ایمانیات (7)


(گزشتہ سے پیوستہ)صفات

اللہ تعالیٰ کی صفات، البتہ کسی نہ کسی درجے میں انسان کی گرفت میں آتی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صفات سے متعلق کچھ چیزیں، خواہ وہ کتنی ہی حقیر ہوں، انسان کے پاس بھی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم وخبر، قدرت، ربوبیت اور رحمت وحکمت سے کچھ حصہ ہمیں بھی عطا فرمایا ہے۔ اس پر قیاس کر کے خدا کی ان صفات کا کچھ تصور ہم قائم کر سکتے ہیں۔ یہ بات اس طرح بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ انسان کا وجود محض انفعال ہے۔ یہ جس فعل کا اثر ہے، وہ ارادہ، قول، مشیت، کلمہ اور امر ہے جو فاعل حقیقی سے صادر ہوتاہے۔۳۸؂ شے کی حقیقت یہی ارادہ ہے۔ اسے شے کا نام اسی سے ملا ہے۔ اس میں جو صفات ظاہر ہوتی ہیں، وہ درحقیقت اسی کلمے کی صفات ہیں۔ انسان کے وجود کی حقیقت بھی یہی ہے۔ پھر وہ اپنے وجود کا شعور رکھتا ہے، اس لیے اپنے فاعل کی صفات بھی کسی حد تک سمجھ لیتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی عقل کو بیدار رکھے اور وحی الہٰی کی رہنمائی میں انفس وآفاق کے اندر خدا کی آیات پر غور کرتا رہے۔ قرآن نے اپنے مخاطبین کو اسی بنا پر باربار تعقل، تفکر اور تذکر کی دعوت دی ہے۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے ان تعبیرات کی وضاحت فرمائی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''تعقل کا منشا یہ ہوتا ہے کہ آدمی زندگی کے معاملات میں محض جذبات، شہوات اور خواہشات کو اپنا رہنما نہ بنا لے اور نہ اوہام وخیالات کے ہاتھ میں اپنی باگ دے بیٹھے، بلکہ اس کے اندر خدانے جو عقل رکھی ہے، اس کو رہنما بنائے اور اس کی رہنمائی پر اعتماد کرے۔

تفکر کا مطلب یہ ہے کہ نظام عالم کے قوانین واحکام اور فطرت انسانی کے مطالبات اور تقاضوں پر حکیمانہ طور پر غور کیا جائے اور ا ن سے زندگی کے لیے جو اصول پیدا ہوتے ہیں، ان کو پوری سچائی اور ایمان داری کے ساتھ تسلیم کیا جائے۔

تذکر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جن بدیہیات پر یقین رکھتا ہے، ان بدیہیات کو جذبات وشہوات کی ہلچل کے اندر بھی یاد رکھے، اور پھر ان سے بالکل لازمی طور پر جو نتائج نکلتے ہیں، ان کو بھی بغیر کسی ہچکچاہٹ کے تسلیم کرے۔''(تزکیۂ نفس۹۲)

اس طریقے سے غور کیا جائے تو انفس وآفاق کی ہر چیز گواہی دیتی ہے کہ خدا محض علت العلل اور واجب الوجود نہیں ہے کہ جس سے سلسلۂ علت ومعلول شروع ہوا اور جو ہر حال میں تھا اور ہے اور رہے گا، بلکہ ایک ایسی صاحب ارادہ وادراک ہستی ہے جو تمام اعلیٰ صفات کی حامل ہے۔

ہم یہاں اس کی وضاحت کریں گے:

۱۔ مادہ ارادے سے خالی ہے۔ وہ علم وعقل سے بھی خالی ہے۔ نفس کا علم وارادہ اور دوسرے قویٰ بھی اس کے ضعف ونسیان اور قلت عزیمت کی وجہ سے اس کے ذاتی نہیں ہوسکتے۔ لیکن دونوں سے ایسے غیر معمولی فوائد اور عجیب و غریب تغیرات پیدا ہوتے ہیں جو کوئی اندھی اور بہری طاقت ہرگز پیدا نہیں کرسکتی۔ لہٰذا دونوں مخلوق ہیں اور ہر مخلوق اپنے لیے ایک خالق کا تقاضا کرتی ہے:

اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْْرِ شَیْْءٍٍ، اَمْ ہُمُ الْخٰلِقُوْنَ؟ اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ؟ بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَ.(الطور۵۲: ۳۵۔۳۶)

'' یہ بغیر کسی خالق کے پیدا ہوگئے ہیں یا آپ ہی اپنے خالق ہیں؟ کیا زمین وآسمان کو انھی نے پیدا کیا ہے؟ (نہیں)، بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ)یہ یقین نہیں رکھتے۔''

ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ، خَالِقُ کُلِّ شَیْْءٍٍ، لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ، فَاَنّٰی تُؤْفَکُوْنَ.(المومن۴۰ :۶۲)

''وہی اللہ تمھارا پروردگار ہے، ہر چیز کا خالق، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، پھر کہاں اوندھے ہو جاتے ہو؟''

۲۔ زمین و آسمان کا یہ خالق کسی چیز کا محتاج نہیں ہوسکتا، اس لیے خلق کی ایک ہی علت ہے اور وہ اس کا ارادۂ رحمت ہے۔ اس نے جب چاہا کہ انعام کرے تو اس نے دنیا بنا دی اور اس میں اپنی مخلوق کو وہ نعمتیں دیں جو شمار نہیں ہوسکتیں۔ چنانچہ اس کا نام جس طرح اللہ ہے، اسی طرح رحمن بھی ہے:

اَلرَّحْمٰنُ، عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ، خَلَقَ الْاِنْسَانَ، عَلَّمَہُ الْبَیَانَ، اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، وَّالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ یَسْجُدٰنِ، وَالسَّمَآءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ، اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ، وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ، وَالْاَرْضَ وَضَعَہَا لِلْاَنَامِ، فِیْہَا فَاکِہَۃٌ وَّالنَّخْلُ ذَاتُ الْاَکْمَامِ، وَالْحَبُّ ذُوالْعَصْفِ وَالرَّیْْحَانُ، فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ.(الرحمن۵۵: ۱۔۱۳)

''رحمن نے قرآن کی تعلیم دی۔ (اِس لیے کہ) اُس نے انسان کو پیدا کیا۔ اسے نطق وبیان کی صلاحیت دی۔ (تم ذرا نظر اٹھا کر دیکھو،) یہ سورج اور چاند ایک حساب کے ساتھ گردش میں ہیں اور تارے اور درخت، سب سجدہ ریز ہیں۔ اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان قائم کی کہ تم بھی میزان میں خلل نہ ڈالو۔ اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔ اور اپنی خلقت کے لیے اُس نے یہ زمین بنائی ہے۔ اِس میں میوے ہیں اور کھجور کے درخت ہیں، جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں، اور طرح طرح کے غلے ہیں جن پر بھوسی کے خول ہیں اور خوشبو والے پھول ہیں پھر اے جن وانس، تم اپنے رب کی کن کن شانوں کو جھٹلاؤ گے!''

۳۔ علم محض قوت ہی کا علم ہے، لہٰذا ہر علم قوت کی گواہی ہے۔ یہ قوت اگر کسی صاحب ارادہ وادراک ہستی کی طرف سے نہ ہو تو اسے جبر محض ہونا چاہیے، مگر عالم کا نظم وترتیب اور اس کی اتھاہ معنویت اس کی تردید کرتی ہے۔ ان میں سے کوئی چیز بھی علم وعقل کے تصرف کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا خالق محض قدیر ہی نہیں، وہ علیم وحکیم بھی ہے:

قُلْ: اَءِنَّکُمْ لَتَکْفُرُوْنَ بِالَّذِیْ خَلَقَ الْاَرْضَ فِیْ یَوْمَیْْنِ، وَتَجْعَلُوْنَ لَہٗٓ اَنْدَادًا، ذٰلِکَ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ، وَجَعَلَ فِیْہَا رَوَاسِیَ مِنْ فَوْقِہَا وَبٰرَکَ فِیْہَا، وَقَدَّرَ فِیْہَآ اَقْوَاتَہَا فِیْٓ اَرْبَعَۃِ اَیَّامٍ سَوَآءً لِّلسَّآءِلِیْنَ،ثُمَّ اسْتَوٰٓی اِلَی السَّمَآءِ، وَہِیَ دُخَانٌ، فَقَالَ لَہَا وَلِلْاَرْضِ: اءْتِیَا طَوْعًا اَوْ کَرْہًا، قَالَتَآ: اَتَیْْنَا طَآءِعِیْنَ، فَقَضٰہُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْْنِ، وَاَوْحٰی فِیْ کُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَہَا، وَزَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ، وَحِفْظًا، ذٰلِکَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ.(حمٰ السجدہ۴۱: ۹۔۱۲)

''ان سے پوچھو، کیا تم اُس ہستی کے منکر ہورہے ہو اور اُس کے شریک ٹھیراتے ہو جس نے دو دن میں زمین بنا دی؟ وہی تو عالم کا پروردگار ہے۔ اور (زمین کو وجود میں لانے کے بعد) اُس کے اوپر سے پہاڑ جما دیے اور اُس میں برکتیں رکھ دیں اور تمام ضرورت مندوں کے لیے اُن کی ضرورت کے مطابق ٹھیک اندازے سے اُس میں خوراک کے ذخیرے رکھ دیے، سب ملا کر چار دنوں میں۔ پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور وہ اُس وقت دھوئیں کی صورت میں تھا۔ پھر اُس سے اور زمین سے کہا: دونوں حکم کی تعمیل کرو، خواہ تم چاہو یا نہ چاہو۔ دونوں نے کہا: ہم خوشی سے حاضر ہیں۔ تب اُس نے دو دن کے اندر سات آسمان بنا دیے اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کر دیا اور آسمان زیریں کو چراغوں سے آراستہ کیا اور پوری طرح محفوظ بنا دیا۔ یہ سب خداے عزیزوعلیم کا منصوبہ ہے۔''

۴۔ انفس و آفاق کا قیام و انصرام ایک حقیقت ہے۔ یہ کسی زندہ اور قائم ہستی کے بغیر ہرگز متصور نہیں ہو سکتا۔ اس لیے خالق زندہ اور قائم ، بلکہ سب کو قائم رکھنے والا بھی ہے:

اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ، لاَ تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّلاَ نَوْمٌ، لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ، مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗٓ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ، یَعْلَمُ مَا بَیْْنَ اَیْْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ، وَلاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْْءٍٍ مِّنْ عِلْمِہٖٓ اِلاَّ بِمَا شَآءَ، وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ، وَلاَ یَءُوْدُہٗ حِفْظُہُمَا، وَہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ.(البقرہ۲: ۲۵۵)

''اللہ جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، زندہ اور سب کو قائم رکھنے والا۔ نہ اُس کو نیند آتی ہے نہ اونگھ لاحق ہوتی ہے۔ زمین وآسمان میں جو کچھ ہے، سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اُس کی اجازت کے بغیر اس کے حضور میں کسی کی سفارش کرے۔ لوگوں کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز سے واقف ہے اور اُس کی مرضی کے بغیر وہ اُس کے علم میں سے کسی چیز کو بھی اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے۔ اُس کی بادشاہی زمین وآسمان پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی حفاظت اس پر ذرا بھی گراں نہیں ہوتی، اور وہ بلند ہے، بڑی عظمت والا ہے۔''

۵۔ زمان کیا ہے؟ یہ اسی حی وقیوم خالق کی صفت بقا سے منتزع ایک تصور ہے۔ لہٰذا وہ اول ہے، اس سے پہلے کچھ نہیں ہے؛ وہ آخر ہے، اس کے بعد بھی کچھ نہیں ہے؛ وہ ظاہر ہے، اس سے اوپر کچھ نہیں ہے؛ وہ باطن ہے، اس سے نیچے بھی کچھ نہیں ہے۔ وہ زمان ومکان سے محدود نہیں ہوسکتا۔ اس کا علم، البتہ زمان ومکان، دونوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے:

ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ، وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ، وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْءٍٍ عَلِیْمٌ.(الحدید۵۷ :۳)

''وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، وہی ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔''

۶۔ صفات کے بغیر ذات کا تصور محض مفروضہ ہے۔ اس سے متعلق جو نزاعات بالعموم ہوئے ہیں، وہ سب لفظی ہیں۔ چنانچہ تمام صفات حسنہ: خلق، عدل، رحمت، رأفت اور علم وحکمت، اللہ تعالیٰ کے ذاتی محاسن کی حیثیت سے اس کے لیے ثابت اور اپنے آثار سے مقدم ہیں، اس لیے کہ شے کی علت ہمیشہ اس سے مقدم ہوتی ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اس دنیا کے فنا ہوجانے کے بعد بھی خدا کاجلال واکرام پوری شان کے ساتھ باقی ہوگا:

کُلُّ مَنْ عَلَیْْہَا فَانٍ، وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُوالْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ.(الرحمن۵۵ :۲۶۔۲۷)

''زمین پر جو بھی ہے، سب فانی ہے اور تیرے پروردگار کی جلیل وکریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے۔''

۷۔ صفات الہٰی کے سمجھنے میں ان کی جہت حسن، البتہ ملحوظ رہنی چاہیے، اس لیے کہ قدرت اسی وقت مدح کی مستحق ہے، جب وہ رحمت، کرم اور عدالت کے ساتھ ہو۔ غصے، انتقام اور قہروغضب کا ظہور بھی ظلم وعدوان کے خلاف ہو تو قابل تحسین ہے۔ رحمت، مغفرت اور جودوکرم بھی اپنے محل ہی میں تعریف کے مستحق ہوتے ہیں۔ قرآن مجید میں غنی کے ساتھ حمید، علیم کے ساتھ حکیم اور عزیز کے ساتھ غفور کی صفات اسی جہت حسن کی طرف رہنمائی کے لیے آئی ہیں:

وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی، فَادْعُوْہُ بِہَا، وَذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْٓ اَسْمَآءِہٖ، سَیُجْزَوْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ.(الاعراف۷ :۱۸۰)

''اور اللہ کے لیے تو صرف اچھے نام ہیں، اُس کو انھی سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑو جو اُس کی صفات کے معاملے میں کج روی اختیار کرتے ہیں۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں، عنقریب اُس کا بدلہ پالیں گے۔''

۸۔اللہ تعالیٰ کا جو تصور بھی قائم کیا جائے گا، وہ جلال وجمال اور کمال سے خالی نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ 'الواحد'، 'الاحد'، 'الصمد'، مثال کے طور پر صفات کمال ہیں۔ 'القدوس'، 'السلام'، 'المومن' صفات جمال اور 'الملک'، 'العزیز'، 'الجبار' صفات جلال ہیں۔انسان کے دل میں صفات جلال سے خوف، تعظیم اور مدح کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور صفات جمال سے حمد، رجا اور محبت کے۔ پھر صفات جلال حواس کے لیے زیادہ ظاہر اور صفات جمال عقل ودل کے زیادہ قریب ہوتی ہیں۔ پروردگار کو سامنے رکھا جائے تو صفات جمال کا غلبہ محسوس ہوتا ہے اور نفس انسانی نگاہوں کے سامنے ہو تو جلال کا پہلو نمایاں ہو جاتا ہے۔ انسان خدا سے ڈر کر اسی بنا پر خدا ہی کی طرف لپکتا اور اس کی صفات جمال کے دامن میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں 'اللہم اعوذ بک منک' ۳۹؂ کے الفاظ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ اس بندے کی دعا ہے جو اپنے پروردگار کی محبت سے سرشار ہے، اس کے استغنا اور کبریائی سے لرزاں ہے، اس سے ملاقات کا مشتاق ہے اور اس کے فیصلوں کے سامنے پورے ادب کے ساتھ سرنگوں ہے۔قرآن مجید جب یہ کہتا ہے کہ تمام اچھے نام اسی کے ہیں تو اس کے معنی اس کے نزدیک یہی ہوتے ہیں کہ ہر وہ نام جو خدا کے جلال وجمال اور اس کے کما ل کو بیان کرتا ہے، وہ اچھا ہے اور اس سے خدا کو پکارا جا سکتا ہے:

قُلِ: ادْعُوا اللّٰہَ اَوِدْعُوا الرَّحْمٰنَ، اَیًّا مَّا تَدْعُوْا، فَلَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی.(بنی اسرائیل۱۷ :۱۱۰)

''کہہ دو کہ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمن کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔''

امام حمیدالدین فراہی نے ان مباحث کی تفصیل کے بعد اپنی کتاب ''القائد الی عیون العقائد'' میں لکھا ہے:

''...پروردگار کا تصور تمھارے دل میں ایک ایسی ہستی کا تصور ہونا چاہیے جو کریم ہے، رحیم ہے، عفوودرگزر کرنے والا ہے، بخشنے والا ہے، کمال حسن ورأفت کے ساتھ ہنستا، مسکراتا اور نرمی برتنے والا ہے، سب کریموں سے بڑھ کر کریم اور سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے، وہ تمھارا مددگار ہے اور تمھارے دشمنوں سے انتقام لیتا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اس سے تسکین حاصل کرو، اس کا قرب تلاش کرو اور اس سے ملاقات کے مشتاق رہو۔ پھر تم جانتے ہو کہ وہ قدوس بھی ہے اور سراسر حق بھی، لہٰذا عقلاً محال ہے کہ وہ اچھے اور برے میں فرق نہ کرے اور کوئی خبیث، غلیظ، ظالم، معاند، بھلائی سے روکنے اور حدود سے تجاوز کرنے والا، شک میں پڑا ہوا، اور حق و خیر کی مخالفت پر اصرار کرنے والا اس کا قرب حاصل کر لے۔ ہاں، وہ اپنے اس بندے پر رحم فرماتا اور اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے جو اس سے رجوع کرتا اور برائی کو چھوڑ کر بھلائی کا رویہ اختیار کر لیتا ہے۔ پھر اس کے کمال عظمت و کبریائی کو ہمیشہ یاد رکھتا ہے تاکہ اس کا ادب ملحوظ رکھے، اس کے حضور میں جھکا رہے اور جان رکھے کہ وہ عالم سے غنی ہے، اسے مخلوقات میں سے کسی کی احتیاج نہیں، وہ تدبیر امور میں نہایت عالی مرتبہ ہے۔ پھر اس کے باوجود کہ اس کا ہر فیصلہ سراسر حق اور سراسر رحمت ہے، اس کی مخلوقات اس میں سے اتنا ہی جانتی ہیں، جتنا ان کے لیے موزوں ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ اس کے فیصلے تسلیم کیے جائیں اور اس کے بندے اس کے ہر امرونہی پر راضی رہیں۔'' (۴۳)

[باقی]

———————-

۳۸؂ سورۂ یٰس(۳۶) کی یہ آیت اسی حقیقت کا بیان ہے: 'اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَآ اَرَادَ شَیْءًا اَنْ یَّقُوْلَ لَہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ.' (۸۲) ''اس کا معاملہ بس یہ ہے کہ وہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہو جاتی ہے۔''

۳۹؂ مسلم، رقم ۴۸۶۔ ''اے اللہ، میں تجھ سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔''