ایمانیات (8)


(گزشتہ سے پیوستہ)

۹۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اس کی صفات کمال سے نمایاں ہوتی ہے۔انسان جب ان کا صحیح تصور قائم کر لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ایسے خدا پر ایمان لاتا ہے جو یگانہ، یکتا اور بے ہمتا ہے؛ سب کے لیے پناہ کی چٹان ہے؛ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا تنہا مالک ہے؛ اس کی بادشاہی میں کوئی دوسرا شریک نہیں؛ اس کے کارخانۂ قدرت میں کوئی دوسرا ساجھی نہیں؛ دنیا کی کوئی چیز اس کی نگاہوں سے پوشیدہ نہیں؛ عالم کا کوئی معاملہ اس کے حکم سے باہر نہیں؛ ہر چیز اس کی محتاج ہے، مگر اس کو کسی کی احتیاج نہیں؛ جمادات، نباتات، حیوانات، سب اس کے حضور میں سجدہ ریز اور اس کی تسبیح وتہلیل میں مشغول ہیں؛ اس کی قدرت بے انتہا، اس کی وسعت غیر محدود اور اس کی مشیت کائنات کے ہر ذرے میں کارفرما ہے؛ وہ جب چاہے اور جس چیز کو چاہے فنا کر ے اور جب چاہے اس کو پھر پیدا کر دے؛ عزت وذلت، سب اسی کے ہاتھ میں ہے؛ سب فانی ہیں، وہی باقی ہے؛ وہ وراء الوراء ہے، مگر رگ جاں سے قریب ہے؛ اس کا علم اور اس کی قدرت ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے؛ وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے؛ اس کا ارادہ ہر ارادے میں نافذ اور اس کا حکم ہر حکم سے بالاتر ہے؛ وہ ہر عیب سے پاک، ہر برائی سے منزہ اور ہر الزام سے بری ہے:

سَبَّحَ لِلّٰہِ، مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ، لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، یُحْیٖی وَیُمِیْتُ، وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْْءٍ قَدِیْرٌ، ہُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ، وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ، وَہُوَ بِکُلِّ شَیْْءٍ عَلِیْمٌ. ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ، ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ، یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ، وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا، وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآءِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا، وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْْنَ مَا کُنْتُمْ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ، یُوْلِجُ الَّیْْلَ فِی النَّہَارِ، وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْْلِ، وَہُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ.(الحدید۵۷: ۱۔۶)

''اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین و آسمان میں ہے اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔ وہی جلاتا ہے، وہی مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہی اول بھی ہے اور آخر بھی؛ وہی ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، اور وہ ہر چیز سے واقف ہے۔ وہی ہے جس نے زمین وآسمان کو چھ دن میں پیدا کیا، پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ ہر اُس چیز کو جانتا ہے جو زمین میں جاتی اور جو اُس سے نکلتی ہے، اور جو آسمان سے اترتی اور اس میں چڑھتی ہے۔ تم جہاں بھی ہو، وہ تمھارے ساتھ ہوتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔ زمین وآسمان کی بادشاہی اسی کے لیے ہے اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔ وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے اور وہ دلوں کے بھید تک جانتا ہے۔''

۱۰۔ ان صفات کمال میں اہم ترین اللہ تعالیٰ کی توحید ہے۔ قرآن مجید نے سب سے زیادہ تاکید اور وضاحت کے ساتھ اسے ہی بیان کیا ہے۔ یہاں تک کہ اس صحیفۂ آسمانی کا آخری باب اپنے مضمون کے لحاظ سے جس سورہ پر ختم ہوا ہے، اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو یہی ہدایت فرمائی ہے کہ لوگوں کے سامنے برملا اس کا اعلان کردیا جائے:

قُلْ، ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ.(الاخلاص۱۱۲ :۱۔۴)

''تم اعلان کرو، (اے پیغمبر) کہ وہ اللہ یکتا ہے۔ اللہ سب کا سہارا ہے۔ وہ نہ باپ ہے نہ بیٹا اور نہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔''

انبیا علیہم السلام کی تمام جدوجہد کا مقصود اسی توحید کا قیام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی جو تاریخ بیان فرمائی ہے، اس کا ایک ایک لفظ اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...وہ دنیا میں اسی لیے آتے ہیں کہ خدا کے بندوں کو دوسروں کی بندگی سے چھڑا کر خالص خدا کا بندہ بنا دیں، وہ اسی کو خالق مانیں، اسی کو بادشاہ کہیں، اسی کی بندگی کریں، اسی کی اطاعت کریں، اسی پر اعتماد وتوکل کریں۔ اسی سے طالب مدد ہوں۔ نعمت ملے تو اسی کا شکر ادا کریں، مصیبت آئے تو اسی سے استغاثہ کریں۔ طمع ہو یا خوف، امید ہو یا بیم، ہر حال میں ان کی نظر اسی کی طرف ہو، وہ اپنے تئیں بالکلیہ اس کے حوالہ کردیں۔ ان کی محبت اس کی محبت کے تابع، ان کی پسند اس کی پسند کے تحت ہو۔ اس کی ذات میں، اس کی صفات میں، اس کے حقوق میں اس کی یکتائی تسلیم کریں اور کسی پہلو سے ان چیزوں میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، نہ کسی فرشتے کو، نہ کسی جن کو، نہ کسی نبی کو، نہ کسی ولی کو، نہ کسی اور کو، نہ اپنی ذات کو۔'' (حقیقت شرک وتوحید۳۱۰)

توحید کی یہی اہمیت ہے جس کے پیش نظر قرآن نے صراحت فرمائی ہے کہ اس کے بغیر انسان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہے اور اس کے ساتھ ہر غلطی کے بخشے جانے کی توقع ہے۔ ارشاد ہوا ہے:

اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ، وَیَغْفِرُ، مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ، وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ، فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا.(النساء۴ :۴۸)

''اللہ اس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ (جانتے بوجھتے) اُن کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا جائے۔ اس کے نیچے، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہیں گے، (اپنے قانون کے مطابق) معاف کر دیں گے۔ اور (اِس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ) جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اس نے ایک بڑے گناہ کا افترا کیا ہے۔''

اس کی وجہ یہ ہے کہ توحید پر ایمان کے ساتھ بندہ نہ گناہ پر سرکش ہوسکتا ہے اور نہ اس کا ارتکاب کرلینے کے بعد توبہ واستغفار کی توفیق سے محروم رہ سکتا ہے۔ وہ لازماً پروردگار کی طرف لوٹتا ہے اور اس طرح قیامت کی پیشی سے پہلے ہی اپنے لیے عفوودرگزر کا استحقاق پیدا کر لیتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے کہ توحید کا اقرار جنت کی ضمانت ہے۔ اپنے کسی بندے کو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ دوزخ میں نہیں ڈالیں گے۔۴۰؂

اس پر استدلال کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ خدا کی خدائی میں شریک ٹھیرانے کے لیے کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ قرآن نے اپنے مخاطبین سے ایک سے زیادہ مقامات پر مطالبہ کیا ہے کہ عقل ونقل سے اس کی دلیل پیش کر سکتے ہو تو ضرور کرو۔ خدا کا کوئی شریک ہے یا نہیں، اس کے لیے اصلی گواہی خود خدا ہی کی ہوسکتی ہے اور خدا کی گواہی کو جاننے کا واحد ذریعہ اس کی نازل کردہ کتابیں اور وہ روایات وآثار ہیں جو اس کے نبیوں اور رسولوں سے نسلاً بعد نسلٍ انسانیت کو منتقل ہوئے ہیں۔ ان میں شرک کی تائید کے لیے کہیں کوئی شہادت موجود نہیں ہے:

قُلْ، اَرَءَ یْْتُمْ، مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ، اَرُوْنِیْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ، اَمْ لَہُمْ شِرْکٌ فِی السَّمٰوٰتِ، اِیْتُوْنِیْ بِکِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ ہٰذَآ اَوْ اَثٰرَۃٍ مِّنْ عِلْمٍ، اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ.(الاحقاف۴۶ :۴)

''ان سے پوچھو، کیا تم نے کبھی اُن چیزوں پر غور بھی کیا ہے جنھیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو؟ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ زمین میں انھوں نے کیا پیدا کیا ہے یا آسمانوں میں اُن کا کیا ساجھا ہے۔ اس سے پہلے کی کوئی کتاب یا ایسی کوئی روایت میرے سامنے پیش کرو جس کی بنیاد علم پر ہو، اگر تم سچے ہو۔''

توحید کے جو دلائل اس کے علاوہ قرآن میں آئے ہیں، وہ بھی نہایت دل نشیں اور علم وعقل کے مسلمات پر مبنی ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر ''تدبرقرآن'' میں جگہ جگہ ان کی توضیح فرمائی ہے۔ ہم مثال کے طور پر چند آیتیں یہاں پیش کریں گے۔

بقرہ میں ہے:

وَاِلٰہُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ، لَآ اِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْْلِ وَالنَّہَارِ، وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ، فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا، وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍ، وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ، وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ.(۲ :۱۶۳۔۱۶۴)

''تمھارا الٰہ ایک ہی الٰہ ہے۔ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، وہ سراسر رحمت ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ آسمان اور زمین کے بنانے میں، اور شب وروز کے بدل کر آنے میں اور لوگوں کے لیے دریا میں نفع کی چیزیں لے کر چلتی ہوئی کشتیوں میں، اور اس پانی میں جو اللہ نے آسمان سے اتارا ہے، پھر اس سے مردہ زمین کو زندہ کیا ہے اور اس میں ہر قسم کے جان دار پھیلائے ہیں، اور ہواؤں کے پھیرنے میں، اور آسمان اور زمین کے درمیان حکم کے تابع بادلوں میں، (اِس حقیقت کو سمجھنے کے لیے) بہت سی نشانیاں ہیں، اُن کے لیے جو اپنی عقل سے کام لیتے ہیں۔''

''اس آیت پر اگر تدبر کی نگاہ ڈالیے تو یہ حقیقت واضح ہوگی کہ اس میں شروع سے لے کر آخر تک اس کائنات کے متقابل، بلکہ متضاد اجزا وعناصر کا حوالہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ان کے اس حیرت انگیز اتحادو توافق اور ان کی اس بے مثال بہم آمیزی وسازگاری کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، جو ان کے اندر اس کائنات کی مجموعی خدمت کے لیے پائی جاتی ہے۔ آسمان کے ساتھ زمین، رات کے ساتھ دن، کشتی کے ساتھ دریا۔ بظاہر دیکھیے تو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ضدین کی نسبت رکھتے ہیں، لیکن ذرا گہری نگاہ سے دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اگر یہ ایک طرف ضدین کی نسبت رکھتے ہیں تو دوسری طرف اس کائنات کی خانہ آبادی کے نقطۂ نظر سے آپس میں زوجین کا سا ربط واتصال بھی رکھتے ہیں۔ یہ آسمان اور اس کے چمکتے ہوئے سورج اور چاند نہ ہوں تو ہماری زمین کی ساری رونقیں اور بہاریں ختم ہو جائیں، بلکہ اس کی ہستی ہی نابود ہوجائے۔ اسی طرح یہ زمین نہ ہو تو کون بتا سکتا ہے کہ اس فضاے لامتناہی کے بے شمار ستاروں اور سیاروں میں سے کس کس کا گھر اجڑ کے رہ جائے۔ علیٰ ہذاالقیاس، ہماری اور ہماری طرح اس دنیا کے تمام جان داروں کی زندگی جس طرح دن کی حرارت، تمازت، روشنی اور نشاط انگیزی کی محتاج ہے، اسی طرح شب کی خنکی، لطافت، سکون بخشی اور خواب آوری کی بھی محتاج ہے۔ یہ دونوں مل کر اس گھر کو آباد کیے ہوئے ہیں۔ اسی طرح سمندر کو دیکھیے، اس کا پھیلاؤ کتنا ہوش ربا اور ناپید اکنار ہے اور اس کی موجیں کتنی مہیب اور ہول ناک ہیں، لیکن دیکھیے اس سرکشی وطغیانی کے باوجود کس طرح اس نے عین اپنے سینہ پر سے ہماری کشتیوں اور ہمارے جہازوں کے لیے نہایت ہموار اور مصفا سڑکیں نکال رکھی ہیں جن پر ہمارے جہاز دن رات دوڑ رہے ہیں اور تجارت ومعیشت، تمدن ومعاشرت اور علوم وفنون، ہر چیز میں مشرق اور مغرب کے ڈانڈے ملائے ہوئے ہیں۔

آگے آسمان سے بارش اور اس بارش سے زمین کے ازسرنو باغ وبہار اور معموروآباد ہوجانے کا ذکر ہے۔ غور کیجیے کہاں زمین ہے اور کہاں آسمان۔ لیکن اس دوری کے باوجود دونوں میں کس درجہ گہرا ربط واتصال ہے۔ زمین اپنے اندر روئیدگی اور زندگی کے خزانے چھپائے ہوئے ہے، لیکن یہ سارے خزانے اس وقت تک مدفون ہی رہتے ہیں جب تک آسمان سے بارش نازل ہو کر ان کو ابھار نہیں دیتی۔ اسی طرح کا رشتہ بادلوں اور ہواؤں کے درمیان ہے۔ بادلوں کے جہاز لدے پھندے اپنے بادبان کھولے کھڑے ہیں، لیکن یہ اپنی جگہ سے ایک انچ سرک نہیں سکتے جب تک ہوائیں ان کو دھکے دے کر ان کی جگہ سے نہ ہلائیں اور ان کو ان کی مقرر کی ہوئی سمتوں میں آگے نہ بڑھائیں، یہ ہوائیں ہی ہیں جو ان کو مشرق ومغرب اور شمال وجنوب میں ہنکائے پھرتی ہیں اور جب چاہتی ہیں ان کو غائب کردیتی ہیں اور جب چاہتی ہیں ان کو افق پر نمودار کر دیتی ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ غوروتدبر کی نگاہ اس دنیا کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ کیا یہ اضداد اور متناقضات کی ایک رزم گاہ ہے جس میں مختلف ارادوں اور قوتوں کی کشمکش برپا ہے یا ایک ہی حکیم ومدبر ارادہ ان سب پر حاکم و فرماں روا ہے جو ان تمام عناصر مختلفہ کو اپنی حکمت کے تحت ایک خاص نظام اور ایک مجموعی مقصد کے لیے استعمال کر رہا ہے؟ ظاہر ہے کہ اس کائنات کے مشاہدہ سے یہ دوسری ہی بات ثابت ہوتی ہے۔ پھر مزید غور کیجیے تو یہیں سے ایک اور بات بھی نکلتی ہے، وہ یہ کہ یہ دنیا آپ سے آپ وجود میں نہیں آئی ہے اور نہ اس کے اندر جو ارتقا ہوا ہے، وہ آپ سے آپ ہوا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو اس کے عناصر مختلفہ میں ایک بالاتر مقصد کے لیے وہ سازگاری کہاں سے پیدا ہوتی جو اس کائنات کے ہرگوشہ میں موجود ہے۔''(تدبرقرآن ۱ /۴۰۱)

بنی اسرائیل میں ہے:

قُلْ، لَّوْ کَانَ مَعَہٗٓ اٰلِہَۃٌ کَمَا یَقُوْلُوْنَ، اِذًا لاَّبْتَغَوْا اِلٰی ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلاً.(۱۷ :۴۲)

''(اِن سے) کہہ دو کہ اگر کچھ دوسرے الٰہ بھی اس کے ساتھ ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں تو وہ عرش والے پر ضرور چڑھائی کردیتے۔''

''مشرکین عرب دنیوی بادشاہوں اور بادشاہتوں پر قیاس کر کے اللہ تعالیٰ کو تو صاحب تخت وتاج یعنی معبوداعظم مانتے تھے اور اس کے تحت بہت سے دوسرے دیوی دیوتاؤں کوبھی مانتے تھے جن کی نسبت ان کا گمان تھا کہ وہ خدائی میں شریک ہیں اور اپنے پجاریوں کے لیے وہ صاحب عرش کے تقرب کا بھی ذریعہ بنتے ہیں اور ان کی خواہشیں اور ضرورتیں بھی اس سے پوری کرادیتے ہیں ۔ یہ ان کے اسی واہمہ کی تردید ہے۔ فرمایا کہ اگر خدا کے ساتھ اس کے کچھ شریک وسہیم بھی ہوتے، جیسا کہ تم گمان کیے بیٹھے ہو تو وہ ایک نہ ایک دن ضرور صاحب عرش سے منازعت ومخاصمت کی راہ ڈھونڈ لیتے اور یہ آسمان وزمین کا سارا نظام درہم برہم ہوکے رہ جاتا۔ مطلب یہ ہے کہ جس زمین کے بادشاہوں اور بادشاہتوں پر قیاس کر کے تم نے یہ تخیل آراستہ کیا ہے، اس میں تو دیکھتے ہو کہ آئے دن حکومتوں کے نقشے بگڑتے بنتے رہتے ہیں۔ اگر اسی طرح خدا کے بھی کچھ شریک وسہیم اور حریف ہوتے تو آخر وہ کیوں چپکے بیٹھے رہتے، وہ کیوں نہ صاحب عرش بننے کے لیے زور لگاتے، لیکن یہاں تو دیکھتے ہو کہ نہ ایک دن کے لیے سورج اپنے محور سے کھسکا اور نہ زمین اپنے مدار سے منحرف ہوئی۔ اسی حقیقت کو دوسرے مقام میں یوں واضح فرمایا ہے: 'لَوْ کَانَ فِیْہِمَآ اٰلِہَۃٌ اِلَّا اللّٰہُ لَفَسَدَتَا'۔۴۱؂ (اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے سوا دوسرے معبود بھی ہوتے تو یہ درہم برہم ہو کے رہ جاتے)۔''(تدبرقرآن ۴ /۵۰۸)

حج میں ہے:

اَلَمْ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَسْجُدُ لَہٗ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ، وَالشَّمْسُوَالْقَمَرُ، وَالنُّجُوْمُ وَالْجِبَالُ، وَالشَّجَرُ وَالدَّوَآبُّ، وَکَثِیْرٌ مِّنَ النَّاسِ، وَکَثِیْرٌ حَقَّ عَلَیْْہِ الْعَذَابُ، وَمَنْ یُّہِنِ اللّٰہُ، فَمَا لَہٗ مِنْ مُّکْرِمٍ، اِنَّ اللّٰہَ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ.(۲۲ :۱۸)

''تم نے دیکھا نہیں کہ زمین وآسمان میں جو بھی ہیں، سب اللہ ہی کے سامنے سجدہ ریز ہیں، سورج، چاند، تارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور بہت سے لوگ بھی۔ اور بہت سے وہ ہیں کہ جن پر عذاب لازم ہوچکا ہے، اور جسے اللہ ذلیل کرے، اسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں ہے، اس لیے کہ اللہ کرتا ہے جو چاہتا ہے۔''

''یہ توحید کی وہ دلیل بیان ہوئی ہے جس کی شہادت اس کائنات کی ہر چیز اپنے وجود سے دے رہی ہے۔ ہم ... اس حقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں کہ اس کائنات کی ہر چیز اپنی تکوینی حیثیت میں ابراہیمی مزاج رکھتی ہے۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور چوپائے، سب خدا کے امروحکم کے تحت مسخر ہیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی سرموخدا کے مقرر کیے ہوئے قوانین سے انحراف نہیں اختیار کرتی۔ سورج، جس کو نادانوں نے معبود بنا کر سب سے زیادہ پوجا ہے، خود اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ وہ شب وروز اپنے رب کے آگے قیام، رکوع اور سجدے میں ہے۔ طلوع کے وقت وہ سجدے سے سر اٹھاتا ہے، دوپہر تک وہ قیام میں رہتا ہے، زوال کے بعد وہ رکوع میں جھک جاتا ہے اور غروب کے وقت وہ سجدے میں گر جاتا ہے اور رات بھر اسی سجدے کی حالت میں رہتا ہے۔ اسی حقیقت کا مظاہرہ چاند اپنے عروج ومحاق سے اور ستارے اپنے طلوع وغروب سے کرتے ہیں۔ پہاڑوں، درختوں اور چوپایوں کابھی یہی حال ہے۔ ان میں سے ہر چیز کا سایہ ہروقت قیام، رکوع اور سجود میں رہتا ہے۔ اور غور کیجیے تو یہ حقیت بھی نظر آئے گی کہ اس سایہ کی فطرت ایسی ابراہیمی ہے کہ یہ ہمیشہ آفتاب کی مخالف سمت میں رہتا ہے۔ اگرسورج مشرق کی سمت میں ہے تو سایہ مغرب کی جانب پھیلے گا اور اگر مغرب کی جانب ہے تو ہر چیز کا سایہ مشرق کی طرف پھیلے گا۔ گویا ہر چیز کا سایہ اپنے وجود سے ہمیں اس بات کی تعلیم دے رہا ہے کہ سجدہ کا اصل سزاوار آفتاب نہیں، بلکہ خالق آفتاب ہے۔

توحید کی یہ دلیل اشارات کی نوعیت کی ہے، اس وجہ سے یہ منطق کی گرفت میں نہیں آتی، لیکن نظام کائنات میں تدبر کرنے والوں کی نظر میں ان اشارات کی بڑی قدروقیمت ہوتی ہے:

آں کس است اہل بشارت کہ اشارت داند''

(تدبرقرآن ۵ /۲۲۹)

———————-

۴۰؂ بخاری، رقم۵۹۶۷۔ مسلم، رقم۳۰، ۳۱، ۳۲۔

۴۱؂ الانبیاء ۲۱:۲۲۔