سی پی ایس انٹرنیشنل کسی نئے فتنے کی تمہید؟


[''نقطۂ نظر'' کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔ اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

مولانا وحید الدین خان کا شمار بلاشبہ اس وقت عالم اسلام کی چند بڑی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مولانا محترم نے دین کے صحیح تصور، اس کے اجزا اور عناصر کے باہمی تعلق، دین کی حقیقی روح اور اس کے مطالبات کے صحیح رخ کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ امت میں پیدا ہونے والے فکری وعملی رویوں اور بالخصوص معاصر دنیا میں مسلمانوں کے فکری اور ذہنی مزاج کے تجزیے کی خدمت جس خوبی ، گہرائی او ربصیرت کے ساتھ انجام دی ہے اس میں کسی کو ان کا ثانی قرار دینا مشکل ہے۔ ان کی فکری اور دعوتی جدوجہد لگ بھگ نصف صدی کے عرصے کو محیط ہے اور اپنے موقف اور استدلال پر استقامت اور اس کے فروغ کے لیے ان تھک محنت کے نتیجے میں پوری دنیا میں ان کا ایک وسیع حلقۂ فکر وجود میں آ چکا ہے۔ نہ صرف مسلم امہ میں ان کی شخصیت دعوت اسلام کا عنوان سمجھی جاتی ہے، بلکہ غیر مسلم حلقوں تک بھی ان کے ذریعے سے اسلام کا پیغام وسیع پیمانے پر پہنچا ہے۔

تاہم تمام اہل فکر کی طرح مولانا محترم کی شخصیت اور طرز فکر کے بہت سے پہلو بھی ارباب فکر ونظر کے ہاں موضوع بحث رہے ہیں، جن میں سے ایک پہلو کی طرف ہم ان سطور میں توجہ دلانا چاہتے ہیں۔ مولانا کے زاویۂ نگاہ سے اصولی طور پر اتفاق رکھنے والے اہل فکر کا ایک حلقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ مخالف فکری زاویوں اور شخصیات پر تنقید کے لیے ان کا اختیار کردہ لب ولہجہ اور اسلوب 'رایی صواب یحتمل الخطا ورایہم خطا یحتمل الصواب' کے ذہنی رویے کے بجائے حتمیت کی عکاسی کرتا ہے اور وہ اپنے زاویۂ نگاہ کو 'ایک نقطۂ نظر' سمجھنے کے بجائے 'واحد درست طرز فکر' قرار دینے پر اصرار میں حد اعتدال سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ یہ طرز فکر ایک عمومی فکری دائرے کے اندر رہے تو انسانی نفسیات میں کسی حد تک اس کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے، لیکن افسوس ہے کہ اس ذہنی رویے نے اب ایک ایسا رخ اختیار کر لیا ہے جس سے ہماری رائے میں نہ صرف مولانا کی پوری جدوجہد کی افادیت پر ایک سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے ، بلکہ اس بات کا خدشہ ہے کہ وہ خود دین کے حوالے سے ایک خطرناک شکل اختیار کر سکتا ہے۔ ایک عرصے کی عمومی دعوت اور ذہن سازی کے بعد مولانا نے چند سال قبل اپنے فہم کے مطابق دعوت اسلام کو عالمی سطح پر پھیلانے کے لیے ''سی پی ایس انٹرنیشنل'' کے نام سے ایک فورم تشکیل دیا ہے جس میں شامل افراد کی ایک مخصوص ٹیم براہ راست مولانا محترم سے ذہنی و فکری اور روحانی تربیت حاصل کرتی ہے۔ ایک تازہ تحریر میں مولانا محترم نے دعوت اسلام میں اس ٹیم کا کردار اور اس کے ''فضائل ومناقب'' یوں بیان فرمائے ہیں:

''ماضی اور حال کے تمام قرائن تقریباً یقینی طور پر یہ بتاتے ہیں کہ سی پی ایس کی ٹیم ہی وہ ٹیم ہے جس کی پیشین گوئی کرتے ہوئے پیغمبر اسلام نے اس کو اخوان رسول کا لقب دیا تھا۔ اصحاب رسول کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ تھے بلکہ وہ عام انسانوں کی طرح انسان تھے۔ اسی طرح اخوان رسول بھی کوئی عجیب الخلقت لوگ نہ ہوں گے بلکہ وہ بھی عام انسانوں کی طرح انسان ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ نہ ہوگی کہ وہ انوکھے جسم والے ہوں گے یا یہ کہ وہ کرامتیں دکھائیں گے۔ ان کی پہچان صرف یہ ہوگی کہ وہ دعوت حق کے اس ربانی مقصد کے لیے کھڑے ہوں گے جس پر رسول اور اصحاب رسول کھڑے ہوئے تھے۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان بہت سی تحریکیں اٹھی ہیں مگر وہ اخوان رسول کا درجہ نہیں پا سکتیں۔ اس لیے کہ اخوان رسول کا درجہ صرف وہ لوگ پا سکتے ہیں جو 'ما انا علیہ واصحابی' کا مصداق ہوں۔ موجودہ زمانے میں اٹھنے والی تمام تحریکیں رد عمل کی تحریکیں تھیں۔ ان میں سے کوئی بھی تحریک ایسی نہیں جس کا یہ کیس ہو کہ اس کے رہنما نے رد عمل کی نفسیات سے مکمل طور پر خالی ہو کر قرآن اور سنت کا مطالعہ کیا اور پھر خالص مثبت بنیادوں پر اپنی تحریک کا آغاز کیا۔ یہ خصوصیت صرف سی پی ایس انٹرنیشنل کی تحریک میں پائی جاتی ہے۔

تاریخ میں اہل حق کے لیے جو بڑے بڑے امکانات رکھے گئے تھے، اب وہ سب امکانات ختم ہو چکے ہیں۔ پیغمبروں کا ساتھ دینا، مسیح کا حواری بننا، پیغمبر آخر الزماں کے اصحاب میں شامل ہونا۔ اب صرف ایک بڑا درجہ باقی رہ گیا ہے، یہ درجہ اخوان رسول کے گروپ کا حصہ بننا ہے۔ اس کے بعد جو چیز ہے، وہ تاریخ کا خاتمہ (end of history) ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ یہ تاریخ کا آخری مبارک موقع ہے۔ جس نے اس موقع کو پالیا، اس نے سب کچھ پا لیا اور جس نے اس موقع کو کھو دیا، اس نے سب کچھ کھو دیا۔'' (ماہنامہ تذکیر، ستمبر ۲۰۰۶، ۴۲)

ہم مولانا محترم کے تمام تر شخصی احترام اور ان کی کاوشوں کی قدر وقیمت کے پورے اعتراف کے باوجود یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مذکورہ دعویٰ ایک بے حد سطحی، خطرناک اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔ مولانا محترم نے ا س پیشین گوئی کے لیے جس روایت کو ماخذ بنایا ہے، وہ حسب ذیل ہے:

''ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر قبرستان تشریف لے گئے اور فرمایا: 'وددت انا قد راینا اخواننا'(میری خواہش ہے کہ ہم اپنے بھائیوں کو دیکھ لیتے) صحابہ نے کہا، یا رسول اللہ، کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: 'انتم اصحابی واخواننا الذین لم یاتوا بعد' (تم تو میرے اصحاب ہو، ہمارے بھائی تو وہ ہیں جو ابھی نہیں آئے)۔'' (مسلم، رقم ۳۶۷)

ہر شخص دیکھ سکتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روایت میں کسی مخصوص گروہ کے بارے میں کوئی پیش گوئی نہیں فرمائی۔ آپ نے اپنے دور کے اہل ایمان کو اپنے اصحاب، جب کہ اپنے بعد آنے والے اہل ایمان کو اپنے بھائی کہا ہے۔ یہاں کسی مخصوص گروہ کا ذکر اور اس کے بارے میں کوئی پیش گوئی کرنا مقصود ہی نہیں۔ اس سادہ بیان کو کسی مخصوص گروہ کے بارے میں پیشین گوئی قرار دے کر اس گروہ کی علامات اور خصوصیات کا تعین اور پھر پورے یقین اور دعوے کے ساتھ سی پی ایس انٹر نیشنل کو اس کا مصداق قرار دینا محض مولانا محترم کی ذہنی اختراع ہے۔ اپنے لائحۂ عمل کی صحت اور اپنی تیار کردہ ٹیم کی صلاحیتوں کے بارے میں مولانا محترم کا ایمان ویقین کتنا ہی پختہ کیوں نہ ہو، اس کا مذکورہ تحریر میں نظر آنے والے ادعا کی حد تک پہنچ جانا، ایک بے حد خطرناک بات ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تقدس اور خدائی انتخاب کے زعم کے ساتھ اٹھنے والی اس طرح کی تحریکیں بالعموم کسی نہ کسی مذہبی فتنے پر ہی منتج ہوتی ہیں۔ اول تو عام فکری، سماجی یا سیاسی تحریکوں میں بھی دعوت فکر دینے والی شخصیت، آہستہ آہستہ اصل فکر کی جگہ لے لیتی ہے اور بجاے خود تعلق اور وابستگی کا معیار بن جاتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر کام دینی ومذہبی نوعیت کا ہو تو اپنی حکمت عملی اور جماعت کے بارے میں 'تقدس' اور 'الٰہی انتخاب' کے غرے میں مبتلا ہو جانا بھی ایک عام انسانی کمزوری ہے۔ ان دونوں چیزوں کو وجود میں لانے کے لیے کسی خاص تگ ودو کی ضرورت نہیں پڑتی، لیکن اگر مولانا وحیدالدین خان کی سطح کے رہنما بھی خود انگلی پکڑ کر پیروکاروں کو اس راستے پر چلنے کی دعوت دینے لگیں تو :

اب کسے رہنما کرے کوئی

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

لا یقلدن احدکم دینہ رجلا، فان آمن آمن، وان کفر کفر، وان کنتم لا بدمقتدین فاقتدوا بالمیت، فان الحی لا یؤمن علیہ الفتنۃ.

(المعجم الکبیر للطبرانی، رقم ۸۷۶۴)

''تم میں سے کوئی شخص دین کے معاملے میں اپنی باگ کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ میں نہ دے دے کہ اگر وہ ایمان لائے تو یہ بھی ایمان لے آئے اور اگر وہ کفر کرے تو یہ بھی کفر پر راضی ہو جائے۔ اور اگر تمھیں ضرور کسی کی اقتدا ہی کرنی ہے تو اس کی کرو جو دنیا سے رخصت ہو چکا ہے، کیونکہ کوئی زندہ شخص اس بات سے مامون نہیں کہ وہ کسی بھی وقت فتنے میں مبتلا ہو جائے۔''

اگر خدا نخواستہ، خدا نخواستہ سی پی ایس انٹرنیشنل کسی نئے مذہبی فتنے کا پیش خیمہ ہے اور امت مسلمہ اور بالخصوص پوری دنیا میں پھیلے ہوئے مولانا کے معتقدین کا دین وایمان کسی نئے امتحان سے دوچار ہونے والا ہے تو ہم اس سے پناہ مانگتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اپنے اور مولانا اور ان کے معتقدین کے ایمان کی حفاظت کی دعا کرتے ہیں: اللّٰہم انا نستودعک دیننا وامانتنا وخواتیم اعمالنا۔ آمین