متفرق سوالات


ترتیب: محمد بلال

[''یہ ان سوالوں کے جوابات ہیں جو غامدی صاحب نے ''دنیا'' ٹیلیوژن کے پروگرام''دین و دانش''میں دیے ہیں۔انھیں محمد بلال نے ضروری ترمیم و اضافہ کے ساتھ مرتب کیا ہے۔''] مذہب کی ضرورت ؟

سوال: انسان کو مذہب کی ضرورت کیوں ہے اور یہ انسان کی شخصیت یا اس کے نفس سے کیسے متعلق ہوتا ہے؟

جواب: دنیا میں جب بھی آپ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو اس کو انسانی زندگی کے تناظر میں دیکھنا پڑتاہے۔ مثال کے طور پر، اگریہ سوال کیا جائے کہ طب کیوں ہے؟تو یقیناًاس کا جواب یہ دیا جائے گا کہ چونکہ انسان ہمیشہ ایک حالت میں نہیں رہتا، اس کو مختلف بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، اس لیے انسان کو یہ ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ ان کا علاج دریافت کرے، بیماریوں کی نوعیت جاننے کی کوشش کرے، یہ جاننے کی کوشش کرے کہ بیماریاں کیوں لاحق ہوتی ہیں اور کیا وہ ان سے نجات حاصل کر سکتاہے۔یہی معاملہ تمام علوم وفنون کا ہے۔ اگر آپ تفریحات کی چیزوں کو الگ کر دیں تو جتنے بھی علوم وفنون ہیں وہ انسانی ضرورتوں سے پیدا ہوتے ہیں۔اگر آپ جمالیات کے پہلو سے بھی فنون لطیفہ کا جائزہ لیں تومعلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احساس کی شدت سے بھی نوازا ہے اور صرف احساس کی شدت ہی سے نہیں نوازا ، بلکہ وہ اس کے جمالیاتی اظہار سے تسکین بھی حاصل کرتا ہے۔ اس لیے فنون لطیفہ ، موسیقی، مصوری ، شاعری او راس طرح کی بہت سی چیزیں وجود میں آجاتی ہیں۔ انسان کو جس طرح اپنی صحت اوراپنے جمالیاتی احساسات کی تسکین کے مسائل درپیش ہیں، بالکل اسی طریقے سے موت بھی انسان کا بہت بڑا مسئلہ ہے۔انسان دنیا میں اپنی خواہشوں، امنگوں اور تمناؤں میں جی رہا ہوتا ہے۔ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ ساری دنیا کو اپنی گرفت میں لے لے،وہ ارسطو اور افلاطون ہوتا ہے، زندگی کے منصوبے بناتا ہے،جوانی اور شباب کے مزے لوٹ رہا ہوتا ہے۔ یک بہ یک موت کا فرشتہ آتا ہے اور ہر چیز ختم ہو جاتی ہے۔

موت کیوں آتی ہے ؟کیا اس سے انسانی زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جاتا ہے؟ موت کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ ہم وہاں کس صورت حال سے دوچار ہو ں گے؟ مر کر مٹی ہو جائیں گے یا اٹھائے جائیں گے؟کوئی نئی زندگی شروع ہو گی یا یہی زندگی ہمارا خاتمہ ہے؟ اگر نئی زندگی شروع ہوگی تو اس کے اصول و قوانین کیا ہیں اور اس نئی زندگی میں جانے کے لیے کیا ہمیں اس دنیا میں کیا کچھ کرنا ہے؟ زندگی بھی اسی طرح مختصر اور فانی ہے یاابدی ہے؟ اگر ابدی ہے تو اس کا اس کے ساتھ رشتہ کیا ہے؟ یہ وہ اہم ترین سوالات ہیں جن کا جواب فلسفے نے بھی دینے کی کوشش کی ہے،پھر ابتدا میں سائنس نے بھی دینے کی کوشش کی، لیکن اس وقت انسان کی کم وبیش پانچ ہزار سال کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ ان علوم میں سے کو ئی ایک چیز بھی ان سوالات کا معقول جواب نہیں دے سکی۔ اب تک کی دنیا میں ان سوالات کا سب سے زیادہ معقول ، فطری ، عقلی اور سائنٹیفک جواب صرف مذہب نے دیا ہے۔ اس لیے مذہب انسان کے سب سے بڑے مسئلے کا حل ہے اور اس کی ضرورت ہے۔

موت کا سبب اور اس کے بعد کے احوال کا علم

سوال: موت کا سبب اور اس کے بعد ہونے والے احوال و واقعات کے بارے میں جاننا صرف سوچنے سمجھنے والے انسان کا مسئلہ ہے یا یہ عام آدمی کا بھی مسئلہ ہے کہ وہ ان کے جوابات تلاش کرنے کے لیے تگ و دو کرے؟

جواب: اس معاملے میں عام اور خاص کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ یہ ہمیں صرف اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کے کسی نہ کسی جواب پر مطمئن ہو چکا ہوتاہے۔ اگر اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہ ہوتو یہ سارے سوال وہاں بھی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اس کا تعلق کسی عالم اور فاضل سے نہیں اور نہ کسی فلسفی اور حکیم سے ہے۔

کیا خوف مذہب کی ابتداہے؟

سوال: مذہب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ خوف سے پیدا ہوا۔ یعنی زلزلے آتے تھے، آفات آتی تھیں۔ ابتدا میں انسان کمزور تھا، اس کے پاس نہ تہذیب تھی، نہ رہن سہن تھا اور نہ ٹیکنالوجی۔ اب چونکہ انسان نے ان چیزوں پر عبور حاصل کر لیا ہے ، لہٰذا مذہب کی اب کوئی ضرورت نہیں۔کیا یہ بات درست ہے؟

جواب:یہ بات دور جدید کے ماہرین نفسیات نے کہی تھی۔ لیکن اگر اس کے اندر اتر کر اس کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ یہ بات منطقی استدلال کی میزان میں پوری نہیں اترتی۔ آپ کو خوف اسی وقت لاحق ہو گا جب آپ کو کچھ چیزیں عزیز و محبوب ہوں گی۔انسان کو جو خوف لاحق ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محبت کے مواقع پہلے موجود تھے۔انسان کو زندگی عزیز تھی، زندگی کا رہن سہن عزیز تھا ، وہ اپنی دنیا سے محبت کرتا تھا۔ اسی لیے تو اسے یہ خوف لاحق ہوا کہ زلزلہ مجھ سے یہ سب کچھ چھین لیتاہے۔ طوفان آتا ہے او رمیری کٹیا کو بہا لے جاتاہے، آندھی آتی ہے اور میرا سب کچھ برباد کر جاتی ہے۔ یہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے ، اس سے اس کو جو محبت محسوس ہوئی یا ہونی چاہیے تھی وہی اصل میں خوف کا باعث بنے گی۔ خوف کبھی مقدم نہیں ہوتا۔انسان کا مقدم ترین جذبہ محبت کا جذبہ ہے۔ جب اس طرح کی تصویر کھینچی جاتی ہے تواس بات کو بھلا دیا جاتا ہے کہ کیا ہمیشہ زلزلے اور طوفان ہی آتے ہیں؟ انسان کی نگاہ ان پہاڑوں، دریاؤں، تلاطم خیز موجوں اورگرد و پیش کی عطربیز ہوا پر کبھی نہیں گئی؟انسان نے اپنے گرد وپیش کی خو ب صورتی اور اپنے وجود کے حسن کو کبھی نہیں دیکھا؟ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ حسن و خوبی سے کوئی محبت پیدا نہ ہوئی ہو اور خوف کا جذبہ سب سے پہلے آ گیا ہو۔ اس لیے یہ بات کہ مذہب خوف سے پیدا ہوا ہے ، ٹھیک نہیں ہے۔

مذہب اور ضعیف الاعتقادی

سوال: مذہب کے بارے میں عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ اس پر ایمان ایک اندھا عقیدہ ہے، کیا عقلی طور پر اس کا تجزیہ کیا جا سکتا ہے اور یہ لوگوں کو عموماً ضعیف الاعتقاد کیوں بنا دیتا ہے؟

جواب:اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ انسان کے ہاں اوہام کی صورت میں جو مذہبی اعتقادات ہیں، یہ کیسے پیدا ہوئے؟ یہ سب کے سب انسان کی ضعیف الاعتقادی سے پیدا ہوئے ہیں ۔ کوئی بیماری آگئی، مصیبت آگئی ، انسان کے اوپر کوئی حادثہ ٹوٹ پڑا۔ اس موقع پر انسان کمزور ہو جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں ا س کی شخصیت کا جو غیر معمولی توازن ہے، وہ مجروح ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات سے مغلوب ہو کر رہ جاتا ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب اوہام پر مبنی مذاہب پیدا ہوتے ہیں۔ یہ اصل میں مشرکانہ مذاہب ہیں۔ جس میں کسی دیوی دیوتا یا سورج چاند کومعبود بنا لیا گیا ہے۔فطرت کی قوتوں کی پرستش کے جو احساسات اور جذبات انسان کے اندر پیدا ہوئے ہیں،یہ تو حید کے تصور سے انحراف کے نتیجے میں آئے ہیں۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت آج سے چودہ ، پندرہ سو سال قبل ہوئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انھوں نے توحید کی دعوت دی۔ قرآن مجید بھی توحید کی دعوت دیتا ہے۔لیکن اس کے باوجود یہ ضعیف الاعتقادی مشرکانہ عقائد کے پیدا کرنے کا باعث بن گئی۔ یہی معاملہ اس سے پہلے کا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے جس مذہب کی ابتدا ہوئی وہ اسلام تھا، توحید تھی ، ایک خدا پر ایمان تھا، لیکن بعد کے مراحل میں جب انسان اللہ تعالیٰ کی ہدایت سے تھوڑے فاصلے پر ہوا تو اس کے نتیجے میں وہی ضعیف الاعتقادی غالب آگئی۔ اس وقت ہمارے پاس قرآن موجود ہے، احادیث موجود ہیں،توحید پر ایمان کی ایک عظیم روایت موجود ہے۔اس کے باوجود عام لوگ ہر طرح کے مشرکانہ اوہام میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

انبیا علیہم السلام کی بعثت اسی لیے ہوئی کہ انسان کے ان اعتقادات کے معاملے میں اسے متنبہ کیا جائے،وہم سے نکالا جائے، اسے توحید کا صحیح شعور دیا جائے اور اسے بلند کرکے پروردگار کے ساتھ متعلق کیا جائے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کی اس پہلی ہدایت پر قائم رہ جاتاتو پے در پے پیغمبر بھیجنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ قرآن مجید نے یہی بات سورۂ بقرہ میں بیان کی ہے کہ: 'کَانَ النَّاسُ أُمَّۃً وَاحِدَۃً۔( البقرہ ۲:۲۱۳)' انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے توحید پر پیدا کیا ہے۔وہ ایک ہی گروہ تھے، ان کے دین میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ پھر ارشاد ہوا کہ اس کے بعد وہ ان اوہام کا شکار ہوئے۔' فَبَعَثَ اللّہُ النَّبِیِّیْنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنذِرِیْنَ(البقرہ ۲:۲۱۳) ' پھر اللہ تعالیٰ نے نبیوں کا سلسلہ جاری کیاجو بشارت دینے اور خبر دار کرنے کے لیے آئے۔ قرآن بھی اپنے نزول کا مقصد یہی بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کر دے۔ دوسری جگہ بیان کیا 'لِیَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (حدید ۵۷:۲۵)' تاکہ دین کے معاملے میں لوگ ٹھیک انصاف پر کھڑے ہو جائیں۔ یعنی انسان کو انحرافات سے نکال کر بالکل اس جگہ پر لے آیا جائے، جو انبیا علیہم السلام نے ان کے لیے متعین کی ہے۔

مذہب کی حقیقت

سوال: مذہب کے بارے میں بعض لوگ کا خیال ہے کہ یہ کچھ اعتقادات، رسوم اور کچھ اعمال سر انجام دینے کا نام ہے ، اس کے علاوہ مذہب میں کیا ہے؟ اور اس میں بعض چیزیں جن کو خیر سمجھا جاتا ہے، مثلاً اچھا اخلاق، اچھا رویہ تو یہ کام تو بعض خدا کو نہ ماننے والے لوگ بھی کرتے ہیں۔لہٰذا مذہب اچھا ہو ا یا اخلاق؟ اور دوسری جانب ان رسوم کا کیا فائدہ؟ اگر نماز پڑھنے کے بعد بھی کسی کا اخلاق ٹھیک نہیں ہوتا اور وہ بد عہدی بھی کرتا ہے؟ اس طرح کی چیزیں لوگوں کو Confuse کرتی ہیں۔ مذہب اپنی حقیقت میں کیا ہے؟

جواب: یہ رسوم اور روایات مذہب کا بنیادی مسئلہ نہیں ہے، یہ تو بڑی بعد کی چیزیں ہیں۔ مذہب کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ تمھیں ایک دن دنیا سے رخصت ہونا ہے اور خدا کے حضور میں پیش ہونا ہے، اس پیشی کے بعد تمھاری ابدی زندگی کی ابتدا ہونی ہے۔ اس زندگی میں اللہ تعالیٰ نے جو فردوس آباد کر رکھاہے، اس کے لیے وہ اس دنیا کے اندر لوگوں کا انتخاب کر رہا ہے۔ یہ انتخاب جس اصول پر ہو رہا ہے اس کو قرآن کی اصطلاح میں تزکیہ کہتے ہیں۔ یعنی دنیا کے اندر سے ، وہ لوگ جو اپنے نفس کا تزکیہ کر لیں، اپنے آپ کو پاکیزہ بنا لیں، ان کا انتخاب کیا جائے۔دراصل مذہب کا موضوع اخلاقی پاکیزگی ہے۔ اس معاملے میں تین چیزوں کو مذہب نے اپنے دائرے میں لیا ہے۔ ایک یہ کہ ہمارے بدن کو صاف ہونا چاہیے۔ دوسرے ہمارے کھانے پینے کی چیزوں کو پاکیزہ ہونا چاہیے اور تیسرے ہمارے اخلاق کو پاکیزہ ہونا چاہیے۔

یہ مسئلہ اس وجہ سے پیدا ہوا ہے کہ لوگوں کو مذہب کی حقیقت سمجھائی نہیں گئی۔ ہم نے اپنی نئی نسلوں کو مذہب کے بارے میں کبھی تعلیم نہیں دی ۔ کبھی ان کے سوالات کا جواب نہیں دیا ۔ کبھی ان کو جواب دینے کی کوشش نہیں کی۔ اس بات کا کبھی جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی کہ وہ کہاں سے مذہب لیتے ہیں۔ ہمارے ہاں جب بچہ پیدا ہوتا ہے، والدین اس کو تھوڑی بہت مذہبی معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔ ایک قاری صاحب کے سپرد کرتے ہیں۔ قاری صاحب کچھ قرآن پڑھا دیتے ہیں، کچھ دعائیں یاد کرا دیتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو گا کہ وہ بچہ مسجد میں چلا جائے گا اور وہاں سے کچھ باتیں سن لے گا۔ مذہب کی حقیقی تعلیم علمی اور عقلی استدلال کے ساتھ جس طرح دی جانی چاہیے ، وہ ہمارے بچوں کو کبھی دی ہی نہیں جاتی۔ اس وجہ سے یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

مذہب اور انسانی ضرورتیں

سوال: لوگوں کو یہ کیسے بتایا جائے کہ مذہب ان کی کون کون سی ضرورتیں پوری کرتا ہے؟

جواب: یہ بات تعلیم کے ذریعے سے لوگوں کو بتانی چاہیے۔ ہمیں اپنی نئی نسلوں کوبتاناچاہیے، ان کے لیے اس کی تعلیم کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔ اعلیٰ درجے کے اہل علم کو یہ خدمت انجام دینی چاہیے۔ ہم بہت بے چین ہو جاتے ہیں اگر ہم کو معلوم ہو کہ ہمارے ہاں بیماریاں موجود ہیں، لیکن ان کے لیے اعلیٰ درجے کے ہسپتال نہیں ہیں، اعلیٰ درجے کے ڈاکٹر نہیں ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ طب کی بہترین سہولتیں اپنے ملک میں فراہم کریں۔ لیکن افسوس کہ دین کے علم کے بارے میں ہم کبھی اتنے فکر مندنہیں ہوتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ موت کا مسئلہ ہے ۔اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ اس پر ہمیں سب سے زیادہ بے تابی ، سب سے زیادہ اضطراب ہونا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوتا۔

دین اور فطرت

سوال:دین اگر فطری چیز ہے اور وہ جو کچھ دیتا ہے وہ انسان کی فطرت ہی کی آواز ہوتی ہے تو پھریہ سوال پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ تعلیم کتنی دی گئی ہے۔ اس کو از خود اسے قبول کر لینا چاہیے خواہ وہ ان پڑھ ہو یا کسی تہذیب سے نا آشنا ہو۔ کیا یہ نا آشنائی کا مسئلہ ہے یا کچھ اور ہے؟

جواب: یہ معاملہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ گرد و پیش میں مذہب کی غلط تعبیریں ہجوم کر لیتی ہیں یعنی جب آپ غلط باتیں بیان کر دیتے ہیں اور گرد و پیش سے وہ آپ کے سامنے آتی ہیں تو اس کے نتیجے میں انسان ان چیزوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ اگر اس کو آپ اس کی فطرت پر چھوڑ دیں اور پھر انبیا علیہم السلام کی تعلیم سادگی سے اس کے سامنے آئے تو وہ اسے قبول کرے گا۔

مذہب اور تعلیم

سوال: مذہب کے بارے میں ایک نظریہ یہ ہے کہ یہ اپنی اصل میں بہت سادہ ہے، یہ شخصیت کی تعمیر اور تزکیۂ نفس کاحصول ہے۔ جبکہ دوسری طرف مذہب کی یہ تصویر پیش کی جاتی ہے کہ یہ کچھ رسوم اور احکام کا نام ہے۔ دنیا میں بہت سارے مذاہب ہیں جن کی اپنی اپنی شناخت ہے، ان کے اپنے اپنے تعصبات ہیں۔ ان دونوں باتوں میں جو فصل ہے اس کو پاٹنے کے لیے آپ کہتے ہیں کہ لوگوں کو تعلیم دی جائے اور ان کاشعور بیدار کیا جائے۔ کیا کوئی ایسی تدبیر ہے کہ یہ بنیادی سادہ پیغام لوگوں کو اس بڑے تعلیمی منصوبے کے بغیر سمجھایا جا سکے؟

جواب:اس کے لیے کسی بڑے تعلیمی منصوبے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کے لیے یہی کافی ہے کہ ہم اس معاملے میں بیدار اور حساس ہو جائیں۔ آج کے دور میں تو یہ بہت آسان ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بڑے غیر معمولی ذرائع پیدا کر دیے ہیں۔ آج سے پچاس سال پہلے اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ آپ ایک کمرے (ٹی وی اسٹوڈیو)میں بیٹھے ہوں گے اور ایک دنیا آپ کی بات سن رہی ہو گی۔ پہلے آپ اگر تعلیم دینا چاہتے تھے تو ایسے غیر معمولی لوگ پیدا کرنے پڑتے تھے جو گاؤں گاؤں جا کے لوگوں کو بتا سکیں۔ دنیا میں اعلیٰ درجے کے معلم بہت کم ہوتے ہیں۔ اس میں بھی بڑی مشکلات تھیں۔ آج یہ ضرورتیں بھی اللہ تعالیٰ نے پوری کر دی ہیں اور ایسے اسباب فراہم کر دیے ہیں کہ آپ ایک جگہ بیٹھ کر پوری دنیا کو تعلیم دے سکتے ہیں۔ اس وجہ سے تعلیم دینا کوئی مشکل کام نہیں، اس کے لیے کسی بڑے منصوبے کی بھی ضرورت نہیں۔صرف ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ہماری ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مزید ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ جس وقت آپ اپنی قوم کے سامنے اس کو پیش کرتے ہیں تو ایک ایک چیز کے بارے میں بتائیے کہ یہ پہلے سے اپنے ذہن میں کیا سوالات رکھتی ہے۔ اس میں ایک عمل ہوتا ہے، جس میںآپ پہلے سے موجود چیزوں کو ڈھا دیتے ہیں۔ یہ عمل اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک تنقیدی شعور نہ پیدا کیا جائے۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم تنقید سے ڈرتے ہیں۔ یہ تنقید ہی ہے جو اصل میں قوموں کی ترقی کا ذریعہ بنتی ہے۔ اگر آپ یہ صلاحیت نہیں رکھتے اور آپ نے یہ چیز پیدا نہیں کی یعنی آپ نے کچھ مقدس رکاوٹیں(Taboos )بنا دی ہیں کہ آپ فلاں چیز کو نہیں چھیڑ سکتے، فلاں پر بات نہیں کر سکتے، تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ آپ صرف ذہنی اور فکری بونے پیدا کریں گے۔ آپ کے ہاں وہ لوگ جو آزادی سے بات کر سکیں، بات سمجھا سکیں، سوال کر سکیں، وہ ختم ہونے شروع ہو جائیں گے۔ دنیا کے اندر ترقی کرنے کا راستہ یہ ہے۔ طب میں بھی بہت غیر معمولی اوہام تھے۔ لوگ معلوم نہیں کس کس طریقے سے علاج کرتے تھے۔ تعویذ گنڈے تھے، عطائی تھے، لیکن سائنسی طریقۂ کار نے ان سب کو ختم کر دیا۔ مجھے اس بات کا پورا یقین ہے کہ یہ جو چیزیں آپ نے بیان کی ہیں اگر ان سب کو تعلیم کے عمل سے گزار دیا جائے تو جو صحیح مذہب اوراس کی اصل حقیقت ہے، وہ ان سب کو بالکل اسی طریقے سے نگل جائے گا، جس طرح قرآن میں بیان ہوا کہ عصاے موسوی ساحروں کی رسیوں کو نگل گیا۔

مذہب اور تقدیر

سوال: اہل مذہب مقدر اور قسمت پر کلی طور پر انحصار کرتے ہیں، کیا اس سے بے عملی پیدا نہیں ہوتی؟

جواب: اس معاملے میں صحیح چیز کو جاننا چاہیے۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جو پہلے سے طے ہوتی ہیں مثلاً مجھے کہاں پیدا ہونا تھا ، میری شکل و صورت کیا ہو گی، مجھے کیا صلاحیتیں دی جائیں گی۔ قدرت کے نظام نے مجھے ایک خاص ملک میں پیدا کر دیا۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت نے میرے لیے ایک شکل و صورت اور صلاحیتوں کی نوعیت منتخب کر لی۔ ان کے بارے میں بھی فیصلہ ہو گیا۔ اب اس کے بعد میرا اخلاقی وجود ہے اور ان صلاحیتوں کو نشو و نما دینے کے میدان ہیں، جن میں مجھے اختیار دیا گیا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو الگ الگ سمجھ لینا چاہیے۔ اس کے لیے کسی فلسفی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ ہماری روزہ مرہ کی زندگی اور ہماری عقل عام اس کا فیصلہ کر رہی ہوتی ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ کون سی چیزیں ایسی ہیں، جو قدرت کے فیصلے کے نتیجے میں ہم کوملی ہیں اور کون سی چیزیں ہیں جن میں ہم کواختیار دیا گیا ہے۔ہم نے کبھی اپنے کسی ملازم کا اس بات پر احتساب نہیں کیا ہے کہ اس کی ناک بڑی اور کان چھوٹے کیوں ہیں۔ یہ چیزیں تو وہ قدرت کی طرف سے لے کر آیا ہے۔ لیکن جس وقت وہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے، قاعدے کے خلاف معاملہ کرتا ہے، غبن کرتا ہے، خیانت کرتا ہے، جھوٹ بولتا ہے، بددیانتی کرتا ہے، اس وقت ہم اس کا محاسبہ کرتے ہیں کیونکہ یہ اختیار کی چیزہے۔ انسان اگر اپنے دل سے پوچھے تو دل ٹھیک فتویٰ دیتا ہے اور بتاتا ہے کہ کہاں وہ مجبور ہے اور کہاں مختار ہے۔

خواب اور وحی

سوال: خواب کو وحی کی ایک شکل جانا جاتا ہے، لیکن ماہر نفسیات کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ انسان کے لاشعور کی وجہ سے ہوتا ہے، اس صورت حال میں وحی کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے؟

جواب: خواب اللہ تعالیٰ کی ہدایت کا ایک ذریعہ ہے۔ خوابوں کے بارے میں دور جدید میں بہت کام ہوا ہے۔ فرائڈ کے زمانے سے خوابوں کے مطالعے کی ایک سائنٹیفک دنیا وجود میں آئی ہے، اس کے اوپر مزید بہت سا کام ہو گیا ہے اور بہت سے پرانے تصورات بھی ختم ہوئے ہیں۔ قرآن مجید نے بھی اس مسئلے کو موضوع بنا یا، مگر اس طرح سے نہیں جس طرح سے وہ توحید یا رسالت کو موضوع بناتا ہے۔ ضمناً یہ چیز موضوع بن گئی ہے۔ قرآن مجید نے اس میں ہمیں یہ بتایا کہ خوابوں کی کئی صورتیں ہوتی ہیں۔ اور اب ماہرین بھی اس کو تسلیم کرتے ہیں۔ خواب بسا اوقات آپ کے جسم پر گزرنے والی واردات کو ممثل کر دیتے ہیں۔ آپ کے لاشعور کے احساسات کو آپ کے سامنے لے آتے ہیں۔کبھی آپ اپنے دل کے اندر کوئی خصوصی خیال لے کر سو جائیں، وہ بھی خواب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ آپ کے احساسات تمثیل کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ آپ کا نفس آپ سے باتیں کرنا شروع کر دیتا ہے، اسی لیے خواب کو حدیث نفس کہا جاتا ہے یعنی انسان کی جو اندرونی شخصیت ہے، وہ سامنے آ جاتی ہے۔

چونکہ انسان کے اندر یہ ذریعہ( medium )موجود ہے تو بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ وہ سو جاتا ہے تو اس کے نفس کے ساتھ گفتگو کرنی آسان ہو جاتی ہے اور ایک تمثیل کی صورت بن جاتی ہے ۔ اس medium کو شیطان بھی استعمال کرتا ہے۔ اور اسی طریقے سے اس کو رحمان بھی استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر سیدنا یوسف کا خواب قرآن میں بیان ہوا ہے ۔ انھوں نے اپنے سامنے گیارہ ستاروں کو اور سورج اور چاند کو جھکتے ہوئے دیکھا۔ یہاں ایک چیز کو ممثل کر کے دکھادیا گیا۔ حقیقت کئی برس بعد سامنے آئی جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے بھائی اور ان کے والدین ان کی تعظیم کے لیے ان کے سامنے جھک گئے۔یہ وحی کا ایک معاملہ تھا۔

آپ کانوں کے ذریعے سے آوازوں کو سنتے ہیں۔ وہ آواز آپ کی بھی ہو سکتی ہے، میری بھی ہو سکتی ہے، ٹیلی ویژن کی بھی ہو سکتی ہے، ہوا کی بھی ہو سکتی ہے۔ جس طرح آپ کو کان کے ذریعے سے سننے کی ایک صلاحیت دی گئی ہے۔ اسی طریقے سے خواب بھی آپ سے بات کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ آپ خود بھی اس ذریعے سے اپنے آپ سے بات کرتے ہیں اور خارج کی بعض چیزیں بھی آپ سے بات کر سکتی ہیں۔ ان میں بعض اوقات شیاطین کرتے ہیں اور بعض اوقات اللہ تعالیٰ بھی اس کو ذریعہ بنا لیتے ہیں۔

وحی اور عقل

سوال: وحی جو بعض اوقات خواب کی صورت میں آتی ہے، اس کا عقل سے کیا تعلق ہے؟

جواب: انسانی شخصیت کا اگر تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس جذبات ہیں، خواہشات ہیں، رغبات ہیں، تعصبات ہیں۔ ہمارے اندر ایک بڑی قوی حس جمالیات ہے۔ ایک اخلاقی شعور ہے۔ یہ چیزیں ایک طوفان کی طرح امڈ کے آتی رہتی ہیں۔ وہ چیز جو ان کے اندر تجزیہ کر کے نظم پیدا کرتی ہے اور ان کو معنویت اور مفہوم دیتی ہے،اس کو آپ عقل کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ یہی انسان کا اصلی شرف ہے۔حواس، وجدان یا تاریخی معلومات کے ذریعے سے جو خبر بھی اس کو پہنچتی ہے، یہ اس کا جائزہ لے کر اور اس کے بعد جو بھی اس کے نتائج ہوں گے، ان کو نظم کے ساتھ آپ کے سامنے رکھ دے گی۔ انسان کا اصلی کما ل یہی ہے کہ وہ اپنے شعور کا بھی شعور رکھتا ہے اور پھر اس شعور کا تجزیہ کر کے ، اس سے نتائج نکال لیتا ہے۔ تہذیب و تمدن اصل میں اسی سے پیدا ہوئے ہیں۔انسان جانوروں کی طرح صرف جبلتوں کا غلام نہیں ہے۔ جانور بھی ہم سے پہلے دنیا میں موجود تھے۔ وہ کوئی تہذیب پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ لیکن ہم میں عقل ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ جب وحی آئے گی، دین آئے گا تو وہ بھی اسی عقل کے سامنے اپنے آپ کو پیش کرے گا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دین عقل کے تابع ہے۔بات دین کو سمجھنے کی ہے۔ یعنی آپ کو حواس کے ذریعے سے جو معلومات پہنچتی ہیں، ان کو عقل ہی سمجھتی ہے۔اگر عقل نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ایک انسان بھلا چنگا انسان ہوتا ہے، اس کے اعضا میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔ ہر لحاظ سے بالکل درست ہوتا ہے، لیکن دماغی توازن خراب ہو جاتا ہے۔ باقی ہر چیز اسی طرح رہتی ہے۔ خواہشات ، جذبات ، جبلتیں اپنا کام کر رہی ہوتی ہیں، بھوک لگ رہی ہوتی ہے، جنسی جذبات بھی موجود ہوتے ہیں، لیکن جب عقل ختم ہو جاتی ہے تو نہ وہ دین کا مخاطب رہتا ہے، نہ قانون کا۔اس وقت انسان کے ساتھ مکالمے کا معاملہ نہیں کیا جاتا ، بلکہ ہمدردی کا معاملہ کیا جاتا ہے۔میرے پاس بحیثیت انسان جو چیز فیصلہ کرنے کے لیے ہے، وہ عقل ہے۔ اسی وجہ سے قرآن بار بار جب اپنی دعوت دیتا ہے تو کہتا ہے 'أَفَلاَ تَعْقِلُونَ(البقرہ ۲: ۴۴)' تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے؟ اس لیے عقل اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ سب سے بڑی نعمت ہے۔

مذہب اور اہل مغرب

سوال: اہل مغرب کے ہاں مذہب تقریباً ختم ہو گیا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ خدا کا اب پوری کائنات میں کوئی دخل نہیں ہے۔ اس کے باوجود ان کے ہاں ایک بے مثال نظام ہے، احتساب (Accountability )ہے۔ وہ لوگ ذمہ دار یاں پوری کرتے ہیں اور جو اہل مذہب ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں ، بالخصوص مسلمان تو ان کی حالت تو ابتر ہے۔ اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

جواب:دراصل اس بارے میں ایک غلط مقدمہ قائم کر لیا گیا ہے۔ وہ مقدمہ یہ ہے کہ مذہب ہماری دنیوی زندگی کی کامیابی کے لیے آیا ہے۔ جبکہ یہ بات مذہب کا موضوع ہی نہیں ہے۔ انسان اگر دنیا میں ترقی پانا چاہتا ہے تو اس کے لیے اس کو علم حاصل کرنا ہے، اپنی طبعی زندگی کا مطالعہ کرنا ہے، اپنے اخلاقی وجود کو بہتر بنانا ہے، اپنے اندر آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہے ۔ اگر وہ علم کے میدان میں آگے قدم بڑھاتا ہے اورمادے کو توانائی میں بدلنے کی کوئی نئی صورت دریافت کر لیتا ہے تو وہ آگے بڑھے گا، اس کو روکا نہیں جا سکتا۔ یہ ہیں وہ چیزیں جن پر قوموں کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ یہ مغرب کر لے یا مشرق کر لے، یکساں نتائج نکلیں گے۔

دنیا کی زندگی کے اندر تین چیزیں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ایک چیز آپ کے مادی وسائل ہیں،دوسرے آپ کاعلم ہے، تیسرے آپ کی اخلاقی شخصیت ہے۔ مذہب کا موضوع آپ کی اخلاقی شخصیت ہے یعنی اس معاملے میں وہ اثر انداز ہو گا۔ آپ جو اخلاقیات اہل مغرب کے ہاں پاتے ہیںیہ دراصل سیدنا مسیح علیہ السلام کا اعجاز ہے۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کا اخلاقی وجود مغرب کے ریشے ریشے میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ اس کو نکالا ہی نہیں جا سکتا۔ اس کو آپ نام دیں، نہ دیں، وہ ان کی شخصیت ، ان کی نفسیات کا حصہ بن گیا ہوا ہے۔ یہ ہمدردی، محبت، انسانوں کے معاملے میں حساسیت، یہاں تک کہ جانوروں تک کے معاملے میں حساسیت اور ان کے حقوق کی پاس داری،یہ ساری کی ساری تعلیم درحقیقت سیدنا مسیح کی دی ہوئی تعلیم ہے۔ لیکن بعض اوقات جب انسان کے اندر ایک خاص طرح کا انحراف پیدا ہوتا ہے تو اس کے پاس جو کچھ ہوتا ہے،اس کے معاملے میں وہ دینے والوں کے لیے بھی ناشکری کا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔

اس کے بعد بڑا مسئلہ موت کا ہے۔ اور یہ مسئلہ مغرب میں ختم نہیں ہوا ، بلکہ آج بھی پوری قوت کے ساتھ موجود ہے۔ البتہ یہ ہو سکتا ہے کہ مثال کے طور پر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ آپ انھیں بتائیں کہ کھانے پینے میں احتیاط کرو، ورنہ تمھیں کوئی بیماری لاحق ہو سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ نہیں، اس وقت کی زندگی گزارنے دو 'بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست'(یعنی اے بابر عیش وعشرت میں زندگی بسر کرو یہ دنیا دوبارہ نہیں حاصل ہوگی)، جب بیماری آئے گی، دیکھا جائے گا۔اس طرح کے بے شمار لوگ ہوتے ہیں۔ مغرب بھی بحیثیت مجموعی مذہب کے ساتھ دراصل یہی معاملہ کر رہا ہے۔ وہاں موت کے مسئلے کو کچھ دیر کے لیے نظر انداز کر دیا گیا ہے، لیکن یہ اپنی پوری طاقت سے نمودار ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ وہاں ہر شخص نے یہ فیصلہ کر لیا ہے۔ مغرب میں اس وقت بھی آپ کو ایسے کروڑوں لوگ ملیں گے جو غیر معمولی مذہبی وابستگی رکھتے ہیں۔ مذہب کے معاملے میں بڑے حساس ہیں۔ ان کے ہاں جو مذہبی روایت تھی، اس کے ساتھ دو آفات لاحق تھیں۔ ایک یہ کہ مذہب کے عقائد بدقسمتی سے صوفیانہ مظاہر کے زیر اثر بائبل سے بہت دور ہو چکے تھے۔ اس کو ہر عاقل نے رد کرنا ہی تھا، وہ رد ہو گئے۔ دوسری یہ کہ ان کے ہاں مذہب ایک Institution(ادارے) میں تبدیل ہو گیا تھا اور وہ پوپ کا Institution تھا ۔ اس کو ایک سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تھا۔ اس سے کچھ مفاسد پیدا ہوئے اور انھوں نے اس کے خلاف بغاوت پیدا کی۔ لہٰذا مغرب کے معاملے کو اس طرح دیکھنا چاہیے۔

مذہب اور تشدد

سوال: مذہب پر ایک بڑا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ یہ نفرت پیدا کرتا ہے۔ مذہبی لڑائیاں بہت ہوتی ہیں، انتہا پسندی مذہب سے پیدا ہوتی ہے، لوگ مذہب کے معاملے میں دوسروں پر تشدد کرتے ہیں۔ کیا مذہب فی الواقع اس کاذمہ دار ہے؟

جواب: مذہب تو یقیناًاس کا ذمہ دار نہیں ہے۔ اصل میں تو انسان کی خواہشات اوراس کے تعصبات یہ کام کرتے ہیں۔ انسان کے اندر چونکہ انحراف کی بڑی غیر معمولی صلاحیت ہے ، جس وجہ سے وہ بعض اوقات مذہب جیسی مقدس اور پاکیزہ چیز کو اس کے لیے استعمال کر لیتا ہے۔ جو چیز بھی اثر انگیز ہو گی اور انسانی شخصیت پر جس کی گرفت ہو گی، اس کو استعمال کر لیا جائے گا۔ چنانچہ ان نفرتوں کے لیے انسان نے قومی تعصبات کو بھی استعمال کیا ہے، انسان نے اپنے آدرشوں اور نصب العین کو بھی استعمال کیا ہے۔ پچھلی صدی کی ابتدا میں انسان نے یہ تصور دیا کہ ہم انسانوں کی بہتری کے لیے ایک ایسا نظام بنانا چاہتے ہیں، جس میں ملکیت کے ذرائع ختم کر دیے جائیں۔ اس میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ غریبوں کے مسئلے کو حل ہونا چاہیے، یہ بات تو بڑی اچھی ہے لیکن اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے آپ نے ایک نظام کا تصور قائم کیا اور پھر اس کو قائم کرنے کے لیے آپ تلوار لے کر کھڑے ہو گئے۔ یہ ایک صحیح چیز کا غلط استعمال ہے۔ وہ مذہب کابھی ہو جاتا ہے۔ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کیا ہم نے مذہب کے معاملے میں لوگوں کو educate کیا ہے؟ یقیناًنہیں کیا۔ اگر کیا ہوتا تو اس طرح کے مسائل کبھی جنم نہ لیتے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو اس بات کا بڑا غیر معمولی اہتمام کیا ہے کہ لوگ مذہب کو غلط استعمال نہ کر سکیں۔ لیکن ہم نے اس اہتمام سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا۔ اس لیے کہ آپ جتنا جی چاہیں اہتمام کر لیں، اعلیٰ سے اعلیٰ علم لوگوں کے سامنے رکھ دیں ، اگر آپ نے لوگوں تک اس کو پہنچانے کا اہتمام نہیں کیا تو اس کے نتیجے میں کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ طب کی اعلیٰ سے اعلیٰ کتابیں لکھ کے دے دیجیے اور ان کو لائبریری میں رکھ دیجیے،اگر آپ نے اپنی قوم کو educateکر کے اچھے ڈاکٹر پیدا کرنے کا اہتمام نہیں کیا تو عطائی راج کریں گے اور وہ لوگوں کی زندگی سے کھیلیں گے۔ یہی صورت حال مذہب میں ہے۔