متفرق سوالات


[ المورد میں خطوط اور ای میل کے ذریعے سے دینی موضوعات پر سوالات موصول ہوتے ہیں۔ المورد کے شعبۂ علم و تحقیق اور شعبۂ

تعلیم و تربیت کے رفقا ان سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ ان میں سے منتخب سوال و جواب کو افادۂ عام کے لیے یہاں شائع کیا جا رہا ہے۔]

ڈاڑھی کا مسئلہ

سوال: میں نے غامدی صاحب کو یہ فرماتے سنا ہے کہ ڈاڑھی کا دینی احکام سے کوئی تعلق نہیں اور ڈاڑھی رکھنا واجب نہیں، لیکن علامہ راشدی صاحب نے اپنے خطاب میں ایک حدیث کا حوالہ دیا ہے کہ `'مجھے میرے رب نے حکم دیا ہے کہ میں ڈاڑھی بڑھاؤں اور مونچھوں کو گھٹاؤں۔'' اس ضمن میں آپ کی کیا رائے ہے؟(محمد بشارت)

جواب: دین میں ڈاڑھی کی حیثیت کے بارے میں استاذ گرامی جناب جاوید احمد غامدی کے دو قول ہیں۔ قول جدید کے مطابق یہ ان کے نزدیک کوئی دینی نوعیت رکھنے والی چیز نہیں، جبکہ قول قدیم یہ ہے کہ اسے دین کے ایک شعار اور انبیا کی سنت کی حیثیت حاصل ہے۔ ۱۹۸۶ء میں ایک سوال کے جواب میں انھوں نے لکھا کہ:'`ڈاڑھی نبیوں کی سنت ہے۔ ملت اسلامی میں یہ ایک سنت متواترہ کی حیثیت سے ثابت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ان دس چیزوں میں شمار کیا ہے جو آپ کے ارشاد کے مطابق اس فطرت کا تقاضا ہیں جس پر اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے اور قرآن مجید نے فرمایا ہے کہ اللہ کی بنائی ہوئی فطرت میں کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔ ارشاد خداوندی ہے:

لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم ولکن اکثر الناس لا یعلمون `'اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے۔ یہی سیدھا دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔'`

''بنی آدم کی قدیم ترین روایت ہے کہ مختلف اقوام و ملل اپنی شناخت کے لیے کچھ علامات مقرر کرتی ہیں۔ یہ علامات ان کے لیے ہمیشہ نہایت قابل احترام ہوتی ہیں۔ زندہ قومیں اپنی کسی علامت کو ترک کرتی ہیں، نہ اس کی اہانت گوارا کرتی ہیں۔ اس زمانے میں جھنڈے اور ترانے اور اس طرح کی دوسری چیزوں کو ہر قوم میں یہی حیثیت حاصل ہے۔ دین کی بنیاد پر جو ملت وجود میں آتی ہے، اس کی علامات میں سے ایک یہ ڈاڑھی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن دس چیزوں کو فطرت میں سے قرار دیا ہے، ان میں سے ایک ختنہ بھی ہے۔ ختنہ ملت ابراہیمی کی علامت یا شعار ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈاڑھی کی حیثیت بھی اس ملت کے شعار کی ہے، چنانچہ کوئی شخص اگر ڈاڑھی نہیں رکھتا تو وہ گویا اپنے اس عمل سے اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ وہ ملت اسلامی میں شامل نہیں ہے۔ اس زمانے میں کوئی شخص اگر اس ملک کے علم اور ترانے کو غیر ضروری قرار دے تو ہمارے یہ دانش ور امید نہیں ہے کہ اسے یہاں جینے کی اجازت دینے کے لیے بھی تیار ہوں۔ لیکن اسے کیا کیجیے کہ دین کے ایک شعار سے بے پروائی اور بعض مواقع پر اس کی اہانت اب ان لوگوں کا شعار بن چکا ہے۔ ہمیں ان کے مقابلے میں بہرحال اپنے شعار پر قائم رہنا چاہیے۔'' (اشراق، ستمبر ۱۹۸۶)

میری طالب علمانہ رائے میں ڈاڑھی کو ایک امر فطرت کے طور پر دینی مطلوبات میں شمار کرنے کے حوالے سے استاذ گرامی کا قول قدیم اقرب الی الصواب ہے۔ البتہ اس میں ڈاڑھی کو `'شعار'' مقرر کیے جانے کی جو بات کہی گئی ہے، اس پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ روایات کے مطابق صحابہ وتابعین کے عہد میں بعض مقدمات میں مجرم کی تذلیل کے لیے سزا کے طور پر اس کی ڈاڑھی مونڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس نوعیت کے فیصلے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سعد بن ابراہیم اور عمرو بن شعیب سے منقول ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۳۳۵۲۸۔ اخبار القضاۃ لوکیع ۱۱۵۹) اگر یہ حضرات ڈاڑھی کو کوئی باقاعدہ شعار سمجھتے تو یقیناًمذکورہ فیصلہ نہ کرتے۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کسی علاقے کے مسلمان اجتماعی طور پر کوئی جرم کریں اور سزا کے طور پر ان کی کسی مسجد کو منہدم کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اسی طرح ڈاڑھی کو دینی شعار سمجھتے ہوئے اسے تعزیراً مونڈ دینے کا فیصلہ بھی ناقابل فہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کے فقہا کے ہاں عام طور پر یہی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ تعزیر کے طور پر کسی مسلمان کی ڈاڑھی نہیں مونڈی جا سکتی۔ واللہ اعلم

کون سی تفسیر بہتر ہے

سوال: میں جاننا چاہتی ہوں کہ غامدی صاحب کی نظر میں کون سی تفسیر بہتر ہے۔ میں نے مولانا مودودی کی تفہیم القرآن کا مطالعہ کیا ہے مگر اس کے کچھ حصوں سے مجھے اتفاق نہیں ہو سکا۔ میں عربی پڑھ اور سمجھ سکتی ہوں اور جب کوئی ترجمہ پڑھتی ہوں تو احتیاط سے کام لیتی ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ اکثر مترجم اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ قرآن، جسے وہ ترجمہ کر رہے ہیں، شاعری سے قریب ہے نثر نہیں۔وہ لفظی ترجمہ میں اصل مفہوم کو نظر انداز کر سکتے ہیں۔

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے کہ قرآن مجید میں بعض تاریخی واقعات بار بار اور چند دیگر امور وضاحت سے بیان کئے گئے ہیں اور کچھ اہم باتیں بہت ہی اجمال سے بیان کی گئی ہیں۔ اس وجہ سے بہت اہم مسائل پر اختلاف پیدا ہوا ہے۔

میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالی، آدم، فرشتوں اور ابلیس کے مکالمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کو ابلیس کی سرکشی سے حیرت ہوئی۔ یہ بات مجھے طرز کلام سے سمجھ آتی ہے۔ایسا کیوں ہے؟ جبکہ اللہ تو سب جانتا ہے۔

میرا چوتھا سوال قرآن کے سمجھنے سے متعلق ہے۔ اگرچہ قرآن عربی میں ہے اور ہمیں چاہیے کہ ہم عربی سیکھیں تاکہ براہ راست کلام اللہ کو سمجھ سکیں اور مترجمین کے مرعون منت نہ رہیں۔ مگر کیا عرب دنیا کے لوگ قرآن کو صحیح سمجھ لیتے ہیں؟ میرا خیال ہے کہ نہیں۔ وہ تو بہت اختلاف میں پڑے اور بسا اوقات غلط تاویل کر جاتے ہیں۔ تو صحیح تاویل تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہے؟ صحیح تاویل تو ہدایت کی طرف لے جانے والی ہے۔

میں تو ہمیشہ قرآن پر ایمان رکھتی اور عمل کرتی ہوں۔ حدیث کا مطالعہ بھی کرتی ہوں مگر اس کے صحت سند کے حوالے سے سوالات کی وجہ سے بہت احتیاط کرتی ہوں۔ عجیب بات یہ ہے کہ مذہبی علما سے ہم جو جانتے اور سیکھتے ہیں وہ قرآن کی تعلیمات سے مطابق نہیں ہوتا۔ یہی حال سعودی علما کے فتاوی کا ہے۔غامدی صاحب سے مجھے ہمیشہ آیات کے صحیح معنی جاننے میں مدد ملی ہے۔ کیا وہ کوئی تفسیر یا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو وہ کس کی تفسیر یا ترجمہ اختیار کرتے ہیں؟( ڈاکٹر مدیحہ )

جواب: آپ کے سوالات کے جواب حسب ذیل ہیں۔

۱۔آپ کے ذوق اور عربی زبان کے حوالے سے آپ کے پس منظر کی بنا پر بہتر ہوگا کہ آپ مولانا امین احسن اصلاحی کی تدبر قرآن کا مطالعہ کرلیں۔ امید ہے کہ آپ کے بہت سے اشکالالات دور ہوجائیں گے۔

۲۔قرآن کریم کی دعوت کا بنیادی مقصد انسان کے لیے آخرت کی نجات کا لائحہ عمل واضح کرنا ہے۔ یہی سبب ہے کہ جن چیزوں پر آخرت کی نجات منحصر ہے، انھیں قرآن کریم نے بہت تفصیل کے ساتھ بار بار بیان کیا ہے۔ ان میں ایمانیات اور اس کے دلائل اور اخلاقی حوالے سے فرد پر عائد ہونے والی ذمہ داریاں شامل ہیں۔ انھی کو عام زبان میں حقوق رب اور حقوق العباد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

تاریخی واقعات قرآن کریم میں تاریخ نگاری کے فن کے طور پر بیان نہیں ہوئے۔ بلکہ یہ ان قوموں کے احوال ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی بعثت ہوئی اور ان قوموں نے رسولوں کی طرف سے دی جانے والی ایمان و اخلاق کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس کے بعد ایک فیصلے کے طور پر اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنا عذاب نازل کیا اور انھیں ایک نشان عبرت بنادیا۔ ان کے تذکرے سے بھی یہی مقصود ہے کہ لوگوں کے دل و دماغ میں یہ حقیقت نقش ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کوئی چھوٹی چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس کے نتیجے میں انسان اللہ کی گرفت کا شکار ہوجاتا ہے۔جہاں تک شرعی امور کا تعلق ہے تو ان کے بارے میں بھی یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ان کی بھی قرآن کریم میں بڑی تفصیل کی گئی ہے۔ اور ان میں بھی کوئی بڑا اور اصولی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ لیکن اگر ایسا ہو بھی تو یہ Interpretation کی غلطی ہوگی جس کے نتیجے میں آخرت میں اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آنے کا مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔

۳۔اللہ تعالیٰ کو کسی چیز پر حیرانی نہیں ہوتی۔ اس لیے نہیں ہوتی کہ کوئی بھی چیز ان کے لیے نئی نہیں ہوتی۔ قرآن کریم میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے جہاں یہ بات بیان ہوئی ہو کہ ابلیس کے انکار پر اللہ تعالیٰ کو حیرت ہوئی۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ جب اس نے سجدے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے انکار کے سبب کو واضح کرنے کے لیے اسے ایک سوال کی شکل میں پیش کیا۔ یہ اللہ تعالیٰ نے اس لیے کیا تھا کہ دیگر مخلوقات پر ابلیس کی غلطی واضح ہوجائے۔ اس کا سبب یہ بالکل نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم نہیں تھا کہ اس نے انکار کیوں کیا ہے۔

۴۔جو مفسر بھی قرآن کی تفسیر لکھتا ہے وہ نہ صرف اپنا نقطہ نظر بیان کرتا ہے بلکہ اس کی دلیل بھی دیتا ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے بہتر راستہ یہ ہے کہ وہ مختلف اہل علم کی تفاسیر دیکھ لیا کرے اور جن اہل علم کی رائے اور دلائل پر اس کا اطمینان ہو اسے اختیار کرلے۔ یہی ایک عام آدمی کے لیے قرآن کے مدعا کو پانے کا صحیح راستہ ہے۔

۵۔ہم نے شروع میں جس تفسیر کا حوالہ دیا ہے یعنی تدبر قرآن، وہ جاوید غامدی صاحب کے استاذ مولانا امین احسن اصلاحی کی تصنیف ہے۔ جاوید صاحب انھی کے اصولوں کے مطابق قرآن کریم کو سمجھتے ہیں۔ اس پہلو سے بھی آپ اس تفسیر کا مطالعہ کرسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ جاوید صاحب `البیان `کے نام سے قرآن کریم کا ترجمہ اور مختصر تفسیر خود بھی کررہے ہیں۔ االلہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں میں راسخ فرمادے اور ہماری غلطیوں کو معاف فرماکر صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے، آمین۔

عالمی حکومت کا خواب

سوال: جاوید احمد غامدی صاحب نے ایک ٹی وی پروگرام میں فرمایا: اب انسان اس بات کا حق رکھتا ہے کہ وہ ایک عالمی حکومت کا خواب دیکھے۔ اس بات نے میرے ذہن میں بہت الجھن پیدا کر دی ہے ۔ میں اس بات کو پوری طرح سمجھنا چاہتا ہوں۔ وضاحت فرماے؟

میرا دوسرا سوال یہ ہے کہ کچھ لوگ چند روایات نقل کرتے ہوئے یہ نقطۂ نظر اختیار کرتے ہیں کہ اگر خالد بن ولید رضی اللہ تعالی چند نفوس کو لے کر ساٹھ ہزار پر مشتمل ایک طاقتور فوج کو شکست دے سکتے ہیں تو پھر اس قرآنی آیت کا کیا مطلب ہے جو غامدی صاحب کے مطابق اس بات کو لازم قرار دیتی ہے کہ مسلمانوں کو اس وقت تک جنگ نہیں کرنا چاہیے جب تک ان کی حربی قوت دشمن کی حربی قوت کے کم از کم نصف برابر نہ ہو؟ (عامر امین)

جواب: آپ کے سوالات کے جواب حسب ذیل ہیں۔

۱۔آپ نے جاوید صاحب کی جس وڈیو کا حوالہ دیا ہے اس میں جاوید صاحب کا جملہ یہ ہے:

''میرا احساس یہ ہے کہ اب بھی دنیا کو یہ خواب دیکھنے کا حق ہے کہ ایک عالمی حکومت کی طرف ہم بڑھیں، جس میں انسان کی فلاح، انسان کی رفاہیت، غربت کے خلاف جنگ، جہالت کے خلاف جنگ ہمارا مطمح نظر ہو''۔

اس جملے سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ جاوید صاحب کا مدعا یہ ہے کہ انسانیت اپنے تمام تر اختلافات کے باوجود کچھ ایسی اقدار پر متفق ہوجائے، جو عالمی نوعیت کی ہوں اور جن کی بنیاد پر انسان کی عمومی فلاح و بہبود کے کام کرنا ممکن ہوجائے۔ جس سیاق میں جاوید صاحب بات کررہے ہیں اس سے محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس حکومت سے مراد کوئی سیاسی حکومت ہرگز نہیں ہے، بلکہ سرمایہ دارانہ نظام کی خامیوں کو مارکس نے جس طرح متوازن بنانے کی کوشش کی ہے، اس کے حوالے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی مرادانسانیت کی اجتماعی دانش کو بروئے کار لاکر ایک متوازن نظام کی طرف پیش قدمی ہے جس کی بنیادی اساس انسانیت کی فلاح ہو۔

۲۔ہمارے ہاں عام طور پر یہ رواج ہے کہ قرآن کریم کو صحیح، ضعیف اور موضوع روایات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اسی نوعیت کے سوالات پیدا ہوجاتے ہیں جن میں سے ایک کاذکر، حضرت خالد بن ولید کے حوالے سے ایک تاریخی روایت نقل کرکے آپ نے کیا ہے۔ جب یہ روایات قرآنی بیان کی تائید نہیں کرتیں، تو لوگ ایک نوعیت کے کنفیوژن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ قرآن فہمی کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ روایات و آثار کو قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے۔

اس اصولی بات کے بعد اب آئیے اس روایت کی طرف جسے آپ نے نقل کیا ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ ایک تاریخی روایت ہے۔ اور اس کا اپنا متن ہی پکار کر کہہ رہا ہے کہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس بات سے تو سب واقف ہیں کہ جنگِ موتہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً تین ہزار تھی۔ جبکہ رومی لشکر کی تعداد کا اندازہ ایک لاکھ تک لگایا گیا ہے۔ ایک اور تینتیس کے اس تناسب میں حضرت خالد کا سب سے بڑا کارنامہ یہ سمجھا گیا کہ وہ اپنے لشکر کو بچا کر کامیابی سے واپس مدینہ لے آئے۔ جبکہ جو تناسب آپ بتا رہے ہیں۔ وہ ایک اور چھ ہزار کا ہے۔ یہ اگر فتح کے حصول کے لیے کوئی کافی تناسب ہوتا تو جنگ موتہ میں وہ صورتحال پیش نہ آتی جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ مسلمانوں کے تین عظیم سپہ سالاروں کی شہادت کے بعد حضرت خالد اس طریقے سے پسپا ہوئے کہ دشمن کو تعاقب کا حوصلہ تک نہ ہوسکا اور اس کے دل پر مسلمانوں کی دہشت چھاگئی۔یہی ان کا اصل کارنامہ تھا جس پر وہ سیف اللہ کے عظیم خطاب کے حقدار ٹھہرے۔ اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایک اور چھ ہزار کے تناسب سے دشمن پر فتح حاصل کرنے کی بات نہ صرف قرآن کے خلاف ہے بلکہ عقل عام اور دیگر مصدقہ تاریخی روایات کے بھی خلاف ہے۔

تبلیغی جماعت

سوال: میں انڈیا سے تعلق رکھتا ہوں اور تبلیغی جماعت سے متعلق ہوں۔ تبلیغی جماعت جیسا کہ آپ جانتے ہیں پوری دنیا میں دین پھیلانے کا کام کرتی ہے۔ کچھ لوگ تبلیغی جماعت کے مشن اور طریق کار پر اعتراض کرتے ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ اگر تمام لوگ دین کی دعوت کا راستہ چھوڑ دیں تو اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں رہے گا۔ فرض کریں کہ یہ تبلیغ غلط ہے اور آج تمام لوگ تبلیغ کے لیے ٹی وی چینلز کھول کر بیٹھ جائیں۔ یہ تو ہم جانتے ہیں کہ ان ٹی وی پروگرامز کے دوران بہت سے ایسے اشتہار چلائے جاتے ہیں جن میں عورتوں کی بے ہودگی دکھائی جاتی ہے۔ اب جو لوگ پروگرام دیکھ رہے ہیں وہ اشتہار بھی ضرور دیکھیں گے۔ اور ایسی چیزیں دیکھنے سے ان لوگوں کے اندر غلط خیالات پیدا ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ تنہائی میں کوئی غلط حرکت کرنے کے بارے میں بھی سوچ سکتے ہیں۔ تو جو لوگ تبلیغی جماعت والوں کے خلاف بولتے ہیں وہ پانچ فیصد دین بھی نہیں سیکھ پاتے۔

جو لوگ تبلیغی جماعت کے ساتھ جاتے ہیں وہ عبادات سیکھ لیتے ہیں، وہ اللہ اور اس کے پیغمبر سے عقیدت پیدا کر لیتے ہیں اور قرآن کی کچھ آیات یاد کر لیتے ہیں۔ اگر یہ ٹھیک ہے تو پھر لوگ کس بنا پر کہتے ہیں کہ تبلیغ غلط ہے۔ تبلیغی جماعت والے دوسروں کی طرح انسان ہی ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو دین پھیلانے کے لیے، نہ کہ سیر کرنے کے لیے۔ اس لیے وہ جہاں بھی جائیں وہاں کی مسجد میں قیام کرتے ہیں نہ کہ کسی ہوٹل کے کمرے میں۔ برائے مہربانی مجھے بتائیے کہ کیا تبلیغ صحیح ہے یا غلط؟ اگر غلط ہے تو کس بنا پر؟(عبد القاسم)

جواب: تبلیغی جماعت کئی پہلوؤں سے مفید اور کارآمد خدمات انجام دے رہی ہے۔ خاص کر اس پہلو سے تبلیغی جماعت کی خدمات قابلِ تحسین ہیں کہ مسلمانوں کے ان طبقات تک اس نے دین پہنچانے کی کوشش کی ہے جن تک عام حالات میں کسی اور ذریعے سے دین پہنچانا ممکن نہیں ہوتا۔ جو لوگ اس کام میں لگے ہوئے ہیں ہم ان کے اخلاص کے بھی قدردان ہیں کہ وہ اپنے وقت کا ایک حصہ نکال کر دوردراز علاقوں میں سفر کی مشقت اٹھاتے ہیں اور دین سے ناواقف لوگوں تک بنیادی دینی تصورات کا علم پہنچاتے ہیں۔

تاہم، یہ ایک حقیقت ہے کہ کئی پہلوؤں سے تبلیغی جماعت کے کام میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ تبلیغی جماعت جس نصاب کی بنیاد پر عام لوگوں تک دین کی دعوت پہنچاتی ہے اس کا ایک بڑا حصہ ضعیف اور موضوع روایات پر مشتمل ہے۔ اس سے بڑھ کر یہ کہ قرآن کریم کی شکل میں جو عظیم ترین نعمت ہمیں حاصل ہے اس کو بنیاد بنا کر یہ کام نہیں کیا جارہا۔ ہمارے نزدیک قرآن کریم جب کسی دینی دعوت کی بنیاد نہ ہو تو ایسے دعوتی کام میں افراط و تفریط کا پیدا ہوجانا لازمی ہوجاتا ہے۔

اس موضوع پر اور بھی بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر ان بنیادی باتوں ہی کی اصلاح کرلی جائے تو ہمارے نزدیک بہت کچھ بہتری آسکتی ہے۔ جہاں تک ان لوگوں کا سوال ہے جو ٹی وی چینلز کو ذریعہ بناکر دین کے حوالے سے کام کررہے ہیں تو ان کو بھی غلط نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ جس مسئلے کا آپ نے ذکر کیا ہے یعنی خواتین کا ٹی وی پر آنا۔ ہمارے نزدیک اس کو بنیاد بناکر ٹی وی چینلز پر دینی کام کو ترک کردینے پر اصرار درست نہیں۔ جو لوگ مختلف جگہوں پر جاکر دین کی دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں، آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ انھیں بھی راستوں اور بازاروں سے گزرنا ،اور بس اور ریل میں سفر کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام جگہوں پر بھی خواتین ایک نامناسب حلیے میں موجود ہوسکتی ہیں اور اکثر ہوا ہی کرتی ہیں۔ آپ خواتین سے آنکھیں بند کرکے راستوں سے نہیں گزر سکتے۔ آپ کو ہر حال میں اپنی نظر کو بچانا ہوگا۔ لہٰذا جس طرح خواتین کی موجودگی کے باوجود کسی نیک مقصد کی خاطر آپ راستوں اور بازاروں سے گزرنا بند نہیں کردیتے، بالکل اسی طرح اس چیز کو بنیاد بنا کر آپ مطلقاً ٹی وی دیکھنے کی ممانعت نہیں کرسکتے اور نہ ٹی وی کو ذریعہ بناکردینی دعوت پہنچانے کو ممنوع ٹھہرا سکتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ جو بات درست ہے اسے ہمارے دلوں میں راسخ فرمادے اور ہماری غلطیوں کو معاف فرماکر صحیح بات کی طرف ہماری رہنمائی فرمائے۔ آمین۔