اسلامی انقلاب


نصف صدی ہونے کو ہے۔ ہم اِس ملک میں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اِس کے لیے اٹھے، اُن کی پہلی نسل ختم ہو گئی اور اب دوسری میدان میں ہے۔ اِس کے لیے بہت کچھ لکھا گیا اور بہت ہنگامے برپا ہوئے ہیں۔ اِس راہ میں جوانوں نے اپنا خون بہایا اور بزرگوں نے بارہا خود اپنی تمناؤں کو لحد میں اتاراہے۔ اِس قدر سعی و جہدا ور اتنی قربانیوں کے بعد کم سے کم یہ توقع تو کی جاسکتی تھی کہ منزل تک نہ بھی پہنچتے تواُس کے نشانات اب ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتے، لیکن ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ منزل کا دور دور تک پتا نہیں، رہنما چل بسے، مسافر تھک گئے اور جن میں کچھ حوصلہ باقی تھا، اُنھوں نے اپنی ساری قوت، سارا سرمایہ، بلکہ سرماےہ علم و اخلاق بھی اِس جدو جہد کی نذر کرکے دیکھ لیا، لیکن معاملہ وہی ہے کہ

 
میری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
 
پھر یہی نہیں کہ عشق بلا خیز کے یہ قافلہ ہاے سخت جاں اِس راہ میں ہمیشہ آبلہ پا ہی رہے ہیں۔ اِس ملک کی تاریخ میں ہم نے وہ زمانہ بھی دیکھا ہے کہ اسلامی انقلاب کا غلغلہ ایوان اقتدار میں برپا ہوا۔ ١ وہ صدا جو کبھی محراب و منبر سے اٹھتی اور قصر شاہی کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آجاتی تھی، خود قصر شاہی کے درو بام سے بلند ہوئی۔ ہمارے کانوں نے یہ مژدہ جاں فزا اِن برسوںمیں بارہا سنا کہ اب وہ معاشرہ پھر قائم ہوا چاہتا ہے جس سے قرن اول میں ہم نے اپنی تاریخ کی ابتدا کی تھی اور جس میں انسان کے سارے اخلاقی آئیڈیل تصورات کی دنیا سے عالم وجود میں آئے اور لوگوں نے اُنھیں اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اپنے ہاتھوں سے چھواتھا۔یہ سب کچھ ہوا اور دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے رہے، لیکن نتیجہ اِس کے سوا کچھ نہیں نکلا:
 
وہ جو رکھتے تھے ہم اک حسرت تعمیر سو ہے
 
یہ کیوں ہوا؟
 
اِس کے وجوہ واسباب پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور بہت کچھ لکھا جائے گا۔ بعض لوگ اِسے تقدیر کا فیصلہ قرار دیں گے اور منصہ عالم پر ایک المیہ خداوندی کہہ کر مطمئن ہو جائیں گے اور بعض دوسرے اِس کے اسباب اِس وقت کی سیاسی صورت حال میں تلاش کریں گے، لیکن ہم نے جہاں تک غور کیا ہے، ہم بہر حال اِسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اصل غلطی لائحہ عمل اور حکمت عملی میں ہے۔ چنانچہ اِس موقع پر جبکہ حالیہ انتخابات ٢ کے نتائج نے بہت سے لوگوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنا نقطہ نظر اِس معاملے میں پوری وضاحت کے ساتھ یہاں پیش کر دیا جائے۔
 
ہم دیکھ رہے ہیں کہ اِس جد و جہد کا ایک دور ختم ہوا اور ایک دوسرے دور کی ابتدا ہورہی ہے۔ ہمارا یہ خیال تو نہیں ہے کہ اِس وقت جولوگ میدان میں ہیں، وہ ہماری اِن معروضات کی روشنی میں اپنا راستہ تبدیل کر لیں گے، لیکن یہ توقع تو کی جا سکتی ہے کہ مستقبل میں جو لوگ اِس انقلاب کے علم برداربن کر اٹھیں گے، یہ اُن کے پیش نظر رہیں گی۔
 
انقلاب کا لائحہ عمل
انسانی تمدن میں کسی دعوت کے، خواہ وہ دعوت حق ہو یا دعوت باطل، حکم و اقتدار تک پہنچنے کی چار ہی صورتیں زمانہ قدیم سے لے کر اب تک دریافت ہوئی ہیں:
 
ایک یہ کہ مسلح اقدام کے ذریعے سے حکومت پر قبضہ کر لیا جائے،
 
دوسری یہ کہ عوامی بغاوت کی صورت میں لوگوں کو سڑکوں پر لا کر ارباب اقتدار کو اہل دعوت کے حق میں اپنی جگہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے،
 
تیسری یہ کہ انتخابی سیاست کے ذریعے سے اِس مقام تک پہنچنے کی کوشش کی جائے،
 
چوتھی یہ کہ کسی قوم کے ارباب حل و عقداور اہل اقتدار اِس دعوت کی تاثیر سے مفتوح اور اِس کے استدلال سے متاثر ہو کر اِس کے سامنے سر نگوں ہو جائیں۔
 
پہلی دونوں صورتیں وہی چیز ہیں جسے اسلامی شریعت میں منازعت اور خروج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اسلام کو چونکہ اس بات پر اصرار ہے کہ انسانی جان کی حرمت قتل نفس اور فساد فی ا لارض کے سوا کسی صورت میں بھی ختم نہیں ہوتی اور مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں، خواہ وہ کتنا ہی بگڑا ہوا کیوں نہ ہو، کوئی اختلال کسی قیمت پر بھی گوارا نہیں کیا جاسکتا اور کوئی شخص، خواہ وہ صدیق و فاروق کے مرتبے ہی کا کیوں نہ ہو اور اسلامی شریعت کا علم بردار بن کر ہی کیوں نہ اٹھے، مسلمانوں کی مرضی کے بغیر اُن پر مسلط نہیں ہو سکتا، اِس وجہ سے سیاسی انقلاب کی یہ دونوں صورتیں، وہ اُسی وقت گوارا ٣ کرتا ہے، جب یہ تین شرطیں پوری ہو جائیں:
 
اولاً، حکمران کھلے کفر کا ارتکاب کریں،
 
ثانیاً، اُن کی حکومت ایک استبدادی حکومت ہو جو نہ مسلمانوں کی رائے سے قائم ہوئی ہو اور نہ اُن کی رائے سے اسے تبدیل کر دینا کسی شخص کے لیے ممکن ہو،
 
ثالثاً، خروج کے لیے وہ شخص اٹھے جس کے بارے میں یہ بات پورے اطمینان کے ساتھ کہی جا سکے کہ قوم کی اکثریت اُس کی قیادت پر مجتمع ہے۔
 
پہلی شرط کی دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید کی رو سے مسلمانوں کے اولی الامر جب تک اُن میں سے ہوں اور اپنی ذات پر یا نظم ریاست سے متعلق کسی معاملے میں شریعت کی بالا دستی ماننے سے انکار نہ کردیں، اُن کی اطاعت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ اہل ایمان میں سے کوئی شخص اُس سے انحراف نہیں کر سکتا۔
 
ارشاد خدا وندی ہے:
 
اَطِيعُوا اللّٰهَ وَاَطِيعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی الْاَمْرِ مِنْکُمْ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَی اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ. (النساء٤:٥٩)
''اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحب امر ہوں، پھر تمھارے درميان اگر کسی معاملے ميں اختلاف رائے ہو تو اُسے اللہ اوراُس کے رسول کی طرف پھير دو۔''
 
رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم نے اِسی کی وضاحت ميں فرمايا:
 
الا ان تروا کفرًا بواحًا، عندکم من اللّٰه فيه برهان.(مسلم ،رقم ٤٧٧١)
'' تم اپنے حکمرانوں سے نزاع بس اُس وقت کرسکتے ہو، جب کوئی کھلا کفر اُن کی طرف سے ديکھو اور تمھارے پاس اُس معاملے ميں اللہ کی حجت موجو د ہو۔''
 
اِس طرح آپ کا ارشاد ہے:
 
علی المرء المسلم السمع والطاعة فيما احب وکره الا ان يؤمر بمعصية، فان امر بمعصية فلا سمع ولا طاعة.(مسلم،رقم ٤٧٦٣)
'' اہل ايمان پرواجب ہے کہ خواہ اُنھيں پسند ہو يا ناپسند، وہ بہرحال اپنے حکمرانوں کی بات سنيں اورمانيں، سوائے اِس کے کہ اُنھيں کسی معصيت کا حکم ديا جائے، پھر اگر معصيت کا حکم ديا گيا ہے تو وہ نہ سنيں گے اور نہ مانيں گے۔''
 
دوسری شرط کی دليل يہ ہے کہ اسلام ميں حکومت کے انعقاد اور اُس ميں تبديلی کے ليے 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَينَهُمْ' ٤ کا جو قاعدہ مقر ر کيا گيا ہے، وہ اگر پوری طرح نافذ ہو اورحکومت اُس کے مطابق قائم ہوتی او ر اُس کے مطابق تبديل کر دی جاسکتی ہو تواُس کے خلاف بغاوت کے ذريعے سے اُسے تبديل کرنے کی کوشش اِس قاعدے کی صريح خلاف ورزی اوراِس طرح حکومت کے خلاف نہيں، بلکہ مسلمانوں کے خلاف بغاوت قرار پائے گی جواسلامی شرےعت کی رو سے فساد فی الارض ہے اورجس کی سزا اسلام ميں قتل مقر ر کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ عليہ وسلم کا ارشادہے:
 
من اتا کم وامرکم جميع علی رجل واحد يريد ان يشق عصاکم او يفرق جماعتکم فاقتلوه. (مسلم،رقم٤٧٩٨)
'' تم کسی شخص کی امارت پرجمع ہو اورکوئی تمھاری جمعيت کو پارہ پارہ کرنے اور تمھارے نظم اجتماعی ميں تفرقہ پيداکرنے کے ليے اٹھے تواُسے قتل کردو۔''٥
 
تيسری شرط کی دليل يہ ہے کہ 'اَمْرُهُمْ شُوْرٰی بَينَهُمْ' کے اِس قاعدے کی رو سے مسلمانوں پرحکومت کاحق چونکہ اُن کی اکثريت کی تائيد سے قائم ہوتا ہے اوراِسی بنياد پر قائم رہتا ہے، اِس وجہ سے بغاوت کا حق بھی لازماً اُسی شخص کو حاصل ہوتا ہے جس کے بارے ميں يہ بات پورے اطمينان کے ساتھ کہی جاسکے کہ قوم کی اکثريت فی الجملہ اُس کے ساتھ ہے اورپہلے سے قائم کسی حکومت کے مقابلے ميں اُس کی قيادت تسليم کرلينے کے ليے بالکل تيار ہے۔ سيدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے ايک خطبہ ميں فرمايا ہے:
 
من بايع رجلاً عن غير مشورة من المسلمين فلا يبايع هو ولا الذی بايعه تغرة ان يقتلا. (بخاری،رقم ٦٨٣٠)
'' جس شخص نے مسلمانوں کی رائے کے بغير حکومت کے ليے کسی شخص کی بيعت کی، وہ اور جس کی بيعت کی گئی، دونوں اپنے اِس اقدام سے اپنے آپ کو قتل کے ليے پيش کريں گے۔''
 
پھر خروج کی اِن صورتوں ميں سے اگر مسلح اقدام کی صورت اختيار کی جائے تواِس کے ليے ايک چوتھی شرط يہ ہے کہ بغاوت کرنے والے پہلے کسی آزاد علاقے ميں جاکر اپنی حکومت قائم کريں۔
 
اِس کی دليل يہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کسی پيغمبر کوبھی جواتمام حجت کا آخر ی ذريعہ ہوتا ہے، تلوار اٹھانے کی اجازت اُس وقت تک نہيں دی، جب تک اُس نے ہجرت کرکے اپنی جماعت کو کسی آزاد علاقے ميں منظم نہيں کر ليا اوراُس کااقتدار اُس جماعت پر بزورو قوت قائم نہيں ہو گيا۔ سيدنا موسیٰ عليہ السلام کے بارے ميں معلوم ہے کہ اُن کواِس کا حکم اِس شرط کے پور ا ہوجانے کے بعد ہی ملا اوررسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ساتھيوں کے ليے بھی اِس کا راستہ اُس وقت کھلا،جب بيعت عقبہ کے بعد مدينہ ميں اُن کی ايک باقاعدہ جماعت قائم ہوئی۔اِس کی وجہ يہ ہے کہ سياسی اقتدار کے بغير جہاد محض فساد ہے۔ جو نظام امارت اپنی جماعت پر اللہ کے حدود نافذ کرنے اور ارتکاب جرم کی صورت میں مجرم کو سزا دینے کا اختیار نہیں رکھتا، اُسے قتال کی اجازت آخر کس طرح دی جا سکتی ہے؟
 
اِس امت کے علما ہمیشہ اِس شرط کے قائل رہے ہیں۔ ''فقہ السنہ'' میں ہے:
 
والنوع الثالث من الفروض الکفائية ما يشترط فيه الحاکم، مثل: الجهاد واقامة الحدود.(السيد سابق ٣/ ٣٠)
''اور کفایہ فرائض کی تیسری قسم وہ ہے جس میں حکمران کا ہونا شرط ہے، مثال کے طور پر: جہاد اور اقامت حدود۔''
 
امام فراہی لکھتے ہیں:
 
''اپنے ملک کے اندر بغیر ہجرت کے جہاد جائز نہیں ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سرگزشت اور ہجرت سے متعلق دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات سے بھی اِس بات کی تائید ہوتی ہے۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ جہاد اگر صاحب جمعیت اور صاحب اقتدار امیر کی طرف سے نہ ہو تو وہ محض شورش و بد امنی اور فتنہ و فساد ہے۔''٦(تفاسیر فراہی ٥٦)
 
استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی کتاب ''دعوت دین اور اُس کا طریق کار'' میں اِس شرط کے اِسی پہلو کی وضاحت میں لکھا ہے:
 
''پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی باطل نظام کے اختلال و انتشار کو بھی اُس وقت تک پسند نہیں کرتا جب تک اِس بات کا امکان نہ ہو کہ جو لوگ اِس باطل نظام کو درہم برہم کر رہے ہیں، وہ اِس کی جگہ پر کوئی نظام حق بھی قائم کر سکیں گے۔ انار کی اور بے نظمی کی حالت ایک غیر فطری حالت ہے، بلکہ انسانی فطرت سے یہ اِس قدر بعید ہے کہ ایک غیر عادلانہ نظام بھی اِس کے مقابل میں قابل ترجیح ہے۔ اِس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے کسی ایسی جماعت کو جنگ چھیڑنے کا اختیار نہیں دیا ہے جو بالکل مبہم اور مجہول ہو ، جس کی قوت و استطاعت غیر معلوم اور مشتبہ ہو، جس پر کسی با اختیار امیر کا اقتدار قائم نہ ہو، جس کی اطاعت و وفاداری کا امتحان نہ ہوا ہو، جس کے افراد منتشر اور پراگندہ ہوں، جو کسی نظام کو درہم برہم تو کر سکتے ہوں، لیکن اِس بات کا کوئی ثبوت اُنھوں نے بہم نہ پہنچایا ہو کہ وہ کسی انتشار کو مجتمع بھی کر سکتے ہیں۔ یہ اعتماد صرف ایک ایسی جماعت پر ہی کیا جا سکتا ہے جس نے بالفعل ایک سیاسی جماعت کی صورت اختیار کر لی ہواور جو اپنے دائرہ کے اندر ایک ایسا ضبط ونظم رکھتی ہو کہ اُس پر ' الجماعه ' کا اطلاق ہو سکے۔ اِس حیثیت کے حاصل ہونے سے پہلے کسی جماعت کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ ' الجماعه ' بننے کے لیے جد وجہد کرے اور اُس کی یہ جدو جہد جہادہی کے حکم میں ہو گی، لیکن اُس کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ عملاً جہاد بالسیف اور قتال کے لیے اقدام شروع کر دے۔
 
دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی جنگ کرنے والی جماعت کو انسانوں کے جان ومال پر جو اختیار حاصل ہو جایا کرتا ہے، وہ ایسا غیر معمولی اور اہم ہے کہ کوئی ایسی جماعت اُس کو سنبھال ہی نہیں سکتی جس کے لیڈر کا اقتدار اُس کے اوپر محض اخلاقی قسم کا ہو۔ اخلاقی اقتدار اِس امر کی کافی ضمانت نہیں ہے کہ وہ لوگوں کے فساد فی الارض کو روک سکے۔ اِس وجہ سے مجرد اخلاقی اقتدار کے اعتماد پر کسی اسلامی لیڈر کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں کو تلوار اٹھانے کی اجازت دے دے، ورنہ اِس بات کا قوی اندیشہ ہے کہ جب ایک مرتبہ اُن کی تلوار چمک جائے گی تو وہ حلال وحرام کے حدود کی پابندنہیں رہے گی اور اُن کے ہاتھوں وہ سب کچھ ہو جائے گا جس کے مٹانے ہی کے لیے اُس نے تلوار اٹھائی ہے۔ عام انقلابی جماعتیں جو مجرد ایک انقلاب برپا کرنا چاہتی ہیں اور جن کا مطمح نظر اِس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا کہ وہ قائم شدہ نظام کو درہم برہم کرکے برسراقتدار پارٹی کے اقتدار کو مٹائیں اور اُس کی جگہ اپنا اقتدار جمائیں، اِس قسم کی بازیاں کھیلتی ہیں اور کھیل سکتی ہیں۔ اُن کے نزدیک نہ کسی نظم کا اختلال کوئی حادثہ ہے نہ کسی ظلم کا ارتکاب کوئی معصیت، اِس وجہ سے اُن کے لیے سب کچھ مباح ہے، لیکن ایک عادل اور حق پسند جماعت کے لیڈروں کو لازماً یہ دیکھنا پڑتا ہے کہ جس نظم سے وہ خدا کے بندوں کو محروم کر رہے ہیں، اُس سے بہتر نظم اُن کے واسطے مہیا کرنے کی وہ صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں اور جس ظلم کے مٹانے کے وہ درپے ہیں، اِس قسم کے مظالم سے اپنے آدمیوں کو بھی روکنے پر وہ پوری طرح قادر ہیں یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو اُن کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ محض اتفاقات کے اعتماد پر وہ لوگوں کے جان ومال کے ساتھ بازیاں کھیلیں اور جس فساد کو مٹانے کے لیے اٹھے ہیں، اُس سے بڑا فساد خود برپا کرا دیں۔'' ( ٢٤١)
 
اِس سے واضح ہے کہ ریاست پاکستان کے جمہوری نظام میں سیاسی انقلاب کی یہ دونوں صورتیں تو شریعت کی رو سے کسی طرح اختیار نہیں کی جا سکتیں، لہٰذا یہاں جو لوگ جہاد وقتال اور 'نهی عن المنکرباليد' کے ذریعے سے انقلاب برپا کرنے کے لیے اپنے فدائین بھرتی کرنے کا پروگرام پیش کر رہے ہیں، اُن کا یہ عمل اُس شریعت کے بالکل منافی ہے جس کے احیا اور نفاذ کے وہ علم بردار بن کر اٹھے ہیں۔
 
دور حاضر میں اسلامی انقلاب کے سب سے بڑے داعی مولانا سید ابو الاعلیٰ صاحب مودودی ماچھی گوٹھ کے تاریخی اجتماع میں اپنی جماعت کے ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں:
 
''ایک آئینی وجمہوری نظام میں رہتے ہوئے تبدیلی قیادت کے لیے کوئی غیر آئینی راستہ اختیار کرنا شرعاً آپ کے لیے جائز نہیں ہے اور اِسی بنا پر آپ کی جماعت کے دستور نے آپ کو اِس امر کا پابند کیا ہے کہ آپ اپنے پیش نظر اصلاح وانقلاب کے لیے آئینی وجمہوری طریقوں ہی سے کام لیں۔'' ( تحریک اسلامی کا آیندہ لائحہ عمل ٢٠٥)
 
تیسری صورت، یعنی انتخابی سیاست کے ذریعے سے حکم واقتدار تک پہنچنے کی کوشش پر شرعاً کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا، لیکن یہ صورت، اگر غور کیجیے تو اپنی نوعیت ہی کے لحاظ سے تین باتوں کا تقاضا کرتی ہے:
 
اول یہ کہ اِس کی قیادت کسی ایسے شخص کو کرنی چاہیے جو اپنی شخصیت کے لحاظ سے اصلاً ایک لیڈر اور سیاست دان ہو۔ اقبال، ابو الکلام اور ابو الاعلیٰ مودودی کی طرح جو لوگ اصلاً عالم، محقق، مفکر اور دانش ور ہیں، یہ اُن کے کرنے کا کام ہی نہیں ہے۔ اِس کے لیے تو کسی جناح اور کسی بھٹو کی قلب ماہیت کا انتظار کرنا چاہیے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اِس طرح کی کوئی شخصیت اگر سیاست کے میدان میں اسلامی انقلاب کی علم بردار بن کر کھڑی ہو جائے تو بہت غیر معمولی نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے، لیکن علما اور دانش وروں کے بارے میں یہ بات بالکل قطعی ہے کہ وہ اگر اِس میدان میں اتریں گے تو معاملہ بالکل وہی ہو کر رہے گا کہ بقول غالب:
 
ہاں اہل طلب! کون سنے طعنہ نایافت
دیکھا کہ وہ ملتا نہیں، اپنے ہی کو کھو آئے
 
دوم یہ کہ اس کے لیے جب کوئی تنظیم قائم کی جائے تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی طرح اُسے ایک سیاسی جماعت ہونا چاہیے ــــ ایک ایسی جماعت جو اسلامی انقلاب کو اپنا نصب العین قرار دے کر اصلاً اُنھی لوگوں کو اپنے پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی کوشش کرے جو معاشرے میں اپنی کوئی سیاسی حیثیت رکھتے اور اِس طرح ایک فطری قائد کے طور پر سیاست کے میدان میں اِس دعوت کے علم بردار بن سکتے ہوں۔ دینی اور مذہبی جماعتیں اِس کے لیے کبھی موزوں ہوئی ہیں اور نہ ہو سکتی ہیں۔ پے در پے ہزیمت اور بتدریج اپنی شناخت سے محرومی کے سوا اُنھیں یہاں کچھ بھی حاصل نہیں ہو سکتا۔
 
سوم یہ کہ اِس میں انتخابات کے موقع پر جو حکمت عملی بھی اختیار کی جائے، اُسے موجود حقائق پر مبنی ہونا چاہیے۔ انتخابات محض دعوت کی توسیع اور اپنا تعارف دوسروں تک پہنچانے کے لیے نہیں، بلکہ موجود سیاسی حقائق میں اپنی حیثیت دوسروں سے منوا لینے کے لیے لڑے جاتے ہیں اور اُن کا ہدف ہمیشہ فتح ہوتی ہے۔اِس طرح کے معاملات میں فتح وشکست سے بے نیازی انسانی فطرت کے خلاف ہے اور فطرت کے بارے میں یہ بالکل مسلم ہے کہ اُس کے خلاف کوئی چیز بھی اس دنیا میں زیادہ دیر تک اپنے آپ کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔
 
یہ اِس صورت کے لازمی تقاضے ہیں۔ اِن سے صرف نظر کر کے کوئی دعوت اگر اِسے اختیار کرے گی تو اِس کے نتائج وہی نکلیں گے جو جماعت اسلامی کی پچھلے پچاس سال کی جد وجہد کے بعد اب اِس ملک میں ہمارے سامنے ہیں۔ چنانچہ ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ اِس راستے پر کامیابی کی تلاش میں:
 
١۔ دعوت بتدریج اپنی روح تذکیر، اپنی فکری شناخت اور اپنے جذبہ احقاق حق سے اِس طرح محروم ہوئی ہے کہ اِن اعتبارات سے اب اُس میں زندگی کی کوئی رمق تلاش کر لینا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہا۔
 
٢۔ تنظیم میں ہر سطح پر قیادت علما اور دانش وروں کے ہاتھ سے نکل کر سیاسی لحاظ سے بالکل غیرموثر اور علم ودانش کے اعتبار سے بالکل بے مایہ لوگوں کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔ چنانچہ اب نہ سیاست کے میدان میں کوئی روشنی نظر آتی ہے اور نہ دعوت کے میدان میں۔
 
٣۔ سیرت واخلاق کا جو سرمایہ بڑی مشکل سے جمع ہوا تھا، وہ بہت کچھ لٹ چکا اور جو باقی ہے، اُسے بھی، ہر شخص اندازہ کر سکتا ہے کہ اب زیادہ دیر تک بچا کر نہ رکھا جا سکے گا۔
 
لہٰذا یہ بالکل قطعی ہے کہ اسلامی انقلاب کے علم بردار کسی عالم، محقق اور دانش ور کے لیے تو یہ صورت اگر موزوں ہو سکتی ہے تو صرف اُسی وقت موزوں ہو سکتی ہے، جب اُس کی دعوت معاشرے میں ایسی موثر اور اُس کی قیادت پر قوم اِس طرح مجتمع ہو جائے کہ انتخابات اُس کے لیے انتقال اقتدار کی ایک آئینی ضرورت سے زیادہ کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں اور وہ جب چاہے قوم کا فیصلہ، اُن کے ذریعے سے اپنے حق میں حاصل کر سکتا ہو۔
 
چوتھی صورت، یعنی معاشرے کے ارباب حل وعقد کے ذہنوں کو دعوت اور صرف دعوت کے ذریعے سے مفتوح کر لینے کی جد وجہد اگرچہ اس زمانے میں لوگوں کے لیے بہت کچھ اجنبی ہو چکی، لیکن حق یہ ہے کہ پیش نظر مقصد کے لیے، اِن سب صورتوں میں اگر کوئی صورت دین وشریعت کی رو سے سب سے زیادہ پسندیدہ اور نتائج کے لحاظ سے موثر ترین ہو سکتی ہے تو وہ یہی ہے۔ ٧ اللہ کے نبیوں نے اپنی پوری تاریخ میں ہمیشہ اِسے ہی اختیار کیا ہے، وہ جب بھی اٹھے اور جس دور میں بھی اپنی دعوت لے کر کھڑے ہوئے، اِس کے سوا کوئی طریقہ اُنھوں نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اُن کی دعوت رد بھی ہوئی، وہ جلا وطن بھی ہوئے اور بار ہا قتل بھی کر دیے گئے، لیکن کامیابی کے لیے کسی دوسرے راستے پر دو قدم چلنا بھی اُنھوں نے کبھی گوارا نہیں کیا۔ اُن کے پروردگار نے اُنھیں ہمیشہ یہی ہدایت کی کہ وہ اِس پر ثابت قدم رہیں، اُن کا کام یہی ہے، وہ جس منصب پر فائز ہوئے ہیں، وہ تعلیم وتذکیر کا منصب ہے،وہ اپنی قوموں پر کوئی داروغہ بنا کر نہیں بھیجے گئے۔
 
چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ اللہ کے یہ پیغمبر اِس دنیا میں اپنا انقلاب اگر کبھی برپا کر دینے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ہمیشہ اِسی طریقے سے ہوئے ہیں۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی دعوت اپنی قوم میں اِسی طرح کامیابی کی منزل تک پہنچی، سیدنا یونس علیہ السلام کی قوم اور اُس کے ارباب حل وعقد نے اِسی طرح اُس کے آگے سرتسلیم خم کیا، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ یثرب میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت ٹھیک اِسی طریقے سے قائم ہوئی۔
 
يہ تاريخ کی ايک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ ام القریٰ مکہ کے ارباب حل وعقد نے کم و بيش گيارہ سال کی جاں گسل جد و جہد کے باوجود، جب رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کی دعوت قبول نہيں کی تو آپ نے اللہ کے حکم سے اُسے دوسرے قبائل کے سامنے پيش کيا۔ يثرب کے چند لوگ اِس کے نتيجے ميں ايمان لائے، اورپھر اُن کی کوششوں سے دوسال کے قليل عرصے ہی ميں اُس پوری بستی کی قيادت دين حق کے سامنے دعوت اور صرف دعوت کے ذريعے سے سرنگوں ہوگئی، يہاںتک کہ آخر ی بيعت عقبہ نے فيصلہ کرديا کہ نبی صلی اللہ عليہ وسلم اب جب چاہیں، ایک امام و فرماں روا کی حیثیت سے یثرب منتقل ہو سکتے اوراُس کی زمام اقتدار اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں۔
 
اس کے بعد جب آپ مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم کے ايک صحابی ابو قيس صرمہ رضی اللہ عنہ نے اِس موقع پر اپنے اشعار ميں فرمایا:
 
ثوی فی قريش بضع عشرة حجة
يذکر، لو يلقی صديقاً مواتياً
''آپ دس سال سے کچھ زيادہ عرصہ تک قريش ميں اِس اميد پرلوگوں کو نصيحت کرتے رہے کہ کوئی ساتھی، کوئی رفيق (اُن کے اعيان واکابر ميں)مل جائے۔''
 
ويعرض فی اهل المواسم نفسه
فلم يرمن يؤوی ولم ير داعياً
'' اور حج کے موقعوں پراپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پيش کرتے رہے، ليکن نہ کوئی پناہ دينے والا ملا اورنہ کوئی ايسا شخص جوآپ کے ساتھ حق کاداعی بن کر کھڑ ا ہو جاتا۔''
 
فلما اتانا اظهر اللّٰه دينه
فاصبح مسرورًا بطيبة راضيا
'' ليکن اِس کے بعد جب ہمارے پاس آئے تو اللہ نے يہاں اپنے دين کوغلبہ عطا فرماديا۔ چنانچہ طيبہ کی اِس بستی سے، آپ ہر لحاظ سے خوش اورہر لحاظ سے راضی ہوگئے۔''
 
اِس ملک کے ارباب سياست ميں سے کوئی شخص اگر يہ کہتا ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کی جدوجہد کرنا چاہتا ہے تو اُسے بے شک، يہی مشور ہ ديا جائے گا کہ وہ اِس کے ليے انتخابی سياست کا طريقہ اختيار کرے، ليکن دين کے علماکے ليے واحد راستہ يہی ہے۔ وہ پيغمبروں کے وارث ہيں، لہٰذا وہ يہ راستہ جب چھوڑيں گے، اپنی وراثت کوچھوڑيں گے اوراِس کا نتيجہ اِس کے سوا کچھ نہ نکلے گا کہ سياست کی حريفانہ کشاکش ميں بتدريج اپنی شناخت سے محروم ہوجائيں گے، علما کے ليے يہ اُن کے اختيار کا مسئلہ نہيں، قرآن مجيدميں اُن کا منصب يہی بيان ہوا ہے کہ وہ دعوت اور صرف دعوت کے ذريعے سے اپنی قوم اور اُس کے ارباب حل وعقد کواُن تغيرات پر آمادہ کرتے رہيں جو اسلام اُن کی انفرادی اور اجتماعی زندگی ميں پيدا کرنا چاہتا ہے۔ ارشاد فرمايا ہے:
 
وَمَا کَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِيَنْفِرُوْا کَآفَّةً، فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَائِفَةٌ لِّيَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّيْنِ وَلِيُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ. (التوبه ٩: ١٢٢)
'' اور سب مسلمانوں کے لیے تو یہ ممکن نہ تھاکہ وہ اِس کام کے لیے نکل کھڑے ہوتے، لیکن ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کے ہر گروہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے تاکہ دین میں بصیرت حاصل کرتے اور اپنی قوم کے لوگوں کو انذار کرتے، جب(علم حاصل کر لینے کے بعد) اُن کی طرف لوٹتے، اِس لیے کہ وہ بچتے۔''
 
اِس کا لائحہ عمل کيا ہونا چاہيے؟ قرآن مجيد ميں اِس کی اساسات اگرچہ بالکل متعين ہيں۔٨ ليکن تفصيلات، ظاہر ہے کہ ہر قوم کے حالات اورہر دور کی ضرورتوں کے لحاظ سے بہت کچھ مختلف ہوسکتی ہيں۔ رياست پاکستان ميں، ہمارے نزديک، اِس کا صحيح لائحہ عمل يہ ہے:
 
دين ميں تحقيق و اجتہاد اوراُس کی تعليم وتدريس کے ليے ايسے ادارے قائم کيے جائيں جن ميں قرآن مجيد ہی کو ہر چيز پر حکم قرار دے کر، اُس کے ذريعے سے علوم اسلامی کی بنياديں ايک مرتبہ پھر اُن کے اصل ماخذ وں، يعنی قرآن وسنت پر استوار کردی جائيں۔
 
ملک ميں تطہير فکر وعمل کی ايک ايسی تحريک برپا کی جائے جو قوم کے ذہين عناصر، بالخصوص اُس کے ارباب حل وعقدکوشب وروز اِس دعوت سے متعلق کردينے کی جدوجہد کرتی رہے۔
 
تذکير بالقرآن کو اِس تحريک ميں دعوت کی اساس قرار ديا جائے اور لوگوں کواِس ميں کسی خاص مذہبی فرقے کے تعصبات يا کسی خاص شخصيت سے تعلق کے بجائے ايک ايسے منشور کی طرف بلايا جائے جس ميں بالکل متعين طريقے پريہ بتايا جائے کہ اسلام کی بنياد پر ہم فی الواقع اِس ملک کی سياست، معيشت، معاشرت، تعليم و تعلم اور حدود و تعزيرات کے نظام ميں کيا تغيرا ت چاہتے ہيں۔
 
ايف اے، ايف ايس سی تک عام تعليم کے مدارس کا ايک سلسلہ نہايت اعلیٰ معيار پر پورے ملک ميں پھيلا ديا جائے، جہا ں قرآن کی دعوت خود قرآن ہی کے ذريعے سے طالب علموں کے ذہن ميں اِس طرح راسخ کردی جائے کہ بعد کے زمانوں ميں وہ پورے شرح صدر کے ساتھ اپنے دين پرقائم رہ سکيں۔
 
اہل دعوت يہ بات ہميشہ کے ليے طے کرليں کہ اِس ملک کی اکثريت جب تک اُن کی ہم نوا نہ ہو جائے، اپنے پيش نظر انقلاب کے ليے وہ دعوت و انذار سے آگے ہر گزکوئی اقدام نہ کريں گے۔
 
 يہ دعوت اگر اِس طريقے سے اوراِس لائحہ عمل کے مطابق ہمارے اِس ملک ميں برپا ہوجائے تو اِس سے جونتائج متوقع ہوسکتے ہیں، وہ يہ ہيں:
 
اس کا ايک نتيجہ يہ ہوسکتا ہے کہ اِسی دعوت کے کا م ميں اہل دعوت کا وقت آ پہنچے، اور وہ بنی اسرائيل کے اکثر انبيا کی طرح اِسے اپنے بعد آنے والوں کے ليے چھوڑ کر دنيا سے رخصت ہوتے رہیں۔
 
دوسرا نتيجہ يہ ہوسکتا ہے کہ اہل دعو ت کی منادی قوم کے ارباب حل وعقد کے دلوں ميں اتر جائے اوروہ توبہ و انابت کے ساتھ اپنا سر پروردگار کے سامنے جھکاديں۔
 
تيسرا نتيجہ يہ ہو سکتا ہے کہ قوم اِن اہل دعوت کی قيادت پراِس طرح مجتمع ہو جائے کہ وہ جب چاہيں اور جس طرح چاہيں حکم واقتدار کے ليے اُس کا فيصلہ اپنے حق ميں حاصل کرليں۔
 
چوتھا نتيجہ يہ ہوسکتا ہے کہ قوم کے ارباب سياست ميں سے کوئی شخص اِس دعوت کواس طرح قبول کرلے کہ رياست پاکستان کے جمہوری نظام ميں يہ اُس کی شخصيت کے بل بوتے پرانتخابی سياست ہی کے ذريعے سے حکم واقتدار کی منزل تک پہنچ جائے۔ ]١٩٩٤ئ[
 _____________________
ــــــــــــــــــــــــ
 
١ جنرل محمد ضیاء الحق صاحب کے زمانہ اقتدار میں ۔
٢ ١٩٩٣ء کے انتخابات، جن میں پاکستان کی جماعت اسلامی اپنی تاریخ کی بد ترین شکست سے دوچار ہوئی۔
٣ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ صرف گوارا کرتا ہے، اُنھیں واجب یا مستحب کسی حال میں بھی نہیں ٹھیراتا۔
٤ الشورٰی ٤٢:٣٨ ۔
٥ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم سورہ مائدہ کی آیت ٣٣ پر مبنی ہے۔
 
٦ یہ استاذ امام امین احسن اصلاحی کا ترجمہ ہے۔ امام فراہی کی اصل عربی عبارت ، افسوس ہے کہ میسر نہیں ہو سکی ۔
 
٧ یہ مضمون ''جماعت اسلامی'' کی دعوت کے پس منظر میں لکھا گیا ہے، اِس لیے اِس میں دعوت بطور ایک ذریعہ انقلاب کے زیربحث آئی ہے، ورنہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ سیاسی انقلاب اِس دعوت کا کوئی ایسا ہدف نہیں ہے جو دین میں اِس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ اِس کا ہدف قرآن مجید کی رو سے 'لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُوْنَ' (تاکہ لوگ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں) ہے اور اِس کے لیے اٹھنے والوں کو یہ کام ہر حال میں 'مَعْذِرَةً اِلٰی رَبِّکُمْ'(اِس لیے کہ تمھارے پروردگار کے سامنے ہم اپنا عذر پیش کر سکیں) کرنا چاہیے۔
٨ تفصيل کے ليے ملاحظہ ہو، ہماری کتاب '' ميزان '' ميں '' قانون دعوت''۔
 

 




رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح 2


 

نبی کریم کی ازدواجی زندگی
بحیثیت بشر
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بشری ضروریات کے تحت دو نکاح کیے۔ پہلا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے اور دوسرا ان کی وفات کے بعد حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے پچیس سال کی عمر میں نکاح کیا۔ یہ ایک بیوہ خاتون تھیں اور عمر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی رفاقت کا زمانہ پچیس سال کا ہے۔ ان پچیس برسوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر شباب کا سارا زمانہ گزر گیا، لیکن اس میں آپ کے ہاں کسی دوسری شادی کا کوئی خیال بھی نہیں پایا جاتا۔ آپ نے اسی عرصے میں اعلان نبوت کیا اور مکہ کے لوگوں کو اسلام کی دعوت دی، آپ کی بھرپور مخالفت کی گئی۔ ستایا بھی گیا اور لالچ بھی دیا گیا۔ ایک موقع پر آپ کو یہ پیش کش بھی کی گئی کہ اگر آپ اپنی دعوت سے باز آجائیں یا کچھ مصالحانہ رویہ اختیار کرلیں، تو آپ کو عرب کی سب سے حسین خاتون جو آپ کو پسند ہو، اس سے بیاہ دیتے ہیں۔ آپ اس طرح کی پیش کشوں سے ایک بے نیاز آدمی کی طرح گزر جاتے تھے۔ نہ خدا کے انتخاب میں کوئی خامی تھی کہ آپ کے پاے ثبات میں لغزش آتی اور نہ آپ کی ازدواجی زندگی کسی تشنگی کا شکار تھی کہ اس طرح کی پیش کش کوئی اثر دکھاتی۔
 
پہلی شادی کے پچیس سال بعد جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ پریشان کن مسئلہ پیدا ہوا کہ آپ کی صاحب زادیاں ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ عنہما تنہا رہ گئیں۔ گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی بھی نہ رہا۔ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سن رسیدہ خاتون سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کر لیا۔ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر بھی پچاس سال تھی اور سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی عمر بھی پچاس سال تھی۔ یہ ابتدائی اسلام لانے والوں میں سے تھیں۔ انھوں نے بھی اسلام کے راستے میں دوسرے مسلمانوں کی طرح تکالیف اٹھائی تھیں۔ مکہ کے حالات جب ان پر تنگ ہو گئے تو یہ اپنے شوہر کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کر گئیں۔ کچھ عرصے بعد ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں، چنانچہ آپ نے ان سے نکاح کر لیا۔ صاف ظاہر ہے کہ ان کے ساتھ نکاح میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر ان کی تالیف قلب بھی تھی۔
 
بحیثیت نبی
جیسے کہ اوپر بیان ہوا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داریوں میں آپ کی ازواج مطہرات کو بھی شریک کیا گیا تھا تاکہ وہ نبوت کے کام میں آپ کی ممدومعاون بنیں۔ اور ہم دیکھتے ہیں کہ واقعتہً نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کا ایک بڑا حصہ ان ازواج مطہرات ہی کے ذریعے سے پھیلا ہے۔ یوں آپ کی سب ازواج مطہرات اس ذمہ داری میں شامل تھیں، مگر خاص کار نبوت میں معاونت کے حوالے سے جو خاتون آپ کے نکاح میں آئیں، وہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ ان کے ساتھ نکاح دراصل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا انتخاب نہ تھا، بلکہ خود اللہ تعالیٰ نے کار نبوت میں اپنے رسول کی معیت و معاونت کے لیے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو منتخب فرمایا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: مجھے خواب میں تم دو دفعہ دکھائی گئیں اور کہا گیا کہ یہ آپ کی بیوی ہیں۔ ٢ ایک اور روایت میں ہے: جبریل امین، رسول اللہ کے پاس حضرت عائشہ کی تصویر، سبز ریشم میں لائے اور آپ سے کہا کہ یہ دنیا اور آخرت میں آپ کی بیوی ہیں۔٣ چنانچہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معاونت کے لیے اللہ تعالیٰ کا انتخاب تھیں۔ منصب نبوت میں ایک خاص معاونت کے لیے کون سی خاتون موزوں ہو سکتی ہے، ظاہر ہے کہ اس بات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ ہی کر سکتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رہنمائی پانے کے بعد، امت کی تعلیم و تربیت کے لیے اتنا زیادہ کام کیا، جتنا آپ کی تمام ازواج نے مل کر بھی نہیں کیا۔ یہ بات، بلامبالغہ، درست ہے کہ اس دنیا کے کسی بھی رہنما کی بیوی اس کے کام میں مددگار ثابت نہیں ہوئی، جتنی حضرت عائشہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کام میں مددگار ثابت ہوئیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین سیکھنے والی یہ طالبہ، آپ کی وفات کے بعد، امت کی معلمہ بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وَاذْكُرْنَ مَا يُتْلَى فِي بُيُوتِكُنَّ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَالْحِكْمَةِ ٤ کا مجسم نمونہ بنا دیا۔ آپ سے ٢٢١٠روایات مروی ہیں۔ یہ روایات، دراصل اس دینی تعلیم کا ایک بے حد اہم حصہ ہیں، جو آپ سے اس امت مسلمہ نے پائی ہے۔ آپ فقیہ بھی تھیں اور مفسر و مجتہد بھی۔ اکابر صحابہ آپ سے مسائل پوچھا کرتے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما بھی آپ سے مسائل کے بارے میں استفسار کیا کرتے تھے۔
 
اس کے بعد ہم آپ کے ان نکاحوں کی طرف آتے ہیں جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے۔ آپ چونکہ نبی ہونے کے حوالے سے مسلمانوں کے لیے اسوہ یعنی نمونہ ہیں، لہٰذا ہم نے آپ کے ان نکاحوں کو جو آپ نے معاشرتی ضرورت کے تحت کیے، آپ کے حیثیت نبوت میں کیے گئے نکاحوں میں شمار کیا ہے۔ ان نکاحوں کا پس منظر اس طرح سے ہے:
 
تین ہجری میں مسلمانوں کو جنگ احد لڑنا پڑی۔ اس جنگ میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے اور اپنے پیچھے کئی یتیم بچے اور بیوائیں چھوڑ گئے۔ یہ ان شہدا کے لواحقین تھے، جنھوں نے اپنے خون سے تاریخ اسلام کا ایک اہم باب رقم کیا تھا۔ اسلام نے مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا بے پناہ جذبہ پیدا کر دیا تھا۔ ایثار و قربانی کے اسی جذبے کی بنا پر کئی لوگوں نے ان یتیم بچوں اور بیواؤں کو اپنی سرپرستی میں لے لیا اور ان کی کفالت کرنے لگے۔ اس موقع پر سورہ نساء نازل ہوئی۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے ان سرپرستوں کو مخاطب کرکے ان کی ذمہ داریاں بتائیں اور ان کے لیے وہ صورت تجویز کی، جس سے وہ عدل و انصاف کے دائرے میں رہتے ہوئے، یتیموں کی سرپرستی کی اس عظیم ذمہ داری سے بخوبی عہدہ برآ ہو سکتے تھے۔ فرمایا:
وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامَى فَانكِحُوْا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء مَثْنَى وَثُلاَثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً (النساء ٤:٣)
''اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ تم یتیموں کے معاملے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان عورتوں (یتیموں کی ماؤں ) میں سے جو تمھارے لیے جائز ہوں، ان سے دو دو، تین تین، چار چار تک نکاح کر لو۔ اگر ڈر ہو کہ ان کے مابین عدل نہ کر سکو گے تو ایک ہی پر بس کرو۔''
 
اسلام نے یتیموں اور بیواؤں ٥ کو معاشرے کا باقاعدہ حصہ بنا دینے کے لیے ایک بڑا حکیمانہ حل پیش کیا، لیکن کسی بیوہ سے نکاح کرنا اور اس کے یتیم بچوں کی ذمہ داری، باقاعدہ اپنے سر لے لینا، کوئی آسان کام نہ تھا۔ خصوصاًاس صورت میں جبکہ دوسروں کے حقوق، انصاف کے ساتھ ادا کرنا بھی لازم تھا۔ لہٰذا یہ ضروری ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس معاملے میں اقدام کریں اور آپ یتیموں اور بیواؤں کی کفالت کی اس معاشرتی ذمہ داری میں مسلمانوں کے لیے اسوہ بنیں۔ اور آپ کا یہ نکاح کرنا ان مسلمانوں کے لیے ترغیب کا باعث بنے جو یتیموں کے معاملے میں بے انصافی کا خوف رکھتے ہیں، لیکن کسی سبب سے اس اقدام سے گھبراتے ہیں۔ چنانچہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بیوہ خواتین سے نکاح کیا۔ یہ خواتین حضرت حفصہ، حضرت زینب اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہن ہیں۔ ان سے نکاح کی تفصیل درج ذیل ہے:
 
حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیٹی تھیں۔ جنگ احد میں ان کے خاوند شہید ہو گئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان کے بارے میں فکر مند ہوئے اور انھوں نے چاہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عثمان رضی اللہ عنہ میں سے کوئی ایک، ان کو اپنے نکاح میں قبول کر لے، لیکن ان دونوں حضرات نے خاموشی اختیار کی۔ حضرت عمر ان کی خاموشی سے رنجیدہ خاطر ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایتاً حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما کے رویے کا ذکر کیا۔ آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بتایا کہ میں خود حضرت حفصہ کو اپنے نکاح میں لانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ ظاہر ہے، سیدنا عمر اور بنت عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کیا ہو سکتی تھی۔ چنانچہ حضرت حفصہ آپ کے نکاح میں آ گئیں۔
 
حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے۔ ان کی شادی طفیل بن حارث رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد، کسی وجہ سے انھوں نے طلاق دے دی۔ پھر ان کا نکاح عبداللہ بن جحش سے ہوا۔ کچھ ہی عرصہ بعد، جب جنگ احد ہوئی تو یہ اس میں شہید ہو گئے اور حضرت زینب رضی اللہ عنہا ایک بار پھر بیوہ ہو گئیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا۔ زینب بنت خزیمہ کے آنے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چار ازواج مطہرات ہو گئیں۔ تعدد ازواج کے بارے میں سورہ نساء میں جو قانون نازل ہوا تھا، اس کے مطابق اب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزید کوئی نکاح نہیں کر سکتے تھے، لیکن چند ماہ کے بعد، جب حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا انتقال کر گئیں تو آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ آپ کسی اور بیوہ کو سہارا دے سکیں۔
 
چنانچہ ٤ ہجری میں آپ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے حبالہ عقد میں لے آئے۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پھوپھی زاد تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ مکہ میں جب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہوا تو یہ بھی ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے ساتھ حبشہ چلی گئیں۔ وہاں کچھ عرصہ رہ کر واپس مکہ آگئیں۔ پھر جب مدینہ کی طرف ہجرت شروع ہوئی تو یہ اپنے خاوند ابو سلمہ کے ساتھ مدینہ چل پڑیں، لیکن ان کے خاندان نے انھیں ہجرت کرنے سے روک دیا۔ سسرال والوں نے ان کا بیٹا بھی چھین لیا۔ چاروناچار ان کے خاوند کو تنہا ہجرت کرنا پڑی۔ ام سلمہ نے ایک سال تک جدائی کی صعوبتیں برداشت کیں۔ پھر ان کے خاندان والوں نے ان پر رحم کیا اور ہجرت کی اجازت دے دی۔ سسرال والوں نے بھی ان کا بیٹا انھیں واپس کر دیا۔ چنانچہ ایک سال کے بعد ان کا گھرانا مدینہ میں پھر سے یکجا ہو گیا۔ ٣ ہجری میں جنگ احد ہوئی۔ ابو سلمہ اس میں زخمی ہو گئے اور کچھ عرصہ بیمار رہنے کے بعد، زخموں کے بگڑ جانے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ ام سلمہ بیوہ ہو گئیں اور ان کے چار بچے باپ کے سایہ شفقت سے محروم ہو گئے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اسلام کی خاطر، ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ کے دوران میں جن سخت آزمایشوں سے گزری تھیں اور پھر جن حالات سے دوچار ہوگئی تھیں، ان سب کا خیال کرتے ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے نکاح کر لیا اور ان کی وہ اولاد جو ابو سلمہ سے تھی، اب انسانیت کے مربی صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرسایہ پرورش پانے لگی۔
 
بحیثیت خاتم النبیین
آخری نبی ہونے کے حوالے سے آپ کی یہ ذمہ داری تھی کہ آپ دین و شریعت کو ہر طرح سے مکمل کر دیں۔ یہ تکمیل آپ کو علم کے اعتبار سے بھی کرنا تھی اور عمل کے اعتبار سے بھی۔ دین کے نام پر جو غلط تصورات عرب معاشرے میں رائج تھے، ان کی اصلاح بھی آپ کے ذمہ تھی اور وہ باطل رسوم و رواج، جو عربوں کے ہاں اخلاقی اقدار بن چکے تھے، ان کا قلع قمع کرنا بھی آپ ہی کا فرض تھا۔ عربوں کے ہاں دین کے نام پر جو غلط رسوم و رواج اور تصورات پائے جاتے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ متبنی (منہ بولے بیٹے) کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھتے تھے۔ کسی چیز کے بارے میں حلال و حرام کا تصور جب ایک دفعہ قائم ہو جائے تو پھر اس کے خلاف سوچنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ اس باطل تصور کو توڑنے کے لیے یہ ضروری تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خود اس نوعیت کا کوئی موقع میسر آئے اور آپ آگے بڑھ کر خود اس رسم کا عملاً قلع قمع کر دیں تاکہ اس باطل تصور کی ہمیشہ کے لیے اصلاح ہو جائے۔
 
اللہ تعالیٰ نے اس رسم کو عملاً توڑنے کا موقع آپ کو آپ کے متبنی حضرت زید رضی اللہ عنہ کی مطلقہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا سے نکاح کی شکل میں مہیا کر دیا، اور آپ کو یہ حکم دیا کہ آپ ان سے نکاح کریں۔ قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ نکاح کرنے میں متردد تھے، لیکن خدا کے پیش نظر یہ تھا کہ وہ اپنے آخری پیغمبر کے ذریعے سے ہدایت کو اس کی آخری شکل میں مکمل کر دے۔ اس واقعے کی پوری تفصیل اور اس کا پس منظر اس طرح ہے:
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم عرب معاشرے میں موجود، جن خرابیوں کی اصلاح کے لیے مصروف عمل تھے، ان میں سے ایک غلامی کا مسئلہ بھی تھا۔ آپ ہر ممکن کوشش کر رہے تھے کہ غلامی کو جڑ سے اکھاڑ دیں اور غلاموں کے بارے میں ان تصورات کی اصلاح کر دیں جو عربوں کے ہاں عرصہ دراز سے پائے جاتے ہیں۔ عربوں کے ہاں آزاد اور غلام میں زمین آسمان کا فرق سمجھا جاتا تھا۔ اگر کوئی غلام آزاد کر بھی دیا جاتا، تب بھی اس کا درجہ معاشرے میں آزاد آدمی کی بہ نسبت بہت کم رہتا تھا۔ معزز گھرانے کی کوئی آزاد خاتون اس کے ساتھ نکاح کرنے کا تصور تک نہ کر سکتی تھی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات واضح کر نے کے لیے کہ اسلام کی پسندیدہ معاشرت میں، انسانی اور معاشرتی سطح پر، آزاد اور غلام کے مابین کوئی فرق نہیں ہے، اپنے خاندان کی ایک آزاد خاتون زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کا نکاح اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ سے کرنا چاہا۔ زینب، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سگی پھوپھی کی بیٹی تھیں۔ ان کی پرورش عرب کے معزز ترین گھرانے میں ہوئی تھی۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید کے لیے، حضرت زینب کے ساتھ نکاح کا پیغام دیا تو ان کے رشتہ داروں نے اسے منظور نہیں کیا اور خود حضرت زینب نے بھی اس رشتے کو اپنے لیے پسند نہیں کیا۔ ان کے اپنے الفاظ جو روایات میں آتے ہیں، وہ یہ ہیں : ''میں نسب کے اعتبار سے زید سے برتر ہوں، میں قریش کی شریف زادی ہوں ''٦،لیکن جب انھیں معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر اصرار ہے کہ یہ نکاح ہو تو انھوں نے اور ان کے خاندان والوں نے فوراً سر تسلیم خم کر دیا۔
 
حضرت زید ایک حساس، خوددار اور منکسرالمزاج آدمی تھے۔وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام دل داریوں کے باوجود بھی اپنے دور غلامی کو نہیں بھولے تھے جبکہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے مزاج میں ایک نوعیت کی تندی و تیزی تھی۔ چنانچہ نکاح کے بعد حضرت زید رضی اللہ عنہ ان کی طبیعت کی شدت کو مسلسل ان معنوں میں لیتے رہے کہ وہ انھیں اپنی برتری کا احساس دلاتی ہیں، اور ان کے ساتھ اپنے اس تعلق کو ناپسند کرتی ہیں اور اس کا اظہار وہ اپنے تند و تیز لہجے سے کرتی ہیں۔ حضرت زید نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس احساس کا ذکر کیا اور حضرت زینب کو طلاق دینے کا ارادہ ظاہر کیا۔ آپ نے انھیں، سختی کے ساتھ، اس ارادے سے روکا اور خدا کا خوف دلایا، کیونکہ مجرد یہ احساس اس بات کی کوئی معقول وجہ نہیں کہ بیوی کو طلاق دے دی جائے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سمجھانے کے باوجود اپنے احساس سے دامن نہ چھڑا سکے اور بالآخر حضرت زینب کو طلاق دے دی۔
 
حضرت زید کا یہ اقدام کئی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پریشانی کا باعث ہوا۔ ایک اس وجہ سے کہ آپ نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے یہ رشتہ کرایا تھا، وہ مقصد اس طلاق سے مجروح ہوا تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ حضرت زینب، جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر رشتے کو قبول کیا تھا، ان کی حیثیت عرفی کو بڑا نقصان پہنچا تھا۔ ان کا غم دہرا ہو گیا۔ پہلے انھوں نے منافقین کے یہ طعنے سنے کہ وہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی ہیں اور اب ان کو یہ سننا پڑتا تھا کہ وہ ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ ہیں۔تیسری یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو اس سارے واقعے کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ چنانچہ آپ اس ساری صورت حال کے بعد یہ خیال کرتے تھے کہ اس مسئلے کا حل اور حضرت زینب کی دل داری اور تالیف قلب کی واحد صورت اب یہی باقی رہ گئی ہے کہ آپ خود ان کو اپنے نکاح میں لے لیں۔ ایک یہ کہ زینب اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے کی بیوی ہونے کے ناتے سے، عربوں کے خود ساختہ تصور کے مطابق، آپ کے لیے جائز نہ تھیں۔ چنانچہ یہ خدشہ تھا کہ منافقین کی سرکوبی سے پہلے،اگر اس تصور کی اصلاح کے لیے قدم اٹھایا گیا تو وہ اس سے بہت فتنہ اٹھائیں گے۔ آپ کے تردد کی دوسری وجہ یہ تھی کہ تعدد ازواج کی حد چار تک متعین کر دی گئی تھی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہلے ہی چارازواج موجود تھیں۔ لہٰذا قانوناً ان سے نکاح کی کوئی صورت بھی موجود نہ تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو حکم ہوا کہ آپ یہ نکاح کریں تاکہ آپ کے عمل سے عربوں کے متبنی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھنے کے تصور کا خاتمہ ہو جائے اور جو دین فطرت آپ لوگوں کو دے رہے ہیں، اس میں کوئی غیر فطری بات شامل نہ ہونے پائے۔
 
ارشاد باری ہے:
فَلَمَّا قَضَى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا .(الاحزاب ٣٣:٣٧)
''پس جب زید نے اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا تو ہم نے اس کو تم سے بیاہ دیا تاکہ تم مومنوں کے لیے، ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق کاٹ لیں، کوئی تنگی باقی نہ رہے۔''
 
حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے ساتھ نکاح کے حکم سے یہ بات، ازخود، نکلتی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاحوں کی حد عام مسلمانوں کی طرح چار ازواج تک نہیں ہے۔ اور ظاہر ہے کہ آپ کی مختلف حیثیتوں کے حوالے سے جو ذمہ داریاں آپ پر ڈالی گئی تھیں ؛ جو عظیم کام آپ کو انجام دینے تھے؛ جس ماحول میں آپ کو اپنا مشن پایہ تکمیل کو پہنچانا تھا اور جس صورت حال سے آپ کو سابقہ پیش آنے والا تھا، وہ سب اس کے متقاضی تھے کہ آپ کے لیے چند دوسرے معاملات ٧ کی طرح، نکاح کے معاملے میں خصوصی قانون نازل ہو تاکہ آپ اپنا مشن زیادہ خوبی سے انجام دے سکیں۔
 
چنانچہ جب نکاح کا وہ قانون جو سب مسلمانوں کے لیے نازل ہوا تھا، زینب بنت جحش کے ساتھ نکاح کے موقعے پر آپ کے لیے ناکافی ثابت ہوا تو اللہ تعالیٰ نے چار نکاحوں کی تحدید سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مستثنیٰ کرتے ہوئے آپ کو زینب بنت جحش سے نکاح کرنے کا حکم دیا اور ساتھ ہی یہ بتا دیا کہ ہم تمھیں اس نکاح کا حکم اس لیے دے رہے ہیں تاکہ تمھارا یہ نکاح کرنا مسلمانوں کے لیے ایسے نکاح کے جوازکی مثال بنے اور ان کے لیے اس طرح کا نکاح کرنے میں کوئی (طبعی یا معاشرتی) رکاوٹ باقی نہ رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس نکاح کی یہ وہ حکمت ہے جو خود پروردگار عالم نے بیان کی ہے۔ اس ایک نکاح کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو براہ راست حکم دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کے لیے نکاح کا خصوصی قانون بھی نازل کر دیا۔ یہ قانون سورہ احزاب کی آیات ٥٠ تا ٥٢ میں بیان ہوا ہے۔ اس میں خود اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے وہ دائرہ متعین کر دیا، جس کے اندر آپ نکاح کر سکتے تھے اور وہ حکمت بھی بیان کر دی، جس کی بنا پر آپ کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا تھا۔ ارشاد باری ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَحْلَلْنَا لَكَ أَزْوَاجَكَ اللَّاتِي آتَيْتَ أُجُورَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ مِمَّا أَفَاء اللَّهُ عَلَيْكَ وَبَنَاتِ عَمِّكَ وَبَنَاتِ عَمَّاتِكَ وَبَنَاتِ خَالِكَ وَبَنَاتِ خَالَاتِكَ اللَّاتِي هَاجَرْنَ مَعَكَ وَامْرَأَةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ إِنْ أَرَادَ النَّبِيُّ أَن يَسْتَنكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُونَ عَلَيْكَ حَرَجٌ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا تُرْجِي مَن تَشَاء مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَن تَشَاء وَمَنِ ابْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ذَلِكَ أَدْنَى أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَا آتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي قُلُوبِكُمْ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًا لَا يَحِلُّ لَكَ النِّسَاء مِن بَعْدُ وَلَا أَن تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ أَزْوَاجٍ وَلَوْ أَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ إِلَّا مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ وَكَانَ اللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ رَّقِيبًا .(الاحزاب٣٣:٥٠-٥٢)
''اے نبی، ہم نے تمھاری ان بیویوں کو تمھارے لیے جائز کیا جن کے مہر تم دے چکے ہو اور تمھاری ان مملوکات کو بھی تمھارے لیے حلال کیا جو اللہ نے بطورِ غنیمت عطا فرمائیں اور تمھارے چچا کی بیٹیوں اور تمھاری پھوپھیوں کی بیٹیوں اور تمھارے مامووں کی بیٹیوں اور تمھاری خالاؤں کی بیٹیوں میں سے بھی ان کو حلال ٹھہرایا جنھوں نے تمھارے ساتھ ہجرت کی اور اس مومنہ کو بھی جو اپنے تئیں نبی کو ہبہ کر دے، بشرطیکہ پیغمبر اس کو اپنے نکاح میں لانا چاہیں۔ یہ خاص تمھارے لیے ہے، مسلمانوں سے الگ۔ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے جو کچھ ہم نے ان پر، ان کی بیویوں پر اور لونڈیوں کے باب میں، فرض کیا ہے، (یہ اجازت تمھیں اس لیے دی گئی ہے )تاکہ تم پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ غفور و رحیم ہے۔ تم ان میں سے جن کو چاہو، دور رکھو اور اگر تم ان میں سے کسی کے طالب بنو جن کو تم نے دور کیا ہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ یہ اس بات کے زیادہ قرین ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں، اور وہ غمگین نہ ہوں، اور اس پر قناعت کریں جو تم ان سب کو دو اور اللہ جانتا ہے جو تمھارے دلوں میں ہے اور اللہ تعالیٰ علم رکھنے والا، بردبار ہے۔ ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کی جگہ دوسری بیویاں کر لو، اگرچہ ان کا حسن تمھارے لیے دل پسند ہو، بجز ان کے جو تمھاری ملکیت ہوں اور اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔''
 
ان تین آیات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نکاح کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، اس کے نمایاں پہلو یہ ہیں :
١۔ آپ کی وہ ازواج جن کے مہر آپ ادا کر چکے ہیں، وہ بلااستثنا آپ کے لیے جائز ہیں۔
 
٢۔ وہ ملک یمین،٨ جو بطور 'فے'٩ آپ کو حاصل ہوں، اگر ان میں سے کسی سے آپ نکاح کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔
 
٣۔ آپ کے قریبی رشتے کی خواتین، جنھوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی، ان سے نکاح کرنا بھی آپ کے لیے جائز ہے۔
 
٤۔ اگر کوئی مومنہ، اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے اور آپ اس کو نکاح میں لینا چاہیں تو آپ کو اس کی اجازت ہے۔
 
٥۔ نکاح کا یہ قانون صرف آپ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس کی حکمت یہ ہے کہ آپ (اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے) کسی تنگی میں مبتلا نہ ہوں۔
 
٦۔ حقوق زوجیت کے معاملے میں آپ کو عام مسلمانوں کی بہ نسبت یہ رعایت ہے کہ آپ پر بیویوں کے درمیان عدل واجب نہیں۔
 
٧۔ اگر آپ کسی بیوی کو اپنے سے الگ رکھنے (یعنی ازدواجی تعلق سے معزول کرنے) کے بعد دوبارہ اسے اپنے پاس رکھنا چاہیں توآپ ایسا کر سکتے ہیں۔ اس معاملے میں آپ پر کوئی پابندی نہیں۔
 
٨۔ آپ ان آیات میں بیان کردہ دائرے سے باہر کوئی نکاح نہیں کر سکتے، البتہ ملک یمین آپ کے لیے جائز ہے۔
 
٩۔ آپ کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ آپ ان ازواج کو دوسری ازواج سے بدل لیں، خواہ وہ آپ کے لیے کتنی ہی دل پسند ہوں۔
 
ان آیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دائرہ نکاح کی یہ تحدید جس طرح سے کی گئی ہے، وہ اس بات کی طرف واضح اشارہ کر رہی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے میں نکاح کے عمومی مقاصد ہرگز پیش نظر نہیں، بلکہ کچھ دوسری مصلحتیں ہیں، جن کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تعدد ازواج کا یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا ہے۔ ان آیات سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عام مسلمانوں کی طرح یہ جائز نہیں کہ آپ محرمات کے علاوہ، جس خاتون سے چاہیں نکاح کرلیں۔ آپ کے لیے حلت نکاح کا عام دائرہ دو شرائط لگا کر انتہائی محدود کر دیا گیا۔ پہلی شرط یہ کہ وہ خاتون آپ کی قریبی رشتہ دار ہو اور دوسری یہ کہ اس نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہو، لیکن یہ دائرہ، چونکہ ان سب حکمتوں کو سمیٹنے کے لیے کافی نہ تھا جو رسول اللہ کے ان نکاحوں میں پیش نظر تھیں تو آپ کے لیے مال فے سے حاصل ہونے والی لونڈیوں کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرنا بھی جائز قرار دیا گیا۔ لہٰذا آپ کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ اگر آپ کسی دینی یا سیاسی مصلحت کے پیش نظر مال فے میں سے حاصل ہونے والی لونڈی کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرنا چاہیں تو کر لیں۔ اور اس عورت سے نکاح کرنا بھی آپ کے لیے جائز قرار دیا گیاجو اپنے تئیں آپ کو ہبہ کر دے۔ ان آیات میں آپ کو، عام مسلمانوں سے ہٹ کر، حقوق زوجیت کے معاملے میں بہت سہولت دی گئی ہے۔
 
پھر مزید یہ کہ 'لا يحل لك النساء من بعد ولا ان تبدل بهن من ازواج ولو اعجبك حسنهن'١٠ کے الفاظ بھی اپنے سیاق و سباق میں اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ آپ کے نکاحوں سے نکاح کے عام مقاصد پیش نظر نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح کر دی کہ اس بیان کردہ دائرے سے باہر جتنی عورتیں بھی ہیں، وہ آپ کے لیے سرے سے حلال ہی نہیں اور نہ ان بیویوں کو کچھ دوسری عورتوں سے بدلنا آپ کے لیے جائز ہے، خواہ وہ عورتیں آپ کو بہت دل پسند ہوں۔ یہ اس لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس قانون میں جس حکمت کو اصلاً ملحوظ رکھا ہے، وہ نہ اس دائرے سے باہر کسی عورت میں پائی جاتی ہے اور نہ ان بیویوں کو دوسری بیویوں سے بدلنے کے بعد باقی رہتی ہے۔ صاف معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے پیش نظر یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رسولوں کے لیے بہت سی عورتیں اکٹھی کر دے اور نہ اس نے نکاح کے عمومی مقاصد ہی کی خاطر یہ قانون نازل فرمایا ہے۔
 
اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح کر دی کہ رسول کا معاملہ یہ نہیں ہوتا کہ وہ نسوانی حسن سے رغبت کے بجائے نفرت رکھتا ہے۔ وہ نخل فطرت کا بہترین ثمر ہوتا ہے۔ خدا اس کو مرد بناتا ہے تو عورت کی طرف طبعی رغبت بھی اس کی فطرت میں رکھتا ہے۔ البتہ، نبی، چونکہ روحانی اور اخلاقی بلندیوں پر فائز ہوتا ہے، لہٰذا یہ بات اس کی شان سے بہت فروتر ہے کہ کسی عورت کا فطری اور طبعی طور پر دل پسند ہونا، اس کی زندگی میں ایسی اہمیت اختیار کر جائے، جس کی بنا پر وہ اپنی ذمہ داریوں ہی سے غافل ہوجائے۔ یہ سب کچھ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس ذات علیم و حکیم کی نگاہ میں آپ کے نکاح کے مقاصد اس کے عمومی مقاصد سے بہت مختلف تھے۔
 
جہاں تک اس قانون کی حکمت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے 'لکيلا يکون عليك حرج' کے الفاظ سے یہ بتا دیا ہے کہ اس قانون سے اس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کی تنگی کو دور کرنا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے راستے میں وہ کون سی تنگی محسوس کر رہے تھے، جسے دور کرنے کے لیے نکاح ہی کے قانون کو وسعت دینا ضروری تھا؟ اس سوال کا جواب بھی اسی آیت میں موجود ہے۔ اس میں ضمیر خطاب کا مصداق 'النبی' کا وہ لفظ ہے، جس سے ان آیات کی ابتدا ہوئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رسول بھی تھے اور نبی بھی۔ ان آیات میں چونکہ آپ کو ان دونوں حیثیتوں سے مخاطب بنانا مقصود تھا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو 'النبی' کا لفظ جو آپ کی بنیادی حیثیت کو واضح کرتا تھا، اس سے خطاب فرمایا اور یہ بتایا کہ اے نبی، یہ قانون ہم نے اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تمھیں اپنی (نبوت و رسالت کی) ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ یہ تھی وہ حکمت جس کے پیش نظر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ خصوصی قانون نازل کیا گیا۔
 
اب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازدواجی زندگی کے مطالعے کی طرف لوٹ آتے ہیں۔ اس قانون کے نازل ہونے کے بعد آپ نے جتنے نکاح بھی کیے، چونکہ وہ زیادہ تر رسالت کی ذمہ داریاں ادا کرنے میں معاونت کا پہلو رکھتے تھے، لہٰذا ہم نے انھیں ان نکاحوں میں شمار کیا ہے جو آپ نے بحیثیت رسول اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے دعوتی یا سیاسی مصالح کے تحت کیے ہیں۔
 
بحیثیت رسول
رسول کی حیثیت سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ مقدر کر دیا گیا تھا کہ آپ کو جزیرہ نماے عرب میں سیاسی غلبہ حاصل ہو۔ اس غلبے کے حصول کے لیے شرک کے علم برداروں سے جنگ ناگزیر تھی، لیکن جنگ رسول کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا کر دیتی ہے۔ وہ یہ کہ اس سے پیدا ہونے والی نفسیات انسان کے لیے قبول اصلاح کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ناگزیر جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی انتقامی نفسیات کو محبت، خیر اور بھلائی کے جذبوں میں بدل دینے کی ہر ممکن کوشش کی اور اس سلسلے میں آپ نے عربوں کی معاشرت کو ملحوظ رکھتے ہوئے، ہر وہ اقدام کیا جس سے آپ کو ذرا بھی اصلاح کی توقع ہوئی۔
 
آپ کی انھی کوششوں میں یہ تدبیر بھی شامل تھی کہ آپ مختلف قبائل میں نکاح کے ساتھ ان کے ساتھ رشتہ داری پیدا کرلیں۔ یہ تدبیر، دراصل، آپ نے عرب کی مخصوص معاشرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اختیار کی۔ آپ جس ملک میں غلبہ دین کی یہ جدوجہد کر رہے تھے، وہاں قبائلی طرز کی معاشرت، اپنی خاص روایات کے ساتھ موجود تھی۔ ان روایات میں جہاں بہت کچھ غلط تھا، وہاں بعض ایسے پہلو بھی تھے، جو اپنے اندر بہت خیر رکھتے تھے۔ انھی میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ عرب رشتہ مصاہرت کا بہت احترام کرتے تھے۔ ان کے ہاں دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے مابین قربت و محبت کا ایک بڑا ذریعہ ہوتا تھا۔ داماد سے جنگ کرنا اور محاذ آرائی کرنا ان کے ہاں بہت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ ان حالات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ تدبیر ممکن تھی کہ آپ مختلف خاندانوں میں نکاح کرکے عداوتوں کو ختم کر دیں اور ان سے پختہ تعلقات قائم کرلیں۔ ظاہر ہے کہ اس غرض کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نکاح کیے، وہ محض سیاسی اور ملی مصالح کے تحت کیے تھے۔ ان سے نکاح کے عام مقاصد آپ کے پیش نظر ہی نہ تھے۔
 
آپ کی ازدواجی زندگی کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ سیاسی اور ملی مصالح کے پیش نظر آپ نے چار خواتین حضرت جویریہ، حضرت ام حبیبہ، حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہن سے نکاح کیا۔ ان خواتین کے ساتھ آپ کے نکاح کرنے کی تفصیل اس طرح سے ہے:
 
ان میں سے پہلی خاتون حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا ہیں، جو ٥ ہجری میں امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔ یہ قبیلہ بنو مصطلق کے سردار کی بیٹی تھیں۔ اس قبیلے کا پیشہ راہ زنی تھا۔ انھوں نے وہ حق قبول کرنے سے انکار کر دیا، جو خدا کا رسول لایا تھا۔ ٥ ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ملی کہ قبیلہ بنو مصطلق کے لوگ مسلمانوں سے جنگ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ آپ ان سے مقابلے کے لیے صحابہ کو لے کر نکلے۔ جنگ ہوئی، اللہ اور اس کا رسول غالب رہے۔ بنو مصطلق کی ایک کثیر تعداد گرفتار ہوئی۔ ان اسیران جنگ میں جویریہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ یہ جس صحابی کے حصے میں آئیں، ان سے انھوں نے مکاتبت١١ کر لی، لیکن آزادی کے لیے جورقم چاہیے تھی، وہ میسر نہ تھی۔ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور اس رقم کے لیے آپ کے در سخاوت پر دستک دی۔ میدان جنگ میں غالب رہنے والا میدان سخاوت میں غالب تر تھا۔ آپ نے نہ صرف زرمکاتبت ادا کر دیا، بلکہ انھیں اپنی طرف سے پیغام نکاح بھی دیا۔ جو یریہ رضی اللہ عنہا نے اسے قبول کر لیا اور آزاد ہونے کے بعد آپ کی زوجیت میں آگئیں۔
 
پیغمبر کی نگاہ بہت دور رس ہوتی ہے۔ جویریہ حریم رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں داخل ہوئیں۔ مسلمانوں نے بنو مصطلق کے سب قیدی آزاد کر دیے اور یہ کہا کہ یہ اب رسول اللہ کے سسرالی رشتہ دارہیں۔انھیں کوئی قیدی بنائے تو کیسے، یہ لوگ تو قابل احترام ہیں۔ اور پھر چشم فلک نے یہ نظارہ بھی دیکھا کہ قبیلہ بنو مصطلق کے سبھی لوگ مسلمان ہو گئے۔ رسول اللہ کی تلوار نے جس سرکش مدمقابل کو مغلوب کر دیا تھا، آپ کے اخلاق نے اسے آپ کا ہم رکاب بنا دیا۔
 
٦ ہجری میں ام حبیبہ رضی اللہ عنہا آپ کی زوجیت میں آئیں۔ یہ رشتے میں آپ کے چچا کی پوتی تھیں اور اسلام لانے والے ابتدائی لوگوں میں سے تھیں۔ جب مسلمانوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت یہ بھی اپنے شوہر کے ہمراہ حبشہ ہجرت کر گئیں۔ وہاں ان کے شوہر نے عیسائیت اختیار کر لی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حبشہ میں پڑی ہوئی اس بے سہارا خاتون کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ حبشہ کے حکمران نجاشی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح ام حبیبہ سے کر دیا۔ ان کا والد ابو سفیان ایک عرصے سے مسلمانوں کے ساتھ برسرپیکار تھا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں اپنی زوجیت میں لے آئے تو عرب معاشرے کی اس اخلاقی خوبی نے اپنا کام دکھایا اور ابو سفیان کی دشمنی کا زور ٹوٹ گیا۔ اب وہ اپنے داماد کے مقابل میں آنے سے گریز کرنے لگا۔ کچھ ہی عرصہ بعد مسلمانوں کا یہ سب سے بڑا مدمقابل حلقہ بگوش اسلام ہو گیا۔ جہاں دلیل اور استدلال کارگر نہیں ہوا، وہاں نبی کی وہ سیاسی تدبیر جو ا س نے اخلاقی برتری کے ساتھ اختیار کی، کامیاب رہی۔
 
٧ ہجری میں حضرت صفیہ اور حضرت میمونہ رضی اللہ عنہما امہات المومنین میں شامل ہوئیں۔
 
مسلمانوں کے ساتھ کفار کی جتنی جنگیں بھی ہوئیں، ان سب میں یہود خفیہ یا علانیہ شامل ہوتے رہے۔ حالانکہ قرآن مجید کے مطابق، یہود محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پہچانتے تھے جیسے وہ اپنے بیٹوں کو پہچانتے تھے۔ مگر کدورت اور حسد جب حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر استدلال بے کار ہو جاتا ہے۔
 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے
٧ ہجری میں یہود کی شرارتوں کا قلع قمع کرنے کی غرض سے خیبر کا رخ کیا۔ خدا کا رسول، جس کے لیے غلبہ مقدر تھا، اس نے خیبر فتح کر لیا۔ یہودی مغلوب ہو گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ تلوار جسم کو مغلوب کرتی ہے، دل کو نہیں۔
 
حضرت صفیہ خیبر کے اسیران جنگ میں شامل تھیں اور یہود کے ایک بڑے سردار کی بیٹی تھیں۔ جب قیدی تقسیم کیے گئے تو یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حصے میں آئیں۔ آپ نے اس بات کو خلاف احسان و مروت سمجھا کہ سردار کی بیٹی کو لونڈی بنا کر رکھا جائے۔ چنانچہ آپ نے انھیں آزاد کر دیا اور ان کی مرضی سے ان کے ساتھ نکاح کر لیا۔ آپ چاہتے تو انھیں زندگی بھر لونڈی کی حیثیت سے رکھ سکتے تھے، لیکن آپ نے نہ صرف یہ کہ ایسا نہیں کیا، بلکہ انھیں نہایت عزت کا مقام دیا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ صفیہ رضی اللہ عنہا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آ گئیں تو اس کے بعد یہود مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہوئے۔
 
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا وہ خاتون ہیں، جنھوں نے اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا۔ ان کی پہلی شادی حویطب بن عبدالعزیٰ سے ہوئی تھی۔انھوں نے انھیں طلاق دے دی۔ پھر ان کی شادی ابورہم بن عبدالعزیٰ سے ہوئی۔ کچھ عرصہ بعد ان کا انتقال ہو گیا اور یہ بیوہ ہو گئیں۔ ان کی ایک بہن ام الفضل لبابۃ الکبریٰ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں تھیں۔ حضرت میمونہ اپنی بہن ام الفضل کے پاس آ گئیں اور اپنے آیندہ نکاح کے بارے میں حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اختیار دے دیا کہ جہاں مناسب سمجھیں، ان کا نکاح کر دیں۔ ٧ ہجری میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم عمرہ کے لیے مکہ تشریف لائے تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے تئیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیں۔ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی سفارش کی۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اپنی زوجیت میں قبول کر لیا۔
 
اس نکاح میں فریضہ رسالت کے حوالے سے کیا حکمت مضمر تھی، اسے جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ٧ ہجری کے اس دور کو ذہن میں لایا جائے، جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نکاح کی پیش کش کو قبول فرمایا تھا۔ یہ وہ دور تھا، جب قریش مکہ کا زور اصلاً ٹوٹ چکا تھا، لوگوں کے اسلام لانے میں اب ایک ہی رکاوٹ باقی رہ گئی تھی اور یہ رکاوٹ وہ بدگمانیاں تھیں، جو قریش کے سرداروں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے بارے میں ایک عرصے سے لوگوں میں پھیلا رکھی تھیں۔اب یہ صاف نظر آ رہا تھا کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کو باہم اختلاط اور میل جول کا کچھ بھی موقع مل گیا تو ان کی وہ بدگمانیاں ختم ہو جائیں گی۔ قریش ہر اعتبار سے اس بات کے خواہاں تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں کے مابین کوئی ربط و ضبط پیدا نہ ہو۔ انھوں نے صلح حدیبیہ کی شرائط میں خاص طور پر یہ لکھوایا تھا کہ مکہ کا کوئی رہنے والا اگر بھاگ کر مدینہ چلا گیا تو مسلمان اسے لازماً واپس کر دیں گے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم بہرحال یہ چاہتے تھے کہ اہل مکہ اور مسلمانوں میں ربط و ضبط کی صورت پیدا ہو۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے خاندان والے مکہ کے با اثر لوگوں میں سے تھے۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ آپ کے بھانجے تھے۔ اہل نجد کا سردار زیاد بن مالک الہلالی آپ کا بہنوئی تھا۔ یہ وہ صورت حال تھی جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب آپ ازواج مطہرات میں داخل ہوئیں تو کچھ ہی عرصہ بعد خالد بن ولید بھی اسلام لے آئے اور اہل نجد جنھوں نے ایک زمانے میں اتنا سنگین جرم کیا تھا کہ ستر مسلمان مبلغین کو اپنے علاقے میں دعوت دین کے لیے بلا کر دھوکے سے قتل کر دیا تھا، ان کے لیے اب اپنی دشمنی اور مخالفت پر قائم رہنا مشکل ہو گیا۔ وہ اب رسول اللہ کے قرابت دار تھے۔ پھر زیادہ دیر نہ گزری کہ انھوں نے اپنی وفاداریاں اسلام اور اہل اسلام کے لیے خاص کر دیں۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا آپ کے نکاح میں آنے والی آخری خاتون تھیں۔
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے علاوہ، ایک لونڈی حضرت ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا ثبوت بھی ملتا ہے۔
 
٧ ہجری میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سلاطین عرب و عجم کو اسلام کی دعوت دی۔ مقوقش شاہ مصر نے آپ کے نامہ مبارک کے جواب میں غور و فکر کا وعدہ کیا اور آپ کی خدمت میں کچھ تحائف بھیجے۔ حضرت ماریہ قبطیہ انھی تحائف میں شامل تھیں۔ روایات میں یہ بات بھی مذکور ہے کہ حضرت ماریہ قبطیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے میں بھیجنے کے لیے مقوقس شاہ مصر کا خاص انتخاب تھیں۔ مصر سے مدینہ آتے ہوئے راستے ہی میں جب انھوں نے اسلام کی تعلیمات سنیں تو مسلمان ہو گئیں۔
 
تاریخ و سیرت کی کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے آخری دن تک آپ کے پاس لونڈی کے طور پر رہیں۔ آپ نے انھیں آزاد نہیں کیا۔
 
ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ کئی سوالات پیدا کرتا ہے۔ مثلاً یہ کہ آپ نے انھیں آزاد کیوں نہیں کیا، حالانکہ آپ نے لوگوں کو 'فک رقبۃ' (لونڈی غلاموں کو آزاد کرو)کی تعلیم دی ہے؟ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس رویے سے غلامی کے ادارے کی ایک گونہ حمایت ثابت نہیں ہوتی؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسی انصاف پسند، مہربان، نرم دل اور فیاض شخصیت نے یہ کیسے گوارا کر لیا کہ ایک عورت آپ کے پاس لونڈی کے طور پر رہے؟ نو بیویوں کی موجودگی میں اس ایک لونڈی کو رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر اپنے پاس رکھنا ایسا ضروری تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم انھیں آزاد کرکے اپنے نکاح میں بھی تو لا سکتے تھے، آپ نے ایسا کیوں نہیں کیا؟
 
ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہنے اور ایک لونڈی کی حیثیت سے رہنے کے بارے میں آج جتنے اشکالات بھی پیدا ہوتے ہیں، وہ آج کے اس دور کی پیداوار ہیں، اب جبکہ غلامی کو ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے اور انسان اس کے خلاف ایک ردعمل کی نفسیات میں ہے۔ ردعمل کی نفسیات زاویہ نگاہ کو حقیقت پسندانہ نہیں رہنے دیتی۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آج کے انسان کے لیے علمی سطح پر بھی اس دور کی حقیقی صورت حال کا اندازہ کرنا اور اس دور کے مسائل کو سمجھنا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اب یہ بات اس کے حلق سے نیچے اترتی ہی نہیں کہ خدا کے نبی کے گھر میں کسی لونڈی کا ایک لمحے کے لیے موجود ہونا بھی درست ہو سکتا ہے اور اس میں بھی کوئی حکمت ہو سکتی ہے، لیکن اگر ٹھنڈے دل سے غور کیا جائے، اس دور کی حقیقی صورت حال، اس دور کے مسائل اور وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری، ان سب کا صحیح اندازہ لگایا جائے اور انھیں سمجھا جائے تو آدمی بخوبی یہ جان لیتا ہے کہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں لونڈی کی حیثیت سے موجود رہنے میں کتنی بڑی حکمت پنہاں تھی اور یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ نبی کا کوئی فیصلہ بھی حکمت سے خالی اور اس کی شان سے فروتر نہیں ہوتا۔
 
اس بات کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم یہ دیکھیں کہ عربوں کے ہاں غلامی کی صورت حال کیا تھی اور اسلام نے اس کے خاتمے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی ہے۔
 
غلامی کا تصور عرب معاشرے کی رگ رگ میں بسا ہوا تھا۔ گھر گھر میں غلام موجود تھے۔ غلاموں کی آزادانہ تجارت ہوتی تھی۔ جس طرح اونٹ اور بھیڑ بکریاں رکھنا اس معاشرے میں پایا جاتا تھا، اسی طرح وہاں غلام بھی رکھے جاتے تھے۔ غلام رکھنا کسی درجے میں بھی کوئی برائی نہ سمجھی جاتی تھی۔ پورا معاشی اور معاشرتی نظام غلاموں کے سر پر چل رہا تھا۔ یہ صورت حال صرف عرب ہی کی نہ تھی، بلکہ پوری دنیا کی فضا یہی تھی۔
 
اسلام نے غلامی کے اس ادارے کو ختم کرنے کے لیے ترغیب اور تدریج١٢ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غلامی کی اصل جڑ غلاموں میں نہیں، بلکہ معاشرے کے ہر اس فرد میں تھی، جسے انسان کا آقا بننا بھاتا تھا۔ اور وہاں پوری کی پوری سوسائٹی اسی طرح کی تھی۔ جب ساری سوسائٹی بگڑ جائے تو پھر قوت اور جبر سے اصلاح ناممکن ہوتی ہے۔
 
چنانچہ اسلام نے غلامی کی جڑ پر اس طرح ضرب لگائی کہ اس نے غلاموں کو اخلاقی اعتبار سے آزادآدمی کے بالکل برابر کھڑا کر دیا اور بہت شدت سے ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی ترغیب دی اور پھر یہ کہا کہ جو خود کھاؤ، وہی انھیں کھلاؤ، جو خود پہنو، وہی انھیں پہناؤ۔ معاشرے میں ان کے رتبے کو ہر ممکن طریق سے بلند کیا۔ اس صورت حال میں جبکہ صرف ترغیب اور تدریج ہی سے غلامی کو ختم کیا جا سکتا تھا، اسلام کے سامنے دو ہدف تھے۔ ایک یہ کہ غلامی کی اصل جڑ اکھاڑ دی جائے اور دوسرے یہ کہ جب تک غلام معاشرے میں موجود رہیں، انھیں ہر ممکن طریق سے بہتر سے بہتر حالات مہیا کیے جائیں۔
 
ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کا معاملہ یہ تھا کہ یہ ان خواتین کے دائرے میں آتی ہی نہیں تھیں، جن سے نکاح کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جائز تھا۔ آپ صرف اس لونڈی کو آزاد کرکے نکاح کر سکتے تھے جو مال فے میں سے ہو اور وہ آپ کے حصے میں آئی ہو، ماریہ قبطیہ کا معاملہ یہ نہ تھا۔ یہ ایک حکمران کی طرف سے آپ کو تحفے کے طور پر ملی تھیں۔ اور سورہ احزاب میں بیان کردہ قانون کے تحت یہ آپ کے لیے صرف لونڈی ہی کی حیثیت میں جائز تھیں۔١٣
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کو لونڈی ہی کی حیثیت سے اپنے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا۔
 
نبی اپنے معاشرے میں موجود مسائل کے بارے میں بہت بیدار مغز ہوتا ہے۔ وہ خدا کی طرف سے صرف ایک پیغام بر بن کر ہی نہیں آتا کہ اس کے ذمہ دعوت کے علاوہ کوئی اور کام ہی نہ ہو، وہ اپنے ماننے والوں کے لیے معلم اور مربی بھی ہوتا ہے۔ وہ ان کا تزکیہ بھی کرتا ہے اور ان کی تربیت بھی۔ اس کا کردار اپنے پیروکاروں کے لیے اسوہ ہوتا ہے۔
 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب توحید کی دعوت دی 'فك رقبة' کی ترغیب دی، غلاموں کی آزادی کو بعض گناہوں کا کفارہ قرار دیا، ان کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا۔ انھیں مخاطب کرنے کے لیے معاشرے کو باوقار اسلوب سکھایا اور پھر یہاں تک کیا کہ انھیں حق مکاتبت دے دیا تو بے شک اس کے نتیجے میں بتدریج غلامی کی اصل بنیادیں ڈھیتی چلی گئیں، لیکن ظاہر ہے کہ تدریج کے اس دور میں لونڈی اور غلام معاشرے میں بہرحال موجود رہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے حسن سلوک اور برابری کا برتاؤ کرنے کی مسلسل ترغیب دیا کرتے تھے۔ اس معاملے میں آپ کا رویہ ایک ناصح اور مصلح کا تھا۔ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے وجود نے آپ کو یہ موقع فراہم کر دیا کہ آپ غلامی کے اس عبوری دور میں غلاموں کے ساتھ جس حسن سلوک کا مطالبہ دوسروں سے کرتے ہیں، خود اس کا نمونہ بن کر دکھائیں۔ حسن سلوک کا یہ مطالبہ محض ایک مطالبہ نہ تھا، بلکہ انسانوں کے ذہن سے اس نفسیات کو کھرچ کھرچ کر نکالنے کا عمل تھا، جس کی بنا پر کوئی انسان، اپنے ہی جیسے ایک انسان کو غلام بنانے پر تیار ہو جاتا ہے۔ ماریہ قبطیہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک لونڈی کی حیثیت سے رہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس تعلق نے ایک لونڈی کی تحریم کو اسی مقام پر فائز کر دیا جس پر امہات المومنین فائز تھیں۔ ا ب امت کے لیے اس لونڈی کی تکریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم ہے۔
 
حضرت ماریہ قبطیہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حسن سلوک وہ اسوہ حسنہ قرر پایا جس نے لونڈیوں اور غلاموں کے لیے سبھی اعلیٰ اخلاقی رویوں کا استحقاق عملاً ثابت کر دیا۔ خدا کے رسول نے اپنی تعلیم، اخلاق اور عمل سے ابن آدم کو مجبور کر دیا کہ اگر گردش زمانہ نے اس کے پاس اس کے اپنے ہی باپ کی اولاد کو غلام بنا کرلا کھڑاکیا ہے تو بہرحال، یہ اس پر لازم ہے کہ جو خود پہنے وہی اسے پہنائے، جو خود کھائے وہی اسے کھلائے اور جیسا رویہ وہ اپنے مالک حقیقی سے خود اپنے لیے چاہتا ہے، ویسا ہی رویہ وہ اس غلام کے ساتھ اختیار کرے جو آج اس کے ماتحت ہے۔
 
خلاصہ کلام
اس ساری تفصیل سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے نکاح بھی کیے، وہ مختلف حیثیتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے کیے۔
 
آپ نے پچیس (٢٥) سال سے تریپن (٥٣) سال کی عمر تک کا زمانہ ایک ہی زوجہ محترمہ کی رفاقت میں گزارا پھر چون (٥٤) سال کی عمر میں جو کہولت کی انتہا اور بڑھاپے کی ابتدا ہوتی ہے، محض معاشرتی، ملی اور دینی مصالح کے پیش نظر آپ کے ہاں تعدد ازواج کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور پانچ ہی سال میں آپ نے اوپر تلے نو نکاح کیے۔
 
کوئی شخص بھی اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تعدد ازواج کے حوالے سے قرآن مجید اور حدیث و سیرت کا بغور مطالعہ کرے گا تو وہ ان سب حکمتوں کو آسانی سے جان لے گا جنھیں ہم نے اس مضمون میں بیان کیا ہے۔ ہر شخص خود یہ اندازہ کر سکتا ہے کہ''خلق عظیم'' پر فائز اس رسول کی زندگی کیسی شریفانہ اور پاکیزہ گزری ہے۔ اور اس حقیقت سے انکار کیا بھی کیسے جا سکتا ہے، یہ وہی نبی ہیں، جن سے کہا گیا تھا کہ اپنی دعوت میں کچھ مصالحانہ رویہ اختیار کر لیں، ہم آپ کو عرب کی سب سے حسین خاتون جو آپ کو پسند ہو، اس سے بیاہ دیتے ہیں۔ آپ کے قدموں میں دولت کا اتنا ڈھیر لگا دیتے ہیں کہ آپ مکہ کے سب سے امیر آدمی بن جائیں، آپ کو اپنا بادشاہ مان لیتے ہیں، حالانکہ ہم کسی کو بادشاہ ماننے والے نہیں ہیں، لیکن خدا ے بے نیاز کے اس نیاز مند کی دنیا سے بے نیازی کا یہ حال تھا کہ زندگی بھر اپنی زبان ہی سے نہیں اپنے عمل سے بھی کہتے رہے کہ میرا مسئلہ دنیا کے بادشاہوں کی طرح دولت، حسن اور اقتدار نہیں۔ میں تو اپنے خدا کی طرف رواں دواں ایک مسافر ہوں، اس دنیا میں میری ذمہ داری بس یہی ہے کہ میں تمھارے رب کی طرف جانے والی راہ سے تمھیں آگاہ کر دوں اور میرے پروردگار نے میرے ذمے جو کام لگائے ہیں، انھیں انجام دے دوں۔
 
جن لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تعدد ازواج پر اعتراض کیا ہے، ان کا معاملہ یہ رہا ہے کہ انھیں حقیقی صورت حال جاننے سے کبھی دل چسپی نہیں رہی، بلکہ اس سے انھوں نے ہمیشہ اپنی آنکھ اور اپنے دماغ کو بند ہی رکھا ہے اور ظاہر ہے کہ حق پر طعن و تشنیع اسی صورت میں ممکن ہوتی ہے کہ آدمی دیکھنے کے موقعے پر آنکھ اور سمجھنے کے موقعے پر دماغ بند کرلے۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
١ المجادلہ ٥٨:٢١۔''میں اور میرے رسول، لازماً غالب رہیں گے۔''
٢ بخاری، تزویج عائشہ۔
٣ ترمذی، ابواب المناقب۔
٤ الاحزاب ٣٣:٣٤۔' 'اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیات اور حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، اس کا چرچا کرو۔''
٥ سورہ نساء کی آیت ٣ میں تعدد ازواج کی اجازت گو یتیموں کی کفالت کے مسئلے کو حل کرنے کے حوالے سے دی گئی ہے، لیکن یہ اجازت صرف اس مسئلے کے ساتھ مشروط نہیں ہے، کوئی بھی معاشرتی یا اخلاقی مسئلہ ہوجس کا حل تعدد ازواج کی صورت میں ممکن ہو تو اسلام میں یہ حل اختیار کرنے کی اجازت ہے۔
٦ طبقات ابن سعد ٨/١٠١۔ ابن کثیر، تفسیر سورہ احزاب ٤٨٩۔
٧ مثلاً تہجد کی نماز آپ پر فرض تھی، صدقہ آپ اور آپ کے خاندان کے لیے حرام تھا، آپ کی میراث، آپ کے ورثا میں تقسیم نہ ہو سکتی تھی، آپ کی بیویاں چونکہ امت کی مائیں ہیں، لہٰذا آپ کی وفات کے بعد ان سے نکاح حرام تھا۔ یہ سب باتیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص تھیں۔
٨ لونڈی۔
٩ مال غنیمت میں حاصل ہونے والی عورتیں۔
١٠ الاحزاب٣٣:٥٢۔''ان کے علاوہ جو عورتیں ہیں وہ تمھارے لیے جائز نہیں اور نہ یہ جائز ہے کہ تم ان کی جگہ دوسری بیویاں بدل لو، اگرچہ ان کا حسن تمھارے لیے دل پسند ہو۔''
١١ مکاتبت سے مراد یہ ہے کہ کوئی غلام یا لونڈی اپنے آقا سے خود ہی اپنی قیمت ادا کرکے آزادی حاصل کرلینے کا معاہدہ کر لے۔
١٢ اسلام نے غلاموں کو یک قلم آزاد کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آج جبکہ دنیا سے دور غلامی ختم ہوئے ایک عرصہ گزر چکا ہے، انسان یہ اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اس دور میں کیا کیا مسائل در پیش تھے۔ اب اس دور اور اس ماحول میں بیٹھ کر بعض لوگ ہمیں یہ بات کہتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ زیادہ اچھا ہوتا اگر اسلام پہلے ہی دن غلاموں کو یک قلم آزاد کرنے کا حکم دے دیتا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر اس طرح کا حکم دیا جاتا تو ہم پورے فخر سے یہ کہہ سکتے کہ اسلام نے غلامی کو ایک دن بھی گوارا نہیں کیا۔ اب ہمیں کم از کم یہ ضرور ماننا پڑتا ہے کہ اسلام نے غلامی کو گوارا کیا ہے، بلکہ کوئی کہنے والا یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ اسلام غلامی کو ساتھ ساتھ لے کر چلا ہے۔
 
یہ خیال اور یہ تصور جو بعض لوگوں نے قائم کر رکھا ہے، بس حقائق سے ناواقفیت ہی کی بنا پر قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسلام اگر اس دور میں جبکہ غلامی انسان کی نفسیات کا ایک اہم جزتھی، کوئی معاشرہ غلامی کے ادارے کے بغیر قائم ہی نہ رہ سکتا تھاجبکہ ساری معیشت غلاموں کے سر پر چلتی تھی اور غلاموں کے بغیر کسی معاشرتی'set up'کا کوئی تصور ہی نہ تھا، ایسی صورت میں اسلام اگر غلاموں کو یک قلم آزادی کا حکم دے دیتاتو نہ صرف انسان کا معاشی اور معاشرتی' set up'تباہ ہو کر رہ جاتا، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں بے روزگار غلاموں اور لونڈیوں کے ہاتھوں سے جن کی اخلاقی تربیت کبھی بھی کسی معاشرے کا مسئلہ نہ رہی تھی، جرائم کی دنیا میں جو کچھ وجود میں آتا، اس کا آج ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کسی معاشی اور معاشرتی' set up'کو یک قلم توڑ دینے کا خیال شاید دنیا کا سب سے احمقانہ خیال ہے۔ معلوم نہیں کہ اسلام جو سرتاسر دانائی کا مذہب ہے، اس سے ایسی توقع کیوں کی جاتی ہے۔
 
١٣ اس قانون نکاح میں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نازل ہوا تھا، ماریہ قبطیہ' الا ما ملکت یمینک' کے تحت آتی ہیں۔ پروردگار عالم نے خود اس ماحول اور اس معاشرے میں موجود بعض حقیقی مسائل اور بعض حقیقی ضرورتوں کے پیش نظر لونڈیوں کو جائز قرار دیا تھا۔لہٰذا اس بات کا تو کوئی سوال ہی نہیں کہ لونڈی رکھنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کوئی عار کی بات ہو یا یہ آپ کی شان سے فروتر ہو۔