امیر عبد القادر الجزائری کی جدوجہد چند سبق آموز پہلو


لاہور کے معروف اشاعتی ادارے ''دار الکتاب'' نے ایک مغربی مصنف جان ڈبلیو کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ ''امیر عبد القادر الجزائری: سچے جہاد کی ایک داستان'' کے عنوان سے پیش کیا ہے۔ امیر عبد القادر کا شمار انیسویں صدی میں عالم اسلام کی ان معروف شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے مسلم ممالک پر یورپ کے مختلف ممالک کی استعماری یلغار کے خلاف مزاحمانہ جدوجہد کی۔ ان میں الجزائر کے امیر عبد القادر الجزائری کا نام اس حوالے سے ممتاز ہے کہ ان کی جرات واستقلال، عزیمت واستقامت، حوصلہ وتدبر اور فکر وکردار کی عظمت کو ان کے دشمنوں نے بھی سراہا اور ان کا نام تاریخ میں ہمیشہ کے لیے ثبت ہو گیا۔

امیر عبد القادر نے انیسویں صدی کی چوتھی اور پانچویں دہائی میں الجزائر میں فرانسیسی استعمار کے خلاف آزادی کی جدوجہد کی اور ایک ایسا نمونہ پیش کیا جسے بلاشبہ اسلام کے تصور جہاد اور جنگی اخلاقیات کا ایک درست اور بڑی حد تک معیاری نمونہ کہا جا سکتا ہے۔ امیر عبد القادر کے تصور جہاد کے اہم اور نمایاں پہلو حسب ذیل ہیں:

۱۔ ان کے نزدیک مسلمانوں کے ملک پر کسی غیر مسلم طاقت کے تسلط کی صورت میں اس سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرنا ایک شرعی اور دینی فریضے کی حیثیت رکھتا ہے،چنانچہ انھوں نے اسی جذبے سے روحانی غور وفکر اور تعلیم وتدریس کی زندگی کو ترک کر کے فرانس کے خلاف مسلح جدوجہد آزادی کو منظم کیا۔

۲۔ ان کے ہاں جہاد کا مقصد طاقت یا اقتدار کا حصول نہیں تھا، چنانچہ انھوں نے جدوجہد آزادی کی قیادت خود سنبھالنے سے قبل بھی شاہ مراکش سے درخواست کی کہ وہ اس جدوجہد کی سرپرستی اور راہ نمائی کریں اور پھر جب ایسا نہ ہو سکنے کی وجہ سے انھیں خود اس جدوجہد کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنا پڑی تو الجزائر کے ایک وسیع علاقے میں اپنی حکومت کو مستحکم کرنے کے بعد انھوں نے دوبارہ شاہ مراکش کو خط لکھا کہ وہ اس الجزائر کو اپنی سلطنت کا حصہ بنا لیں اور یہاں کے معاملات کو چلانے کے لیے اپنا کوئی نمائندہ مقرر کر دیں۔

۳۔ امیر عبد القادر کے ہاں اس امر کا احساس بھی بہت واضح ہے کہ کسی غیر ملکی طاقت کے خلاف جدوجہد آزادی چند لازمی شرائط کے پورا ہونے پر منحصر ہے اور ان کو پورا کیے بغیر کامیابی کا حصول ناممکن ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے نہایت دانش مندی سے یہ سمجھا کہ مسلح جدوجہد کا فیصلہ کسی فرد یا کسی گروہ کو اپنے طور پر نہیں بلکہ پوری قوم کے اتفاق راے سے کرنا چاہیے تاکہ جدوجہد مضبوط اخلاقی اور نفسیاتی بنیادوں پر قائم ہو اور اسے قوم کی اجتماعی تائید حاصل ہو، کیونکہ اگر قوم ہی اس جدوجہد کے نتائج کا سامنا کرنے اور اس کے لیے درکار جانی اور مالی قربانی دینے کے حوصلے سے محروم ہو تو کوئی گروہ اپنے بل بوتے پر اسے کامیابی سے ہم کنار نہیں کر سکتا۔ اسی وجہ سے امیر نے فرانس کے خلاف لڑائی شروع کرنے سے پہلے الجزائر کے بڑے بڑے قبائل کے سرداروں سے مشاورت کر کے ان کی تائید اور حمایت کو یقینی بنایا۔ اسی طرح امیر نے یہ بات بھی وضاحت سے کہی کہ ایک منظم فوج کے خلاف جنگ کسی دوسری منظم طاقت کی سرپرستی کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی، چنانچہ انھوں نے ابتدا میں شاہ مراکش سے اس جدوجہد کی سیاسی سرپرستی کی درخواست کی اور پھر اس میں ناکامی کے بعد الجزائر کی نمائندہ قبائلی طاقتوں کی تائید سے اپنی امارت قائم کرنے کے بعد ہی عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔

۴۔امیر عبد القادر نے اس بدیہی حقیقت کا بھی ادراک کیا کہ جنگ میں فریقین کے مابین طاقت کے ایک خاص توازن اور عسکری تربیت میں دشمن کی برابری حاصل کیے بغیر زیادہ دیر تک میدان جنگ میں نہیں ٹھہرا جا سکتا،چنانچہ انھوں نے اپنی فوج کو مغربی طرز پر منظم کیا اور جدید طرز کی اسلحہ سازی کے لیے مغربی ملکوں سے مطلوبہ سامان اور ماہرین فراہم کرنے کی طرف بھرپور توجہ دی۔ امیر کی حکمت عملی کا یہ پہلو بھی بے حد قابل توجہ ہے کہ انھوں نے اپنی جدوجہد کا ہدف کسی نظری آئیڈیل کی روشنی میں نہیں، بلکہ زمینی حقائق کی روشنی میں متعین کیا اور الجزائر کی سرزمین سے فرانس کو کلیتاً بے دخل کر دینے کو اپنا ہدف قرار دینے کے بجاے اس بات کو قبول کیا کہ فرانس کی عمل داری ساحلی شہروں تک محدود رہے، جبکہ الجزائر کے باقی علاقے میں مسلمانوں کی ایک آزاد امارت قائم ہو۔

۵۔امیر عبد القادر کے ہاں عملی حقائق کے ادراک کا ایک ممتاز پہلو یہ بھی ہے کہ انھوں نے عالمی حالات اور دنیا کے تہذیبی ارتقا پر نظر رکھتے ہوئے درست طور پر یہ سمجھا کہ مغربی اقوام نے تمدن اور سائنس کے میدان میں جو ترقی کی ہے،وہ درحقیقت انسانیت کی مشترکہ میراث ہے اور مسلمان بھی اس سے پوری طرح مستفید ہو سکتے ہیں،چنانچہ انھوں نے نہ صرف فرانسیسی حکمرانوں کے نام خطوط میں جابجا اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ فرانس اور الجزائر کے مابین دشمنی کے بجاے دوستی کا تعلق قائم ہونا چاہیے تاکہ دونوں قومیں مفادات کے اشتراک کی بنیاد پر ایک دوسرے کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکیں،بلکہ عملاً بھی اپنی امارت کے تحت الجزائری قوم کی تنظیم نو میں امیر نے مغرب کے تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

۶۔ امیر عبد القادر کی جدوجہد سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ وہ مسلمانوں کے جان ومال کو جنگ میں بے فائدہ ضائع کرانے اور ایک لاحاصل جدوجہد کو جاری رکھنے کو شرعی تقاضا نہیں سمجھتے اور ان کے نزدیک کسی غیر مسلم قابض کے خلاف جہاد کی ذمہ داری اسی وقت تک عائد ہوتی ہے جب اس کی کامیابی کے لیے درکار عملی اسباب ووسائل میسر اور امکانات موجود ہوں۔ چنانچہ انھوں نے اپنی جدوجہد کے آخری مرحلے پر جب یہ دیکھا کہ الجزائری قوم ان کا ساتھ چھوڑ کر فرانسیسی کیمپ کا حصہ بن چکی ہے اور خود ان کے ساتھ وابستہ ایک چھوٹا سا گروہ بھی مسلسل خطرے میں ہے تو انھوں نے کسی جھجھک کے بغیر نہایت جرات سے یہ فیصلہ کر لیا کہ الجزائر کی سرزمین پر فرانس کی حکمرانی خدا کی منشا ہے اور اس کو تسلیم کر لینا ہی دانش مندی ہے۔

۷۔ امیر عبد القادر کے تصور جہاد کا ایک نہایت اہم پہلو اسلام کی جنگی اخلاقیات کی پابندی کرنا ہے اور اس ضمن میں ان کا پیش کردہ نمونہ ہی دراصل مغربی دنیا میں ان کے تعارف اور تعظیم واحترام کی اصل وجہ ہے۔ امیر نے نہ صرف جدوجہد آزادی کے دوران میں فرانسیسی قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی مذہبی ضروریات کا فراخ دلی اور اعلیٰ ظرفی سے بندوبست کیا، بلکہ دمشق میں رہایش کے زمانے میں ۱۸۶۰ء میں ہونے والے مسلم مسیحی فسادات میں بھی ہزاروں مسیحی باشندوں کی حفاظت کے لیے عملی کردار ادا کر کے اسلامی اخلاقیات کی ایک معیاری اور قابل تقلید مثال پیش کی۔

میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ تمام حوالوں سے امیر عبد القادر کی جدوجہد عصر حاضر میں مغرب کے سیاسی واقتصادی تسلط کے خلاف عسکری جدوجہد کرنے والے گروہوں کے لیے اپنے اندر راہ نمائی کا بڑا سامان رکھتی ہے اور امیر عبد القادر کے فلسفہ جنگ اور طرز جدوجہد کے ان پہلووں کو زیادہ سے زیادہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔*

* جان کائزر کی کتاب کا اردو ترجمہ دار الکتاب لاہور (0321-4245355) اور مکتبہ امام اہل سنت گوجرانوالہ (0306-6426001) سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔