متفرق سوالات


''دنیاٹی وی کے پروگرام''دین و دانش.....جاوید احمد غامدی کے ساتھ'' کے سوال و جواب کا انتخاب پیش خدمت ہے ۔اس کی ترتیب اور تلخیص کا کام دنیا ٹی وی کے شعبہ مذہبی امور نے انجام دیا ہے۔''

اسلام میں عورتوں او رمردوں کے درمیان تفریق

سوال : کیا دین نے عورتوں اور مردوں کے احکام میں فرق کیا ہے؟ بعض معاشروں میں عورتوں کے ساتھ تفریق کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے، مثلاً سعودی عرب میں عورتیں گاڑی نہیں چلا سکتیں۔ ہمارے ہاں کچھ گھرانوں میں اور برادریوں میں عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں دیا جاتا، باوجود اس کے کہ شریعت نے اسے مقرر بھی کر دیا ہے۔

جواب : اگر ہم رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کا مطالعہ کریں تو ہمیں وہاں ایسی کوئی تفریق نظر نہیں آتی۔ اس طرح کی کوئی چیز نہ توارت میں ہے، نہ زبور و انجیل میں اور نہ ہی قرآن میں۔دور نبوی میں توخواتین جنگوں میں شریک ہوئی ہیں۔ انھوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کیے ہیں، وہ قافلو ں کے ساتھ گئیں، تجارت کی، سرپر لکڑیوں کا گٹھا لاتی تھیں۔ یہی معاملہ سیدنا مسیح علیہ السلام کے دور کا ہے ۔ آپ انجیل کو پڑھیے، اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ معلوم ہو گا کہ کس طرح خواتین ان سے گفتگو کر تی تھیں، ان کی مجالس میں شریک ہو رہی ہیں۔

دراصل اس بات کا بڑا تعلق اس کلچر سے ہوتا ہے جس میں اسلام پہنچتا ہے۔ وہ افغانستان میں پہنچے گاتو وہاں لوگ اپنے کلچر میں اس کی تعبیر کر لیں گے۔ وہ عرب میں ہو گا تو وہاں لوگ اپنے کلچر میں اس کی تعبیر کر لیں گے۔ ہمارے ہاں بھی بعض قوموں کے ایسے ثقافتی پس منظر رہے ہیں ، جن سے یہ سب چیزیں پیدا ہوئی ہیں۔ انسانوں کا معاملہ یہ ہے کہ وہ جب دین کے احکام پر بھی غور کرتے ہیں تو بسا اوقات اپنے ثقافتی پس منظر اور اپنے کلچر سے اوپر اٹھ کر غور نہیں کرتے۔

اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں جو شریعت دی ہے ، اس کی بنیاد پر ہمارے ہاں قانون سازی کی جاتی ہے، اس قانون کو فقہ کہا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں چونکہ یہ قانون سازی مذہبی پس منظر میں ہوئی ہے، اس لیے یہ انفرادی زندگی پر بھی اثر انداز ہو جاتی ہے اور اس قانون سازی پر چونکہ تہذیب، کلچر اور رسوم و رواج بھی اثر انداز ہوتے ہیں، اس وجہ سے بعض اوقات ایک بنیادی بات جو اپنی جگہ پر بالکل صحیح ہوتی ہے، جب وہ قانون سازی کے مختلف مراحل سے گزرتی ہے تو وہ یک سر ایک مختلف شکل اختیار کر لیتی ہے ۔ پھر بعض اوقات زمانے کی کچھ مصلحتیں بھی ہوتی ہیں ،وہ بھی اس قانون سازی پر اثر انداز ہوجاتی ہیں۔ اس سارے عمل سے جو ڈھانچا بنتا ہے، اس میں اس طرح کی چیزیں بہت غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں۔

اس معاملے کو جب ہم قرآن مجید کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو چند بنیادی مقدمات بالکل واضح طور پر ہمارے سامنے آتے ہیں۔ قرآن مجید یہ اعلان کرتا ہے کہ مرد و عورت کے مابین انسان ہونے کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے۔ دونوں آدم و حوا کی اولاد ہیں اور دونوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی مقصد سے پیدا کیا ہے۔ جب دنیا میں انسان ایک دوسرے کے ساتھ معاملہ کرتے ہیں تو اس معاملے میں رشتے اور تعلقات پیدا ہوتے ہیں۔اصل میں یہ تعلقات ہیں جن میں بعض اوقات حفظِ مراتب کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم خاندان کا ادارہ وجود میں لاتے ہیں تو ماں اور باپ کے رشتے پیدا ہو جاتے ہیں۔اب ماں اور باپ میں خِلقت کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے، لیکن اس سے ایک مرد کو والد اور ایک خاتون کو ماں کی جو حیثیت حاصل ہو گئی ہے ،اس میں بھی حفظِ مراتب کو ملحوظ رکھنا پڑتا ہے۔ اس طرح ان رشتوں میں کوئی چھوٹا ہو جاتا ہے اور کوئی بڑا، لیکن خلقت کے اعتبار سے یہ سب برابر ہی ہیں۔اسی طرح جب آپ ریاست کا نظم بناتے ہیں، کوئی ادارہ قائم کرتے ہیں، اس میں کچھ لوگوں کو ذمہ داریاں دیتے ہیں توان کے لحاظ سے مراتب کا فرق پیدا ہو جاتا ہے اور اس میں بعض اوقات آپ کو ایسے قاعدے قوانین بھی بنانے پڑتے ہیں ، جو اس فرق کا لحاظ کر کے بنائے گئے ہوں۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ جس شخص کو ہم نے سربراہ مملکت بنا دیا ہے، وہ خلقت کے لحاظ سے کوئی بڑی چیز بن گیا ہے یا کوئی مختلف چیز بن گیا ہے۔ یہ مراتب کا فرق ہے جس کو بعض لوگ اس دائرے میں نہیں رکھتے جس میں اللہ تعالیٰ نے اس کو رکھا ہے۔ وہ اسے بہت آگے بڑھا کر وہ صورتیں پیدا کر دیتے ہیں جن کی طر ف سوال میں اشارہ کیا گیا ہے ۔

قرآن مجید میں یہ بات کہیں بھی موجود نہیں کہ عورت گاڑی نہیں چلا سکتی یا اس کو اگر باہر شاپنگ کے لیے جانا ہے تو اسے کسی کو ساتھ لے جانے والے کا اہتمام کرنا ہو گا۔اصل میں یہ مسئلہ اس وجہ سے پیدا ہوا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو یہ کہا کہ اگر دو تین دن کے سفر پر کوئی خاتون نکلتی ہے تو اپنے کسی محرم عزیز کو ساتھ لے لے تاکہ اس پر کوئی تہمت نہ لگ جائے، کوئی فتنہ نہ پیدا ہو جائے۔ اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے یہ بڑی عمدہ ہدایت ہے۔ آپ اس زمانے کے سفر کا اندازہ کیجیے۔ اونٹ گھوڑے پر سفر کرنا، قافلوں میں جانا، سراؤں اور پڑاؤ میں رہنا۔ اس سارے پس منظر میں اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت کو دیکھیں تو اس کی معنویت بالکل ٹھیک واضح ہو جاتی ہے۔لیکن آج کے دور میں معاملہ بہت مختلف ہو گیا ہے۔مواصلات کے ذرائع میں بہت ترقی ہو چکی ہے۔آپ چند منٹ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ بڑے اطمینان کے ساتھ پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی دس کلو میٹر کا سفر پہلے جو مسائل پیدا کرتا تھا وہ اب ہزاروں میل کا سفر بھی پیدا نہیں کرتا۔ اتنی بڑی تبدیلی آ گئی۔ اس تبدیلی کو ملحوظ نہ رکھنے سے اس طرح کے مسائل پیدا ہو ں گے ۔ اس طرح سے ایک کے بعد دوسرا مسئلہ آپ نکالتے چلے جاتے ہیں اور نتیجے کے طور پر دین کو ایک ایسی چیز بنا دیتے ہیں کہ جس سے بعض اوقات اہلِ عقل محسوس کرتے ہیں کہ صورت حال مضحکہ خیز سی ہو گئی ہے۔ دین اور فقہ کے احکام ،دونوں کو الگ الگ سمجھنا چاہیے ، اللہ اور اللہ کے پیغمبر کے احکام اور چیز ہیں، جب کہ ان کی بنیاد پر بننے والی فقہ ایک بالکل اور چیز ہے۔ فقہ ایک انسانی چیز ہے اور اس پر ہر دور میں نظر ثانی ہوتی رہنی چاہیے۔

خواتین کی تعلیم

سوال : کیا اسلام نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے سے روکا ہے؟

جواب:اسلام نے خواتین کو اس طرح کی کسی چیز سے نہیں روکا۔ اسلام تو کہتا ہے کہ علم حاصل کرنا تم میں سے ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یعنی دین کا علم حاصل کرنا ہر مسلمان کے لیے ایک ذمہ داری بنا دی گئی۔ پھر اس کے بعد دنیوی اور طبعی علوم ہیں، یہ ہماری روز مرہ کی ضرورت ہیں۔ ان کے حصول کے بغیر آپ دنیا میں کھڑے نہیں ہو سکتے۔ قرآن مجید نے اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے کہا کہ 'أعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ ومن رباط الخیل'(الانفال ۸: ۶۰) یعنی اپنی طاقت منظم کر کے رکھو اور گھوڑے تیار کر کے رکھو۔ اور یہ سب کچھ اسی وقت ہو گا جب آپ علوم و فنون سے دل چسپی رکھتے ہوں گے۔ مسلمانوں نے تو ہمیشہ تعلیم کی ترغیب دی ہے۔ تعلیمی ادارے قائم کیے، تعلیم کی روایت قائم کی۔ اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے لحاظ سے ہوا۔ قرآن مجید میں علم، عقل، تدبر اور تفکر پر بہت زور دیا گیا ہے۔ لوگ جہاد کا ذکر کرتے ہیں۔ دور جدید میں جہاد اب افرادی قوت سے نہیں بلکہ علم سے ہوتا ہے۔ ٹیکنالوجی نے غیر معمولی ترقی کر لی ہے۔ آپ اپنی قوم کے لیے اس کا دروازہ بند کر لیں گے تو آپ دنیا میں اپنے آپ کو باقی نہیں رکھ سکیں گے۔

اسلام میں پردے کے احکام

سوال :اسلام میں پردے کے اصل احکام کیا ہیں؟

جواب: میں پردے کے بجائے آداب کا لفظ زیادہ موزوں سمجھتا ہوں یعنی اختلاطِ مرد و زن کے کچھ آداب ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔ پردے کا لفظ نہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے اور نہ ہی حدیث میں، البتہ یہ ازواجِ مطہرات کے بارے میں ضرور استعمال ہوا ہے اور ان کے لیے اس کے بالکل الگ احکام ہیں جو سورۂ احزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے لیے جو صورت حال پیدا کر دی گئی تھی ، اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے۔ انھی احکام کو بالعموم لوگ دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن قرآن نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ ان احکام کا عام مسلمان عورتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عام مسلمان عورتوں کے لیے جو احکام دیے گئے ہیں، وہ سورۂ نور میں بڑی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔یہاں چار باتیں بیان کی گئی ہیں: پہلی بات، مردوں اور عورتوں، دونوں کو الگ الگ خطاب کر کے یہ کہی گئی ہے کہ اپنی نگاہوں پر پہرا بٹھاؤ۔ عام حالات میں تو ہم جب کوئی حکم دیتے ہیں تو بس مذکر کے صیغے استعمال کر دیتے ہیں، وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہوتاہے، لیکن قرآن مجید نے وہاں اہتمام کیا اور یہ کہا کہ 'قل للمومنین'،' قل للمومنات' ، اے پیغمبر آپ مسلمان مردوں سے یہ کہہ دیں، اے پیغمبر، آپ مسلمان عورتوں سے یہ کہہ دیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔ یعنی ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے کوئی میلان پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ لباس کا تمھیں خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اعضا کو نمایاں کرنے والا نہ ہو۔ تیسری بات یہ کہی ہے کہ عورتوں کو اپنے سینے کو بھی اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ چوتھی اور آخری بات بھی عورتوں ہی سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ عورتیں زیب و زینت کرتی ہیں، زیورات پہنتی ہیں، اگر وہ یہ پہنے ہوئے ہوں تو پھران کو چھپا کر رکھیں۔ صرف ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبایش اس سے مستثنیٰ ہے ۔ یہ بہت ہی قابل عمل اور بڑے ہی سادہ احکام ہیں ۔ اگر آپ ان پر غورکریں تو انمیں ایک شرافت( Decency )ہے ،جو پیدا کرنا مقصود ہے۔یہی بات ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں بھی اسی کو بیان کیا ہے۔ اس سے زائد کوئی بات حدیث کے پورے ذخیرے میں نہیں ملتی۔

خود کشی، ایک حرام فعل

سوال : آج کل مہنگائی عروج پر ہے۔ لوگ فقر و فاقے کی وجہ سے اپنے بچوں کے ساتھ خودکشی کر رہے ہیں۔ کیا اس اقدام کی اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی ہے اور اس اقدام کا اصل قصور وار کون ہے؟

جواب :اس ضمن میں ایک اصولی بات سمجھ لینی چاہیے کہ ہر وہ چیز جو غلط ہے، وہ ہمیشہ غلط رہے گی۔ جھوٹ ،بددیانتی، رشوت غلط ہے اور ہمیشہ غلط رہے گی۔یہی معاملہ خودکشی کا ہے۔ یہ ایک گناہ کا کام ہے اور ہمیشہ گناہ ہی رہے گا۔ یہ ایک بالکل دوسری بات ہے کہ آپ نے کسی مجبوری کی وجہ سے کسی غلط کام کا ارتکاب کیا ہے ۔ مجبوری کا ایک اصول قرآن مجید میں بیان ہو گیا ہے کہ اللہ چاہے گا تو اس کی رعایت دے دے گا۔ جس طرح حرام کے بارے میں فرمایا گیاہے کہ 'فمن اضطر غیر باغ ولا عاد' ( انعام۶: ۱۴۵) اگر کوئی آدمی مجبور یا مضطر ہو گیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ اٹھا دیتے ہیں، اس کا حساب کتاب نرم ہو جاتا ہے۔یہی چیز اس معاملے میں بھی ہو گی۔

جب کوئی چیز حرام قرار دی جاتی ہے تو اس کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کو امتحان کے لیے بھیجا ہے۔ جب ایک آدمی خود کشی کرتا ہے تو گویا وہ یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری موت کے بارے میں جو فیصلہ کر رکھا ہے کہ فلاں وقت میں آنی چاہیے، وہ فیصلہ غلط ہے، میں اس کو نہیں مانتا۔ وہ اس کے خلاف بغاوت کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ایک بڑا جرم ہے۔ اگر اس طرح کا کوئی اقدام واقعی کسی مجبوری کی حالت میں کیا گیا ہے تو قرآن نے بڑے سے بڑے جرم کے بارے میں بھی یہ اصول بیان کر دیا ہے کہ مجبوری کی رعایت ملے گی۔

آل کے لفظی معنی

سوال : عربی زبان میں' آل ' کے لفظی معنی کیا ہیں؟

جواب : آل کا لفظ آدمی کی اولاد کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جسے ہم خاندان کہتے ہیں اور بالکل اسی طریقے سے یہ اس کے پیرو کاروں کے لیے اور اس کے پیچھے چلنے والوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اب سیاق و سباق سے یہ فیصلہ ہو گا کہ یہاں یہ کس مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ دنیا بھر میں جتنے الفاظ بھی ہیں ، لغت میں لکھے ہوتے ہیں۔ ان کے ایک ، دو ، تین، چار معنی ہوتے ہیں ۔ اس کا سیاق و سباق ہی یہ متعین کرتا ہے کہ یہ یہاں کس مفہوم میں ہے۔

نسل کا انتساب مرد کی طرف یا عورت کی طرف

سوال : نسلِ عام طور سے مردوں سے منسوب ہوتی ہے یا چلتی ہے، کیایہ اسلامی رویہ ہے؟

جواب: یہ کوئی اسلامی رویہ نہیں ہے۔ اس کی واضح مثال سیدنا مسیح علیہ السلام ہیں۔ وہ بن باپ کے پیدا کیے گئے اور مسیح ابن مریم ہو گئے ۔ ان کی اگر آگے شادی ہوتی تو کیا ان کی نسل نہ چلتی ؟ یہ تو ایک عام روایت ہے۔ اسلام نے اس معاملے میں کوئی قاعدہ ضابطہ بنا کے لوگوں کو پابند نہیں کیا۔ یہ مغرب کی روایت تھی کہ جس میں عورت کی آزادانہ شخصیت تسلیم نہیں کی جاتی تھی۔ یہ بیگم فلاں اور مسز فلاں کا اسلوب اصل میں مغرب کا دیا ہوا ہے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات کے بارے میں یا صحابیات کے بارے میں یہ تعبیر اختیار نہیں کی گئی۔ سیدہ اسماء سیدہ اسماء ہی ہیں۔ عرب میں یہ رواج تھا کہ اس میں باپ کا نام لیا جاتا تھا، لیکن پھر ہمیشہ باپ ہی کا نام لیا جاتا تھا اور وہ بیٹے کے بارے میں بھی لیا جاتا تھا اور بیٹی کے بارے میں بھی لیا جاتا تھا۔

دنیا: ایک دار الامتحان

سوال: دنیا دکھوں کا گھر ہے، اللہ نے دنیا کیوں بنائی ہے؟

جواب: اللہ نے دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ یہ دنیا جس میں ہم رہ رہے ہیں ، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کر دیا ہے کہ ' خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملاً' (الملک ۶۷:۲) یہ جو موت و حیات کا کارخانہ ہے، جس پر یہ دنیا قائم ہے، یہ اس لیے بنایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ دیکھیں کہ کون اچھا عمل کرتا ہے۔ دیکھا جائے کہ وہ اس میں خیر کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا شر کا ۔ یوں اس میں لوگوں کواختیارات بھی دینا پڑے گا ۔ جب اختیارات دیے جائیں گے توان کا غلط استعمال بھی ہو گا۔ جب اختیارات کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس سے دکھ ، ظلم ، رنج وغیرہ ، یہ سب وجود میں آ جاتے ہیں۔

خوب صورتی اور بدصورتی کے معنی

سوال : ہم نے حدیث میں یہ پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ خوب صورتی کو پسند فرماتے ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ جو بدصورت ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نا پسند کرتا ہے؟

جواب:اس حدیث میں خوب صورتی اور بدصورتی کے وہ معنی نہیں ہیں، جو آپ سمجھ رہے ہیں۔ اس حدیث میں پوچھنے والے نے یہ نہیں پوچھا کہ سیاہ رنگ یا سفید رنگ میں فرق کیا ہوتاہے۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ مجھے اچھا جوتا پسند ہے، مجھے اچھا لباس پسند ہے، کہیں اس سے تکبر تو نہیں ہو جائے گا۔ اس کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ'ان اللّٰہ جمیل ویحب الجمال' (مسلم: حدیث نمبر ۹۱)۔ اللہ خوب صورت ہیں، خوب صورتی کو پسند کرتے ہیں۔ تکبر یہ نہیں ہے کہ تم اچھا جوتا پہنو یا اچھا لباس پہنو۔ اور پھر تکبر کی تعریف کی کہ تکبر یہ ہے کہ 'بطر الحق وغمط الناس' (مسلم: حدیث نمبر ۹۱) ۔ آدمی کسی حق کے مقابلے میں اکڑ کر کھڑا ہو جائے ، سرکشی اختیار کر لے اور لوگوں کو حقیر سمجھے۔ہمارے خوب صورتی اور بد صورتی کے پیمانے بالکل اورہیں۔ خوب صورتی انسان کے چہرے میں بھی ہوتی ہے اور اس کی گفتگو میں بھی ہوتی ہے۔ دراصل ہم کسی ایک جگہ کے اوپر خو ب صورتی کو منطبق کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ اصولی بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے کہ اگر آپ گورے ہوں یا کالے لیکن صاف ستھرے رہتے ہیں ، بن سنور کے رہتے ہیں، آپ اچھا لباس پہنتے ہیں، اپنے گھر در کی سجاوٹ کرتے ہیں تو اللہ اسے پسند کرتے ہیں۔

بینک کی ملازمت

سوال :کیا موجودہ دور میں بینک کی ملازمت کرنا جائز ہے ؟

جواب: اس وقت ہمارا بینکاری کا نظام سود پر مبنی ہے۔ اس کی بتدریج اصلاح کرنی چاہیے لیکن اس میں بڑی قباحتیں ہیں۔ اس وجہ سے اگر آپ کوئی بہتر نوکری کر سکتے ہیں تو ضرور کریں۔ لیکن اس کو حرام نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ ہم اس نظام کی اصلاح بھی کرنا چاہتے ہیں، ہماری عدالت میں بھی یہ معاملہ زیر بحث ہے، اس کی اصلاح کے لیے بہت سے اقدامات کرنے پیش نظر بھی ہیں اور لوگ کر بھی رہے ہیں۔ میرے خیال کے مطابق اب یہ اس نوعیت کاکام نہیں ہے جس کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے قطعی حرمت کے ذیل میں رکھا تھا۔

قرآن خوانی اور قل وغیرہ

سوال:کیا قل، دسواں، چالیسواں اور ختم وغیرہ اسلام میں جائز ہیں۔ نیز مرنے والے کے لیے جو قرآن خوانی کرائی جاتی ہے اس سے اس کو کوئی ثواب پہنچتا ہے؟

جواب: آپ جب بھی دین کے معاملے میں کوئی کام کریں تو ایک سوال اپنے آپ سے ضرور کر لینا چاہیے، وہ یہ کہ کیا یہ کام رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہے یا آپ نے لوگوں کو کرنے کے لیے کہا ہے؟ اگر ایسا کوئی کام دین کی حیثیت سے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کیا تو پھر وہ نہیں کرناچاہیے کیونکہ اس سے دین میں نئی نئی چیزیں پیدا ہوتی ہیں ، جن کو بدعت کہتے ہیں۔ اس کے لیے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر تنبیہ کی کہ میں نے دین کو واضح طور پر تم تک پہنچا دیا ہے۔ اب اس میں کوئی نئی چیز پیدا کرنے کی کوشش نہ کرو۔ دین کے معاملے میں بہت محتاط رہنا چاہیے، رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق( Sanction )کے بغیر کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ قل، دسواں، چالیسواں یا جو ختم کی محفلیں کی جاتی ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی ایسی نہیں جس کو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مشروع (شریعت کا حصہ بنانا)کیا ہو۔ ہمارے دین میں مرنے والے کے لیے جو آداب قائم کیے گئے ہیں وہ وہی ہیں کہ آپ تجہیز و تکفین کرتے ہیں، دفن کرتے ہیں ، جنازہ پڑھتے ہیں۔ یہ چیزیں ہیں جو دین میں مشروع کی گئی ہیں۔ باقی سب لوگوں کی ایجاد ہیں۔

جہاں تک مرنے والے کو ثواب پہنچانے کا تعلق ہے تو اس بارے میں قرآن نے واضح کر دیا ہے کہ انسان کو وہی ملے گا، جس کی اس نے جد وجہد کی ہے۔لیس الانسان الا ما سعیٰ (النجم ۵۳:۳۹) البتہ، آپ دعا کر سکتے ہیں، دعا اللہ کے حضور میں درخواست ہے، وہ چاہیں گے قبول کر لیں گے، چاہیں گے قبول نہیں کریں گے۔

'علم آدم الأسماء' کی تشریح

سوال : سورۂ بقرہ میں ہے کہ ' علم آدم الأسماء' (البقرہ ۲:۳۱) اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو کچھ نام سکھائے، یہ کیا نام تھے۔کیا یہ کوئی علم تھا؟

جواب: یہ آیت جس پس منظر میں آئی وہ اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ میں زمین پر ایک ایسی مخلوق بنانے والا ہوں جس کو میں اختیار بھی دوں گا اور اقتدار بھی۔ اس پر فرشتوں نے سوال کیا کہ جب آپ اختیار اور اقتدار دیں گے تو بڑا فساد پیدا ہو جائے گا۔ یہ آپس میں ایک دوسرے کا خون بہائیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے آدم کی جو آگے اولاد پیدا ہونے والی تھی، اس کو تمثیل کے اسلوب میں لا کر کھڑا کر دیا۔بالکل ایسے ہی جس طرح سے ہم کسی چیز کو ممثل کر کے سامنے لے آتے ہیں۔ اس موقع پرحضرت آدم کو بڑے بڑے مصلحین ، مجدددین ، انبیا اور بڑی شخصیتوں کا تعارف کرایا گیا، جو پیدا ہونی تھیں، یہ ان سب کے نام تھے۔ اس کو قرآن نے آگے واضح بھی کر دیا کہ وہ شخصیات پیش کر کے ، فرشتوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا کہ تمھارا خدشہ اپنی جگہ ، لیکن اس سب کچھ کے باوجود ایسے نیک، صالح اور خیر کے علم بردار لوگ بھی پیدا ہوں گے۔

ابلیس جن یا فرشتہ

سوال: ابلیس جنوں میں سے تھا یا فرشتوں میں سے؟

جواب: ابلیس ایک جن تھا۔ قرآن مجید میں واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے کہ 'وکان من الجن'۔ (کہف ۱۸:۵۰) وہ جنوں میں سے تھا۔

سودی نظام اور سیونگ

سوال:میں ایک ریٹائرڈ آدمی ہوں، میری کچھ سیونگ ہے، میں اس کو کہاں انویسٹ کروں؟پاکستان میں سارا نظام سود پر چل رہا ہے، اور سود کو آپ حرام قرار دیتے ہیں۔ میرے روز مرہ کے کچھ اخراجات بھی ہیں اور Inflation بھی ہے جو کہ آج کل پچیس فی صد ہے۔ اس طرح تو میری رقم دن بدن کم ہوتی جائے گی اور آخر میں بالکل زیرو ہو جائے گی؟ آپ ایسے لوگوں کو کیا مشورہ دیں گے؟

جواب: اب بینکاری نظام میں بھی بہت سی ایسی اسکیمیں نکل آئی ہیں، جو سود سے پاک ہیں۔ اسی طریقے سے جو حکومت کی اسکیمیں ہیں، آپ ان میں بھی انویسٹ کر سکتے ہیں۔ ان میں بھی بعض چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے پر اس طرح سود کا اطلاق نہیں کیاجا سکتا۔ یہ نسبتہً بہتر حل ہے۔

دین کی صحیح تعلیم اور خواتین

سوال : ہمارے ہاں جو مختلف معاملات میں خواتین کے ساتھ فرق روا رکھا جاتا ہے اور سوسائٹی میں ان پر جو ظلم ہو رہا ہے، اس میں بہتری کے لیے آپ کیا فرمائیں گے؟

جواب: میںیہ سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو اسلام کا صحیح علم دیجیے، ان کو بتائیے کہ یہ رسوم و رواج الگ چیز ہیں اور اسلام بالکل الگ چیز ہے۔ اسلام نام ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت کا ۔ اس میں ایسی کوئی چیز نہیں ہے،اور یہ بات ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ کہتے ہیں۔ لوگ اس سے متعلق ایک ایک سوال سامنے رکھیں۔ ہم ان کو یہ بتانے کی پوزیشن میں ہیں کہ یہ جو کچھ کہا جا رہا ہے یا کیا جا رہا ہے، نہ وہ قرآن میں ہے، نہ حدیث میں ہے۔ اسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو سیاست کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے، رسوم و رواج کی تائید کے لیے بھی استعمال کر لیا جاتا ہے۔ لوگ گھریلو ظلم اور تشدد کے لیے بھی اس کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ بات صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو رشتے قائم کیے ہیں، ان کے فرق کو ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔ ماں، باپ ، شوہر کو ایک درجہ برتری رہے گی۔ اس سے رشتے قائم ہوتے ہیں، تہذیب و تمدن قائم ہوتا ہے، گھر بنتا ہے اور خاندان وجود میں آتا ہے۔