ایمانیات (3)


علمی تواتر

یہ شواہد اگرچہ کافی تھے، مگر لوگوں پر اتمام حجت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مزید اہتمام یہ فرمایا کہ انسانیت کی ابتدا ایک ایسے انسان سے کی جس نے خدا کی بات سنی، اس کے فرشتوں کو دیکھا اور اس طرح حقیقت کے براہ راست مشاہدے کی گواہی دے کر دنیا سے رخصت ہوا تاکہ اس کا یہ علم نسلاً بعد نسلٍ اس کی ذریت کو منتقل ہوتا رہے اور خدا اور آخرت کا تصور انسانی زندگی کے کسی دور، زمین کے کسی خطے، کسی بستی، کسی پشت اور کسی نسل کے لیے کبھی اجنبی نہ ہونے پائے۔ قرآن کا بیان ہے کہ آدم وحوا کی تخلیق کے بعد ان سے برتر بعض مخلوقات کو حکم دیا گیا کہ ان کے سامنے سجدہ ریز ہو جائیں۔ اس سے ان کو یہ بتانا مقصود تھا کہ اصلی سرفرازی نور یا نار سے پیدا ہونے میں نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری میں ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اس حکم کی تعمیل میں فرشتے اور جنات سب سجدہ ریز ہوگئے، مگر ابلیس نہیں مانااور اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا۔ اس کے بعد آدم وحوا، دونوں کو ایک باغ میں رہنے کے لیے کہاگیا جہاں زندگی کی تمام ضرورتیں مہیا تھیں، مگر ایک درخت کا پھل ان کے لیے ممنوع قرار دیا گیا۔ یہ وہی شجرۂ تناسل تھا جس کا پھل دنیا میں ہماری بقا کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے انھیں روکا اور متنبہ کر دیا کہ ابلیس تمھارا کھلا ہوا دشمن ہے، وہ لازماً تمھیں نافرمانی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گا۔ چنانچہ یہی ہوا اور ابلیس نے ایک ناصح مشفق اور خیر خواہ کے بھیس میں آکر ان سے کہا کہ حیات جاوداں اور ابدی بادشاہی کا راز اسی درخت کے پھل میں ہے جس سے تمھیں محروم کر دیا گیا ہے۔ ابلیس کی اس ترغیب وتحریص سے وہ آمادہ ہوئے اور اس پھل کی خواہش میں جو غیر معمولی ہیجان انسان پر طاری ہوجاتا ہے، اس سے مغلوب ہوکر اسے کھا بیٹھے۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ زندگی میں جو سب سے بڑا امتحان انھیں پیش آئے گا، وہ انانیت اور جنسی جبلت کے راستے ہی سے پیش آئے گا۔ چنانچہ حکم دیاگیا کہ اس باغ سے نکل کر زمین میں اتر جاؤ۔ اس پر آدم کو ندامت ہوئی اور وہ اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوگئے۔ ان کے اس رجوع کو دیکھ کر اللہ نے انھیں توبہ کی توفیق دی، اس کے لیے نہایت موزوں الفاظ خود القا فرمائے اور ان کی توبہ قبول کر لی۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلآءِکَۃِ: اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ، فَسَجَدُوْٓا اِلاَّ اِبْلِیْسَ، اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ، وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ. وَقُلْنَا: یٰٓاٰدَمُ اسْکُنْ اَنْتَ وَزَوْجُکَ الْجَنَّۃَ، وَکُلاَ مِنْہَا رَغَدًا حَیْْثُ شِءْتُمَا، وَلاَ تَقْرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ، فَتَکُوْنَا مِنَ الْظّٰلِمِیْنَ. فَاَزَلَّہُمَا الشَّیْْطٰنُ عَنْہَا، فَاَخْرَجَہُمَا مِمَّا کَانَا فِیْہِ، وَقُلْنَا: اہْبِطُوْا، بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ، وَلَکُمْ فِیْ الْاَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَّمَتَاعٌ اِلٰی حِیْنٍ، فَتَلَقّٰے اٰدَمُ مِنْ رَّبِّہِ کَلِمٰتٍ، فَتَابَ عَلَیْْہِ، اِنَّہُ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ.(البقرہ۲ :۳۴۔۳۷)

''اور وہ واقعہ بھی انھیں سناؤ، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو وہ سجدہ ریز ہوگئے، لیکن ابلیس نہیں مانا۔ اُس نے انکار کیا اور اکڑ بیٹھا اور اس طرح منکروں میں شامل ہوا۔ اور ہم نے آدم سے کہا: تم اور تمھاری بیوی، دونوں اس باغ میں رہو اور اس میں سے جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ کھاؤ۔ ہاں، البتہ تم دونوں اس درخت کے پاس نہ جانا ور نہ ظالم قرار پاؤ گے۔ پھر شیطان نے ان کو وہاں سے پھسلا دیا اور جس حالت میں وہ تھے، اس سے انھیں نکلوا کر چھوڑا۔ اور ہم نے کہا: (یہاں سے) اتر جاؤ، اب تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمھیں ایک خاص وقت تک زمین پر ٹھیرنا ہے اور وہیں گزر بسر کرنی ہے۔ پھر آدم نے اپنے پروردگار سے (توبہ کے) چند الفاظ سیکھ لیے (اور اُن کے ذریعے سے توبہ کی) تو اُس کی توبہ اُس نے قبول کرلی۔ بے شک، وہ بڑا معاف فرمانے والا ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔''

پھر یہی نہیں، آدم وحوا کو دنیا میں بھیجنے کے بعد بھی ایک عرصے تک یہ اہتمام کیا گیا کہ بنی آدم اگر اپنے ایمان وعمل کی قبولیت یا عدم قبولیت اسی دنیا میں جاننا چاہیں تو جان لیں۔ یہ حقیقت کو اس زمانے کے ہر شخص کے لیے گویا تجربے اور مشاہدے کے درجے تک پہنچا دینا تھا تاکہ اپنے ماں باپ کے ساتھ وہ بھی اس گواہی میں شامل ہو جائے۔ سورۂ آل عمران (۳) کی آیت ۱۸۳ سے معلوم ہوتاہے کہ اس کی صورت یہ ہوتی تھی کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کرتے، پھر آسمان سے ایک آگ اترتی اور قبولیت کی علامت کے طور پر اسے کھالیتی تھی۔ آدم کے بیٹے ہابیل کا قتل اسی طرح کے ایک واقعے کے نتیجے میں ہوا تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ ہابیل بھیڑ بکریوں کا چرواہا اور قابیل کسان تھا۔ ایک دن قابیل اپنے کھیت کے پھل کا ہدیہ خدا کے حضور میں لایا اور ہابیل اپنی بھیڑ بکریوں کے کچھ پہلوٹھے بچوں کا اور کچھ ان کی چربی کا ہدیہ لایا۔ یہ ہدیے پیش کیے گئے تو ہابیل اور اس کا ہدیہ قبول کرلیاگیا، لیکن قابیل اور اس کا ہدیہ قبول نہیں کیاگیا۔ اس پر قابیل نہایت غضب ناک ہوااور اس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا۔ ۴؂ قرآن میں یہ واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے:

وَاتْلُ عَلَیْْہِمْ نَبَاَ ابْنَیْْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ، اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا، فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِہِمَا، وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ. قَالَ: لَاَقْتُلَنَّکَ قَالَ: اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ، لَءِنْ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیْ مَا اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْْکَ لِاَقْتُلَکَ، اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ. اِنِّیْٓ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓاَ بِاِثْمِیْ وَاِثْمِکَ فَتَکُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ، وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ، فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیْہِ، فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ .(المائدہ۵: ۲۷۔۳۰)

''اور انھیں آدم کے دوبیٹوں کی سرگزشت بھی ٹھیک ٹھیک سنا دو، جب اُن دونوں نے قربانی پیش کی تو اُن میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی قبول نہیں کی گئی۔ اس نے کہا: میں تجھے مار ڈالوں گا۔ اس نے جواب دیا: اللہ تو صرف اپنے پرہیزگار بندوں کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تمھارے قتل کے لیے ہاتھ اٹھانے والا نہیں ہوں۔ میں اللہ رب العٰلمین سے ڈرتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تمھی سمیٹ لو اور دوزخی بن کر رہو اور یہی ظالموں کی سزا ہے۔ بالآخر اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا اور وہ (اُسے مار کر) نامرادوں میں شامل ہوگیا۔''

نبیوں کی تصدیق

اس اہتمام کے باوجود جب لوگوں نے حق سے انحراف کیا تو اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں سے بعض نفوس قدسیہ کو نبوت عطا فرمائی تاکہ اپنے پروردگار سے الہام پاکر وہ ان کے لیے حق کی گواہی دیں۔ اللہ کے یہ نبی اپنے علم وعمل میں حق کا نمونہ بن کر نہ ماننے والوں کو ان کے انجام پر متنبہ کرتے اور ماننے والوں کو خدا کی ابدی بادشاہی کی بشارت دیتے تھے۔ ان نبیوں کے ساتھ کتابیں بھی نازل کی گئیں تاکہ لوگ ان کے ذریعے سے اپنے اختلافات کا فیصلہ کرلیں اور حق کے معاملے میں ٹھیک انصاف پر قائم ہو جائیں:

کَانَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً، فَبَعَثَ اللّٰہُ النَّبِیّٖنَ مُبَشِّرِیْنَ وَمُنْذِرِیْنَ، وَاَنْزَلَ مَعَہُمُ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ لِیَحْکُمَ بَیْْنَ النَّاسِ فِیْمَا اخْتَلَفُوْا فِیْہِ. (البقرہ۲: ۲۱۳)

''لوگ ایک ہی امت تھے۔ (اُن میں اختلاف پیدا ہوا) تو اللہ نے نبی بھیجے بشارت دیتے اور انذارکرتے ہوئے اور اُن کے ساتھ قول فیصل کی صورت میں اپنی کتاب نازل کی تاکہ لوگوں کے درمیان وہ اُن کے اختلافات کا فیصلہ کردے۔''

تجرباتی شہادت

ان نبیوں میں سے بعض کو رسالت کے منصب پر فائز کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں غیر معمولی معجزات دیے، روح القدس سے ان کی تائید کی، پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ان کے ذریعے سے اسی دنیا میں برپا کردی۔ اس سے مقصود یہ تھا کہ خدا اور آخرت کا تصور بھی اسی معیار پر ثابت کردیا جائے، جس معیار پر سائنسی حقائق معمل (Laboratory) کے تجربات سے ثابت کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد، ظاہر ہے کہ کسی کے پاس کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش کرنے کے لیے باقی نہیں رہ سکتا تھا۔

اس کا طریقہ یہ اختیار کیا گیا کہ ان رسولوں نے حق کی دعوت پیش کی، پھر اعلان کیا کہ اپنی قوم کے لیے وہ خدا کی عدالت بن کر آئے ہیں۔ ایمان وعمل کی بنیاد پر جزا وسزا کے جس معاملے کی خبر دی گئی ہے، وہ ان کی قوم کے ساتھ اسی دنیا میں ہونے والاہے۔ طبعی قوانین جس طرح اٹل ہیں اور ہر حال میں نتیجہ خیز ہو جاتے ہیں، خدا کا اخلاقی قانون بھی ان کی طرف سے اتمام حجت کے بعد اسی طریقے سے نتیجہ خیز ہوجائے گا۔ لہٰذا ان کی قوم کے جو لوگ ان کی دعوت قبول کریں گے، وہ دنیا اور آخرت، دونوں میں نجات پائیں گے اور ان کے مخالفین پر انھیں غلبہ حاصل ہو گا۔ اور جو نہیں کریں گے، وہ ذلیل ہوں گے اور ان پر خدا کا عذاب آجائے گا۔

یہ پیشین گوئی جس وقت اور جس قوم میں بھی کی گئی، اس سے زیادہ ناممکن الوقوع اور ناقابل یقین کوئی چیز نہیں تھی، لیکن تاریخ کا حیرت انگیز واقعہ ہے کہ یہ ہرمرتبہ پوری ہوئی اور اس طرح پوری ہوئی کہ لوگوں نے خدا کو عدالت کرتے ہوئے دیکھا اور زمین وآسمان اس کے جلال سے معمور ہوگئے۔ 'لِءَلَّا یَکُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ' ۵؂ میں قرآن نے یہی حقیقت بیان کی ہے۔ پھر بطور قاعدۂ کلیہ فرمایا ہے:

وَلِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلٌ، فَاِذَا جَآءَ رَسُوْلُہُمْ، قُضِیَ بَیْْنَہُمْ بِالْقِسْطِ، وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ.(یونس۱۰: ۴۷)

''ہر قوم کے لیے ایک رسول ہے۔ پھر جب اُن کا وہ رسول آجائے تو اُن کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جاتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جاتا۔''

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ یہ معاملہ قوم نوح کے ساتھ ہوا۔ سیدنا نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ اگر شرک سے تائب ہوکر وہ خالص اللہ ہی کی بندگی نہیں کرتے تو عنقریب ایک ایسے عذاب سے دوچار ہوجائیں گے جو انھیں صفحۂ ہستی سے مٹا دے گا۔ قوم کے سرداروں نے کہا: تمھاری یہی باتیں ہیں جن کی بنا پر ہم تمھیں کھلی گم راہی میں دیکھ رہے ہیں۔ تم نے ہمارے باپ دادا کی تحقیر کی ہے اور اب ہمارے اوپر عذاب الہٰی کی دھمکی بھی سنا رہے ہو۔ تمھارے پیرو بھی ہمارے نچلے طبقوں کے لوگ ہی ہیں جو بے سمجھے بوجھے تمھارے پیچھے لگ گئے ہیں۔ نوح علیہ السلام نے جواب میں فرمایا کہ یہ تمھاری بدقسمتی ہے کہ تم مجھے بھٹکا ہواآدمی سمجھ رہے ہو۔ میں تمھارے پاس خدا کے پیغمبر کی حیثیت سے آیاہوں اور جو کچھ تمھیں سنارہا ہوں، وہ بے کم وکاست خدا ہی کی طرف سے سنا رہا ہوں۔ یہ خدا کا پیغام بھی ہے اور میری طرف سے تمھارے حق میں انتہائی خیر خواہی بھی۔ تمھاری ضد، ہٹ دھرمی، ناقدری، دل آزاری اور دشمنی وبیزاری کے باوجود میں یہ پیغام تمھیں سنارہا ہوں تو اس کا محرک اس کے سوا کچھ نہیں کہ مجھے یہ اندیشہ اور غم لاحق ہے کہ تم کہیں خدا کی پکڑ میں نہ آجاؤ۔

قرآن کا بیان ہے کہ کم وبیش ساڑھے نو سو سال تک اسی درد مندی کے ساتھ وہ اپنی قوم کو متنبہ کرتے رہے۔ لیکن اس طویل جدوجہد کے بعد بھی جب قوم نے ان کی تکذیب کر دی اور اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہیں ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک کشتی بنائی جائے۔ یہ قوم کے لیے گویا الٹی میٹم تھا کہ کشتی کی تکمیل کے ساتھ ہی اس کا پیمانۂ عمر بھی لبریز ہوجائے گا۔ چنانچہ کشتی بن گئی اور ماننے والے اس میں سوار ہوگئے تو ایک عظیم طوفان ابل پڑا۔ زمین کو حکم دیا گیا کہ اپنا سارا پانی اگل دے اور آسمان کو حکم دیا گیا کہ اپنا سارا پانی برسا دے۔ پھر جونشان مقرر کردیاگیاتھا، پانی اس پر جاکر ٹھیر گیا اور پوری قوم اس میں غرق ہوگئی۔ یہاں تک کہ نوح علیہ السلام کا بیٹا کنعان بھی اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اس کی نذر ہوگیا۔ یہ ایک عبرت انگیز منظر تھا۔ طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ موسلادھار بارش ہورہی تھی۔ پہاڑوں کی طرح موجیں اٹھ رہی تھیں۔ نوح کی کشتی ان کے تھپیڑوں سے نبرد آزما تھی کہ اتنے میں باپ نے دیکھا کہ سامنے بیٹا حیران وششدر کھڑا ہے۔ اس کو دیکھ کر شفقت پدری نے جوش مارا، پکار اٹھے کہ جان پدر، اب بھی موقع ہے، ان منکروں کو چھوڑ کر کشتی میں سوار ہوجاؤ۔ لیکن اس ہول ناک منظر کو دیکھ کر بھی اس کی ضد میں کچھ فرق نہیں آیا۔ اس نے کہا: میں کسی پہاڑ کی پناہ لے لوں گا۔ نوح علیہ السلام نے کہا: یہ پانی نہیں، قہر الہٰی ہے۔ اس سے خدا کے سوا آج کوئی بچانے والا نہیں ہوسکتا۔ یہ گفتگو ہورہی تھی کہ اچانک ایک موج اٹھی اور بیٹے کو بہا لے گئی۔ نوح علیہ السلام کی قوم کے تمام منکرین اسی انجام کو پہنچے۔ خدا کی عدالت کا یہ بے لاگ فیصلہ تھا۔ اس سے محفوظ صرف وہی رہے جو ماننے والے تھے۔۶؂

یہ پہلی قیامت تھی جو خدا اور آخرت کے تصور کو اتمام حجت کے درجے تک مبرہن کر دینے کے لیے برپا کی گئی۔ اس کے بعد یہی معاملہ دنیا کی ہر قوم کے ساتھ ہوا۔ عاد، ثمود، قوم لوط، قوم شعیب، قوم یونس اور اس طرح کی بعض دوسری قوموں کے جو واقعات قرآن میں بیان ہوئے ہیں، وہ اسی کی مثالیں ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

اَلَمْ یَاْتِکُمْ نَبَؤُا الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ، قَوْمِ نُوْحٍ وَّعَادٍ وَّثَمُوْدَ، وَالَّذِیْنَ مِنْ بَعْدِہِمْ، لاَ یَعْلَمُہُمْ اِلاَّ اللّٰہُ، جَآءَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِِّنٰتِ فَرَدُّوْٓا اَیْْدِیَہُمْ فِیْٓ اَفْوَاہِہِمْ، وَقَالُوْٓا: اِنَّا کَفَرْنَا بِمَآ اُرْسِلْتُم بِہٖ، وَاِنَّا لَفِیْ شَکٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَنَآ اِلَیْْہِ مُرِیْبٍ. قَالَتْ رُسُلُہُمْ: اَفِی اللّٰہِ شَکٌّ، فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالاَرْضِ، یَدْعُوکُمْ لِیَغْفِرَ لَکُمْ مِّنْ ذُنُوْبِکُمْ، وَیُؤَخِّرَکُمْ اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی، قَالُوْٓا: اِنْ اَنْتُمْ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا، تُرِیْدُوْنَ اَنْ تَصُدُّوْنَا عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا، فَاْتُوْنَا بِسُلْطَانٍ مُّبِیْنٍ. قَالَتْ لَہُمْ رُسُلُہُمْ: اِنْ نَّحْنُ اِلاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ یَمُنُّ عَلٰی مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِہٖ، وَمَا کَانَ لَنَآ اَن نَّاْتِیَکُم بِسُلْطٰنٍ اِلاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ...وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِرُسُلِہِمْ: لَنُخْرِجَنَّکُم مِّنْ اَرْضِنَآ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا، فَاَوْحٰٓی اِلَیْْہِمْ رَبُّہُمْ: لَنُہْلِکَنَّ الظّٰلِمِیْنَ، وَلَنُسْکِنَنَّکُمُ الاَرْضَ مِنْ بَعْدِہِمْ، ذٰلِکَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَخَافَ وَعِیْدِ.(ابراہیم۱۴: ۹۔۱۴)

''تمھیں اُن لوگوں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزرے ہیں؟ قوم نوح اور عادوثمود کے حالات اور جو اُن کے بعد ہوئے ہیں، جنھیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا؟ اُن کے رسول اُن کے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے تو انھوں نے اپنے ہاتھ اُن کے منہ پر رکھ دیے، اور کہا کہ جو پیغام تمھیں دے کر بھیجا گیا ہے، ہم اُسے نہیں مانتے اور جس چیز کی طرف تم بلا رہے ہو، اس کے بارے میں ہم ایسے شبہات رکھتے ہیں جو سخت الجھن میں ڈال دینے والے ہیں۔ اُن کے رسولوں نے کہا: کیا تمھیں اللہ کے بارے میں شبہ ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے؟ وہ تمھیں بلاتا ہے تاکہ تمھارے گناہ معاف کرے اور تمھیں ایک مقرر وقت کے لیے مہلت دے۔ انھوں نے کہا: تم تو ہمارے ہی جیسے آدمی ہو۔ تم چاہتے ہو کہ ہمیں اُن ہستیوں کی عبادت سے روک دو جنھیں ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں تو ہمارے پاس کوئی کھلا ہوا معجزہ لاؤ۔ اُن کے رسولوں نے جواب دیا کہ ہم ہیں تو تمھارے ہی جیسے آدمی، لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے، اپنی عنایت فرماتا ہے، اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں کہ ہم تمھارے پاس کوئی معجزہ لادیں۔ اس طرح کا معجزہ تو اللہ کے اذن ہی سے آسکتا ہے...بالآخر ان منکروں نے اپنے رسولوں سے کہا؟ ہم تمھیں اس سرزمین سے نکال دیں گے یا تمھیں ہماری ہی ملت میں واپس آنا ہوگا۔تب اُن کے پروردگار نے انھیں وحی بھیجی کہ ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے اور ان کے بعد تمھیں اس سرزمین میں آباد کریں گے۔ یہ (بشارت ہے) اُن کے لیے جو میرے حضور میں پیشی کا خوف رکھتے ہوں اور میری وعید سے ڈرتے ہوں۔ ''

موسیٰ علیہ السلام کا قصہ بھی اسی دینونت کی سرگزشت ہے۔ فرعون اور اس کے اعیان واکابر کے سامنے جب انھوں نے اپنی دعوت پیش کی اور وہ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوئے تو انھوں نے مطالبہ کیا کہ اپنی قوم کے ساتھ وہ اس سرزمین سے ہجرت کرنا چاہتے ہیں، انھیں جانے دیا جائے۔ فرعون نے جس طرح ان کی دعوت قبول نہیں کی، اسی طرح ان کا یہ مطالبہ بھی ماننے سے انکار کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پے درپے اپنی تنبیہات نازل کیں جن کے نتیجے میں وہ بڑی مشکل سے آمادہ ہوا کہ چند روز کے لیے انھیں جانے کی اجازت دے دے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر روانہ ہوئے تو اس کی نیت تبدیل ہوگئی اور اپنی فوجوں کے ساتھ وہ ان کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔ اس کا خیال تھاکہ وہ انھیں مجبور کر کے واپس لے آئے گا۔ مگر اب فیصلے کا وقت آچکا تھا۔ لہٰذا یہ فیصلہ صادر ہوا اور اس شان کے ساتھ صادر ہوا کہ بنی اسرائیل کو گویا خدا نے اپنی آغوش میں لے کر دریا پار کرادیا اور اپنے وقت کا یہ باجبروت بادشاہ اسی دریا میں اپنے لشکروں سمیت غرق ہوا۔۷؂ پھر قدرت کی اس عظیم نشانی کے اندر ایک دوسری عظیم نشانی یہ ظاہر ہوئی کہ اس کی لاش کو سمندر نے قبول نہیں کیا اور ایک نشان عبرت بنانے کے لیے باہر پھینک دیا تاکہ زبان حال سے وہ ہردور کے فرعونوں کو متنبہ کرتی رہے:

وَجٰوَزْنَا بِبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ الْبَحْرَ فَاَتْبَعَہُمْ فِرْعَوْنُ وَجُنُوْدُہٗ بَغْیًا وَّعَدْوًا، حَتّآی اِذَآ اَدْرَکَہُ الْغَرَقُ، قَالَ: اٰمَنتُ اَنَّہٗ لٰآ اِلٰہَ اِلاَّ الَّذِیْ اٰمَنَتْ بِہٖ بَنُوْٓا اِسْرَآءِ یْلَ، وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ. اآلْءٰنَ، وَقَدْ عَصَیْْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ، فَالْیَوْمَ نُنَجِّیْکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوْنَ لِمَنْ خَلْفَکَ اٰیَۃً، وَاِنَّ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ.(یونس۱۰: ۹۰۔۹۲)/strong>

''اور بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر پار کرا دیا تو فرعون اور اس کی فوجوں نے سرکشی اور زیادتی کے ساتھ اُن کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اٹھا: میں نے مان لیا کہ اس ہستی کے سوا کوئی الٰہ نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں اور میں بھی اس کے فرماں برداروں میں سے ہوں۔ اب مانے ہو، حالانکہ اس سے پہلے تم نافرمانی کرتے رہے اور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھے! اس وقت تو ہم تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ اپنے بعد والوں کے لیے تو نشان عبرت بنے، اور حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں۔ ''

سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی بعثت کے بعد اس سے آگے ایک معاملہ یہ ہوا کہ ذریت ابراہیم کو بھی اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے اسی دینونت کا نمونہ بنادیا۔ چنانچہ اعلان کیا گیا کہ یہ اگر حق پر قائم ہو اور اسے بے کم وکاست اور پوری قطعیت کے ساتھ دنیا کی سب قوموں تک پہنچاتی رہے تو ان کے نہ ماننے کی صورت میں اللہ تعالیٰ ان قوموں پر اسے غلبہ عطا فرمائیں گے اور اس سے انحراف کرے تو انھی کے ذریعے سے ذلت اور محکومی کے عذاب میں مبتلا کر دیں گے۔ تین وزیتون، طور سینین اور مکہ کا شہر امین اسی دینونت کے مقامات ظہور ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کے اٹھائے جانے کے بعد ان کے منکرین پر عذاب کا فیصلہ جس پہاڑ پر سنایا گیا، وہ زیتون ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل پر اب ہمیشہ کے لیے مسیح کو ماننے والوں کا غلبہ ہوگا ۸؂ اور وقتاً فوقتاً ایسے لوگ ان پر مسلط ہوتے رہیں گے جو انھیں نہایت برے عذاب چکھائیں گے۔ ۹؂ تین اسی کوہ زیتون پر واقع ایک گاؤں ہے۔ لوقا میں ہے کہ مسیح علیہ السلام جب یروشلم آئے تو شہر میں داخل ہونے سے پہلے اس جگہ ٹھیرے۔ ۱۰؂ جبل طور کے بارے میں معلوم ہے کہ بنی اسرائیل نے بحیثیت امت اپنی زندگی اسی پہاڑ سے شروع کی۔ ام القریٰ مکہ سے ذریت ابراہیم کی دوسری شاح، بنی اسمٰعیل نے اپنی قومی زندگی کا آغاز کیا اور خدا کی زمین پر اس کی عبادت کے اولین مرکز بیت الحرام کی تولیت انھیں عطا کی گئی۔ قرآن نے ان کی شہادت پیش کر کے فرمایا ہے کہ ان مقامات پر ذریت ابراہیم کی جزاوسزاکو دیکھنے کے بعد وہ کیا چیز ہے جو قیامت میں خدا کی جزاوسزا کو جھٹلاسکتی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَالتِّیْنِ وَالزَّیْْتُوْنِ، وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ، وَہٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ، لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ، ثُمَّ رَدَدْنٰہُ اَسْفَلَ سٰفِلِیْنَ، اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ، فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْْرُ مَمْنُوْنٍ. فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ؟ اَلَیْْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ؟(التین۹۵: ۱۔۸)

''تین اور زیتون گواہی دیتے ہیں، اور طور سینین اور (تمھارا) یہ شہر امین بھی کہ انسان کو ہم نے (ان مقامات پر) پیدا کیا تو اس وقت وہ بہترین ساخت پر تھا۔ پھر ہم نے اسے پستی میں ڈال دیا، اس طرح کہ وہ خود ہی پستیوں میں گرنے والا ہوا۔ رہے وہ جو ایمان پر قائم رہے اور انھوں نے نیک عمل کیے تو اُن کے لیے ایسا اجر ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا۔ اس کے بعد کیا چیز ہے، (اے پیغمبر)، جو روز جزا کے بارے میں تمھیں جھٹلاتی ہے؟ (ان سے پوچھو)، کیا اللہ سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر فیصلہ کرنے والا نہیں ہے؟''

———————-

۴؂ پیدایش۴: ۱۔۱۲۔

۵؂ النساء ۴:۱۶۵۔ ''تاکہ ان رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے کوئی عذر اللہ کے حضور میں پیش کرنے کے لیے باقی نہ رہے۔''

۶؂ الاعراف۷: ۵۹۔۶۴۔ یونس۱۰: ۷۱۔۷۳۔ ہود۱۱:۲۵۔۴۹۔ المومنون۲۳:۲۳۔۳۱۔ الشعراء۲۶: ۱۰۵۔۱۲۲۔ العنکبوت۲۹: ۱۴۔۱۵۔ الصافات۳۷: ۷۵۔۸۲ ۔القمر۵۴: ۹۔۱۶۔

۷؂ اس کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو: الاعراف۷:۱۰۳۔۱۳۶۔ یونس۱۰: ۷۵۔۸۹۔ بنی اسرائیل۱۷: ۱۰۱۔۱۰۳۔ طہٰ۲۰: ۴۰۔ ۷۹۔المومنون۲۳:۴۵۔۴۸۔الشعراء۲۶: ۱۰۔۶۸۔ القصص۲۸: ۳۶۔۴۰۔الصٰفٰت۳۷: ۱۱۴۔۱۱۹۔ الزخرف۴۳: ۴۶۔ ۵۶۔ الذاریات۵۱: ۳۸۔۴۰۔ النازعات۷۹: ۱۵۔۲۶۔

۸؂ آل عمران۳:۵۵۔

۹؂ الاعراف۷:۱۶۷۔

۱۰؂ ۱۹:۲۹۔