اسقاط حمل


استقرار حمل پر ۱۲۰ دن گزر جائیں تو اُس کا اسقاط کسی حال میں جائز نہیں ہے۔ اِس مدت کے بعد جنین کا قتل درحقیقت انسان کا قتل ہے جو قرآن مجید کی رو سے پوری انسانیت کو قتل کر دینے کے مترادف ہے۔ اِس کی سزا قرآن میں ابدی جہنم بیان کی گئی ہے۔ اِس سے پہلے اسقاط، البتہ مباح ہے۔ مگر یہ اباحت بھی علی الاطلاق نہیں ہو سکتی، اِس کے لیے کوئی معقول عذر اور حقیقی سبب لازماً ہونا چاہیے۔ فقہ اسلامی میں اسقاط کے لیے ۱۲۰ دن کی یہ مدت اِس لیے مقرر کی گئی ہے کہ بچے کو انسانی شخصیت اِسی مدت کے خاتمے پر دی جاتی ہے۔ اِس سے پہلے وہ ایک حیوانی وجود ہوتا ہے۔ اُس کی زندگی بھی حیوانی زندگی ہوتی ہے۔ ۱۲۰ دن کی اِس مدت میں اُس کا حیوانی قالب پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے انسانی شخصیت عطا فرماتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے قرآن میں جنین کو ایک دوسری مخلوق میں تبدیل کر دینے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ، ثُمَّ جَعَلْنٰہُ نُطْفَۃً فِیْ قَرَارٍ مَّکِیْنٍ، ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَۃَ مُضْغَۃً فَخَلْقَنَا الْمُضْغَۃَ عِظٰمًا، فَکَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْمًا، ثُمَّ اَنْشَاْنٰہُ خَلْقًا اٰخَرَ، فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ.(المومنون۲۳: ۱۲۔۱۴)

''ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا، پھر اُس کو ایک محفوظ جگہ پانی کی بوند میں تبدیل کر دیا، پھر اِس بوند کو جنین کی صورت دی، پھر جنین کو گوشت کا ایک لوتھڑا بنایا، پھر لوتھڑے میں ہڈیاں بنائیں، پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیا، پھر اُس کو ایک بالکل ہی دوسری مخلوق میں تبدیل کر دیا۔ سو بڑا ہی بابرکت ہے اللہ بہترین پیدا کرنے والا۔''

ابتدا میں انسان کو زمین کے پیٹ سے پیدا کیا گیا تو اُس وقت بھی اللہ تعالیٰ نے یہی طریقہ اختیار فرمایا۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ پہلے انسان کا حیوانی وجود تخلیق ہوا، پھر اُس میں اپنی نسل آپ پیدا کر لینے کی صلاحیت ودیعت ہوئی، پھر اُس کا تسویہ کیا گیا، اِس طریقے سے جو مخلوق وجود میں آئی، اُس میں سے دو کا انتخاب کر کے پھر اُن میں روح پھونکی گئی، جس سے آدم و حوا کی صورت میں نطق و بیان کی صلاحیت اور عقل و شعور سے بہرہ یاب ایک نئی مخلوق، یعنی انسان کی ابتدا ہو گئی:

بَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِیْنٍ، ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَہٗ مِنْ سُلٰلَۃٍ مِّنْ مَّآءٍ مَّھِیْنٍ، ثُمَّ سَوّٰہُ وَنَفَخَ فِیْہِ مِنْ رُّوْحِہٖ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْءِدَۃَ، قَلِیْلًا مَّا تَشْکُرُوْنَ.(السجدہ۳۲: ۷۔۹)

''اُس نے انسان کی تخلیق کا آغاز مٹی سے کیا، پھر اُس کی نسل حقیر پانی کے خلاصے سے چلائی، پھر اُس کو نک سک سے درست کیا اور اُس میں اپنی روح پھونک دی اور (اِس طرح) تم کو کان اور آنکھیں اور دل عطا فرمائے، تم کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی ہے کہ ماں کے پیٹ میں انسان کے حیوانی وجود کی تخلیق کے یہ تمام مراحل ۱۲۰ دن میں مکمل ہوتے ہیں۔ اِس کے بعد روح پھونکی جاتی ہے اور خدا کے حکم سے وہ شخصیت وجود میں آ جاتی ہے جسے ہم انسان کہتے ہیں۔ آپ کا ارشاد ہے:

ان احدکم یجمع خلقہ فی بطن امہ اربعین یومًا، ثم یکون فی ذلک علقۃ مثل ذلک، ثم یکون فی ذلک مضغۃ مثل ذلک، ثم یرسل الملک فینفخ فیہ الروح. (مسلم، رقم ۲۶۴۳)

''تم میں سے ہر ایک کی خلقت ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک ہوتی ہے، پھر اِتنی مدت میں وہ جنین بن جاتا ہے،پھر لوتھڑا بن کر پورا ہو جانے میں بھی اتنے ہی دن لگتے ہیں، پھر فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اُس میں روح پھونک دیتا ہے۔''

قرآن و حدیث کی یہی تصریحات ہیں جن کی بنا پر اسقاط کے لیے ۱۲۰ دن کی مدت مقرر کی گئی ہے۔