عورت کی امامت اہل ’’محدث‘‘ کی خدمت میں


مذہبی حلقوں میںیہ مسئلہ پچھلے دنوں بہت شدو مد کے ساتھ زیر بحث رہا ہے کہ کیا کوئی خاتون ایک ایسی جماعت کی امامت کر سکتی ہے جس میں مرد مقتدی بھی شامل ہوں۔ مدیر ''اشراق'' جناب جاوید احمد صاحب غامدی سے اس کے بارے میں مختلف موقعوں پر لوگوں نے سوالات کیے۔ ان کے جواب میں انھوں نے اپنا جو موقف بیان کیا، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسے حرام تو قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ قرآن و سنت میں اس کی کوئی صراحت نہیں ہے، بلکہ ام ورقہ کی حدیث سے استثنائی حالات میں بظاہر اس کا جواز معلوم ہوتا ہے۔ تاہم،یہ اس روایت کے یقیناً منافی ہے جومسلمانوں میں ہمیشہ سے قائم رہی ہے اوروہ اسی کے حق میں ہیں کہ یہ روایت قائم رہنی چاہیے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امامت کے موقع پر عورت کا مرکز نگاہ بن جانانماز جیسی عبادت میں لوگوں کی یک سوئی کو متاثر کر سکتا ہے۔ شریعت میں اسی بنا پر عورتوں کے لیے گھر کی نماز کومسجد کی نماز سے بہتر قرار دیا گیاہے۔ چنانچہ انھوں نے اپنی کتاب ''قانون عبادات'' میں لکھا ہے:

''عورتیں، البتہ (نماز باجماعت) کے اس حکم سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے معاملے میں سنت یہی ہے کہ وہ نماز کے لیے مسجد میں آ سکتی ہیں، لیکن گھر کی نماز ان کے لیے اس کے مقابلے میں بہتر ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اپنی عورتوں کو مسجدوں میں آنے سے نہ روکو، لیکن ان پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ ان کے گھر اس مقصد کے لیے زیادہ موزوں ہیں۔'' (۷۴)

عورت کی نمازباجماعت میں شرکت اور اس کی امامت کے بارے میں استاذ گرامی کا یہی موقف ہے ۔ اس موقف کا اظہار انھوں نے اس مسئلہ پر بحث کے آغاز ہی میں جیو ٹی وی کے ایک مذاکرے میں بھی کیا تھا۔ انھی دنوں ''المورد'' کے ذرائع ابلاغ میں بھی اس موضوع پر دو مضامین شائع ہوئے تھے۔ ایک مضمون ''المورد'' کے ایسوسی ایٹ فیلوجناب ساجد حمید صاحب کا تھا جو''المورد ''کی ویب سائٹ پر شائع ہوا اوردوسرا مضمون ''قرآن کالج ''لاہور کے استاد جناب پروفیسر خورشید عالم صاحب کا تھا جوماہنامہ'' اشراق'' مئی ۲۰۰۵کے ''نقطۂ نظر'' کے کالم میں شائع ہوا۔ ساجد حمید صاحب نے اپنے مضمون میں یہ موقف اختیار کیاکہ اسلام نے عورت پر نماز کی امامت کی ذمہ داری نہیں ڈالی اور نہ اس سے کسی صورت میں امامت کا مطالبہ کیا ہے۔ پروفیسر خورشید عالم صاحب کا مضمون ایک تجزیاتی مضمون تھا جس میں انھوں نے بیان کیا تھا کہ یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس پر ایمان کا دارو مدار ہو۔ یہ ایک فقہی مسئلہ ہے اور اس کے بارے میں فقہا کے مابین اختلاف پایا جاتا ہے۔چنانچہ اپنی تحقیق کے مطابق اس اختلاف کو بیان کرنے کے بعد انھوں نے اس مضمون میں اپنا رجحان عورت کی امامت کے حق میں ظاہر کیاتھا ۔

اس پس منظر میں ہر شخص یہی رائے قائم کرے گا کہ جناب جاوید احمد غامدی مردوں کی جماعت میں عورت کی امامت کو علی الاطلاق موزوں نہیں سمجھتے اور ان کے شاگرد بھی کم و بیش یہی رائے رکھتے ہیں۔ البتہ، جہاں تک پروفیسر خورشیدعالم صاحب کا تعلق ہے تو وہ اس کے برعکس عورت کی امامت کے قائل نظر آتے ہیں۔پروفیسر صاحب کے مضمون کو اشراق نے چونکہ ''نقطۂ نظر'' کے کالم میں شائع کیا ہے، اس لیے اسے مدیر ''اشراق'' یا حلقۂ ''اشرق'' کا نمائندہ موقف نہیں کہاجا سکتا۔ ہر شخص یہی کہے گا، مگرتعجب انگیز واقعہ یہ ہے کہ ماہنامہ ''محدث'' نے پروفیسرصاحب کے اسی مضمون کو حلقۂ ''اشراق '' کا ترجمان قرار دے کر جون کا پورا شمارہ اسی پر تنقیدو تبصرے کی نذر کیا ہے۔

پروفیسرخورشید عالم صاحب کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ ایک صاحب فکر دانش ور ہیں جو علمی اور فکری موضوعات پر براہ راست تحقیق کرتے ، نتائج مرتب کرتے اور ان کی روشنی میں مضامین تالیف کرتے ہیں۔ یہ مضامین گاہے گاہے مختلف جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔پروفیسر صاحب ادارۂ ''اشراق'' یا اس کے حلقۂ فکر سے وابستہ نہیں ہیں۔ ''اشراق'' ان کی علم دوستی کا قدردان ہے اور اسی بنا پر اس نے ان کے مضامین کو شامل اشاعت کیا ہے۔ تاہم، اس سے یہ مراد ہر گز نہیں ہے کہ فاضل مصنف'' اشراق'' کے افکار کے ترجمان ہیں یا حلقۂ ''اشراق'' ان کے افکارکا علم بردار ہے۔مزید براں پروفیسر صاحب کے مذکورہ مضمون کو'' اشراق'' نے ''نقطۂ نظر'' کے کالم میں شائع کیا ہے اور یہ تحریر و صحافت کا مسلمہ ہے کہ کسی اخبار یا جریدے کے نقطۂ نظر کے کالم میں شائع ہونے والے مضامین اس اخبار یا جریدے کے نمائندہ نہیں ہوتے۔ صحافت کی دنیا میں یہ اسلوب علم دوستی کے فروغ اور اختلافی موضوعات پر مکالمے کی فضاکو قائم کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ ''اشراق'' کے اس شمارے میں بھی ''نقطۂ نظر'' کا کالم موجود ہے اور اس میں''اشراق'' کے کسی نمائندہ مصنف کی تحریرنہیں چھپی ،بلکہ مکتب دیوبند کے ممتاز عالم دین مولانا زاہدالراشدی صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے۔ چنانچہ پروفیسر خورشید عالم صاحب کے مذکورہ مضمون کو کسی طرح بھی ''اشراق'' کا نمائندہ مضمون قرار نہیں دیا جاسکتا۔تاہم،اس کے باوجود ''محدث''کے اداریے میں پورے اصرار کے ساتھ اس مضمون کو ''اشراق'' کا نمائندہ قرار دیا گیاہے۔ مدیر ''محدث ''لکھتے ہیں:

''حلقۂ اشراق کی تازہ ترین کاوش اسی عورت کے امامت کے مسئلہ پر ڈاکٹر امینہ ودود اور اسریٰ نعمانی کے کارنامے کی حمایت میں سامنے آئی ہے۔ ایسے اہل فکرو تدبر کو اس واقعے میں کئی ایک اسلامی تعلیمات سے انحراف تو نظر نہیں آتے، بلکہ بڑی سادگی سے وہ اس جماعت کی امامت کرانے والی عورت پر 'نیک و پارسا'ہونے کا فتویٰ صادر کرتے ہیں جو ان تمام تر انحرافات کو قائم کرنے کا سبب بنی ہے۔

اس موضوع پر اخبارات و جرائد میں بیسیوں مضامین شائع ہوئے ہیں مگر کسی ایک محقق یا عالم نے بھی ایسی امامت کا جواز کشید نہیں کیا۔ لیکن ا شراق نے مسلمانوں میں اختلاف پیدا کرنے کے لیے نادر اقوال، باطل احتمالات اور دور ازکار تاویلات کی بنا پر اسلامی ذخیرۂ علم کے کونے کھدروں سے اس کا جواز کھینچ ہی نکالا ہے۔

یہ بحث خالصتاً دینی اور لادینی طبقات کی بحث تھی، تحریک نسواں کے علم برداروں نے ہی اپنے مقاصد کے لیے اسے اٹھایا تھالیکن حلقۂ اشراق نے تمام تر پس منظراور پیش منظر کو نظر انداز کرتے ہوئے پہلے اسے صرف ایک نکتہ پر مرکوز کیا پھر اسے ایک فقہی بحث بنا دیااور مسلمانوں کا فقہی اختلاف نکال کر گویا اس کا جواز ثابت کرنا شروع کر دیا۔...

محدث کے حالیہ شمارے میں شائع ہونے والے مضامین اسی مضمون کے رد عمل میں لکھے گئے ہیں جو اشراق نے مئی ۲۰۰۵ کے شمارہ میں شائع کیا ہے اور جس میں انھوں نے ہر ممکنہ طریقہ سے عورت کی امامت ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے۔

عورت کی امامت کے بارے میں شریعت اسلامیہ کا موقف تو ان فاضل علماے کرام کے مضامین کے بعد نکھر ہی جائے گا، لیکن حلقۂ اشراق کی اسلام پر اعتراض کرنے والوں سے ہم نوائی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی ہے۔ '' (محدث ۱۲)

''محدث'' کی اس کاوش کوکوئی شخص سہو و نسیان سمجھ کر ایک عام انسانی لغزش سے بھی تعبیر کر سکتا ہے اور تجاہل عارفانہ کہہ کر ایک اخلاقی جرم بھی قرار دے سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مسلمانوں سے حسن ظن رکھنے کا حکم دیا ہے، لہٰذا ہم اسے سہو اور عدم تنبہ ہی پر محمول کرتے ہیں، مگر اس گل افشانی گفتار کے بارے میں کیا کہا جائے جو مدیر ''محدث'' نے اصل موضوع سے قطع نظر کرتے ہوئے مزید براں کی ہے اور ایسی معلومات فراہم کی ہیں جو خود مدیر ''اشراق'' کے علم میں بھی نہیں ہیں۔لکھتے ہیں:

''ذرائع ابلاغ میں امریکہ کی یہ پالیسی واضح طور پر آچکی ہے کہ مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لیے دین دار طبقہ کے بالمقابل آزاد فکر دانشوروں کی ہر ذریعے سے مددکی جائے اورخود سامنے آنے کی بجائے مسلمانوں کے مقابلے میں بظاہر انھی جیسے آزاد خیال مسلمانوں کو لایا جائے۔ یہ بات بھی امریکی پالیسی میں شائع ہو چکی ہے کہ حدیث نبوی پر زیادہ سے زیادہ اعتراضات کو ہوا دی جائے اورعورتوں کے حقوق کے بارے میں بڑھ چڑھ کر اسلامی نظریات پر شبہات واعتراضات پیش کیے جائیں۔

اس امرکی نشاندہی افسوس ناک ہے کہ جاوید احمد غامدی کا یہ حلقہ ان دونوں میدانوں میں اسلام کے خلاف شکوک و شبہات کو ابھارنے میں نمایاں کردارپیش کرنے میں کوشاں ہے۔ جناب غامدی کا اس روشن خیالی اوراعتدال پسندی کو مہمیز لگانے کا کردار اس طرح بھی اہمیت اختیار کرتا جارہا ہے کہ وہ دو سے زائد بار جنرل پرویز مشرف سے علیحدگی میں خصوصی ملاقات کر چکے ہیں اورخود امریکی سفیر بھی اس سلسلے میں ان کے گھر آچکے ہیں۔ یہ باتیں حلقہ اشراق میں عام پھیلی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں روشن خیالی کا پرچارک ٹی وی چینل ' جیو' بطور خاص مسٹر جاوید غامدی کو نمائندگی دے رہا ہے اورایک پرائیویٹ چینل ' آج' تو گویا انھی کے افکار کے لیے مخصوص ہے۔ انگریزی اخبار ' ڈان' میں اشتہارات شائع کرانے پر اس قدر اخراجات اٹھتے ہیں کہ کوئی مذہبی تنظیم اس کی متحمل نہیں ہو سکتی لیکن جناب غامدی کے اولین صفحہ پر نصف صفحہ کے اشتہار اس اخبار میں تواتر سے شائع ہوتے ہیں جس میں ان کے ٹی وی پروگرام دیکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔'' (۱۱)

اس اقتباس میں چند واقعات بیان ہوئے ہیں۔ ایک یہ کہ مدیر ''اشراق'' دوسے زائد بار جنرل پرویز مشرف صاحب سے علیحدگی میں خصوصی ملاقات کر چکے ہیں۔ دوسرے یہ کہ امریکی سفیر نے ان کے گھر آ کر ان سے ملاقات کی ہے اور تیسرے یہ کہ انگریزی اخبار ' 'ڈان'' میں اولین صفحہ پر غامدی صاحب کے نصف صفحہ کے اشتہار تواتر سے شائع ہوتے رہے ہیں ۔ان تینوں باتوں میں سے اگرچہ کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں ہے کہ جس پر دین و اخلاق یا قومی حمیت کے حوالے سے اعتراض کیا جا سکے ،اور اگر یہ جرم ہیں تو واضح رہنا چاہیے کہ ہمارے اکثر مذہبی قائدین وقتاً فوقتاً ان کا ارتکاب کرتے رہتے ہیں، تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ تینوں بیانات خلاف حقیقت ہیں۔ صدر پرویزمشرف صاحب سے غامدی صاحب کی دو نہیں، بلکہ ایک ملاقات ہوئی ہے اور یہ کوئی خصوصی ملاقات نہیں تھی، بلکہ اس موقع پر ہوئی تھی جب صدر مملکت نے گزشتہ رمضان میں عمومی طور پر ملک بھر سے سو دو سو اہل علم و ادب کو مدعو کیا تھا۔امریکی سفیر کی غامدی صاحب کے گھر میں آمد تو کجا کسی مجلس میں بھی ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ ''ڈان'' کی پوری تاریخ میں غامدی صاحب کے ادارے کی طرف سے صرف ایک اشتہار شائع ہوا ہے اور وہ سرورق پر نصف صفحہ کا نہیں، بلکہ اس کے ایک میگزین کے صفحہ۲۵ پر شائع ہونے والا دو انچ کا دو کالمی اشتہار ہے اور اس میں ان کے ٹی وی پروگراموں کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ان کی کتابوں کے نام مذکور ہیں۔

تعجب ہے کہ یہ ''موضوع'' روایتیں ''محدث'' نے نقل کی ہیں۔ اس محدث نے، جس کے صفحۂ اول پر '' ملت اسلامیہ کا علمی اور اصلاحی مجلہ'' کے الفاظ رقم ہیں اورصفحۂ آخر پر انصاف پسندی اور اعتدال پسندی کا دعویٰ کیا گیا ہے اور جو خود کو محدثین کا نمائندہ قرار دیتا ہے۔ انھی محدثین کاجنھوں نے تحقیق روایت کا وہ بے مثال فن ایجاد کیا ہے جس کے نتیجے میں جھوٹ اور سچ کا التباس کم و بیش ناممکن ہو جاتا ہے۔بہرحال،ہم اہل'' محدث ''کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں قرآن مجید کی طرف بھی متوجہ ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ اس کے بعد امید ہے کہ وہ کتاب الٰہی کی اس ہدایت کو ہر گز نظر انداز نہیں کر سکیں گے:

وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ، اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً.(بنی اسرائیل۱۷: ۳۶)

''اور جس چیز کا تمھیں علم نہیں ، اس کے درپے نہ ہوا کرو۔ کیونکہ کان آنکھ اور دل، ان میں سے ہر ایک چیز کی پرسش ہونی ہے۔''