آزادی رائے، مغرب اور امت مسلمہ


ڈنمارک کے ایک اخبار میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین اور گستاخی پر مبنی خاکوں کی اشاعت سے عالم اسلام میں احتجاج کی جو طوفانی لہر پیدا ہوئی تھی، جذبات کا کتھارسس ہو جانے کے بعد حسب توقع مدھم پڑتی جا رہی ہے۔ مذہبی قائدین کی توجہ فطری طور پر دوسرے مسائل نے حاصل کر لی ہے اور خدا نخواستہ اس نوعیت کے کسی آیندہ واقعے کے رونما ہونے تک، عوامی سطح پر پائے جانے والے مذہبی جذبات بھی بظاہر پرسکون ہو چکے ہیں۔ اس طرح کے کسی بھی بحران میں امت مسلمہ کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کا تجزیہ، غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشان دہی، مستقبل کی پیش بینی اور اس حوالے سے کسی ٹھوس لائحۂ عمل کی تیاری اگرچہ ہماری روایت کے خلاف ہے، تاہم اس میں کوئی حرج نہیں کہ تازہ واقعے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات وواقعات سے صورت حال کے جو توجہ طلب پہلو ابھر کر سامنے آئے ہیں، ان پر کم سے کم ایک نظر ہی ڈال لی جائے۔

مغرب اور عالم اسلام کے مابین پرامن تعلقات کے قیام کے لیے ضروری ہے کہ قرآن مجید، پیغمبر اسلام یا مسلمانوں کے مذہبی شعائر کی توہین پر مبنی اس طرح کے واقعات ظہور پذیر نہ ہوں۔ اس ضمن میں بنیادی الجھن یہ ہے کہ مغربی معاشرہ چونکہ ایک خاص فکری ارتقا کے نتیجے میں مذہبی معاملات کے حوالے سے حساسیت کھو چکا ہے، نیز وہاں ریاستی نظم اور معاشرے کے مابین حقوق اور اختیارات کی بھی ایک مخصوص تقسیم وجود میں آ چکی ہے، اس وجہ سے مغربی حکومتیں قانونی سطح پر ایسے واقعات کی روک تھام کی کوئی ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس صورت حال میں امت مسلمہ کا لائحۂ عمل کیا ہونا چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں اختلاف رائے موجود ہے۔ ایک مکتب فکر کی رائے یہ ہے کہ معروضی حالات میں دعوتی اسپرٹ کے تحت اس طرح کے واقعات کے حوالے سے صبر واعراض سے کام لیا جائے اور اسلام کا پیغام مثبت طریقے سے مغربی دنیا تک پہنچانے پر اکتفا کی جائے۔ دوسرا زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ اس ضمن میں امت مسلمہ کی حساسیت کو مغرب اور اسلام کے مابین تعلقات کے حوالے سے باقاعدہ ایشو بننا چاہیے اور مغرب کو عالم اسلام کا موقف سننے، اس پر غور کرنے اور اس کو وزن دینے پر حتی الوسع مجبور کرنا چاہیے۔ ہم اس اختلاف کو حکمت عملی کا اختلاف سمجھتے اور اس حوالے سے دونوں نقطہ ہاے نظر کے مابین تفصیلی مباحثے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں تاکہ دونوں لائحہ ہاے عمل کے مضمرات پوری طرح سامنے آ سکیں۔ تاہم ہماری ناقص رائے میں دوسری اپر وچ زیادہ عملی اور امت مسلمہ کے جذبات ونفسیات کے زیادہ قرین ہے۔

اگر عالم اسلام سیاسی واقتصادی لحاظ سے اس پوزیشن میں ہوتا کہ مغرب کو اپنا موقف ''سمجھا'' سکے تو معاملہ نسبتاً آسان ہو جاتا، لیکن جیسا کہ واضح ہے، یہ حل سردست میسر نہیں۔ حالیہ واقعات نے، البتہ، مسئلے کے ایک اور پہلو کو نمایاں کیا ہے اور وہ یہ کہ مغربی معاشرے کے نمایاں اور فہیم طبقات نے، بالعموم، اس مسئلے کے حوالے سے امت مسلمہ کے ساتھ اخلاقی ہمدردی کا اظہار کیا ہے اور مغربی ذرائع ابلاغ پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی مذہبی گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے گریز کریں۔ اس ضمن میں یورپی پارلیمنٹ کی منظور کردہ قرارداد کو ہمارے خیال میں اہل مغرب کے عمومی زاویۂ نگاہ کا ترجمان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کی قرارداد میں ذرائع ابلاغ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آزادی رائے کے حق کو انسانی ومذہبی حقوق کے احترام کو ملحوظ رکھتے ہوئے استعمال کریں۔ قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آزادی رائے کے حق کے استعمال کے نتیجے میں اگر کسی فرد یا گروہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو اس کی تلافی کے لیے اسے عدالت کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اس مقصد کے لیے (قرارداد کے مطابق) یورپی ممالک میں نافذ موجودہ قوانین کافی ہیں۔

یہ رد عمل بدیہی طور پر اس رد عمل سے مختلف ہے جو مغربی دنیا نے سلمان رشدی کے معاملے میں ظاہر کیا تھا۔ غور کیا جائے تو اس کا سبب خود ہماری حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ سلمان رشدی کے معاملے میں مغرب کی اخلاقی حس کو اپیل کرنے کے بجائے اس کے قانونی دائرۂ اختیار کو چیلنج کرتے ہوئے رشدی کے قتل کا فتویٰ صادر کیا گیا تھا، جبکہ حالیہ واقعے میں ہم نے عالمی فورم پر یہ مسئلہ اصلاً اخلاقی سطح پر اٹھایا۔ یہ اسی کا اثر تھا کہ بعد میں رونما ہونے والے پرتشدد واقعات کے باوجود مغربی دنیا معاملے کو اخلاقی زاویے ہی سے دیکھنے پر مجبور ہوئی اور امت مسلمہ کا موقف اور جذبات ایک حد تک اہل مغرب تک پہنچ سکے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اہل مغرب کی عمومی اخلاقی حس اور عالم اسلام کے ساتھ پرامن تعلقات کے قیام کی خواہش کو، جو وسیع پیمانے پر پائی جاتی ہے، حکمت اور دانش کے ساتھ وسیلہ بنایا جائے تو مغربی معاشرے میں مذہبی نوعیت کی نہ سہی، سیاسی ومفاداتی نوعیت کی سہی، وہ حساسیت پیدا کی جا سکتی ہے جس کا فقدان اس وقت عالم اسلام کے احساسات وجذبات کی کماحقہ رعایت میں مانع ثابت ہو رہا ہے۔

تازہ صورت حال کا ایک اور مثبت اور قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ اس نوعیت کے گزشتہ واقعات کی طرح، اس واقعے کے بعد بھی مغربی عوام میں اسلام اور پیغمبر اسلام کے بارے میں مزید جاننے اور بہتر واقفیت حاصل کرنے کے جذبے کو مہمیز ملی ہے۔ امریکی مسلمانوں کی تنظیم ''کیر'' (Council for American-Islamic Relationship)کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ بحران کے بعد جب کونسل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں صحیح معلومات فراہم کرنے کی ایک مہم کا آغا زکیا تو صرف ۴۸ گھنٹے کے اندر امریکا اور کینیڈا سے ۱۶۰۰ پیغام موصو ل ہوئے جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی گئی تھی۔ گزشتہ سال مئی ۲۰۰۵ میں امریکی فوجیوں کی جانب سے گوانتانامو بے میں قرآن مجید کی بے حرمتی کے واقعات سامنے آئے تو اس موقع پر بھی ''کیر'' نے قرآن مجید کے مترجم نسخے پھیلانے کی مہم شروع کی اور ہزاروں امریکیوں نے قرآن مجید کا نسخہ حاصل کرنے کے لیے کونسل کے ساتھ رابطہ کیا۔ امت مسلمہ اور بالخصوص دیار مغرب کے مسلمانوں کو مغربی دنیا میں پیدا ہونے والے اس تجسس اور جذبۂ جستجو کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس فضا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکمت اور دانش کے ساتھ اسلام اور پیغمبر اسلام کی اصل تصویر اہل مغرب کے سامنے پیش کرنی چاہیے۔

یہ تو وہ پہلو ہیں جن کا تعلق اسلام اور مغرب کے باہمی روابط سے ہے۔ اس کے علاوہ امت مسلمہ کی داخلی صورت حال اور رویے کے حوالے سے بھی چند امور قابل توجہ، بلکہ درست تر الفاظ میں قابل اصلاح ہیں:

پہلی چیز یہ ہے کہ دنیا کو اخلاقیات کا درس دینے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے گھر کا جائزہ لے کر یہ دیکھیں کہ دوسرے مذہبی گروہوں کے جذبات کے احترام کے حوالے سے خود ہماری اخلاقی صورت حال کیا ہے۔ افسوس ہے کہ اس ضمن میں کوئی اچھی مثال دینے کے لیے بالعموم ماضی ہی کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔ ہماری تاریخ کے دور اول نے یہ منظر بھی دیکھا کہ فتح اسکندریہ کے موقع پر جب کسی مسلمان سپاہی کے پھینکے ہوئے تیر سے سیدنا مسیح علیہ السلام کی تصویر کی ایک آنکھ پھوٹ گئی تو اسلامی لشکر کے سپہ سالار عمرو بن العاص نے 'قصاص' کے لیے اپنی آنکھ پیش کر دی، اور اب دور زوال میں ہم نے اس ''اجتماعی اخلاقیات'' کا مظاہرہ بھی کیا کہ خالص سیاسی محرکات کے تحت دنیا کے ایک بڑے مذہب کے بانی گوتم بدھ کے مجسمے تباہ کیے گئے تو اسے بت شکنی کی روایت کا احیا قرار دے کر اس پر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے گئے۔ ہمارے ہاں ایک مذہبی گروہ کے ''پیغمبر'' کے بارے میں تضحیک، تمسخر اور توہین پر مبنی جو لٹریچر شائع ہوتا اور مذہبی جلسوں میں جو زبان معمول کے طور پر استعمال کی جاتی ہے، وہ ہماری اخلاقی سطح کو واضح کرنے کے لیے کافی ہے۔

دوسری چیز، جو اہمیت کے لحاظ سے کسی طرح بھی پہلی سے کم نہیں، یہ ہے کہ اہل اسلام نے، کم از کم مغرب میں رونما ہونے والے واقعات پر رد عمل ظاہر کرنے کے حوالے سے، توہین رسالت کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی تک محدود کر رکھا ہے۔ مغرب میں سیدنا مسیح علیہ السلام اور دوسرے پیغمبروں کے بارے میں بھی توہین اور گستاخی کا رویہ موجود ہے اور اس کا اظہار مختلف واقعات کی صورت میں ہوتا رہتا ہے، لیکن ہمارے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں کہ امت مسلمہ نے، امت کی سطح پر نہ سہی، انفرادی یا اداراتی سطحوں پر ہی اس حوالے سے غم وغصے کے جذبات اہل مغرب تک پہنچانے کی کوشش کی ہو۔ اللہ کے پیغمبروں کے مابین یہ تفریق اسلام کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کے ساتھ مذہبی وسیاسی مخاصمت ہماری نفسیات پر اس درجے میں اثر انداز ہو چکی ہے کہ ہم نے ''اپنے'' پیغمبر اور ''ان کے'' پیغمبروں کے مابین بھی حد فاصل قائم کر لی ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ ہمیں توہین وتضحیک اور تنقید کے مابین فرق کو ہر حال میں ملحوظ رکھنا ہوگا۔ توہین وتمسخر کا جواب تو یقیناًاعراض یا پرامن احتجاج ہے، لیکن اسلام یا پیغمبر اسلام پر کی جانے والی کوئی تنقید اگر علمی یا استدلالی پہلو لیے ہوئے ہے تو اس کو اسی زاویے سے دیکھنا چاہیے۔ ہماری رائے میں قرآن کے مقابلے میں کسی کا 'الفرقان' پیش کرنا قرآن کی توہین نہیں، بلکہ اس پر تنقید ہے، اور اس پر احتجاج کرنا ایک بے معنی بات ہے۔ اپنے جیسا کلام پیش کرنے کا چیلنج خود قرآن نے جن وانس کو دے رکھا ہے اور اگر کوئی شخص اس چیلنج کے جواب میں کوئی کاوش کرتا ہے یا کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کا پورا پورا حق حاصل ہے۔ اگر ہمارا قرآن مجید کے ایک معجز کلام ہونے کا دعویٰ محض اعتقادی نہیں ہے تو پھر کسی کو اس میں کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ اس طرح کی کوئی بھی کوشش قرآن کے چیلنج کو مزید موکد کرنے کے سوا اور کوئی خدمت انجام نہیں دے سکے گی۔