دین اور عقل


ہمارے ہاں لوگ بالعموم کہتے ہیں کہ دین کا عقل سے کیا تعلق ؟ یہ تو بس مان لینے کی چیز ہے ۔ چنانچہ اس باب میں علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے کہ دین کے احکام اگر عقل پر مبنی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پاؤں کے اوپر مسح کرنے کا حکم نہ دیتے ۔ عقل کا تقاضا یہی تھا کہ پاؤں چونکہ زیادہ تر نیچے سے گندے ہوتے ہیں ، اس لیے مسح بھی وہیں کیا جاتا۔ ہمارے نزدیک یہ نقطۂ نظر کسی طرح صحیح نہیں ہے ۔ قرآن مجید بالصراحت کہتا ہے کہ سارا دین عقل پر مبنی ہے ۔وہ اپنے تمام احکام و عقائد اسی بنیاد پر انسانوں کے سامنے پیش کرتا ہے ۔ اس نے جو بات بھی کہی ہے ، اس کے لیے ہر جگہ عقلی دلائل پیش کیے ہیں ۔ وہ ان دلائل سے گریز کی راہ اختیار کرنے والوں کو تنبیہ کرتا ہے کہ وہ اپنی عقل سے کیوں کام نہیں لیتے ۔ قرآن مجید کا مطالعہ اگر تدبر کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ انسان دین کو ماننے اور اس کی ہدایات پر عمل کرنے کا مکلف ہی اس لیے ٹھیرایا گیا ہے کہ اس کے پروردگار نے اسے عقل کی نعمت عطا فرمائی ہے ۔چنانچہ ایک بھلا چنگا آدمی جس کے کسی عضو میں کوئی نقص نہیں ہوتا ، محض عقل سے محروم ہو جانے کی وجہ سے دین میں تمام ذمہ داریوں سے بری قرار دیا جاتا ہے ۔ وہ باقی ہر لحاظ سے صحیح سالم ہونے کے باوجود قرآن و حدیث کی رو سے نہ روزہ و نماز کا مکلف ہوتا ہے اور نہ اسے کسی جرم کے ارتکاب پر سزا دی جا سکتی ہے ۔

اس میں شبہ نہیں کہ ہماری عقل بہت سے دینی حقائق خود دریافت نہیں کر سکتی ، لیکن اللہ کے نبیوں کی طرف سے ان کی وضاحت کے بعد وہ انھیں سمجھنے کی صلاحیت بے شک رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں ماننے کا تقاضا بھی اللہ تعالیٰ نے اسی سے کیا ہے ۔

آئن اسٹائن کا نظریۂ اضافت ہماری جامعات میں سائنس کے طلبہ نے دریافت نہیں کیا ۔ وہ شاید اسے دریافت کر بھی نہیں سکتے ، لیکن اب وہ ہر روز اسے سمجھتے اور جس حد تک اپنی عقل کے مطابق پاتے ہیں، بغیر کسی تردد کے مان لیتے ہیں ۔ سائنس کا استاد ، جب یہ نظریہ انھیں سمجھاتا ہے تو ان کی عقل ہی کو خطاب کرتا ہے اور اسی سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اسے مانے ۔

دین بھی انسان کی عقل ہی کو خطاب کرتا ہے۔ چنانچہ وہ عقل سے ماورا کوئی ہدایت عقل کو نہیں دیتا ۔ اس کی تمام ہدایات بالکل عقل کے مطابق ہیں ۔

ہم نہیں سمجھتے کہ علی رضی اللہ عنہ جیسے عاقل انسان نے مسح کے بارے میں وہ بات کہی ہو گی جو اوپر بیان ہوئی ہے۔ ہم میں سے ہر شخص بادنیٰ تامل سمجھ سکتا ہے کہ جرابوں پر مسح ان کی غلاظت دور کرنے کے لیے نہیں کیا جاتا ۔ اس کی حیثیت تیمم کی طرح محض ایک علامت کی ہے جس سے ہم ایک طرح کی ذہنی پاکیزگی حاصل کرتے ہیں ۔ ہم پورے اطمینان کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کے حکم کی پیروی میں محض پاؤں کے اوپر ہاتھ پھیر لینے سے حاصل ہو جاتی ہے ۔ اسے کسی طرح خلاف عقل قرار نہیں دیا جا سکتا۔