زانی کے شادی شدہ ہونے کو قتل کے جواز کی بنیاد قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسی اضافی پہلو کو بیان کرنے کے لیے یہ اسلوب بدیہی طور پر موزوں نہیں۔ مزید براں صحابہ کے ہاں، جنھیں رجم کے ان واقعات کے عینی شاہد ہونے کی وجہ سے مقدمے کے احوال وشرائط اور سزا کی نوعیت سے پوری طرح واقف ہونا چاہیے، اس سزا کے بارے میں جو مجموعی فہم پایا جاتا ہے، وہ بھی اس فرق کے اضافی نہیں، بلکہ اساسی اور حقیقی ہونے ہی پر دلالت کرتا ہے۔

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ اگر قرآن مجید کے ظاہر کو حکم مانا جائے تو زنا کے عام مجرموں کے حوالے سے شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کرنا بے حد مشکل ہے۔ دوسری طرف اگر روایات کے ظاہراور ان پر مبنی تعامل کو فیصلہ کن ماخذ مانا جائے تو شادی شدہ اور غیر شادی شدہ زانی کی سزا میں فرق کی نفی یا اس کی ایسی توجیہ و تاویل بظاہر ممکن دکھائی نہیں دیتی جس سے روایات کے متبادر مفہوم و مدعا کو برقرار رکھتے ہوئے قرآن مجید کے ساتھ ان کا ظاہری تعارض فی الواقع دور ہو جائے۔ اس ضمن میں اب تک جو توجیہات سامنے آئی ہیں، وہ اصل سوال کا جواب کم دیتی اور مزید سوالات پیدا کرنے کا موجب زیادہ بنتی ہیں۔ اس وجہ سے ہماری طالب علمانہ راے میں یہ بحث ان چند مباحث میں سے ایک ہے جہاں توفیق وتطبیق کا اصول موثر طور پر کارگر نہیں اور جہاں ترجیح ہی کے اصول پر کوئی متعین راے قائم کی جا سکتی ہے۔ عقلاً اس صورت میں دو ہی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:

ایک یہ کہ روایات سے بظاہر جو صورت سامنے آتی ہے، اس کو فیصلہ کن مانتے ہوئے یہ قرار دیا جائے کہ قرآن مجید کا مدعا اگرچہ بظاہر واضح اور غیر محتمل ہے، تاہم یہ محض ہمارے فہم کی حد تک ہے، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان کردہ تفصیل اللہ تعالیٰ کے منشا کی تعیین کے حوالے سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ قرآن کے ظاہر کو حکم مانتے ہوئے یہ فرض کیا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا یقیناًکوئی ایسا محل ہوگا جو قرآن کے ظاہر کے منافی نہ ہو، لیکن چونکہ قرآن کا مدعا ہمارے لیے بالکل واضح ہے، جبکہ روایات کا کوئی واضح محل بظاہر سمجھ میں نہیں آتا، اس لیے روایات اور ان پر مبنی تعامل کو توجیہ وتاویل یا توقف کے دائرے میں رکھتے ہوئے ان پر غور وفکر جاری رکھا جائے گا تاآنکہ ان کا مناسب محل واضح ہو جائے ۔

اس دوسرے زاویۂ نگاہ کے پس منظر میں یہ تصور کارفرما ہے کہ شریعت کے جو احکام قرآن مجید میں زیر بحث آئے ہیں، ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا عمل قرآن مجید کے برعکس یا اس سے متجاوز نہیں ہو سکتا اور اگر بظاہر کہیں ایسی صورت دکھائی دے تو اس کی بنیاد قرآن مجید ہی میں تلاش کرنی چاہیے یا توجیہ وتاویل کے ذریعے سے حتی الامکان اس کے صحیح محل کو واضح کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ تصور اصولی طور پر خود صحابہ کے ہاں موجود رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تھا کہ جب قرآن مجید میں قصر نماز پڑھنے کی اجازت خوف کی حالت سے مشروط ہے تو امن کی حالت میں اس رعایت سے فائدہ کیوں اٹھایا جا رہا ہے؟ ۴۷؂ابن عباس رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول گھریلو گدھے کے گوشت کی ممانعت کو حرمت پر محمول کرنے میں تردد تھا، اس لیے کہ ان کے خیال میں یہ بات قرآن مجید کی آیت 'قُلْ لَّآ اَجِدُ فِیْ مَآ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا' ۴۸؂کے منافی تھی جس میں حصر کے ساتھ صرف چار چیزوں کو حرام کہا گیا ہے۔ ۴۹؂

سنت کے جو احکام بظاہر قرآن مجید کے نصوص سے متجاوز دکھائی دیتے ہیں، ان کے بارے میں سوچ کا یہ زاویہ بھی صحابہ کے ہاں دکھائی دیتا ہے کہ شاید وہ قرآن مجید میں نازل ہونے والے حکم سے پہلے کے دور سے متعلق ہوں۔ مثال کے طور پر وضو میں پاؤں دھونے کے بجاے موزوں پر مسح کر لینے کے جواز کے بارے میں صحابہ کے مابین خاصی بحث موجود رہی ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کے جواز کے قائل نہیں تھے اور ان کا اصرار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا موزوں پر مسح کرنا سورۂ مائدہ میں وضو کی آیت نازل ہونے سے پہلے کا عمل تھا:

سلوا ہؤلاء الذین یزعمون ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مسح علی الخفین بعد سورۃ المائدۃ واللّٰہ ما مسح بعد المائدۃ.(طبرانی، المعجم الکبیر،رقم ۱۲۲۸۷)

''ان سے پوچھو جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد موزوں پر مسح کیا۔ بخدا، آپ نے سورۂ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسح نہیں کیا۔''

خود رجم کی سزا کے معاملے میں بھی یہ سوال ذہنوں میں پیدا ہوا۔ ابو اسحاق شیبانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انھوں نے کہا: ہاں، میں نے پوچھا کہ سورۂ نور کے نازل ہونے سے پہلے یا اس کے بعد؟ انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں۔ ۵۰؂

اس طرح یہ بحث دو مختلف اصولی زاویہ ہاے نگاہ میں سے کسی ایک کو ترجیح دینے کی بحث قرار پاتی ہے۔ ہماری راے میں یہ دونوں زاویے عقلی اعتبار سے اپنے اندر کم وبیش یکساں کشش رکھتے ہیں اور اس باب میں انفرادی ذوق اور رجحان کے علاوہ کوئی چیز غالباً فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔

زنا بالجبر کی سزا

قرآن مجید میں زنا کی سزا بیان کرتے ہوئے زانی اور زانیہ، دونوں کو سزا دینے کا حکم دیا گیا ہے جس سے واضح ہے کہ قرآن کے پیش نظر اصلاً زنا بالرضا کی سزا بیان کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سزا کا اطلاق زنا بالجبر پر بھی ہوگا، لیکن چونکہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ زنا بالرضا سے زیادہ سنگین جرم ہے، اس لیے زنا کی عام سزا کے ساتھ کسی تعزیری سزا ----- جو جرم کی نوعیت کے لحاظ سے موت بھی ہو سکتی ہے ----- کا اضافہ، ہر لحاظ سے قانون وشریعت کا منشا تصور کیا جائے گا۔ اس ضمن میں کوئی متعین سزا تو قرآن وسنت کے نصوص میں بیان نہیں ہوئی، البتہ روایات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض فیصلے ضرور نقل ہوئے ہیں:

وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نماز کے لیے مسجد جاتی ہوئی ایک خاتون کو راستے میں تنہا پا کر اسے پکڑ لیا اور زبردستی اس کے ساتھ بدکاری کر کے بھاگ گیا، لیکن جب اس کے شبہے میں ایک دوسرے شخص کو پکڑ لیا گیا اوراس پر سزا نافذ کی جانے لگی تو اصل مجرم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا جس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنگ سار کرنے کا حکم دے دیا۔ ۵۱؂

اس واقعے سے متعلق روایات میں اس شخص کے شادی شدہ یا غیر شادی شدہ ہونے کی تحقیق کیے جانے کا کوئی ذکر نہیں۔ اگر یہ شخص کنوارا تھا یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ازدواجی حیثیت کی تحقیق کی سرے سے ضرورت ہی محسوس نہیں کی تو پھر اس سے یہ بات بآسانی اخذ کی جا سکتی ہے کہ زنا بالجبر کی سزا رضامندی کی سزا کے مقابلے میں زیادہ سخت ہونی چاہیے۔

ایک دوسرے مقدمے میں جس میں ایک شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی سے جماع کر لیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر اس میں لونڈی کی رضامندی شامل نہیں تھی تو پھر وہ آزاد ہے اور شوہر کے ذمے لازم ہے کہ وہ اس جیسی کوئی دوسری لونڈی اپنی بیوی کے حوالے کرے۔ ۵۲؂

یہاں زنا کے مرتکب کے لیے کسی سزا کا ذکر نہیں ہوا۔ ممکن ہے، اس شخص کو کوئی سزا دی گئی ہو، لیکن روایت میں اس کا ذکر نہ ہوا ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس شخص نے اپنی بیوی کی لونڈی کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہوئے اس کے ساتھ وطی کی ہو اور اس طرح حرمت محل میں شبہے کی بنیاد پر اسے سزا سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہو۔

صحابہ اور تابعین سے زنا بالجبر کے بعض واقعات میں زنا کی عام سزا دینا منقول ہے۔ ۵۳؂ان واقعات میں زنا بالجبر کا شکار ہونے والی زیادہ تر لونڈیاں تھیں۔ عرب معاشرت میں غلام اور لونڈیاں نہ صرف اخلاقی تربیت سے محروم ہوتے تھے، بلکہ ان میں زنا اور چوری جیسی اخلاقی برائیوں کا پایا جانا ایک عام بات تھی۔ چنانچہ لونڈیوں کے ہاں عفت وعصمت کا تصور ایسا پختہ نہیں تھا کہ اس کے چھن جانے پر وہ محرومی یا ہتک عزت کے کسی شدید احساس کا شکار ہو جائیں۔ اس تناظر میں لونڈیوں کے ساتھ بالجبر زنا پر اگر کوئی سخت تر سزا نہیں دی گئی تو یہ بات قابل فہم ہے۔

سیدنا ابوبکر نے ایک مقدمے میں زنا بالجبرکے مجرم کو پابند کیا کہ وہ اس خاتون کے ساتھ نکاح کر لے، ۵۴؂جبکہ عمر بن عبد العزیز اور حسن بصری نے زنا بالجبر کی سزا یہ تجویز کی کہ مجرم پر حد جاری کرنے کے ساتھ ساتھ اسے غلام بنا کر اسی عورت کی ملکیت میں دے دیا جس کے ساتھ اس نے زیادتی کی تھی۔ ۵۵؂

تابعی مفسر سدی کی راے یہ تھی کہ اگر خاتون کا باقاعدہ پیچھا کر کے اس کے ساتھ بالجبر زنا کیا جائے تو مجرم کو لازماً قتل کیا جائے گا۔ سدی نے اس کے لیے سورۂ احزاب(۳۳) کی آیت ۶۱میں منافقین کے حوالے سے بیان ہونے والے حکم 'اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا' سے استدلال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

ہذا حکم فی القرآن لیس یعمل بہ، لو ان رجلًا او اکثر من ذلک اقتصوا اثر امراۃ فغلبوہا علی نفسہا ففجروا بہا کان الحکم فیہم غیر الجلد والرجم: ان یؤخذوا فتضرب اعناقہم .(تفسیر ابن ابی حاتم۷/ ۳۲۶،رقم۱۸۳۸۴)

''قرآن مجید میں یہ ایک ایسا حکم ہے جس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی شخص یا کچھ افراد کسی عورت کا پیچھا کریں اور اس کو زبردستی پکڑ کر اس کے ساتھ بدکاری کریں تو ان کی سزا سو کوڑے لگانا یا رجم کرنا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انھیں پکڑ کر ان کی گردنیں اڑا دی جائیں۔''

امام باقر اور امام جعفر صادق بھی زنا بالجبر کے مجرم کو قتل کر دینے کے قائل ہیں۔ ۵۶؂

جہاں تک باقی فقہی مکاتب فکر کا تعلق ہے تو فقہا اس کو زنا بالرضا کے مقابلے میں سنگین تر جنایت تسلیم کرنے کے باوجود بالعموم اس کے مرتکب کے لیے زنا کی عام سزا ہی تجویز کرتے یا زیادہ سے زیادہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کو اس کے مہر کے برابر رقم کا حق دار قرار دیتے ہیں، جبکہ احناف اس کو اس رقم کا مستحق بھی نہیں سمجھتے۔ ۵۷؂امام مالک سے منقول ہے کہ اس صورت میں عورت کو مہر کے ساتھ اس کی عزت وناموس اور حیثیت عرفی کے مجروح ہونے کا تاوان بھی دلوایا جائے گا۔ ۵۸؂

ہماری راے میں یہ بات بعض صورتوں میں تو شاید نامناسب نہ ہو، لیکن اسے علی الاطلاق درست تسلیم کرنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا بالجبر محض زنا کی دو صورتوں میں سے ایک صورت نہیں، بلکہ ایک بالکل مختلف نوعیت کا جرم ہے۔ رضامندی کا زنا اصلاً ایک گناہ ہے جس میں 'حق اللہ' پامال ہوتا ہے، جبکہ زنا بالجبر میں حق اللہ کے ساتھ ساتھ حق العبد پر بھی تعدی کی جاتی اور ایک خاتون سے اس کی سب سے قیمتی متاع چھین لی جاتی ہے۔ فقہا نے اس بات کو محسوس نہیں کیا کہ ایک پاک دامن عورت کے لیے جو اپنی عفت اور اپنی عزت نفس کو عزیز رکھتی ہے، عصمت کا لوٹا جانا کوئی مالی نقصان نہیں کہ اس کے بدلے میں اسے کچھ رقم دے کر نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس کا شکار ہونے والی خاتون کے زاویۂ نظر سے دیکھیے تو نفسیاتی لحاظ سے یہ غالباً قتل سے بھی بڑا جرم ہے اور ابن تیمیہ نے بجا طور پر اسے 'مثلہ' (Mutilation) ،یعنی انسانی جسم کی بے حرمتی کے مشابہ قرار دیا ہے۔ ۵۹؂بروکلین لا اسکول میں قانون کی استاد پروفیسر سوزن این ہرمن (Susan N. Herman) نے اس ضمن میں نفسیاتی تحقیقات کا خلاصہ ان الفاظ میں پیش کیا ہے:

"Women who are raped suffer a sense of violation that goes beyond physical injury. They may become distrustful of men and experience feelings of shame, humiliation, and loss of privacy. Victims who suffer rape trauma syndrome experience physical symptoms such as headaches, sleep disturbances, and fatigue. They may also develop psychological disturbances related to the circumstances of the rape, such as intense fears. Fear of being raped has social as well as personal consequences. For example, it may prevent women from socializing or traveling as they wish."

(Microsoft Encarta Reference Library 2003, CD edition, article: "Rape")

''زنا بالجبر کا شکار ہونے والی خواتین پامالی کے ایک احساس کا شکار ہو جاتی ہیں جو جسمانی اذیت سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ اس کا امکان ہے کہ وہ مردوں پر اعتبار کھو بیٹھیں اور انھیں شرمندگی، تذلیل اور بے پردگی کے احساسات کا تجربہ ہوتا رہے۔ اس کا شکار ہونے والی جو خواتین' Rape trauma syndrome' (زیادتی کے نفسیاتی دھچکے سے پیدا ہونے والی علامات) کا شکار ہو جاتی ہیں، ان میں سر درد، نیند میں خلل اور تھکن کی جسمانی علامات بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ ان میں زیادتی کے حالات سے تعلق رکھنے والے نفسیاتی عدم توازن مثلاً شدید خوف کا پیدا ہو جانا بھی بعید نہیں۔ زیادتی کا شکار ہونے کا خوف سماجی کے ساتھ ساتھ ذاتی نوعیت کے نتائج مرتب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر یہ خواتین کے سماجی میل جول یا اپنی مرضی سے سفر کرنے میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔''

مزید یہ کہ زیادتی کا شکار ہونے والی عورت کے 'نقصان' کو پورا کرنا اور چیز ہے اور جرم کی سنگینی کے تناظر میں مجرم کی جسمانی سزا میں اضافہ ایک بالکل دوسری چیز اور عورت کو عصمت دری کا معاوضہ دلانے کے باوجود اگر مجرم کو کوئی اضافی جسمانی سزا نہیں دی جاتی تو اس سے عدل و انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے۔

بعض اہل علم نے زنا بالجبر کو مطلقاً 'حرابہ' کی ایک صورت قرار دیا ہے۔ ہماری راے میں زنا بالجبر کی ہر شکل کو 'حرابہ' قرار دینا تو غالباً قرین انصاف نہیں ہے اور اس کی کم یا زیادہ سنگین صورتوں میں فرق ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔ مثال کے طور پر کسی موقع پر وقتی جذبات سے مغلوب ہو کر کسی خاتون کی عزت لوٹ لینے اور باقاعدہ منصوبہ بندی کر کے اس جرم کا ارتکاب کرنے کوایک ہی درجے میں نہیں رکھا جا سکتا۔ پہلی صورت نسبتاً کم سنگین ہے اور اس پرزنا کی سادہ سزا کے ساتھ جبر اور ہتک عزت کی پاداش میں کسی مناسب تعزیری سزا اور جرمانے کا اضافہ کر دینا زیادہ موزوں ہوگا، البتہ جہاں تک کسی خاتون کو اغوا کرکے اس کے ساتھ زیادتی کرنے یا اجتماعی آبرو ریزی یا خواتین کو برہنہ کر کے سربازار رسوا کرنے یا عصمت و آبرو کے خلاف تعدی کی دیگر سنگین صورتوں کا تعلق ہے جن میں قانون کی اتھارٹی کو چیلنج کرنے اور معاشرے میں جان ومال اور آبرو کے تحفظ کے احساس کو مجروح کرنے کا عنصر پایا جاتا ہے تو وہ صریحاً حرابہ اور فساد فی الارض کے زمرے میں آتی ہیں اور ایسے مجرموں کو عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے، سولی دینے یا ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دینے جیسی سزاؤں کا مستوجب ٹھہرانا ہر لحاظ سے شریعت کا منشا ہوگا۔ ۶۰؂

______________

۳۶؂بخاری، رقم ۴۱۹۰۔

۳۷؂فیض الباری ۵/ ۲۳۰ ،۶/ ۳۵۳۔۳۵۴۔ مشکلات القرآن ۱۶۵۔ ۱۶۶، ۲۱۳۔

۳۸؂تدبر قرآن ۵/ ۳۶۷۔ ۳۶۹۔

۳۹؂تدبر قرآن ۵/ ۳۷۴۔ رجم کو زنا کی سزا کا لازمی حصہ نہ سمجھنے والے بعض دیگر اہل علم نے اس سے مختلف ماخذ بھی متعین کیے ہیں۔ مثال کے طور پر مولانا عنایت اللہ سبحانی اور ڈاکٹر محمد طفیل ہاشمی نے اس حکم کا ماخذ سورۂ احزاب (۳۳) کی آیت ۶۱ کے الفاظ 'اَیْْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً' (یہ جہاں ملیں، ان کو پکڑ لیا جائے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے) کو قرار دیا ہے جن میں مدینہ منورہ کے منافقین کی فتنہ پردازیوں اور بالخصوص مسلمان خواتین کے حوالے سے ان کے مفسدانہ اور شرانگیز طرزعمل سے نمٹنے کے لیے انھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کر دینے کی دھمکی دی گئی ہے۔ (عنایت اللہ سبحانی، حقیقت رجم ۲۰۲۔۲۰۷۔ محمد طفیل ہاشمی، حدود آرڈی نینس کتاب وسنت کی روشنی میں ۱۲۷۔ ۱۳۶) جبکہ بعض اہل علم قرآن مجید میں رجم کا کوئی ماخذ متعین کیے بغیر اسے حد کے بجاے محض ایک تعزیری سزا قرار دیتے ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مجرموں کو ان کے جرم کی نوعیت کے لحاظ سے دی۔ (عمر احمد عثمانی، فقہ القرآن: رجم اصل حد ہے یا تعزیر؟ ۵۵، ۹۳۔۹۵۔ فقہ القرآن: حدود و تعزیرات اور قصاص ۶۳۲۔ ۶۴۴)

۴۰؂بخاری، رقم ۲۴۹۸۔

۴۱؂مسلم، رقم ۳۲۰۸۔

۴۲؂مسلم، رقم ۳۲۰۳۔ ۳۲۰۶۔

۴۳؂ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۴/ ۳۲۳۔

۴۴؂بخاری، رقم ۱۳۴۸۔

۴۵؂الموطا، رقم ۱۲۹۰۔

۴۶؂بخاری، رقم ۲۵۲۳۔

۴۷؂مسلم، رقم ۶۸۶۔

۴۸؂الانعام ۶: ۱۴۵۔ ''تم کہہ دو کہ میری طرف جو وحی بھیجی گئی ہے، میں اس میں کوئی چیز کسی کھانے والے پر حرام نہیں پاتا، سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو، یا رگوں سے بہایا جانے والا خون ہو یا خنزیر کا گوشت ہو، کیونکہ وہ ناپاک ہے یا ایسا جانور ہو جسے اللہ کی نافرمانی کرتے ہوئے اس کے علاوہ کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔''

۴۹؂بخاری، رقم ۵۲۰۹۔ المستدرک، رقم ۳۲۳۶۔

۵۰؂بخاری، رقم ۱۷۰۲۔

۵۱؂ابوداؤد،ر قم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔

۵۲؂نسائی، رقم ۳۳۱۰۔ ابو داؤد، رقم ۳۸۶۸۔

۵۳؂موطا امام مالک، رقم ۱۳۰۰۔ ۱۳۰۲۔ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۱۔ ۲۸۴۲۷۔

۵۴؂مصنف عبد الرزاق، رقم ۱۲۷۹۶۔

۵۵؂مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۸۴۲۳۔ ۲۸۴۲۶۔

۵۶؂الکلینی، الفروع من الکافی۷/ ۱۸۹۔القمی، من لا یحضرہ الفقیہ۴/ ۴۱،رقم ۵۰۴۱،۵۰۴۲، ۵۰۴۴۔

۵۷؂الموطا،رقم ۲۲۹۴۔ الشافعی، الام ۳/ ۲۷۲۔ سرخسی، المبسوط ۹/ ۶۱۔ ۶۲۔

۵۸؂سحنون بن سعید،المدونۃ الکبریٰ ۱۶/ ۲۵۴۔

۵۹؂مجموع الفتاویٰ ۲۰/ ۵۶۶۔

۶۰؂اس بات کو تقلیدی جمود ہی کا کرشمہ سمجھنا چاہیے کہ۱۹۹۷ء میں جب پاکستان کی قومی اسمبلی نے اجتماعی آبرو ریزی (Gang Rape) پر سزاے موت کا قانون منظور کیا تو بعض مذہبی حلقوں نے اس قانون کو غیر شرعی قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی، تاہم جناب ابو عمار زاہد الراشدی نے اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے بجا طور پر لکھا: ''ایک ہی جرم مختلف مواقع اور حالات کے حوالے سے الگ الگ نوعیت اختیار کر لیتا ہے اور جرم کی مختلف نوعیتوں کا یہ فرق علماے احناف کے ہاں تو بطور خاص تسلیم کیا جاتا ہے۔... اس اصول کی روشنی میں دیکھا جائے تو ''گینگ ریپ'' زنا کی عام تعریف سے ہٹ کر ایک الگ، بلکہ اس سے زیادہ سنگین جرم قرار پاتا ہے، اس لیے کہ اجتماعی بدکاری کی صورت میں زنا کے ساتھ دو مزید جرم بھی شامل ہو جاتے ہیں: ایک یہ کہ یہ بدکاری عملاً دوسرے لوگوں کے سامنے کی جاتی ہے جس میں تذلیل اور تشہیر کا پہلو پایا جاتا ہے اور انتقام کے لیے خود ساختہ صورت اختیار کرنا بجاے خود جرم ہے۔ پھر اس موقع پر اگر ہتھیار کی موجودگی اور نمایش بھی کی گئی ہو تو تخویف اور جبر کا ایک تیسرا جرم بھی اس کے ساتھ بڑھ جاتا ہے اور ان تمام جرائم کا مجموعہ ''گینگ ریپ'' ہے جس کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے اگر ''حدود شرعیہ'' سے ہٹ کر بطور تعزیر الگ سزا مقرر کرنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے تو اسے شرعی اصولوں سے تجاوز قرار دینا کوئی مناسب طرز عمل نہیں ہو گا۔ ... ہمارا خیال ہے کہ ''گینگ ریپ'' کی انسانیت سوز وارداتوں میں جس طرح مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس پر قابو پانے کے لیے موت کی سزا کا یہ قانون ایک مناسب، بلکہ ضروری قانون ہے اور شرعاً اس میں کوئی مضایقہ نہیں ہے۔''(ابو عمار زاہد الراشدی، عصر حاضر میں اجتہاد ۱۸۴۔۱۸۶)

_______________________




Articles by this author