ایمانیات (10)


(گزشتہ سے پیوستہ)

سنن یہ ہیں:

۱۔ابتلا

اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا امتحان کے لیے بنائی ہے۔ خدا کے ایک عالم گیر قانون کی حیثیت سے یہ امتحان تمام عالم انسانیت کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ انسان کی طبیعت میں جو کچھ ودیعت ہے، وہ اسی امتحان سے نمایاں ہوتا، نفس کے اسرار اسی سے کھلتے اور علم وعمل کے درجات اسی سے متعین ہوتے ہیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ موت وحیات کا یہ کارخانہ وجود میں آیا ہی اس لیے ہے کہ اس کا پروردگار دیکھ لے کہ کون سرکشی اختیار کرتا اور کون اس کی پسند کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، لیکن اس نے یہ سنت ٹھیرائی ہے کہ لوگوں کے ساتھ جزاوسزا کا معاملہ وہ مجرد اپنے علم کی بنیاد پر نہ کرے گا، بلکہ لوگوں کے عمل کی بنیاد پر کرے گا۔ یہ امتحان اسی مقصد سے برپا کیا گیا ہے:

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً، وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ.(الملک۶۷ :۲)

''(وہی) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تم کو آزمائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔''

اس دنیا میں رنج وراحت، غربت وامارت، دکھ اور سکھ کی جو حالتیں انسان کو پیش آتی ہیں، وہ اسی قانون کے تحت ہیں۔ ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا اور ان کے کھوٹے اور کھرے میں امتیاز فرماتا ہے۔ وہ کسی کو مال ودولت اور عزوجاہ سے نوازتا ہے تو اس کے شکر کا امتحان کرتا ہے اور کسی کو فقرومسکنت میں مبتلا کرتا ہے تو اس کے صبر کا امتحان کرتا ہے:

وَنَبْلُوْکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْْرِ فِتْنَۃً، وَاِلَیْْنَا تُرْجَعُوْنَ.(الانبیاء ۲۱ :۳۵)

''اور ہم تمھیں دکھ سکھ سے آزما رہے ہیں، پرکھنے کے لیے اور تم ہماری ہی طرف لوٹائے جاؤ گے۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر میں ایک جگہ لکھا ہے:

''...وہ جن کو مال وجاہ دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ وہ دیکھے کہ وہ اللہ کی بخشی ہوئی نعمت پا کر اس کے شکرگزار، متواضع اور فرماں بردار بندے بنتے ہیں یا مغرورومتکبر ہو کر اکڑنے والے، اترانے والے، غریبوں کو دھتکارنے والے اور خدائی نعمتوں کے اجارہ دار بن کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اسی طرح جن کو غربت دیتا ہے تو یہ دیکھنے کے لیے دیتا ہے کہ وہ اپنی غربت پر صابر، حاصل نعمتوں اور اپنی نان جویں پر قانع، اپنی تقدیر پر راضی اور اپنے فقر میں خوددار رہتے ہیں یا مایوس ودل شکستہ ہو کر پست ہمت، بے حوصلہ، تقدیر سے شاکی، خدا سے برہم اور ذلیل وخوار ہو کر رہ جاتے ہیں۔'' (تدبر قرآن ۳ /۶۰)

زمین کا یہ سازوسامان بھی جس پر انسان فریفتہ ہے، اسی امتحان کے لیے مہیا کیا گیا ہے۔ یہ سامان عیش نہیں، بلکہ وسیلۂ امتحان ہے جس کے درمیان انسان کو رکھ کر اللہ تعالیٰ یہ دیکھ رہا ہے کہ اس کے ذریعے سے وہ اپنے پروردگار کی معرفت حاصل کرتا اور اس طرح آخرت کی فوزوفلاح سے ہم کنار ہوتا ہے یااس کی دل فریبیوں میں گم ہو کر اپنی راہ کھوٹی کر لیتا ہے:

اِنَّا جَعَلْنَا مَا عَلَی الْاَرْضِ زِیْنَۃً لَّہَا، لِنَبْلُوَہُمْ اَیُّہُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً.(الکہف۱۸ :۷)

''زمین پر جو کچھ بھی ہے، اسے ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِنھیں آزمائیں کہ اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔''

استاذ امام لکھتے ہیں:

''...یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ اس میں ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کون اپنی عقل وتمیز سے کام لے کر آخرت کا طالب بنتا ہے اور کون اپنی خواہشوں کے پیچھے لگ کر اسی دنیا کا پرستار بن کر رہ جاتا ہے۔ اس امتحان کے تقاضے سے ہم نے اس دنیا کے چہرے پر حسن وزیبائی کا ایک پرفریب غازہ مل دیا ہے۔ اس کے مال واولاد، اس کے کھیتوں کھلیانوں، اس کے باغوں او رچمنوں، اس کی کاروں اور کوٹھیوں، اس کے محلوں اور ایوانوں، اس کی صدارتوں اور وزارتوں میں بڑی کشش اور دل فریبی ہے۔ اس کی لذتیں نقد اور عاجل اور اس کی تلخیاں پس پردہ ہیں۔ اس کے مقابل میں آخرت کی تمام کامرانیاں نسیہ ہیں اور اس کے طالبوں کو اس کی خاطر بے شمار جان کاہ مصیبتیں نقد نقد اسی دنیا میں جھیلنی پڑتی ہیں۔ یہ امتحان ایک سخت امتحان ہے۔ اس میں پورا اترنا ہر بوالہوس کا کام نہیں ہے۔ اس میں پورے وہی اتریں گے جن کی بصیرت اتنی گہری ہو کہ خواہ یہ دنیا ان کے سامنے کتنی ہی عشوہ گری کرے، لیکن وہ اس عجوزۂ ہزار داماد کو اس کے ہر بھیس میں تاڑ جائیں اور کبھی اس کے عشق میں پھنس کر آخرت کے ابدی انعام کو قربان کرنے پر تیار نہ ہوں۔'' (تدبر قرآن ۴ /۵۵۸)

یہ ابتلا کا عام قانون ہے۔ اس کا ایک خاص پہلو قرآن مجید میں یہ بیان ہوا ہے کہ رسولوں کی بعثت کے نتیجے میں جو دینونت اللہ تعالیٰ کی طرف سے برپا کی جاتی ہے، اس میں ایمان واسلام کا دعویٰ کرنے والوں کو بعض ایسی آزمایشوں سے گزرنا پڑتا ہے جو عام لوگوں کو بالعموم پیش نہیں آتیں۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے:

اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا، وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ، وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ، فَلَیَعْلَمَنَّ اللّٰہُ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا، وَلَیَعْلَمَنَّ الْکٰذِبِیْنَ.(العنکبوت ۲۹ :۲۔۳)

''کیا لوگوں نے گمان کررکھا ہے کہ وہ محض یہ کہہ دینے سے چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم (پیغمبر پر) ایمان لائے، اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے، دراں حالیکہ جو اِن سے پہلے گزرے ہیں، ہم نے اُنھیں بھی (اِسی طرح) آزمایا ہے۔ سو اللہ اُنھیں الگ کرے گا جو سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی الگ کر کے رہے گا۔''

اللہ کے رسولوں کی طرف سے اتمام حجت کے بعد یہ آزمایشیں عذاب سے پہلے تطہیر کے لیے پیش آتی ہیں۔ ان آیتوں میں یہی حقیقت ہے جسے 'فلیعلمن اللّٰہ الذین صدقوا، ولیعلمن الکٰذبین' کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ آخری فیصلے سے پہلے یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہوجائے کہ کون کہاں کھڑا ہے؟ قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر بھی یہ سنت الہٰی اسی تاکید کے ساتھ بیان ہوئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے:

وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ، وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ، قَالُوْٓا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْْہِ رٰجِعُوْنَ.(البقرہ۲ :۱۵۵۔۱۵۶)

''ہم تمھیں لازماً کچھ خوف، کچھ بھوک اور کچھ جان و مال اور کچھ پھلوں کے نقصان سے آزمائیں گے۔ اور (اِس میں) جو لوگ ثابت قدم ہوں گے، (اے پیغمبر)، انھیں (دنیا اور آخرت، دونوں میں کامیابی کی) بشارت دو۔ (وہی) جنھیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں کہ لاریب،ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔''

۲۔ہدایت وضلالت

اس ابتلا میں انسان سے تقاضا کیا گیا ہے کہ گمراہی سے بچے اور اپنے لیے ہدایت کا راستہ اختیار کرے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ یہ ہدایت اس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ پھر شعور کی عمر کو پہنچنے کے بعد زمین وآسمان کی نشانیاں اس کی طرف اسے متوجہ کرتی ہیں۔ انسان اگر اس ہدایت کی قدر کرے، اس سے فائدہ اٹھائے اور خدا کی اس نعمت پر اس کا شکر گزار ہوتو خدا کی سنت ہے کہ وہ اس کی روشنی کو اس کے لیے بڑھاتا، اس کے اندر مزید ہدایت کی طلب پیدا کرتا اور اس کے نتیجے میں انبیا علیہم السلام کی لائی ہوئی ہدایت سے اس کو بہرہ یاب ہونے کی توفیق عطا فرماتا ہے:

نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ، یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَّشَآءُ، وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ، وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ.(النور۲۴ :۳۵)

''روشنی پر روشنی، اللہ جس کی چاہتا ہے، اپنے نور کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔''

وَالَّذِیْنَ اہْتَدَوْا زَادَہُمْ ہُدًی، وَّاٰتٰہُمْ تَقْوٰہُمْ.(محمد۴۷ :۱۷)

''اور جنھوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ نے انھیں اور ہدایت دی اور اُن کے حصے کا تقویٰ بھی انھیں عطا فرمایا ہے۔''

یہ اتمام ہدایت ہے اور قرآن مجید نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ خدا کی مشیت کے بغیر اس کی طلب بھی کسی شخص کے دل میں پیدا نہیں ہوسکتی۔ یہ مشیت اسی قانون سے وابستہ ہے۔ خدا علیم وحکیم ہے۔ وہ یہ نعمت انھی کو دیتا ہے جو اپنی فطرت میں ودیعت اس کی ہدایت کو قبول کرتے ہیں:

اِنَّ ہٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ، فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً، وَمَا تَشَآءُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَشَآءَ اللّٰہُ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا، یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِہٖ، وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا.(الدھر۷۶ :۲۹۔۳۱)

''یہ (قرآن) تو ایک یاددہانی ہے، اس لیے جس کا جی چاہے، اپنے رب کی راہ اختیار کرے۔ اور تم نہیں چاہتے، مگر یہ کہ اللہ چاہے۔ بے شک، اللہ علیم وحکیم ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے (اِسی علم وحکمت کی بنا پر)اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے اور یہ ظالم، ان کے لیے تو اس نے ایک بڑا دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔''

انسان اس فطری ہدایت سے اعراض کا فیصلہ کرلے، اپنی عقل سے کام نہ لے اور جانتے بوجھتے حق سے انحراف کرے تو قرآن کی اصطلاح میں یہ ظلم اور فسق ہے اور خدا کسی ظالم اور فاسق کو کبھی ہدایت نہیں دیتا، بلکہ اسے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے:

وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ، وَیَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَعْقِلُوْنَ.(یونس۱۰ :۱۰۰)

''اور کسی شخص کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر (پیغمبر پر) ایمان لائے۔ (یہ اجازت انھی کو ملتی ہے جو اپنی عقل سے کام لیں) اور جو عقل سے کام نہیں لیتے، اُن پر وہ (گمراہی کی) نجاست ڈال دیتا ہے۔''

اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس طرح کے مجرموں کی ضد، نفسانیت اور ہٹ دھرمی میں اس سے اضافہ ہوجاتا اور وہ صحیح طریقے پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس جرم کی پاداش میں بالآخر اللہ ان کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا، سَوَآءٌ عَلَیْْہِمْ ءَ اَنْذَرْتَہُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْہُمْ، لاَ یُؤْمِنُوْنَ، خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰی سَمْعِہِمْ، وَعَلٰٓی اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ، وَلَہُمْ عَذَابٌ عظِیْمٌ.(البقرہ۲ :۶۔۷)

''جن لوگوں نے (اس کتاب کو) نہ ماننے کا فیصلہ کرلیا ہے، اُن کے لیے برابر ہے، تم انھیں خبردار کرو یا نہ کرو، وہ نہ مانیں گے۔ اُن کے دلوں او رکانوں پر (اب) اللہ نے (اپنے قانون کے مطابق) مہر لگا دی ہے اور اُن کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور قیامت کے دن ایک بڑا عذاب ہے جو اُن کے لیے منتظر ہے۔''

ایک دوسری جگہ فرمایا ہے:

وَاَقْسَمُوْا بِاللّٰہِ جَہْدَ اَیْْمَانِہِمْ لَءِنْ جَآءَ تْہُمْ اٰیَۃٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِہَا، قُلْ: اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰہِ، وَمَا یُشْعِرُکُمْ اَنَّہَآ اِذَا جَآءَ تْ، لاَ یُؤْمِنُوْنَ، وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَہُمْ وَاَبْصَارَہُمْ، کَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِہٖٓ اَوَّلَ مَرَّۃٍ، وَّنَذَرُہُمْ فِیْ طُغْیَانِہِمْ یَعْمَہُوْنَ.(الانعام۶ :۱۰۹۔۱۱۰)

''اور یہ لوگ اللہ کی پکی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی آئی تو وہ اِس پر ضرور ایمان لے آئیں گے۔ کہہ دو کہ نشانیاں تو اللہ ہی کے پاس ہیں اور تم کس طرح سمجھو گے کہ نشانیاں آبھی جائیں تو یہ ایمان نہ لائیں گے اور (اِن کے اس جرم کی پاداش میں) ہم ان کے دلوں اور نگاہوں کو الٹ دیں گے، جس طرح وہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے اور ان کو ہم اِ ن کی سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے:

''...یہ اس سنت اللہ کا بیان ہے جس کے تحت کسی کو ایمان نصیب ہوتا ہے اور کوئی اس سے محروم رہتا ہے... اس کائنات میں بھی اور انسان کے اپنے وجود کے اندر بھی خالق کائنات نے اپنی جو ان گنت نشانیاں پھیلا دی ہیں، جو لوگ ان پر غور کرتے اور اس غوروفکر سے جو بدیہی نتائج ان کے سامنے آتے ہیں، ان کو حرزجاں بناتے ہیں، ان کو ایمان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ یہ تمام نشانیاں دیکھنے کے باوجود اندھے بہرے بنے اور اپنی خودپرستیوں میں مگن رہتے ہیں، قرآن اور پیغمبر کی باربار تذکیر کے بعد بھی اپنی آنکھیں نہیں کھولتے، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کو الٹ دیا کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صحیح فکرونظر کی صلاحیت سے محروم ہوجایا کرتے ہیں۔ پھر بڑی سے بڑی نشانی اور بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان پر اثرانداز نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو لوگ سیدھے دیکھنے کے بجائے الٹے دیکھتے اور سیدھی راہ اختیار کرنے کے بجائے الٹی راہ چلتے ہیں، ان کے دل اور ان کی فکر بھی کج کر دی جاتی ہے۔ پھر وہ احول کی طرح ہر چیز کو بس اپنے مخصوص زاویے ہی سے دیکھتے ہیں۔ اسی سنت اللہ کی طرف 'فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ' ۴۵؂ میں اشارہ فرمایا ہے۔ یہاں اسی معروف سنت اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ کیسے باور کرتے ہو کہ اگر ان کو ان کی طلب کے مطابق کوئی معجزہ دکھا دیا گیا تو یہ مومن بن جائیں گے۔ آخر وہ تمام نشانیاں جو آفاق وانفس میں موجود ہیں، جن کی طرف قرآن نے انگلی اٹھا اٹھا کر اشارہ کیا اور ان کے مضمرات ودلائل واضح کیے، جب ان میں سے کوئی چیز بھی ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کے زاویے کو درست کرنے میں کارگر نہ ہوسکی تو آخر کوئی نئی نشانی کس طرح ان کی کایا کلپ کردے گی؟ جو حجاب آج ہے، وہ کل کس طرح دور ہو جائے گا اور جو اندھا پن آج دیکھنے سے مانع ہے، وہ اس نشانی کے ظہور کے وقت کہاں چلا جائے گا؟ جس طرح آج تک وہ ساری نشانیوں کو جھٹلا رہے ہیں، اسی طرح اس نشانی کو بھی جھٹلا دیں گے اور جو قلب ماہیت ان کے دلوں اور ان کی آنکھوں کی آج دیکھتے ہو، وہ قلب ماہیت اس وقت بھی اپنا عمل کرے گی۔''(تدبرقرآن۳ /۱۴۰)

[باقی]

———————-

۴۵؂ الصف۶۱:۵۔