ایمانیات (11)


(گزشتہ سے پیوستہ)

۳۔ تکلیف ما لا یطاق

انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے جو شریعت انسانوں کو دی گئی ہے، اس میں اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی ایسا حکم کبھی نہیں دیتے جو انسان کے تحمل سے باہر ہو۔ اس کے تمام اعمال میں یہ معیار ہمیشہ سے قائم ہے کہ لوگوں کی طاقت سے زیادہ کوئی بوجھ ان پر نہ ڈالا جائے اور جو حکم بھی دیا جائے، انسان کی فطرت اور اس کی صلاحیتوں کو تول کر دیا جائے۔ چنانچہ بھول چوک، غلط فہمی اور بلا ارادہ کوتاہی پر اس شریعت میں کوئی مواخذہ نہیں ہے اور لوگوں سے اس کا مطالبہ صرف یہ ہے کہ ظاہر و باطن میں وہ پوری صداقت اور ایمان داری کے ساتھ اس کے احکام کی تعمیل کریں۔ 'لا یکلف اللّٰہ نفسًا الا وسعھا'۴۶؂ (اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا) اور اس مضمون کی دوسری آیات اسی سنت کو بیان کرتی ہیں۔ تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ بندے اگر سرکشی اختیار کرلیں تو اس وقت بھی اللہ تعالیٰ ایسی کوئی تکلیف انھیں نہیں دیتے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تادیب و تربیت کے لیے، ۴۷؂ تعذیب کے لیے۴۸؂ یا لوگوں کے برے اعمال کا نتیجہ ان کو دکھانے ۴۹؂ یاخدا کے مقابلے میں ان کا عجز ان پر ظاہر کر دینے کے لیے۵۰؂ اس طرح کی تکلیف یقیناًدی جاتی ہے۔

۴۔ عزل ونصب

ابتلا کا جو قانون اس سے پہلے بیان ہوا ہے، اس کے تحت اللہ تعالیٰ جس طرح افراد کو صبر یا شکر کے امتحان کے لیے منتخب کرتا ہے، اسی طرح قوموں کو بھی منتخب کرتا ہے۔ اس انتخاب کے نتیجے میں جب کوئی قوم ایک مرتبہ سرفرازی حاصل کر لیتی ہے تو اللہ اس کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ علم و اخلاق کے لحاظ سے اپنے آپ کو پستی میں نہیں گرا دیتی۔ یہ خدا کی غیر متبدل سنت ہے اور اپنی اس سنت کے مطابق جب کسی قوم کے لیے بار بار کی تنبیہات کے بعد وہ ذلت ونکبت کافیصلہ کر لیتا ہے تو اس کا یہ فیصلہ کسی کے ٹالے نہیں ٹلتا اور دنیا کی کوئی قوت بھی خدا کے مقابلے میں اس قوم کی کوئی مدد نہیں کر سکتی۔ انسان کی پوری تاریخ قوموں کے عزل و نصب میں اس سنت کے ظہور کی گواہی دیتی ہے:

إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِأَنْفُسِہِمْ، وَإِذَا أَرَادَ اللّٰہُ بِقَوْمٍ سُوْٓءً ا، فَلاَ مَرَدَّ لَہٗ، وَمَا لَہُم مِّنْ دُونِہٖ مِنْ وَّالٍ (الرعد۱۳ :۱۱)

''اللہ کسی قوم کے ساتھ اپنا معاملہ اس وقت تک نہیں بدلتا، جب تک وہ خود اپنے اوصاف میں تبدیلی نہ کرلے اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلیتا ہے تو وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی اور اللہ کے مقابلے میں اس طرح کے لوگوں کا کوئی مددگاربھی نہیں ہوتا۔''

۵۔ نصرت الٰہی

اللہ جب اپنا کوئی مشن کسی فرد یا جماعت کے سپرد کرتا اور اس کو اسے پورا کرنے کا حکم دیتا ہے تو اس کی مدد بھی فرماتا ہے۔ یہ مشن دعوت کا بھی ہو سکتا ہے اور جہاد و قتال کا بھی۔ 'کان حقا علینا نصر المومنین'۵۱؂ (ایمان والوں کی نصرت ہم پر لازم تھی)اور اس مضمون کی دوسری آیتوں میں یہ بات کئی جگہ بیان ہوئی ہے کہ اس طرح کے کسی مشن کو پورا کرنے میں ایمان والوں کی مدد اللہ نے اپنے اوپر لازم کر رکھی ہے:

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا، إِن تَنصُرُوا اللّٰہَ یَنصُرْکُمْ، وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ.(محمد۴۷ :۷)

''ایمان والو، تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمھاری مدد کرے گا اور تمھارے قدم مضبوط جما دے گا۔''

یہ مدد الل ٹپ نہیں ہوتی۔ اس کا ایک ضابطہ ہے اور یہ اسی کے مطابق ظہور میں آتی ہے۔ اس کی تفصیلات ہم آگے اسی کتاب میں ''قانون جہاد'' کے زیر عنوان بیان کریں گے۔ اتنی بات ، البتہ یہاں واضح رہنی چاہیے کہ اس کے لیے سب سے ضروری چیز صبر اور تقویٰ ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ احد کے موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کا حوصلہ بحال کرنے کے لیے انھیں امید دلائی کہ اللہ تین ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کرے گا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید کی اور اپنی عنایت سے اس پر دو ہزار فرشتوں کا اضافہ بھی کر دیا، لیکن اس کے ساتھ صراحت کر دی کہ یہ وعدہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ مسلمان ثابت قدم رہیں اور خدا اور رسول کی نافرمانی سے بچیں۔

بَلٰٓی، إِنْ تَصْبِرُوْا وَتَتَّقُوْا، وَیَأْتُوْکُمْ مِّنْ فَوْرِہِمْ ہٰذَا، یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُم بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلآءِکَۃِ مُسَوِّمِیْنَ.(آل عمران۳ :۱۲۵)

''ہاں کیوں نہیں، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے رہو اور تمھارے دشمن اسی وقت تم پر آ پڑیں تو تمھارا پروردگار پانچ ہزار فرشتوں سے تمھاری مدد کرے گا جو خاص نشان لگائے ہوئے ہوں گے۔''

۶۔ توبہ و استغفار

انسان اگر کوئی گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے لیے توبہ و استغفار کی گنجایش ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ تمھارے پروردگار نے اپنے اوپر رحمت لازم کر رکھی ہے، اس لیے گناہ کے بعد توبہ و اصلاح کر لینے والوں کو وہ کبھی سزا نہیں دیتا۔۵۲؂ اس معاملے میں قاعدہ یہ ہے کہ وہ اگر گناہ کے فوراً بعد توبہ کر لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں لازماً معاف کر دیتا ہے، لیکن ان لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں کرتا جو زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے اور جب دیکھتے ہیں کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی ہے تو توبہ کا وظیفہ پڑھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دینے والوں کی توبہ بھی قبول نہیں ہوتی، اگر وہ موت کے وقت تک اس انکار پر قائم رہے ہوں۔ توبہ و استغفار سے متعلق یہ سنت الٰہی قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے:

إِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَہَالَۃٍ، ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ، فَأُولٰٓءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْْہِمْ، وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً.وَلَیْْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰی إِذَا حَضَرَ أَحَدَہُمُ الْمَوْتُ، قَالَ: إِنِّیْ تُبْتُ اآءٰنَ، وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ، وَہُمْ کُفَّارٌ، أُولٰٓءِکَ أَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَاباً أَلِیْماً.(النساء ۴ :۱۷۔۱۸)

''اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھی لوگوں کے لیے ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اُن لوگوں کے لیے البتہ، کوئی توبہ نہیں ہے جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے، اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ اسی طرح اُن کے لیے بھی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہیں۔ یہی تو ہیں جن کے لیے ہم نے دردناک سزا تیار کر رکھی ہے۔''

۷۔ جزا و سزا

موت کے بعد جزا و سزا تو ایک اٹل حقیقت ہے، لیکن قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض اوقات یہ اس دنیا میں بھی دی جاتی ہے۔ خدا کی عدالت کا جو ظہور قیامت کے دن اس کے منتہاے کمال پر ہونے والا ہے، یہ اسی کی تمہید ہے۔ اس کی جو صورتیں اللہ تعالیٰ نے بالکل متعین طریقے پر بیان فرمائی ہیں ، وہ یہ ہیں:

اولاً، جو لوگ دنیا کے طالب ہوتے ہیں، اسی کے لیے جیتے، اسی کے لیے مرتے اور آخرت سے بالکل بے پروا ہو کر زندگی بسر کرتے ہیں، ان کا حساب اللہ تعالیٰ جس کو جتنا چاہتے ہیں، دے کر اسی دنیا میں بے باق کر دیتے ہیں اور ان کی تمام کارگزاریوں کا پھل انھیں یہیں مل جاتا ہے:

مَن کَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا، وَزِیْنَتَہَا نُوَفِّ إِلَیْْہِمْ أَعْمَالَہُمْ فِیْہَا، وَہُمْ فِیْہَا لاَ یُبْخَسُوْنَ.(ہود ۱۱ :۱۵)

''جو دنیا کی زندگی اور اس کے سروسامان ہی کے طالب ہوتے ہیں، اُن کے اعمال کا بدلہ ہم یہیں چکا دیتے ہیں اور اس میں ان کے لیے کوئی کمی نہیں کی جاتی۔''

ثانیاً، رسولوں کے ذریعے سے اتمام حجت کے بعد ان کے منکرین پر اسی دنیا میں عذاب آجاتا ہے اور ماننے والوں کے لیے اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے ہیں:

وَلِکُلِّ أُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ، فَإِذَا جَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ.(یونس۱۰ :۴۷)

''ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب کسی قوم کے پاس اُس کا رسول آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اُس کے لوگوں پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔''

یہ خدا کی غیر مبتدل سنت ہے۔ قوم نوح، قوم لوط، قوم شعیب، عادوثمود اور اس طرح کی دوسری قوموں کے جو واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ اسی دینونت کی سرگزشت ہیں۔ انسانی تاریخ میں یہ دینونت آخری مرتبہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کے لیے برپا ہوئی اور اس کے بعد ہمیشہ کے لیے ختم کر دی گئی ہے:

وَمَآ أَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّبِیٍّ إِلاّ�آأَخَذْنَا أَہْلَہَا بِالْبَأْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ، لَعَلَّہُمْ یَضَّرَّعُوْنَ.ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَانَ السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا، وَّقَالُوْا: قَدْ مَسَّ آبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ، فَأَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً، وَہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ. وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُرآی اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْْہِم بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَالأَرْضِ ، وَلٰکِنْ کَذَّبُوْا ، فَأَخَذْنٰہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ.(الاعراف۷ :۹۴۔۹۶)

''اور ہم نے جس بستی میں بھی کسی نبی کو رسول بنا کر بھیجا ہے، اس کے رہنے والوں کو جان و مال کی مصیبتوں سے ضرور آزمایا ہے تاکہ وہ عاجزی اختیار کریں۔ پھر ہم نے دکھ کو سکھ سے بدل دیا، یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ ہمارے باپ دادوں پر بھی اچھے اور برے دن آتے رہے ہیں۔ آخر کار ہم نے انھیں اچانک پکڑ لیا اور انھیں کچھ خبر بھی نہیں تھی۔ اور اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم ان پر زمین و آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انھوں نے جھٹلا دیا تو ان کے کرتوتوں کی پاداش میں ہم نے انھیں پکڑ لیا۔''

ثالثاً،سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ذریت کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ اگر حق پر قائم ہو تو اسے قوموں کی امامت حاصل ہو گی اور اس سے انحراف کرے تو اس منصب سے معزول کرکے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دی جائے گی۔ 'اَوْفُوْا بِعَھْدِیْٓ اُوْفِ بِعَھْدِکُمْ'۵۳؂ (تم میرا وعدہ پورا کرو، میں تمھارے ساتھ اپنا وعدہ پورا کروں گا) کے الفاظ میں قرآن نے بنی اسرائیل کے ساتھ جس عہد کا حوالہ دیا ہے، وہ یہی ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں 'اِنْ عُدْتُّمْ عُدْنَا'۵۴؂ (تم وہی کرو گے تو ہم بھی وہی کریں گے) کی تہدید میں بھی اس کی طرف اشارہ ہے۔ بائیبل کے صحائف تمام تر اسی کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔

وَإِذِ ابْتَلآی إِبْرٰہِیْمَ رَبُّہٗ بِکَلِمٰتٍ فَأَتَمَّہُنَّ، قَالَ: إِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَاماً، قَالَ: وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ؟ قَالَ: لاَ یَنَالُ عَہْدِیْ الظّٰلِمِیْنَ.(البقرہ۲ :۱۲۴)

''اور یاد کرو ، جب ابراہیم کو اُس کے پروردگار نے چند باتوں میں آزمایا تو اُس نے وہ پوری کر دیں،فرمایا:میں نے فیصلہ کیا ہے کہ تمھیں لوگوں کا امام بناؤں گا۔ عرض کیا اور میری اولاد میں سے؟ فرمایا: میرا یہ عہد اُن میں سے ظالموں کوشامل نہیں ہے۔''

اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے جس کی بنا پر خاص بنی اسرائیل کے لیے فرمایا ہے:

وَلَوْ أَنَّہُمْ أَقَامُوْا التَّوْرَاۃَ وَالإِنجِیْلَ ، وَمَآ أُنْزِلَ إِلَیْہِمْ مِّنْ رَّبِّہِمْ، لَاَکَلُوْا مِنْ فَوْقِہِمْ، وَمِنْ تَحْتِ أَرْجُلِہِمْ، مِنْہُمْ أُمَّۃٌ مُّقْتَصِدَۃٌ، وَکَثِیْرٌ مِّنْہُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ.(المائدہ۵ :۶۶)

''اور اگر وہ تورات و انجیل کو اور اُس چیز کو قائم کرتے جو اُن کے پروردگار کی طرف سے اُن پر نازل کی گئی ہے تو اپنے اوپر سے اور اپنے قدموں کے نیچے سے (اُس کا) رزق پاتے۔ (اس میں شبہ نہیں کہ) ان میں ایک راست رو جماعت بھی ہے ، لیکن زیادہ ایسے ہیں جن کے عمل بہت برے ہیں۔''

استثنا میں ہے:

''اور اگر تو خداوند اپنے خدا کی بات کو جان فشانی سے مان کر اس کے سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں، احتیاط سے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا دنیا کی سب قوموں سے زیادہ تجھ کو سرفراز کرے گا۔ اور اگر تو خداونداپنے خدا کی بات سنے تو یہ سب برکتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو ملیں گی۔ شہر میں بھی تو مبارک ہو گا اور کھیت میں بھی مبارک ہو گا ... خداوند تیرے دشمنوں کو جو تجھ پر حملہ کریں، تیرے روبرو شکست دلائے گا۔ وہ تیرے مقابلے کو تو ایک ہی راستے سے آئیں گے، پر سات سات راستوں سے ہو کر تیرے آگے سے بھاگیں گے ... اور دنیا کی سب قومیں یہ دیکھ کر کہ تو خداوند کے نام سے کہلاتا ہے، تجھ سے ڈر جائیں گی...اور خداوند تجھ کو دم نہیں، بلکہ سر ٹھیرائے گا اور تو پست نہیں، بلکہ سرفراز ہی رہے گا ...لیکن اگر تو ایسا نہ کرے کہ خداوند اپنے خدا کی بات سن کر اس کے سب احکام اور آئین پر جو آج کے دن میں تجھ کو دیتا ہوں، احتیاط سے عمل کرے تو یہ سب لعنتیں تجھ پر نازل ہوں گی اور تجھ کو لگیں گی۔ شہر میں بھی تو لعنتی ہو گا اور کھیت میں بھی لعنتی ہو گا ...خداوند تجھ کو تیرے دشمنوں کے آگے شکست دلائے گا۔ تو ان کے مقابلے کے لیے تو ایک ہی راستے سے جائے گا اوران کے سامنے سے سات سات راستوں سے ہو کر بھاگے گا اور دنیا کی تمام سلطنتوں میں تو مارا مارا پھرے گا۔''(۲۸ :۱۔۲۵)

———————-

۴۶؂ البقرہ۲:۲۸۶۔

۴۷؂ بقرہ کی اسی آیت میں جس کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، آگے یہ الفاظ بھی آئے ہیں کہ پروردگار، تو ہم پر کوئی ایسا بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلوں پر ڈالا تھا۔

۴۸؂ یہ قرآن کا عام مضمون ہے اور جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔

۴۹؂ القلم ۶۸:۴۲ ۔ النساء ۴:۱۰۰۔

۵۰؂ البقرہ ۲:۲۴۔

۵۱؂ الروم ۳۰:۴۷۔

۵۲؂ الانعام ۶:۵۴۔

۵۳؂ البقرہ ۲:۴۰۔

۵۴؂ بنی اسرائیل ۱۷:۸۔