احکام قتال کی تحدید و تخصیص یا تعمیم کی بحث فقہی روایت کے ارتقا کا ایک جائزہ- (۱۱)


(گذشتہ سے پیوستہ ) جہاد کی فرضیت

جمہور فقہا کا نقطۂ نظر یہ رہا ہے کہ جہاد کا آغاز کرنے کے لیے کفار کی طرف سے کسی جارحیت یا اشتعال انگیز رویے (Provocation) کا پایا جانا ضروری نہیں، بلکہ اگر کوئی غیر مسلم حکومت مسلمانوں کے خلاف کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہ رکھتی ہو، تب بھی اس کے ساتھ برسر جنگ ہونا مسلمانوں پر واجب ہے۔ (سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۱۸۸) ابن الہمام لکھتے ہیں:

وقتال الکفار ... واجب وان لم یبدء ونا لان الادلۃ الموجبۃ لہ لم تقید الوجوب ببداء تہم.(فتح القدیر ۱۲/۳۸۵)

''کفار کے خلاف جنگ کرنا واجب ہے، اگرچہ وہ ہمارے خلاف اس کا آغاز نہ کریں، کیونکہ جہاد کو واجب کرنے والے دلائل میں اس کے وجوب کو اس سے مشروط نہیں کیا گیا کہ پہل کفار کی طرف سے کی گئی ہو۔''

اسی طرح کسی کافر قوم کے ساتھ صلح کا دائمی معاہدہ فلسفہ جہاد کے منافی ہے، لہٰذا کفار کے ساتھ 'مہادنہ' یعنی برابری کی سطح پر صلح کے تعلقات قائم نہیں ہو سکتے اور اگر کوئی غیر مسلم قوم اس کی خواہاں ہو تو اس کی پیش کش قبول نہیں کی جائے گی۔ (الشیبانی، کتاب السیر والخراج والعشر، ۱۵۴) ہاں، اگر مسلمان ان کے ساتھ جنگ کرنے کی پوزیشن میں نہ ہوں یا کوئی دوسری سیاسی یا مذہبی مصلحت پیش نظر ہو تو دو شرطوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے:

ایک یہ کہ معاہدہ محدود مدت کے لیے ہو، کیونکہ دائمی صلح کی صورت میں جہاد کا بالکلیہ ترک کر دینا لازم آتا ہے۔ اس صورت میں بعض فقہا کے نزدیک چار مہینے سے زیادہ مدت کے لیے صلح نہیں کی جا سکتی، بعض کے نزدیک اس کی مدت زیادہ سے زیادہ دس سال ہے، جبکہ بعض کی رائے میں حالات ومصالح کے لحاظ سے کسی بھی مخصوص مدت کے لیے صلح کا معاہدہ کیا جا سکتا ہے، البتہ کوشش یہ کرنی چاہیے کہ کم سے کم مدت کے لیے معاہدۂ صلح کی پابند ی اختیار کی جائے۔ (ابن قدامہ، المغنی، ۹/۷۵۹۰، ۷۵۹۱ ۔ نیز دیکھیے الام ۴/۲۰۴)

دوسری یہ کہ صلح کا معاہدہ محض اس وقت تک برقرار رکھا جائے گا جب تک کہ وہ مصلحت جس کے پیش نظر صلح کی گئی ہے، باقی ہو یا مسلمانوں کی جنگی استعداد جہاد کی متحمل نہ ہو۔ صورت حال تبدیل ہونے پر معاہدۂ صلح کو ختم کر کے کفار کے خلاف اقدام کرنا لازم ہے۔ (سرخسی، المبسوط، ۱۰/۸۶)

تاہم مذکورہ رائے کے برعکس فقہا کے ایک گروہ کی رائے یہ بھی رہی ہے کہ جو کفار مسلمانوں کے خلاف جنگ کی ابتدا نہ کریں، ان کے خلاف قتال فرض نہیں۔ مثال کے طور پر طبری نے 'کتب علیکم القتال' (البقرہ ۲: ۲۱۶) کے تحت جلیل القدر تابعی مفسر عطاء رحمہ اللہ کی یہ رائے نقل کی تھی کہ مسلمانوں پر جہاد فرض نہیں اور مذکورہ قرآنی حکم صرف صحابہ کے ساتھ خاص تھا۔ اسی طرح عمرو بن دینار کی رائے بھی یہی تھی کہ کفار پر حملہ کرنا واجب نہیں:

عن ابن جریج قال قلت لعطاء اواجب الغزو علی الناس فقال ہو وعمرو بن دینار ما علمناہ.(جصاص، احکام القرآن ۳/۱۱۳)

''ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء سے پوچھا کہ کیا کفار پر حملہ آور ہونا مسلمانوں پر واجب ہے؟ تو عطاء اور عمرو بن دینار دونوں نے کہا کہ ہماری رائے میں واجب نہیں ہے۔''

سفیان ثوری سے یہ رائے منقول ہے کہ کفار جب تک مسلمانوں کے خلاف قتال کی ابتدا نہ کریں، ان کے خلاف جنگ کرنا لازم نہیں۔ امام محمد 'السیر الکبیر' میں لکھتے ہیں:

کان الثوری یقول القتال مع المشرکین لیس بفرض الا ان تکون البدایۃ منہم فحینئذ یجب قتالہم دفعا لظاہر قولہ فان قاتلوکم فاقتلوہم وقولہ وقاتلوا المشرکین کافۃ کما یقاتلونکم کافۃ.(سرخسی، شرح السیر الکبیر، ۱/۱۸۷)

''سفیان ثوری کہتے تھے کہ جب تک کفار جنگ کا آغاز نہ کریں، ان کے ساتھ لڑنا فرض نہیں۔ ہاں اگر وہ حملہ کریں تو پھر دفاع میں ان سے لڑنا فرض ہے۔ ان کا استدلال اللہ تعالیٰ کے ان ارشادات سے ہے کہ ''پھر اگر وہ تم سے لڑیں تو انھیں قتل کرو'' اور ''تم بھی مل کر مشرکین سے لڑو جیسے وہ مل کر تم سے لڑتے ہیں۔''

ان حضرات اور جمہور کے مابین نکتہ اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے جصاص لکھتے ہیں:

وہذا ہو موضع الخلاف بین الفقہاء فی فرض الجہاد فحکی عن ابن شبرمۃ والثوری فی آخرین ان الجہاد تطوع ولیس بفرض.(احکام القرآن، ۳/۱۱۳)

''جہاد کی فرضیت کے باب میں یہ نکتہ فقہا کے مابین محل نزاع ہے، چنانچہ ابن شبرمہ، ثوری اور بعض دیگر اہل علم سے یہ رائے منقول ہے کہ کہ جہاد محض مستحب ہے، فرض نہیں۔''

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

موضع الخلاف بینہم انہ متی کان بازاء العدو مقاومین لہ ولا یخافون غلبۃ العدو علیہم ہل یجوز للمسلمین ترک جہادہم حتی یسلموا او یودوا الجزیۃ فکان من قول ابن عمر وعطاء وعمرو بن دینار وابن شبرمۃ انہ جائز للامام والمسلمین ان لا یغزوہم وان یقعدوا عنہم وقال آخرون علی الامام والمسلمین ان یغزوہم ابدا حتی یسلموا او یودوا الجزیۃ.(احکام القرآن، ۳/۱۱۴)

''فقہا کے مابین اختلاف اس صورت میں ہے کہ جب مسلمانوں کا پلہ دشمن کے برابر ہو اور انھیں دشمن سے مغلوب ہونے کا خدشہ بھی نہ ہو تو کیا مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ وہ انھیں قبول اسلام یا جزیہ کی ادائیگی پر مجبور کرنے کے لیے جہاد نہ کریں؟ ابن عمر، عطا، عمرو بن دینار اور ابن شبرمہ کی رائے یہ ہے کہ اس صورت میں بھی مسلمانوں اور ان کے حکمران کے لیے جائز ہے کہ وہ کفار پر حملہ نہ کریں اور آرام سے بیٹھے رہیں، جبکہ دوسرے فقہا کی رائے میں مسلمانوں اور ان کے حکمران پر ان کے ساتھ جنگ کرنا ہمیشہ واجب ہے یہاں تک کہ وہ یا تو اسلام لے آئیں یا جزیہ دینے کے لیے تیار ہو جائیں۔''

اس کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اہل علم ان آیات کو جن میں غیر محارب کفار کے ساتھ جنگ کرنے سے منع کیا گیا ہے، منسوخ نہیں سمجھتے۔ ابوبکر الجصاص لکھتے ہیں:

ومن الناس من یقول ان ہذہ الآیات غیر منسوخۃ وجائز للمسلمین ترک قتال من لا یقاتلہم من الکفار اذ لم یثبت ان حکم ہذہ الآیات فی النہی عن قتال من اعتزلنا وکف عن قتالنا منسوخ وممن حکی عنہ ان فرض الجہاد غیر ثابت ابن شبرمۃ وسفیان الثوری.(احکام القرآن ۲/۲۲۲)

''بعض علما کی رائے یہ ہے کہ یہ آیات منسوخ نہیں ہیں اور مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ جو کفار ان کے ساتھ جنگ نہیں کرتے، ان کے خلاف نہ لڑیں، کیونکہ یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں کہ ان آیات میں مسلمانوں کے ساتھ جنگ سے گریز کرنے والے کفار کے خلاف نہ لڑنے کا جو حکم دیا گیا ہے، وہ منسوخ ہو چکا ہے۔ جن اہل علم سے جہاد کے فرض نہ ہونے کی رائے منقول ہے، ان میں ابن شبرمہ اور سفیان ثوری شامل ہیں۔''

ابن رشد اس اختلاف کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

فاما ہل تجوز المہادنۃ؟ فان قوما اجازوہا ابتداء من غیر سبب اذا رای ذلک الامام مصلحۃ للمسلمین وقوم لم یجیزوہا الا لمکان الضرورۃ الداعیۃ لاہل الاسلام من فتنۃ او غیر ذلک .... وسبب اختلافہم فی جواز الصلح من غیر ضرورۃ معارضۃ ظاہر قولہ تعالی فاذا انسلخ الاشہر الحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم وقولہ تعالی قاتلوا الذین لا یومنون باللہ ولا بالیوم الآخر لقولہ تعالیٰ وان جنحوا للسلم فاجنح لہا وتوکل علی اللہ فمن رای ان آیۃ الامر بالقتال حتی یسلموا او یعطوا الجزیۃ ناسخۃ لآیۃ الصلح قال لا یجوز الصلح الا من ضرورۃ ومن رای ان آیۃ الصلح مخصصۃ لتلک قال الصلح جائز اذا رای ذلک الامام وعضد تاویلہ بفعلہ ذلک صلی اللہ علیہ وسلم وذلک ان صلحہ صلی اللہ علیہ وسلم عام الحدیبیۃ لم یکن لموضع الضرورۃ.(بدایۃ المجتہد، ۱/۲۸۳، ۲۸۴)

''رہا یہ سوال کہ کیا کفار سے صلح کرنا جائز ہے تو ایک گروہ کی رائے میں اگر حکمران اسے مسلمانوں کے حق میں مناسب سمجھے تو کسی مجبوری کے بغیر ازخود بھی کفار سے صلح کرنا جائز ہے۔ ایک دوسرے گروہ کی رائے یہ ہے کہ اہل اسلام کو نقصان پہنچنے کے خدشے یا اس طرح کی کسی دوسری مجبوری کے بغیر صلح کرنا درست نہیں۔ اختلاف کی وجہ یہ ہے کہ 'فاقتلوا المشرکین' اور 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ' کے ارشادات الٰہی بظاہر اس دوسری آیت سے ٹکراتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ 'وان جنحوا للسلم فاجنح لہا وتوکل علی اللہ'۔ سو جن فقہا کی رائے میں قتال کا حکم دینے والی آیات نے صلح کی آیت کو منسوخ کر دیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ کسی مجبوری کے بغیر کفار سے صلح جائز نہیں۔ اور جن اہل علم کے خیال میں صلح کی آیت قتال کے مذکورہ احکام کے لیے مخصص ہے، وہ کہتے ہیں کہ اگر حکمران مناسب سمجھے تو صلح کرنا جائز ہے۔ نیز یہ آیات کے اس مفہوم کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے بھی پیش کرتے ہیں، کیونکہ حدیبیہ کی صلح آپ نے کسی مجبوری کے تحت نہیں کی تھی۔''

امام طبری بھی غالباً اس رائے کے حق میں رجحان رکھتے ہیں، چنانچہ سورۂ انفال کی آیت 'وان جنحوا للسلم فاجنح لہا' میں کفار کی طرف سے صلح کی پیش کش قبول کرنے کرنے کی جو اصولی ہدایت دی گئی ہے، امام طبری اس کو کسی ایک مخصوص صورت میں محصور نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے نزدیک اہل کتاب کے ساتھ صلح کی صور ت تین میں سے کوئی ایک ہو سکتی ہے: یا تو یہ کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ ادا کر کے دار الاسلام کے باشندے بن جائیں اور یا مسلمانوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر لیں۔ لکھتے ہیں:

(وان جنحوا للسلم فاجنح لہا) وان مالوا الی مسالمتک ومتارکتک الحرب اما بالدخول فی الاسلام واما باعطاء الجزیۃ واما بموادعۃ ونحو ذلک من اسباب السلم والصلح (فاجنح لہا) یقول فمل الیہا وابذل لہم ما مالوا الیہ من ذلک وسالوکہ.(تفسیر الطبری، ۱۰/۴۱)

''وان جنحوا للسلم فاجنح لہا کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ آپ کے ساتھ جنگ کو چھوڑ کر صلح کرنے پر آمادہ ہوں، چاہے اسلام میں داخل ہو کر یا جزیہ ادا کر کے یا صلح کا باہمی معاہدہ کر کے اور اسی طرح صلح کے طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار کر کے، تو آپ بھی اس پر آمادہ ہو جائیں اور کفار آپ سے صلح کا جو مطالبہ کرتے ہیں، اسے قبول کر لیں۔''

مذکورہ اہل علم کا جو استدلال مذکورہ عبارتوں میں نقل ہوا ہے، وہ دو حوالوں سے تشنہ ہے:

ایک یہ کہ اگر جہاد فرض نہیں ہے تو پھر 'فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم'، 'قاتلوا الذین لا یومنون باللہ' اور اس مفہوم کی دیگر آیات کا مطلب کیا ہے جو صراحتاً جہاد کی فرضیت پر دلالت کر رہی ہیں؟ عطاء رحمہ اللہ سے ان آیات کی یہ توجیہ تو منقول ہے کہ ان کے مخاطب خاص صحابہ ہی تھے، لیکن یہ بات واضح نہیں کہ ان کے نزدیک اس تخصیص کی بنیاد کیا ہے۔

دوسرا یہ کہ اگر یہ اہل علم اپنے موقف کی بنیاد 'فان اعتزلوکم فلم یقاتلوکم' کے حکم قرآنی کو بناتے ہیں تو اس میں تو غیر محارب کفار کے ساتھ جہاد کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، جبکہ یہ حضرات، منقول استدلال کے مطابق، اس کو ممنوع نہیں ،بلکہ جائز مانتے ہیں۔ چنانچہ جصاص کا یہ تبصرہ بالکل درست ہے کہ اس موقف کی رو سے بھی زیر بحث حکم کو لازماً منسوخ ماننا پڑے گا۔

مذکورہ اہل علم کی آرا چونکہ اپنے پورے استدلال کے ساتھ تفصیلی صورت میں ہمارے سامنے نہیں ہیں، اس لیے ہم یقین کے ساتھ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ان کے نزدیک مذکورہ سوالات کی کیا توجیہ ہوگی۔ یہاں ان آرا کا حوالہ محض اس امر کی نشان دہی کے لیے دیا گیا ہے کہ صلح وامن کی ہدایات کو منسوخ یا مخصوص حالات کے ساتھ محدود ماننے کے عام فقہی رجحان کے برخلاف ، ان نصوص کو محکم اور قابل عمل ماننے کا علمی زاویہ نگاہ بھی ماضی میں موجود رہا ہے، اگرچہ اس کو مین اسٹریم فقہی لٹریچر میں کوئی خاص نمائندگی حاصل نہیں ہو سکی۔

جزیہ کے نفاذ میں لچک اور رعایت

قرآن مجید میں جزیہ عائد کرنے کا حکم اصلاً جزیرۂ عرب کے اہل کتاب کے حوالے سے بیان ہوا ہے۔ اگرچہ ان کے علاوہ دوسرے گروہوں پر بھی اشتراک علت کی بنا پر جزیہ کا نفاذ درست تھا، تاہم قرآن مجید میں اس کی تصریح نہ ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ بہرحال ایک اجتہادی معاملہ تھا، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں مجوس اور اہل کتاب کے بہت سے گروہوں سے جزیہ وصول کیا، وہاں مصلحت اور تالیف قلب کے پیش نظر بعض مخصوص گروہوں کو اس سے مستثنیٰ بھی قرار دیا۔ مثال کے طورپر تیسری صدی ہجری کے محدث عبد اللہ بن محمد بن جعفر انصاری نے اپنی کتاب 'طبقات المحدثین باصبہان' میں ذکر کیا ہے کہ سیدنا سلمان فارسیؓ کے بھائی ذو فروخ کی نسل میں سے غسان نامی ایک شخص کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے لکھا گیا ایک عہد نامہ موجود ہے جو سیدنا علی نے رجب ۹ ہجری میں آپ کے حکم پر لکھا اور اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر اور سیدنا علی کی مہر بھی موجود ہے۔ تحریر کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عہد نامہ سلمان فارسیؓ کی درخواست پر ان کے اہل خاندان کے نام لکھا۔ اس تحریر میں لکھا ہے کہ:

قد دفعت عنہم جز الناصیۃ والجزیۃ والحشر والعشر وسائر المون والکلف. (طبقات المحدثین باصبہان ۱/۲۳۲)

''میں نے انھیں پیشانی کے بال کاٹنے، جزیہ ادا کرنے، حشر، عشر اور ساری مالی ذمہ داریوں اور ادائیگیوں سے مستثنیٰ قرار دیا ہے۔''

ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا مجوس اہل کتاب ہیں؟ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ گھوڑے کی پوجا کرنے والے؟ عطا نے کہا:

وجد کتاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم لہم زعموا بعد اذ اراد عمر ان یاخذ الجزیۃ منہم فلما وجدہ ترکہم قال قد زعموا ذلک.(مصنف عبد الرزاق، ۱۰۰۲۳)

''جب سیدنا عمر نے ان سے جزیہ لینا چاہا تو انھوں نے کہا کہ ان کے پا س نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نوشتہ موجود ہے (جس میں انھیں جزیہ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے)۔ جب سیدنا عمر نے یہ تحریر دیکھی تو انھیں چھوڑ دیا۔''

تیسری نظیر مصر کی ہے۔ روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کو فتح مصر کی بشارت دی تو ان سے فرمایا کہ اس سرزمین کے باشندوں کے ساتھ تمھاری رشتہ داری ہے، اس لیے ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنا۔ ابو ذر بیان کرتے ہیں:

قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انکم ستفتحون مصر وہی ارض یسمی فیہا القیراط فاذا فتحتموہا فاحسنوا الی اہلہا فان لہم ذمۃ ورحما او قال ذمۃ وصہرا.(صحیح مسلم، رقم ۴۶۱۵)

''نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تم مصر کو فتح کرو گے اور یہ وہ سرزمین ہے جس کے سکے کا نام قیراط ہے۔ پس جب تم اس کو فتح کر لو تو وہاں کے باشندوں سے اچھا سلوک کرنا، کیونکہ (ان کا دہرا حق ہوگا) وہ اہل ذمہ بھی ہوں گے اور ان کے ساتھ رشتے داری بھی ہے۔''

زہری کی ایک مرسل روایت کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'لو عاش ابراہیم لوضعت الجزیۃ عن کل قبطی'(ابن سعد، الطبقات الکبریٰ ۱/۱۴۴) صحابہ نے اس وصیت پر یوں عمل کیا کہ حضرت ماریہ قبطیہ کی بستی کے لوگوں کو جزیہ سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔ بلاذری بتاتے ہیں :

عن الشعبی ان علی بن الحسین او الحسین نفسہ کلم معاویۃ فی جزیۃ اہل قریۃ ام ابراہیم ابن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمصر فوضعہا عنہم وکان النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوصی بالقبط خیرا.(فتوح البلدان، ص ۲۲۶)

''شعبی بتاتے ہیں کہ علی بن الحسین یا خود سیدنا حسین نے مصر میں ماریہ قبطیہ کی بستی والوں کے بارے میں سفارش کی تو معاویہ نے ان سے جزیہ ساقط کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی قبطیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے۔''

تاہم امام ابوعبید نے اسے جزیۃ الرؤوس کے بجائے خراج پر محمول کیا ہے۔ (الاموال، ص ۱۷۴)

صحابہؓ کے طرز عمل سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالعموم رومی اور فارسی سلطنتوں یا ان کے زیر اثر علاقوں کے ساتھ جزیہ کی وصولی کے بغیر صلح پر آمادہ نہیں ہوئے، چنانچہ مقوقس شاہ مصر نے عمرو بن العاص کو اس صلح کی پیش کش کی تو انھوں نے اس دھمکی کے ساتھ اسے مسترد کر دیا کہ 'قد علمتم ما فعلنا بملککم الاکبر ہرقل' (البدایہ والنہایہ ۷/۹۹) تاہم مخصوص علاقوں اور اقوام کے معاملے میں انھوں نے جزیہ کے حوالے سے نسبتاً لچک دار رویہ اختیار کیا۔ اس حوالے سے تاریخ میں متعدد نظیریں ہمیں ملتی ہیں:

عہد صحابہ میں بنو تغلب کے نصاریٰ نے جب اصرار کیا کہ وہ اہل عجم کی طرح 'جزیہ' ادا نہیں کریں گے، بلکہ ان سے صدقہ یا زکوٰۃ وصول کی جائے تو سیدنا عمرؓ نے ابتداء ان کے اس مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، تاہم یہ دیکھتے ہوئے کہ بنو تغلب شام کی سرحد کے قریب آباد ہیں اور دشمن کے مقابلے میں ان کے تعاون کی مسلمانوں کو اشد ضرورت ہے، انھوں نے مصلحت اور مجبوری کے تحت ان کے رؤوس پر 'جزیہ' عائد کرنے کے بجائے ان کے اموال میں سے صدقہ وصول کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ اس سے معاملے کی حقیقی نوعیت بالکل مختلف ہو گئی تھی، تاہم انھوں نے ان سے یہ کہنا مناسب سمجھا کہ تم اسے جو چاہو نام دے لو، ہم تم سے وصول کی جانے والی رقم کو 'جزیہ' ہی کہیں گے۔ (بلاذری، فتوح البلدان ۱/۲۱۶)

اسی نوعیت کی مثال جزیرۂ قبرص کی ہے جہاں کے باشندوں سے اس شرط پر صلح طے پائی کہ وہ مسلمانوں کو بھی جزیہ ادا کریں گے اور قیصر روم کو بھی۔ طبری نے نقل کیا ہے:

ان صلح قبرس وقع علی جزیۃ سبعۃ آلاف دینار یودونہا الی المسلمین فی کل سنۃ ویودون الی الروم مثلہا لیس للمسلمین ان یحولوا بینہم وبین ذلک.(الکامل فی التاریخ ۴/۲۶۲)

''قبرص کی صلح اس شرط پر طے پائی کہ اہل قبرض سالانہ سات ہزار دینار مسلمانوں کو اور اتنی ہی رقم رومی سلطنت کو ادا کریں گے اور مسلمانوں کو اس میں رکاوٹ ڈالنے کا اختیار نہیں ہوگا۔''

جزیہ، جیسا کہ ہم تفصیل سے واضح کر چکے ہیں، اس دور میں سیاسی محکومی اور اطاعت کی علامت تھا۔ ظاہر ہے کہ ایک علاقے کے باشندوں کے لیے بیک وقت دو متحارب سلطنتوں کی سیاسی حاکمیت کو قبول کرنا ممکن نہیں۔ اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جزیرۂ قبرص کو اسلامی سلطنت کا ایک باقاعدہ حصہ بنانے کے بجائے اس سے صرف ایک علامتی رقم وصول کرنے پر اکتفا کر لی گئی۔

تیسری مثال جرجومہ شہر کے باسیوں کی ہے جو بیاس اور بوقا کے مابین معدن الزاج کے قریب جبل لکام پر واقع تھا۔ یہ شہر انطاکیہ کے بطریق کے ما تحت تھا۔ سیدنا ابو عبیدہؓ نے جب ان پر لشکر کشی کی تو انھوں نے لڑائی سے گریز کرتے ہوئے صلح کی پیش کش کی۔ مسلمانوں نے ان شرائط پر ان سے صلح کر لی کہ وہ جبل لکام میں مسلمانوں کے مددگار اور جاسوس اور ہتھیار فراہم کرنے والے بن کر رہیں گے اور یہ کہ ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا اور یہ کہ جب وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ کریں تو جن افراد کو وہ قتل کریں، ان کا سازوسامان بطور انعام ان کو دے دیا جائے گا۔ (فتوح البلدان، ص ۱۶۶)

ان لوگوں کے ساتھ طے شدہ اس شر ط کو بعد کے خلفا نے بھی برقرار رکھا۔ ۸۹ ہجری میں شہر کے باسیوں نے بد عہدی کی تو ولید بن عبد الملک نے دوبارہ اس شہر کو فتح کیا اور صلح میں یہ طے کیا کہ:

ولا یوخذ منہم ولا من اولادہم ونساۂم جزیۃ وعلی ان یغزوا مع المسلمین فینفلوا اسلاب من یقتلونہ مبارزۃ.(فتوح البلدان، ص ۱۶۸)

''ان سے اور ان کے بیوی بچوں سے جزیہ نہیں لیا جائے گا اور اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر جنگ کریں تو میدان جنگ میں دشمن کے جن افراد کو وہ قتل کریں گے، ان کا سامان انھیں دے دیا جائے گا۔''

بعد میں کسی عامل نے ان پر جزیہ کی ادائیگی لازم کی تو انھوں نے یہ معاملہ عباسی خلیفہ واثق باللہ کے عہد حکومت میں اس کے سامنے پیش کیا اور اس نے سابقہ معاہدے کے مطابق انھیں اس سے مستثنیٰ قرار دیا۔(فتوح البلدان، ص ۱۶۸)

سرزمین مصر میں رومیوں کے مقبوضہ علاقے سے آگے بڑھ کر نوبہ کے علاقے پر عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح نے حملہ کیا تو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ باہم گفت وشنید سے ایک تجارتی معاہدہ کے ساتھ صلح کا معاملہ طے پا گیا۔

فسالوہ الصلح والموادعۃ فاجابہم الی ذلک علی غیر جزیۃ لکن علی ہدنۃ ثلث ماءۃ راس فی کل سنۃ وعلی ان یہدی المسلمون الیہم طعاما بقدر ذلک.(فتوح البلدان، ص ۲۳۵)

''انھوں نے صلح کا مطالبہ کیا جسے عبد اللہ بن ابی سرح نے منظور کر لیا۔ طے یہ پایا کہ وہ جزیہ نہیں دیں گے، البتہ صلح کی شرط یہ ہوگی کہ وہ ہر سال تین سو غلام مسلمانوں کے حوالے کریں گے اور مسلمان ان کی قیمت کے برابر انھیں غلہ دے دیں گے۔''

امام لیث بن سعد نے ا س صلح کی نوعیت یوں بیان کی ہے:

انما الصلح بیننا وبین النوبۃ علی ان لا نقاتلہم ولا یقاتلوننا وانہم یعطوننا رقیقا ونعطیہم طعاما.(ابو عبید، الاموال، ۲۳۶)

''ہمارے اور اہل نوبہ کے مابین صلح اس بات پر ہوئی ہے کہ نہ وہ ہم سے لڑیں گے اور نہ ہم ان سے، اور یہ کہ وہ ہمیں غلام مہیا کریں گے اور ہم اس کے عوض میں انھیں آٹا دیں گے۔''

اسی طرح بعض گروہوں کو اس شرط پر جزیہ سے مستثنیٰ قرار دینے کی مثالیں بھی ملتی ہیں کہ وہ جنگوں میں مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔ (معجم البلدان، ۲/۱۲۱)

جہاں تک بعد کی فقہی روایت کا تعلق ہے تو فقہا بالعموم اہل ذمہ کے لیے 'جزیہ' کی ادائیگی کو لازم قرار دیتے ہیں۔ 'جزیہ' ان کے کفر پر قائم رہنے کی سزا اور اسلام کے مقابلے میں ان کی ذلت ورسوائی کی علامت ہے اور اپنی اس علامتی اہمیت ہی کی وجہ سے مسلمانوں کے مقابلے میں اہل ذمہ کی محکومانہ حیثیت کو واضح کرتا ہے۔ فقہا اس کی حکمت یہ بتاتے ہیں کہ جن کفار نے دین حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے، وہ مسلمانوں کے زیردست رہتے ہوئے ہردم اپنی پستی اور محکومی کا مشاہدہ کریں اور انھیں احساس ہو کہ یہ ان کے کفر پر قائم رہنے کی سزا ہے۔ اس طرح ان میں یہ داعیہ پیدا ہوگا کہ وہ اس ذلت سے بچنے کے لیے کفر وشرک کو چھوڑ کر دائرۂ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ (الموسوعۃ الفقہیہ، 'جزیہ'، ۱۵/۱۵۸۔ ابن العربی، احکام القرآن، ۲/۴۸۱) یہ مقصد چونکہ 'جزیہ' ہی کے ذریعے سے حاصل ہو سکتا ہے، اس لیے فقہا یہ کہتے ہیں کہ اگر غیر مسلم 'جزیہ' کی ادائیگی کے بغیر پر امن تعلقات قائم کرنے کی پیش کش کریں تو قبول نہیں کی جائے گی۔ (جصاص، احکام القرآن، ۳/۴۲۸) حتیٰ کہ اگر اس شرط پر صلح کے لیے آمادہ ہوں کہ ان کو قیدی بنائے بغیر اور مسلمانوں کے ذمہ میں داخل کر کے ان سے جزیہ وصول کیے بغیر انھیں اپنے علاقے سے جلا وطن کر دیا جائے تو بھی مذکورہ شرط پر صلح کرنا جائز نہیں۔ البتہ اگر مسلمان قتال کر کے ان سے جزیہ وصول کرنے کی طاقت نہ رکھتے ہوں تو مذکورہ شرط پر صلح کی جا سکتی ہے۔ (جصاص، احکام القرآن، ۳/۴۲۸) اسی بنا پر فقہا سیدنا عمر کے اس فیصلے کو جوانھوں نے بنو تغلب کے نصاریٰ کے بارے میں کیا، بنو تغلب ہی کے ساتھ مخصوص مانتے ہیں اور ان کے علاوہ کسی اور غیر مسلم گروہ سے 'جزیہ' کے بجائے صدقہ کی وصولی کو جائز نہیں سمجھتے۔ (سرخسی، المبسوط ۳/۲۵۸) جبکہ جصاص وغیرہ کی راے میں یہ بھی درحقیقت 'جزیہ' ہی تھا۔ (احکام القرآن ۶/۴۸۶)

تاہم ایک رائے یہ بھی موجود ہے کہ اگر عملی صورت حالات کسی غیر مسلم گروہ کے ساتھ اسی شرط پر صلح کرنے پر مجبور کر رہی ہو کہ ان سے جزیہ کے بجائے زکوٰۃ لی جائے تو ایسا کرنا جائز ہے۔ ابن قدامہ اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

ان بنی تغلب کانوا ذوی قوۃ وشوکۃ لحقوا بالروم وخیف منہم الضرر ان لم یصالحوا ولم یوجد ہذا فی غیرہم فان وجد ہذا فی غیرہم فامتنعوا من اداء الجزیۃ وخیف الضرر بترک مصالحتہم فرای الامام مصالحتہم علی اداء الجزیۃ باسم الصدقۃ جاز ذلک اذا کان الماخوذ منہم بقدر ما یجب علیہم من الجزیۃ او زیادۃ.(المغنی، ۹/۲۷۷)

''بنو تغلب قوت وشوکت کے حامل تھے اور اہل روم کے ساتھ مل گئے تھے، اور اگر ان کے ساتھ صلح نہ کی جاتی تو ان کی جانب سے نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ یہ وجہ کسی اور گروہ میں نہیں پائی جاتی۔ ہاں، اگر کسی اور میں بھی یہ وجہ پائی جائے اور وہ جزیہ دینے سے انکار کریں اور ان کے ساتھ صلح نہ کرنے کی صورت میں ضرر کا خدشہ ہو اور حکمران صدقہ کے نام سے ان سے جزیہ وصول کرنے پر صلح کرنے کو مناسب سمجھے تو ایسا کرنا اس کے لیے جائز ہے، بشرطیکہ ان سے وصول کی جانے والی رقم جزیہ کے مساوی یا اس سے زیادہ ہو۔''

اس ضمن میں ایک فقہی رائے یہ بھی ہے کہ اگر غیر مسلم جزیہ کے بجائے صدقہ کے نام سے رقم ادا کرنا چاہیں تو پھر بنو تغلب کی نظیر کے مطابق ان سے دوہری رقم وصول کی جانی چاہیے۔ (ماوردی، الاحکام السلطانیۃ، ۱۸۴)

اس پس منظر میں امام شافعیؒ کے ہاں اس حوالے سے پایا جا نے والا توسع کا رویہ خاص طور پر قابل توجہ ہے، اس لیے کہ وہ مجبوری کی کسی حالت کے بغیر عام حالات میں بھی خاص 'جزیہ' کے نام سے کسی رقم کی وصولی کو لازم نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے نزدیک اگر غیر مسلم کسی بھی شکل میں اتنی رقم کی ادائیگی پر آمادہ ہوں جو جزیہ کے مساوی ہو تو ان کے ساتھ صلح جائز ہے۔ فرماتے ہیں:

فاذا غزا الامام قوما فلم یظہر علیہم حتی عرضوا علیہ الصلح علی شئ من ارضہم او شئ یودونہ عن ارضہم فیہ ما ہو اکثر من الجزیۃ او مثل الجزیۃ فان کانوا ممن توخذ منہم الجزیۃ واعطوہ ذلک علی ان یجری علیہم الحکم فعلیہ ان یقبلہ منہم.(الام، ۴/۱۸۲)

''جب امام کسی قوم پر حملہ کرے اور ان پر غالب آنے سے پہلے ہی وہ اس شرط پر صلح کی پیش کش کر دیں کہ اپنی سرزمین یا اس کی پیداوار کا کچھ حصہ، جو قیمت میں جزیہ سے زیادہ یا اس کے مساوی ہو، مسلمانوں کو دیں گے تو اس صورت میں اگر وہ قوم ایسی ہو جس سے جزیہ لینا جائز ہے اور اس کے ساتھ وہ یہ شرط بھی مان لیں کہ ان پر مسلمانوں کا حکم جاری ہوگا تو امام پر لازم ہے کہ ان کی یہ پیش کش قبول کر لے۔ ''

واذا صالحوہم علی ان الارض کلہا للمشرکین فلا باس ان یصالحہم علی ذلک ویجعلوا علیہم خراجا معلوما اما شئ مسمی یضمنونہ فی اموالہم کالجزیۃ واما شئ مسمی یودی عن کل زرع من الارض کذا من الحنطۃ او غیرہا اذا کان ذلک اذا جمع مثل الجزیۃ او اکثر.(الام، ۴/۱۸۲)

''اور کفار اس شرط پر صلح کرنا چاہیں کہ زمین ساری کی ساری ان کی ملکیت ہوگی تو صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس صورت میں ان پر ایک متعین خراج عائد کر دیا جائے، خواہ وہ ان کے اموال میں جزیہ کی شکل میں کوئی متعین رقم ہو یا زمین کی پیداوار مثلاً گندم یا کسی اور فصل کی کوئی متعین مقدار ، بشرطیکہ اس کی مجموعی قیمت جزیہ کے مساوی یا اس سے زیادہ ہو۔''

اس صورت میں اصل مقصد محض ایک مخصوص رقم کی وصولی قرار پاتا ہے اور اس کی وہ علامتی اہمیت، جس کے پیش نظر قرآن مجید میں اصلاً اسے منکرین حق پر عائد کرنے کا حکم دیا گیا، ثانوی ہو جاتی ہے ، کیونکہ جزیہ کے اصل تصور کی رو سے حقارت اور ذلت کے بغیر وصول کی جانے والی کسی بھی رقم کو 'جزیہ' نہیں کہا جا سکتا۔ جصاص لکھتے ہیں:

ومتی اخذناہا علی غیر ہذا الوجہ لم تکن جزیۃ لان الجزیۃ ہی ما اخذ علی وجہ الصغار.(احکام القرآن، ۳/۱۰۱)

''اگر ہم ذلت اور عار کے بغیر وصول کریں گے تو وہ 'جزیہ' نہیں ہوگا کیونکہ 'جزیہ' کہتے ہی اس رقم کو ہیں جو ذلت اور حقارت کے ساتھ وصول کی جائے۔''

جزیہ کے نفاذ کے سلسلے میں ہندوستان میں قائم ہونے والی مسلم سلطنتوں میں جو طریقہ اختیار کیا گیا، وہ بھی اس کی فقہی حیثیت متعین کرنے کے ضمن میں اہم نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اوپر ہم نے سیدنا عمر کے فقہی رجحان کی وضاحت کرتے ہوئے یہ اخذ کیا ہے کہ وہ قتل مشرکین اور نفاذ جزیہ میں سے کسی بھی حکم کو اصلاً قابل تعمیم نہیں سمجھتے تھے، چنانچہ انھوں نے مجوس سے اس وقت تک جزیہ وصول نہیں کیا جب تک ان کے سامنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ نہیں آ گیا۔ یہ رجحان کہ اہل کتاب اور مجوس کے علاوہ دوسرے غیر مسلم گروہوں سے جزیہ لینا ضروری نہیں، اگرچہ فقہی بحثوں کا باقاعدہ حصہ نہیں بن سکا، تاہم کم از کم ہندوستان کی حد تک یہ اصول عملاً مان لیا گیا۔ چنانچہ عرب فاتحین کی طرف سے تو بعض علاقوں کے باشندوں سے جزیہ وصول کیے جانے کی مثالیں ملتی ہیں، (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، مقالہ ''جزیہ''، ۷/۲۴۷) لیکن ہندوستان میں باقاعدہ قائم ہونے والی مسلم حکومتوں میں بعض مخصوص ادوار مثلاً فیروز شاہ تغلق اور اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت کے علاوہ عمومی طور پر اہل اقتدار نے یہاں کے غیر مسلموں پر جزیہ نافذ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اردو دائرہ معارف اسلامیہ کے مقالہ نگار نے لکھا ہے:

''دہلی کی اسلامی سلطنت میں جزیہ عائد کرنے کا تذکرہ شاذ ونادر ہی ملتا ہے، تاہم جزیہ اور خراج کے الفاظ اس عہد سے متعلق کتب تاریخ میں ملتے ہیں، لیکن شرعی لحاظ سے نہیں، بلکہ عرفی لحاظ سے مالیے کا مفہوم ادا کرنے کے لیے۔ مثلاً امیر حسن سجزی (م ۷۲۲ھ) صاحب فوائد الفواد (طبع دہلی ۱۸۶۵، ص ۷۶، طبع نولکشور ۱۹۰۸ء، ص ۸۱) کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے عہد میں ا س ٹیکس کو بھی جزیہ کہا جاتا تھا جو ہندو راجہ مسلمانوں سے وصول کرتے تھے۔ البتہ فیروز شاہ تغلق نے اپنے عہد حکومت میں یہ حکم دیا تھا کہ بیت المال کی آمدنی کے ذرائع صرف وہی ہوں گے جو شرع محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں اور دینی کتابیں ان پر شاہد ہیں۔''(اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، مقالہ ''جزیہ''، ۷/۲۴۷، ۲۴۸)

اے بی ایم حبیب اللہ اپنی فاضلانہ تصنیف ''ہندوستان میں مسلم حکومتوں کی اساس'' میں لکھتے ہیں:

''یہ ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ابتدائی دور کے روزنامچوں نے مفتوحہ ہندوؤں پر نافذ کیے جانے والے جزیے کا ذکر کہیں نہیں کیاہے۔ تاہم اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ عام ٹیکس وصول نہیں کیا جا تا تھا۔ اس بات کا جواز ضرور ہے کہ اس وقت جزیے کی اصطلاح کے معنی محض انفرادی طورپر لیے جانے والے امدادی محصول کے نہیں تھے جیسا کہ آج بھی سمجھا جاتا ہے یا بعد کے آنے والے مورخین نے اس کی تشریح کی تھی۔ اس قسم کے ٹیکس کا سب سے پہلا نفاذ فیروز خلجی نے کیا تھا جس نے ہندوؤں پر یہ ٹیکس عائد کرنا تسلیم کیا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ عملی طور پر اس ٹیکس کو ہمیشہ اس کی تمام باریکیوں اور ضوابط کے ساتھ نہیں نافذ کیا گیا تھا۔'' (مترجم: مسعود الحق، ص ۳۲۳، ۳۲۴)

فیروز شاہ کے زمانے میں 'جزیہ' عائد کیے جانے کا ذکر 'تاریخ فیروز شاہی' کے مصنف سراج عفیف نے یوں بیان کیا ہے:

''فیروز شاہ سے پیشتر کسی بادشاہ کے عہد میں غیر مسلم رعایا پر جزیہ نہیں عائدکیا گیا تھا اور ان فرماں روایان قدیم نے اس محصول کو معاف کر دیا تھا۔ فیروز شاہ نے تمام علما ومشایخ کو جمع کیا اور ان سے فرمایا کہ یہ عام غلطی ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے کہ غیر مسلم افراد سے جزیہ نہیں وصول کیا جاتا۔''(تاریخ فیروز شاہی، مترجم: محمد فدا علی طالب، ص ۲۶۰)

فیروز شاہ نے علماے شریعت ومشایخ طریقت کے مشورے سے ہندوؤں پر جزیے کے نفاذ کا اعلان کیا، تاہم اس کے مشیروں کی 'ثقاہت' کا اندازہ دو باتوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ایک یہ کہ انھوں نے پجاریوں سے جزیہ لینے پر اصرار کیا، حالانکہ عبادت گاہوں میں مقیم پروہتوں اور پجاریوں کو جزیہ سے مستثنیٰ رکھنے کی روایت اسلامی تاریخ میں آغاز ہی سے چلی آ رہی ہے۔ دوسرے یہ کہ انھی علما ومشایخ کے مشورے پر فیروز شاہ نے ایک مندر کے پروہت کو مندر قائم کرنے اور اس میں بتوں کی پرستش کرنے پر آگ میں زندہ جلا دیا۔ سراج عفیف کا بیان ہے:

''ایک راست گفتار مخبر نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ دہلی قدیم میں ایک ناہنجار بت پرست پیدا ہوا ہے جس نے اپنے خاص مکان میں مندر بنایا ہے اور ہر قوم اور ہر طبقے کے اشخاص پرستش کے لیے اس شخص کے مکان میں جاتے ہیں۔ اس زنار دار نے ایک مہرہ چوبیں بنایا ہے اور اس کو مختلف اقسام کے نقش سے درست کر دیا ہے اور تمام ہندو معین روز اس کے قریب جمع ہو کر پرستش کرتے ہیں۔'' (ص ۲۵۸)

''علما ومشایخ ومفتیان شرع نے تمام کیفیت معلوم کرنے کے بعد مسئلہ شرعی بیان فرمایا اور عرض کیا کہ شرع شریف کا حکم یہ ہے کہ پیشتر اس زنار دار کو اسلام لانے کی ہدایت کی جائے۔ اگر قبول نہ کرے تو اس کو زندہ جلا دیا جائے۔ ..... زنار دار نے اضطراب کی حالت میں سینہ سے آہ کھینچی اور اس درمیان میں سر کے جانب سے بھی آگ بے حد روشن ہوئی اور یہ شخص جل کر خاک سیاہ ہو گیا۔'' (ص ۲۵۹)

سلطان علاؤ الدین نے اپنے عہد میں قاضی مغیث الدین بیانوی سے ہندوؤں کے متعلق شرعی احکام دریافت کیے تو انھوں نے بتایا کہ امام ابوحنیفہ کے علاوہ باقی ائمہ کے نزدیک ہندوؤں سے جزیہ قبول کرنا جائز نہیں اور ان کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر وہ اسلام نہ لائیں تو انھیں قتل کر دیا جائے۔ ''آب کوثر'' کے مصنف نے سلطان کا جواب یوں نقل کیا ہے:

''سلطان علاؤ الدین قاضی مغیث کے جواب پر بہت ہنسا اور کہا کہ یہ باتیں جو تم نے کہیں، میں نہیں جانتا۔ مجھے صرف اتنا پتا ہے کہ خوط اور مقدم (یعنی دیہات کے ہندو نمبردار وغیرہ) اچھے اچھے کپڑے پہنتے ہیں۔ ولایتی کمانوں سے تیر اندازی کرتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ محاربہ کرتے اور شکار کھیلتے ہیں،لیکن جہاں خراج، جزیہ، کری (مکانوں کے ٹیکس) اور چرائی (یعنی چراگاہوں کے ٹیکس) کا تعلق ہے، وہ ایک چیتل بھی ادا نہیں کرتے۔''(شیخ محمد اکرم، آب کوثر، ص ۱۶۴)

اورنگ زیب عالمگیر نے اپنے دور حکومت میں شریعت اسلامی کی ترویج کی جو کوششیں کیں، ان کے ضمن میں ہندووں پر جزیہ عائد کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ (اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ۷/ ۲۴۸) غیر مسلموں کے حوالے سے عالمگیر کا طرز عمل مورخین میں ہمیشہ زیر بحث رہا ہے اور اگرچہ بعض مسلم اہل علم نے ا س کے جملہ اقدامات کا دفاع کرنے کی کوشش کی ہے، (ریاست علی ندوی، عہد اسلامی کا ہندوستان، ۲۸۹-۳۰۸) لیکن مسلم مورخین ہی میں اس کے برعکس رجحان کے حامل ایسے اہل علم موجود ہیں جو عالمگیر کو کسی نہ کسی حد تک غیر روادارانہ رویے کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔ (مثلاً دیکھیے: سعید احمد اکبر آبادی، مختصر تاریخ اسلام۔ شیخ محمد اکرام: رود کوثر) چنانچہ جزیہ کے اجرا سے متعلق اس کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا سید محمد میاں لکھتے ہیں کہ:

''جزیہ لینے میں اورنگ زیب نے اجتہادی غلطی کی۔''

مزید لکھتے ہیں:

''واقعہ یہ ہے کہ جزیہ کا اجرا ہوا ہی نہیں۔ جس کو جزیہ کہا جاتا ہے، وہ جزیہ ہی نہ تھا۔''(علماء ہند کا شاندار ماضی، ۱/۵۷۳)

ہندوستان کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی کبھی جزیہ عائد کرنے اور کبھی اسے موقوف کر دینے کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے۔ مثلاً کشمیر کے فرماں روا سلطان زین العابدین بڈ شاہ کے بارے میں مورخین بتاتے ہیں کہ اس نے ہندوؤں سے جزیہ لینا موقوف کر دیا تھا اور گاؤ کشی بند کرا دی تھی۔ (''مسلمانوں کی علمی بے تعصبی''، مشمولہ: مقالات شبلی، ص ۱۰۵۔ جاوید اقبال، زندہ رود ۱/۷)

کلاسیکی فقہی روایت چونکہ بنیادی طور پر صدر اول میں جزیرۂ عرب اور اس کے گرد ونواح میں قائم ہونے والی اسلامی سلطنت کے قانونی تعامل اور فقہی نظائر پر مبنی ہے، اس لیے دور دراز علاقوں مثلاً ہندوستان میں اختیار کیے جانے والے فقہی اجتہادات کو اس میں کوئی جگہ نہیں مل سکی، چنانچہ اس روایت کے تسلسل میں خود ہندوستان میں تصنیف کی جانے والی فقہی کتابوں میں بھی اسلامی ریاست کے غیر مسلم باشندوں کے لیے 'اہل ذمہ' کے عنوان سے دوسرے درجے کے شہریوں کی مخصوص حیثیت مقرر کی گئی اور ان کے لیے 'جزیہ' کی ادائیگی کے علاوہ مخصوص امتیازی قوانین کی پابندی بھی لازم قرار جاتی رہی ہے۔ کلاسیکی روایت کے مطابق غیر مسلموں کے ساتھ اسلامی ریاست کے تعلق کی آئیڈیل صورت عقد ذمہ ہی ہے جس میں ان پر جزیہ کی ادائیگی اور دیگر شرائط کی پابندی لازم ہو اور وہ کفر واسلام کے اعتقادی تناظر میں اہل اسلام کے محکوم اور ان کے مقابلے میں ذلیل اور پست ہو کر رہیں۔ فقہا کے نزدیک یہ اصول تمام غیر مسلموں پر لاگو ہوتا ہے، خواہ وہ جنگ کے نتیجے میں مفتوح ہوئے ہوں یا صلح کے کسی معاہدے کے تحت مسلمانوں کے زیرنگیں آئے ہوں یا دار الحرب کی شہریت سے دستبردار ہو کر دار الاسلام میں قیام پذیر ہونا چاہتے ہوں۔ تاہم یہ تصور فقہی اورنظری بحثوں میں زندہ رہنے کے باوجود، خلافت عثمانیہ کے ایک بڑی اور مستحکم سیاسی طاقت کے طور پر رونما ہونے کے بعد بتدریج تغیر پذیر ہوتا چلا گیا۔ سلطنت عثمانیہ نے بدلتے ہوئے عالمی حالات اور سیاسی وقانونی تصورات کے تحت جہاں یورپی جمہوریت کے دوسرے بہت سے تصورات کو اپنے نظام میں جگہ دی، وہاں سلطنت کی غیر مسلم رعایا کے لیے مذہب اور نسل کی تفریق کے بغیر مساوی شہری اور مذہبی حقوق سے بہرہ مند ہونے کا حق بھی تسلیم کیا اور مختلف معاہدوں میں یورپی طاقتوں کو اس کی باقاعدہ یقین دہانی کرائی۔ (دیکھیے: الدکتور عبد العزیز محمد الشناوی، 'الدولۃ العثمانیۃ دولۃ اسلامیۃ مفتری علیہا' ، ۱/۹۶۔۹۸۔ ماجد خدوری، مقدمہ کتاب السیر للشیبانی۔ معاہدۂ پیرس کے متن کے لیے، جو ۳۰ مارچ ۱۸۵۶ ء کو طے پایا، ملاحظہ ہو:

http://www.polisci.ucla.edu/faculty/wilkinson/ps123/trea)

عثمانی خلیفہ سلطان عبد المجید اول نے ۱۸ فروری ۱۸۵۶ء کو ''خط ہمایوں'' کے نام سے ایک فرمان جاری کیا جس کے تحت 'جزیہ' کے پرانے قانون کو، جو غیر مسلموں کے دوسرے درجے کے شہری ہونے کے لیے ایک علامت کی حیثیت رکھتا تھا، ختم کر کے اس کی جگہ ''بدل عسکری'' کے نام سے ایک متبادل ٹیکس نافذ کیا گیا جو اقلیتوں کی مساوی شہری حیثیت کے جدید جمہوری تصورات کے مطابق تھا۔ (Norman Stillman, The Jews of Arab Lands in Modern Times, http://www.nitle.org/)

خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد دنیا کے سیاسی نظام میں رونما ہونے والی تبدیلیوں نے مسلمانوں کے غلبہ اور تفوق اور اس کے تحت پیدا ہونے والے قانونی وسیاسی تصورات کو بالکل تبدیل کر دیا ہے۔ بیسویں صدی میں یورپی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد مسلمانوں کی جو قومی ریاستیں وجود میں آئیں، ان میں سے کسی میں بھی، چاہے وہ مذہبی ریاستیں ہوں یا سیکولر، غیر مسلموں کو 'اہل ذمہ' کی قانونی حیثیت نہیں دی گئی اور نہ ان پر جزیہ نافذ کیا گیا ہے۔ ان میں سعودی عرب، ایران، اور طالبان کی ٹھیٹھ مذہبی حکومتیں بھی شامل ہیں۔

[باقی]