سورتوں كی ترتيب اور نظم قرآن


 

نویں چیز یہ ہے کہ قرآن میں سورتیں ،جس طرح کہ عام طور پر خیال کیا جاتا ہے ،کسی الل ٹپ طریقے سے جمع نہیں کی گئیں ،بلکہ ایک خاص نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ترتیب دیا ہے اور سورتوں میں نظم کلام کی طرح یہ ترتیب بھی اُس کے موضوع کی رعایت سے نہایت موزوں اور بڑی حکیمانہ ہے ۔اِس کی نوعیت بالاجمال یہ ہے کہ قرآن کی تمام سورتیں آپس میں توام بنا کر اور سات ابواب کی صورت میں مرتب کی گئی ہیں ۔یعنی ہر سورہ مضمون کے لحاظ سے اپنا ایک جوڑا اور مثنیٰ ر کھتی ہے اور دونوں میں اُسی طرح کی مناسبت ہے، جس طرح کی مناسبت زوجین میں ہوتی ہے ۔ اِس سے مستثنیٰ چند سورتیں ہیں جن میں سے فاتحہ پورے قرآن کے لیے بمنزلۂ دیباچہ اور باقی تتمہ و تکملہ یا خاتمۂ باب کے طور پر آئی ہیں۔ پھر سات مجموعوں کی صورت میں ،جنھیں ہم نے ابواب سے تعبیر کیا ہے،یہ سورتیں قرآن میں مرتب کر دی گئی ہیں ۔قرآن سے متعلق یہ حقیقت سورۂ حجر میں اِس طرح بیان ہوئی ہے :
 
وَلَقَدْ اٰتَيْنٰكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِیْ وَالْقُرْاٰنَ الْعَظِيْمَ.(١٥:٧ ٨)
اور ہم نے (اے پیغمبر) ، تم کو سات مثانی ٣٦؎ دیے ہیں، یعنی یہ قرآن عظیم عطا فرمایا ہے ۔ ٣٧؎
 
قرآن کے اِن ساتوں ابواب میں سے ہر باب ایک یا ایک سے زیادہ مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور ایک یا ایک سے زیادہ مدنی سورتوں پر ختم ہو جاتا ہے۔
 
پہلا باب فاتحہ سے شروع ہوتا اورمائدہ پر ختم ہوتا ہے ۔اِس میں فاتحہ مکی اور باقی چار مدنی ہیں ۔
دوسرا باب انعام اور اعراف ،دو مکی سورتوں سے شروع ہوتا ہے اور دو مدنی سورتوں ،انفال اور توبہ پر ختم ہوتا ہے ۔
تیسرے باب میں یونس سے مومنون تک پہلے چودہ سورتیں مکی ہیں اور آخر میں ایک سورۂ نور ہے جو مدنی ہے ۔
چوتھا باب فرقان سے شروع ہوتا ہے ،احزاب پر ختم ہوتا ہے ۔ اِس میں پہلے آٹھ سورتیں مکی اور آخر میں ایک ، یعنی احزاب مدنی ہے۔
 
پانچواں باب سبا سے شروع ہوتا ہے ،حجرات پر ختم ہوتا ہے ۔ اِس میں تیرہ سورتیں مکی اور آخر میں تین مدنی ہیں ۔
چھٹا باب ق سے شروع ہو کر تحریم پر ختم ہوتا ہے ۔ اِس میں سات مکی اور اِس کے بعد دس مدنی ہیں ۔
 
ساتواں باب ملک سے شروع ہو کر ناس پر ختم ہوتا ہے ۔ اِس میں آخری دو ،یعنی معوذتین مدنی اور باقی سب مکی ہیں ۔
اِن میں سے ہر باب کا ایک موضوع ہے اور اُس میں سورتیں اِسی موضوع کی رعایت سے ترتیب دی گئی ہیں۔
 
پہلے باب کا موضوع یہود و نصاریٰ پر اتمام حجت ،اُن کی جگہ بنی اسمٰعیل میں سے ایک نئی امت کی تاسیس، اُس کا تزکیہ و تطہیر اور اُس کے ساتھ خدا کا آخری عہدو پیمان ہے۔
 
دوسرے باب میں مشرکین عرب پر اتمام حجت ،مسلمانوں کے تزکیہ و تطہیر اور خدا کی آخری دینونت کا بیان ہے۔
تیسرے، چوتھے، پانچویں اور چھٹے باب کا موضوع ایک ہی ہے اور وہ انذار و بشارت اور تزکیہ و تطہیر ہے۔
 
ساتویں اور آخری باب کا موضوع قریش کے سرداروں کو انذار قیامت ،اُن پر اتمام حجت، اِس کے نتیجے میں اُنھیں عذاب کی وعید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سرزمین عرب میں غلبۂ حق کی بشارت ہے۔ اِسے ہم مختصر طریقے پر محض انذار و بشارت سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں۔
 
اِن میں سے پہلے باب کو الگ کر لیجیے تو قرآن میں اِن کی ترتیب خاتمہ سے ابتدا کی طرف ہے۔ چنانچہ ساتواں باب انذار و بشارت ہی پر مکمل ہو جاتا ہے ۔ اِس کے بعد چھٹے ، پانچویں، چوتھے اور تیسرے باب میں انذار و بشارت کے ساتھ تزکیہ و تطہیر کا مضمون بھی شامل ہو گیا ہے۔پھر دوسرا اور اس سلسلے کا آخری باب ہے جس میں پیغمبر کا انذار اپنے منتہا کو پہنچتا ہے۔لہٰذا اتمام حجت اور تزکیہ و تطہیر کے ساتھ اُس میں مخاطبین کے لیے آسمان کی عدالت کا وہ فیصلہ بھی سامنے آ جاتا ہے جسے ہم قیامت سے پہلے خدا کی آخری دینونت سے تعبیر کرتے ہیں۔
 
پہلا باب اِس لحاظ سے بالکل الگ ہے کہ مشرکین عرب کے بجاے وہ یہود و نصاریٰ کے لیے خاص ہے ،لیکن قرآن کی ابتدا سے دیکھیے تو یہ بھی اتمام حجت اور تزکیہ و تطہیر کے بعد سورۂ توبہ میں دینونت کے مضمون سے بالکل اُسی طرح مربوط ہوتا ہے، جس طرح اوپر کے ابواب اگر خاتمے سے ابتدا کی طرف آئیے تو ترتیب صعودی سے مربوط ہوئے ہیں۔ لہٰذا دوسرا باب گویا ایک ذروۂ سنام ہے جہاں دونوں طرف سے ایک ہی مضمون محض اِس فرق کے ساتھ کہ مخاطبین تبدیل ہو گئے ہیں، اپنے نقطۂ کمال تک پہنچتا اور ختم ہو جاتا ہے۔
 
اِس سے واضح ہے کہ دوسرے باب سے آگے ترتیب نزولی کا طریقہ پہلے باب کے لیے ربط کی اِسی ضرورت کے پیش نظر اختیار کیا گیا ہے۔
 
پہلاباب اِس ترتیب میں مقدم اِس لیے ہوا ہے کہ حاملین قرآن اب اولاً اِسی کے مخاطب ہیں۔
 
انذار و بشارت اور اتمام حجت کا مضمون ،پہلے باب کو چھوڑ کر بالعموم مکیات اور تطہیر و تزکیہ کا مضمون مدنیات میں بیان ہوتا ہے ،لیکن یہ دونوں بھی ہر باب میں اِس طرح ہم رنگ اور ہم آہنگ ہیں گویا جڑ سے تنا اور تنے سے شاخیں پھوٹ رہی ہیں۔
 
یہ قرآن کی ترتیب ہے ۔ اِسے اگر تدبر کی نگاہ سے دیکھیے تو سورتوں کے پس منظر اور زمانۂ نزول کو سمجھنے اور قرآن کے مخاطبین، بلکہ بحیثیت مجموعی سورتوں کے موضوع اور مدعا کی تعیین میں بھی جو رہنمائی اِس سے قرآن کے طالب علم کو حاصل ہوتی ہے ،وہ قرآن سے باہر کسی دوسرے ذریعے سے ہرگز حاصل نہیں ہو سکتی۔
_____________________
 




سورہ الفجر كا عمود اور ترجمہ


 

 
بسم الله الرحمٰن الرّحيم
سورہ کا عمود اور سابق سورہ سے تعلق
سابق سورہ آسمان و زمین کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئےاس مضمون پر ختم ہوئی کہ جس خالق نے ان چیزوں کو وجود بخشا اس کی عظیم قدرت و حکمت اور اس کی غیرمحدود ربوبیت سے کسی عاقل کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہے۔ مقصود اس سے اس حقیقت کو سامنے لانا ہے کہ جب وہ عظیم قدرت و حکمت رکھنے والا بھی ہے اور اس وسعت کے ساتھ اس نے اپنا خوان کرم بھی بچھا رکھا ہے تو اس کی ان صفات کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک ایسا دن بھی لائے جس میں ان لوگوں سے باز پرس کرے جنھوں نے اس کی نعمتیں پا کر اس کی دنیا میں دھاندلی مچائی اور ان لوگوں کو انعام دے جنھوں نے شکرگزاری اور اطاعت شعاری کی زندگی بسر کی۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو یہ اس کی رحمت و ربوبیت کے منافی بھی ہے اور اس کی قدرت و حکمت کے بھی۔
 
اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو تسلی دی ہے کہ تم جس چیز سے لوگوں کو آگاہ کر رہے ہو اس کے بعد دلائل و شواہد آسمان و زمین کے چپہ چپہ پر موجود ہیں۔ اگر ان لوگوں کو نظر نہیں آرہے ہیں تو تم اپنا فرض انذار ادا کرو۔ اندھوں کو راہ دکھانا تمھارا کام نہیں ہے۔
 
اس سورہ میں آفاق اور تاریخ کے بعض نہایت نمایاں آثار و واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ثابت فرمایا ہے یہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ اس کے خالق و مالک کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے۔ قوموں کے ساتھ بھی اس کا یہی معاملہ ہے۔ ان کو جو ڈھیل ملتی ہے اس کے اذن سے ملتی ہے اور جب ان پر گرفت ہوتی ہے تو اس کے حکم سے ہوتی ہے۔اس کے ہاتھ ہر وقت قوموں کی نبض پر رہتے ہیں۔ اس دنیا میں ہر ایک کا امتحان ہو رہا ہے کہ وہ نعمت پا کر شکر کی روش اختیار کرتا ہے یا فخرواستکبار کی۔اسی طرح مشکل حالات میں صبروثابت قدمی کا ثبوت دیتا ہے یا مایوسی و دل شکستگی کا۔ پہلی روش ابدی فتح و فیروزمندی کی ضامن ہے اور دوسری دائمی خسران و نامرادی کی۔ اللہ کا مبارک بندہ وہ ہے جو نفس مطمئنہ کے ساتھ اپنے رب کی طرف لوٹا۔ نہ نعمت پا کر مغرور ہوا اور نہ فقر کی آزمائش سے دل شکستہ۔ انہی کو راضیۃ مرضیۃ کی بادشاہی حاصل ہو گی۔
 
ب۔ سورہ کے مطالب کا تجزیہ
سورہ کے مطالب کی تقسیم اس طرح ہے:
(۱۔۵) آفاق کی بعض نشانیوں کی طرف اشارہ جو اس حقیقت پر شاہد ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز کی باگ اس کے خالق کے ہاتھ میں ہے۔ وہی جس حد تک چاہتا ہے اس کو ڈھیل دیتا ہے اور جہاں چاہتا ہے روک لیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ کوئی شے اس کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھ سکے یا پیچھے ہٹ سکے۔
 
(۶۔۱۴) تاریخ کی بعض عظیم قوموں کا حوالہ اس حقیقت کے ثبوت میں کہ خالق کی یہی نگرانی دنیا کی قوموں پر بھی قائم ہے۔جب وہ اپنے اختیار سے غلط فائدہ اٹھا کر خدا کے حدود کو لانگنے کی جسارت کرتی ہیں تو ان کو بس ایک خاص حد ہی تک ڈھیل ملتی ہے۔ اس کے بعد لازما ان کی پکڑ ہوتی ہے اور ایسی سخت پکڑ ہوتی ہے کہ وہ اپنی تمام عظمت و شوکت کے باوجود اس کے آگے سپر انداز ہو جاتی ہیں۔
 
(۱۵۔۲۰) انسان کی اس گمراہی کی طرف اشارہ کہ جب اس کو نعمت ملتی ہے تو وہ اس کو اپنا حق سمجھتا اور اس مغالطہ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ خدا کی نظروں میں عزت و شرف رکھنے والا ہے اس وجہ سے اس کی عزت افزائی ہوئی ہے۔ اسی طرح اگر وہ نعمت سے محروم ہو جاتا ہے تو سمجھتا ہے کہ خدا نے اس کی ناقدری کی ہے۔ حالانکہ نعمت ملے یا تنگی رزق سے سابقہ پیش آئے، دونوں ہی حالتیں بطور امتحان پیش آتی ہیں۔ پہلی حالت میں اللہ تعالیٰ یہ دیکھتا ہے کہ انسان نعمت پا کر شکر کرنے والا اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والا بنتا ہے یا اکڑنے والا اور دوسروں کے حقوق غصب کرنے والا بن کے رہ جاتا ہے۔ دوسری صورت میں یہ دیکھتا ہے کہ وہ اپنے رب کی اس تقسیم پر قانع و صابر، راضی و مطمئن رہتا ہے یا خدا سے مایوس، شاکی اور پست ہمت بن جاتا ہے۔ حالانکہ خدا سے شاکی اور مایوس ہونے کے بجائے اسے اپنے اعمال پر نظر ڈالنی چاہیے کہ خدا کی نعمت پا کر یتیموں اور غریبوں کے ساتھ اس کا سلوک کیا ہونا چاہیے تھا اور اس نے مال کی اندھی بہری محبت میں مبتلا ہو کر ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا!
 
(۲۱۔۲۶) قیامت کے دن ان لوگوں کی حسرت و مایوسی کی تصویر جو خدا کے بخشے ہوئے مال کو پا کر اس کے پجاری بن کر بیٹھ رہے۔ اس کو اپنی آخرت کا ذریعہ نہیں بنایا۔
 
(۲۷۔۳۰) ان لوگوں کی خوش حالی و فیروز مندی کا بیان جو یسر و عسر اور تنگی و فراخی دونوں میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے۔ نعمت ملی تو اس پر مغرور ہونے کے بجائے اپنے رب کے شکر گزار اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے رہے اور اگر تنگی رزق سے آزمائے گئے تو مایوس و دل شکستہ ہونے کی جگہ اپنی حالت پر صابر و قانع اور اپنے رب کے فیصلہ پر راضی رہے۔
_________________
سورة الفجر
مکّيّةٌ _________________  اٰيات:۳۰
بسم اللهالرحمٰن الرّحيم
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوَتْرِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَسْرِ هَلْ فِي ذَلِكَ قَسَمٌ لِّذِي حِجْرٍ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ وَثَمُودَ الَّذِينَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ الَّذِينَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ فَأَكْثَرُوا فِيهَا الْفَسَادَ فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ فَأَمَّا الْإِنسَانُ إِذَا مَا ابْتَلَاهُ رَبُّهُ فَأَكْرَمَهُ وَنَعَّمَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَكْرَمَنِ وَأَمَّا إِذَا مَا ابْتَلَاهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُ فَيَقُولُ رَبِّي أَهَانَنِ كَلَّا بَل لَّا تُكْرِمُونَ الْيَتِيمَ وَلَا تَحَاضُّونَ عَلَى طَعَامِ الْمِسْكِينِ وَتَْاكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا وَتُحِبُّونَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا كَلَّا إِذَا دُكَّتِ الْأَرْضُ دَكًّا دَكًّا وَجَاء رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفًّا صَفًّا وَجِيءَ يَوْمَئِذٍ بِجَهَنَّمَ يَوْمَئِذٍ يَتَذَكَّرُ الْإِنسَانُ وَأَنَّى لَهُ الذِّكْرَى يَقُولُ يَا لَيْتَنِي قَدَّمْتُ لِحَيَاتِي فَيَوْمَئِذٍ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔اٰٰيات:۱۔۳۰
ترجمہ آیات ۱۔۳۰
شاہد ہے فجر اور دس راتیں اور جفت و طاق اور رات جب وہ چل کھڑی ہو۔ کیوں، ان میں تو ہے ایک عاقل کے لیے عظیم شہادت! دیکھا نہیں، کیا کیا تیرے خدا نے عاد کے ساتھ! ستونوں والے ارم کے ساتھ جن کا ثانی نہ ہوا ملکوں میں۔ اور ثمود کے ساتھ جنھوں نے وادی میں پتھر تراشے اور فرعون میخوں والے کے ساتھ! انھوں نے ملکوں میں سر اٹھائے اور ان میں بڑی اودھم مچائی تو تیرے خدا وند نے ان پر عذاب کے کوڑے برسائے۔ بے شک تیرا خدا وند گھات میں رہتا ہے۔ لیکن انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس کا خدا وند اس کا امتحان کرتا اور اس کو عزت بخشتا ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ میرے رب نے میری شان بڑھائی ہے اور جب اس کو جانچتا اور رزق میں کمی کرتا ہے تو کہتا ہے کہ میرے خدا وند نے مجھے ذلیل کر ڈالا۔ ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیموں کی قدر نہیں کرتے، اور نہ مسکینوں کو کھلانے پر ایک دوسرے کو ابھارتے، اور وراثت کو سمیٹ کر ہڑپ کرتے ہو۔ اور مال کے عشق میں متوالے ہو۔ ہر گز نہیں، اس وقت کو یاد رکھیں جب زمین کوٹ کوٹ کر برابر کر دی جائے گی اور تیرا خدا وند صف در صف فرشتوں کے جلو میں نمودار ہو گا اور جہنم حاضر کی جائے گی۔ اس دن انسان سوچے گا مگر کیا حاصل اس سوچنے کا! کہے گا، کاش میں نے اپنی زندگی کے لیے کچھ کر رکھا ہوتا! پس اس دن نہ اس کا سا عذاب کوئی دے سکتا اور نہ اس کا سا باندھنا کوئی باندھ سکتا۔ اے وہ جس کا دل (اپنے رب پر) جما رہا، چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ مل جا میرے بندوں میں اور داخل ہو جا میری بہشت میں۔(۱۔۳۰)








سب سے بڑا گناہ


 

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَیُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللّٰهِ؟ قَالَ: أَنْ تَجْعَلَ لِلّٰهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ. قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ ذٰلِكَ لَعَظِيْمٌ. قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَّطْعَمَ مَعَكَ. قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: ثُمَّ أَنْ تُزَانِیَ حَلِيْلَةَ جَارِكَ.
حضرت عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا گناہ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جبکہ اس نے تمھیں پیدا کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں : میں نے آپ سے عرض کی: یہ تو واقعی بڑا گناہ ہے۔ وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: تو اپنی اولاد کو اس اندیشے سے قتل کردے کہ وہ تمھارے کھانے میں شریک ہو گی۔ وہ کہتے ہیں : میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: پھر یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔
 
قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، أَیُّ الذَّنْبِ أَکْبَرُ عِنْدَ اللّٰهِ؟ قَالَ: أَنْ تَدْعُوَ لِلّٰهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ. قَالَ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ. قَالَ: ثُمَّ أَیُّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِیَ حَلِيْلَةَ جَارِكَ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ تَصْدِيْقَهَا: 'وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُوْنَ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ يَلْقَ اَثَامًا'.
حضرت عبد اللہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے پوچھا: یا رسول اللہ، اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کون سا ہے؟ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ تو اللہ کا ہم سر ٹھہرائے، حالاں کہ اس نے تمھیں پیدا کیا ہے۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار دے کہ وہ تیرے ساتھ کھائے گی۔ اس نے پوچھا: پھر کون سا؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی کے ساتھ زنا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے (الفرقان ٢٥: ٦٨ میں ) آپ کے فرمان کی تصدیق بھی نازل فرما دی: ''وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو نہیں پکارتے اور نہ کسی ایسی جان کو قتل کرتے ہیں جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے، مگر یہ کہ حق قائم ہو جائے اور نہ زنا کرتے ہیں اور جو یہ کرتے ہیں ، وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوں گے''۔
 
عَنْ أَبِیْ بَکْرةَ قَالَ: کُنَّا عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ ثَلَاثًا، اَلْإِشْرَاكُ بِاللّٰهِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّوْرِ أَوْ قَوْلُ الزُّوْرِ، وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّکِئًا، فَجَلَسَ، فَمَا زَالَ يُکَرِّرُهَا حَتّٰی قُلْنَا: لَيْتَهُ سَکَتَ.
حضرت ابوبکرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا: کیا میں تمھیں کبیرہ گناہوں میں سے سب سے بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ (آپ نے یہ بات ) تین مرتبہ (دہرائی)، اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی حق تلفی اور جھوٹی گواہی یا جھوٹی بات۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے، آپ بیٹھ گئے۔ آپ یہ بات دہراتے رہے، یہاں تک کہ ہمارے جی میں آنے لگا: آپ چپ ہوجائیں ۔
 
عَنْ أَنَسٍ (رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ) عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِی الْکَبَائِرِ، قَالَ: الشِّرْكُ بِاللّٰهِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّوْرِ.
حضرت انس (رضی اللہ عنہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبائر کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، والدین کی حق تلفی، قتل نفس اور جھوٹی بات۔
 
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ (رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ) قَالَ: ذَکَرَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْکَبَائِرَ أَؤْ سُئِلَ عَنِ الْکَبَائِرَ. فَقَالَ: الشِّرْكُ بِاللّٰهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَيْنِ. وَقَالَ: أَلَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ قَالَ: قَوْلُ الزُّوْرِ أَوْ قَالَ: شَهَادَةُ الزُّوْرِ. قَالَ شُعْبَةُ: أَکْبَرُ ظَنِّی أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّوْرِ.
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبائر کا ذکر کیا یا آپ سے کبائر کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، کسی جان کا قتل اور والدین کی حق تلفی۔ اور آپ نے فرمایا: میں تمھیں کبائر میں سے بھی سب سے بڑے گناہ کے بارے میں بتاؤں ؟ آپ نے فرمایا: جھوٹی بات یا آپ نے کہا: جھوٹی گواہی۔ شعبہ کہتے ہیں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ آپ نے فرمایا: جھوٹی گواہی۔
 
عَنْ أَبِیْ هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ. قِيلَ: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: الشِّرْكُ بِاللّٰهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَکْلُ مَالِ اليَتِيْمِ، وَأَکْلُ الرِّبَا، وَالتَّوَلِّیْ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلاَتِ الْمُؤْمِنَاتِ.
حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سات ہلاک کر دینے والی چیزوں سے بچو، پوچھا گیا: یا رسول اللہ، وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا: اللہ کے ساتھ شرک، جادو، کسی جان کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے، اسے قتل کرنا، مگر یہ کہ حق قائم ہو جائے، یتیم کا مال کھا جانا، سود کھانا، جنگ کے دوران پیٹھ پھیرنا اور بھولی بھالی، مومن اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
 
عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ مِنَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ، قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ. وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ.
عبداللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبائر میں یہ بھی ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے۔ لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ، کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں ، آدمی دوسرے آدمی کے باپ کو گالی دیتا ہے اور (جواب میں ) وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے۔ اسی طرح آدمی دوسرے آدمی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور (جواب میں ) وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔
 
لغوی مباحث
'حليلة':'حليلة'، 'فعيلة' کے وزن پر 'حل' سے اسم صفت ہے، جس کا مطلب بیوی ہے۔ایک راے یہ ہے کہ یہ 'حل' سے ہے، اس صورت میں یہ 'فاعلة' کے معنی میں ہے۔ ایک راے یہ ہے کہ یہ 'حلول' سے ہے، یعنی یہ اس کے لیے حلال ہے اور یہ اس کے لیے حلال ہے۔
 
'عقوق الوالدين': والدین کا جو حق یا تعلق قائم ہوتا ہے، اس کو کاٹ دینا۔
 
معنی
اوپر درج روایات میں درج ذیل گناہوں کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے:
١۔ غیر اللہ کو اللہ کا شریک قرار دینا، جبکہ وہ خالق ہے،
٢۔سحر،
٣۔ خوراک میں شرکت کے خوف سے اولاد کو قتل کرنا،
٤۔ ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنا،
٥۔ کسی پاک دامن عورت پر الزام لگانا،
٦۔ والدین کی حق تلفی،
٧۔ یتیم کا مال کھانا،
٨۔ سودخوری،
٩۔ جھوٹی گواہی،
١٠۔ قتل نفس،
١١۔ اپنے والدین کو گالی دینا،
١٢۔ میدان جنگ سے بزدلانہ فرار۔
یہ فہرست دوسری روایات اور قرآن مجید کو سامنے رکھیں تو بالکل واضح ہے کہ مکمل نہیں ہے۔ کچھ جرائم اور بھی ہیں جنھیں اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ان روایات میں گناہوں کی ترتیب سے بھی کوئی حتمی معنی اخذ نہیں کیے جا سکتے، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس طرح کی روایات میں بالعموم راوی حضرات ترتیب بیان میں مختلف ہو جاتے ہیں ۔ دوسرے یہ کہ خود مسلم ہی کے متون سے واضح ہے کہ ترتیب ایک نہیں ہے۔ راویوں کے تصرف سے اگر صرف نظر بھی کر لیا جائے تو اس سے زیادہ کچھ کہنا موزوں نہیں کہ ایک موقع کلام پر آپ نے کچھ پہلوؤں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک خاص ترتیب اختیار فرمائی ۔ اس ترتیب میں مخاطب کی رعایت بھی ہو سکتی ہے اور معنوی ترتیب بھی۔ لہٰذا گناہ کی درجہ بندی میں ان روایات سے کوئی حتمی نتیجہ نکالنا موزوں نہیں ہے۔ اصلاً اس میں فیصلہ قرآن مجید ہی پر منحصر ہے۔ اس حوالے سے قرآن مجید کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق اللہ تعالیٰ کے ہوں یا انسانوں کے، ان کو تلف کرنا کبیرہ گناہ ہے۔ چنانچہ توحید خدا کا سب سے بڑا حق ہے، اس کی خلاف ورزی، یعنی شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے اور قیامت کے دن اس کی معافی نہ ملنے کی وعید سنائی گئی ہے، پھر انسانوں کی جان، مال اور آبروکے خلاف تعدی کو بھی بڑے جرم کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے اور ان کے ارتکاب پر دنیا اور آخرت میں سزا کا حکم سنایا ہے۔ قرآن مجید سے کبیرہ گناہ کا یہی تصور ملتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ سرکشی اور اصرار بھی کسی گناہ کو کبیرہ بنا دیتے ہیں اور اس کے وہی نتائج نکل سکتے ہیں جو کبیرہ گناہ کے ہیں ۔ دراں حالیکہ وہ گناہ اپنی نوعیت میں اتنا بڑا نہ ہو۔ قرآن مجید سے ایک اور حقیقت بھی سمجھ میں آتی ہے کہ دین کے دفاع اور حمایت کاتقاضا جب سامنے آجائے تو اس سے گریز وانحراف بھی ایک بڑا جرم ہے۔ ان روایات میں ان تینوں ہی نوعیت کے جرائم کی بعض مثالیں بیان ہو گئی ہیں ۔ شرک کے بعد جرائم کی درجہ بندی مختلف پہلوؤں سے ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اخلاقی شناعت کا پہلو، معاشرے میں اس کے اثرات کا پہلو، فرد کے انحراف کے درجے کا پہلو وغیرہ، لیکن ان روایات کی تفہیم میں اس تفصیل میں جانے کی کوئی افادیت نہیں ہے۔ بنیادی بات یہی ہے کہ خدا اورانسانوں کے حقوق کو تلف کرنا کبیرہ گناہ ہے اور شرک کا نتیجہ تو لازماً ابدی جہنم ہے اور باقی جرائم میں بھی اگر تلافی کی کوئی صورت پیدا نہ ہوئی تو ابدی جہنم کا امکان ہے۔
 
کبیرہ گناہ کا تصور قرآن مجید سے لیا گیا ہے۔ عام گناہوں پر معافی ملنے کی نوید دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے:
 
اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَيِّاٰتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلًا کَرِيْمًا. (النساء٤:٣١)
''اگر تم ان بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمھیں روکا جا رہا ہے تو ہم تمھاری چھوٹی چھوٹی برائیاں تمھارے حساب سے ساقط کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ میں داخل کریں گے۔''
 
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ گناہ کا بڑا اور چھوٹا ہونا خدا اور بندوں کے حقوق کے پہلو سے بھی ہے، کرنے والے کے رویے کے پہلو سے بھی اورسماج پر اپنے اثرات کے پہلو سے بھی۔ قرآن مجید کا سادہ مطالعہ بھی یہ بات واضح کر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کون سے جرائم بڑے جرائم شمار ہوتے ہیں ۔ خود انسانی فطرت میں بھی اس کا شعور موجود ہے اور وہ کسی گناہ کے بڑے یا چھوٹے ہونے کا ادراک بآسانی کر لیتی ہے۔قرآن مجید کی محولہ آیت یہ جاننے کی تحریک کا باعث بنی ہے کہ کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ اس لیے کہ اس میں کبیرہ گناہوں سے بچنے کی صورت میں بخشش اور نجات کی بڑی خوش خبری دی گئی ہے۔ کبیرہ گناہ کیا ہے؟ اس بات کو مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے، لیکن اس میں بنیادی باتیں وہی ہیں ، جنھیں ہم نے اوپر بیان کر دیا ہے۔
 
قرآن مجید میں نہ صرف یہ کہ دین کے اوامر ونواہی بیان ہوئے ہیں ، بلکہ ان کی فضیلت و شناعت بھی زیر بحث آئی ہے۔ یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ کن احکام کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اور کون سے احکام تفصیل یا فرع کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ سورہئ بنی اسرائیل میں وہ بنیادی اخلاقی احکام بیان ہوئے ہیں جن پر عمل خدا کے دین کو اپنانے کا لازمی تقاضا ہے۔ اسی طرح سورہئ فرقان کی آخری آیات میں ایک سچے بندہ مومن کی تصویر کھینچ کر دکھا دی گئی ہے۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے مقامات سے مومن مطلوب کی جو تصویر سامنے آتی ہے، اس سے ہم جان سکتے ہیں کہ جو اعمال اس تصویر سے جتنا زیادہ بعد رکھتے ہیں ، وہ اتنے ہی زیادہ قبیح ہیں ۔
 
قرآن مجید کی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کبیرہ گناہوں سے بچا رہے تو اس کی بخشش ہو جائے گی۔ یہ حقیقت میں خدا تعالیٰ کی رحمت کا اظہار ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بندوں کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کرنا، اصلاً رحمت اور شفقت کا معاملہ کرنا ہے۔ کبیرہ گناہوں سے بچنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اصلاً کوئی شخص اپنی زندگی خدا خوفی کے اصول پر گزار رہا ہو۔ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب ایک حد تک بے پروائی پر اترے بغیر ہو نہیں سکتا۔ یہی وہ چیز ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے الگ ہونے کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ چنانچہ ان روایات کے مطالعے کا حاصل یہ ہے کہ یہ وہ جرائم ہیں جن کے ساتھ ایمان والی زندگی اور آخرت کی طرف دھیان کی نفی ہو جاتی ہے، لیکن اگر کوئی آدمی ان سے بچا ہوا ہے تو یہ اس بات کی نشانی ہے کہ وہ اصلاً بندگی کی زندگی گزار رہا ہے۔ یہی وہ شخص ہے جسے یہ خبر دی گئی ہے کہ اسے گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود خدا کی مغفرت حاصل ہو جائے گی۔
 
ان روایات میں شرک کو سب سے بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بڑا جرم ہونے کو کئی پہلوؤں سے بیان کیا جاسکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس پہلو کو یہاں نمایاں کیا ہے، وہ اس باب کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جس ہستی نے تمام خلق کو عدم سے وجود بخشا ہو، اس ہستی کا ادراک کرنے کے بعد کسی اور کو الٰہ بنانا حماقت ہی نہیں ، بلکہ اپنے خالق سے بغاوت بھی ہے۔ ان الفاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شرک کرنے والوں کو اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ اللہ کو خالق ماننے کے بعد کسی اور کو الٰہ ماننا ممکن ہی نہیں ہے۔ فطرت اور عقل کی سادہ بساط پر بھی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ خالق کے علاوہ کوئی اور الٰہ نہیں ہو سکتا، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ تمام مشرکین اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے بعد ہی دوسری ہستیوں کو اس کی خدائی میں شریک مانتے ہیں ۔ چنانچہ حضور نے اسی حقیقت کو نمایاں کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ خالق کا شعور رکھنے کے باوجود کوئی شخص کسی دوسرے کو کار الوہیت میں شریک مانے۔
 
پہلی روایت میں دوسرا جرم تنگ دستی کے خوف سے قتل اولاد ہے۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل ایک ایسا جرم ہے جو ابدی جہنم کا باعث بن سکتا ہے۔ کسی دوسرے انسان کی جان لینا ایک درجے کی شقاوت پر اترے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پھر یہ کہ یہ شقاوت خود اپنی ہی اولاد کے خلاف نمایاں ہو تو یہ جرم کی شناعت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوراک میں شریک ہونے کے الفاظ میں سبب بیان کیا ہے اور قرآن مجید میں یہی بات تنگ دستی کے اندیشے کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ یہ اس جرم کو دہرا جرم بنا دیتی ہے: ایک جرم یہ کہ اس نے ایک انسان کی جان لی جس کا اسے کوئی حق حاصل نہیں تھا۔ دوسرے یہ کہ اس کے رزق کے بارے میں اس زعم میں مبتلا ہوا کہ یہ اسی کے ناخن تدبیر پر منحصر ہے۔ آج جو کچھ حاصل ہے، اس میں اضافہ نہیں ہو گا اور اگر کل اس کی جدوجہد سے کچھ اضافہ بھی ہوا تو اس سے وہی فائدہ اٹھائے، کوئی دوسرا اس میں شریک کیوں ہو؟ یہاں تک کہ وہ اپنی اولاد کو بھی اس میں شریک کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ عام طور پر یہ بیان کیا جاتا ہے کہ عربوں کے بعض قبائل اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، اس کی وجہ عورت کے ساتھ وابستہ ناموس کا مسئلہ بیان کی جاتی ہے۔ قرآن مجید اور اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ معاشی تھا۔ یہ ممکن ہے کہ اسے بیان نہ کیا جاتا ہو اور معاشرے میں شاباش لینے کے لیے اسے غیرت کا مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہو۔
 
اس روایت میں تیسرا جرم ہمسائی کے ساتھ زنا بیان ہوا ہے۔ قرآن مجید میں زنا کو برا طریقہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح (بنی اسرائیل ١٧: ٣٢ میں ) زنا کے لیے 'فاحشة' کا لفظ بھی قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا انسانی فطرت میں موجود حیا کے جذبے کی انتہائی خلاف ورزی ہے، اسی وجہ سے اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اسی طرح یہ جرم اعلیٰ اخلاقی وصف وفا کے بھی خلاف ہے اور خاندانی زندگی جس اصول پر قائم ہے، اسے برباد کرتا ہے۔ خاندان اور معاشرہ رشتوں کے تقدس پر قائم ہے۔ اسی سے باہمی احترام اور اعتماد کی فضا قائم رہتی اور معاشرہ تعمیری سرگرمیوں اور تخلیقی نمو سے آراستہ نظر آتا ہے۔ ہمسائے کی بیوی کے ساتھ ناجائز تعلق جرم کی شناعت کے اسی پہلو کو بیان کرنے کے لیے بیان ہوا ہے۔ زنا بذات خود جرم ہے، لیکن اگر یہ اس طرح کیا جائے کہ باہمی رشتوں کے تقدس ہی کو پامال کردے تو اس کی شناعت اور بڑھ جاتی ہے۔
 
دوسری روایت میں سورہئ فرقان کی اس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، جس میں یہ تینوں جرائم بیان ہوئے ہیں ۔ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ یہ آیت اصل میں اعلیٰ درجے کے بندہئ مومن کی صفات کا حسین مرقع پیش کرتی ہے۔ حوالہ دینے کا جو اسلوب اختیار کیا گیا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غالباً حضور نے جب یہ باتیں بیان کیں تو خدا کی طرف سے یہ آیت اس کی تصدیق میں نازل ہوئی۔ ہمارے نزدیک بیان کرنے والے کی مراد صرف یہ ہے کہ یہی بات قرآن میں بھی بیان ہوئی ہے۔ روایات کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ یہ بالعموم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فہم قرآن ہی کا بیان ہوتی ہیں ۔
 
اگلی روایت میں والدین کی حق تلفی اور جھوٹی گواہی کو بڑے جرائم کی حیثیت سے بیان کیا گیا ہے۔ ہم یہ بیان کر چکے ہیں کہ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کے لیے احسان کی تعبیر اختیار کی ہے۔ احسان کا تقریباً وہی مطلب ہے جو اردو کے لفظ حسن سلوک سے ہم ادا کرتے ہیں ۔ اس لفظ سے والدین کے ساتھ تعلق کے حدود طے ہو جاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ماننا ، ان کی خدمت کرنا، ان کے آگے سر نہ اٹھانا، زبان سے گستاخی نہ کرنا، اپنا مال ان پر خرچ کرنا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے سر گرم رہنا، حسن سلوک ہی کے مختلف مظاہر ہیں ۔ یہی والدین کا حق ہے اور اس کی خلاف ورزی والدین کے حق کو نہ ماننا ہے۔ 'عقوق' کے لفظ سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ یہاں محض خلاف ورزی ہونا مراد نہیں ہے، بلکہ ارادے کے ساتھ والدین کے حق سے دست برداری مراد ہے۔
 
جھوٹی شہادت بھی ایک بڑا گنا ہ ہے۔ دنیا میں نظام عدل کا سارا انحصار قرائن وشواہد یا گواہی پر ہے۔ جھوٹی گواہی کا مطلب یہ ہے کہ انسان نے کسی کے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا جو بندوبست معاشرے میں موجود ہے، اس کو برباد کر دیا ہے۔ قرآن مجید نے جان، مال اور آبرو کے خلاف تعدی کودنیا میں بھی قابل سزا جرم قرار دیا ہے اور آخرت میں بھی ان کی سزا جہنم بیان کی ہے۔ دنیا میں اشرار سے جان، مال اور آبرو کی حفاظت کا ایک ذریعہ عدل کا نظام ہے جو ہر معاشرہ اپنے حالات کے مطابق تشکیل دیتا ہے۔ سچی شہادت اس نظام کو صحت پر قائم رکھنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ جو آدمی جھوٹی گواہی دیتا ہے، وہ نہ صرف یہ کہ جھوٹ بولتا ہے، بلکہ جان، مال اور آبرو کے خلاف اس تعدی میں بھی شریک ہو جاتا ہے جو کسی دوسرے نے کی ہے اور یہ جھوٹ بول کر حق دار کا حق اسے ملنے کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔
 
'سبع موبقات' والی روایت میں 'موبقات' کے لفظ سے یہ بات واضح کی گئی ہے کہ یہ وہ اعمال ہیں جو نیکیوں کو اکارت کر دیں گے۔ شارحین نے اس لفظ کو بالعموم مہلکات کے لفظ سے کھولا ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ وہ اعمال ہیں جو ہلاکت میں ڈالنے والے ہیں ۔ یہ ہلاکت اصلاً اخروی ہے، لیکن ان اعمال کا جائزہ لیں تو ان کے دنیوی نتائج بھی کم مہلک نہیں ہیں ۔ شرک کے بارے میں ہم بات کر چکے ہیں ۔ شرک کے بعد جادو کا ذکر ہے۔ جادو کا ایک پہلو شیطانی قوتوں کے ساتھ ربط وتعلق ہے۔ ظاہر ہے کہ شیطانی قوتیں کسی شخص کو خدا کی بندگی پر کیسے رہنے دے سکتی ہیں ۔ قرآن مجید نے جادو کو کفر کہا ہے۔ مزید یہ کہ اپنے ایک پیغمبر، یعنی حضرت سلیمان علیہ السلام سے اس کے کسی تعلق کی شدت کے ساتھ نفی کی ہے۔ ان دونوں باتوں کامطلب یہ ہے کہ جادو اصل میں خدا سے دوری پر منتج ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ نافرمانی کی زندگی اختیار کیے بغیر اس کو اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے فنون سے اشتغال رکھنے والے بالعموم منفی قسم کی سرگرمیوں ہی میں غلطاں دکھائی دیتے ہیں ۔اس کا دوسرا پہلو دنیا کی زندگی کے بارے میں صائب رویے سے ہٹ جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی کو اصل میں محنت اور تدبیر کے اصول پر استوار کیا ہے۔ اس طرح کے فنون سے دل چسپی انسان کو توہم پرست بھی بنا دیتی ہے اور سعی وجہد کے راستے سے ہٹا کر ٹونوں اور ٹوٹکوں کا پجاری بھی بنا دیتی ہے۔ یہ چیز نہ صرف یہ کہ آخرت کے لیے سخت نقصان دہ ہے، بلکہ دنیا کی بربادی کا ذریعہ بھی ہے۔
 
قتل نفس کی شناعت پر ہم پہلے بات کر چکے ہیں ۔ اس کے بعد یتیم کا مال کھانے کی برائی کا ذکر ہے۔ قرآن مجید میں یتیم کے مال کے حوالے سے بڑی تفصیل سے احکام دیے گئے ہیں ۔ وراثت کی تقسیم کا موقع ہو یا آپ کسی کے مال کے ذمہ دار ہوں ، ہر حال میں لوگوں کے حق کی حفاظت ضروری ہے۔ بطور خاص وہ لوگ جو اپنے حق کی حفاظت کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ یتیم اس کی سب سے نمایاں مثال ہے، یعنی یہ وہ مظلوم ہے جو اپنا حق چھیننے والے کا ہاتھ کسی طور نہیں روک سکتا۔ یہ صرف حق دینے والے ہیں جو اگر انصاف کریں تو اس کا حق محفوظ رہ سکتا ہے۔ کسی یتیم کا حق مارنا صرف مالی بددیانتی ہی نہیں ہے، بلکہ ایک بچے کی زندگی کو عذابوں میں مبتلا کرنا بھی ہے۔ یہی چیز ہے جس کے باعث یہ جرم بہت زیادہ شنیع ہو جاتا ہے۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ معاشرے کے بے کس عناصر پر کی گئی تعدی بھی اسی قبیل کا جرم ہے اور اس طرح کے لوگ آخرت میں کبیرہ گناہ کے مرتکب ہی قرار دیے جائیں گے۔
 
سود خوری کو قرآن مجید میں بڑا جرم قرار دیا گیا ہے۔ یہ بھی اصل میں اکل اموال بالباطل کی قبیل کی چیز ہے، لیکن اس کی شناعت اس لیے زیادہ ہے کہ بحیثیت مجموعی معاشرے میں معاشی انصاف کے روبہ عمل ہونے کے قدرتی عوامل کی راہ کو مسدود کردیتا ہے، یعنی سود خوری صرف ایک فرد کے مال پر دست درازی نہیں ہے، بلکہ معاشرے کے خلاف جرم ہے۔
 
مقابلے کے وقت پیٹھ دکھانا، اس جملے کا تعلق اسلامی جہاد سے ہے۔ جہاد بھی وہ جسے خدا کے پیغمبر نے اسلامی جہاد قرار دیا ہے اور جس کے بارے میں بغیر کسی اشتباہ کے یہ یقین ہے کہ وہ صرف اور صرف اعلاے کلمۃ اللہ کے لیے ہے اور اس میں کوئی اور محرک موجود نہیں ہے۔ پھر اس جہاد کو کرنے کے لیے کوئی فضا پیدا نہیں کی گئی، دین کے دشمنوں نے پر امن دعوتی جدوجہد کو قتال کے راستے پر ڈالا ہے اور دشمن خود دین کو ختم کرنے کے لیے مسلح ہو کر آیا ہے۔ اس موقع پر مڈبھیڑ سے گریز درحقیقت دین کے دشمنوں کا ساتھ دینا ہے۔ یہی چیز ہے جسے واضح کرنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موبقات میں سے قرار دیا ہے۔
 
اس روایت کی آخری چیز کسی پاک دامن بھولی بھالی عورت پر تہمت لگانا ہے۔ عورت کی جو صفات یہاں بیان ہوئی ہیں ، وہ جرم کی شناعت کو واضح کرنے کے لیے ہیں ۔اصل یہ ہے کہ کسی عورت پر الزام لگانے کے لیے اسلام نے چار گواہوں کی شرط عائد کی ہے۔ یہ شرط لگانے سے مقصود یہ ہے کہ شریف زادیوں کی عصمت کی حفاظت ہو اور انھیں خواہ مخواہ بدنام کرنے کا موقع کسی کو حاصل نہ ہو۔ اگر کوئی شخص جانتے بوجھتے کسی شریف زادی پر تہمت لگاتا ہے تو اس نے حقیقت میں ایک عورت کی زندگی اجیرن کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی چیز ہے جو اس جرم کو زیادہ شنیع بناتی ہے۔
 
اس سلسلے کی آخری روایت وہ ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے والدین کو گالی دینے کو کبیرہ گناہ قرار دیا ہے۔ والدین کے حوالے سے اصل تقاضا کیا ہے؟ اسے ہم نے اوپر تفصیل سے بیان کیا ہے۔ قرآن مجید نے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دینے میں بعض نازک پہلوؤں کو بھی بیان کیا ہے۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ والدین کے ساتھ بد تمیزی نہیں ہو نی چاہیے، یہاں تک کہ ناگواری کا اظہار بھی نہیں ہونا چاہیے۔ جب قرآن مجید میں والدین کا احترام اس درجے میں مطلوب ہے تو گالی دینا واضح طور پر ایک بڑا جرم قرار پاتا ہے۔ یہاں روایت میں ایک اور پہلو بھی بیان ہوا ہے۔ ایسے کم بخت بہت کم ہوتے ہیں جو اپنے والدین کو گالی دیں ۔ چنانچہ سننے والے کو یقین نہیں آیا کہ کوئی شخص اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے۔ حضور نے اس امکان کو بیان کرنے کے بجاے کہ ایسے بد بخت بھی ہو سکتے ہیں ، گالی دینے کی ایک دوسری صورت کو بیان کر دیا۔ یہ وہ صورت ہے جو عام طور پر معاشرے میں معمول بہ نظر آتی ہے۔ حضور نے واضح کیا کہ دوسرے کو گالی دینا بھی حقیقت میں اپنے والدین کو گالی دینا ہے، اس لیے کہ جب کسی دوسرے کو گالی دی جائے گی تو جواب میں دی گئی گالی اسی شخص کی طرف لوٹ رہی ہے ۔ اگرچہ اس نے خود تو اپنے والدین کو گالی نہیں دی، مگر دوسرے کو گالی دے کر اپنے والدین کو گالی دینے کا بندوبست کر دیا ہے۔ والدین کو گالی دینا ایک جرم ہے۔ یہ جرم کم نہیں ہوتا، اگرچہ انسان دوسرے کے والدین کو گالی دے رہا ہو۔
 
متون
زیر نظر مضمون پانچ روایتوں کی شرح پر مشتمل ہے۔ ان روایتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کبائر کا بیان نقل ہوا ہے۔ اگرچہ محل اور اجزاے بیان میں فرق ہے، لیکن بات چونکہ ایک ہی نوعیت کی ہے، اس لیے ہم نے ان روایات کو ایک ہی مضمون کا حصہ بنا دیا ہے۔
 
جس روایت میں والدین کو گالی دینے کی بات بیان ہوئی ہے، اس روایت کے زیادہ متون کتب حدیث میں موجود نہیں ہیں ۔ چنانچہ اس میں میرے سامنے جو متون موجود ہیں ، ان میں کوئی اختلاف مذکورنہیں ہے۔ اسی طرح 'سبع موبقات' والی روایت میں بھی کم وبیش ایک ہی متن تمام کتب میں منقول ہے، صرف ایک جگہ پر ایک اختلاف منقول ہے اور وہ یہ ہے کہ اس میں 'سحر' کی جگہ 'الشح' کا لفظ آیا ہے، لیکن یہ اختلاف محل نظر ہے۔ سحر کا کبیرہ گناہ ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن 'الشح' کا کبیرہ گناہ ہونا کافی مشکل نظر آتا ہے۔
 
وہ روایت جس کا آغاز 'ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟' کے الفاظ سے ہوا ہے، اس میں بھی زیادہ تر اختلافات لفظی ہی ہیں ۔ البتہ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا:
 
عن رسول اللّٰه صلی اللّٰه عليه وسلم قال: أرأيتم الزانی والسارق و شارب الخمر؟ ماترون فيهم؟ فقالوا: أللّٰه ورسوله أعلم، قال هن فواحش وفيهن عقوبة. ثم قال: ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟...(مسند اسحاق بن راهويه، رقم ٤٤٤)
''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم زانی، چور اور شراب پینے والے کو دیکھتے ہو؟ تمھاری ان کے بارے میں کیا راے ہے؟ لوگوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا: یہ فواحش ہیں اور ان پر سزا بھی ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: کیا میں کبیرہ گناہوں سے بھی بڑے گناہ کے بارے میں نہ بتاؤں ؟...''
 
وہ روایت جس میں کبائر کے متعلق حضور سے سوال سے بات شروع ہوئی ہے، وہ کئی کتابوں میں آئی ہے۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ ہر جملہ تمام ممکن اسالیب میں بیان ہو گیا ہے۔ نمایاں اختلاف ترتیب کے فرق اور سوال کے حضرت عبد اللہ سے نسبت اور عدم نسبت کا ہے۔
 
کتابیات
مسلم، رقم٨٦- ٩٠؛ بخاری، رقم٢٥١٠، ٢٥١١، ٢٦١٥، ٤٢٠٧، ٤٤٨٣، ٥٦٣١، ٥٦٣٢، ٥٦٥٥، ٥٩١٨، ٦٢٩٨، ٦٤٢٦، ٦٤٦٥، ٦٤٦٨، ٦٤٧٦، ٦٤٧٧، ٦٥٢١، ٧٠٨٢، ٧٠٩٤؛ ابوداؤد، رقم ٢٣١٠، ٢٨٧٤، ٢٨٧٥؛ ترمذی، رقم ١٢٠٧، ١٩٠١، ٢٣٠١، ٣٠١٨- ٣٠٢١، ٣١٨٢،٣١٨٣؛ نسائی، رقم٣٦٧١، ٤٠١٠، ٤٠١١، ٤٠١٣- ٤٠١٥، ٤٨٦٧، ٤٨٦٨؛ مسند طیالسی، رقم٢٦٤؛ مصنف عبد الرزاق، رقم١٩٧٠٤، ١٩٧٠٥، ١٩٧٠٧،١٩٧١٩؛ مسند حمیدی، رقم ١٠٣۔ مسند ابن الجعد، رقم٣٣٠٣؛ مسند اسحاق بن راہویہ، رقم٤٤٤؛ احمد، رقم ٣٦١٢، ٣٨١١، ٤١٠٢، ٤١٣١، ٤١٣٢، ٤١٣٤، ٤٤١١، ٤٤٢٣، ١٢٣٥٨، ٢٠٤٠١، ٢٠٤١٠؛ الادب المفرد، رقم٨، ٣٠؛ خلق افعال العباد، رقم٣٤٦، ٣٤٨؛ مسند حارث، رقم٢٩؛ السنن الکبریٰ، رقم٣٤٧٣، ٣٤٧٦- ٣٤٧٨، ٦٠٢٢، ٦٤٩٨، ٧١٢٤، ٧١٢٥، ١٠٩٨٧، ١١٠٩٩، ١١١٠١، ١١٣٦١، ١١٦٣٨، ١١٣٦٩؛ مسند ابو یعلیٰ، رقم٥٠٩٨، ٥١٣٠، ٥١٦٧؛ ابن حبان، رقم ٤٤١٤- ٤٤١٦، ٥٥٦١، ٥٥٦٣؛ مسند شامیین، رقم٢٣٧٥، ٢٦٣٥؛ المعجم الکبیر، رقم١٠٢، ١٦٥، ٥٦٣٦، ٩٨١٩، ٩٨٢٠، ١٣٠٢٣؛ مستدرک، رقم١٩٧، ٧٦٦٦، ٧٨٠٨؛ بیہقی، رقم٦٥١٤، ٦٥١٥، ١٢٤٤٧، ١٥٦٠٠، ١٥٦٠١، ١٥٦١٧- ١٥٦١٩، ١٥٦٢٩، ١٦٩٠٥، ١٧٨٥٦، ٢٠١٦٧، ٢٠٣٦٥۔
ــــــــــــــــــــــــ

 




اسوہ حسنہ


 

معرفت الہٰی اور حصول تزکیہ کا دوسرا قابل اعتماد ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے، لیکن آپؐ کے اسوہ حسنہ سے صحیح &#




اسوہ حسنہ


 

معرفت الہٰی اور حصول تزکیہ کا دوسرا قابل اعتماد ذریعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہے، لیکن آپؐ کے اسوہ حسنہ سے صحیح فیض ایک طالب تزکیہ صرف اسی وقت حاصل کر سکتا ہے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کو صحیح قسم کی نسبت حاصل ہو، اس نسبت کو حاصل کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم یہ معلوم کریں کہ آپؐ کے منصب رسالت کی حیثیت اور آپؐ کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کیا ہے؟ خاص طور پر یہ سوال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ عہد صحابہ و تابعین کے گذرنے کے بعد سے اس چیز کے بارہ میں ہمارے درمیان بہت کچھ اختلافات پیدا ہو گیا ہے اور اس اختلاف کا اثر حصول معرفت و تزکیہ کے اس مقصد پر بھی لازماً پڑتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی سے وابستہ ہے، اس وجہ سے ہم چاہتے ہیں کہ پہلے اختصار کے ساتھ نقطہ ہائے نظر کا یہ اختلاف واضح کر دیں۔ اس کے بعد تفصیل کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کریں گے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہماری کس نوعیت کی وابستگی معرفت الہٰی کے مقصد کے لیے کار آمد ہو سکتی ہے اور یہ وابستگی پیدا کرنے کے لیے ہمیں کن باتوں کا اہتمام کرنا ہے، کس قسم کی جدو جہد عمل میں لانی ہے۔
 
منصب رسالت سے متعلق چار بنیادی غلط فہمیاں
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب رسالت کی حیثیت اور آپؐ کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت کے بارہ میں ہمارے اندر جو غلط تصورات پیدا ہو چکے ہیں، وہ ہیں تو بہت سے لیکن ہم ان کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔ ہم صرف چار بنیادی غلط فہمیوں کی طرف اشارہ کریں گے جو ہمارے چار بڑے بڑے گروہوں کے اندر پائی جاتی ہیں۔
 
۱۔ ہمارے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا ہے جو خدا اور بندوں کے درمیان نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وہی حیثیت سمجھتا ہے جو ایک کاتب اور مکتوب کے درمیان کسی معتمد اور ایک دیانت دار چٹھی رساں کی ہوتی ہے۔ ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کام بس یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب اپنے بندوں پر نازل فرمانی چاہی وہ آپؐ نے ان کو پہنچا دی۔ اس کے بعد آپؐ کا کام ختم ہو گیا۔ وہ اپنے اسی تصور کے لحاظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے تعلق کی نوعیت متعین کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ منصب و رسالت کا اس قدر حقیر تصور رکھتے ہیں، ان کے لیے معرفت الہٰی کے نقطہ نظر سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہ جاتی اور جب آپؐ کی کوئی خاص اہمیت باقی نہیں رہ جاتی تو آپؐ کی ذات کے ساتھ کسی غیر معمولی وابستگی کے لیے بھی کوئی معقول وجہ معلوم نہیں ہوتی جب اصلی کام آپؐ کا صرف خط پہنچا دینا تھا اور آپؐ خط پہنچا چکے تو اس کے بعد اگر کوئی اہمیت ہے تو وہ اصل خط کی ہے یا زیادہ سے زیادہ کاتب کی۔ نہ کہ خط کے لانے والے قاصد کی۔ اس کے بعد تو اگر قاصد سرے سے درمیان سے غائب بھی ہو جائے، جب بھی ان حضرات کے نقطہ نظر سے کوئی خلا نہیں واقع ہونا چاہیے۔
 
رسالت کا یہ تصور بنیادی طور پر غلط ہے۔ نبیؐ، خدا اور اس کے بندوں کے درمیان صرف ایک قاصد اور نامہ بر ہی نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک معلم بھی ہوتا ہے، ایک مزکی بھی ہوتا ہے، ایک مرشد بھی ہوتا ہے، ایک مبیّن بھی ہوتا ہے اور ایک مبشر بھی ہوتا ہے، ایک منذر بھی ہوتا ہے، ایک سراج منیر بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ ایک واجب الاطاعت ہادی بھی ہوتا ہے اور پھر ان تمام خصوصیتوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے ارشاد و ہدایت کے فرائض کے سلسلہ میں براہ راست خدا کی نگرانی میں ہوتا ہے۔ جس کے سبب سے وہ غلطی اور گمراہی کے تمام خطروں سے بالکل محفوظ و مامون ہوتا ہے اس کا فریضہ صرف یہی نہیں ہے کہ وہ خدا کی کتاب بندوں کو پہنچا دے، بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ وہ اس کتاب پر عمل کرنے والوں کا ایک گروہ اپنی تعلیم و تربیت سے تیار کر دے اور اس کتاب کے مضمرات، ان کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں نمایاں کر دے۔ ان سارے کاموں میں اس کی اپنی ذات ایک عامل کی حیثیت سے بھی شریک ہوتی ہے اور ایک رہنما کی حیثیت سے بھی شریک ہوتی ہے اور اپنی اس دوسری حیثیت میں جو کچھ وہ کہتا ہے یا کرتا ہے یا جس چیز کو وہ منظور کر لیتا ہے، اس کو اس کتاب کے اور اس کے منصب رسالت کے تحت ہی سمجھا جاتا ہے اور اسی حیثیت سے اس کو قبول کیا جاتا ہے۔
 
رسالت کے اس تصور کو سامنے رکھ کر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم جتنی گونا گوں نوعیتوں کے تعلقات رکھتے ہیں اتنی گوناگوں نوعیتوں کے تعلقات نہ دنیا میں ہمارے کسی کے ساتھ ہیں، نہ ہو سکتے ہیں۔ یہاں آپ سے آپ یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اگر کوئی شخص ان گونا گوں تعلقات کی نوعیت سے اچھی طرح واقف نہ ہو یا ان میں سے بعض کا یا کل کا منکر ہو، تو وہ ہر گز آپ کی ذات با برکات سے وہ فائدہ حاصل نہیں کر سکتا جس کے لیے آپ کی بعثت ہوئی ہے۔
 
۲۔ دوسرا گروہ وہ جو منصب رسالت کے متعلق غلط فہمیوں میں مبتلا ہے وہ ہمارے ارباب تصوف کا ہے، یہ لوگ اول تو شریعت اور طریقت اور علم ظاہر اور علم باطن کی الگ الگ حد بندیاں قائم کیے ہوئے ہیں۔ پھر مزید ستم یہ کرتے ہیں کہ ان دونوں علموں کو ایک دوسرے سے بالکل بے تعلق کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جہاں تک علم ظاہر یا علم شریعت کا تعلق ہے اس کی تعلیم تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کو دی، لیکن علم باطن یا علم طریقت کی تعلیم آپؐ نے بطور ایک راز کے صرف چند مخصوص لوگوں ہی کو بتائی اور پھر انہی لوگوں کے واسطہ سے یہ علم سینہ بہ سینہ تصوف کے مختلف سلسلوں تک منتقل ہوا ہےا ور وہی اس راز کے امین بنے۔
 
اس خیال کے اندر جو خرابیاں ہیں اور اس سے منصب نبوت کے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں اور پھر اس سے معرفت الہٰی کے نصب العین کو جو نقصان پہنچتا ہے اس کی طرف ہم اس کتاب کی پہلی فصل میں بعض اشارات کر چکے ہیں۔ یہ خیال اگرچہ غلط ہے، لیکن غلط ہونے کے باوجود ہمارے نزدیک کم از کم اس پہلو سے غنیمت ہے کہ اس میں علم ظاہر اور علم باطن دونوں کا سرچشمہ نبیؐ ہی کو تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ نہیں ہے کہ علم شریعت کا سر چشمہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلیم کیا گیا ہو لیکن علم طریقت کا سرچشمہ کسی اور کو قرار دیا گیا ہو۔ ورنہ اہل تصوف میں تو ایک ایسا گروہ بھی ہے جو نبوت اور ولایت کے دو الگ الگ بالکل متوازی منصب تسلیم کرتا ہے پھر ان میں سے ایک کو وہ علم ظاہر (یعنی علم شریعت) کا سرچشمہ قرار دیتا ہے اور دوسرے کو علم باطن کا۔ اس گروہ کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جس طرح خاتم الانبیاء کا منصب مخصوص ہے، اسی طرح بعض اشخاص کے لیے ان کے نزدیک خاتم الاولیاء کا منصب مخصوص ہے، ان کے نزدیک یہ دونوں منصب بالکل دو متوازی نظاموں کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دو مستقل متوازی نظاموں کی یہ فطرت ہوتی ہے کہ ان کے درمیان رقابت اور کشمکش کی حالت رہے۔ چنانچہ ان کے درمیان بھی برابر قیبانہ چوئیں چلتی رہتی ہیں۔ طریقت کے علمبردار شریعت کے حامیوں کو ظاہر پرست اور بے مغز قرار دیتے ہیں اور شریعت کے حامی، طریقت کے حامیون کو مبتدع اور گمراہ ٹھہراتے ہیں اور اس تعصب اور غلونے بڑھتے بڑھتے یہ شکل اختیار کر لی ہے کہ بہت سے صوفی حضرات شریعت کو اپنی طریقت کے مقابلے میں پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہیں دیتے اور معرفت الہٰی کے نقطہ نظر سے ان کی نگاہوں میں جو مرتبہ شیخ محی الدین ابن عربی کا ہے وہ العیاذ باللہ کسی نبی کا بھی نہیں ہے۔
 
ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص منصب رسالت کے متعلق اس سوء ظن میں مبتلا ہو جائے تو اس کو معرفت الہٰی کا ایک ذرہ بھی حاصل نہیں ہو سکتا، اگرچہ وہ بزعم خویش باطن میں اتنا کمال حاصل کر لے کہ ہوا میں اڑنے اور پانی پر دوڑنے لگ جائے۔ معرفت الٰہی کا اصلی ذریعہ صرف انبیاء علیہم السلام ہی ہیں اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کی شریعت آخری اور کامل شریعت ہے اس وجہ سے لازماً آپؐ خاتم الاولیاء اور خاتم العارفین بھی ہیں۔ معرفت کا جو مقام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہوا، وہ نہ کسی اور کو حاصل ہوا اور نہ ہو گا اور علم کا جو خزانہ آپؐ کی شریعت کے اندر پوشیدہ ہے وہ خزانہ کسی اور چیز کے اندر ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
 
۳۔ ہمارے اندر ایک گروہ ایسے لوگوں کا بھی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ماضی کی ایک قابل احترام شخصیت سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ ساری قوم چونکہ آپؐ کو رسول کہتی ہے اس وجہ سے یہ لوگ بھی آپؐ کو رسول ہی کہتے ہیں اور قومی روایات کے زیر اثر آپؐ کے لیے حمیّت اور عصبیّت کا جذبہ بھی ایک حد تک رکھتے ہیں، لیکن یہ بات ان لوگوں کے دل میں کسی طرح بھی نہیں دھنستی کہ آپؐ جس معاملہ میں جو کچھ فرما گئے ہیں وہی حرف آخر ہے اور انسان کی دنیوی اور اخروی سعادت کا انحصار بس اس کو بے چون و چرا مان لینے ہی پر ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک آپؐ نے جو کچھ بتایا اور سکھایا وہ ایک مخصوص زمانہ اور ایک مخصوص ماحول کے لیے تو بے شک ٹھیک تھا لیکن علم و روشنی کے اس زمانہ میں بھی انہیں چیزوں پر اصرار کیے چلے جانا، ان کے خیال میں جہالت اور حماقت ہے، اب آپؐ کی بتائی ہوئی باتوں میں سے اگر کچھ چیزیں مانے جانے کے قابل ہیں تو یا تو وہ ہیں جو خود ان کی اپنی خواہشات کے مطابق ہیں یا وہ ہیں جن کو خوش قسمتی سے موجودہ زمانے میں بھی قدرو احترام کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو یہ لوگ دل سے گوارا کرنے کے لیے تیار ہوں اگرچہ اپنی کمزوری اور بزدلی کے سبب سے اس کے خلاف زبان کھولنے کی جرأت نہ رکھتے ہوں۔
 
۴۔ ہمارے عوام الناس کا ایک بڑا طبقہ ایسے لوگوں پر بھی مشتمل ہے، جن کے نزدیک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بس ایک اندھی بہری عقیدت کا مرجع ہے، وہ مختلف اوقات میں اپنی اس عقیدت کا اظہار کر کے اپنے خیال میں آپؐ کو نبوت و رسالت کے تمام حقوق و واجبات سے اپنے آپ کو سبکدوش کر لیتے ہیں، انہیں اس سے کچھ بحث نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کس مقصد کے لیے دنیا میں تشریف لائے تھے، آپؐ نے دنیا کو کیا تعلیم دی، اپنے بعد امت پر کیا ذمہ داریاں چھوڑ گئے اور ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے کے لیے ہمیں کیا کچھ کرنا ہے، ان سوالوں پر غور کرنے اور ان کے تقاضے پورے کرنے کی بجائے وہ اپنے تصورات کے مطابق آپؐ کی ذات کے ساتھ اظہار عقیدت کر لینے کو کافی سمجھتے ہیں، اگرچہ اس اظہار عقیدت کا طریقہ صریحاً آپؐ کی تعلیمات اور ہدایات کے خلاف ہی ہو۔ جاہل پیروں اور مولویوں کی ایک جماعت نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عوام کے اس جذبہ عقیدت سے خوب فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے دیکھا کہ شریعت کی حقیقی ذمہ داریوں سے محفوظ رہتے ہوئے عوام میں مقبول بننے کا یہ راستہ بہت سہل ہے کہ عوام کی اس جاہلانہ عقیدت کی حوصلہ افزائی کی جائے چنانچہ انہوں نے ایک طرف تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو منصب رسالت سے اٹھا کر خدائی کے منصب پر متمکن کرنے کی کوشش کی، اور اپنے زعم کے مطابق اس کے دلائل فراہم کیے۔ دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اظہار عقیدت و محبت کے ایسے طریقے ایجاد کیے جن سے ان کو اپنی خواہشات نفس کی تسکین کے لیے شریعت کی تمام پابندیوں سے پوری آزادی مل جائے۔ اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور آپؐ کی محبت و عقیدت کا کلمہ پڑھتے ہوئے ان تمام عقائد کی بنیادیں بھی ڈھا دی گئی ہیں جن سے معرفت الٰہی کی راہیں کھلتی تھیں اور وہ تمام اعمال و اخلاق بھی برباد کر دیے گئے جو اس معرفت کو جلا دینے والے تھے۔ جس ذات کو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں اس مقصد کے لیے بھیجا تھا کہ وہ لوگوں کے لیے راہنما بنے اور ان کو خدا کا راستہ دکھائے، اسی کے نام کو ان ظالموں نے اس مقصد کے لیے استعمال کیا کہ لوگوں کو خدا کے راستہ سے ہٹا کر ان کو گمراہی کے راستوں پر ڈال دیں۔
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی صحیح نوعیّت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت اور آپؐ کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت سے متعلق ہمارے اندر جو گمراہیاں آج پھیلی ہوئی ہیں ان میں سے ہم نے یہ چند بڑی بڑی گمراہیوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر معرفت الٰہی کے حصول کا واحد راستہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہی ہے تو ان گمراہیوں کی موجودگی میں آپؐ کے ساتھ نہ تو ہمارا صحیح ربط ہی قائم ہو سکتا ہے اور نہ وہ چیز ہی ہم آپؐ سے حاصل کر سکتے ہیں جس کے حاصل ہونے کا آپؐ واحد ذریعہ ہیں۔ اس وجہ سے ضروری ہے کہ جن بنیادوں پر قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیں اپنا تعلق استوار کرنے کی ہدایت کی ہے ہم وہ بنیادیں واضح کر دیں تا کہ جو شخص خدا تک پہنچنا چاہے وہ خدا تک پہنچنے کے واحد ذریعہ کےساتھ اپنی ٹھیک ٹھیک وابستگی قائم کر سکے۔
 
ہمارے نزدیک قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کو مندرجہ ذیل چار بنیادوں پر قائم کیا ہے:
 
ایمان
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی پہلی بنیاد ایمان ہے، ایمان کا مطلب صرف یہ مان لینا ہی نہیں ہے کہ آپؐ اللہ کے آخری رسولؐ ہیں بلکہ اس ایمان کی اصل روح آپؐ کی ذات پر سچا اور پکا اعتماد ہے۔ اس بات پر اعتماد کہ آپؐ صادق اور امین ہیں۔ اس بات پر اعتماد کہ آپؐ کے ہر قول اور ہر فعل کے اندر گہری حکمت ہے اگرچہ وہ حکمت ہماری سمجھ میں نہ آ رہی ہو۔ اس بات پر اعتماد کہ آپؐ نے جو راہ دکھائی ہے اگرچہ بظاہر اس میں کتنے ہی خطرات نظر آ رہے ہوں لیکن نجات اور فلاح کی حقیقی راہ وہی ہے۔ اس بات پر اعتماد کہ آپؐ نے زندگی کے اصول سکھائے ہیں وہ وقتی اور عارضی نہیں ہیں بلکہ وہ دائمی اور ابدی ہیں۔ اور انسان ان سے کبھی بھی مستغنی نہیں ہو سکے گا اور سب سے بڑھ کر اس بات کا اعتماد کہ خدا کی معرفت کا جو طریقہ آپؐ نے بتایا اور سکھایا ہے، اس سے بڑھ کر نہ کوئی اور طریقہ ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
 
جب تک آدمی کے اندر یہ اعتماد نہ پیدا ہو، مجرد اس تصدیق سے کہ آپؐ اللہ کے رسولؐ ہیں، آدمی ایمان کی حقیقی لذت سے آشنا نہیں ہوتا، اور نہ یہ ایمان اس معرفت کے نقطہ نظر سے کچھ کار آمد ہوتا ہے جو اس ایمان کی حقیقی غایت ہے۔ اسی وجہ سے حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ:
 
ذاق طعم الايمان من رضي با لله ربا و بالاسلام دينا و بحمد رسولا (مسلم)
ایمان کا مزہ اس نے چکھا جو اللہ کے اپنا رب ہونے پر، اسلام کے اپنا دین ہونے پر اور محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کے اپنا رسول ہونے پر مطمئن ہو گیا۔
 
یہی اعتماد ہے جس کی تعلیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر حضرت عمرؓ کو دی۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یا رسول اللہؐ! ہم کبھی کبھی یہود سے ایسی باتیں سنتے ہیں جو بڑی اچھی معلوم ہوتی ہیں۔ کیا آپؐ اجازت دیتے ہیں کہ "ہم ان میں سے بعض باتیں نوٹ کر لیا کریں"؟
آپؐ نے فرمایا کہ جس طرح یہود و نصارٰی اپنے دین کے بارہ میں حیرانیوں میں پڑ گئے اسی طرح تم بھی حیرانیوں میں پڑنا چاہتے ہو، میں نے تمہارے سامنے اللہ کے دین کو بالکل روشن اور شفاف صورت میں رکھا ہے۔ اگر آج موسیؑ بھی زندہ ہوتے تو ان کے لیے بھی میری پیروی پیروی کے سوا چارہ کار نہ تھا۔ ۱۔
 
یہی بات ایک دوسری روایت میں کچھ مختلف طریقہ پر وارد ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کے مذکورہ بالا سوال پر کچھ خفگی کا بھی اظہار فرمایا۔ حضرت عمرؓ کو جب حضورؐ کی خفگی کا احساس ہوا تو فوراً پکار اٹھے:
رضيت بالله ربا وبالاسلام دينا وبمحمد نبيا۔ ۲۔
"میں اللہ کے اپنا رب ہونے پر اسلام کے اپنا دین ہونے پر اور محمدؐ کے اپنا نبی ہونے پر پوری طرح مطمئن ہوں۔"
 
ان حدیثوں سے صاف واضح ہے کہ جہاں تک اللہ کی معرفت کا راستہ دکھانے اور خدا کی صراط مستقیم کو واضح کرنے کا تعلق ہے، یہ کام بہتر سے بہتر طریق پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دے دیا ہے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰؑ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اگر آپؐ کے بعد ہوتے تو اسی طریقہ کی پیروی کرتے۔ ظاہر ہے کہ حق کی رہنمائی کے نقطہ نظر سے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی لائی ہوئی شریعت کے بعد حضرت موسیٰؑ اور ان کی شریعت کی بھی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی تو دوسرے اشخاص اور ان کے علوم و افکار اور نظریات و تجربات کی کیا وقعت باقی رہتی ہے۔؟ دوسرے علوم و افکار اگر کچھ قابل لحاظ ہو سکتے ہیں تو صرف اس حد تک ہو سکتے ہیں جہاں تک وہ کتاب و سنت کے موافق و مویّد ہوں۔ اگر کوئی شخص اس حد سے بڑھ کر کسی فکر و فلسفہ کو یا کسی وجدان و کشف کو یا کسی طریقہ اور تجربہ کو نبی کے علم و عمل پر ترجیح دے، یا اس کے برابر ہی ٹھیرائے یا اس کسوٹی پر جانچے بغیر ہی اس کسوٹی پر جانچے بغیر ہی ا س کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ ساتھ نبیؐ پر ایمان کا بھی دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ ایمان محض ایک فریب نفس ہے کیوں کہ اس کا ایمان اس اعتماد سے بالکل خالی ہے جو اس ایمان کی اصل روح ہے۔
 
اطاعت
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی دوسری شرط آپؐ کی کامل اطاعت ہے۔ دنیا کا کوئی نبی اور رسول بھی اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ بس اس کو مان لینے کی حد تک لوگ اس کو نبی اور رسول مان لیں بلکہ اس کے بھیجے جانے سے اصل شے جو مقصود رہی ہے وہ یہ ہے کہ اسی کی اطاعت بھی کی جائے اور زندگی کے معاملات میں جو احکام و ہدایات وہ دے اس کی بے چون و چرا تعمیل کی جائے۔ اس حقیقت کو قرآن نے ان الفاظ میں واضح فرمایا ہے:
 
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ(نساء:64)
ہم نے نہیں بھیجا کوئی رسول، مگر اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے۔
 
دوسری جگہ ہے کہ آدمی کے نیک اعمال کی قبولیت کا انحصار ہی اس بات پر ہے کہ وہ اللہ کے رسول کی اطاعت کرے۔ اگر وہ اطاعت نہ کرے تو اس کے تمام اعمال رائیگاں ہو جاتے ہیں:
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَلَا تُبْطِلُوا أَعْمَالَكُمْ (محمد۔۳۳)
اے ایمان لانے والو! اللہ کی اطاعت کرو اور اس کے رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔
 
رسولؐ کی اطاعت کے مطالبہ کی وجہ یہ ہے خدا کی اطاعت جو اصل مقصود ہے اس کا راستہ ہی یہ ہے کہ اس کے رسول کی اطاعت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ براہ راست معاملہ نہیں کرتا بلکہ اپنے رسول کے واسطہ سے کرتا ہے۔ رسول ہی لوگوں کو اس کی ہدایات اور اس کے احکام سے آگاہ کرتا ہے۔ اس وجہ سے جو اللہ کی اطاعت کرنا چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ رسول کی اطاعت کرے۔ رسول کی یہ اطاعت ہی درحقیقت اللہ کی اطاعت ہے۔
 
مَّنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّهَ۔
جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی۔
 
رسول کا ہاتھ لوگوں کے لیے اللہ کے ہاتھ کا قائم مقام ہوتا ہے، جو لوگ رسولؐ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں وہ گویا بالواسطہ اللہ ہی کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں:
 
إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔ الفتح۔ ۱۰)
جو لوگ تم سے بیعت کرتے ہیں، وہ درحقیقت اللہ ہی سے بیعت کر رہے ہیں اللہ ہی کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے۔
 
خود احادیث میں بھی اس حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی اطاعت کا راستہ یہی ہے کہ محمدؐ کی اطاعت کی جائے۔ مثلاً:
من اطاع محمد فقد اطاع الله   ومن عصیٰ محمد فقد عصی الله و محمد فرق بين الناس۔ (بخاری)
جس نے محمدؐ کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمدؐ کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، اللہ کے ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے درمیان محمدؐ ہی نشان امتیاز ہیں۔
 
قرآن مجید میں یہ حقیقت بھی واضح کر دی گئی ہے کہ یہ اطاعت محض ظاہری اور رسمی قسم کی مطلوب نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ آدمی پورے طور پر اپنے آپ کو خدا کی کتاب اور پیغمبر کی سنت کے تابع کر دے، آپس میں جتنے قضیے اور مسئلے بھی پیدا ہوں، ان سب کے طے کرنے کے لیے کتاب و سنت ہی کی طرف رجوع کیا جائے، اور پھر کتاب و سنت کے فیصلوں کو دل کے پورے اطمینان اور طبیعت کی پوری رضامندی کے ساتھ قبول کیا جائے، ان کے خلاف دل کے اندر کسی قسم کی بدگمانی یا شکایت نہ رہے، فرمایا ہے:
 
فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُوْا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيمًا (نساء)
پس نہیں، تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہیں جب کہ ان تمام معاملات میں جو ان کے درمیان پیدا ہوں وہ تم کو حَکَم نہ بنائیں اور پھر تمہارے فیصلہ سے اپنے دلوں کے اندر کوئی تنگی بھی محسوس نہ کریں اور وہ پورے طور پر اپنے آپ کو تمہارے تابع نہ بنائیں۔
 
ان آیات و احادیث کے ظاہری الفاظ سے کسی کو یہ دھوکا نہ ہو کہ ان کا تعلق صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی سے تھا، جب آپؐ کی ذات خاص ہمارے درمیان موجود نہیں رہی تو اس اطاعت کا سوال بھی باقی نہیں رہا۔ آپؐ کی وفات کے بعد اللہ کی کتاب اور آپؐ کی سنت امت کے اندر آپؐ کے قائم مقام ہے اس وجہ سے اب انہی دو چیزوں کی اطاعت آپؐ کی اطاعت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات سے پہلے خود اس کی وصیت بھی فرما دی تھی۔
 
قال رسول الله صلي الله عليه وسلم تركت فيكم امرين لن تضلوا ما تمستكم بهما كتاب الله و سنت رسولهٖ۔۳۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میں تم میں نے تم میں دو چیزیں چھوڑی ہیں جب تک تم ان دونوں پر مضبوطی سے قائم رہو گے، اس وقت تک تم گمراہ نہ ہو گے۔
 
علاوہ ازیں ایک اسلامی حکومت کے وہ امراء و حکام بھی اسی حکم میں داخل ہیں جو زمین میں خدا کی کتاب اور آپؐ کی سنت کے نافذ کرنے والے ہوں۔ اس کی تصریح بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے:
 
قال رسول الله صلي الله عليه وسلم من اطاعني فقد اطاع الله و من اطاع الامام فقد اطاعني ومن عصاني فقد عصي الله ومن عصي الامام فقد عصاني۔۴۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے امام کی اطاعت کی تو اس نے میری اطاعت کی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے امام کی نافرمانی کی تو اس نے میری نافرمانی کی۔
 
اس تفصیل سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو گئی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننے کی اصل حقیقت یہ کہ ہم اس کتاب و سنت کی پیروی کریں جن کے ذریعے سے آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی مرضیات اور اس کے احکام سے ہمیں آگاہ فرمایا ہے۔ اگر محض زبان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا اقرار کیا جاتا رہے، اور اطاعت اپنی ہوائے نفس کی یا رسولؐ کی ہدایات کے خلاف دوسروں کی کی جاتی رہے تو اس طرح رسولؐ کو رسول ماننا وہ ماننا نہیں ہے جس سے معرفت الہٰی کے دروازے کھلیں بلکہ اس طرح کا ماننا الٹا آدمی کے خسران اور اس کی بد بختی میں اضافہ کا باعث ہوتا ہے۔
 
اتباع
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی تیسری بنیاد اتباع ہے۔ اتباع کا دائرہ اطاعت سے زیادہ وسیع ہے۔ اطاعت کے دائرہ میں تو عموماً وہی باتیں آتی ہیں جن کی حیثیت احکام و واجبات اور اوامر و نواہی کی ہو، لیکن اتباع کے دائرہ میں مستحبات و نوافل بھی آ جاتے ہیں۔ پھر اطاعت بعض حالات میں محض ظاہری اور رسمی بھی ہو سکتی ہے۔ آدمی ایک شخص کی اطاعت کرتا ہے لیکن اس کی اطاعت میں اخلاص اور محبت کا جذبہ ذرا بھی شامل نہیں ہوتا، لیکن اتباع میں متبوع کے لیے عقیدت و احترام کا جذبہ پایا جانا بھی شرط ہے۔
 
صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اطاعت ہی نہیں کرتے تھے بلکہ آپؐ کی اتباع بھی کرتے تھے، وہ صرف یہی نہیں کرتے تھے کہ آپؐ کسی بات کا حکم دیں تو اس کی تعمیل کر دیں یا کسی بات سے روکیں تو اس سے رک جائیں بلکہ وہ آپؐ کی ایک ایک ادا کو دیکھتے، اس کو نگاہوں میں رکھتے اور پھر اس کی تقلید کرتے تھے۔ آپؐ کس طرح اٹھتے ہیں، کس طرح بیٹھتے ہیں، کس طرح سوتے ہیں، کس طرح جاگتے ہیں، کس طرح چلتے ہیں، کس طرح گفتگو کرتے ہیں، کس طرح کھانا کھاتے ہیں، کس طرح ہاتھ دھوتے ہیں، کس طرح وضو کرتے ہیں، کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ غرض وہ آپؐ کی تمام حرکات و سکنات پوری طرح نظر میں رکھتے اور پھر ان میں سے ہر شخص کی یہ دلی خواہش ہوتی کہ وہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے سانچے میں ڈھالے اور یہ اہتمام کسی خارجی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ محبت و عقیدت کے جذبہ سے سرشار ہو کر کرتے تھے۔
 
اتباع رسول میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس ذوق و شوق کی وجہ یہ تھی کہ خدا کی محبت اور محبوبیت کا درجہ صرف اطاعت رسولؐ سے نہیں بلکہ درحقیقت اتباع رسولؐ سے حاصل ہوتا ہے۔ رسولؐ، خدا کی معرفت کا مظہر کامل ہوتا ہے، اس کی ایک ایک ادا معرفت الہٰی کا نشان ہوتی ہے، اس وجہ سے جو لوگ خدا سے محبت رکھتے ہیں وہ رسولؐ کی ایک ایک ادا سے محبت رکھتے ہیں، وہ رسولؐ کے اندر وہ علم دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے، وہ عمل دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے، وہ عادات دیکھتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں، وہ صفات دیکھتے ہیں جو خدا کو محبوب ہیں وہ جمال خدا دیکھتے ہیں جس پر جمال خدا وندی کا پرتو ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ رسولؐ کے ایک ایک نقش کو تلاش کر کر کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور چونکہ یہ سب کچھ خدا کی محبت میں کرتے ہیں اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا صلہ یہ پاتے ہیں کہ وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ یہی حقیقت قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے:
 
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ (آل عمران)
کہہ دو اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔
 
درحقیقت رسولؐ کی بعثت کا سب سے بڑا مقصد ہوتا ہی یہی ہے کہ معرفت الہٰی کا جو عکس انسان کی زندگی پر پڑنا چاہیے اس کو رسول کی روز مرہ زندگی میں مشاہدہ کرا دیا جائے۔ اگر باطن میں معرفت کا نور جلوہ گر ہو تو ظاہر کی ایک ایک چیز میں جو نورانیت ہونی چاہیے، پیغمبر کی زندگی اس کا کامل نمونہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کی زندگی کی ایک ایک ادا کو پیروی کے لیے اسوہ حسنہ کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے، اور جو اس اسوہ حسنہ کی پیروی میں جتنا ہی ترقی کرتا ہے، وہ خدا کی محبت اور اس کی محبوبیت میں اتنی ہی ترقی کرتا ہے۔
 
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔
تمہارے لیے رسول اللہ ؐ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔
 
محبت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارے تعلق کی چوتھی شرط آپؐ کے ساتھ ہماری محبت ہے۔ دین میں وہ ایمان یا وہ اطاعت معتبر نہیں ہے جس کی بنیاد محبت پر نہ ہو۔ ایسی اطاعت جس کی تہہ میں محبت کا جذبہ کارفرما نہ ہو بعض حالات میں محض نفاق ہوتی ہے۔ پھر محبت بھی محض رسمی اور ظاہری قسم کی مطلوب نہیں ہے بلکہ ایسی محبت مطلوب ہے جو تمام محبتوں پر غالب آ جائے جس کے مقابل میں عزیز سے عزیز رشتے اور محبوب سے محبوب تعلقات کی بھی کوئی قدرو قیمت باقی نہ رہ جائے، جس کے لیے دنیا کی ہر چیز کو چھوڑا جا سکے لیکن خود اس کو کسی قیمت پر باقی نہ چھوڑا جا سکے۔ قرآن مجید میں اس محبت کا معیار یہ بتایا گیا ہے:
 
قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَآؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوْا حَتَّى يَْاتِيَ اللّهُ بِأَمْرِهِ (توبه۔ ۲۴)
کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے خاندان اور مال جو تم نے کمایا ہے اور تجارت جس کے گر جانے کا تمہیں اندیشہ ہے اور مکانات جو تمہیں پسند ہیں، اگر یہ ساری چیزیں تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے۔
 
اسی حقیقت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف طریقوں سے احادیث میں بھی واضح فرمایا ہے مثلاً ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص کا ایمان بالرسول متحقق نہیں ہو سکتا جب تک وہ مجھ کو اپنے باپ بیٹے اور دوسرے تمام عزیزوں اور قرابت داروں سے عزیز نہ رکھے۔
 
قال رسول الله ٍصلي الله عليه وسلم لا يوءمن احدكم حتّٰی اکون احبّ اليه من والده وولده والناس اجمعين۔۵۔(متفق علیہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے باپ، اس کے بیٹے اور دوسرے تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
 
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس قسم کی محبت کے بعد ہی کوئی شخص ایمان کی حقیقی لذت سے آشنا ہو سکتا ہے۔
 
ثلث من کن فيه وجد بهن حلاوة الايمان من كان الله ورسوله احب اليه مما سواء (متفق عليه)
تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی، وہ ان کے سبب سے ایمان کا مزا چکھے گا۔ ایک وہ شخص جس کے نزدیک اللہ اور اس کا رسول دوسری تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہوں۔
 
لیکن یہ بات یہاں یاد رکھنی چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جس محبت کا یہاں ذکر کیا گیا ہے اس سے مقصود محض وہ جذباتی محبت نہیں ہے جو آدمی کو فطری طور پر اپنے بیوی بچوں یا اپنے دوسرے عزیزوں کے ساتھ ہوتی ہے بلکہ اس سے مقصود وہ عقلی اور اصولی محبت بھی ہے جو ایک شخص کو کسی اصول اور مسلک کے ساتھ ہوا کرتی ہے اور جس کی بنا پر وہ اپنی زندگی میں ہر جگہ اسی اصول اور اسی مسلک کو مقدم رکھتا ہے، اس اصول اور مسلک کے اوپر وہ ہر چیز اور ہر اصول، ہر مسلک اور ہر خواہش اور ہر حکم کو قربان کر دیتا ہے لیکن خود اس کو دنیا کی کسی چیز پر بھی قربان نہیں کرتا۔ اس اصول اور مسلک کی برتری کے لیے وہ ساری چیزون کو پست کر دیتا ہے لیکن اس اصول اور مسلک کو کسی حالت میں بھی پست دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اگر اس سے خود اس کا اپنا نفس اس مسلک کی مخالفت میں مزاحم ہوتا ہے تو وہ اس سے بھی لڑتا ہے، اگر دوسرے اس سے مزاحم ہوتے ہیں تو ان کا بھی وہ مقابلہ کرتا ہے یہاں تک کہ اس کے بیوی بچوں اور اعزا و اقارب کے مطالبات بھی اگر اس کے اس مسلک کے مطالبات سے کسی مرحلہ پر ٹکراتے ہیں تو وہ اپنے اس اصول اور مسلک کا ساتھ دیتا ہے اور بے تکلف اپنے بیوی بچوں کی خواہشوں اور اپنے خاندان اور قوم کے مطالبہ کو ٹھکرا دیتا ہے۔
 
اس محبت کا اصولی اور عقلی ہونا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں واضح فرما دیا ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے:
 
من احبّ سنّتی فقد احبّنی ومن احبّنی کا سعی فی الجنة۔ (ترمذی)
جس نے میری سنت سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا۔
 
اطاعت بلا محبت اور محبت بلا اتباع
اس تفصیل سے جہاں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا ایمانی تعلق اس وقت تک استوار نہیں ہو سکتا جب تک اس ایمان کی بنیاد، اطاعت، اتباع اور محبت پر نہ ہو۔ وہیں مختلف اشارات سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اطاعت بلا محبت پر نہ ہو۔ وہیں مختلف اشارات سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اطاعت بلا محبت کے نفاق، اور محبت بلا اطاعت و اتباع کے بدعت ہے۔
 
یہ بات کہ محبت بلا اطاعت کے نفاق ہے، خود قرآن مجید سے نہایت واضح طور پر ثابت ہے، حوالی مدینہ کے بہت سے اعراب، اسلام کی سیاسی طاقت بڑھ جانے کے بعد اسلامی حکام و قوانین کی ظاہری اطاعت کرنے لگے تھے لیکن یہ اطاعت محض سیاسی مصالح کے تحت مجبورانہ تھی، اللہ اور رسولؐ کی محبت اور اس ایمان کا نتیجہ نہیں تھی جس کی اصلی روح اخلاص و اعتماد ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے جب بعض مواقع پر اپنے ایمان کا دعویٰ اس طرح کیا جس سے یہ مترشح ہوتا تھا کہ انہوں نے ایمان لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ہدایت کی کہ ان مدعیان ایمان سے کہہ دو کہ محض اسلامی احکام و قوانین کی ظاہری اطاعت سے آدمی مومن نہیں ہو جایا کرتا بلکہ ایمان کے لیے اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ اخلاص و محبت بھی شرط ہے اور یہ چیز تمہارے اندر مفقود ہے اس وجہ سے ابھی تمہارا دعوائے ایمان بھی غلط ہے۔
 
قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (الحجرات۔ ۱۴)
اور یہ اعرابی لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے ہو۔ البتہ یہ کہو کہ ہم نے اطاعت کر لی، ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر نہیں داخل ہوا ہے۔
 
رہی دوسری بات یعنی محبت بلا اطاعت و اتباع کا بدعت ہونا تو یہ اوپر کی آیات و احادیث سے واضح طور پر نکلتی ہے۔
 
جس طرح قرآن مجید نے 'إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ' والی آیت میں اللہ کی محبت کا طریقہ یہ بتایا ہے کہ نبیؐ کی اتباع کی جائے اور بغیر اتباع نبیؐ کے اللہ کی محبت کے جتنے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں ان سب کو بدعت و ضلالت قرار دیا ہے۔ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'من احب سنّتی فقد احبّنی' والی حدیث میں یہ واضح فرما دیا کہ آپؐ سے محبت کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپؐ کی سنت کے ساتھ محبت کی جائے اور بعض دوسری حدیثوں میں آپؐ نے اپنی محبت میں اس قسم کے غلو کی ممانعت فرمائی ہے جس قسم کا غلو نصارٰی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی محبت میں کیا۔
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ ہدایت اور یہ ممانعت اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن آپؐ کی سنت کی پیروی نہیں کرتے اول تو ان کا دعویٰ ہی بے حقیقت ہے اور اگر اس کے اندر سچائی کی رمق ہے بھی تو ان کی یہ محبت بالکل بے معنی محبت ہے اور اگر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے کے کچھ ایسے طریقے بھی ایجاد کر لیے ہیں جو صریحاً آپؐ کی سنت کے خلاف ہیں تو یہ اسی طرح کی بدعت ہے جس طرح کی بدعت نصاریٰ نے حضرت عیسیٰؑ کی محبت میں کی ہے کہ ان کو پیغمبر کی بجائے خدا بنا کے بٹھا دیا۔
 
صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محض عقلی و اصولی نہیں تھی بلکہ جذباتی بھی تھی لیکن یہ جذبات کبھی حدود کتاب و سنت سے متجاوز نہیں ہوتے تھے۔ ایک طرف یہ حال تھا کہ صحابہ اپنے اوپر بڑی سے بڑی تکلیف اٹھا لیتے لیکن نبیؐ کے تلووں میں ایک کانٹے کا چبھنا بھی گورا نہیں کرتے تھے، نبیؐ کی حفاظت میں ان کے اپنے جسم تیروں سے چھلنی ہو جاتے تھے لیکن وہ یہ نہیں برداشت کر سکتے تھے کہ ان کے جیتے جی آپؐ کا بال بھی بیکا ہو۔ مرد تو مرد عورتوں تک کے جذبات کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے بیٹے اور شوہر اور باپ اور بھائی سب کو قربان کر کےبھی نبیؐ کی سلامتی کی آرزوئیں رکھتی تھیں، دوسری طرف اتباع سنت کا یہ اہتمام تھا کہ اس محبت سے مغلوب ہو کر بھی کبھی ایسی بات ان سے صادر نہیں ہوتی تھی جو آپؐ کی صریح ہدایات تو درکنار، آپؐ کی پسند ہی کے خلاف ہو، حضرت انسؓ کا بیان ملاحظہ ہو:
 
عن انس قال لم يكن شخص احب اليهم من رسول الله صلي الله عليه و سلم و كانو اذا رأوه لم يقومو لما يعلمون من كراهيته لذالك۔ (مشکٰوة، بحوالہ ترمذی)
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ صحابہؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی شخص بھی محبوب نہ تھا۔ لیکن جب وہ آپؐ کو دیکھتے تو آپؐ کی تعظیم کے لیے کھڑے نہ ہوتے کیوں کہ ان کو معلوم تھا کہ آپؐ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں۔
 
لیکن آج اگر ہم مسلمانوں کا جائزہ لیں تو ان کے اندر عظیم اکثریت ایسے ہی لوگوں کی نکلے گی جو یا تو نبیؐ پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس ایمان کے ساتھ اطاعت موجود نہیں ہے۔ یا محبت کا دم بھرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ اتباع سنت نہیں ہے۔ اطاعت اور اتباع دونوں کی جگہ انہوں نے اپنے جی سے چند چیزیں ایجاد کر لی ہیں۔ کچھ میلاد کی مجلسیں منعقد کر دیتے ہیں، کچھ دیگیں پکوا کر تقسیم کر دیتے ہیں، ایک آدھ جلوس نکلوا دیتے ہیں، کچھ نعرے لگوا دیتے ہیں۔ بس اس طرح کی کچھ باتیں ہیں جن سے ان کا ایمان اور ان کی محبت رسولؐ عبارت ہے، آپ کو کتنے ایسے اشخاص ملیں گے جنہوں نے نماز مدت العمر نہیں پڑھی لیکن مہینہ میں میلاد کی مجلسیں اور قوالی کی محفلیں کئی بار منعقد کرتے ہیں۔ مال رکھتے ہوئے زکوٰۃ ادا کرنے کی ان کو کبھی توفیق نہیں ہوئی لیکن اپنی ان بدعات پر، جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کرتے ہیں ہر سال ہزار ہا روپے خرچ کر دیتے ہیں۔ ان کو اس بات کی کبھی توفیق نہیں ہوتی کہ اللہ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا مطالعہ کریں اور ان کی روشنی میں اپنی زندگیوں کا جائزہ لے کر ان کو درست کرنے کی کوشش کریں لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں اپنے آپ کو ہر وقت سرشار ظاہر کرتے ہیں اور نعتیہ اشعار پڑھ کر یا سن کر ان پر وارفتگی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
 
یہ حالت ہمارے کسی ایک ہی طبقہ کی نہیں ہے بلکہ ہمارے اکثر طبقے اسی قسم کی محبت رسولؐ کے دعویدار اور اگر کچھ لوگ اتباع سنت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ان کا حال بھی یہ ہے کہ ان کے نزدیک تمام سنت جن چند اختلافی مسائل کے اندر سمٹ آئی ہے بس انہی چند چیزوں پر ان کا سارا زور صرف ہوتا ہے گویا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت صرف انہی چند مسائل کی تعلیم کے لیے ہوئی تھی۔
 
__________________
۱۔ مشکوٰۃ، باب الاعتصام بالکتاب والسنۃ
۲۔ مشکوٰۃ باب مذکور
۳۔ بخاری، کتاب الاحکام
۴۔ مشکوٰۃ۔ باب الاعتصام
۵۔ مشکوٰۃ، باب الایمان
 




البیان۔ سورہ البقرہ۔ اٰیات ۶۰۔۶۱


 

وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلاَ تَعْثَوْا فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ
اور یاد کرو،جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پرمارو۔(اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، ١٤٩ اِس طرح کہ ہر قبیلے نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی۔ ١٥٠ اللہ کی اِس روزی سے کھاؤ اور پیو،١٥١ (اے بنی اسرائیل)، اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔٦٠
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَىَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوْا مِصْراً فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآؤُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُونَ (۶۰۔۶۱)
اور یاد کرو، جب تم نے کہا:اے موسیٰ، ہم ایک ہی کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے۔ ١٥٢ سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ سبزی،ککڑی،لہسن، ١٥٣ مسور اور پیاز جو زمین اگاتی ہے،وہ اِن چیزوں میں سے ہمارے لیے نکال کر لائے۔ ١٥٤ اُس نے کہا: تم ایک بہترچیز کو کم تر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو؟ ١٥٥ (اچھا تو جاؤ)،کسی مصر ہی میں جا رہو۔١٥٦ یہ جو کچھ تم مانگتے ہو،وہاں مل جائے گا۔ (وہ یہی کرتے رہے) اور اُن پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی ١٥٧ اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔١٥٨ یہ اِس وجہ سے ہواکہ وہ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے تھے اور اُس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اُنھوں نے نافرمانی کی اور وہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی کسی حد پر نہ رہتے تھے۔ ١٥٩٦١
__________________
١٤٩ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹان سے پانی بہ نکلنے کا یہ واقعہ دشت صین میں پیش آیا ہے۔ گنتی میں ہے :
 
''اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے... اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف اکٹھے ہوئے۔ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے : ہائے کاش،ہم بھی اُسی وقت مر جاتے،جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔تم خداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں ؟ اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اِس بری جگہ پہنچایا ہے ؟ یہ تو بو نے کی اور انجیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے،بلکہ یہاں تو




البیان۔ سورہ البقرہ۔ اٰیات ۶۰۔۶۱


 

وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْناً قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلاَ تَعْثَوْا فِي الأَرْضِ مُفْسِدِينَ
وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَىَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُوْا مِصْراً فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآؤُوْا بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُونَ (۶۰۔۶۱)
اور یاد کرو،جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا: اپنی لٹھیا اِس پتھر پرمارو۔(اُس نے ماری) تو اُس سے بارہ چشمے بہ نکلے، ١٤٩ اِس طرح کہ ہر قبیلے نے اپنے لیے پانی لینے کی جگہ متعین کر لی۔ ١٥٠ اللہ کی اِس روزی سے کھاؤ اور پیو،١٥١ (اے بنی اسرائیل)، اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔٦٠
اور یاد کرو، جب تم نے کہا:اے موسیٰ، ہم ایک ہی کھانے پر ہرگز صبر نہ کریں گے۔ ١٥٢ سو ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کرو کہ یہ سبزی،ککڑی،لہسن، ١٥٣ مسور اور پیاز جو زمین اگاتی ہے،وہ اِن چیزوں میں سے ہمارے لیے نکال کر لائے۔ ١٥٤ اُس نے کہا: تم ایک بہترچیز کو کم تر چیزوں سے بدلنا چاہتے ہو؟ ١٥٥ (اچھا تو جاؤ)،کسی مصر ہی میں جا رہو۔١٥٦ یہ جو کچھ تم مانگتے ہو،وہاں مل جائے گا۔ (وہ یہی کرتے رہے) اور اُن پر ذلت اور محتاجی مسلط کردی گئی ١٥٧ اور وہ اللہ کا غضب کما لائے۔١٥٨ یہ اِس وجہ سے ہواکہ وہ اللہ کی آیتوں کو نہیں مانتے تھے اور اُس کے نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے۔یہ اِس وجہ سے ہوا کہ اُنھوں نے نافرمانی کی اور وہ اللہ کی ٹھیرائی ہوئی کسی حد پر نہ رہتے تھے۔ ١٥٩٦١
__________________
١٤٩ بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھر کی چٹان سے پانی بہ نکلنے کا یہ واقعہ دشت صین میں پیش آیا ہے۔ گنتی میں ہے :
 
''اور پہلے مہینے میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آگئی اور وہ لوگ قادس میں رہنے لگے... اور جماعت کے لوگوں کے لیے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسیٰ اور ہارون کے برخلاف اکٹھے ہوئے۔ اور لوگ موسیٰ سے جھگڑنے اور یہ کہنے لگے : ہائے کاش،ہم بھی اُسی وقت مر جاتے،جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔تم خداوند کی جماعت کو اِس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں ؟ اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اِس بری جگہ پہنچایا ہے ؟ یہ تو بو نے کی اور انجیروں اور تاکوں اور اناروں کی جگہ نہیں ہے،بلکہ یہاں تو پینے کے لیے پانی تک میسر نہیں اور موسیٰ اور ہارون جماعت کے پاس سے جا کر خیمہ اجتماع کے دروازے پر اوندھے منہ گرے۔ تب خداوند کا جلال اُن پر ظاہر ہوا اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اِس لاٹھی کو لے اور تو اور تیرا بھائی ہارون،تم دونوں جماعت کو اکٹھا کرو اور اُن کی آنکھوں کے سامنے اِس چٹان سے کہو کہ وہ اپنا پانی دے اور تو اُن کے لیے چٹان ہی سے پانی نکالنا۔یوں جماعت کو اور اُن کے چوپایوں کو پلانا۔چنانچہ موسیٰ نے خداوند کے حضور سے اِسی حکم کے مطابق وہ لاٹھی لی اور موسیٰ اور ہارون نے جماعت کو اُس چٹان کے سامنے اکٹھا کیا اور اُس نے اُن سے کہا :سنو،اے باغیو،کیا ہم تمھارے لیے اِسی چٹان سے پانی نکالیں ؟ تب موسیٰ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اُس چٹان پر دوبار لاٹھی ماری اور کثرت سے پانی بہ نکلا اور جماعت نے اور اُن کے چوپایوں نے پیا۔''( ٢٠ :١-١١)
 
١٥٠ بنی اسرائیل کے بارہ خاندان تھے۔چنانچہ جب بارہ چشمے پھوٹے تو ہر خاندان نے اُن پر اپنا گھاٹ الگ متعین کر لیا اور یہ اندیشہ نہ رہا کہ اُن کے درمیان پانی لینے پر کوئی جھگڑا برپا ہو۔
 
١٥١ یہاں یہ نکتہ ملحوظ رہے کہ پیچھے من و سلویٰ کے ذکر کے بعد صرف 'کُلُوْا'(کھاؤ)کا لفظ آیا ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت تک صرف غذا ہی کا اہتمام ہوا تھا۔اُس کے ساتھ جب پانی کا اہتمام بھی اِس فراوانی کے ساتھ ہو گیا تو اب 'کُلُوْا وَاشْرَبُوْا' کے الفاظ آئے ہیں ،یعنی کھاؤ اورپیو۔
 
١٥٢ یعنی ہر روز من و سلویٰ ہی کھاتے رہیں ، یہ ہمارے لیے ممکن نہیں ہے، لذت کام و دہن جس تنوع کا تقاضا کرتی ہے، اُس کی کوئی صورت اِس صحرا میں بھی پیدا ہونی چاہیے۔
 
١٥٣ اِس کے لیے اصل میں 'فُوْم' کا لفظ آیا ہے۔ یہ اور 'ثوم'ایک ہی چیز ہے۔لہسن کے لیے یہ لفظ اِس قدر معروف ہے کہ اِس سے روٹی یا گندم اور غلہ وغیرہ کسی طرح مراد نہیں لے سکتے۔
 
١٥٤ بنی اسرائیل کے اِس مطالبے کا ذکر بائیبل کی کتاب گنتی میں اِس طرح ہواہے:
''اور جو ملی جلی بھیڑ اُن لوگوں میں تھی،وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی اور بنی اسرائیل بھی پھر رونے اور کہنے لگے کہ ہم کو کون گوشت کھانے کو دے گا؟ ہم کو وہ مچھلی یاد آتی ہے جو ہم مصر میں مفت کھاتے تھے اور ہائے وہ کھیرے اور وہ خربوزے اور وہ گندنے اور پیاز اور لہسن۔ لیکن اب تو ہماری جان خشک ہو گئی۔یہاں کوئی چیز میسر نہیں اور من کے سوا ہم کو کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔''( ١١ : ٤-٦)
 
١٥٥ یعنی یہ من و سلویٰ کی غذا جو تمھیں فرعونیوں کی غلامی اور ذلت کی زندگی سے بالکل آزاد ہو کر مل رہی ہے،اِسے چھوڑ کر تم زبان کے اِن چٹخاروں کے لیے بے تاب ہو رہے ہو ؟ تمھیں احساس نہیں ہے کہ آزادی اور حریت کے ساتھ ملنے والی خشک روٹی بھی تمام الوانِ نعمت اور دنیا کی تمام لذتوں سے بڑھ کر ہے۔
 
١٥٦ اصل الفاظ ہیں : 'اِهْبِطُوْا مِصْرًا'۔ 'هبط'کے معنی صرف اوپر سے نیچے گرنے ہی کے نہیں ہیں ،یہ کسی منزل میں اترنے یا کسی بستی میں داخل ہونے کے لیے بھی عام مستعمل ہے۔ 'مصر' کا لفظ ملک مصر ہی کے لیے آیا ہے۔یہ چونکہ غیر منصرف آتا ہے،اِس لیے تنوین نے اِس میں یہاں 'کسی مصر' کے معنی پیدا کر دیے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ اگر تم اِن چٹخاروں کے بغیر زندگی بسر نہیں کر سکتے تو پھر جاؤ، کسی مصر ہی کے شکنجے میں اپنی گردن دو،وہاں یہ چیزیں تمھیں میسر ہو جائیں گی۔
 
١٥٧ اصل میں 'ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْکَنَةُ'کے الفاظ آئے ہیں ،یعنی اُن پر ذلت اور پست ہمتی مار دی گئی۔گویا دیوار پر جس طرح گیلی مٹی تھوپ دی جاتی ہے، اِسی طرح اُن کے جرائم کی پاداش میں ذلت،بے بسی اور بدحالی اُن پر تھوپ دی گئی۔
 
١٥٨ اصل میں 'وَبَآءُ وْبِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ'کے جو الفاظ آئے ہیں ،اُن کا مفہوم ہے :اور وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے۔یعنی اپنی عنایتوں سے بہرہ یاب ہونے کے جو مواقع اللہ تعالیٰ نے اُنھیں فراہم کیے، وہ اپنی نالائقیوں کے باعث اُن مواقع پر لعنت اور پھٹکار لے کر واپس آئے۔
 
١٥٩ یعنی یہ ذلت اور مسکنت اِس لیے اُن پر تھوپی گئی کہ اُنھوں نے پے در پے جرائم کا ارتکاب کیا اور اپنی سر کشی اور تعدی کے باعث ہر حد توڑ دی،یہاں تک کہ اللہ کے نبیوں تک کو قتل کر ڈالا۔یہوداہ میں اُن کے بادشاہ یوآس کے حکم سے زکریا علیہ السلام کو عین ہیکل میں مقدس اور قربان گاہ کے درمیان سنگ سار کیا گیا۔اُنھی کے فرماں روا ہیروویس کے حکم سے یحییٰ علیہ السلام کا سر ایک تھال میں رکھ کر اُس کی معشوقہ کی نذر کر دیا گیا۔سیدنا مسیح علیہ السلام کو بھی اُنھوں نے اپنے زعم کے مطابق سولی پر چڑھا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں اُن کے شر سے محفوظ رکھا۔ پھر یہی نہیں ، اِس بدترین جرم کا ارتکاب اُنھوں نے 'بِغَيْرِ الْحَقِّ'یعنی بغیر کسی وجہ جواز کے کیا۔قتل نفس، پھر انبیا علیہم السلام کا قتل اور وہ بھی بغیر کسی وجہ جواز کے،گویا اِس جرم کی تمام سنگینیاں اُنھوں نے ایک ہی جگہ جمع کر دیں۔قرآن نے یہاں واضح کر دیا ہے کہ اُن کے انبیا کی اولاد ہونے کے باعث اللہ تعالیٰ نے اِن جرائم کے بعد اُنھیں چھوڑ نہیں دیا، بلکہ اِن کی پاداش میں اُنھیں پکڑا اور اِسی دنیا میں اُن کے جرائم کی سزا اُنھیں دی۔








البیان۔ سورہ البقرہ، اٰیات ۶۲۔۷۱


 

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا وَالَّذِينَ هَادُوْا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَعَمِلَ صَالِحاً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ (٦٢)
وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّورَ خُذُوْا مَا آتَيْنَاكُم بِقُوَّةٍ وَاذْكُرُوْا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُم مِّن بَعْدِ ذَلِكَ فَلَوْلاَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوْا قِرَدَةً خَاسِئِينَ فَجَعَلْنَاهَا نَكَالاً لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ (٦٣-٦٦)
وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ إِنَّ اللّهَ يَْامُرُكُمْ أَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَةً قَالُوْا أَتَتَّخِذُنَا هُزُواً قَالَ أَعُوذُ بِاللّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجَاهِلِينَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لّنَا مَا هِيَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لاَّ فَارِضٌ وَلاَ بِكْرٌ عَوَانٌ بَيْنَ ذَلِكَ فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرونَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاء فَاقِـعٌ لَّوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا هِيَ إِنَّ البَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا وَإِنَّآ إِن شَاء اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لاَّ ذَلُولٌ تُثِيرُ الأَرْضَ وَلاَ تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لاَّ شِيَةَ فِيهَا قَالُوْا الآنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ فَذَبَحُوهَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُونَ (۶۷۔۷۱)
(اِس سے واضح ہے کہ جزا و سزا کا قانون بالکل بے لاگ ہے۔ لہٰذا) وہ ١٦٠ لوگ جو (نبی امی پر)ایمان لائے ہیں اور جو (اِن سے پہلے) یہودی ١٦١ ہوئے اور جو نصاریٰ ١٦٢ اور صابی ١٦٣ کہلاتے ہیں ، اُن میں سے جن لوگوں نے بھی اللہ کو مانا ہے اور قیامت کے دن کو مانا ہے اور نیک عمل کیے ہیں ، اُن کا صلہ (اُن کے) پروردگار کے پاس ہے اور (اُس کے حضور میں )اُن کے لیے نہ کوئی اندیشہ ہو گا اور نہ وہ کوئی غم (وہاں ) کھائیں گے۔ ١٦٤٦٢
 اور ١٦٥ یاد کرو،جب ہم نے تم سے عہد لیا ١٦٦ تھا اور طور کو تم پر اٹھایا تھا، ١٦٧ (اِس تاکید کے ساتھ کہ ) اُس چیز کوپوری قوت کے ساتھ پکڑوجو ہم نے تمھیں دی ہے، ١٦٨ اور جو کچھ اُس میں (لکھا) ہے، اُسے یاد رکھو ١٦٩ تاکہ تم (خداکے غضب سے) بچے رہو۔ ١٧٠ پھر اِس کے بعد بھی تم اُس سے پھر گئے۔ ١٧١ سو (حقیقت یہ ہے کہ) اگر اللہ کی عنایت اور اُس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو (اپنے اِس رویے کی وجہ سے ) تم بڑے نامراد ہوتے، اور تم اُنھیں بھی جانتے ہی ہو جنھوں نے تمھارے لوگوں میں سے سبت کی بے حرمتی کی ١٧٢ تو ہم نے اُن سے کہا : جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ۔ ١٧٣ اِس طرح (اُن کی) اُس (بستی١٧٤) کو، (جس میں اُنھوں نے سبت کی بے حرمتی کی تھی)، ہم نے گردوپیش کے لیے ایک نمونہ عبرت اور خدا سے ڈرنے والوں کے لیے ایک ذریعہ نصیحت بنا دیا۔ ٦٣-٦٦
اور ١٧٥ یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا :اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ (خون پر قسمیں کھانے کے لیے ١٧٦ ) تم ایک گاے ذبح کرو۔ ١٧٧ وہ کہنے لگے :کیاتم ہم سے مذاق کرتے ہو ؟ ١٧٨ اُس نے کہا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ اِس طرح کا جاہل بن جاؤں ١٧٩۔ اُنھوں نے کہا: اچھا، اپنے رب کو پکارو کہ وہ ہمیں بتائے کہ گاے کیسی ہونی چاہیے۔اُس نے کہا: وہ فرماتا ہے کہ گاے نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، اِن کے بیچ کی میانہ ہو۔ اب جاؤ اور وہ کرو جس کا تمھیں حکم دیا جا رہا ہے۔ ١٨٠ بولے :اپنے رب کو پکاروکہ وہ یہ بھی واضح کرے کہ اُس کا رنگ کیسا ہو۔ اُس نے کہا :وہ فرماتا ہے کہ وہ سنہری ہو، ١٨١ شوخ رنگ، ١٨٢ ایسی کہ دیکھنے والوں کو خوش آجائے۔ بولے :اپنے رب کو پکاروکہ اچھی طرح وضاحت کے ساتھ بتائے کہ وہ (گاے) کیسی ہو، ہمیں گایوں میں کچھ شبہ پڑ رہا ہے، اور اللہ نے چاہا تو اب ہم اُس کا پتا پا لیں گے۔ ١٨٣ اُس نے کہا :وہ فرماتا ہے کہ وہ گاے محنت والی نہ ہو کہ زمین جوتتی اور فصلوں کو پانی دیتی ہو۔ وہ ایک ہی رنگ کی ہو،اُس میں کسی دوسرے رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ بولے: اب تم واضح بات لائے ہو۔ ١٨٤ اِس طرح اُنھوں نے اُس کو ذبح کیا اور لگتا نہ تھا کہ وہ یہ کریں گے۔ ٦٧-٧١
_______________________
١٦٠ آیت ٤٠ سے جو مضمون شروع ہوا تھا،یہ اُس کے خاتمہ کی آیت ہے۔اِس میں قرآن نے نہایت غیر مبہم طریقے پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں کسی شخص کو فلاح محض اِس بنیاد پر حاصل نہ ہو گی کہ وہ یہود و نصاریٰ میں سے ہے یا مسلمانوں کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے یا صابی ہے، بلکہ اِس بنیاد پر حاصل ہو گی کہ وہ اللہ کو اور قیامت کے دن کو فی الواقع مانتا رہا ہے اور اُس نے نیک عمل کیے ہیں۔ہر مذہب کے لوگوں کو اِسی کسوٹی پر پرکھا جائے گا،اِس سے کوئی بھی مستثنیٰ نہ ہو گا۔یہود کا یہ زعم محض زعم باطل ہے کہ وہ یہودی ہونے ہی کو نجات کی سند سمجھ رہے ہیں۔یہ بات ہوتی تو اللہ دنیا میں بھی اُن کے جرائم پر اُن کا مواخذہ نہ کرتا۔لہٰذا وہ ہوں یا مسلمان یا کسی اور مذہب و ملت کے پیرو، اِن میں سے کوئی بھی محض پیغمبروں کو ماننے والے کسی خاص گروہ میں شامل ہو جانے سے جنت کا مستحق نہیں ہو جاتا، بلکہ اللہ اور آخرت پر حقیقی ایمان اور عمل صالح ہی اُس کے لیے نجات کا باعث بنتا ہے۔
 
١٦١ اصل الفاظ ہیں : 'وَالَّذِيْنَ هَادُوْا'۔ اہل عرب 'هاد يهود'کا فعل جس طرح رجوع کرنے اور توبہ کرنے کے معنی میں استعمال کرتے تھے،اِسی طرح یہودی ہونے کے معنی میں بھی استعمال کرتے تھے۔قرآن مجید نے یہ لفظ اپنی طرف سے ایجاد کر کے نہیں ،بلکہ عربی زبان کے ایک عام لفظ کی حیثیت سے استعمال کیا ہے۔یہود کو یہ نام سیدنا یعقوب علیہ السلام کے بیٹے یہودا کی نسبت سے ملا اور اُن کا یہ نام جس طرح کہ بعض لوگوں نے سمجھا ہے، 'يهو'اور 'ذا'سے مرکب نہیں ہے،بلکہ ایک ہی لفظ ہے جس کا مادہ 'هود'ہے اور اِس کے تسمیہ میں حمد و طاعت کا مفہوم ملحوظ ہے۔
 
اِس کی تفصیل کوئی شخص اگر چاہے تو امام حمید الدین فراہی کی کتاب ''مفردات القرآن'' میں دیکھ سکتا ہے۔
 
١٦٢ یہ 'نصران'کی جمع ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے پیرو شروع میں یہی کہلاتے تھے۔ اُن کے خلیفہ برحق شمعون کے پیرووں نے اپنے آپ کو اِسی نام سے موسوم کیا۔پال نے، البتہ سیدنا مسیح علیہ السلام کی تعلیمات میں جس طرح دوسری بدعتیں داخل کیں ،اِسی طرح اِس نام کو بھی اُن کے لیے ایک تحقیر کا لفظ بنا دیا،لیکن یہ بالکل قطعی ہے کہ مسیحی متقدمین اپنے لیے یہی نام پسند کرتے تھے۔امام فراہی نے اپنی کتاب ''مفردات القرآن'' میں اِس لفظ پر بھی مفصل بحث کی ہے۔ تفصیل کے طالب اُسے دیکھ سکتے ہیں۔
 
١٦٣ یہ کوئی قدیم مذہبی فرقہ ہے جس کا وجود قرآن کے زمانہ نزول میں بالکل معروف تھا۔ 'صبا' کے معنی طلوع ہونے کے آتے ہیں۔اِس وجہ سے امام فراہی کے نزدیک یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہ لوگ غالباً اپنی ستارہ شناسی اور علم نجوم میں مہارت کے باعث صابئین کے نام سے موسوم ہوئے۔ قرآن نے یہاں اِن کا ذکر جس طرح کیا ہے،اِس سے یہ بات، البتہ واضح ہے کہ یہ دین حق کے پیرووں ہی کا کوئی گروہ تھا جو یہود و نصاریٰ کی طرح بعد میں گمراہ ہو گیا۔متقدمین میں سے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملائکہ کی پرستش کرتے تھے، قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور زبور کی تلاوت کرتے تھے۔بعض اِنھیں اہل کتاب کا ایک فرقہ اور بعض سیدنا ابراہیم کے پیرو قرار دیتے ہیں۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو بھی ابتدا میں صابئین کہتے تھے۔امام فراہی کا خیال ہے کہ اِس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اِن لوگوں کے اندر نماز کی عبادت بہت زیادہ تھی۔مشرکین جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو پانچ وقت اہتمام کے ساتھ نماز پڑھتے دیکھتے تو خیال کرتے کہ یہ بھی صابی ہو گئے ہیں۔بعض مستشرقین کا بیان ہے کہ اِس فرقہ کے کچھ لوگ اب بھی عراق میں دیکھے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ اِنھیں حضرت یحییٰ کی امت کہتے ہیں۔ تاہم اِن کی کوئی مستند تاریخ چونکہ اِس وقت موجود نہیں ہے، اِس لیے اِن کے بارے میں اعتماد کے ساتھ کوئی بات کہنا مشکل ہے۔
 
١٦٤ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بشارت، ظاہر ہے کہ اِس شرط کے ساتھ ہے کہ آدمی نے کسی ایسے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو جو ایمان اور عمل صالح کے باوجود اُسے جہنم کا مستحق بنا دیتا ہے۔ مثلاً کسی بے گناہ کو قتل کر دینا یا جانتے بوجھتے اللہ کے کسی سچے پیغمبر کو جھٹلا دینا۔
 
١٦٥ یہ وہی سلسلہ بیان پھر شروع ہوا ہے جو آیت ٤٠ سے چلا آ رہا ہے۔
 
١٦٦ اصل میں لفظ'مِيْثَاق' استعمال ہوا ہے۔ یہ اُس عہدوپیمان کے لیے آتا ہے جوکسی اہم معاملے کے لیے پورے شعور اور احساس ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کے بارے میں یہ بات مانی گی ہو کہ اُسے ہر حال میں اور نہایت وفاداری کے ساتھ پورا کیا جائے گا۔یہاں اِس سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات کو مضبوطی سے پکڑے رہنے اور اُس کے احکام پر عمل کرنے کے بارے میں لیا گیا۔اِس کا ذکر سورہ اعراف (٧) کی آیات ١٦٩-١٧١ میں تفصیل کے ساتھ ہوا ہے۔
 
١٦٧ قرآن اور بائیبل، دونوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل سے یہ عہد پہاڑ کے دامن میں اِس طرح لیا گیا کہ طور اپنی جگہ سے اکھڑ کر سائبان کی طرح اُن کے سروں پر لٹک رہا تھا اور اُنھیں لگتا تھا کہ وہ اُن پر گر کر رہے گا۔قرآن نے یہاں اِس حالت کو پہاڑ کے اُن پر اٹھا لینے سے تعبیر کیا ہے۔یہ خدا کی قدرت اور اُس کے جلال کا ایک مظاہرہ تھا جو اِس لیے کیا گیا کہ بنی اسرائیل ہمیشہ اِس بات کو یاد رکھیں کہ جس خدا کے ساتھ وہ یہ عہد باندھ رہے ہیں ، اُس کی قدرت کتنی بے پناہ ہے اور اُنھوں نے اگر اِس کی خلاف ورزی کی تو وہ اُن کے ساتھ کیا معاملہ کر سکتا ہے۔
 
١٦٨ یعنی اُسے پوری مضبوطی کے ساتھ لو اور زندگی کے تمام مراحل میں پورے استقلال اور عزیمت کے ساتھ اُس کی ہدایات کی پیروی کرو۔
 
١٦٩ مطلب یہ ہے کہ اُس کا حرف حرف ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھو،خواہ وہ اُس کے احکام و ہدایات سے متعلق ہو یا اُس کی اُن تنبیہات سے متعلق جو اِن احکام و ہدایات سے انحراف کے نتائج کے بارے میں تمھیں سنائی گئی ہیں۔
 
١٧٠ اصل الفاظ ہیں : 'لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ'۔ اِن سے پہلے چونکہ بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی تنبیہات کے یاد رکھنے کی نصیحت کی گئی ہے،اِس لیے سیاق کلام کا تقاضا ہے کہ 'تَتَّقُوْنَ'کو یہاں خدا کے غضب سے بچنے کے مفہوم میں لیا جائے۔
 
١٧١ تم اُس سے پھر گئے،یعنی تمھاری قوم کے لوگ اُس عہد سے پھر گئے۔اسلاف کے کسی فعل پر اخلاف سے خطاب کا یہ اسلوب ہماری زبان میں بھی عام ہے۔غرناطہ صدیوں پہلے کے مسلمانوں نے کھویا تھا،لیکن ہم اِس زمانے کے لوگوں سے بھی بے تکلف کہتے ہیں کہ مسلمانو، جب تم غفلت کی نیند سو گئے تو غرناطہ تمھارے ہاتھوں سے جاتا رہا۔
 
١٧٢ سبت چھٹی کے دن کو کہتے ہیں۔یہ اصلاً جمعہ کا دن تھا جسے بنی اسرائیل نے اُس کے اگلے دن سے بدل ڈالا۔ اُن کے ہاں یہ دن پشت در پشت تک دائمی عہد کے نشان کے طور پر خدا کی عبادت کے لیے خاص تھا اور اِس میں اُن کے لیے کام کاج،سیرو شکار،حتیٰ کہ گھروں میں آگ جلانا اور لونڈی غلاموں سے کوئی خدمت لینا بھی ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ اُن کی ایک بستی کے لوگوں نے اِس دن کی پابندیوں سے اپنے آپ کو آزاد کرنے کے لیے جو شرعی حیلے ایجاد کیے اور اِس طرح اللہ تعالیٰ کی شریعت کا مذاق اڑایا،یہ اُسی کی طرف اشارہ ہے اور اِ س سے مقصود یہاں محض اُس نقض عہد کی ایک مثال بیان کرنا ہے جس کا ذکر اوپر ہوا ہے۔ بنی اسرائیل چونکہ اِس داستان سے پوری طرح واقف تھے،اِس لیے قرآن نے اِس کی زیادہ تفصیل نہیں کی۔
 
١٧٣ یہ لعنت کا جملہ ہے۔ آگے کی بات سے واضح ہے کہ اِس کے نتیجے میں وہ بندروں سے جس طرح مشابہ ہوئے، اُس کی نوعیت ایسی محسوس تھی کہ گردوپیش کی بستیوں کے لوگ اُسے دیکھ کر عبرت حاصل کر سکتے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ خواہش نفس کی پیروی میں جب وہ بندروں کی طرح کسی حد کے پابند نہیں رہے تو پہلے اُن کی سیرت مسخ ہوئی اور اِس کے بعد ایک ظاہری فرق جو تھوڑا سا رہ گیا تھا، وہ بھی بالآخر مٹ گیا۔ یہاں تک کہ اِس لعنت نے اُن کے ظاہر و باطن،ہر چیز کا احاطہ کر لیا۔
 
١٧٤ سورہ اعراف (٧) کی آیت ١٦٣ میں قرآن نے تصریح کی ہے کہ یہ بستی سمندر کے کنارے آباد تھی اور اِس میں اُن کی آزمایش کے لیے سبت کے دن مچھلیاں ابھر ابھر کر سمندر کی سطح پر آ جاتی تھیں ، لیکن سبت کے سوا باقی دنوں میں اِس طرح نہیں آتی تھیں۔محققین کا غالب رجحان یہ ہے کہ یہ مقام ایلہ یا ایلات یا ایلوت تھا۔ اسرایل کی یہودی ریاست نے یہاں اِسی نام کی ایک بندرگاہ بنائی ہے۔اردن کی مشہور بندرگاہ عقبہ اِس کے قریب ہی واقع ہے۔ حضرت سلیمان کے عہد میں بحر قلزم کے لیے اُن کے جنگی اور تجارتی بیڑے کا صدر مقام یہی بستی تھی۔ اِس کا محل وقوع بحر قلزم کی اُس شاخ کے انتہائی سرے پر ہے جو جزیرہ نماے سینا کے مشرقی اور عرب کے مغربی ساحل کے درمیان ایک لمبی خلیج کی صورت میں نظر آتی ہے۔
 
١٧٥ یہ نقض عہد کی دوسری مثال ہے۔اِس سے واضح ہے کہ شریعت الٰہی کے قبول کرنے میں بنی اسرائیل کی ذہنیت شروع ہی سے کیسی حیلہ جویانہ رہی ہے۔
 
١٧٦ اِس کے بعد جو واقعہ سنایا گیا ہے، اُس سے واضح ہے کہ بنی اسرائیل کو گاے کی اِس قربانی کا حکم قسامہ،یعنی خون پر قسمیں کھانے کے لیے دیا گیا تھا۔تورات میں بھی یہی بات بیان ہوئی ہے۔ استثنا میں ہے :
 
''اگر اِس ملک میں جسے خداوند تیرا خدا تجھ کو قبضہ کرنے کو دیتا ہے،کسی مقتول کی لاش میدان میں پڑی ہوئی ملے اور یہ معلوم نہ ہو کہ اُس کا قاتل کون ہے تو تیرے بزرگ اور قاضی نکل کر اُس مقتول کے گرداگرد کے شہروں کے فاصلے کو ناپیں اور جو شہر اُس مقتول کے سب سے نزدیک ہو، اُس شہر کے بزرگ ایک بچھیا لیں جس سے کبھی کوئی کام نہ لیا گیا ہو اور نہ وہ جوئے میں جوتی گئی ہو اور اُس شہر کے بزرگ اِس بچھیا کو بہتے پانی کی وادی میں جس میں نہ ہل چلا ہو اور نہ اُس میں کچھ بویا گیا ہو، لے جائیں اور وہاں اُس وادی میں اُس بچھیا کی گردن توڑ دیں۔ تب بنی لاوی جو کاہن ہیں ، نزدیک آئیں کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُن کو چن لیا ہے کہ خداوند کی خدمت کریں اور اُس کے نام سے برکت دیا کریں اور اُن ہی کے کہنے کے مطابق ہر جھگڑے اور مارپیٹ کے مقدمے کا فیصلہ ہوا کرے۔پھر اِس شہر کے سب بزرگ جو اُس مقتول کے سب سے نزدیک رہنے والے ہوں ، اُس بچھیا کے اوپر جس کی گردن اُس وادی میں توڑی گئی، اپنے اپنے ہاتھ دھوئیں اور یوں کہیں کہ ہمارے ہاتھ سے یہ خون نہیں ہوا اور نہ یہ ہماری آنکھوں کا دیکھا ہوا ہے۔'' (٢١: ١- ٧)  
 
١٧٧ لفظ 'بَقَرَةٌ'اِس حکم میں جس طرح نکرہ استعمال ہوا ہے،اُس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل اگر متوسط درجے کی کوئی سی گاے ذبح کر دیتے تو حکم کا منشا یقیناپورا ہو جاتا،لیکن یہ اُن کا فساد مزاج تھا کہ اپنے سوالات سے اُنھوں نے اِس حکم کو نہایت مشکل بنا لیا۔
 
١٧٨ یعنی قاتل تک پہنچنے کے لیے قسمیں لینے کا یہ طریقہ کیا ہے ؟ اِس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم شاید ہم سے مذاق کر رہے ہو ؟
 
١٧٩ اصل الفاظ ہیں : 'اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ'۔ اِن میں 'جهل' کا لفظ علم کے بجاے حلم کے مقابل لفظ کے طور پر آیا ہے۔مطلب یہ ہے کہ میں اِس بات سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ دین کے معاملے میں کوئی احمقانہ بات کروں۔
 
١٨٠ یعنی اِس قسم کے سوالات کر کے اپنے لیے تنگی پیدا نہ کرو اور کوئی سی گاے لے کر اُسے ذبح کر ڈالو۔
 
١٨١ گاے کے رنگوں میں زرد اور سنہرا رنگ سب سے زیادہ دل پسند سمجھا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ سے جب پوچھا جائے گا تو ظاہر ہے کہ سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ ہی کی ہدایت کی جائے گی۔
 
١٨٢ اصل میں لفظ 'فَاقِعٌ' استعمال ہوا ہے۔ یہ اِسی سنہرے رنگ کی شوخی کے لیے آتا ہے۔
 
١٨٣ اِن الفاظ سے اُن کا یہ باطن واضح ہوتا ہے کہ اپنے سوالات کی نامعقولیت اب اُن پر بھی واضح ہو چکی تھی۔چنانچہ اُن کا یہی احساس ہے جس کی برکت سے شاید یہ الفاظ اُن کی زبان سے نکلے اور اِن الفاظ کی برکت سے اُنھیں قربانی کے اِس حکم پر عمل کی توفیق نصیب ہوئی۔
 
١٨٤ اصل میں 'الْئٰنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ' کے الفاظ آئے ہیں۔ 'حق' کا لفظ عربی زبان میں کئی معنوں کے لیے آتا ہے۔ اِن میں سے ایک معنی واضح اور بین ہونے کے بھی ہیں۔یہاں یہ اِسی معنی میں ہے۔
 








حجابات علم


 

پچھلے مباحثے سے یہ بات اچھی طرح واضح ہو چکی ہے کہ علم حقیقی در اصل ہے کیا اور اس کے حاصل کرنے کے وسائل و ذرائع کیا ہیں؟ اب ہم بتائیں گے کہ اس علم کے حصول کی راہ میں کیا کیا رکاوٹیں پیدا ہوتی ہیں؟ وہ رکاوٹیں کہاں سے ابھرتی ہیں اور ان کے دور کرنے یا ان پر قابو پانے کی تدابیر کیا ہیں؟
 
ہمارے نزدیک یہ رکاوٹیں یا یہ حجابات دو قسم کے ہیں، ایک تو وہ رکاوٹیں جن جن کے پیدا ہو جانے کے بعد علم حقیقی کے حصول کا راستہ ہی سرے سے بند ہو جاتا ہے۔ یہ ممکن نہیں رہ جاتا کہ ان کے ہوتے ہوئے انسان کے اندر علم حقیقی کے حصول کا راستہ ہی سرے سے بند ہو جاتا ہے۔ یہ ممکن نہیں رہ جاتا کہ ان کے ہوتے ہوئے انسان کے اندر علم حقیقی کے لیے کوئی رغبت پیدا ہو سکے یا اس کے حاصل کرنے کے لیے وہ کوئی جدو جہد کر سکے بلکہ یہ رکاوٹیں انسان کو اس قدر ناکارہ بنا دیتی ہیں کہ اس کی رغبت اور خواہش کے بغیر علم حقیقی اس پر کہیں سے برس بھی پڑے تب بھی وہ اس نعمت کی قدر نہیں کر سکتا۔
 
دوسری وہ رکاوٹیں ہیں جن کی نوعیت آفتوں اور بیماریوں کی سی ہے یعنی یہ ایک آفت کی طرح انسان کے حاصل کردہ علم پر نازل ہوتی ہیں اور پھر یا تو دیمک کی طرح آہستہ آہستہ اس کے پورے ذخیرے کو چاٹ جاتی ہیں یا ایک برق خاطف کی طرح چشم زدن میں اس کو سوخت کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ہم نے پہلی قسم کی رکاوٹوں کے لیے حجابات کی اصطلاح اختیار کی ہے اور اس دوسری قسم کی مصیبتوں کے لیے آفات کی۔ ہم اس فصل میں حجابات کی وضاحت کریں گے اس کے بعد ایک علٰیحدہ فصل میں آفات پر بحث کریں گے۔ پھر ایک مستقل فصل میں ان کے دور کرنے یا ان پر قابو پانے کی تدابیر بیان کریں گے۔
 
ہمارے نزدیک بڑے بڑے حجابات چار ہیں، جن کو مختصر تشریح کے ساتھ ہم یہاں بیان کرتے ہیں:
 
۱۔ حب عاجلۃ
علم حقیقی سے محروم رکھنے والے حجابات میں سے سب سے بڑا حجاب، حب عاجلہ کا حجاب ہے۔ حبّ عاجلہ کا مطلب ہے آخرت کی زندگی اور اس کی نعمتوں کے مقابل میں دنیا کی زندگی اور اس کی لذتوں اور راحتوں کو ترجیح دینا۔
 
آدمی کے سامنے سب سے پہلے اس کی جسمانی ضرورتیں اور خواہشات ہی آتی ہیں اور انہی کے پورا کرنے پر اس کے مادی اور جسمانی وجودو بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ اس وجہ سے وہ مجبور ہوتا ہے کہ ان کی خواہشوں اور ضرورتوں کی تکمیل کے لیے کوشش کرے۔ ایک خاص حد تک ان خواہشات اور ضروریات کی تحصیل میں انسان کا مصروف ہونا خود قدرت کا منشا ہے چنانچہ اسی مصلحت سے قدرت نے ان کے ساتھ لذت کی چاٹ بھی لگا رکھی ہے تا کہ انسان ان کو ایک بالکل بے مزہ اور محض مشقت کا دھندا سمجھ کر چھوڑ نہ بیٹھے بلکہ ان کے مطلوبات کو حاصل کرنے میں جوش اور سرگرمی کے ساتھ کوشش کرے تا کہ ان کے واسطہ سے انسان کے جو شخصی اور نوعی مصالح پورے ہوتے ہیں وہ پورے ہو سکیں۔
 
لیکن ان چیزوں کے اندر انسان کا انہماک بس ایک خاص حد تک ہی مطلب ہے۔ اگر یہ انہماک اس خاص حد سے آگے بڑھ جائے تو اس سے انسان کے روحانی اور اخلاقی اقدار کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔ پھر یہ خواہشیں اور لذتیں انسان پر اس طرح سوار ہو جاتی ہیں کہ وہ بالکل ہی بطن و فرج کا غلام بن کے رہ جاتا ہے اور اس کو یہ سوچنے کی کبھی فرصت ہی نہیں ملتی کہ ان خواہشوں کی غلامی کے سوا اس کی زندگی کا اور کوئی مقصد بھی ہے اور اس زندگی کے بعد کوئی اور زندگی بھی ہے جس کے تقاضے اور مطالبات اس زندگی کے تقاضوں اور مطالبات سے کچھ مختلف ہیں۔ یہی گروہ ہے جس کا ذکر قرآن مجید نے ان الفاظ میں فرمایا ہے۔
 
أَمْ تَحْسَبُ أَنَّ أَكْثَرَهُمْ يَسْمَعُونَ أَوْ يَعْقِلُونَ إِنْ هُمْ إِلَّا كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِيلًا
کیا تمہارا خیال ہے کہ ان میں سے اکثر سنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو بس چوپایوں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں۔
 
اسی طرح کے لوگوں کے بارہ میں دوسری جگہ فرمایا ہے:
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا الَّذِينَ ضَلَّ سَعْيُهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ يُحْسِنُونَ صُنْعًا أُولَئِكَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِ رَبِّهِمْ وَلِقَائِهِ فَحَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِيمُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَزْنًا (كهف)
ان سے پوچھو کہ کیا میں تمہیں خبر دوں، ان لوگوں کی جو بالکل ہی گھاٹے میں رہے، یہ وہ لوگ ہیں جن کی ساری سرگرمیاں دنیا کی زندگی کی لذتوں کے حاصل کرنے میں برباد ہوئیں اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ وہ بڑا اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب کی نشانیوں کا اور اس کی ملاقات کا انکار کیا تو ان کے سارے اعمال اکارت ہو کے رہ گئے۔ ہم ان کو قیامت کے دن کو وزن نہیں دیں گے۔
 
یہ حب عاجلہ کے گرفتاروں کی عام قسم ہے، دنیا میں زیادہ تعداد ایسے ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو دنیاوی لذتوں اور راحتوں ہی کو اپنا مقصود زندگی بنا لیتے ہیں اور انہی کے حاصل کرنے اور انہی کی فراہمی میں اپنی زندگیاں گنوا دیتے ہیں۔
 
لیکن ان کے اندر ایک قسم ایسے لوگوں کی بھی ہوتی ہے جو ان حقیر نفسانی لذتوں اور راحتوں کے مقابل میں بظاہر کچھ بلند مقاصد اور بلند اقدار کے طالب ہوتے ہیں لیکن اگر غور سے دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ ان کے یہ بلند مقاصد اور بلند اقدار بھی حب عاجلہ ہی کی ایک قسم ہیں۔ بس فرق یہ ہے کہ عام قسم کے پست ذہن لوگ اپنے شخصی اغراض اور ذاتی فوائد ہی کے دائرہ کے اندر بند رہ جاتے ہیں، اس سے آگے انہیں ان خوبیوں اور ان کمالات کو اپنانے کا حوصلہ نہیں ہوتا جو ان کو خدا کی نظر میں نہ سہی کم از کم سوسائٹی ہی کی نظروں میں کچھ عزت و عظمت دلا سکیں لیکن یہ گروہ چونکہ اپنے اندر کچھ ذہانت رکھتا ہے اس وجہ سے وہ محدود شخصی اغراض و منافع سے آگے بڑھ کر کچھ ایسے کمالات حاصل کرنے کے لیے بھی ہاتھ پاؤں مارتا ہے جو مجرد حب ذات کے نصب العین سے بلند ہوتے ہیں مگر اس بلندی کی بساط بس اتنی ہوتی ہے کہ آدمی اپنی ذات اور اپنے نفس کی پرستش سے نکل کر اپنی سوسائٹی کی بندگی اور غلامی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔
 
اس طرح کے لوگ بلا شبہ علوم اور کمالات کے طالب ہوتے ہیں، لیکن یہ انہی علوم کو علوم اور انہی کمالات کو کمالات سمجھتے ہیں جو وقت کی سوسائٹی میں ان کو عزت اور شہرت دلا سکیں یا جن سے وہ اپنے دنیاوی مقاصد زیادہ سے زیادہ آسانی کے ساتھ حاصل کر سکیں۔ یہ لوگ در حقیقت اپنے وقت کی سوسائٹی کے بندے ہوتے ہیں۔ سوسائٹی جن چیزوں کو پسند کرے یہ ان کے حاصل کرنے کے لیے اپنا سارا زور و زر صرف کرنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، اگرچہ حقیقت کے نقطہ نظر سے ان کی کوئی قدر و قیمت نہ ہو اور اگر سوسائٹی کے اندر ایک چیز کی مانگ نہ ہو تو وہ اس چیز کی طرف کبھی مڑ کے بھی نہ دیکھیں گے اگرچہ وہ چیز آسمان ہی سے کیوں نہ اتری ہو۔ سوسائٹی میں اگر طلب ہو تو یہ سحر وساحری اور علم فراست الید (PALMISTARY) کو بھی علم لدنّی کا درجہ دے دیں گے، لیکن اگر سوسائٹی میں مانگ نہ ہو تو نبیوں اور رسولوں کا علم بھی ان کی نگاہ میں اوہام و خرافات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ قرآن مجید میں ایسے ہی لوگوں کے بارہ میں فرمایا گیا ہے:
 
إِنَّ هَؤُلَاء يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَيَذَرُونَ وَرَاءهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا
یہ لوگ عاجلہ کو پسند کرتے ہیں اور اپنے آگے ایک بھاری دن کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
 
شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے حب عاجلہ کے اس حجاب کو حجاب طبع اور حجاب رسم کی اصطلاحات سے تعبیر کیا ہے اور ان دونوں حجابوں کی وضاحت اسی طرح فرمائی ہے:
 
"تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ انسان کے اندر کھانے پینے اور جماع کے تقاضے موجود ہیں، علاوہ ازیں اس کا دل مختلف طبیعی تغیرات مثلاً غم، خوشی، غصہ اور خوف سے متاثر ہوتا رہتا ہے۔ چونکہ ان میں سے ہر حالت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ آدمی کا نفس پہلے سے ان کے اسباب کی طرف متوجہ ہو اور اس کی تمام ذہنی قوتیں دوسری تمام سمتوں سے مڑ کر اس چیز کی طرف مرکوز ہو جائیں اس وجہ سے ان چیزوں میں وہ زیادہ مشغول رہتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک طویل زمانہ ایسی حالت میں گذر جاتا ہے کہ یہ چیزیں اس کو اتنی فرصت ہی نہیں دیتیں کہ وہ ایک اعلیٰ چیز کی طرف متوجہ ہو سکے، بلکہ بہت سے لوگ تو اس کیچڑ میں اس طرح پھنس جاتے ہیں کہ انہیں مدت العمر اس کیچڑ سے نکلنا ہی نصیب نہیں ہوتا، کتنے ایسے بھی ہوتے ہیں جن پر ان کا نفس اتنا غالب آ جاتا ہے کہ وہ سوسائٹی کے رسوم و آداب اور عقل کی ذمہ داریوں کی بھی کوئی پرواہ نہیں کرتے اور کوئی علامت بھی ان کو ان کی نفس پرستی سے روک نہیں سکتی۔ اس حجاب کو حجاب نفس کہتے ہیں۔
 
لیکن جن کے اندر عقل اور ذہانت موجود ہوتی ہے وہ انہی نفسانی تقاضوں کے اندر کچھ فرصت کے ایسے اوقات بھی نکال لیتے ہیں جن میں وہ نفسانی تقاضوں سے یکسو ہو کر اپنی عقلی اور عملی قوتوں کے لحاظ سے کچھ نوعی کمالات حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن جب وہ شروع شروع میں آنکھیں کھولتے ہیں اور اپنی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ اسباب مشیت کی فراہمی، زینت و آرائش کے اہتمام، فخر و مباہات کے ہنگاموں اور فصاحت و خطابت اور علوم و فنون کی سرگرمیوں میں مصروف ہے تو یہی چیزیں ان کے دلوں کو بھی موہ لیتی ہیں اور وہ بھی انہی چیزوں کے حاصل کرنے میں پوری دلچسپی اور پوری سرگرمی کے ساتھ مشغول ہو جاتے ہیں اس کو حجاب دنیا کہتے ہیں اور ایسے کتنے ہیں جو انہی چیزوں میں پھنسے ہوئے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسی حالت میں ان کو موت آ جاتی ہے"۔۱۔
 
شاہ صاحب کے اس بیان سے صاف واضح ہو جاتا ہے کہ یہ عموماً دو ہی قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ یا تو وہ لوگ ہیں جو ساری ساری زندگیاں اپنے نفسانی تقاضوں کی تکمیل ہی میں گذار دیتے ہیں اور ان کو اس سے کسی اعلیٰ و برتر مقصد کی طرف توجہ کرنے کی بھی فرصت ہی نہیں ملتی، یا پھر وہ لوگ ہیں جو اگر کمال حاصل کرنے کی طرف توجہ بھی کرتے ہیں تو بس انہی چیزوں کے حاصل کرنے میں اپنی پوری زندگی صرف کر دیتے ہیں جن چیزوں کو وقت کی سوسائٹی کمال سمجھتی ہے اس سے آگے نہ ان کے نزدیک کمال کا کوئی تصور ہوتا ہے اور نہ ان کے حصول کے لیے ان کے اندر کوئی جذبہ پیدا ہوتا۔ ان کے حصول کمال کی ساری جدو جہد کا منتہا یہ ہوتا ہے کہ اسی طلب دنیا کے ایک جال سے نکلے اور پھر اسی کے دوسرے جال میں جا پھنسے۔
 
۲۔ تکبر
علم و معرفت کی راہ میں دوسرا بڑا حجاب تکبر ہے۔ تکبر کی تعریف خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوال کے جواب میں نہایت واضح طور پر فرما دی ہے۔ عبداللہ بن مسعودؓ سے ایک روایت ہے:
قال، قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر، فقال رجل ان الرجل يحب ان يكون ثوبه حسنا و نعله حسنة فقال ان الله جميل و يحب الجمال، الكبر بطر الحق و غمط الناس۔
انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس کے دل کے اندر ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں داخل ہو گا ، ایک شخص نے سوال کیا کہ آدمی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں، اس کا جوتا اچھا ہو تو کیا یہ بھی تکبر ہے؟ آپؐ نے فرمایا کہ اللہ خود صاحب جمال ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے۔ تکبر یہ ہے کہ آدمی حق کا انکار کرے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔
 
اس سے معلوم ہوا کہ تکبر کی اصل حقیقت حق کا انکار اور دوسروں کو حقیر سمجھنا ہے۔ بعض لوگ اپنے آپ کو اتنی بڑی چیز سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ ان کے لیے یہ باور کرنا نہایت مشکل ہو جاتا ہے کہ جس بات کو وہ جانتے اور مانتے ہیں حق اس کے سوا کچھ اور بھی ہو سکتا ہے اور ان کے یا ان کے زمرہ کے سوا کوئی اور شخص بھی کسی احترام یا اعتراف کا مستحق ہو سکتا ہے، ان کو جو عزت و نعمت حاصل ہوتی ہے اس کو وہ اللہ کا فضل سمجھنے اور اس کا شکر گزار ہونے کے بجائے اس کو یا تو اپنا پیدائشی اور خاندانی حق سمجھ بیٹھتے ہیں یا اس کو اپنی کوشش اور قابلیت کا ثمرہ خیال کرتے ہیں اور پھر اس پر اتراتے اور فخر کرتے ہیں۔ اسی چیز کو بعض احادیث میں 'اعجاب المرء بنفسه' (آدمی کی خود فریبی) کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور انسان کے لیے تین بڑی مہلک چیزوں میں سے اس کو سب سے زیادہ مہلک شمار کیا گیا ہے۔ حضورؐ کا ارشاد ہے:
 
و اما المهلكات فهوي متبع و شح مطاع و اعجاب المرء بنفسه و هو اشدهن۔
رہیں تین مہلک چیزیں تو ان میں سے ایک خواہشات کی پیروی ہے، دوسرے بخل کی اطاعت اور تیسرے آدمی کا خود اپنے اوپر فریفتہ ہونا اور یہ چیز ان تینوں میں سب سے زیادہ سخت ہے۔
 
قرآن مجید میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ سب سے پہلے خدا کی نافرمانی شیطان نے کی اور اس کی نافرمانی کی تہہ میں یہی تکبر کا جذبہ کار فرما تھا چنانچہ اس کے متعلق قرآن مجید میں بار بار یہ لفظ آئے ہیں 'ابیٰ واستکبر' (اس نے خدا کی اطاعت سے انکار کیا اور تکبر کیا)۔
 
قرآن مجید نے انبیاء کرام اور ان کی قوموں کی جو تاریخ بیان کی ہے اس میں بھی جگہ جگہ اس بات کو نمایاں کیا ہے کہ انبیاء کے انکار میں سب سے پہلے ان کی قوموں کے اسی طبقہ نے سبقت کی جو تکبر میں مبتلا تھا، ان لوگوں کو اول تو یہی بات کچھ عجیب سی معلوم ہوتی تھی کہ خدا کی کسی نعمت کا مستحق ان کے اندر سے کوئی ایسا شخص قرار پائے جو ان کی طرح مالدار اور صاحب اقتدار نہیں ہے اور اگر اس بات پر کسی طرح وہ اپنی طبیعت کو راضی بھی کر لیتے تھے تو پھر اس بات کو برداشت کرنا ان کے لیے ناممکن ہوتا تھا کہ پیغمبر کے غریب ساتھیوں کو اپنا ساتھی اور اپنا ہمسر بنائیں اور ان کی صحبت میں برابر کے آدمی کی حیثیت سے بیٹھیں۔
 
حضرت مسیح علیہ السلام کے زمانہ کے ارباب اقتدار اور مسند نشینوں نے ان کی باتوں کو محض اس وجہ سے قبول نہیں کیا کہ اس سے ان کی علمی و سیاسی برتری کا پندار مجروح ہوتا تھا، بعینہ یہی چیز قریش کے اکابر کے لیے بھی حجاب بنی رہی۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ تعالیٰ نبوت کے منصب پر کسی کو سرفراز کرنے والا ہی ہوتا تو مکہ یا طائف کے کسی رئیس کو اس منصب پر سرفراز کرتا۔ محمدؐ جیسے نادار اور قلاش آدمی کو یہ عزت ہر گز نہ بخشتا۔ اور اگر کبھی بادل نخواستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر تسلیم کرنے پر آمادہ بھی ہوتے تو اس کے لیے یہ شرط پیش کرتے کہ آپؐ کے ارد گرد جو غریب اور نادار لوگ (ان کے نزدیک رزیل اور بیوقوف لوگ) جمع ہو گئے ہیں پہلے آپؐ ان کو اپنے پاس سے ہٹائیں تب ہم آپؐ کے پاس آئیں گے۔
 
بعینہ یہی صورت حال ہمیشہ انبیاء کے علاوہ دوسرے مصلحین اور داعیان حق کو بھی پیش آئی ہے۔ ان کی پیش کی ہوئی صداقتوں کو سب سے زیادہ شدت و قوت کے ساتھ انہی لوگوں نے جھٹلایا ہے جو استکبار کے فتنہ میں مبتلا رہے ہیں۔ اسلام کی ابتدائی صدیوں سے لے کر آج تک جتنے مصلح اور داعی حق پیدا ہوئے ہیں اگر ان کے حالات جمع کیے جائیں تو یہ چیز بطور قدر مشترک اس میں ملے گی کہ اللہ کے بندوں کے لیے اللہ کی راہ کھولنے کی انہوں نے جو کوشش کی اس میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ متکبرین ہی بنے۔ نہ انہوں نے خود اس راہ پر چلنا پسند کیا اور نہ جہاں تک ان کا بس چلا انہوں نے دوسروں کو اس راہ پر چلنے دینا چاہا۔
 
اس تکبر کے ساتھ حسد اور غصہ کا پایا جانا بھی لازمی ہے جب ایک حقیقت متکبرین کے تکبر کے علی الرغم ظہور میں آنے کے لیے زور لگاتی ہے اور بالآخر ظہور میں آ کر رہتی ہے تو جو لوگ اس کے دبانے کے درپے ہوتے ہیں ان پر جنجھلاہٹ بھی طاری ہوتی ہے اور حسد کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں، اور اس حسد اور جھنجھلاہٹ دونوں کے مرکب سے پھر دوسری بہت سی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں جو آدمی کو حق سے اتنا دور کر دیتی ہیں کہ اس کے لیے حق کی طرف لوٹنے کا کوئی امکان ہی باقی نہیں رہ جاتا۔
 
۳۔ عصبیت۔ جاہلیت
معرفت حق کے حجابات میں سے ایک حجاب عصبیت جاہلیت بھی ہے۔ عصبیت جاہلیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک شخص قدیم روایات و مالوفات، قدیم رسم و رواج اور باپ دادا کے طریقہ کے تعصب میں گرفتار ہو جائے کہ نہ ان پر کوئی تنقید برداشت کرنے کے لیے تیار ہو اور نہ ان کی جگہ کوئی اور چیز قبول کرنے پر آمادہ ہو۔ باپ دادا کے طریقہ اور قدیم روایات سے محبت بجائے خود بری چیز نہیں ہے بلکہ بعض اعتبارات سے نہایت اچھی اور نہایت ضروری چیز ہے لیکن ان روایات کو تنقید سے بالا تر سمجھ لینا اور ان کی جگہ ان سے بہتر چیز قبول نہ کرنا جاہلی عصبیت ہے جو علم و معرفت اور حق و صداقت کے راستہ میں ہمیشہ رکاوٹ ثابت ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی ہدایت کو ان کی قوموں نے زیادہ تر اسی تعصب کی بنا پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ ان کا گمان یہ تھا کہ ہمارے باپ دادا جو علم و فضل اور اخلاق و عمل میں بہر حال پچھلوں سے بر تر تھے۔ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان کا اختیار کیا ہوا کوئی طریقہ غلط ہو اور بعد والے آ کر اس کی اصلاح کریں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے میں اپنے اسلاف کی توہین اور خود اپنی سبکی خیال کرتے تھے۔ ان کے نزدیک قدامت بجائے خود ان کے عقیدہ و مسلک کی صحت و صداقت کی ایک ایسی دلیل تھی جس کو دنیا کی کوئی اور دلیل باطل نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے مقابل میں نہ وہ عقل کا فیصلہ قبول کرنے کے لیے تیار تھے نہ کسی وحی کو کوئی اہمیت دیتے تھے، وہ جس راہ پر چل رہے تھے، اس پر پوری طرح قانع اور مطمئن تھے، وہ سمجھتے تھے کہ انسانیت کے لیے جو کچھ بہتر ہو سکتا تھا وہ سب کچھ باپ دادا پر روشن تھا۔ اب اس میں کسی ترمیم یا کسی اضافہ کی گنجائش نہیں ہے ان کے 'وجدنا عليه اٰباءنا' کے نعرہ کے اندر ان کا ماضی، ان کا حال اور ان کا مستقبل سب کچھ محفوظ تھا، اس وجہ سے وہ اس گنبد سے باہر نکلنے کے لیے کسی طرح بھی آمادہ نہ تھے اگرچہ اس گنبد سے باہر نکلنے کے لیے ان کو کوئی نبی ہی کیوں نہ دعوت دے رہا ہو۔
 
قدیم سے محبت اور قدامت کے ساتھ غیر معتدل حسن ظن کا یہی جذبہ ہے جس نے ہمارے یہاں اندھی تقلید کی طرح ڈالی۔ اندھی تقلید کا مطلب یہ ہے کہ اگلوں میں سے کسی کے ساتھ اتنا حسن ظن ہو جائے کہ اس کو بجائے خود سند تسلیم کر لیا جائے اور اس کے کسی قول یا فعل کو کتاب و سنت کی کسوٹی پر پرکھنے کی ضرورت ہی محسوس نہ کی جائے۔ یہاں تک کہ اگر اس کا کوئی قول یا فعل کتاب و سنت کے خلاف بھی نظر آئے اور کوئی اللہ کا بندہ اس کی طرف توجہ بھی دلائے جب بھی اس بات پر اصرار کیا جائے جو اس نے کہی ہے اور اس کی حمایت میں یہ دلیل پیش کی جائے کہ وہ کتاب وسنت کی پچھلوں سے زیادہ جاننے والا ہے اس وجہ سے اس کی بات ضرور کتاب و سنت کی کسی نہ کسی دلیل پر مبنی ہو گی اگرچہ وہ دلیل ہماری سمجھ میں نہ آرہی ہو۔ اس قسم کی تقلید کتاب و سنت کو عملی اعتبار سے بالکل بانجھ بنا کر رکھ دیتی ہے کیوں کہ تقلید زدہ طبقہ اس وہم میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ کتاب و سنت سے جو مکھن نکالا جا سکتا تھا وہ اسلاف نے اچھی طرح بو کر نکال لیا ہے اب جو جو کچھ بچ رہا ہے وہ صرف چھاچھ ہی چھاچھ ہے۔
 
۴۔ غفلت یا لا ابالی
علم کے لیے ایک بڑا حجاب غفلت اور لا ابالی پن بھی ہے۔ غفلت اور لا ابالی پن کا مطلب یہ ہے کہ آدمی زندگی کے کسی پہلو پر کبھی سنجیدگی سے غور ہی نہ کرے بلکہ اس کو کسی نہ کسی طرح صرف گزار دینے پر قانع ہو جائے۔
؂
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
اس ذہنیت کے لوگ کبھی اس سوال پر غور نہیں کرتے کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، کہاں جائیں گے اور جس نے ہمیں اس دنیا میں بھیجا اس نے کس مقصد کے لیے بھیجا ہے اور اگر وہ مقصد ہم نے پورا نہ کیا تو اس کا انجام کیا ہو گا؟ یہ نہیں ہے کہ اس طرح کے سوالات ان کے ذہن میں سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے، پیدا تو ہوتے ہیں لیکن یہ لوگ کبھی ان کو حل کرنے میں اپنے آپ کو پریشان نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ معمہ نہ کسی سے حل ہوا ہے اور نہ حل ہو گا۔ اس وجہ سے ان کی ساری جد و جہد صرف اس بات کے لیے ہوتی ہے کہ کسی طرح ان کے عیش اور ان کی بے فکری میں کوئی خلل پیدا نہ ہونے پائے اگر ان کی اس خواہش اور کوشش کے باوجود کوئی تلخ حقیقت سامنے آ جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ رو در رو ہو کر اس سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کریں وہ اس کے مقابل میں شتر مرغ کی پالیسی اختیار کرتے ہیں یعنی وہ اپنا سر ریت میں چھپا لیتے ہیں اور پھر یہ خیال کر لیتے ہیں کہ وہ تلخ حقیقت گزر گئی۔
 
حد یہ ہے کہ جو لوگ اس لا ابالی پن کے مرض میں مبتلا ہو جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی ان آزمائشوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے جن میں وہ مبتلا کیے جاتے ہیں کہ ان کا یہ لا ابالی پن دور ہو اور وہ اپنی زندگی کے مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ سوچنے اور سنجیدہ نتائج پر پہنچنے کی طرف مائل ہوں۔ ان لوگوں کی مثال حدیث میں گدھے سے دی گئی ہے جس کو اس کا مالک کبھی کھول دیتا ہے اور کبھی باندھ دیتا ہے لیکن اس کو کچھ پتہ نہین کہ کیوں اس نے اس کو باندھا اور کیوں کھول دیا۔
 
اس گروہ کے اندر ایک عظیم اکثریت ایسے لوگوں ک بھی ہے جن کو زندگی کی ابتدائی ضروریات روٹی کپڑے کی فراہمی سے اول تو اتنی فرصت ہی نہیں ملتی کہ وہ کسی اعلیٰ اور برتر مقصد کے حاصل کرنے کے درپے ہوں اور اگر فرصت ملتی بھی ہے تو اس کو وہ کسی نہ کسی ایسے مشغلہ میں صرف کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو تھوڑی دیر کے لیے ان کو زندگی کی تلخیوں سے کم از کم غافل ہی کر دے۔ اس مقصد کے لیے ان لوگوں نے کچھ عقل کو مغلوب کر دینے والی منشیات اور طبیعت کو بہلانے والی دلچسپیاں ایجاد کر رکھی ہیں۔ جن سے وقتی طور پر ان کو کچھ تفریح حاصل ہو جایا کرتی ہے لیکن جوں ہی مزید زور و قوت کے ساتھ پھر عود کر آتی ہیں جن سے نجات حاصل کرنے کے لیے انہوں نے ان سن کر دینے والی دواؤں کی مدد حاصل کی تھی۔ حالانکہ اگر وہ اپنا یہ تھوڑا سا فرصت کا وقت ان فضولیات پر ضائع کرنے کے بجائے زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں کو سمجھنے پر صرف کرتے تو اس سے وہ اپنی دنیا اور اپنی آخرت دونوں میں بہتر نتائج حاصل کرتے۔ لیکن ان کا لا ابالی پن ان کو کسی ایسی چیز کی طرف متوجہ ہونے ہی نہیں دیتا جس میں کچھ سنجیدگی ہو اور جس کے لیے کچھ دماغ اور عقل صرف کرنے کی ضرورت پیش آئے۔
___________________________
۱۔ حجّۃ اللہ البالغہ، باب اعجب المانعہ عن ظہور الفطرۃ۔




وہ نکہتیں نہیں باقی تو لو ہوا ہوئے ہم


  

ایک روشن دماغ تھا، نہ رہا

شہر میں اک چراغ تھا، نہ رہا

جناب عبدالستار غوری اب ہم میں نہیں رہے۔اُن کے جانے سے بائیبل پر علمی کام کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا۔اِس مجموعۂ صحائف پر اُنھوں نے روایتی اسلوب تحقیق سے مختلف انداز اختیارکیا ۔ تحریف و تناقض کو تلاش کرنے کے بجاے وہ مقامات دریافت کیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے مؤید اور مصدق ہو سکتے تھے۔غوری صاحب نے عملی زندگی کی ابتدا تو تعلیم و تدریس سے کی اور کچھ وقت نصابی کتب کی تدوین میں بھی لگایا، مگر جلد ہی صحف سماوی پر تحقیقی کام کی جانب متوجہ ہوگئے۔ اِس میدان میں اُنھوں نے ایک منفرد راہ منتخب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی تلاش کی راہ۔یہ راہ ملتے ہی اُنھیںگویا منزل مل گئی۔ اُنھوں نے اِسے خوش نصیبی تصور کیا اور فکر و عمل اور قلب و نظر کے تمام اسباب کواِس کی جستجو میں صرف کرنے کا فیصلہ کر لیا:

 عالم بھی تھا نگاہ میں، لیکن زہے نصیب

اب اُن کی نذر کر دیا ذوقِ نظر تمام

 برسوں کی محنت کے بعد بالآخر ’’Muhammad Fortold in The Bible by Name‘‘ تصنیف کی اور یہ تحقیق پیش کی کہ ’’کتابِ مقدس‘ ‘میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر آپ کے اسمِ مبارک کی تصریح کے ساتھ مذکور ہے۔ ’’محمد رسول اللہ  ﷺکے بارے میں بائبل کی چند پیشین گوئیاں‘‘ کے زیر عنوان ایک اور کتاب بھی تحریر کی جس میں اسی مقدمے کو بعض دوسرے پہلوؤں سے نمایاں کیا۔نصف صدی پر محیط اُن کی محنت، بلا شبہ لائق تعریف تھی۔چنانچہ علمی حلقوں میں ان کے کام کی قدر افزائی بھی ہوئی اور ان کی محنت کو سراہا بھی گیا، مگر انھوں نے ہمیشہ بے نیازی کا اظہار کیا اوراپنے مداحوں کویہی پیغام دیا کہ:

کس لیے چاہوں؟ یہ دنیا کی ستایش کیا ہے!

منتظر ہوں تو فقط اُن کی پذیرائی کا

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن کی مساعی کو قبول فرمائے اور اِن مخلصانہ کاوشوں کو اُن کی مغفرت کا ذریعہ بنائے۔

غوری صاحب ۱۹۹۶ء میں ادارۂ علم و تحقیق ’’المورد ‘‘سے منسلک ہوئے۔ وہ مسلکاً اہل حدیث تھے۔ ان کے افکارادارے کے افکار سے بہت مختلف تھے۔ اس کے باوجود ادارے نے اُنھیںپورے اعزاز کے ساتھ وابستگی کی دعوت دی اور اُنھوں نے اسے بسر و چشم قبول کیا ۔ ایسی فضا میں جہاں فکری اختلاف نفرت، تکفیر اور قتل و غارت سے عبارت ہو، وہاںیہ واقعہ کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔ ’’المورد ‘‘سے ان کی رفاقت کا سفر تقریباً بیس برس تک جاری رہ کرموت کی منزل پر مکمل ہوا۔ اس سفر کو خوش گوار اور نتیجہ خیز بنانے میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے شخصی رویے کو بھی بہت دخل تھا۔ وہ اس وقت ادارے کے صدر ،فیلو اور استاد تھے ۔غوری صاحب کے لیے اُن کا احترام غیرمعمولی تھا۔ میں نے دیکھا کہ وہ اُن کے ادب میں کھڑے ہو جاتے، اُنھیں نشست پیش کرتے، اُن کے پاس جا کر ملتے، اُن کے لیکچروں میں سامع کے طور پر شریک ہوتے اوراپنے شاگردوں اور احباب کو اُن کے اکرام کی تلقین کرتے ۔ یہ طرزِ عمل استاذ گرامی تک محدود نہیں تھا، باقی لوگ بھی غوری صاحب کا ایسے ہی احترام کرتے تھے۔ اُن میں عمروں کا فرق بھی تھا اور مرتبوں اور منصبوں کا بھی ، مگر غوری صاحب کی محبت میں سبھی یکساں گرفتار تھے۔یعنی معاملہ وہی تھا کہ

ہم ہوئے، تم ہوئے کہ میر ہوئے

اُس کی زلفوں کے سب اسیر ہوئے

اِس احترام اور محبت کا صرف ایک سبب تھا اور وہ تھا غوری صاحب کا اخلاص ۔ کسی شخص کے خلوص کا کمال اِس سے بڑھ کر اورکیا ہو گا کہ ُاس کے گرد و پیش کے لوگ اُسے باپ کے درجے پر سمجھنے لگیں۔ ’’المورد‘‘ کے اکثر لوگوں کے لیے غوری صاحب کا یہی مقام تھا۔ اگرجیب خالی ہے، راشن ختم ہو گیا ہے، کتابیں لینی ہیں، فیس جمع کرانی ہے، دوا کی ضرورت ہے تو وہ بلا جھجک اُن کے پاس پہنچ جاتے تھے۔ حسن طلب کا سلسلہ یہیں پر نہیں رکتا تھا، اِس آگے بڑھ کر وہ نجی، نفسیاتی اور خانگی مسائل میں بھی اُن سے مشورہ کرتے تھے۔ غوری صاحب اُن کی مدد بھی کرتے تھے اور اُنھیں رہنمائی بھی دیتے تھے، مگر اِس کے ساتھ اُن کی یہ بھی کوشش ہوتی تھی کہ رجوع کرنے والے کا رخ اللہ اور آخرت کی طرف مڑ جائے۔ اِس مقصد کے لیے وہ وعظ کہنے کے بجاے دعا کا طریقہ اختیار کرتے تھے۔ خود بھی ہاتھ اٹھا لیتے تھے اور آنے والے کو بھی یہی نصیحت کرتے تھے ۔ اہل ’’المورد‘‘ کے اس رجوعِ عام نے اُن کے حجرے کوایک بیٹھک، ایک گھر، ایک مکتب اور ایک خانقاہ بنا دیا تھا جس میں ایک غم گسار دوست، ایک شفیق استاد، ایک مہربان باپ اور ایک خدا رسیدہ بزرگ ہر وقت اُن کا منتظر نظر آتا تھا۔ ہر آنے والے کے لیے اُس کے خریطے سے بس یہی ایک نسخہ نکلتا تھا کہ:

نہ سنو ، گر برا کہے کوئی

نہ کہو، گر برا کرے کوئی

روک لو ، گر غلط چلے کوئی

بخش دو ، گر خطا کرے کوئی

 اس نسخہ ٔکیمیا پر سب سے بڑھ کر وہ خود عامل تھے۔مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ ایک صاحب کی بے تدبیری اور کج ادائی سے اُنھیںیہ تاثرہو گیاکہ میں نے اُن کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ اُنھوں نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ آنکھوں سے آنسو رواں ہیں ۔نہ سوال کیا،نہ جرح کی۔ بس اتنا کہاکہ میں تو تمھیں اپنا بیٹا سمجھتا ہوں۔ میں نے پاؤں کو چھوا اور ہاتھ جوڑ کر اپنی وضاحت پیش کی۔کچھ دیر خاموش رہے اور پھر بولے کہ جس نے بھی زیادتی کی ہے، میں نے اُسے معاف کیا۔پھر گلے لگا کرایسے رخصت کیا جیسے کہہ رہے ہوں کہ:

یونہی آنکھوں میں آ گئے آنسو

جائیے آپ ، کوئی بات نہیں!

دوبارہ ملے تو یوں لگا کہ جیسے واقعی کوئی بات نہیں تھی۔چنانچہ اس واقعے کے کچھ دن بعد جب میں نے یہ درخواست کی کہ اپنے عزیز دوست اور عربی زبان کے جلیل القدر استاذپروفیسر خورشید عالم صاحب سے عربی پڑھانے کی سفارش کردیجیے تو اُنھوں نے نہ صرف سفارش کی، بلکہ پرزور اصرار بھی کیا۔ استاذِ مکرم نے کمالِ محبت سے اُن کی سفارش قبول کی اورپوری شفقت اور دل نوازی کے ساتھ اپنی شاگردی سے سرفرازکیا۔

جن لوگوں نے غوری صاحب کو آخری زمانے میں دیکھا ہے، وہ بتاتے ہیں کہ جب استاذِ گرامی جناب جاوید احمد غامدی ملک سے باہر چلے گئے اور باقی رفقا بھی ایک ایک کر کے رخصت ہو گئے توغوری صاحب بہت اداس رہنے لگے تھے ۔اب’’ المورد‘‘ اُنھیں ایک ویرانہ دکھائی دیتا تھا۔ آنا جانا بہت کم کر دیا تھا، مگر دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کبھی کبھی اس خرابے میں آ جایا کرتے تھے ۔ جب بھی آتے تواُن جگہوںکو ڈھونڈنے لگتے جہاں دوستوں کے ہمراہ وقتاً فوقتاًبیٹھا کرتے تھے اور پھر اُس مقام کو بھی تلاش کرتے جہاں شب و روز قیام رہتا تھا۔ اِس کیفیت میں اکثر یادوں کا سیلاب امڈآتاجو اِس دیار کے مٹے ہوئے آثار کو نمایاں کر دیتا۔بہت بے چین ہو جاتے اور عالمِ وارفتگی میں ا ِن آثارسے پوچھنے لگ جاتے کہ:

و ہ جو لوگ اہلِ کمال تھے، وہ کہاں گئے؟

وہ جو آپ اپنی مثال تھے، وہ کہاں گئے؟

مرے دل میں رہ گئی صرف حیرتِ آئینہ

وہ جو نقش تھے، خد و خال تھے، وہ کہاں گئے؟

سرِ جاں یہ کیوں فقط ایک شام ٹھہر گئی؟

شب و روز تھے، مہ و سال تھے، وہ کہاں گئے؟

جب کچھ جواب نہ ملتاتورخ پھیر کر کہتے کہ اِن اینٹ پتھروں سے میں کیا بات کروں، میں تو ان کی زبان ہی نہیں سمجھتا!

عَفَتِ الدِّیَارُ مَحَلُّھَا فَمُقَامُھَا

بِمِنیً تَأَ بَّدَ غَوْلُھَا فَرِجَامُھَا

وَجَلَا السُّیُوْلُ عَنِ الطُّلُوْلِ کَأَنَّھَا

زُبُرٌ تُجِدُّ مُتُوْنَھَا أَقْلَامُھَا

فَو َقَفْتُ أَسْأَ لُھَا وَکَیْفَ سُؤَالُنَا

صُمًّا خَوَالِدَ مَا یَبِیْنُ کَلَامُھَا

’’مقام منیٰ کے دیار، جہاں چند روزہ قیام رہا اور جہاں طویل قیام رہا، سب مٹ مٹا گئے اور کوہِ ’غول‘ اور کوہِ ’رجام‘ کے ڈیرے اجاڑ ہو گئے۔ اور پانی کے دھاروں نے گھروں کے بچے کھچے نشانات کو یوں نکھار دیا ہے، گویا وہ کتابیں ہیںجن کی عبارتوں کو قلم ازسرِنو روشن کر رہے ہیں۔سو میں کھڑا ہو کر ان آثار سے سوال کرنے لگا ، مگر بھلا ان ٹھوس اٹل چٹانوں سے ہماری پوچھ گچھ کیا معنی رکھتی ہے جن کا کلام سمجھ میں نہیں آسکتا۔‘‘

’’المورد‘‘ کے چمن زار کی خوشبوؤں کی طلب غوری صاحب کو بہت دور سے کھینچ کے لائی تھی۔ جب یہ خوشبوئیں باقی نہیں رہیں تو وہ کچھ دیر تو ا ن کو ڈھونڈتے رہے اور جب نہ ملیںتو یہ کہہ کر ہوا ہو گئے کہ:

چمن میں کھینچ کے لائی تھی جستجو جن کی

وہ نکہتیں نہیں باقی تو لو ہوا ہوئے ہم!