ایمانیات (2)


(گزشتہ سے پیوستہ)عقلی تقاضا

انسان کے باطن کی اس رہنمائی کے ساتھ یہ صلاحیت بھی اسے دی گئی ہے کہ اپنے ظاہری حواس سے جو کچھ وہ دیکھتا، سنتا اور محسوس کرتا ہے، اس سے بعض ایسے حقائق کا استنباط کرے جو ماوراے حواس ہیں۔ اس کی ایک سادہ مثال قانون تجاذب ( Gravitation) ہے۔ سیب درخت سے ٹوٹتا ہے تو زمین پر گر پڑتا ہے۔ پتھر کو زمین سے اٹھانا ہو تو اس کے لیے طاقت خرچ کرنا پڑتی ہے۔ سیڑھیاں اترنے کے مقابلے میں چڑھنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔ چاند اور تارے آسمان میں گردش کرتے ہیں۔ انسان ان چیزوں کو صدیوں سے دیکھ رہا تھا، یہاں تک کہ نیوٹن نے ایک دن انکشاف کیا کہ یہ سب قانون تجاذب کا کرشمہ ہے۔ یہ قانون بذات خود ناقابل مشاہدہ ہے، لیکن اس وقت پوری دنیا اس کو ایک سائنسی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ تمام معلوم حقائق سے ہم آہنگ ہے۔ اس سے تمام مشاہدات کی توجیہ ہو جاتی ہے اور دوسرا کوئی نظریہ ابھی تک ایسا سامنے نہیں آیا جو واقعات سے اس درجہ مطابقت رکھتا ہو۔

یہ، ظاہر ہے کہ محسوس سے غیر محسوس کا استنباط ہے۔ انسان جب اپنی اس صلاحیت کو کام میں لا کر اپنا اور اپنے گردوپیش میں پھیلی ہوئی کائنات کا مطالعہ کرتا ہے تو اس کا یہ مطالعہ بھی اس کے باطن میں نہاں اسی حقیقت کی گواہی دیتا ہے۔

چنانچہ وہ دیکھتا ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز حسن تخلیق کا معجزانہ اظہار ہے؛ ہر چیز میں اتھاہ معنویت ہے، غیر معمولی اہتمام ہے؛ حکمت، تدبیر، منفعت اور حیرت انگیز نظم وترتیب ہے؛ بے مثال اقلیدس اور ریاضی ہے جس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں ہو سکتی کہ اس کا ایک خالق ہے اور یہ خالق کوئی اندھی اور بہری طاقت نہیں ہے، بلکہ ایک لامحدود ذہن ہے۔ اس لیے کہ طاقت کا ظہور اگر کسی علیم وحکیم ہستی کی طرف سے نہ ہو تو اسے جبر محض ہونا چاہیے، مگر یہ حقیقت ہے کہ ایسانہیں ہے۔ بلکہ اس میں غایت درجہ موزونیت ہے، بے پناہ توافق ہے، اس سے غیرمعمولی فوائد اور عجیب و غریب تغیرات پیدا ہوتے ہیں جو کسی اندھی اور بہری طاقت سے ہرگز پیدا نہیں ہو سکتے۔

یہ حقیقت ناقابل تردید ہے۔ اس کو مانے بغیر انسان کی عقل کسی طرح مطمئن نہیں ہوتی۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ اللہ پر ایمان ہی زمین وآسمان کی روشنی ہے۔ انسان کا سینہ اسی سے مطلع انوار ہوتا ہے۔ یہ نہ ہوتو دنیا ایک عالم ظلمات اور اندھیر نگری ہے:

اَللّٰہُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ مَثَلُ نُوْرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیْہَا مِصْبَاحٌ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَۃٍ اَلزُّجَاجَۃُ کَاَنَّہَا کَوْکَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَۃٍ مُّبٰرَکَۃٍ زَیْْتُوْنَۃٍ لَّا شَرْقِیَّۃٍ وَّلَا غَرْبِیَّۃٍ یَّکَادُ زَیْْتُہَا یُضِیْٓءُُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْہُ نَارٌ نُوْرٌ عَلٰی نُوْرٍ یَہْدِی اللّٰہُ لِنُوْرِہٖ مَنْ یَشَآءُُ وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْءٍٍ عَلِیْمٌ.(النور۲۴: ۳۵)

''اللہ ہی زمین وآسمان کا نور ہے۔ (انسان کے دل میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک طاق ہو جس میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس ایسا ہو جیسے ایک چمکتا ہوا تارا۔ یہ چراغ زیتون کے ایسے شاداب درخت کے روغن سے جلایا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی۔ اس کا روغن آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑکا پڑتا ہو۔ روشنی پر روشنی! اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے۔ (یہ ایک تمثیل ہے) اور اللہ یہ تمثیلیں لوگوں کی رہنمائی کے لیے بیان کرتا ہے۔ (وہ ہر ایک سے وہی معاملہ کرتا ہے جس کا وہ سزاوار ہے) اور اللہ ہر چیز سے واقف ہے۔''

تاہم اس کے ساتھ بعض دوسرے حقائق بھی ہیں:

انسان دیکھتا ہے کہ دنیا کی ہر چیز میں مقصدیت ہے۔ ہر چیز اپنی غایت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے، لیکن بحیثیت مجموعی اس دنیا کے وجود کا کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔ اس لحاظ سے یہ رام کی لیلا اور نیرو کی تماشاگاہ معلوم ہوتی ہے۔

وہ دیکھتا ہے کہ ہر چیز اپنے وجود ہی سے پکار رہی ہے کہ وہ انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے، لیکن وہ خود کس لیے پیدا کیا گیاہے؟ دنیا کی کوئی چیز نہیں بتاتی۔

پھر ایسا کوئی انتظام بھی نظر نہیں آتا جو یہ جانچ رہا ہو کہ اس کا اگر کوئی مقصد تخلیق ہے تو اس کے ابناے نوع میں سے کس نے اسے پورا کیا ہے اور کس نے بے پروائی برتی ہے۔

ہر نعمت کے ساتھ مسؤلیت کا شعور انسان کی فطرت میں ودیعت ہے، لیکن اس کو ایک شتر بے مہار کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں اسے عطا فرمائی ہیں، ان کا حساب دیے بغیر وہ نہایت اطمینان کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے۔ اسے کوئی نہیں پوچھتا۔

لوگوں کو حق وصداقت پر قائم رکھنا انسانیت کی ضرورت ہے، مگر اس کا کوئی حقیقی محرک اس کو اپنے اندر اور اپنے گردوپیش کی دنیا میں نظر نہیں آتا۔ پھر اس کا ضمیر جو کچھ چاہتا ہے، دنیا کے واقعی حالات اس کے خلاف ہیں۔ اس کا فطری احساس ہے کہ ظلم وانصاف اور خیروشر میں تمیز کی جائے، لیکن یہ اسی کی دنیا ہے جہاں یہ احساس سب سے زیادہ پامال ہو رہا ہے۔ چنانچہ بہت سے انسان دنیا سے اس طرح گئے ہیں کہ ان کی اچھائی کا ان کو کوئی صلہ نہیں ملا اور بہت سے برے اور سرکش لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے، مگر انھوں نے اپنی برائی اور سرکشی کی کوئی سزا نہیں پائی۔

دوسری تمام مخلوقات کے برعکس انسان مستقبل کا تصور رکھتا ہے۔ نباتات، جمادات اور حیوانات میں سے کوئی بھی نہیں جو اپنے اندر یہ تصور رکھتا ہو، لیکن یہ مستقبل اس سے ہمیشہ دور ہی رہتا ہے۔

اس کے نہاں خانۂ وجود میں گہری خواہشیں پوشیدہ ہیں، مگر اس کی یہ خواہشیں بہت کم پوری ہوتی ہیں اور اس کے ارمان بہت نکل کر بھی کم ہی نکلتے ہیں۔ یہاں تک کہ خدا کو مان کر اس کی خدائی کے ظہور کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی جو شدید خواہش انسان کے دل میں پیدا ہوتی ہے، وہ بھی اس دنیا میں کبھی پوری نہیں ہوتی۔

اس کے وجود کی رسائی جہاں تک بھی ہو، اس کے خیال کی پہنچ سے بہت نیچے رہ جاتی ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں، زمین کی نہائیوں اور خود اپنے وجود کے باطن میں اتر جانا چاہتا ہے۔ اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے اس نے آفتاب کو آغوش میں لینے اور ذروں کا دل چیرنے کی کوشش کی ہے، لیکن اس جدوجہد ہی سے یہ حقیقت اس پر واضح ہو گئی ہے کہ اس کے خیال کی وسعت اور وجود کی صلاحیت میں کوئی نسبت سرے سے قائم ہی نہیں کی جاسکتی۔

اس کو ہمیشہ سے ایک ایسی دنیا کی تلاش ہے، جہاں وہ موجودہ دنیا کے مشکلات ومصائب اور محدودیتوں سے آزاد ہو کر خوشی اور فراغت کی ایک دل پسند زندگی حاصل کر سکے۔ یہ طلب قدیم ترین زمانے سے اس کے اندر موجود رہی ہے۔ لیکن اپنی یہ مطلوب دنیا وہ کبھی نہیں پاتا، بلکہ اپنی حسین تمناؤں کو دل ہی میں لیے ہوئے موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے۔

اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر لفظ اور اس کے اعضاوجوارح سے صادر ہونے والے تمام اعمال کائنات کے پردے پر اس طرح نقش ہور ہے ہیں کہ کسی بھی وقت ان کو نہایت صحت کے ساتھ دہرایا جاسکے۔ وہ جو کچھ سوچتا اور جو اچھا یا برا خیال اس کے دل میں گزرتا ہے، اس کے صفحۂ وجود پر اس طرح ثبت ہو جاتا ہے کہ پھر کبھی محو نہیں ہوتا۔ وقت کی رفتار اور حالات کی تبدیلی، کوئی چیز بھی اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ لیکن اس اہتمام کا مقصد کیا ہے؟ یہ دنیا کی کسی چیز سے واضح نہیں ہوتا۔

انسان کی شخصیت اس کے جسم سے الگ اپنا ایک مستقل وجود رکھتی ہے۔ اس کا جسم جن ان گنت خلیوں سے بنا ہے، وہ برابر ٹوٹتے رہتے ہیں اور بار بار پرانا ہونے کے بعد وہ نیا ہوتا رہتا ہے، لیکن اس کی اصل شخصیت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ اس کا علم، حافظہ، آرزوئیں اور عادات وخیالات، سب وہی رہتے ہیں، ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ پھر یہ شخصیت کہاں سے آتی اور کہاں جاتی ہے؟ اس سوال کا کوئی جواب نہیں ملتا۔

وہ جس زمین پر رہتا ہے۔ اس سے لاکھوں گنا بڑی زمینیں آسمان میں گردش کر رہی ہیں، مگر ان میں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ پھر یہ کس لیے پیدا کی گئی ہیں؟ وہ نہیں جانتا۔

یہ حقائق ہیں جو انسان کو بالکل آخری درجے میں مضطرب کر دیتے ہیں، لیکن جیسے ہی یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اس دنیا کے ساتھ ایک آخرت بھی ہے تو معلوم ہوتاہے کہ سارے خلا بھر گئے ہیں، ہر سوال کا جواب مل گیا ہے، تمام معلوم شواہد کی توجیہ ہو گئی ہے اور ہر چیز اپنی جگہ پر بالکل ٹھیک بیٹھ گئی ہے۔ آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں جو دنیا ادھوری معلوم ہو رہی تھی، وہ مکمل نظر آنے لگی ہے۔ کائنات کا اصلی حسن وجمال بے نقاب ہو گیا ہے۔ انسان اب اس یقین کے ساتھ دنیا میں رہ سکتا ہے کہ جس مطلوب چیز کو وہ مرنے سے پہلے نہیں پاسکا، اسے موت کے بعد لازماً پا لے گا۔ باقی کائنات میں جس طرح ہر طرف یقین اور تسکین ہے، وہ اسے بھی حاصل ہو جائے گی۔ اس کے اندر جو لامحدود خواہشیں اور تمنائیں ہیں، ان کے پورا کرنے کے لیے ایک لامحدود دنیا اسے ہمیشہ کے لیے دے دی جائے گی، جہاں ایک طرف لذت، نفاست اور معنویت کی ابدی بہشت ہوگی اور دوسری طرف وہ دوزخ بھی ہو گی جس میں ظالم اپنے گناہوں کی سزا بھگتیں گے۔

اس کے نتیجے میں، ظاہر ہے کہ دنیا اور آخرت میں وہی تعلق قائم ہو جاتاہے جو زوجین کے ہر فرد کا ایک دوسرے کے ساتھ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر سلیم الفطرت انسان تسلیم کر لیتا ہے کہ اگر علل اپنے معلولات کے ساتھ، قویٰ آلات کے ساتھ، طبائع ارادوں کے ساتھ اور ارواح اجسام کے ساتھ جوڑ دیے گئے ہیں اور اسی کے نتیجے میں اپنی معنویت کا اظہار کر رہے ہیں تو آخرت بھی دنیا کے لیے بمنزلۂ زوج ہے جس کے ساتھ جوڑ کر اسے بامعنی بنا دیا گیا ہے:

وَمِنْ کُلِّ شَیْْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیْْنِ، لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(الذاریات۵۱: ۴۹)

''اور ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تاکہ تم یاددہانی حاصل کرو۔''

یہی موقع ہے، جب عقل مجبور ہو جاتی ہے کہ جس طرح وہ استنباط کے ذریعے سے حاصل ہونے والے دوسرے تمام معلومات کو علمی حقائق کی حیثیت سے تسلیم کرتی ہے، اسی طرح خدا اور آخرت کو بھی تسلیم کرلے۔ اس کے بعد ہر حساس انسان کا دل جزاوسزا کے تصور سے کانپ اٹھتا ہے اور قیامت کو وہ گویا اپنے سامنے آتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ زمین وآسمان میں وہ اسی طرح بوجھل ہو رہی ہے، جس طرح حاملہ کا حمل ہوتاہے جس کے بارے میں نہیں کہا جاسکتا کہ کب ظاہر ہو جائے:

یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ، اَیَّانَ مُرْسٰہَا؟ قُلْ: اِنَّمَا عِلْمُہَا عِنْدَ رَبِّیْ، لاَ یُجَلِّیْہَا لِوَقْتِہَآ اِلاَّ ہُوَ، ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، لاَ تَاْتِیْکُمْ اِلاَّ بَغْتَۃً.(الاعراف۷: ۱۸۷)

''وہ تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی؟ کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے رب ہی کے پاس ہے۔ وہی اس کا وقت آجانے پر اس کو ظاہر کر دیکر دے گا۔ زمین وآسمان اس سے بوجھل ہو رہے ہیں۔ وہ تم پر اچانک ہی آپڑے گی۔''

وہ پکار اٹھتا ہے کہ پروردگار، دنیا کا یہ کارخانہ تو نے عبث نہیں بنایا۔ تیری شان علم وحکمت کے منافی ہے کہ تو کوئی بے مقصد کام کرے۔ میں جانتا ہوں کہ اس جہان رنگ وبو کا خاتمہ لازماً ایک روز جزا پر ہو گا جس میں وہ لوگ عذاب اور رسوائی سے دوچار ہوں گے جو تیری اس دنیا کو کھلنڈرے کا کھیل سمجھ کر اس میں زندگی بسر کرتے رہے۔ ان کے انجام سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں:

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، وَاخْتِلاَفِ الَّیْْلِ وَالنَّہَارِ لاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ، الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللّٰہَ قِیَامًا وَّقُعُوْدًا، وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ، وَیَتَفَکَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، رَبَّنَا، مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً، سُبْحٰنَکَ، فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ.(آل عمران۳: ۱۹۰۔۱۹۱)

''زمین وآسمان کی خلقت میں اور شب وروز کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ اُن کے لیے جو اٹھتے، بیٹھتے اور پہلووں پر لیٹے ہوئے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور زمین و آسمان کی خلقت پر غور کرتے رہتے ہیں۔ (ان کی دعایہ ہوتی ہے کہ) پروردگار، تونے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا ہے۔ تو اس سے پاک ہے کہ کوئی عبث کام کرے۔ سو ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔''