ایمانیات (9)


(گزشتہ سے پیوستہ)سنن

اللہ تعالیٰ جو معاملہ اپنے بندوں کے ساتھ کرتے اور جس طریقے سے کرتے ہیں، اسے قرآن میں سنت الٰہی سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کے یہ سنن ناقابل تغیر ہیں، ان میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ چنانچہ خدا کی معرفت کے لیے جس طرح اس کی صفات کا علم ضروری ہے، اسی طرح ا ن سنن الہٰیہ کا علم بھی ضروری ہے۔ ہم یہاں ان کی تفصیل کریں گے، لیکن اس سے پہلے یہ مناسب ہے کہ چند مقدمات بطور تمہید واضح کر دیے جائیں۔

استاذ امام لکھتے ہیں:

''۱۔ مبدء فطرت سے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو اچھی فطرت پر پیدا کیا ہے، اس کو نیکی وبدی کا امتیاز بخشا ہے اور ان میں سے جس کو بھی وہ اختیار کرنا چاہے، اس کو اختیار کرنے کی اس کو آزادی دی ہے۔ اس کے بعد اس کا نیک یا بد بننا اس کے اپنے رویہ اور توفیق الٰہی پر منحصر ہے۔ اگر وہ نیکی کی راہ اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو نیکی کی توفیق بخشتا ہے اور اگر وہ بدی کی راہ پر جانا چاہتا ہے تو اس کو اللہ تعالیٰ، اگر چاہتا ہے، بدی کی راہ پر جانے کے لیے بھی چھوڑ دیتا ہے۔

۲۔ اللہ تعالیٰ جن چیزوں پر انسان کا مواخذہ کرے گا یا جن پر اس کو اجر دے گا، ان کے لیے اس نے انسان کو اختیار و ارادہ کی آزادی بھی بخشی ہے۔ جو لوگ اس اختیاروارادہ کے حامل نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو مواخذہ سے بھی بری رکھا ہے۔ یہ اختیاروارادہ انسان کا ذاتی نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کا عطاکردہ ہے اور اس کا استعمال بھی انسان اللہ تعالیٰ کی مشیت ہی کے تحت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی مشیت اور حکمت کے تحت انسان کے جس ارادے کو چاہے پورا نہ ہونے دے، البتہ اگر وہ اپنی کسی حکمت کے تحت اس کے کسی نیکی کے ارادے کو پورا نہیں ہونے دیتا تو اس نیکی کے اجر سے اس کو محروم نہیں کرتا۔ اسی طرح اگر اس کی کسی بدی کی اسکیم کو پایۂ تکمیل تک پہنچنے نہیں دیتا تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اس کے اخروی خمیازہ سے بھی لازماً اس کو بری قرار دے دے۔

۳۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں اللہ تعالیٰ کی مطلق مشیت کا بیان ہوا ہے، اس کے معنی صرف یہ ہیں کہ اس کی مشیت کو اس کے سوا کوئی دوسرا روک یا بدل نہیں سکتا۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ اس کی مشیت سرے سے کسی عدل وحکمت کی پابند ہی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ عادل اور حکیم ہے، اس کاکوئی کام بھی عدل اور حکمت سے خالی نہیں ہوتا، اس وجہ سے جہاں کہیں بھی اس نے اپنی مشیت کو بیان فرمایا ہے، اس کو اس قانون عدل وحکمت ہی کے تحت سمجھنا چاہیے جس کے تحت اس نے اس دنیا کے نظم کو چلانا پسند فرمایا ہے۔ یہ خیال کرنا کسی طرح صحیح نہیں ہے کہ اپنی جو سنت اس نے خود جاری کی ہے اور جس قانون عدل کو اس نے خود پسند فرمایا ہے، اپنی مشیت کے زور سے خود ہی اس کو توڑے گا۔ مثلاً اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اس ہدایت وضلالت کے لیے اس نے عدل وحکمت کا کوئی ضابطہ سرے سے مقرر ہی نہیں کیا ہے، بلکہ اس کے معنی یہ ہیں کہ یہ ہدایت وضلالت اس سنت کے مطابق واقع ہوتی ہے جو اس نے ہدایت وضلالت کے لیے مقرر کر رکھی ہے اور کوئی دوسرا اس سنت کے توڑنے یا بدلنے پر قادر نہیں ہے۔

۴۔ قرآن مجید میں بعض افعال اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمائے ہیں، لیکن ان سے اصل مقصود، جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا ہے، ان افعال کی نسبت نہیں ہے، بلکہ ان ضابطوں اور ان قوانین کی نسبت ہے جن کے تحت وہ افعال واقع ہوتے ہیں۔ چونکہ وہ ضابطے اور قاعدے خود اللہ تعالیٰ ہی کے ٹھہرائے ہوئے ہیں، اس وجہ سے کہیں کہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے تحت واقع ہونے والے افعال کو بھی اپنی طرف منسوب کر دیا ہے۔ مثلاً فرمایا ہے: 'فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوْبَھُمْ' ۴۲؂ (جب وہ کج ہوگئے تو اللہ نے ان کے دل کج کردیے) یا فرمایا ہے: 'وَنُقَلِّبُ اَفْءِدَتَھُمْ وَاَبْصَارَھُمْ' ۴۳؂ (اور ہم ان کے دل اور ان کی آنکھیں الٹ دیتے ہیں)۔ اس طرح کے مواقع پر عموماً قرآن مجید میں وہ اصول بھی بیان کر دیا جاتا ہے جس کے تحت وہ فعل واقع ہوتا ہے۔ مثلاً اس طرح کی کوئی بات کہہ دی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہیں گمراہ کرتا، مگر فاسقوں کو۔ ان اشارات کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ قاری اصل حقیقت کی طرف متوجہ ہوجائے اور ظاہر الفاظ سے کسی مغالطہ میں نہ پڑ جائے۔

۵۔ اللہ تعالیٰ کا ازلی وابدی اور محیط کل علم، اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی سنتوں میں سے کسی سنت کی نفی نہیں کرتا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے متعلق ازل سے یہ جانتا ہے کہ وہ ہدایت کی راہ اختیار کرے گا یا ضلالت کی، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ ہدایت یا ضلالت کو اسی سنت اللہ کے مطابق اختیار کرے گا جو ہدایت و ضلالت کے لیے اس نے مقرر کر رکھی ہے۔'' (تدبرقرآن ۱ /۱۱۴)

اس کے ساتھ یہ دو باتیں مزید واضح رہنی چاہییں:

اول یہ کہ خدا کی طرف بعض چیزوں کی نسبت اس لحاظ سے بھی ہوتی ہے کہ وہی علت العلل ہے اور کوئی چیز اس کے اذن اور اس کی مشیت کے بغیر ظہور میں نہیں آسکتی اور ہماری طرف اس لحاظ سے کہ ہم بعض اوقات ان میں سے کسی چیز کے مستحق ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے:

وَاِنْ تُصِبْہُمْ حَسَنَۃٌ، یَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ، وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌ، یَّقُوْلُوْا ہٰذِہٖ مِنْ عِنْدِکَ، قُلْ: کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰہِ، فَمَالِ ہٰٓؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَکَادُوْنَ یَفْقَہُوْنَ حَدِیْثًا. مَآ اَصَابَکَ مِنْ حَسَنَۃٍ، فَمِنَ اللّٰہِ، وَمَآ اَصَابَکَ مِنْ سَیِّءَۃٍ، فَمِنْ نَّفْسِکَ، وَاَرْسَلْنٰکَ لِلنَّاسِ رَسُوْلاً، وَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیْدًا.(النساء۴: ۷۸۔۷۹)

''اور اگر ان کو کوئی فائدہ حاصل ہوجائے توکہتے ہیں: یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی نقصان پہنچ جائے تو کہتے ہیں: یہ تمھاری وجہ سے پہنچا ہے۔ کہہ دو: ہر چیز اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ کوئی بات سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ تمھیں جو سکھ بھی پہنچتا ہے، خدا کی طرف سے پہنچتا ہے اور جو دکھ پہنچتا ہے، وہ تمھاری ذات سے پہنچتا ہے، اور تمھیں اے پیغمبر، ہم نے رسول بنا کر بھیجا ہے اور (اِس پر) خدا کی گواہی کافی ہے۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے:

''...پہلے ان لوگوں کو، جو کامیابیوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف اور ناکامیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کررہے تھے، مخاطب کر کے فرمایا کہ اصل حقیقت تو یہی ہے کہ خیروشر، ہر چیز کا ظہور خدا ہی کی مشیت سے ہوتاہے۔ اس کے حکم واذن کے بغیر کوئی چیز بھی ظہور میں نہیں آسکتی۔ لیکن خیر اور شر میں یہ فرق ہے کہ خیر خدا کی رحمت کے اقتضا سے ظہور میں آتا ہے اور شر انسان کے اپنے اعمال پر مترتب ہوتا ہے۔ اس پہلو سے شر کا تعلق انسان کے اپنے نفس سے ہے۔

یہ حقیقت یہاں ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ خیر مطلق ہے۔ اس نے یہ دنیا اپنی رحمت کے لیے بنائی ہے۔ اس وجہ سے اس کی طرف کسی شر کی نسبت اس کی پاکیزہ صفات کے منافی ہے۔ شر جتنا کچھ بھی ظہور میں آتا ہے، وہ صرف انسان کے اپنے اختیار کے سوء استعمال سے ظہور میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خاص دائرے کے اندر آزادی بخشی ہے۔ یہ آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اسی پر انسان کے تمام شرف کی بنیاد ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان آخرت میں جزاوسزا کا مستحق ٹھہرے گا۔ اگر یہ آزادی انسان کو حاصل نہ ہوتی تو حیوان اور انسان کے درمیان کوئی فرق نہ ہوتا۔ لیکن اس آزادی کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ غیرمحدود اور غیرمقید نہیں ہے، بلکہ جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا، ایک خاص دائرے کے اندر محدود ہے۔ پھر اس دائرے کے اندر بھی یہ خدا کی مشیت اور اس کی حکمت کے تحت ہے۔ خدا کے اذن ومشیت کے بغیر انسان اپنے کسی ارادے کو پورا نہیں کرسکتا۔ نیک ارادے بھی اسی کی توفیق بخشی سے پورے ہوتے ہیں اور برے ارادے بھی اسی کے مہلت دینے سے بروے کار آتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی کے کسی برے ارادے کو بروے کار آنے دیتا ہے تو اس پہلو سے تو وہ خدا کی طرف منسوب ہوتا ہے کہ اس کا بروے کار آنا خدا ہی کے اذن ومشیت سے ہوا، لیکن دوسرے پہلو سے وہ انسان کا فعل ہے، کیونکہ اس کا ارادہ انسان نے خود کیا۔

پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی فرد یا جماعت کے کسی شر کو سراٹھانے کی مہلت دیتا ہے تو اس لیے دیتا ہے کہ اس میں بحیثیت مجموعی اس کی خلق کے لیے کوئی حکمت ومصلحت مدنظر ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس ڈھیل سے اہل حق کی آزمایش ہوتی ہے کہ اس سے ان کی کمزوریاں دور ہوں اور ان کی خوبیاں نشوونما پائیں۔ بعض اوقات اس سے اہل باطل پر حجت تمام کرنا اور ان کے پیمانے کو لبریز کرنا ہوتا ہے۔ بعض اوقات قدرت خود ایسے حالات پیدا کرتی ہے جن سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ طبائع کے اندر جو کچھ دبا ہوا ہے، وہ ابھرے۔ اس سے نیکیاں بھی ابھرتی ہیں اور جن کے اندر بدیاں مضمر ہوتی ہیں، ان کی بدیاں بھی ابھرتی ہیں۔''(تدبرقرآن ۲ /۳۴۴)

دوم یہ کہ خیروشر اور حسن وقبح کا حکم جس چیز پر قائم ہے، وہ یہی ہے کہ کیا چیز اللہ تعالیٰ کی صفات کے مطابق اور کیا چیز ان کے خلاف ہے۔ ہم عدل کو اچھا کہتے ہیں، اس لیے کہ یہ خدا کی صفات میں سے ہے اور اس کی تحسین اسی بنا پر ہماری فطرت میں ودیعت کر دی گئی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اس لحاظ سے یہ حکم اضافی ہے، لیکن اس کے باوجود ہمیشہ کے لیے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کی صفات ابدی ہیں۔ پھر ان صفات میں کوئی تصادم بھی نہیں ہے کہ وہ ایک مرتبہ کوئی ایسی چیز چاہے جو اس کے اور اس کی صفات کے موافق ہو اور دوسری مرتبہ اس کے متناقض کسی چیز کا ارادہ کرے۔ وہ ہر حال میں قائم بالقسط ہے:

شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لا�آاِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ، وَالْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآءِمًا بِالْقِسْطِ، لا�آاِلٰہَ اِلاَّ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(آل عمران۳ :۱۸)

''اللہ نے، اُس کے فرشتو ں نے، اور(اِس دنیامیں)علم حقیقی کے سب حاملین نے گواہی دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ، وہ انصاف پرقائم ہے، اُس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ،زبردست ہے، بڑی حکمت والاہے ۔''

استاذ امام لکھتے ہیں:

''...اللہ تعالیٰ کے قائم بالقسط ہونے کی صفت کا جو حوالہ ہے، یہ ایمان کے نہایت اہم اجزا میں سے ہے اور اسلام کی حقیقت میں تو اس کو اس درجہ دخل ہے کہ گویا اسلام عبارت ہی اسی سے ہے۔ اس کی یہ اہمیت تقاضا کر رہی ہے کہ اس کے متعلق استاذ امام (حمید الدین فراہی) کے چند نکات یہاں درج کردیے جائیں تاکہ جو لوگ حکمت دین پر غور کرنا چاہتے ہیں، وہ ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔ مولانا کے نزدیک اس صفت کی اہمیت مندرجہ ذیل پہلووں سے ہے۔

۱۔ ایمان امن سے ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اعتمادواعتقاد اس کی فطرت میں داخل ہے۔ اس سے یہ بات لازم آتی ہے کہ ایمان کے لیے ناگزیر ہے کہ آدمی کو اللہ کے وجود پر یقین راسخ ہو۔ لیکن یہ چیز اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتی جب تک یہ اعتماد نہ کیا جائے کہ عقل اصلاً رہنمائی کے لیے بنی ہے نہ کہ گمراہ کرنے کے لیے۔ یعنی یہ مانا جائے کہ عقل اپنی فطرت کے لحاظ سے انسان کے اندر ایک میزان قسط ہے۔ پھر یہ چیز ایک اور نتیجہ کو مستلزم ہے کہ فطرت کو اس کے فاطر نے حق وعدل کے اصولوں پر استوار کیا ہے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ بہمہ وجوہ عدل وقسط، عدل وقسط کو پسند کرنے والا اور اس کو قائم کرنے والا ہے۔ یہ تمام نتائج عقلاً لازم، بلکہ بدیہیات میں سے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی چیز کے حق ہونے کا ثبوت اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک فاطر فطرت کو حق وعدل نہ مانا جائے۔ اسی سے اس کے تمام افعال کا حق وصدق ہونا ثابت ہوگا۔ جس طرح عقلاً یہ چیز لازم ہے، اسی طرح اخلاقی مسلمات سے بھی اس کا ثبوت فراہم ہوتا ہے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ نیکی کو اللہ تعالیٰ نے فطرت میں داخل کیا ہے اور دلوں میں اس کے قبول کرنے اور اس کی عزت کرنے کی رغبت ودیعت فرمائی ہے۔ ایسی حالت میں ہمارے لیے یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہم خود تو نیکی کو پسند کریں اور خدا کو نیکی کو پسند کرنے والا نہ قرار دیں۔ ہم اپنی اس خیر پسندی کی صحت واصابت پر اطمینان کس طرح کر سکتے ہیں، اگر خود فاطر کی خیرپسندی پر ہمارا دل مطمئن نہ ہو۔ ہم اس کو نیکی کرکے خوش کرنا تو اسی وجہ سے چاہتے ہیں کہ ہم یہ اطمینان رکھتے ہیں کہ وہ نیکی کو پسند کرتا ہے۔ اس کو اچھی صفات سے موصوف کرنا بھی اسی بنیاد پر ہے کہ ان صفات کو پسند کرنے کے معاملے میں ہمیں اپنی فطرت کے صحیح ہونے پر پورا اعتماد ہے۔

۲۔ دوسرا یہ کہ ایمان کی اصل خدا کی محبت ہے۔ ہم ایک ایسے معبود پر ایمان رکھتے ہیں جس سے ہم محبت کرتے ہیں، جس سے امید رکھتے ہیں اور جس کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ یہ چیز اس وقت تک ممکن ہی نہیں ہے جب تک ہمیں یہ یقین نہ ہو کہ وہ ظلم وناانصافی کے ہر شائبہ سے پاک ہے۔ وہ اپنا انعام انھی پر فرمائے گا جو اس کی اطاعت کریں گے اور سزا انھی کو دے گا جو اس کے مستحق ٹھہریں گے۔ کسی ظالم ونامنصف آقا سے محبت کرنا انسانی فطرت کے بالکل خلاف ہے۔

۳۔ تیسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات واحسانات پر غور کرنے سے فطرت میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا جو تقاضا ابھرتا ہے، اس کی بنیاد شکر پر ہے۔ یہ شکر اس صورت میں لازم ہوتا ہے جب ہم یہ مانیں کہ یہ منعم کا حق اور اس کے انعام کا مقتضا ہے۔ یہی رمز ہے کہ قرآن میں شرک کو ظلم اور ایمان کو شکر قرار دیا گیا ہے۔ اسی اصول پر تمام حقوق کے استحقاق کی بنیاد عدل کے وجوب پر رکھی گئی ہے۔ یہ شریعت اور قانون کی ایک بدیہی حقیقت ہے۔ اس وجہ سے ہر شریعت کی اساس وبنیاد قسط ہے۔

۴۔ چوتھا یہ کہ ایمان کا ثمرہ اطاعت الٰہی ہے اور اطاعت کا ثمرہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر گوشے میں افعال اور ان کے اثرات میں یہ رشتہ اپنے خلق وتدبیر اور اپنے امروحکم سے قائم کر رکھا ہے اور مختلف طریقوں سے اس حقیقت کی طرف ہماری رہنمائی فرمائی ہے اور ہم چونکہ اعمال کے ان نتائج پر پورا اعتماد رکھتے ہیں، اس وجہ سے اس کے وعدے پر بھروسا رکھتے ہوئے اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اگر اس بات پر ہمارا ایمان نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرسکتا تو تمام اعمال کی بنیاد ہی ڈھے جائے گی اور پھر سارا اعتماد دوچیزوں میں سے کسی ایک چیز پر رہ جائے گا یا تو نصاریٰ کی طرح جھوٹی شفاعت پر جن کا سارا اعتماد حضرت مسیح پر ہے، جن کو معبود بنا کر وہ ان کی عبادت کرتے اور جن سے خدا سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں یا پھر یہود کی طرح کامل سرگشتگی اور ناعاقبت بینی پر۔ انھوں نے ہوا کے رخ پر اپنی کشتی چھوڑ دی، اپنے تکبر اور حسد کے سبب سے وہ خدا کے فیصلے پر راضی نہ ہوئے، گویا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے ہاں نیک اور بد میں امتیاز کے لیے کوئی ضابطہ ہی نہیں ہے۔ اس ضلالت سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس بات پر پورا یقین رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ قائم بالقسط ہے، اس کا ہر حکم عدل اور اس کا ہر وعدہ سچا ہے۔ جیسا کہ اس نے فرمایا ہے۔ 'تَمَّتْ کَلِمَۃُ رَبِّکَ صِدْقًا وَعَدْلاً' ۔''۴۴؂ (تدبرقرآن ۲ /۵۵)

[باقی]

———————-

۴۲؂ الصف۶۱:۵۔

۴۳؂ الانعام ۶:۱۱۰۔

۴۴؂ الانعام۶:۱۱۵۔