احکام قتال کی تحدید و تخصیص یا تعمیم کی بحث فقہی روایت کے ارتقا کا ایک جائزہ (۱۰)


(گذشتہ سے پیوستہ )

ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں:

لیس اخذ الجزیۃ منہم رضا بکفرہم ولا اباحۃ لبقاۂم علی شرکہم وانما الجزیۃ عقوبۃ لہم لاقامتہم علی الکفر ..... امہالہم بالجزیۃ جائز فی العقل اذ لیس فیہ اکثر من تعجیل بعض عقابہم المستحق بکفرہم وہو ما یلحقہم من الذل والصغار باداۂا.(احکام القرآن، ۳/۱۰۳)

''کفار سے جزیہ لینے کا مطلب ان کے کفر پر رضامندی یا ان کے اپنے شرک پر قائم رہنے کو جائز قرار دینا نہیں ہے۔ جزیہ تو ان کے لیے ان کے کفر پر قائم رہنے کی سزا ہے۔ عقلی طور پر بھی جزیہ لے کر ان کو مہلت دینا جائز ہے کیونکہ اس طریقے سے اس سے زیادہ تو کچھ نہیں کیا جاتا کہ کفار اپنے کفر کی وجہ سے جس سزا کے مستحق تھے، اس کا کچھ حصہ اس عار اور ذلت کی صورت میں یہیں ان پر نافذ کر دیا جاتا ہے جو جزیہ کی ادائیگی سے انھیں لاحق ہوتا ہے۔''

سرخسی نے اگرچہ یہ وضاحت کی ہے کہ کفار سے قتال کا مقصد اصلاً ان سے مال وصول کرنا نہیں، بلکہ انھیں 'باحسن الوجوہ' دین کی طرف دعوت دینا ہے، کیونکہ عقدذمہ کی پابندی قبول کر کے وہ قتال سے دست کش ہو جاتے ہیں اور اس کے بعد مسلمانوں کے مابین مقیم ہونے کی وجہ سے انھیں اسلام کے محاسن سے واقف ہونے اور دعوت اسلام سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا جس سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ ہو جائیں گے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کو بھی ضروری قرار دیتے ہیں کہ جب تک وہ اپنے کفر پر مصر رہیں، اس وقت تک اہل ایمان کی سربلندی اور اہل کفر کی ذلت کو نمایاں کرنے کے لیے ان پر جزیہ عائد رہے۔ لکھتے ہیں:

انہ اذا سکن دار الاسلام فمادام مصرا علی کفرہ لا یخلوا عن صغار وعقوبۃ وذلک بالجزیۃ التی توخذ منہ لیکون ذلک دلیلا علی ذل الکافر وعز المومن.(المبسوط، ۱۰/۷۷، ۷۸)

''کافر اگر دار الاسلام میں مقیم ہے تو جب تک وہ اپنے کفر پر اصرار کرتا رہے، اسے سزا اور ذلت کے بغیر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس سے جزیہ وصول کیا جائے تاکہ کافر کی ذلت اور اہل ایمان کی عزت نمایاں نظر آئے۔''

سرخسی نے اہل حرب کے استرقاق کو بھی ان کے کفر کی عقوبت قرار دیا ہے کہ جب انھوں نے اللہ کی وحدانیت کا انکار کیا تو اللہ نے انھیں اپنے بندوں کا غلام بنا دیا۔ (المبسوط ۸/۴۹۱، ۱۲/۲۷۱)

یہ ایک نہایت واضح اور غیر مبہم رجحان ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک دوسرا اور مذکورہ پہلے رجحان کی کم وبیش نفی کرتا ہوا ایک دوسرا رجحان احناف کے ہاں اس ضمنی بحث میں نظر آتا ہے کہ آیا جنگ کے دوران میں کفار کی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو، جو عملاً جنگ میں حصہ نہیں لے سکتے، قتل کرنا جائز ہے یا نہیں؟ شافعی اور حنبلی فقہا کی راے یہ ہے کہ ایسا کرنا درست ہے، کیونکہ قتال کی وجہ 'کفر' ہے جو مذکورہ افراد میں بھی پایا جاتا ہے، لیکن فقہاے احناف قتال کی علت کفار کے 'کفر' کو قرار دینے سے اختلاف کرتے اور یہ قرار دیتے ہیں کہ قتال کا مقصد کفار کو ان کے 'کفر' کی سزا دینا نہیں، بلکہ ان کے فتنہ وفساد اور محاربہ سے تحفظ حاصل کرنا ہے، اس لیے جو افراد اپنی جسمانی ساخت کے لحاظ سے یا کسی معذوری کی بنا پر جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے، انھیں قتل نہیں کیا جا سکتا۔

یہاں فقہاے احناف نے اپنے استدلال کو واضح کرتے ہوئے نفس قتال کی مشروعیت کا نکتہ چھیڑ کر اپنے موقف میں ایک غیر ضروری الجھاؤ پیدا کر لیتے ہیں۔ اگر وہ قتال کی علت کے بجائے یہاں محض اس کی غایت کے حوالے سے اپنا استدلال پیش کرتے اور یہ کہتے کہ اصل مقصود کفار کو قتل کرنا اور کفر کو ختم کر دینا نہیں بلکہ کفر اور اہل کفر کو مغلوب کرنا ہے، اس لیے قتل صرف ان لوگوں کو کیا جائے گا جو بالفعل جنگ میں شریک ہوں تو یہ استدلال ان کے مدعا کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہوتا، تاہم وہ یہاں قتال کی علت کی بحث بھی چھیڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ قتال کی وجہ اہل کفر کا محاربہ ہے، اس لیے قتل انھی لوگوں کو کیا جائے گا جو حرابہ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ بدیہی طور پر اس سے ان کی مراد یہ نہیں ہوتی کہ کفار کے خلاف جنگ کا آغاز اس وقت کیا جائے گا جب وہ محاربہ کی ابتدا کریں گے، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ جب مسلمان اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے نکلیں گے تو کفار لازماً اس کی راہ میں مزاحم ہوں گے اور ان کے اس 'محاربہ' کو ختم کرنے کے لیے انھیں قتل کرنا پڑے گا، تاہم استدلال کا یہ مقدمہ ایسا ہے کہ اس کے نتیجے میں عقلی طور پر کفار کے خلاف قتال کی ابتدا کو بھی ان کی طرف سے محاربہ ہی پر منحصر مانناپڑتا ہے۔ اس عقلی نتیجے کو مزید تقویت اس سے ملتی ہے کہ احناف اپنے موقف کی وضاحت کے لیے ایک اہم اصولی نکتہ بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ انبیا کی تعلیمات کی رو سے یہ دنیا دار الامتحان ہے جبکہ جزا وسزا کا معاملہ اصلاً آخرت کے دن پر موقوف رکھا گیا ہے، چنانچہ کفر وایمان کا معاملہ اصلاً خدا اور بندے کے مابین ہے اور اس کا فیصلہ دار الجزاء میں خود کائنات کا پروردگار ہی کرے گا۔ دنیا میں قصاص کے طور پر یا دفع فساد کے لیے تو کسی انسان کی جان لینے کی اجازت دی گئی ہے، لیکن کفر وشرک کی پاداش میں کسی کو قتل جیسی انتہائی سزا دے دینا دار الابتلاء اور دار الجزاء کی مذکورہ تقسیم کے منافی ہے۔۱؂

سرخسی لکھتے ہیں:

ان تبدیل الدین واصل الکفر من اعظم الجنایات ولکنہا بین العبد وبین ربہ فالجزاء علیہا موخر الی دار الجزاء وما عجل فی الدنیا سیاسات مشروعۃ لمصالح تعود الی العباد کالقصاص لصیانۃ النفوس وحد الزنا لصیانۃ الانساب والفرش وحد السرقۃ لصیانۃ الاموال وحد القذف لصیانۃ الاعراض وحد الخمر لصیانۃ العقول.(سرخسی، المبسوط، ۱۰/۱۱۰)

''کفر پر قائم رہنا یا اس کی طرف پلٹ جانا اگرچہ سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے، لیکن وہ انسان اور اس کے رب کا معاملہ ہے اور ایسے گناہ کی سزا روز قیامت کے لیے موخر رکھی گئی ہے۔ دنیا میں جس بات کی اجازت دی گئی ہے، وہ کچھ تدبیری سزائیں ہیں جن کا تعلق انسانوں کے فائدے سے ہے، مثلاً جانوں کی حفاظت کے لیے قصاص، نسب اور فراش کے تحفظ کے لیے زنا کی سزا، مال کی حرمت قائم رکھنے کے لیے چوری کی سزا، عزت وآبرو کی حفاظت کے لیے حد قذف اور عقل کی حفاظت کے لیے شراب کی سزا۔''

ابن نجیم لکھتے ہیں:

ان الاصل تاخیر الاجزیۃ الی دار الآخرۃ اذ تعجیلہا یخل بمعنی الابتلاء وانما عدل عنہ دفعا لشر ناجز وہو الحراب.(البحر الرائق ۵/۱۳۹)

''اصل تو یہ ہے کہ (کسی بھی عمل کی) جزا وسزا کو آخرت پر ہی موقوف رکھا جائے، کیونکہ دنیا میں جزا وسزا کو جاری کرنا آزمائش کے اصول میں خلل ڈالتاہے۔ تاہم اس اصول کو چھوڑ کر دنیا میں جزا وسزا کا طریقہ اس لیے اختیار کیا گیا ہے کہ ایک فوری شر یعنی حرابہ کو دورکیا جا سکے۔''

ابن الہمام فرماتے ہیں:

ان الاصل فی الاجزیۃ بان تتاخر الی دار الجزاء وہی الدار الآخرۃ فانہا الموضوعۃ للاجزیۃ علی الاعمال الموضوعۃ ہذہ الدار لہا فہذہ دار اعمال وتلک دار جزاۂا وکل جزاء شرع فی ہذہ الدار ما ہو الا لمصالح فی ہذہ الدار کالقصاص وحد القذف والشرب والزنا والسرقۃ شرعت لحفظ النفوس والاعراض والعقول والانساب والاموال. (فتح القدیر ۶/۷۲)

''جزا وسزا میں اصل یہ ہے کہ اسے دار الجزاء یعنی آخرت کے قائم ہونے تک موخر رکھا جائے، کیونکہ آخرت ان اعمال کی جزا کے لیے قائم کی جائے گی جو اس دنیا میں کیے جاتے ہیں۔ یہ دنیا دار العمل ہے اور آخرت دار الجزاء۔ چنانچہ دنیا میں جو بھی سزا مشروع کی گئی ہے، وہ درحقیقت اس دنیا میں ہی مقصود چند مصالح کے لیے کی گئی ہے، جیسا کہ قصاص کو جانوں کی، حد قذف کو آبرو کی، حد شرب کو عقل کی ، حد زنا کو نسب کی اور حد سرقہ کو مال کی حفاظت کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔''

حنفی فقہا قتال سے متعلق قرآن مجید کے نصوص کی توجیہ بھی اسی اصول کی روشنی میں کرتے ہیں۔ مثلاً سرخسی لکھتے ہیں کہ کفار کو قتل کرنے کی اصل علت، مذکورہ اصول کی روشنی میں، ان کا کفر نہیں بلکہ فتنہ وفساد ہے، البتہ اس فتنہ وفساد کا اصل باعث بھی چونکہ ان کا کفر ہے، اس لیے نصوص میں بعض جگہ ان کے قتل کی وجہ کفر کو اور بعض جگہ فساد کو قرار دیا گیا ہے:

ان اللہ تعالی قصر علی العلۃ فی بعض المواضع بقولہ تعالی فان قاتلوکم فاقتلوہم وعلی السبب الداعی الی العلۃ فی بعض المواضع وہو الشرک.(سرخسی، المبسوط، ۱۰/۱۱۰)

''اللہ تعالیٰ نے بعض مقامات پر اصل علت کے بیان پر اکتفا کی ہے، جیسا کہ فرمایا کہ اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو، اور بعض جگہ اس علت (یعنی قتال) کے سبب یعنی شرک کا ذکر کیا ہے جو کفار کو مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔''

کفار کے فتنہ وفساد ہی کو قتال کی اصل وجہ قرار دینے کا یہ موقف بعد کے حنفی فقہا کے ہاں زیادہ صراحت سے ملتا ہے۔ ابن الہمام 'فتح القدیر' میں لکھتے ہیں:

ان قتالنا المامور بہ جزاء لقتالہم ومسبب عنہ وکذا قولہ تعالی وقاتلوہم حتی لا تکون فتنۃ ای لا تکون منہم فتنۃ للمسلمین عن دینہم بالاکراہ بالضرب والقتل وکان اہل مکۃ یفتنون من اسلم بالتعذیب حتی یرجع عن الاسلام علی ما عرف فی السیر فامر اللہ سبحانہ بالقتال لکسر شوکتہم فلا یقدرون علی تفتین المسلم عن دینہ.(فتح القدیر، ۵/۴۳۷، ۴۳۸)

''کفار کے ساتھ ہمیں قتال کرنے کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ ان کی طرف سے کی جانے والی لڑائی کا بدلہ اور اس کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کے ساتھ لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے، یعنی وہ مسلمانوں کو زدوکوب یا قتل کر کے انھیں بالجبر ان کے دین سے برگشتہ نہ کر سکیں۔ جیسا کہ کتب سیرت میں معروف ہے، اہل مکہ اسلام لانے والوں کو اذیت دیتے تھے تاکہ وہ اپنے دین سے واپس پلٹ جائیں، اس لیے اللہ نے حکم دیا کہ ان کی قوت اور طاقت کو توڑ دو تاکہ وہ کسی مسلمان کو اذیت دے کر اس کے دین سے ہٹا نہ سکیں۔ ''

ابن الہمام نے یہی بات جزیہ کی نوعیت واضح کرتے ہوئے بیان کی ہے۔

والشر الذی یتوقع بسبب الکفر الحرابۃ والفتنۃ عن الدین الحق ..... فکانت عقوبۃ دنیویۃ علی کفرہ الذی ہو سبب لحرابتہ دفعا لہا باضعافہ باخذہا منہ وبدلا عن نصرتہ الفائتۃ بکفرہ (فتح القدیر ۶/۵۴)

صاحب ہدایہ عقد ذمہ کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ہو دفع شر الحراب.(۲/۱۶۳)

''اس کا مقصد حرابہ کے شر کو دور کرنا ہے۔''

حنبلی اصولی اور فقیہ ابن عقیل نے بھی اس مسئلے میں احناف کے موقف کو قتل اور قتال کے باب میں شرعی اصولوں کے ساتھ زیادہ ہم آہنگ قرار دیا ہے اور اس حوالے سے بعض حنبلی علما کا یہ استدلال نقل کیا ہے کہ کفر دراصل حق اللہ ہے جس کی سزا دار التکلیف میں نہیں دی جا سکتی۔ (کتاب الفنون، ۳۷، ۳۹۱)

احناف نے اس ضمن میں نصوص سے جو استدلال پیش کیا ہے، وہ فقہا کی اس عمومی روش کا نتیجہ ہے کہ وہ الگ الگ مواقع اور گروہوں سے متعلق نصوص کو ان کے سیاق وسباق کی روشنی میں سمجھنے کے بجائے تمام نصوص کو جہاد وقتال کے احکام کا عمومی بیان تصور کرتے ہوئے ان سب سے یکساں استدلال کرتے ہیں۔ بقرہ کی آیات جن میں 'قاتلوا فی سبیل اللہ الذین یقاتلونکم' اور 'فان قاتلوکم فاقتلوہم' کے جملے آئے ہیں، دراصل قریش سے متعلق ہیں اور حکم اس مرحلے سے متعلق ہے جب مقصود اصلاً ان کے فتنہ وفساد کو رفع کرنا اور بیت اللہ سے ان کے قبضہ کو ختم کرنا تھا۔ اس کے بعد مشرکین قریش اور ان کے علاوہ عمومی طور پر مشرکین عرب کے لیے حتمی حکم سورۂ توبہ میں دیا گیا جو رفع فساد تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس میں اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں ان کے لیے قتل کیے جانے کی سزا بیان کی گئی ہے۔ چنانچہ بقرہ کی آیات سے احناف کا یہ استدلال برمحل نہیں بنتا کہ یہاں قتال کی علت محاربہ کو قرار دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے اصل ماخذ آیت جزیہ ہے جس میں فتنہ وفساد کو نہیں بلکہ صریحاً کفر کو قتال کی علت قرار دیا گیا ہے۔

بہرحال استدلال کی اس خامی سے قطع نظر، احناف کی اس تعلیل پر بعض اہم سوالات پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ احناف کی یہ تعلیل بدیہی طور پر آیت جزیہ میں بیان ہونے والی تعلیل سے مختلف ہے، کیونکہ آیت میں صراحت کے ساتھ قتال کا باعث اہل کتاب کے کفر کو اور قتال کا مقصد انھیں محکوم بنا کر ذلت اور رسوائی کی صورت میں انھیں سزا دینے کو قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قتل مشرکین کے حکم کی طرح احناف نے آیت جزیہ کے حکم کی تعمیم بھی، فی الواقع، نہیں کی۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے حکم کو تو انھوں نے اس کی اساس اور نتیجے، دونوں کے لحاظ سے مشرکین عرب کے ساتھ خاص مان لیا ہے، جبکہ دوسرے حکم کو نتیجے کے لحاظ سے عام مانتے ہوئے اسے اس کی اصل علت، یعنی کفر سے مجرد کر دیا ہے جس پر وہ نص قرآنی کی رو سے مبنی تھا۔ ظاہر ہے کہ اس سے اصل حکم کی تعمیم نہیں ہوئی، کیونکہ وہ صرف اس صورت میں متحقق ہوگی جب قرآن کے بیان کے مطابق قتال کی علت یہ مانی جائے کہ کفار نہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ دین حق کی پیروی اختیار کرتے ہیں۔ یہ احناف کے نقطہ نظر کا ایک لازمی تقاضا ہے، تاہم نہ تو اصولی طور پر اس کی کوئی باقاعدہ تصریح ان کے ہاں ملتی ہے اور اس کے واقعی مضمرات اور اس سے نکلنے والے بعض لازمی نتائج احناف کے ہاں آغاز ہی میں واضح ہو سکے ہیں۔

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر قتال کی علت فتنہ وفساد ہے تو ایسے کفار کے خلاف قتال کا اقدام کرنا کیونکر جائز ہے جو اہل اسلام کے خلاف فتنہ وفساد کا ارتکاب نہیں کرتے؟ اور کفار کی طرف سے کسی جارحیت کی ابتدا کے بغیر ان کے خلاف قتال کرنے کو نہ صرف مشروع بلکہ فرض کفایہ کیونکر قرار دیا گیا ہے؟ مزید یہ کہ کفار کے فساد سے بچنے کے لیے ان کو مسلمانوں کا محکوم بنانا کیوں ضروری ہے اور اگر ان کی طرف سے معاہدے کی پابندی کا اطمینان ہو تو ان کی سیاسی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے صلح کی گنجایش کیوں نہیں؟

تیسرا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر کفر کی سزا کا معاملہ آخرت پر موخررکھا گیا ہے اور کسی کافر کو اس کے کفر کی سزا اس دنیا میں دینے کا اختیار مسلمانوں کے پاس نہیں ہے تو قتال کے ذریعے سے اہل کفر کو مغلوب کر کے ان پر 'جزیہ' عائد کرنا، جو احناف کی تصریح کے مطابق ان کے کفر پر عقوبت اور سزا کی حیثیت رکھتا ہے، کس اصول پر روا ہے؟ جہاں تک احناف کا جزیہ کو 'عقوبت' قرار دینے کا تعلق ہے تو ان کی یہ بات درست ہے۔ قرآن مجید نے 'جزیہ' لینے کا حکم جس سیاق میں دیا ہے، اس سے صاف واضح ہے کہ اس کی اصل نوعیت ذلت ورسوائی اور محکومی کی ایک علامت کی ہے جسے ایمان نہ لانے کی سزا کے طور پر اہل کتاب پر نافذ کیا گیا۔ کلاسیکل فقہی نقطہ نظر میں 'جزیہ' کی حکمت ومعنویت اسی تصور کے تحت واضح کی گئی ہے اور تمام فقہا اس معاملے میں یک زبان ہیں کہ اہل ذمہ پر 'جزیہ' عائد کرنے کا مقصد ان کو ان کو ذلت وحقارت کا احساس دلانا اور اس طرح انھیں ان کے کفر کی سزا دینا ہے۔ اب اس نکتے کی موجودگی میں اگر احناف قتال کی مشروعیت کا سبب کفر کے بجاے فتنہ وفساد کو قرار دیتے ہیں تو ان کے موقف کی تفصیل کچھ یوں بنتی ہے:

''انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی آزادی کے مطابق یہ حق حاصل ہے کہ وہ جو عقیدہ چاہیں، اپنائیں اور جس مذہب کو چاہیں، اختیار کریں۔ ہم ان کے اس حق میں کوئی مداخلت کرنے یا اسلام قبول کرنے کے معاملے میں ان پر جبر واکراہ کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ یہ ان کا اور اللہ کا معاملہ ہے اور اس معاملے میں روز قیامت کو وہی ان کا محاسبہ کرے گا۔ البتہ دنیا میں ملنے والی اس آزادی کو استعمال کرتے ہوئے اگر بنی نوع انسان اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب کے پیروکار بنیں گے تو انھیں اس کی سزا دینا ہمارا فرض ہے، چنانچہ ہم اس اعلان کے ساتھ ان پر حملہ آور ہو جائیں گے کہ 'یا تو اسلام قبول کر لو اور یا پھر اپنی سیاسی خود مختاری سے دستبردار ہو کر ذلت اور پستی کے ساتھ ہماری محکومی قبول کر لو'' ۔

یہ سب سوالات اہم اور بنیادی نوعیت کے ہیں، تاہم دور متوسط کے حنفی فقہا کے ہاں یہ بحث چونکہ ایک ضمنی مسئلے یعنی اہل کفر کے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کے جواز یا عدم جواز کے تحت پیدا ہوئی ہے اور اسی دائرے تک محدود رہی ہے، اس لیے وہ اس کے اصولی مضمرات اور اس سے اپنے موقف میں در آنے والے داخلی تضادات سے کوئی تعرض نہیں کرتے اور جہاد وقتال کا مقصد دعوت اسلام اور اعلاء کلمۃ اللہ کے ساتھ ساتھ دفع حرابہ کو قرار دینے، نیز کفر کی جزا کو اصلاً آخرت پر موقوف ماننے اور اس کے ساتھ ساتھ جزیہ کو اہل کفر کے لیے عقوبت قرار دینے کے دونوں مواقف کو یکساں اطمینان کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ البتہ متاخرین کے ہاں ان الجھنوں کا احساس زیادہ واضح دکھائی دیتا ہے اور متعدد حنفی اہل علم نے مذکورہ سوالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے جہاد کی ترمیم واصلاح شدہ تعبیرات پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس ضمن کی چند آرا کا تذکرہ یہاں دلچسپی کا باعث ہوگا۔

(i) صاحب تفسیر مظہری قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے 'ولولا دفع اللہ الناس بعضہم ببعض لفسدت الارض' کی تفسیر میں انھوں نے لکھا ہے:

فیہ دلیل علی ان العلۃ لافتراض الجہاد دفع الفساد.(۱/۳۲۵)

''اس آیت میں اس بات کی دلیل ہے کہ جہاد کے فرض ہونے کی علت فساد کو دفع کرنا ہے۔''

'لا اکراہ فی الدین' کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

ان الامر بالقتال والجہاد لیس لاجل الاکراہ فی الدین بل لدفع الفساد من الارض فان الکفار یفسدون فی الارض ویصدون عباد اللہ عن الہدی والعبادۃ فکان قتلہم کقتل الحیۃ والعقرب والکلب العقور بل اہم من ذلک ومن ثم جعل اللہ تعالیٰ غایۃ قتلہم اعطاء الجزیۃ حیث قال حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون ولاجل ہذا نہی النبی صلی اللہ علیہ وسلم عن قتل الولدان والنساء والمشائخ والرہبان والعمیان والزمنی الذین لا یتصور منہم الفساد فی الارض.(تفسیر مظہری ۱/۳۳۶)

''جہاد وقتال کا حکم دین کے معاملے میں جبر کرنے کے لیے نہیں بلکہ زمین سے فساد کو ختم کرنے کے لیے دیا گیا ہے، کیونکہ کفار زمین میں فساد کرتے اور اللہ کے بندوں کو راہ ہدایت اور اللہ کی بندگی سے روکتے ہیں، اس لیے ان کو قتل کرنا اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ ضروری ہے جیسے سانپ، بچھو اور کاٹنے والے کتے کو قتل کرنا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ جنگ کی غایت یہ بتائی ہے کہ وہ جزیہ دے دیں، چنانچہ فرمایا: حتی یعطوا الجزیۃ عن ید وہم صاغرون۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی لیے بچوں، عورتوں، بوڑھوں، راہبوں، اندھوں اور معذوروں کو قتل کرنے سے منع کیا ہے کیونکہ وہ زمین میں فساد نہیں کر سکتے۔''

صاحب تفسیر مظہری کی یہ بھی رائے ہے کہ اگر مصلحت ہو تو کفار کے ساتھ صلح کا معاہدہ بھی کیا جا سکتا ہے اور جن کفار کے ساتھ موقت یا ابدی معاہدۂ صلح کیا جائے، ان کے خلاف قتال کرنا جائز نہیں۔ چنانچہ 'وان جنحوا للسلم' کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

لا وجہ لتخصیصہا باہل الکتاب وبالقول لکونہا منسوخۃ بل الامر للاباحۃ والصلح جائز مشروع ان رای الامام فیہ مصلحۃ.(۴/۱۰۹)

''اس ہدایت کو نہ تو اہل کتاب کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی وجہ ہے اور نہ منسوخ قرار دینے کی۔ یہ حکم اباحت کے لیے ہے اور اگر امام صلح کرنے میں مصلحت دیکھے تو ایسا کرنا جائز اور مشروع ہے۔''

'الا الذین عاہدتم من المشرکین' کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

انما امرتم بنبذ العہد الی الناکثین او بقتال من لا عہد بینکم وبینہم من المشرکین لا بقتال المعاہدین مدۃ معلومۃ او موبدۃ غیر ناکثین.(۴/۱۳۸)

''تمھیں عہد شکنی کرنے والوں سے معاہدہ توڑ دینے کا یا ان مشرکین کے ساتھ جنگ کا حکم دیا گیا ہے جن کے ساتھ تمھارا کوئی معاہدہ نہ ہو، نہ کہ ان کفار کے ساتھ لڑنے کا جنھوں نے مخصوص مدت یا ہمیشہ کے لیے تمھارے ساتھ معاہدہ کیا ہو اور پھر عہد شکنی نہ کی ہو۔''

یہ موقف اس پہلو سے روایتی حنفی موقف سے مختلف ہے کہ اس میں کفار کے ساتھ ابدی معاہدۂ صلح کا امکان بھی تسلیم کیا گیا ہے۔

(ii) مولانا شبیر احمد عثمانی فرماتے ہیں:

''کوئی شبہہ نہیں کہ کسی آدمی کو عمداً قتل کر ڈالنا بڑی سخت چیز ہے مگر قرآن نے جس کو فتنہ کہا ہے، وہ قتل سے بھی بڑھ کر سخت ہے۔ والفنتہ اشد من القتل، والفتنۃ اکبر من القتل۔ یہ فتنہ دین حق سے ہٹنے یا ہٹائے جانے کا فتنہ ہے جس پر واحذرہم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک میں متنبہ کیا گیا ہے ..... اسی فتنہ کے روکنے اور مٹانے کے لیے وہ جارحانہ اور مدافعانہ جہاد بالسیف شروع کیا گیا ہے۔ .... پس اسلام کا سارا جہاد وقتال خواہ ہجوم کی صورت میں ہو یا دفاع کی، صرف مرتد بننے یا بنانے والوں کے مقابلے میں ہے جس کی غرض یہ ہے کہ فتنہ ارتداد یا اس کے خطرہ سے مومنین کی حفاظت کی جائے اور یہ جب ہی ہو سکتا ہے کہ مرتدین کا جو مجسم فتنہ ہیں، استیصال ہو اور مرتد بنانے والوں کے حملوں اور تدبیروں اور ان کی شوکت وقوت کو جس سے وہ مسلمانوں کے ایمان کو موت کی دھمکی دے سکتے ہیں، ہر ممکن طریقہ سے روکا جائے یا توڑا جائے۔ چنانچہ کفار اگر جزیہ دے کر اسلامی رعایا بننے یا مسلمانوں کے امن میں آ جانے یا باہمی مصالحت اور معاہدہ کی وجہ سے مسلمانوں کو عملاً مطمئن کر دیں کہ وہ ان کے دین میں کوئی رخنہ اندازی نہ کریں گے اور ان کے غلبہ اور شوکت کی وجہ سے مسلمانوں کو مرتد بنائے جانے کا کوئی اندیشہ باقی نہ رہے گا تو ایسی اقوام کے مقابلے میں مسلمانوں کو ہتھیار اٹھانا جائز نہیں۔ ..... پس جہاد بالسیف خواہ ہجومی ہے (یعنی بطریق حفظ ما تقدم) یا دفاعی (یعنی بطریق چارہ سازی) صرف مومنین کی حفاظت کے لیے اور یہ ایک ایسا فطری حق ہے جس سے کوئی عقل مند اور مہذب انسان مسلمانوں کو محروم نہیں کر سکتا۔'' (الشہاب ص ۳۵-۳۷)

مولانا عثمانی کا یہ موقف ایک نہایت بنیادی نکتے میں روایتی حنفی نقطہ نظر سے مختلف ہے۔ وہ یہ کہ روایتی موقف میں کفار کے ساتھ صلح اور ان سے جزیہ وصول کرنے کو دو مساوی اختیارات کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ فقہا کے نزدیک اصل اور مقصود حکم کفار کو زیر دست کر کے ان سے جزیہ وصول کرنا ہے، جبکہ اس کے بغیر صلح کرنے کی صرف اس صورت میں اجازت ہے جب مسلمان اپنی کمزوری یا کسی دوسری مصلحت کے باعث ایسا نہ کر سکتے ہوں۔ مولانا عثمانی نے، اس کے برعکس، دونوں حکموں کو مساوی درجے میں ذکر کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غیر مسلم جزیہ دے کر مسلمانوں کے زیر نگیں آنا چاہیں یا اس کے بغیر ہی صلح کا معاہدہ کر کے امن وامان کی یقین دہانی کرا دیں، ان میں سے ہر صورت ان کے نزدیک اختیار کی جا سکتی ہے۔

(iii) مولانا اشرف علی تھانوی نے مذکورہ نکتے سے اتفاق ظاہر کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ روایتی موقف میں ایک طرف 'کفر' کو قتال کی علت نہ ماننے اور دوسری طرف 'جزیہ' کو عقوبۃ علی الکفر قرار دینے سے جو تضاد پیدا ہوتا ہے، اسے 'جزیہ' کو غیر مسلموں کی جان ومال کی حفاظت کا عوض قرار دے کر اس تضاد کو رفع کرنے کی کوشش کی ہے۔ لکھتے ہیں:

''مخالفین اسلام کے اس شبہ کا ازالہ کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیا ہے، اصولی جواب تو خود اسلام کے قانون سے ظاہر ہے جس کے بعض ضروری دفعات یہ ہیں: (۱) قتال میں عورت اور اپاہج اور شیخ فانی اور اندھے کا قتل باوجود ان کے بقاء علی الکفر کے جائز نہیں۔ اگر سیف اکراہ علی الاسلام کے لیے ہوتی تو ان کو ان کی حالت پر کیسے چھوڑا جاتا؟ (۲) جزیہ مشروع کیا گیا۔ اگر سیف جزاء کفر ہوتی تو باوجود بقاء علی الکفر کے جزیہ کیسے مشروع ہوتا؟ (۳) پھر جزیہ بھی سب کفار پر نہیں، چنانچہ عورت پر نہیں، اپاہج اور نابینا پر نہیں، رہبان پر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مثل سیف کے جزیہ بھی جزائے کفر نہیں، ورنہ سب کفار کو عام ہوتا۔ جب جزیہ کہ سیف سے اخف ہے، جزائے کفر نہیں تو سیف جو کہ اشد ہے، کیسے جزائے کفر ہوگی؟ (۴) اگر کسی وقت مسلمانوں کی مصلحت ہو تو کفار سے صلح بلاشرط مالی بھی جائز ہے۔ (۵) اگر حالات وقتیہ مقتضی ہوں تو خود مال دے کر بھی صلح جائز ہے۔ ان اجزاء کی دونوں دفعات سے معلوم ہوا کہ جزیہ جس طرح جزائے کفر نہیں، جیسا کہ دفعہ ۳ سے معلوم ہوا، اسی طرح وہ مقصود بالذات بھی نہیں، ورنہ دفعات مذکور مشروع نہ ہوتے تو ضرور اس کی کوئی ایسی علت ہے جو ان دفعات کے ساتھ جمع ہو سکتی ہے اور وہ حسب تصریح حکمائے امت کما فی الہدایہ وغیرہا سیف کی غرض اعزاز دین ودفع فساد ہے اور جزیہ کی غرض یہ ہے کہ جب ہم ہر طرح ان کی حفاظت کرتے ہیں اور اس حفاظت میں اپنی جان ومال صرف کرتے ہیں تو اس کا صلہ یہ تھا کہ وہ بھی حاجت کے وقت ہماری نصرت بالنفس ہی کرتے، مگر ہم نے ان کو قانوناً اس سے بھی سبک دوش کر دیا، اس لیے کم از کم ان کو کچھ مختصر ٹیکس مالی ادا کرنا چاہیے تاکہ یہ نصرت بالمال اس نصرت بالنفس کا من وجہ بدل ہو جاوے۔یہ اغراض ہیں سیف اور جزیہ کے اور یہی وجہ ہے کہ جب اعداء دین سے احتمال فساد کا نہیں رہتا تو سیف مرتفع ہو جاتی ہے جس کے تحقق کی ایک صورت قبول جزیہ ہے، ایک صورت صلح ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ نصرت بالنفس پر، جو کہ ان پر عقلاً واجب تھی، قادر نہیں، ان سے نصرت بالمال بھی معاف کر دی گئی ہے۔ البتہ چونکہ احتمال فساد کا موثوق بانتفاء عادۃً موقوف ہے حکومت وسلطنت پر چنانچہ تمام ملوک وسلاطین کا، گو وہ اہل ملل بھی نہ ہوں، یہ اجماعی مسئلہ ہے، اس لیے ایسی کسی صورت کو بحالت اختیار گوارا نہیں کیا گیا جس میں اسلام کی قوت وشوکت کو صدمہ پہنچے۔'' (مولانا حبیب الرحمن، ''اشاعت اسلام''، ص ۵، ۶۔ بوادر النوادر ص ۵۰۸، ۵۰۹)

آخری سطور میں بیان کردہ نکتے کی انھوں نے ایک دوسری جگہ توضیح کی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

''جہاد اسلام کی مدافعت اور حفاظت خود اختیاری کے لیے ہے ..... اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ جہاد میں ابتدا نہ کی جائے۔ خود ابتدا کرنے کی غرض بھی یہی مدافعت وحفاظت ہے کیونکہ بدون غلبہ کے احتمال ہے مزاحمت کا، اسی مزاحمت کے انسداد کے لیے اس کا حکم کیا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جو مدافعت غایت ہے جہاد کی، وہ عام ہے مزاحمت واقع فی الحال کی مدافعت کو اور مزاحمت متوقعہ فی الاستقبال کی مدافعت کو۔'' (الافاضات الیومیہ، جلد ششم ملفوظ ۴۹۷)

مولانا کی اس راے میں ایک مزید قابل لحاظ نکتہ یہ ہے کہ انھوں نے اسلام کے سیاسی غلبہ، اعلاء کلمۃ اللہ اور کفر اور اہل کفر کے اذلال کو بالذات مقصود قرار دینے کے بجاے جہاد کو علی الاطلاق لازم قرار دینے کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ ''احتمال فساد کا موثوق بانتفاء عادۃً موقوف ہے حکومت وسلطنت پر'' جس سے ان کی مراد یہ ہے کہ چونکہ تجربہ اور عادت سے یہ معلوم ہوا ہے کہ فتنہ وفساد کے خواہاں گروہوں کو جب تم حکومت واقتدار کے زور پر محکوم نہ بنا لیا جائے، ان کو ان کی روش سے باز رکھنا ممکن نہیں، اس لیے حصول مقصد کا قابل اعتماد طریقہ یہی ہے کہ کفار کو اسلامی حکومت کے زیر نگیں لے آیا جائے۔

مولانا تھانوی کے اس موقف میں یہ سوال پھر تشنہ جواب رہ جاتا ہے کہ انھوں نے قتال کے حکم کو کفار کی طرف سے فتنہ وفساد کے واقعی یا متوقع امکان کے ساتھ مشروط کیے بغیر محض اس امکان کے پیش نظر مطلق قرار دیا ہے کہ کفار مستقبل میں کسی وقت بھی فتنہ وفساد پر آمادہ ہو سکتے ہیں، جبکہ قرآن مجید نے واضح طور پر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایسے گروہوں کی نشان دہی کی ہے جو کسی بھی لحاظ سے مسلمانوں کے معاند یا دشمن نہیں اور ان کے اس غیر جانبدارانہ رویے ہی کی بنیاد پر ان کے ساتھ فتنہ پرداز گروہ سے مختلف رویہ اختیار کرنے کی تلقین بھی کی ہے۔ ایسے گروہ اور اقوام ہر زمانے میں نہ صرف پائے جا سکتے ہیں بلکہ حقیقتاً پائے بھی جاتے ہیں، چنانچہ یہ اشکال جوں کا توں باقی رہتا ہے کہ فتنہ وفساد اور عداوت وعناد کی علت واقعہ کے لحاظ سے نہ پائے جانے کی صورت میں کسی غیر مسلم قوم کے خلاف تلوار اٹھانے کا کیا اخلاقی جواز پیش جا سکتا ہے؟

(iv) بعض معاصر اہل علم نے یہ راے یہ پیش کی ہے کہ جہاد دراصل دعوت اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے اور چونکہ کسی کافر حکومت کا دنیا میں برسر اقتدار رہنا اور دنیاوی قوت وشوکت سے بہرہ ور ہونا بذات خود لوگوں کے قبول اسلام میں ایک رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے کفار کے اقتدار اور سیاسی خود مختاری کے خاتمہ کا مطلب دراصل دعوت اسلام کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ کا خاتمہ ہے۔ مولانا محمد تقی عثمانی لکھتے ہیں:

''تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ صرف اسی کا نام نہیں کہ غیر مسلم حکومت تبلیغ پر قانونی پابندی عائد کر دے، بلکہ کسی غیر مسلم حکومت کا مسلمانوں کے مقابلے میں زیادہ پر شوکت ہونا بذات خود دین حق کی تبلیغ کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔ آج دنیا کے بیشتر ممالک میں تبلیغ پر کوئی قانونی پابندی عائد نہیں، لیکن چونکہ دنیا میں ان کی شوکت اور دبدبہ قائم ہے، اس لیے اسی شوکت اور دبدبے کی وجہ سے ایک ایسی عالمگیر ذہنیت پیدا ہو گئی ہے جو قبول حق کے راستے میں تبلیغ پر قانونی پابندی لگانے سے زیادہ بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا کفار کی اس شوکت کو توڑنا جہاد کے اہم ترین مقاصد میں سے ہے، تاکہ اس شوکت کی بنا پر جو نفسیاتی مرعوبیت لوگوں میں پیدا ہو گئی ہے، وہ ٹوٹے اور قبول حق کی راہ ہموار ہو جائے۔ جب تک یہ شوکت اور غلبہ باقی رہے گا، لوگوں کے دل اس سے مرعوب رہیں گے اور دین حق کو قبول کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ نہ ہو سکیں گے، لہٰذا جہاد جاری رہے گا۔'' (فقہی مقالات، ص۳/۳۰۱)

یہ توجیہ بھی بہرحال روایتی فقہی نقطہ نظر سے بہت حد تک مختلف ہے۔ فقہا نہ تو دعوت اسلام کی راہ میں حائل ایک رکاوٹ کے طور پر شوکت کفر کے ازالے کو جہاد کا باعث قرار دیتے ہیں اور نہ وہ قوت وشوکت کے حامل اور غیر حامل کفار میں کسی فرق کے قائل ہیں، جبکہ مولانا کو اپنی توجیہ کے ایک منطقی نتیجے کے طور پر اس فرق کو تسلیم کرنا پڑا ہے۔ لکھتے ہیں:

''ہاں! اگر اسلام اور مسلمانوں کو ایسی قوت وشوکت حاصل ہو جائے جس کے مقابلے میں کفار کی قوت وشوکت مغلوب ہو یا کم از کم وہ فتنے پیدا نہ کر سکے جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے تو اس حالت میں غیر مسلم ممالک سے پرامن معاہدوں کے ذریعے مصالحانہ تعلقات قائم رکھنا جہاد کے احکام کے منافی نہیں۔ اسی طرح جب تک کفر کی شوکت توڑنے کے لیے ضروری استطاعت مسلمانوں کو حاصل نہ ہو، اس وقت تک وسائل قوت کو جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ملکوں سے پر امن معاہدے بھی بلاشبہ جائز ہیں۔ گویا غیر مسلم ملکوں سے معاہدے دو صورتوں میں ہو سکتے ہیں:

(۱) جن ملکوں کی قوت وشوکت سے مسلمانوں کی قوت وشوکت کو کوئی خطرہ باقی نہ رہا ہو، ان سے مصالحانہ اور پرامن معاہدے کیے جا سکتے ہیں جب تک وہ دوبارہ مسلمانوں کی شوکت کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

(۲) مسلمانوں کے پاس جہاد بالسیف کی استطاعت نہ ہو تو استطاعت پیدا ہونے تک معاہدے کیے جا سکتے ہیں۔'' (فقہی مقالات، ۳/۳۰۶، ۳۰۷)

(v) قتال کی علت دفع محاربہ کو قرار دیا جائے یا دعوت اسلام کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے ازالے کو، عقلی طور پر نفس 'کفر' کو اس کی علت ماننے سے گریز کے بعد مختلف غیر مسلم گروہوں میں عملی امتیاز قائم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں، چنانچہ دور جدید کے بعض حنفی اہل علم نے یہی نقطہ نظر اختیار کیا ہے کہ کفار کے خلاف قتال صرف اس صورت میں کیا جائے گا جب وہ عملاً کسی جارحیت کے مرتکب ہوں یا ان کی جانب سے اس کا کوئی حقیقی اور واقعی خطرہ موجود ہو۔ فتاویٰ دار العلوم دیوبند کے مرتب مولانا مفتی ظفیر الدین لکھتے ہیں:

''کیا ان آیتوں میں کفر وشرک کا یہ مزاج صاف نہیں جھلکتا ہے کہ یہ عہد شکن، دوسرے دین کو برا کہنے والے، جنگ وجدال میں پہل کرنے والے، قتل وخون ریزی کے دل دادہ اور مجسم فتنہ وفساد ہیں، جن کی نگاہوں میں نہ قسم اور عہد وپیمان کی کوئی قیمت ہے، نہ فضائل اخلاق کے لیے کوئی اصول ہے، طاقت پا کر وہ سب کر گزرتے ہیں جس سے انسانیت اپنا سر پیٹ لیتی ہے۔ ان حالات میں جب ایک طرف سے یہ ساری چیزیں پائی جائیں، کیا یہ مناسب ہوگا کہ دوسری طرف والے ہاتھ پاؤں توڑ کر بیٹھ رہیں اور فتنہ وفساد کو کچلنے کی جدوجہد نہ کریں؟ ایک سلیم الطبع انسان اس فیصلہ پر مجبور ہوگا کہ جب ایسا وقت آئے تو مقابلہ کرنا اور ظلم وتعدی کا گلا گھونٹنا صرف ایک قوم کے لیے مفید نہیں بلکہ پوری کائنات انسانی پر احسان عظیم ہے۔ مگر اس کا یہ بھی مطلب نہیں ہے کہ سارے کافر اسی مزاج کے ہوتے ہیں۔ یقیناًان کے یہاں بھی کچھ لوگ سمجھ دار، رحم دل اور دور اندیش ہوتے ہیں۔ چنانچہ جو لوگ ایسے ہوں، ان سے رواداری اور احسان کا برتاؤ کیا جائے۔ ....... معلوم ہوا کہ کافروں کے جو ممالک یا ان کی جو جماعتیں محارب ومخالف کی حیثیت نہیں رکھتی ہیں، ان سے تعلقات بہتر رکھے جائیں گے اور جو ممالک یا جماعتیں محارب ومخالف ہوں گی، ان میں اسلام اور مسلمانوں کو برداشت کرنے کا جذبہ نہیں ہوگا، ان سے اجتناب اور بوقت ضرورت مقابلہ کیا جائے گا۔'' (اسلام کا نظام امن، ص ۱۳۶، ۱۳۷)

''جو لوگ مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوں، یا دین کی تبلیغ میں مزاحم ہوں، یا اس طرح کی کوئی اور چیز ان میں مسلمانوں اور ان کے مذہب کے خلاف پائی جائے، ایسے لوگوں کو بخشنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ قوت اگر ہے تو بہرحال ان کا مقابلہ کیا جائے گا، لیکن اگر وہ کسی طرح بھی اسلام اور پیروان اسلام کے لیے نقصان دی نہیں ہے اور یہ مظالم اور مردم آزاری میں مبتلا نہیں تو خواہ مخواہ ان سے جنگ کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اگر ان کی طرف سے اس طرح کا کوئی خطرہ یا اندیشہ ہے کہ وہ قتال سے باز نہیں آئیں گے اور یہ کہ دیر سویر فتنہ فساد کریں گے تو پھر جہاد کی اجازت ہوگی۔'' (اسلام کا نظام امن، ص ۱۲۶)

حنفی مکتبہ فکر کے ایک دوسرے جید عالم مولانا شمس الحق افغانی غیر محارب کفار کے ساتھ صلح وامن کی تعلیم دینے والی آیات کو، کلاسیکل فقہی نقطہ نظر کے برعکس، منسوخ قرار نہیں دیتے ، چنانچہ ان سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''خداوند تعالیٰ کا یہ ارشاد: وان جنحوا للسلم فاجنح لہا (انفال) ''اگر کفار کا محارب فریق صلح کے لیے جھک جائے تو تم بھی جھک جاؤ'' اور یہ کیوں نہ فرمایا گیا کہ ''اسلام یا تلوار''؟ لا ینہاکم اللہ عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبروہم وتقسطوا الیہم ان اللہ یحب المقسطین۔ تم کو اللہ ان کفار کے متعلق جو تم سے دین کی وجہ سے نہیں لڑے اور نہ تم کو تمھارے گھروں سے نکالا، اس سے نہیں روکتا کہ ان کفار سے تم احسان کرو اور ان کافروں سے منصفانہ سلوک کرو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔'' ان کافروں سے ایسا کیوں نہ کہا گیا کہ اسلام لاؤ ورنہ تلوار ہے۔ سورہ نساء میں خدا کا حکم قرآنی ہے: ''فان اعتزلوکم ولم یقاتلوکم والقوا الیکم السلم فما جعل اللہ لکم علیہم سبیلا۔ ''اگر وہ کفار تم سے کنارہ کریں پھر نہ لڑیں اور وہ تمھارے سامنے صلح کا پیغام ڈالیں تو اللہ تعالیٰ نے تم کو ان پر حملہ کرنے کی راہ نہیں دی ہے''۔ قرآن حکیم اس قسم کے مضامین سے پر ہے۔'' (مقالات افغانی، ۱/۷۸، ۷۹)

اس وقت امت مسلمہ نے بحیثیت مجموعی عالمی سیاست اور قانون بین الاقوام کے دائرے میں اسی نقطہ نظر کو اختیار کر لیا ہے، چنانچہ عالم اسلام کے تمام ممالک دنیا کے اس سیاسی وقانونی نظام کا حصہ ہیں جس کی نمائندگی بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کا ادارہ کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر میں طاقت کے استعمال کے حوالے سے دو اصول واضح طور پر طے کیے گئے ہیں:

ایک یہ کہ اقوام عالم کی مذہبی آزادی اور سیاسی خود مختاری کو مسلمہ اصول کی حیثیت حاصل ہے، چنانچہ اقوام متحدہ کے قیام کے مقاصد کے ذیل میں لکھا ہے:

''قوموں کے مابین انسانوں کے حق خود ارادیت اور مساوی حقوق کے اصول کے احترام پر مبنی دوستانہ تعلقات کا فروغ ، اور عالمی امن کو استحکام دینے کے لیے دیگر مناسب اقدامات کرنا۔

معاشی، سماجی، ثقافتی یا انسانی نوعیت کے بین الاقوامی مسائل کے حل، انسانی حقوق کے احترام کی حوصلہ افزائی اور فروغ، اور نسل، جنس، زبان یا مذہب کی تفریق کے بغیر تمام انسانوں کے لیے بنیادی آزادیوں کے حصول کے لیے بین الاقوامی سطح پر باہمی تعاون حاصل کرنا۔'' (آرٹیکل ۱، شق ۲ و ۳)

نیز لکھا ہے:

''تمام رکن ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات میں کسی بھی ملک کی علاقائی سالمیت یا سیاسی آزادی کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی سے باز رہیں گے۔ اسی طرح وہ کوئی بھی ایسا انداز اختیار نہیں کریں گے جو اقوام متحدہ کے مقاصد سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔'' (آرٹیکل ۲، شق ۴)

دوسرے یہ کہ اقوام کے باہمی تنازعات میں طاقت اور اسلحہ کے استعمال کا جواز صرف 'دفاع' کی حد تک محدود ہے:

''تمام رکن ممالک اپنے بین الاقوامی تنازعات کو پر امن ذرائع سے اس انداز میں حل کریں گے کہ عالمی امن، تحفظ اور انصاف کو خطرہ لاحق نہ ہو۔'' (آرٹیکل ۲، شق ۳ )

''اگر اقوام متحدہ کے کسی رکن ملک کے خلاف مسلح حملہ ہوتا ہے تو اس چارٹر کی کوئی شق انفرادی یا اجتماعی دفاع کے حق پر اثر انداز نہیں ہوگی، جب تک کہ سلامتی کونسل عالمی وامن وحفاظت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات نہ کر لے۔ دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بھی ملک جو اقدامات کرے، ان کی فوری طور پر سلامتی کونسل کو اطلاع دی جائے گی اور یہ اقدامات اس چارٹر میں دیے گئے سلامتی کونسل کے اس اختیار اور ذمہ داری کو متاثر نہیں کر سکیں گے کہ وہ عالمی امن وامان کو قائم رکھنے یا بحال کرنے کے لیے کسی بھی وقت ایسا ایکشن لے سکتی ہے جسے ضروری خیال کیا جائے۔'' (آرٹیکل ۵۱)

اقوام متحدہ کے مذکورہ چارٹر پر تمام مسلمان ممالک نے دستخط کر رکھے ہیں اور مسلم ممالک کے اہل علم کی ایک عمومی تائید بھی اس معاہدے کو حاصل ہے۔ اگرچہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی بعض شقوں کے حوالے سے عالم اسلام کے مختلف حلقوں کی جانب سے بعض تحفظات وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں لیکن ہمارے علم میں اسلام کا نمائندہ سمجھے جانے والا کوئی ذمہ دار مذہبی حلقہ یا شخصیت ایسی نہیں ہے جس نے جنگ کے جواز اور قوت وطاقت کے استعمال کے حوالے سے اقوام متحدہ کے اختیار کردہ مذکورہ موقف کو اسلامی فلسفہ جنگ کے منافی قرار دیتے ہوئے اس کی تردید کی ہو یا اس بات کی وضاحت مناسب سمجھی ہو کہ اس معاہدے میں شریک ہونے کا جواز محض معروضی حالات کی حد تک ہے اور جیسے ہی مسلمانوں کو مناسب قوت حاصل ہوگی، اس سے براء ت کا اعلان واجب ہو جائے گا۔

جہاد کے توسیعی اہداف؟

جہاد کے کلاسیکی تصور میں اعلاء کلمۃ اللہ کو ہدف اور غایت قرار دے کر اس کے حصول کے لیے جہاد کو فرض کفایہ قرار دیا گیا ہے، تاہم یہ تصور پورے معمورۂ ارضی پر اسلام کا غلبہ قائم کرنے یا دوسرے لفظوں میں ایک عالمگیر اسلامی ریاست قائم کرنے کو اپنا ہدف قرار نہیں دیتا۔ فقہا کی تصریحات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ جہاد کے ذریعے اسلامی سلطنت کی توسیع کو زمان ومکان میں محدود مانتے ہے اور ابتدائی صدیوں میں توسیع سلطنت کا یہ سلسلہ جس جگہ پہنچ کر فطری طور پر رک گیا تھا، اصلاً اسی کی حفاظت اور دفاع کو جہاد کا ہدف قرار دیتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے فقہا کے نزدیک عمل جہاد کے تسلسل کو قائم رکھنے کے لیے محض علامتی اقدامات پر اکتفا کرنا کافی ہے۔ چنانچہ جہاد کے فرض کفایہ کی ادائیگی کی صورت وہ یہ بتاتے ہیں کہ مسلم حکمران سال میں کم از کم ایک دفعہ حملہ آور ہو کر دشمن کے علاقے میں داخل ہو جائے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ جب تک وہ علاقہ فتح نہ ہو جائے، مسلمان اس محاذ پر مسلسل داد شجاعت دیتے رہیں۔ امام شافعی فرماتے ہیں:

واقل ما یجب علیہ ان لا یاتی علیہ عام الا ولہ فیہ غزو حتی لا یکون الجہاد معطلا فی عام الا من عذر واذا غزا عاما قابلا غزا بلدا غیرہ ولا یتابع الغزو علی بلد ویعطل من بلاد المشرکین غیرہ.(الام، ۴/۱۶۸)

''اس فریضے کی ادائیگی کی کم سے کم صورت یہ ہے کہ کوئی سال ایسا نہ گزرے جس میں دشمن پر حملہ نہ کیا جائے، تاکہ کسی عذر کے بغیر جہاد کا عمل معطل نہ رہے۔ اور جب حکمران آئندہ سال حملہ کرے تو کسی دوسرے علاقے پر کرے اور ایسا نہ کرے کہ ایک ہی علاقے پر بار بار حملہ کرتا رہے اور اس کے علاوہ کفار کے دوسرے علاقوں کو نظر انداز کر دے۔''

یہ جزئیہ اس حوالے سے قابل غور ہے کہ اس میں جہاد کو کسی مخصوص غایت مثلاً کفار کے علاقوں پر غلبہ حاصل کرنے کے ساتھ وابستہ کر کے مسلسل پیش قدمی کو لازم قرار دینے کے بجائے نفس 'قتال' کو بذات خود ایک مقصد قرار دے کر اس کی ادائیگی کا ایک طریقہ بتلا دیا گیا ہے۔ اس جزئیے کا مفہوم بین السطور یہ ہے کہ چونکہ قتال مسلمانوں پر لازم کیا گیا ہے، اس لیے اس فریضے کی ادائیگی کے لیے سال میں ایک دفعہ کفار پر حملہ آور ہو جانا کافی ہے۔ کفار کے علاقوں پر مسلسل قبضہ کرتے چلے جانا اور اسلامی سلطنت کی پیہم توسیع ان فقہا کے پیش نظر نہیں ہے۔ اس صورت میں یہ بس ایک علامتی کارروائی بن جاتی ہے جس کا مقصد قتال کے حکم کو محض اس کے ظاہر کے لحاظ سے پورا کر دینا ہے۔

فقہاے متاخرین کی کتب میں اس جزئیے میں بھی مزید ترمیم کر دی گئی اور یہ کہا گیا کہ 'قتال' کا فرض کفایہ ادا کرنے کی صورت صرف یہی نہیں کہ دشمن کے علاقے میں داخل ہو کر اس پر حملہ کیا جائے، بلکہ اگر مسلم حکومت محض اپنی سرحدوں پر فوج کی تعیناتی کا اہتمام کرلے تو بھی یہ فرض ادا ہو جائے گا۔ شہاب الدین الرملی اپنے فتاویٰ میں لکھتے ہیں:

ویسقط ہذا الفرض باحد امرین اما ان یشحن الامام الثغور بالرجال المکافئین للعدو فی القتال ویولی علی کل نفر امینا کافیا یقلدہ امر الجہاد وامور المسلمین واما ان یدخل علی دار الکفر غازیا بنفسہ بالجیوش او یومر علیہم من یصلح لذلک واقلہ مرۃ فی کل سنۃ.(فتاویٰ شہاب الدین الرملی، بہامش فتاویٰ ابن حجر المکی، ۴/ ۴۴، ۴۵)

''جہاد کا فرض کفایہ دو میں سے کسی ایک صورت میں ادا ہو جائے گا۔ ایک یہ کہ حکمران سرحدوں پر اتنی فوج جمع کر دے جو لڑائی میں دشمن کا مقابلہ کر سکیں اور ہر گروہ پر ایک ذمہ دار مقرر کر دے جس کو جہاد اور مسلمانوں کے دوسرے امور کی ذمہ داری سونپ دی جائے۔ دوسری یہ کہ حملہ کرتے ہوئے کفار کے علاقے میں داخل ہو جائے، چاہے بذات خود لشکر کی قیادت کرتا ہوا جائے یا کسی اہل آدمی کو ان کا امیر بنا کر بھیج دے۔ اس دوسری صورت میں سال میں کم سے کم ایک دفعہ حملہ کرنا ضروری ہے۔''

اسی رجحان کی جھلک فقہا کے ہاں پیدا ہونے والی اس بحث میں بھی دکھائی دیتی ہے کہ کیا جنگ کرنے سے پہلے کفار کو اسلام کی دعوت دینے کی ضرورت ہے یا نہیں؟ اکابر اہل علم کی رائے یہ تھی کہ اس کی ضرورت باقی نہیں رہی:

قال احمد کان النبی یدعو الی الاسلام قبل ان یحارب حتی اظہر اللہ الدین وعلا الاسلام ولا اعرف الیوم احدا یدعی قد بلغت الدعوۃ کل احد والروم قد بلغتہم الدعوۃ وعلموا ما یراد منہم وانما کانت الدعوۃ فی اول الاسلام.(ابن قدامہ، المغنی، مسئلہ ۷۴۳۶)

''امام احمد فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جنگ سے پہلے دشمن کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ نے دین کو غالب کر دیا اور اسلام سربلند ہو گیا۔ میرے خیال میں آج کسی شخص کو دعوت دینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ سب تک دعوت پہنچ چکی ہے۔ رومیوں تک بھی دعوت پہنچ چکی ہے اور انھیں معلوم ہے کہ ان سے کیا چیز مطلوب ہے۔ دعوت دینا صرف اسلام کے ابتدائی زمانے میں ضروری تھا۔''

وقد قال بعض الفقہاء والتابعین: انہ لیس احد من اہل الشرک ممن یبلغہ جنودنا الا وقد بلغتہ الدعوۃ وحل للمسلمین قتالہم من غیر دعوۃ.(ابو یوسف، الخراج، ص ۲۰۷)

''بعض فقہا اور تابعین نے فرمایا ہے کہ جن اہل کفر تک ہمارے لشکر پہنچ چکے ہیں، ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس تک دعوت نہ پہنچ چکی ہو۔ اب مسلمانوں کے لیے دعوت دیے بغیر ان کے ساتھ قتال کرنا جائز ہے۔''

یہ نکتہ اس پہلو سے قابل غور ہے کہ مذکورہ فقہا نے جس طرح سے اسلام کی دعوت کو عام قرار دے کر مزید اس کا اہتمام کرنے کو غیر ضروری قرار دیا ہے، اس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ جہاد وقتال میں ان کے پیش نظر ساری دنیا کے کفار نہیں، بلکہ وہ مخصوص قومیں ہیں جن تک ایک تسلسل کے ساتھ اسلام کی دعوت پہنچ چکی تھی، اس لیے کہ ساری دنیا کے غیر مسلموں تک، بالخصوص جنوبی ایشیا، مغربی یورپ اور وسطی وجنوبی افریقہ کے علاقوں میں، اسلام کی دعوت ان فقہا کے زمانے میں نہیں پہنچی تھی۔ چنانچہ یہ دعویٰ کہ ''تمام لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچ چکی ہے''، صرف اسی صورت میں درست مانا جا سکتا ہے جب اس کو بعض مخصوص قوموں کے تناظر میں دیکھا جائے۔

ابن حجر نے فرضیت جہاد کی نوعیت متعین کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حین حیات میں مسلمانوں پر عائد ہونے والی ذمہ داری اور آپ کے بعد اس فریضے کی ادائیگی کا حکم مختلف ہے۔ آپ کی حیات میں کچھ گروہ مثلاً انصار اور مہاجرین اس ذمہ داری کے لیے خاص طورپر مسؤل تھے، جبکہ باقی لوگوں کے لیے یہ فرض کفایہ کی حیثیت رکھتا تھا، تاہم آپ کے بعد فقہا کے مشہور قول کے مطابق یہ فرض کفایہ ہے جس کی ادائیگی کا طریقہ جمہور کے نزدیک یہ ہے کہ سال میں ایک مرتبہ کسی نہ کسی محاذ پر کفار کے خلاف جنگ کی جائے یا جب بھی ممکن ہو، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ ہاں اگر دشمن کسی علاقے پر حملہ آور ہو جائے تو اس صورت میں حکمران جن لوگوں کو اس کے لیے منتخب کرے گا، ان پر فرض عین ہو جائے گا۔ بحث کے آخر میں ابن حجر نے اپنا جو رجحان بیان کیا ہے، وہ توجہ طلب ہے۔ لکھتے ہیں:

والذی یظہر انہ استمر علی ما کان علیہ فی زمن النبی صلی اللہ علیہ وسلم الی ان تکاملت فتوح معظم البلاد وانتشر الاسلام فی اقطار الارض ثم صار الی ما تقدم ذکرہ. (فتح الباری ۶/۳۸)

''قرین قیاس بات یہ ہے کہ جہاد کی فرضیت کا معاملہ اسی حالت پر رہا جیسے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا، یہاں تک کہ بڑے بڑے ممالک فتح ہو گئے اور اسلام زمین کے اطراف واقطار میں پھیل گیا۔ اس کے بعد اس کے فرض ہونے کی نوعیت وہ ہو گئی جس کا ابھی ذکر کیا گیا۔''

مذکورہ بحث سے واضح ہے کہ کلاسیکی علمی وفقہی روایت میں پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کو جہاد کا ہدف قرار نہیں دیا گیا، البتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کی روشنی میں یہ بات ایک پیش گوئی کی حیثیت سے ضرور بیان کی جاتی ہے جو سیدنا مسیح علیہ السلام کے نزول اور امام مہدی کے ظہور کے زمانے میں پوری ہوگی۔ اس حوالے سے علامہ انور شاہ کشمیری کی رائے کا ذکر بھی یہاں دلچسپی کا باعث ہوگا جو اس عام رائے کو غلط قرار دیتے ہیں جس کے مطابق سیدنا مسیح کے نزول ثانی کے موقع پر ساری دنیا میں اسلام کا بول بالا ہو جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ روایات میں اس موقع پر ساری سرزمین پر اسلام کے غالب آنے کا جو ذکر ہوا ہے، اس سے مراد پوری روے زمین نہیں، بلکہ شام اور اس کے گرد ونواح کا مخصوص علاقہ ہے جہاں ان کا ظہور ہوگا اور جو اس وقت اہل اسلام اور اہل کفر کے مابین کشمکش اور جنگ وجدال کا مرکز ہوگا۔ لکھتے ہیں:

ان الغلبۃ المعہودۃ انما ہی بالارض التی ینزل بہا عیسی علیہ الصلاۃ والسلام لا علی البسیطۃ کلہا وما ذالک الا من تبادر الاوہام فقط.(فیض الباری، ۴/ ۳۴۳)

''جس غلبے کا حدیث میں ذکر ہوا ہے، وہ اس سرزمین میں ہوگا جہاں حضرت عیسیٰ نازل ہوں گے، نہ کہ پورے کرۂ ارضی پر۔ یہ خیال بس یوں ہی لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہو گیا ہے۔''

دیوبندی مکتبہ فکر کے ایک اور جلیل القدر محدث مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ہاں بھی یہی رجحان دکھائی دیتا ہے، چنانچہ وہ لکھتے ہیں:

''امام مہدی کی پیدائش اور آمد سے پہلے دنیا میں جو ظلم وجور ہوگا، اللہ کے فضل وکرم سے اقتدار میں آنے کے بعد زیر اثر علاقہ میں وہ عدل وانصاف قائم کریں گے اور نا انصافی کو نیست ونابود کر دیں گے۔''(ارشاد الشیعہ، ص ۱۹۵)

''دجال لعین کے قتل کے بعد جس علاقہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا اقتدار ہوگا، وہاں بغیر اسلام کے اورکوئی مذہب باقی نہ رہے گا۔'' (ایضاً، ص ۲۰۱)

[باقی]

۱؂ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ زیر بحث سوال کے حوالے سے جو کنفیوژن یا تضاد سرخسی اور بعد کے حنفی فقہا کے ہاں نظر آتا ہے، جصاص کے ہاں دکھائی نہیں دیتا۔ وہ قتال کی علت 'کفر' کو قرار دینے کے معاملے میں یکسو ہیں اور شریعت کے ایک عمومی حکم کے طور پر قتال پر بحث کرتے ہوئے ان کے ہاں 'دفع حرابہ' کے اصول کا ذکر نہیں ملتا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اہل ذمہ کے عورتوں، بچوں اور رہبان وغیرہ کو جزیہ سے مستثنیٰ قرار دینے کی وجہ بعد کے حنفی فقہا کی طرح یہ نہیں بیان کرتے کہ قتال اور اس کے بعد جزیہ عائد کرنے کا مقصد دفع محاربہ ہے اور مذکورہ افراد حرابہ کے اہل نہیں۔ اس کے بجاے انھوں نے آیت جزیہ کے فحواے کلام سے یہ استنباط کیا ہے کہ اداے جزیہ کو چونکہ قتال کی غایت قرار دیا گیا ہے، اس لیے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جزیہ کا نفاذ اہل قتال پر ہی ہوگا۔ (احکام القرآن، ۶/۴۹۰)