ایمانیات


دین کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ دنیا کا ایک خالق ہے۔ اس نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ چنانچہ انسان کو یہاں اس نے ایک خاص مدت کے لیے بھیجا ہے۔ اس مدت کے پورا ہو جانے کے بعد یہ دنیا لازماً ختم کر دی جائے گی اور اس کے زمین وآسمان ایک نئے زمین وآسمان میں تبدیل ہو جائیں گے۔ پھر ایک نئی دنیا وجود میں آئے گی۔ تمام انسان وہاں دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور ان کے عقیدہ وعمل کے لحاظ سے انھیں جزا یا سزا دی جائے گی۔

دین اس حقیقت کو ماننے کا مطالبہ کرتا ہے۔ اس کے لیے، ظاہر ہے کہ اس کا مبرہن ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ انسان کی تخلیق کے پہلے دن ہی سے اللہ تعالیٰ نے یہ اہتمام کر رکھاہے کہ کوئی شخص علم وعقل کی بنیاد پر اس کا انکار نہ کرے اور لوگوں کے لیے یہ حقیقت ایسی واضح رہے کہ اس کے منکرین قیامت کے دن اپنا کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش نہ کر سکیں۔

یہ اتمام حجت کس طرح ہوا ہے؟ قرآن بتاتا ہے کہ خدا کی ربوبیت کا اقرار ایک ایسی چیز ہے جو ازل ہی سے انسان کی فطرت میں ودیعت کردی گئی ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ یہ معاملہ ایک عہدومیثاق کی صورت میں ہوا ہے۔ اس عہد کا ذکر قرآن ایک امر واقعہ کی حیثیت سے کرتا ہے۔ انسان کو یہاں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے، اس لیے یہ واقعہ تو اس کی یادداشت سے محو کر دیا گیا ہے، لیکن اس کی حقیقت اس کے صفحۂ قلب پر نقش اوراس کے نہاں خانۂ دماغ میں پیوست ہے، اسے کوئی چیز بھی محو نہیں کر سکتی۔ چنانچہ ماحول میں کوئی چیز مانع نہ ہو اور انسان کو اس کی یاددہانی کی جائے تو وہ اس کی طرف اس طرح لپکتا ہے، جس طرح بچہ ماں کی طرف لپکتا ہے، دراں حالیکہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا، اور اس یقین کے ساتھ لپکتا ہے، جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خدا کا یہ اقرار اس کی ایک فطری احتیاج کے تقاضے کا جواب تھا جو اس کے اندر ہی موجود تھا۔ اس نے اسے پالیا ہے تو اس کی نفسیات کے تمام تقاضوں نے بھی اس کے ساتھ ہی اپنی جگہ پالی ہے۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی یہ شہادت ایسی قطعی ہے کہ جہاں تک خدا کی ربوبیت کا تعلق ہے، ہر شخص مجرد اس شہادت کی بنا پر اللہ کے حضور میں جواب دہ ہے۔ فرمایا ہے:

وَاِذْ اَخَذَ رَبُّکَ مِنْ بَنِیْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُہُوْرِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ، وَاَشْہَدَہُمْ عَلٰٓی اَنْفُسِہِمْ، اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی، شَہِدْنَا، اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنْ ہٰذَا غٰفِلِیْنَ، اَوْ تَقُوْلُوْٓا: اِنَّمآا اَشْرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَکُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنْ بَعْدِہِمْ، اَفَتُہْلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ؟ وَکَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ، وَلَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ.(الاعراف۷: ۱۷۲۔۱۷۴)

''اور یاد کرو، جب تمھارے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے اُن کی اولاد کو نکالا اور انھیں خود اُن کے اوپر گواہ بنا کر پوچھا: کیا میں تمھارا رب نہیں ہوں؟ انھوں نے جواب دیا: ضرور، آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اِس پر گواہی دیتے ہیں۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ دو کہ ہم تو اس سے بے خبر ہی تھے یا اپنا عذر پیش کرو کہ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے پہلے سے کر رکھی تھی اور ہم بعد کو اُن کی اولاد ہوئے ہیں، پھر آپ کیا ان غلط کاروں کے عمل کی پاداش میں ہمیں ہلاک کریں گے؟ (یہ ہم نے پوری وضاحت کر دی ہے) اور ہم اسی طرح اپنی آیتوں کی تفصیل کرتے ہیں، (اِس لیے کہ لوگوں پر حجت قائم ہو) اور اس لیے کہ وہ رجوع کریں۔''

یہی معاملہ خیروشر کا ہے۔ اس کا شعوربھی اسی طرح انسان کی فطرت میں ودیعت کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے: 'وَنْفسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا' ۱؂ ( اور نفس گواہی دیتا ہے اور جیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اور بدی اُسے سجھادی)۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت 'اِنَّا ھَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ' ۲؂ (ہم نے اُسے خیروشر کی راہ سجھا دی) اور 'ھَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ' ۳؂ (ہم نے کیا اُسے دونوں راستے نہیں سجھائے) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے پروردگار نے ایک حاسۂ اخلاقی بھی اس کے اندر رکھ دیا ہے جو نیکی اور بدی کوبالکل اسی طرح الگ الگ پہچانتا ہے، جس طرح آنکھیں دیکھتی اور کان سنتے ہیں۔ ہمارے نفس کا یہ پہلو کہ وہ ایک نفس ملامت گر بھی ہے اور دل کے پردوں میں چھپی ہوئی اس کی زبان ایک واعظ وناصح کی طرح برائی کے ارتکاب پر ہم کو برابر ٹوکتی اور سرزنش کرتی رہتی ہے، اسی سے پیدا ہوتا ہے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خیروشر کا امتیاز اور خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا احساس ایک عالم گیر حقیقت ہے جس کو جھٹلانے کی جسارت کوئی شخص بھی نہیں کر سکتا۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ انسان کے باطن کی اس شہادت کے بعد جزاوسزا کو جھٹلانا بھی کسی شخص کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ فرمایاہے:

لَآ اُقْسِمُ بِیَوْمِ الْقِیٰمَۃِ، وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ، اَیَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَجْمَعَ عِظَامَہٗ؟ بَلٰی، قَادِرِیْنَ عَلٰٓی اَنْ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ، بَلْ یُرِیْدُ الْاِنْسَانُ لِیَفْجُرَ اَمَامَہٗ، یَسْءَلُ اَیَّانَ یَوْمُ الْقِیٰمَۃِ، فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ وَخَسَفَ الْقَمَرُ، وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ، یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ اَیْْنَ الْمَفَرُّ؟ کَلَّا، لَا وَزَرَ، اِلٰی رَبِّکَ یَوْمَءِذِ الْمُسْتَقَرُّ، یُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ یَوْمَءِذٍ بِمَا قَدَّمَ وَاَخَّرَ، بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ، وَّلَوْ اَلْقٰی مَعَاذِیْرَہٗ. (القیٰمہ۷۵ :۱۔۱۵)

''نہیں،میں قیامت کے دن کو گواہی میں پیش کرتاہوں، اور نہیں، میں (تمھارے) اِس نفس لوامہ کو گواہی میں پیش کرتا ہوں۔ کیاانسان یہ سمجھتا ہے کہ ہم اِس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟ کیوں نہیں، ہم تو اس کی پورپور درست کر سکتے ہیں۔ (نہیں، یہ بات نہیں)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان اپنے ضمیر کے روبرو شرارت کرنا چاہتا ہے۔ پوچھتا ہے: قیامت کب آئے گی؟ لیکن اُس وقت ، جب دیدے پتھرائیں گے اور چاند گہنائے گا اور سورج اور چاند، (یہ دونوں) اکٹھے کر دیے جائیں گے، تو یہی انسان کہے گا کہ اب کہاں بھاگ کر جاؤں ہر گز نہیں، اب کہیں پناہ نہیں! اُس دن تیرے رب ہی کے سامنے ٹھیرنا ہو گا۔ اُس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا ہے۔ (نہیں، وہ اِسے نہیں جھٹلا سکتا)،بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ) انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر میں قرآن کے اس استدلال کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''اب سوال یہ ہے کہ جب انسان خود اپنے ضمیر کے اندر ایک نگران رکھتا ہے جو اس سے صادر ہو جانے والی برائیوں پر اس کو ٹوکتا رہتا ہے تو اس کے لیے یہ تصور کرنا کس طرح معقول قرار دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک شتر بے مہار ہے، جس طرح کی زندگی وہ چاہے بسر کرے اور جس قدر چاہے اس نگران کی مخالفت کرے، لیکن کوئی اس سے باز پرس کرنے کا حق نہیں رکھتا؟ اگر انسان شتر بے مہار ہے تو یہ نفس لوامہ اس کے اندر کہاں سے آگھسا؟ اگر اس کا خالق لوگوں کی نیکی اور بدی، دونوں سے بے تعلق ہے تو اس نے نیکی کی تحسین اور بدی پر سرزنش کے لیے انسان کے اندر یہ خلش کیوں اور کہاں سے ڈال دی؟ پھر یہیں سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب اس نے ہر انسان کے اندر یہ چھوٹی سی عدالت قائم کر رکھی ہے تو اس پورے عالم کے لیے وہ ایک ایسی عدالت کبریٰ کیوں نہ قائم کرے گا، جو سارے عالم کے اعمال خیروشر کا احتساب کرے اور ہرشخص کواس کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے؟ ان سوالوں پر جو شخص خواہشوں سے آزاد ہو کر غور کرے گا، وہ ان کا یہی جواب دے گا کہ بے شک، انسان کا اپنا وجود گواہ ہے کہ وہ خیروشر کے شعور کے ساتھ پیدا ہوا ہے۔ وہ شتر بے مہار نہیں ہے، بلکہ اس کے لیے لازماً ایک پرسش کا دن آنے والا ہے جس میں اس کو اس کی بدیوں کی سزا ملے گی اگر اس نے یہ بدیاں کمائی ہو ں گی اور نیکیوں کا صلہ ملے گا اگر اس نے نیکیاں کی ہوں گی۔ اسی دن کی یاددہانی ہی کے لیے خالق نے اس کا ایک چھوٹا سا نمونہ خود انسان کے نفس کے اندر رکھ دیا ہے تا کہ انسان اس سے غافل نہ رہے اوراگر کبھی غفلت ہو جائے تو خود اپنے نفس کے اندر جھانک کر اس کی تصویر دیکھ لے۔ یہی حقیقت حکما اور عارفین نے یوں سمجھائی ہے کہ انسان ایک عالم اصغر ہے جس کے اندر اس عالم اکبر کا پورا عکس موجود ہے۔ اگر انسان اپنے کو صحیح طور پر پہچان لے تو وہ خدا اور آخرت، سب کو پہچان لیتا ہے۔''(تدبر قرآن ۹ /۸۰)

[باقی]