ایمانیات (6)


اللہ پر ایمان

ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ، عٰلِمُ الْغَیْْبِ وَالشَّہَادَۃِ، ہُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ، ہُوَ اللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ، اَلْمَلِکُ الْقُدُّوْسُ السَّلٰمُ الْمُؤْمِنُ الْمُہَیْْمِنُ الْعَزِیْزُ الْجَبَّارُ الْمُتَکَبِّرُ، سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ، ہُوَ اللّٰہُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ، لَہُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی، یُسَبِّحُ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ.(الحشر۵۹ :۲۲۔۲۴)

''وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، غائب وحاضر سے باخبر، وہ سراسر رحمت ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔ وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، بادشاہ، وہ منزہ ہستی، سراسر سلامتی، امن دینے والا، نگہبان، غالب، بڑے زوروالا، بڑائی کا مالک، پاک ہے اللہ اُن سے جو یہ شریک بتاتے ہیں۔ وہی اللہ ہے، نقشہ بنانے والا، وجود میں لانے والا، صورت دینے والا، سب اچھے نام اسی کے ہیں۔ اسی کی تسبیح کرتی ہیں جو چیزیں آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں، اور وہ زبردست ہے، بڑی حکمت والا ہے۔''

اللہ اس ہستی کا نام ہے جو زمین وآسمان اور تمام مخلوقات کی خالق ہے۔ اس میں الف لام تعریف کے لیے ہے اور یہ نام ابتدا ہی سے پروردگار عالم کے لیے خاص رہا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے عرب جاہلیت میں بھی یہ اسی مفہوم کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ دین ابراہیمی کے جو باقیات عربوں کو وراثت میں ملے تھے، یہ لفظ بھی انھی میں سے ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ، وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ، لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ، فَاَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ؟ اَللّٰہُ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُُ مِنْ عِبَادِہٖ، وَیَقْدِرُ لَہٗ، اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیْْءٍٍ عَلِیْمٌ. وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ، مَآءًً فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ مَوْتِہَا، لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ، قُلِ: الْحَمْدُ لِلّٰہِ، بَلْ اَکْثَرُہُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ.(العنکبوت۲۹ :۶۱۔۶۳)

''اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین وآسمان کو کس نے پیدا کیا ہے اور سورج اور چاند کو کس نے تسخیر کر رکھا ہے، تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ پھر وہ کہاں اوندھے ہوجاتے ہیں! اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کی روزی چاہتا ہے، کشادہ کرتا ہے اور جس کی چاہتا ہے، تنگ کردیتا ہے۔ بے شک، اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔ اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ آسمان سے کس نے پانی برسایا، پھر اِس کے ذریعے سے زمین کے مردہ ہوچکنے کے بعد اسے زندہ کر دیا تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ (اِن سے) کہو، شکر اللہ ہی کے لیے ہے، لیکن ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔''

یہ ہستی کیا ہے؟ اس کی صفات کیا ہیں؟ وہ سنن کیا ہیں جو اس نے اپنی ذات کے لیے مقرر کررکھے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے بارے میں یہی سوالات ہیں جو انسان کے ذہن میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ ایمان کے لیے یہ معرفت ضروری ہے۔ قرآن نے جب اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطالبہ کیا ہے تو ان سوالوں کا جواب بھی دیا ہے۔ یہ جواب کیا ہے؟ ہم یہاں اس کی وضاحت کریں گے۔

ذات

اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی طرح انسان کے حیطۂ ادراک میں نہیں آسکتی۔ اس لیے کہ ادراک کے ذرائع جس ہستی نے پیدا کیے ہیں، وہ تویقیناًانھیں پاسکتی اور ان کا احاطہ بھی کر سکتی ہے، لیکن یہ ذرائع کسی طرح اس کا احاطہ نہیں کرسکتے جو خود ان کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ پھر یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ ہمارا ادراک محض انفعال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو حواس انسان کو عطا فرمائے ہیں، ان میں سب سے اہم بصارت ہے۔ اس کے لیے اسے آنکھیں دی گئی ہیں، مگر ان کا حال بھی یہ ہے کہ کسی شے سے روشنی منعکس نہ ہو تو وہ اسے دیکھنے سے قاصر رہ جاتی ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے:

لاَ تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُ، وَہُوَ یُدْرِکُ الْاَبْصَارَ، وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ.(الانعام۶ :۱۰۳)

''اُسے نگاہیں نہیں پا سکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے۔ وہ بڑا باریک بین اور بڑا ہی باخبر ہے۔''

سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے یاراے نظر کی درخواست کا واقعہ قرآن نے اسی لیے سنایا ہے کہ انسان اپنے حدود سے واقف رہے اور ہمیشہ یاد رکھے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جس پیغمبر کو ہم کلامی کا شرف عطافرمایا، جب اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوا تو اوروں کی کیا حیثیت ہے۔ارشاد فرمایاہے:

وَلَمَّا جَآءَ مُوْسٰی لِمِیْقَاتِنَا، وَکَلَّمَہٗ رَبُّہٗ، قَالَ: رَبِّ اَرِنِیْٓ اَنْظُرْ اِلَیْْکَ، قَالَ: لَنْ تَرٰنِیْ، وَلٰکِنِ انْظُرْ اِلَی الْجَبَلِ، فَاِنِ اسْتَقَرَّ مَکَانَہٗ، فَسَوْفَ تَرٰنِیْ، فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا، وَّخَرَّ مُوْسٰی صَعِقًا، فَلَمَّآ اَفَاقَ، قَالَ: سُبْحٰنَکَ، تُبْتُ اِلَیْْکَ، وَاَنَا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ.(الاعراف۷ :۱۴۳)

''اور جب موسیٰ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوا اور اس کے پروردگار نے اس سے کلام کیا تو (اِس سے حوصلہ پاکر) اس نے عرض کی: پروردگار، مجھے یاراے نظر دے کہ میں تجھے دیکھ لوں۔ فرمایا: تم مجھے ہرگز نہ دیکھ سکو گے۔ ہاں، ذرا سامنے کے پہاڑ کو دیکھو، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تم مجھے دیکھ سکو گے۔ چنانچہ جب اس کے پروردگار نے پہاڑ پر تجلی کی تو اُسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ بے ہوش ہوکر گر پڑے۔ پھر جب ہوش آیا تو بولے: پاک ہے تیری ذات، میں تیری طرف لوٹتا ہوں اور میں پہلا ایمان لانے والا ہوں۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی تفسیر میں لکھا ہے:

''...یہ مشاہدہ حضرت موسیٰ کی اطمینان دہانی کے لیے کرایا گیا کہ خدا کی تجلی ذات کی تاب تو کوہ وجبل بھی نہیں لاسکتے جو جامد اور ٹھوس ہونے کے اعتبار سے سب سے بڑھ کر ہیں تو تم انسان ضعیف البنیان ہو کر کس طرح لا سکو گے۔ انسان کی قوت برداشت محدود ہے۔ اس کی نگاہیں روشنی کو دیکھتی ہیں، لیکن یہ روشنی ایک حد خاص سے متجاوز ہوجائے تو آنکھیں خیرہ ہو کر رہ جاتی ہیں، بلکہ بعض اوقات بینائی ہی سلب ہوجاتی ہے۔ اس کے کان آواز کوسنتے ہیں، لیکن ان کے سننے کی تاب بھی بس ایک مقررہ حد ہی تک ہے۔ بجلی کا کڑکا ہی ذرا حد سے متجاوز ہو جائے تو سرے سے کان کے پردے ہی بے کار ہوجائیں۔ آفتاب اس کی زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت ہے، مگر اس کی روشنی اور حرارت اسی وقت تک اس کے لیے حیات بخش ہے، جب تک وہ نہایت ہی طویل فاصلے سے، نہ جانے کتنے فضائی پردوں کی اوٹ سے اور کتنی چھلنیوں سے گزار کر اپنی روشنی اور حرارت اس کو پہنچا رہا ہے۔ اگر کسی دن ذرا کرۂ ارض سے قریب آکر اس پر ایک نظر ڈال دے تو سارے جان دار جل بھن کر خاک اور راکھ ہوجائیں۔ تو جب اس کائنات کی مخلوق کے مقابل میں انسان کی قوت برداشت اتنی ناتواں ہے تو وہ خدا کی ذات بحت کی تاب کس طرح لاسکتی ہے جو نور مطلق اور تمام چون وچگوں سے ماورا اور بالاتر ہے۔'' (تدبرقرآن۳/۳۶۰)

اس میں شبہ نہیں کہ قیامت میں اہل ایمان اپنے پروردگار کو دیکھیں گے۔ قرآن کی آیت 'کَلَّآ، اِنَّھُمْ عَنْ رَّبِّھِمْ یَوْمَءِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ' ۳۵؂ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن دیکھنے کے مختلف درجات ہیں، لہٰذا یہ دیکھنا بھی نگاہوں کا خدا کو پالینا نہیں ہے، اس کی نوعیت غالباً یہی ہوگی کہ حجابات اٹھا دیے جائیں اور لوگ اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھیں، جس طرح وہ سورج اور چاند اور نجوم وکواکب کو دیکھتے ہیں جس کی حقیقت اس سے زیادہ کچھ نہیں ہوتی کہ وہ ایک روشنی دیکھتے ہیں جو ان اجرام فلکی سے منعکس ہو کر ان تک پہنچتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے استفسار پر انھیں سمجھانے کے لیے یہی مثال دی۳۶؂ اور فرمایا ہے کہ تم اپنے پروردگار کو اس طرح دیکھو گے کہ ایک رداے کبریائی کے سوا کوئی چیز بھی درمیان میں حائل نہ رہے گی۔ ۳۷؂

اس کے بعد تشبیہ وتمثیل ہی کا طریقہ باقی رہ جاتا ہے۔ جنت اور دوزخ کے بیان میں قرآن نے یہی طریقہ اختیار کیا ہے۔ رویا میں اور عالم بیداری کے روحانی مشاہدات میں بھی نفس انسانی یہی طریقہ اختیار کرتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اس طریقے سے صرف انھی چیزوں کا کوئی تصور قائم کر سکتاہے جن کے مماثل کوئی چیز کسی نہ کسی درجے میں اس کے اندر یا باہر موجود ہوتی ہے۔ ذات باری سے متعلق انسان کے پاس اس طرح کی کوئی چیز بھی نہیں ہے، لہٰذا اس کادروازہ بھی ہمیشہ کے لیے بند ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

فَلاَ تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الْاََمْثَالَ، اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ.(النحل۱۶:۷۴)

''پس اللہ کے لیے مثالیں بیان نہ کرو، اس لیے کہ (اپنے آپ کو) اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔''

———————-

۳۵؂ المطففین۸۳:۱۵۔ ''ہرگز نہیں، اُس دن تو یقیناًیہ اپنے پروردگار سے روک دیے جائیں گے۔'' قرآن نے یہ منکرین سے متعلق فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایمان والے اس سے محروم نہ ہوں گے۔ ان کے لیے تمام پردے اور حجابات وہاں اٹھا دیے جائیں گے۔

۳۶؂ بخاری، رقم۷۴۳۷۔ مسلم، رقم ۱۸۲۔

۳۷؂ بخاری، رقم ۴۸۷۸۔ مسلم،رقم۱۸۰۔