متفرق سوالات


''دنیاٹی وی کے پروگرام''دین و دانش ۔جاوید احمد غامدی کے ساتھ'' کے سوال و جواب کا انتخاب پیش خدمت ہے ۔اس کی ترتیب اور تلخیص کا کام دنیا ٹی وی کے شعبہ مذہبی امور نے انجام دیا ہے۔''

مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ

سوال: مسلمانوں کی حالت زار کی وجہ کیا ہے اور اس کا حل کیا ہے؟

جواب: پچھلے دو تین سو برسوں میں علم نے غیر معمولی ترقی کی ہے۔ خاص طور پر طبعی علوم میں بہت ترقی ہوئی ہے۔ مغرب میں اس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ یہ بات ایک معلوم حقیقت ہے کہ مغرب میں پہلے اصلاح (Reformation) کی ایک تحریک چلی، اس کو اصلاح دین کی تحریک کہا جاتا ہے، جس کے بارے میں اقبال نے کہا کہ 'دیکھ چکا المنی شورش اصلاح دیں'۔اسی تحریک نے وہاں نشأۃ ثانیہ(Renaissance) کے لیے بنیادیں فراہم کیں۔ یہ ایک نوعیت کا احیائے علوم تھا۔ جو علوم پہلے موجود تھے، ان میں زندگی آئی۔ نئے علوم دریافت ہوئے۔ علوم سے متعلق لوگوں کا زاویۂ نظر بدلہ۔ پہلے کلیسا جس چیز پر مہر ثبت کر دیتا تھا، وہی مستند قرار پاتی تھی۔ اب انسان نے اپنے تجربے اور مشاہدے سے چیزوں کو دوسرے زاویوں سے دیکھنا شروع کیا۔

ایک لمبے عرصے تک ارسطو کی منطق استخراجیہ ( Deductive logic) کا بہت غلبہ رہا۔ پھر لوگوں نے استقرا کے ذریعے سے بہت سے علوم و فنون میں بعض انکشافات کرنا شروع کیے، جس کے اثرات زندگی، تہذیب و تمدن اور معیشت و معاشرت پر پڑنا شروع ہو گئے۔ اس کے بعدسائنسی انقلاب آیا ۔ زرعی دور ختم ہو گیا، Feudal system ختم ہو گیا، جمہوریت وجود میں آ گئی، صنعتی انقلاب آ گیا۔ اور اب ہمارے دیکھتے دیکھتے ٹیکنالوجی کا ایک عظیم سیلاب ہے، جو ہر طرف نظر آ رہا ہے، اس کے اثرات ملکوں کی معیشت ، معاشرت ، مواصلات، غرض ہر شعبے پر پڑے ہیں ۔ لوگوں کے ایک دوسروں سے سیکھنے کے اطوار اور انداز تبدیل ہو گئے۔ یونیورسٹیاں وجود میں آئیں، جن کے پڑھنے پڑھانے کے طریقے بالکل تبدیل ہوئے۔ اور پھر اس کے بعد نئے سے نئے اسلحے وجود میں آنے لگ گئے۔ یہ وہ سارا پس منظر ہے جس میں دنیا تبدیل ہو گئی۔ اس وقت آپ ایک تبدیل شدہ دنیا کو دیکھتے ہیں۔ مسلمان اس دور میں شریک ہی نہیں ہو سکے اور اس میں پیچھے رہ گئے۔یعنی جب دنیا کے اندر یہ سب کچھ ہو رہا تھا ، وہ اس سے بالکل بے تعلق تھے۔ اگر مغلوں کے آخری زمانے، صفوی خاندان اور سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ کہیں سوئے ہوئے ہیں۔ ان کو اس کا احساس ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہونے والا ہے۔ ہمیں بھی Reformation کی ضرورت تھی۔اس لحاظ سے نہیں کہ ہمارے پاس جو مذہب ، اس میں کسی اصلاح کی گنجایش پیدا ہو گئی تھی۔ ہمارے پاس تو خدا کا دین تھا، جو بالکل آخری صورت میں ہمیں دیا گیا تھا، لیکن اس دین کو انسانوں نے وقتاً فوقتاً سمجھا تھا، اس کی بنیاد پر ایک فقہ وجود میں آئی تھی۔ کچھ تصورات قائم ہو گئے تھے۔کلچر کا بھی اس پر کسی حد تک اثر ہو گیا تھا۔ ہمیں Reformation کی ضرورت دراصل اس انسانی کام کے بارے میں تھی۔ ہمیں بھی اس بات کی ضرورت تھی کہ ہم طبعی علوم کی طرف رجوع کرتے، کیونکہ ایک لمبے عرصے سے ہمارے ہاں لوگوں کی زیادہ دلچسپی ما بعد الطبیعیات( Metaphysics) سے رہی۔ فلسفہ آیا تو اس میں بھی یہ علوم ہمارے ہاں زیادہ دلچسپی کا باعث بنے۔ تصوف اور علم کلام میں بھی یہی چیزیں زیر بحث رہیں۔ اس کے نتیجے میں طبعی علوم سے ہماری وہ مناسبت نہیں ہو سکی، جو کہ اصل میں ہونی چاہیے تھی۔

ہمارے ہاں عام طور پر طبعی علوم کے ماہر بڑے لوگ نہیں سمجھے جاتے تھے۔ فلسفے ، تصوف، شاعری اور ادب کے بڑے لوگ ہمارے ہاں زیادہ نمایاں ہوتے تھے۔ ایک خاص نوعیت کے پس منظر میں ہمارے ہاں بڑے لوگ پیدا ہوتے رہے۔ قرآن مجید ہمارے دینی علوم میں محور و مرکز کے مقام پر نہیں رہا۔ قرآن مجید ہمیں بہت کچھ دے سکتا تھا، یعنی ایک طرف تو وہ ہمیں خدا کی طرف سے آنے والی ہدایت دیتا ، جو ہمارے لیے ابدی ہدایت ہے، دوسری طرف وہ رویہ (Attitude) دیتا کہ ہم اوہام کے بارے میں کیا رویہ اختیار کریں، ہم طبعی علوم کے بارے میں کیا روش اختیار کریں۔ کائنات کے بارے میں ہمارا زاویۂ نظر کیا ہونا چاہیے۔یہ چیزیں بھی قرآن مجید سے بے پروائی کی وجہ سے ہمارے ہاں قابلِ توجہ نہیں رہیں۔ پھر اسرائیلیات کا ایک طوفان تفسیروں میں در آیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہاں بھی فقہی اور کلامی موشگافیوں کے علاوہ کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ قرآن کوہمارے ہاں ایک زندہ کتاب کے طور پر کردار ادا کرنا چاہیے تھا ، ہماری اپنی کوتاہی کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا ۔ قرآن تو ایک کتابِ زندہ ہے جو ایک دوسرے جہان کی ہمیں خبر دیتی ہے۔اس کی حکمت لا زوال ہے۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود مسلمان اس کتابِ زندہ سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ یہ چیز ہمیں مذہبی لحاظ سے ایک محکم جگہ پر کھڑا کر سکتی تھی، ہمارے امتیاز کو قائم کر سکتی تھی، دنیا بھر کے لیے ہمیں روشنی کا منارہ بنا سکتی تھی، ہم اس سے بھی محروم ہوئے اور طبعی علوم سے بھی ۔ یہ دونوں وجہیں ہیں جو مل کر ہمارے زوال کا باعث بن گئی ہیں۔

قرآن مجید کی تعلیم اور اچھا معاشرہ

سوال:اگر قرآن مجید کا علم عام ہو جائے تو کیا اس سے اخلاقی، سیاسی اور ملکی معاملات حل ہو جائیں گے اور ایک اچھا معاشرہ قائم ہو جائے گا؟

جواب:اس میں دو الگ الگ چیزیں ہیں ،جن کو سمجھنا چاہیے۔ پہلی چیز تو طبعی علوم ہیں۔ان میں ہمارے ہاں کوئی ترقی نہیں ہوئی۔یعنی نہ Reformationہو سکی، نہ Renaissanceہو سکا، اور نہ ہی سائنسی انقلاب سے ہم نے فائدہ اٹھایا۔ اس معاملے میں ہم دنیا کے ساتھ چل ہی نہیں سکے اور پیچھے رہ گئے۔ اور ایک خاص جگہ پر پہنچ کر ہمارے ہاں سب کچھ رک گیا۔ اس سے آگے ہم دیکھ ہی نہیں سکے۔ اس کے بعد سے ہم اصل میں receiving end پر ہیں۔ مغرب سے جو کچھ آتا ہے، کسی نہ کسی حد تک اس کو کبھی نگلنے کی کوشش کرتے ہیں، اور کبھی اگلنے کی، اسی میں ہماری دوتین صدیاں گزر گئی ہیں۔ خود ہمارے ہاں علوم کے معاملے میں وہ رویہ پیدا ہی نہیں ہوا جو مغرب میں پیدا ہوا۔ اور اس وقت بھی ہمارے ہاں کوئی تنقیدی مزاج نہیں ہے۔ ہم تاریخی معاملات میں، اپنی شخصیات اور افکار سے متعلق بھی تنقیدی رویہ اپنے اندر پیدا کر ہی نہیں پاتے۔ اس طرح کی چیزوں کو بھی ہم جذبات سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے ہم کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ترقی کے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ بے رحمانہ تنقید کا ذوق اپنے اندر پیدا کیا جائے یعنی جو چیز بھی آپ کے ہاں موجود ہے، آپ اس کو ادھیڑ کر دکھا سکیں کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ لوگ خیال کرتے ہیں کہ اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہل جائیں گی۔ لیکن اس سے چیزیں اپنی جگہ سے ہلیں گی نہیں، بلکہ وہ اپنی صحیح جگہ پر آ جائیں گی۔ اسی سے اصل میں انسان آگے بڑھتا ہے، ترقی کی راہ یہی ہے۔ ہمارے ہاں یہ چیز کسی علم میں بھی جائز یا روا نہیں رکھی جاتی۔ علمی و فکری زوال کی وجہ تو یہ رویے ہیں۔ لیکن ہمارے اخلاقی وجود کی حفاظت قرآن کو کرنا تھی۔ جس مقصد کے لیے وہ آیا تھا اس میں بھی ہم پستی میں جا چکے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ ہم طبعی علوم میں پیچھے چلے گئے ہیں، بلکہ ہمارے ہاں دیانت، امانت، لوگوں کے حقوق کا تحفظ، ہمسایے کا خیال یہ سب چیزیں بالکل بے معنی ہو کر رہ گئی ہیں۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ ہم وہ بدقسمت قوم ہیں کہ ہماری بنی ہوئی دوا کے بارے میں بھی اعتماد نہیں ہوتا کہ یہ مریض کو دی جا سکتی ہے یا نہیں۔جب یہ صورت حال کسی قوم کے اندر پیدا ہو جائے تو اس کے بعد وہ دنیا میں کیسے کھڑی ہو سکتی ہے؟دنیا میں آپ یا علم کی بنیاد پر کھڑے ہوتے ہیں یا اخلاق کی بنیاد پر۔ علم و اخلاق دونوں میں آپ امتیاز کی جگہ پر چلے جائیں تو دنیا کے اندر آپ کے لیے راستے کھل جاتے ہیں۔ ان دونوں لحاظ سے ہم پست ہو گئے ، یعنی قرآن مجید کو ہمارے اخلاقی وجود کو جس طریقے سے کنٹرول کرنا تھا، وہ چیز بھی ختم ہو گئی اور علوم میں ترقی کر کے جہاں ہمیں جانا تھا ، اس کو بھی ہم نے قابل توجہ نہیں سمجھا۔

دوسری بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو لیڈر شپ پیدا ہوئی، اس نے اس صورت حال کا تجزیہ کرنے کے بجائے ہمیں تین نکاتی لائحۂ عمل دے دیا۔ پہلا یہ کہ لوگوں کے اندر جذبۂ جہاد پیدا کیا جائے، اس کے نتیجے میں آپ برتری کے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ دوسرا یہ کہ مسلمان اپنے حقوق کے لیے دنیا کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ اور تیسرا یہ کہ ہمارے پاس جو کچھ شریعت ہے، وہ پورا کا پورا ایک نظام ہے، اگر ہم اس کو نافذ کر دیں تو اس سے دودھ کے سوتے بہنے شروع ہوجائیں گے۔ یہ تینوں ہی باتیں اپنی ذات میں کوئی حقیقت نہیں رکھتیں ۔

دنیا میں اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کے تحت قوموں کو عروج و زوال حاصل ہوتا ہے۔ اس میں جذبہ بھی بڑی اہمیت رکھنے والی چیز ہے، لیکن کچھ بنیادیں موجود ہوں تو جذبہ کام کرتا ہے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بنیاد ہی نہیں ہے اور محض جذبے کی بنیاد پر آپ کوئی نتیجہ حاصل کر لیں۔ جب آپ علمی لحاظ سے بہت پیچھے رہ جائیں، جب آپ کی اقتصادی حالت انتہائی پست ہو جائے، جب آپ کے ہاں جہالت عام ہو جائے، جب آپ کا اخلاقی وجودخوف ناک انحطاط میں چلا جائے تو اس میں محض جذبہ کچھ نہیں کر سکتا۔ ہماری قیادت کو چاہیے تھا کہ وہ اس صورت حال کا تجزیہ کر کے مسلمانوں کی تعمیر کا کام کرتی، تہذیب نفس کا کام کرتی، اور ان میں علم کا ذوق پیدا کرتی۔ چاہیے تھا کہ ہم آپس کے جھگڑے کچھ دیر کے لیے اٹھا کے رکھ دیں، ہم دنیا کے ساتھ مزاحمت کی تحریکیں چلانے کے بجائے، پہلے دنیا سے سیکھنے کی کوشش کرتے۔ اپنے آپ کو اس جگہ پہنچاتے جہاں دنیا پہنچ چکی ہوئی تھی۔ جب علم کے لحاظ سے اپنے آپ کو وہاں پہنچا لیتے تو پھر حق و انصاف کے لیے بھی کوئی جد و جہد کر لیتے۔ ہم نے جو پہلے کرنے کا کام تھا اس کو دوسرے درجے میں رکھ دیا۔

عروج و زوال کا قانون

سوال: موجودہ دور میں جب یہ بات کی جاتی ہے کہ قوم کی تعمیر ہونی چاہیے، ہمیں اپنے اندر صبر پیدا کرنا چاہیے۔ اس وقت ہم اپنی قوتیں، بہترین نوجوان اور وسائل جو غیر ضروری معاملات کی جد وجہد میں ضائع کر رہے ہیں ، ان کو اپنی تعمیر پر صرف کریں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ مغرب تو اصل میں یہی چاہتا ہے کہ ایسا ہی کریں اور یہ کشاکش ختم ہو جائے تاکہ میدان ان کے لیے چھوڑ دیا جائے۔اس بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے میدان کسی کے ہاتھ میں بھی ہمیشہ کے لیے نہیں دے رکھا ہوا۔ ہم دنیا پر حکومت کر رہے تھے تو میدان ہمارے ہاتھ سے بھی نکل گیا۔ اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے جس کے تحت قوموں کا عروج و زوال ہوتا رہتا ہے۔ جب مغرب نے اپنا حق ثابت کردیا تو ان کو دنیا کی حکومت حاصل ہوئی۔ ہم بھی استحقاق پیدا کر لیں گے تو خدا کا ہاتھ فوراً کارفرما ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن مجید میں بہت اچھے طریقے سے واضح کر دی ہے کہ' اِنَّ اﷲَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِہِمْ' (الرعد ۱۳: ۱۱)(اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتاجب تک وہ خود اپنی روش میں تبدیلی نہ کرے)۔اللہ قوموں کا انتخاب تو آزمایش اور امتحان کے اصول پر کرتا ہے اور ہر قوم کو باری باری موقع دیتا ہے کہ وہ میدان میں آئے اور جو کچھ کر سکتی ہے کرے، لیکن اس کے ہاتھ سے اقتدار اس وقت چھینتا ہے،جب وہ خود اپنے ساتھ زیادتی کر بیٹھتی ہے۔ قرآن مجید نے تو یہ اعلان کیا ہے کہ اس دنیا کے ختم ہونے سے پہلے ایک ایک قوم کو اس اسٹیج پر نمودار ہونا ہے اور اس کے بعد اس کو ہلاکت کے سپرد ہو جانا ہے۔ یہ معاملہ تو چل رہا ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو کھلا ہاتھ دے رکھا ہواہے اور شیطان کے ہاتھ میں دنیا کی باگ آ گئی ہے۔ ایک قانون ہے جس کے مطابق معاملات ہو رہے ہیں۔ اگر ہم اس قانون کے تقاضوں کو پورا کرنے کے قابل ہو جائیں گے تو ہمارے حق میں بھی فیصلہ ہو سکتا ہے۔ ہمارے لیے اصلی کام جو کرنے کا تھا وہ اس بات کا احساس کرنے کا تھا کہ ہم علم و اخلاق اور سیرت وکردار میں پیچھے رہ گئے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کو ہدف بنا کر ہمیں کام کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ جو سیاسی نوعیت کے بعض جھگڑوں کو ہم بڑی اہمیت دے لیتے ہیں اور جن کو اپنے لیے زندگی اور موت کامسئلہ بنا لیتے ہیں، ان کے معاملے میں حقیقت پسندانہ رویہ ناگزیر تھا۔

یہ تلخ حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ جب آپ دنیا میں پیچھے رہ جاتے ہیں تو پھر آپ کو انصاف نہیں ملا کرتا۔ پھر آپ ممکنات کے اندر سے راستہ نکالتے ہیں۔ اس طرح کے موقعوں پر اچھی لیڈر شپ وہ ہوتی ہے، جو اپنے آپ کو بچا لے جائے۔ انبیا علیہم السلام نے یہ موقع حاصل کیا ہے۔ سیدنا مسیح نے یہی کیا، سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے بھی یہی کیا۔ خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیبیہ کے موقع پر، مزاحمت سے ہاتھ کھینچ کر ، امن کا معاہدہ کر کے اپنے لیے کسی حد تک موقع حاصل کیا تاکہ اپنی تعمیر کی جا سکے، اپنی دعوت کو پھیلایا جا سکے۔

اسلامی نظام اور مسائل کا حل

سوال: کیا اسلامی نظام کا نفاذ تمام مسائل کا حل ہے؟

جواب: اسلامی نظام کہیں نظام کے طور پربنا کے رکھا ہوا نہیں ہے۔ اللہ نے ہمیں ایک شریعت دی ہے، اس میں کچھ چیزوں کے بارے میں اپنا قانون دے دیا ہے۔ اس کی بنیاد پر ہم نظام بنائیں گے۔ اس میں بھی علمی کام کی ضرورت ہے۔ ہمیں دیکھنا چاہیے کہ موجودہ دنیا میں نظام کیا چیز ہے؟وہ کس سطح پر پہنچ گیا ہے؟ جو جمہوری نظام دنیا میں متعارف ہوا ہے، اس کے تحت جو ادارے بنے ہیں، عدلیہ جس طریقے سے قاعدہ و قانون کی پابند ہوئی ہے، جس طریقے سے اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کا ایک پورا کا پورا ضابطہ وجود میں آیا ہے، اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہ نظام دنیا نے بہت Develope کرکے آخری انتہا تک پہنچا دیے ہیں۔ ان کے اندر انسانوں کے بے شمار تجربات شامل ہو گئے ہیں۔ ہم بھی جب اسلام کی بنیاد پر کسی نظام کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی ہم کو علمی کام کرنا ہو گا۔ اس لیے علم میں اگر ہم پیچھے ہیں توکچھ بھی نہیں ہو سکتا ۔ اللہ کی شریعت سے جو برکات ہمیں مل سکتی ہیں، وہ بھی اس وقت ملیں گی جب بحیثیت مجموعی شریعتہمارے پورے کے پورے معاشرے کے اندر ایک ارتقائی عمل کے ذریعے سے ظہور پذیر ہو گی۔ ہمارے پاس کوئی بنا ہوا نظام کہیں موجود نہیں ہے۔ ہمارے پاس صرف چند چیزوں کے بارے میں اللہ کی ہدایت موجود ہے۔ اور یہ بڑی نعمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی شریعت کا حامل بنایا ہے اور ہمیں اس کا علم بردار بن کے رہنا چاہیے۔ لیکن پہلے ہماری زندگی کے ساتھ اس کا تعلق علمی سطح پر قائم ہو گا، پھر وہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک ثقافتی اور تہذیبی حقیقت بنے گی۔ اس کے بعد ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اب وہ ہمارے اندر نفوذ کر گئی ہے۔ اصل میں دین کانفاذ نہیں ہوتا، اس کا نفوذ ہوتا ہے۔ وہ ہماری روح میں اترتا ہے، ہمارے دل و دماغ کا حصہ بنتا ہے، ہماری تہذیب اور معاشرت کا حصہ بنتا ہے۔ وہ محض قانون نہیں ہے۔ اس میں تو درحقیقت دل و دماغ بدلتے ہیں، روحیں بدلتی ہیں۔ ایک نئی انسانیت وجود میں آتی ہیجو اعلیٰ اقدار کی حامل ہے۔ اعلیٰ اقدار جب معاشرتی نظم کا حصہ بن جاتی ہیں، تب کہیں جا کر ان کی برکات سامنے آتی ہیں۔ اگر لوگ جھوٹ بولتے ہیں، بددیانتی کرتے ہیں، کم تولتے ہیں، لوگوں کا مال کھاتے ہیں، ہر موقع پر دوسروں کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں، جان و مال اور آبرو کی حفاظت کسی کی محفوظ نہیں تو کون سا نظام ہے جو آپ کو ان چیزوں سے روکے گا۔ اس کے لیے قوم کی تعمیر کا کام کرنا پڑے گا۔ قوم کی تعمیر جس طرح اخلاقی لحاظ سے کرنا ضروری ہے، اسی طرح علمی لحاظ سے بھی کرنا ضروری ہے۔ ہماری توجہات کا مرکز یہ چیزیں ہونی چاہییں۔ ہمیں اپنے جھگڑے اور سیاسی مقاصد ایک طرف رکھ کے، اس چیز کے اوپر اپنی قوت، اپنا سرمایہ ، اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کرنی چاہییں۔

جانوروں کی تخلیق کا مقصد

سوال: خشکی اور پانی کے کچھ جانور حلال نہیں ہیں، ان کی تخلیق کا کیا مقصد ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا صرف کھانے کے لیے نہیں بنائی، بلکہ اپنی تخلیقی فعالیت کے ظہور کے لیے بنائی ہے۔ اس میں ہماری جمالیات کی تسکین کا سامان پیدا کیا ہے۔ اس میں خدا کی تخلیقی فعالیت کا ظہور ہوا ہے۔ اس کے ذریعے سے اللہ کی صفات ہمارے سامنے آتی ہیں۔ اس دنیا میں ہمیں جو بے شمار مخلوقات نظر آتی ہیں، یہ خدا تعالیٰ کے بارے میں ہمیں ایک تصور دیتی ہیں کہ وہ خالق کیسا ہو گا، اس کی تخلیق میں کیسا تنوع ہے، کیسی جدت ہے۔ ہزاروں کی تعداد میں species(انواع)ہیں جو دنیا کے اندر خدا نے پیدا کر دی ہیں۔بقول شیخ سعدی: 'ہر ورقش دفتریست معرفت کرد گار'۔(ہر پتے میں خدا کی معرفت کی ایک دنیا ہے ) اصل میں تو یہ ساری کی ساری کائنات اس طرح پیدا کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے آپ اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کریں، کجا یہ کہ انسان اس کو صرف کھانے کی چیز سمجھ لے۔

علم نجوم کی حقیقت

سوال: علم نجوم کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب: یہ محض اوہام پرستی ہے، یہ کوئی سائنسی علم نہیں ہے۔ اور اس کے مقدمات بہت ماضی میں دفن ہو چکے ہیں، دنیا اب بہت آگے بڑھ گئی۔ ایک مسلمان کو اگر اچھی زندگی بسر کرنی ہے تو دو چیزوں پر اس کو اپنے علم اور عمل کی بنیاد رکھنی چاہیے۔ پہلی چیز ہے دین ، جو اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کی سنت میں ہے۔اور دوسرے سائنسی حقائق پر،جو دنیا کے اندر علم کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔

یہ جو علم نجوم کی طرح کے علم ہیں، ان میں انسان اوہام میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ماؤف ہو جاتی ہیں اور وہ اسی طرح کی چیزوں کے درپے ہوا رہتا ہے۔ اللہ نے اس کو جو عقل دی ہے، اس کو وہ استعمال ہی نہیں کرتا۔علم کی ترقی بھی اس کے نتیجے میں رکتی ہے۔ اسی وجہ سے قرآن مجید نے ان علوم کو پسند نہیں کیا۔ تورات میں بھی ان علوم کی مذمت آئی ہے۔ کیونکہ اس طرح کے جتنے بھی علوم ہیں وہ انسان کو مستقبل کے بارے میں بعض ایسے توہمات میں مبتلا کر دیتے ہیں جس کے بعد صحیح سوچنے کا طریقہ آہستہ آہستہ ختم ہوتا چلا جاتا ہے۔

آخرت میں جواب دہی کی بنیاد

سوال: ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر ایمان کی حالت میں موت آ جائے تو صحیح ہے، ورنہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ جبکہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اتناروایت پسندہے کہ اگر عیسائی کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ساری عمر عیسائی ہی رہتا ہے، اور اگر ہندو کے ہاں پیدا ہوتا ہے تو ساری عمر ہندو ہی رہتا ہے اور کسی دوسرے کے ایمان و عقیدے کی طرف نہیں دیکھتا۔ جب انسان اتنا روایت پسند ہے تو پھر اتنی سخت سزا کیوں رکھی گئی ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا؟

جواب: آخرت میں جس بنیاد پر مواخذہ ہو گا وہ یہ ہے کہ ایک مسیحی ، ہندو یا مسلمان جس چیز پر اپنی زندگی بسر کر رہا تھا جو اس نے اپنے والدین سے پائی تھی تو کسی خاص موقع پر اس کی عقل یا اس کے علم نے اس کے سامنے ایک سوال رکھ دیا تو اس نے اس موقع پر کیا رد عمل ظاہر کیا؟اسی طرح سے اگر کوئی دعوت یا کوئی پیغام ،کوئی نئی بات اس تک پہنچی، دین اور مذہب کے بارے میں کوئی حقیقت اس کے سامنے آئی تو اس نے کیا رد عمل ظاہر کیا؟ یہ ہے وہ بنیاد جس پر اللہ تعالیٰ مواخذہ کریں گے۔قرآ ن نے بڑے مذاہب کا نام لے کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ اگر لوگوں کا اللہ پر سچا ایمان ہے، وہ قیامت کی جواب دہی کے احساس کے ساتھ جی رہے ہیں اور اچھا عمل کر رہے ہیں تو اللہ کے لیے ان کے ہاں نجات کی ضمانت ہے بشرطیکہ انھوں نے کسی بڑے جرم کا ارتکاب نہ کیا ہو ۔جس طرح قتل ایک بڑا جرم ہے، بدکاری کو زندگی کا وطیرہ بنا لینا ایک بڑا جرم ہے۔ اسی طرح ایک بہت بڑا جرم یہ ہے کہ ایک پیغمبر کے بارے میں جب آپ پر واضح ہو گیا کہ وہ خدا کا سچا پیغمبر ہے اور آپ نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔یعنی جب آپ پر یہ بات واضح ہو گئی کہ مسیح علیہ السلام خدا کے سچے پیغمبر ہیں، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے سچے پیغمبر ہیں، پھر بھی آپ نے جانتے بوجھتے ، ضد کی وجہ سے ان کو ماننے سے انکار کر دیا تو تب آپ مواخذے میں آئیں گے۔ ورنہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام لوگوں سے جتنی حقیقت ان تک پہنچی ہے، اس کی بنیاد پر مواخذہ (جواب دہی) کریں گے۔اس کو قرآن اس طرح بیان کرتا ہے کہ جس کو جتنا علم ملا ہے، اس کی بنیاد پر خدا اس سے پوچھے گا۔