(ایمانیات (4


یہ دینونت آخری مرتبہ ساتویں صدی عیسوی میں برپا ہوئی۔ انسانی تاریخ کا یہ حیرت انگیز واقعہ اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ تاریخ کی روشنی میں ہوا ہے۔ چنانچہ اس کے جزئیات تک بالکل محفوظ اور اس کے تمام مراحل گویا آنکھوں کے سامنے ہیں جنھیں کوئی شخص جب چاہے، تاریخ کے اوراق کو الٹ کر دیکھ سکتا ہے۔

اس کے لیے جس پیغمبر کا انتخاب کیاگیا، ان کا نام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہے۔ آپ سیرت وکردار میں ساری انسانیت سے بلند، نسل انسانی کے بہترین فرد اور آخری درجے میں ایک معیاری انسان تھے۔ آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ اس سے پہلے آپ کی پوری زندگی اخلاقی لحاظ سے اس قدر ممتاز تھی کہ آپ کی قوم آپ کو صادق اور امین کے لقب سے پکارتی تھی۔ اس کا ایک ایک فرد یہ گواہی دینے کے لیے تیار تھا کہ آپ کی امانت ودیانت ہر شبے سے بالا ہے اور آپ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔ نبوت کے بعد بھی آپ کی قوم کے لوگوں نے آپ کے متعلق ہر موقع پر یہی شہادت دی، دراں حالیکہ اس وقت وہ آپ کی جان کے دشمن ہوچکے تھے۔

پہلی مرتبہ جب آپ کو وحی کا تجربہ ہوا اور آپ نے اپنی اہلیہ سے پریشانی کا اظہار کیا تو انھوں نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے کہا: بخدا، اللہ آپ کو کبھی رسوانہ کرے گا، اس لیے کہ آپ صلۂ رحمی کرتے ہیں، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، آپ لوگوں کے بوجھ اٹھاتے ہیں، آپ ناداروں کو کما کردیتے ہیں، آپ مہمان نوازی کرتے ہیں، آپ آفت زدوں کی مدد کرتے ہیں۔۱۱؂

اپنی ذات کے لیے آپ نے کبھی کسی سے انتقام نہیں لیا۔ یہاں تک کہ اپنے بدترین دشمنوں پر آخری فتح پانے کے بعد بھی آپ نے یہی کہا کہ جاؤ، تم سب آزاد ہو، میں تمھارے خلاف کوئی داروگیر نہ کروں گا۔۱۲؂

آپ کی زندگی بے غرضی کا بے مثل نمونہ تھی۔ قریش نے آپ کو مال ودولت، سرداری، بادشاہی، ہر چیز کی پیش کش کی، لیکن آپ نے ان میں سے کسی چیز کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کیا۔ بلکہ یہ کہا کہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور دوسرے پر چاند بھی لا کر رکھ دیں تو میں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہ ہوں گا۔ ۱۳؂

مدینہ میں آپ کی حکومت قائم ہوئی، مگر آپ نہایت معمولی حالت میں رہے۔ آپ کے حالات میں اس قدر غیر معمولی تبدیلی کے باوجود آپ کے رہن سہن اور طرز زندگی میں کوئی ادنیٰ تبدیلی بھی نہیں آئی۔

غرض یہ کہ اپنی زندگی کے ہر دور اور ہر معاملے میں آپ ایک بے نظیر انسان تھے۔ ساری معلوم تاریخ میں کسی ایک شخص کانام بھی نہیں لیا جاسکتا جس نے اخلاقیات کے جو آدرش بیان کیے ہوں، انھیں لوگوں نے اس کی زندگی میں اس طرح بہ تمام وکمال ظاہر ہوتے دیکھا ہو۔ دورحاضر کے ایک عالم اور مصنف کے الفاظ ہیں: آپ کی انسانیت اتنی بلند تھی کہ اگر آپ پیدانہ ہوتے تو تاریخ کو لکھنا پڑتا کہ اس طرح کا انسان نہ کوئی پیدا ہوا ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ ۱۴؂

آپ پر جو کتاب نازل ہوئی، وہ بجائے خود ایک معجزہ ہے۔ تمام کتابوں میں یہ ایک ہی کتاب ہے جس نے اپنے مخاطبین کو چیلنج کیا کہ وہ اگر اپنے اس گمان میں سچے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں ہے، بلکہ محمد اسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہے ہیں تو جس شان کا یہ کلام ہے، اس شان کی کوئی ایک سورت ہی بنا کر پیش کریں۔ ان کی قوم کا ایک فرد اگر ان کے بقول بغیر کسی علمی اور ادبی پس منظر کے یہ کام کرسکتا ہے تو انھیں بھی اس میں کوئی دقت نہ ہونی چاہیے۔

قرآن کا یہ دعویٰ ایک حیرت انگیز دعویٰ تھا۔ اس کے معنی یہ تھے کہ قرآن ایک ایسا کلام ہے جس کے مانند کوئی کلام انسانی ذہن کے لیے تخلیق کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ فصاحت وبلاغت اور حسن بیان کے لحاظ سے قرآن کی غیرمعمولی انفرادیت کا دعویٰ تھا۔ یہ اس بات کا دعویٰ تھاکہ وہ کوئی ایسا کلا م پیش کریں جس میں قرآن ہی کی طرح خدا بولتا ہوا نظر آئے، جو ان حقائق کو واضح کرے جن کا واضح ہونا انسانیت کی شدید ترین ضرورت ہے اور وہ کسی انسان کے کلام سے کبھی واضح نہیں ہوئے، جو ان معاملات میں رہنمائی کرے جن میں رہنمائی کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔ ایک ایسا کلام جس کے حق میں وجدان گواہی دے، علم وعقل کے مسلمات جس کی تصدیق کریں، جو ویران دلوں کو اس طرح سیراب کردے، جس طرح مردہ زمین کو بارش سیراب کرتی ہے، جس میں وہی شان اور وہی تاثیر ہو جو قرآن کا پڑھنے والا، اگر اس کی زبان سے واقف ہوتو اس کے لفظ لفظ میں محسوس کرتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کے مخاطبین میں سے کوئی بھی اس چیلنج کا سامنا کرنے کی جرأت نہیں کرسکا:

وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ، وَادْعُوْا شُہَدَآءَ کُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ، اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ، فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا، وَلَنْ تَفْعَلُوْا، فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْ وَقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ، اُعِدَّتْ لِلْکٰفِرِیْنَ.(البقرہ۲: ۲۴۲۳)

''اور جو کچھ ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے، اس کے بارے میں اگر تمھیں شبہ ہے تو (جاؤ اور) اِس کے مانند ایک سورہ ہی بنا لاؤ اور (اِس کے لیے) خدا کے سوا تمھارے جو زعما ہیں، انھیں بھی بلالو، اگر تم (اپنے اس گمان میں) سچے ہو۔ پھر اگر نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکو گے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن یہ لوگ بھی ہوں گے (جو نہیں مانتے) اور ان کے وہ پتھر بھی (جنھیں یہ پوجتے ہیں)۔ وہ انھی منکروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔''

پھر یہی نہیں، اس کتاب کے مختلف اجزا کم وبیش تیئس سال کے عرصے میں وقتاً فوقتاً لوگوں کے سامنے پیش کیے گئے، لیکن اس میں فکروخیال کا کوئی ادنیٰ تناقض بھی تلاش نہیں کیا جاسکتا۔ کیا دنیا میں کوئی ایسا انسان بھی ہوسکتا ہے جو سال ہاسال تک مختلف حالات میں اور مختلف موقعوں پر اس طرح کے متنوع موضوعات پر تقریریں کرتا رہے اور شروع سے آخر تک اس کی یہ تمام تقریریں جب مرتب کی جائیں تو ایک ایسے ہم رنگ اور متوافق مجموعۂ کلام کی صورت اختیار کر لیں جس میں نہ خیالات کا کوئی تصادم ہو، نہ متکلم کے دل ودماغ میں پیدا ہونے والی کیفیات کی کوئی جھلک دکھائی دے، اور نہ رائے اور نقطۂ نظر کی تبدیلی کے کوئی آثار کہیں دیکھے جا سکتے ہوں؟ یہ تنہا قرآن ہی کی خصوصیت ہے:

اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ؟ وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْْرِ اللّٰہِ لَوَجَدُوْا فِیْہِ اخْتِلاَفًا کَثِیْرًا.(النساء۴: ۸۲)

''پھرکیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اور (حقیقت یہ ہے کہ) اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں وہ بڑے تضادات دیکھتے۔''

استاذ امام لکھتے ہیں:

''...قرآن کی ہر بات اپنے اصول اور فروع میں اتنی مستحکم اور مربوط ہے کہ ریاضی اور اقلیدس کے فارمولے بھی اتنے مستحکم ومربوط نہیں ہو سکتے۔ وہ جن عقائد کی تعلیم دیتا ہے، وہ ایک دوسرے سے اس طرح وابستہ وپیوستہ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی الگ کر دیجیے تو پورا سلسلہ ہی درہم برہم ہوجائے۔ وہ جن عبادات وطاعات کا حکم دیتا ہے، وہ عقائد سے اس طرح پیدا ہوتی ہیں جس طرح تنے سے شاخیں پھوٹتی ہیں۔ وہ جن اعمال واخلاق کی تلقین کرتا ہے، وہ اپنے اصول سے اس طرح ظہور میں آتے ہیں جس طرح ایک شے سے اس کے قدرتی اور فطری لوازم ظہور میں آتے ہیں۔ اس کی مجموعی تعلیم سے زندگی کا جو نظام بنتا ہے، وہ ایک بنیان مرصوص کی شکل میں نمایاں ہوتا ہے جس کی ہر اینٹ دوسری اینٹ سے اس طرح جڑی ہوئی ہے کہ ان میں سے کسی کوبھی الگ کرنا بغیر اس کے ممکن نہیں کہ پوری عمارت میں خلا پیدا ہو جائے۔'' (تدبر قرآن ۲ /۳۴۷)

خداکی یہ کتاب اس وقت بھی ہمارے پاس موجود ہے۔ اس پر کم وبیش چودہ صدیاں گزر چکی ہیں۔ اس عرصے میں دنیا کیا سے کیا ہوگئی۔ بنی آدم نے نظریہ وخیال کے کتنے بت تراشے اور پھر خود ہی توڑ دیے۔ انفس وآفاق کے بارے میں انسان کے نظریات میں کتنی تبدیلیاں آئیں اور اس نے ترک واختیار کے کتنے مرحلے طے کیے۔ وہ کس کس راہ سے گزرا اور بالآخر کہاں تک پہنچا، لیکن یہ کتاب جس میں بہت سی وہ چیزیں بھی بیان ہوئی ہیں جو ان پچھلی دو صدیوں میں علم وتحقیق کا خاص موضوع رہی ہیں، دنیا کے سارے لٹریچر میں بس ایک ہی کتاب ہے جو اس وقت بھی اسی طرح اٹل اور محکم ہے، جس طرح اب سے چودہ سوسال پہلے تھی۔ علم وعقل اس کے سامنے جس طرح اس وقت اعتراف عجز کے لیے مجبور تھے، اسی طرح آج بھی ہیں۔ اس کا ہر بیان آج بھی پوری شان کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم ہے۔ دنیا اپنی حیرت انگیز علمی دریافتوں کے باوجود اس میں کسی ترمیم وتغیر کے لیے کوئی گنجایش پیدا نہیں کرسکی:

وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰہُ، وَبِالْحَقِّ نَزَلَ، وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا.(بنی اسرائیل۱۷: ۱۰۵)

''اور ہم نے اس کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور یہ حق ہی کے ساتھ اترا ہے اور ہم نے تم کو، اے پیغمبر، صرف اِس لیے بھیجا ہے کہ (ماننے والوں کو) بشارت دو اور (جو انکار کریں)، انھیں خبردار کردو۔''

محمد رسول اللہ نے اسی کتاب کے ذریعے سے اپنی قوم کو خدا اور آخرت پر سچے ایمان کی دعوت دی، مگر قوم نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ آپ نے انھیں خبردار کیا کہ نبوت کے ساتھ آپ رسالت کے منصب پر بھی فائز ہوئے اور خدا کی عدالت بن کر آئے ہیں، لہٰذا جو قیامت صغریٰ قوم نوح، قوم لوط، قوم شعیب اور عادوثمود کے لیے برپا ہوئی تھی، وہ آپ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آپ کی قوم کے لیے بھی برپا ہوجائے گی۔

یہ ایک غیر معمولی اعلان تھا۔ اس کے معنی یہ تھے کہ آپ کے منکرین پر خدا کا عذاب آئے گا اور آپ کے ماننے والوں کو اس سرزمین میں لازماً غلبہ حاصل ہوجائے گا۔ یہ اعلان جب کیا گیا تو چند قریبی لوگوں کے سوا کوئی بھی آپ کا حامی نہ تھا۔ اس کے بعد بھی آپ کی جدوجہد میں بہت سے نازک مرحلے آئے۔ مخالفین کی ایذارسانیوں سے بچنے کے لیے آپ کے ساتھیوں کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی، انھیں مکہ سے ہمیشہ کے لیے نکلنا پڑا، وہ دن بھی دیکھنا پڑے جب مدینہ پہنچنے کے بعد پورا عرب آپ کو اور آپ کی دعوت کو مٹا دینے کے درپے ہوا۔ قوت، سرمایہ، پروپیگنڈا اور اندرونی سازشیں، سب روبہ عمل ہوگئیں۔ ہر لمحے یہ محسوس ہوتا تھا کہ چاروں طرف پھیلے ہوئے آپ کے دشمن آپ کو اچک لے جائیں گے۔ ان حالات میں یہ بالکل ناقابل قیاس تھا کہ آپ ان لوگوں پر غالب آسکتے ہیں، لیکن قرآن نے ہر موقع پر اسی اعتماد اور قطعیت کے ساتھ فرمایا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، ان تمام مخالفتوں کے علی الرغم اللہ آپ کو غالب کرکے رہے گا:۱۵؂

یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِءُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ، وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ، وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ. ہُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْہُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ، وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُوْنَ.(الصف۶۱: ۹۸)

''وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے اس نور کو اپنے مونہوں کی پھونک سے بجھادیں اور اللہ نے فیصلہ کررکھا ہے کہ وہ اپنے نور کا اتمام کر کے رہے گا، اگرچہ ان منکروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت یعنی دین حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ اسے وہ (سرزمین عرب کے) تمام ادیان پر غالب کر دے، اگرچہ یہ مشرک اسے کتنا ہی ناپسند کریں۔''

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَآدُّوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗٓ، اُولٰٓءِکَ فِی الْاَذَلِّیْنَ. کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ، اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ.(المجادلہ۵۸: ۲۰ ۲۱)

''یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کررہے ہیں، یہی ذلیل ہوں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں غالب رہوں گا اور میرے رسول بھی۔ اس لیے کہ اللہ قوی ہے، وہ بڑا زبردست ہے۔''

آپ کی بعثت جن لوگوں میں ہوئی، بیت اللہ ان کی سیادت کا نشان تھا۔وہ اس کے متولی تھے۔ ام القریٰ مکہ اور اس کے نواح میں جو اثرورسوخ انھیں حاصل تھا، اس کی بنا پر کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ آپ ایک دن اس کی تولیت سے انھیں معزول کردیں گے اور قریش کی پوری قیادت ہلاک ہوجائے گی، لیکن عین اس وقت، جب وہ آپ کو مکے سے نکالنے کے درپے تھے، قرآن نے اعلان کیا:

اِنَّآ اَعْطَیْْنٰکَ الْکَوْثَرَ، فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ، اِنَّ شَانِءَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ.(الکوثر۱۰۸: ۱ ۳)

''ہم نے یہ خیر کثیر، (اپنا یہ گھر) تمھیں عطا کر دیا ہے، (اے پیغمبر)، اِس لیے تم (اِس میں اب) اپنے پروردگار ہی کی نماز پڑھنا اور اُسی کے لیے قربانی کرنا۔ اس میں شبہ نہیں کہ تمھارا دشمن ہی جڑکٹا ہے، اُس کا کوئی نام لیوا نہ رہے گا۔''

پھر اس اجمال کو قرآن نے کھول دیا اور آپ کی دعوت کے سب سے بڑے دشمن ابولہب کا نام لے کر فرمایا:

تَبَّتْ یَدَآ اَبِیْ لَہَبٍ وَّتَبَّ، مَآ اَغْنٰی عَنْہُ مَالُہٗ وَمَا کَسَبَ، سَیَصْلٰی نَارًا ذَاتَ لَہَبٍ، وَّامْرَاَتُہٗ حَمَّالَۃَ الْحَطَبِ، فِیْ جِیْدِہَا حَبْلٌ مِّنْ مَّسَدٍ.(اللہب۱۱۱:۵۱)

''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوا۔ اس کا مال ہی اس کے کام آیا اور نہ وہ (خیر) جو اُس نے کمایا۔ یہ (شعلہ رو) اب زیادہ دن نہ گزریں گے کہ شعلہ زن آگ میں پڑے گا اور (اِس کے ساتھ) اُس کی بیوی بھی۔ اِس طرح کہ (دوزخ میں) وہ (اپنے لیے) ایندھن ڈھو رہی ہوگی، (لونڈیوں کی طرح) اُس کے گلے میں بٹی ہوئی رسی ہوگی۔''

اس کے بعد کیا ہونے والا ہے؟ قرآن نے ایک ایک مرحلے کو اس صراحت کے ساتھ بیان کیا کہ اللہ کی مدد آئے گی، مکہ فتح ہوگا اور آپ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ آپ کی قوم کے لوگ اللہ کے دین میں جوق درجوق داخل ہو رہے ہیں:

اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ، وَرَاَیْْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اَفْوَاجًا، فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ، اِنَّہٗ کَانَ تَوَّابًا.(النصر۱۱۰:۳۱)

''اللہ کی مدد اور وہ فتح جب آجائے، (اے پیغمبر، جس کا وعدہ ہم نے تم سے کیا ہے) اور تم لوگوں کو جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہوتے دیکھ لو تو اپنے پروردگار کی تسبیح کرو اس کی حمد کے ساتھ اور اس سےمعافی چاہو، (اِس لیے کہ) وہ بڑا ہی معاف کرنے والا ہے۔''

پھر ایک موقع پر اس سے زیادہ وضاحت کے ساتھ فرمایا:

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِیْ الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ، وَلَیُمَکِّنَنَّ لَہُمْ دِیْنَہُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَہُمْ، وَلَیُبَدِّلَنَّہُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِہِمْ اَمْنًا، یَعْبُدُوْنَنِیْ، لَا یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْْءًا، وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ، فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ.(النور۲۴: ۵۵)

''تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ اُن کو وہ اس ملک میں لازماً اقتدار عطا فرمائے گا، جس طرح اس نے اُن لوگوں کو اقتدار عطا فرمایا جو ان سے پہلے گزرے اور اُن کے اس دین کو (یہاں) مضبوطی سے قائم کردے گا جو اُس نے اُن کے لیے پسند فرمایا اور جس خوف کی حالت میں وہ اس وقت ہیں، اسے امن میں بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرے ساتھ شریک نہ کریں گے، اور جو اس کے بعد بھی منکرہوں گے، وہی ہیں جو نافرمان ٹھیریں گے۔''

یہ کسی انسان کے الفاظ نہیں تھے کہ ابدی حسرتوں کے ساتھ فضا میں تحلیل ہوجاتے۔ یہ خدا کے الفاظ تھے جو اس کے پیغمبر کی زبان پر جاری ہوئے، اس لیے تھوڑے ہی دنوں میں تاریخ بن گئے، ایک ایسی تاریخ جس کی کوئی مثال دنیا کی تاریخ سے پیش نہیں کی جاسکتی۔ چنانچہ خدا کی نصرت آئی، مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت قائم ہوئی، بدر کا معرکہ ہوا اور قریش کی قیادت میں آپ کی دعوت کے تمام معاندین اس میں ہلاک ہوگئے۔ ۱۶؂ ابو لہب نے اس عذاب سے بچنے کی کوشش کی اور جنگ میں شامل نہیں ہوا، لیکن بدر کی شکست کے صرف سات دن بعد قرآن کی پیشین گوئی پوری ہو گئی اور بنی ہاشم کے اس سردار کا عدسے کی بیماری سے اس طرح خاتمہ ہوا کہ مرنے کے بعد تین دن تک کوئی اس کے پاس نہ آیا، یہاں تک کہ اس کی لاش سڑ گئی اور بدبو پھیلنے لگی۔ آخر کار ایک گڑھا کھدوایا گیا اور لکڑیوں سے دھکیل کراس کی لاش اس میں پھینک دی گئی۔ ۱۷؂ مکہ فتح ہوا، بیت اللہ کی تولیت مسلمانوں کو منتقل ہوگئی، خدا کے اس گھر کو بتوں سے پاک کر کے نماز اور قربانی، دونوں اللہ کے لیے خاص کر دی گئیں، پورا عرب مسلمان ہوگیا اور ہر شخص نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ قرآن کی تعبیر کے عین مطابق لوگ جوق درجوق اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں۔ چنانچہ دین کو تمکن حاصل ہوا، خدا کی شریعت نافذ ہوگئی اور کسی دوسرے دین کا اقتدار سرزمین عرب میں باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد بھی جو لوگ انکار پر قائم رہے، ان کے متعلق ۹ ہجری میں حج اکبر کے موقع پر اعلان کردیا گیا کہ حرام مہینے گزر جانے کے بعد وہ عذاب کی زد میں ہوں گے اور مسلمان انھیں جہاں پائیں گے، قتل کردیں گے۔۱۸؂ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے رخصت ہوجانے کے بعد آپ کے جانشینوں نے چند ہی برسوں میں ان سب سلطنتوں کا تختہ بھی الٹ دیا جن کے حکمرانوں کو اپنی وفات سے پہلے آپ نے خط لکھ کر اسلام کی دعوت دی تھی اور صاف بتا دیا تھا کہ وہ سلامتی چاہتے ہیں تو آپ کی دعوت قبول کر لیں، اس لیے کہ خدا کے رسول کی طرف سے اتمام حجت کے بعد انھیں لازماً مغلوب ہو کر رہنا ہے، ان کی سلطنت اب قائم نہیں رہ سکتی۔ ان میں روما وایران کی وہ عظیم سلطنتیں بھی تھیں جن کی باہمی کشمکش میں ایک موقع پر قرآن نے پیشین گوئی کی تھی کہ رومی اگرچہ اس وقت مغلوب ہوگئے ہیں، مگر عنقریب وہ ایرانیوں پر غلبہ پالیں گے اور قرآن کی یہ حیرت انگیز پیشین گوئی بھی اس کی دوسری تمام پیشین گوئیوں کی طرح حرف بہ حرف پوری ہوگئی تھی۔ ۱۹؂

دین کی حجت اسی دینونت سے پورے عالم پر قائم ہوئی ہے۔ انبیا علیہم السلام کی بعثت کا مقصد اتمام حجت ہے۔ یہ مقصد جب اس دینونت کے ظہور سے عالمی سطح پرپورا ہوگیا تو اعلان کیاگیا کہ نبوت ختم ہوگئی ۲۰؂ اور قرآن کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا گیا ہے۔ ۲۱؂ یہ کتاب الہٰی اسی دینونت کی سرگزشت ہے اور اپنے ماننے والوں سے جس ایمان کا تقاضا کرتی ہے، وہ درج ذیل پانچ چیزوں سے عبارت ہے:

۱۔اللہ پر ایمان

۲۔فرشتوں پر ایمان

۳۔ نبیوں پر ایمان

۴۔ کتابوں پر ایمان

۵۔روزجزا پر ایمان

ارشاد فرمایا ہے:

اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ، کُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلٰٓءِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ، لاَ نُفَرِّقُ بَیْْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ، وَقَالُوْا: سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا، غُفْرَانَکَ رَبَّنَا، وَاِلَیْْکَ الْمَصِیْرُ.(البقرہ۲: ۲۸۵)

''ہمارے پیغمبر نے تو اس چیز کو مان لیا جو اس کے پروردگار کی طرف سے اس پر نازل کی گئی، اور اُس کے ماننے والوں نے بھی۔ یہ سب اللہ پر ایمان لائے، اور اُس کے فرشتوں اور اُس کی کتابوں اور اس کے پیغمبروں پر ایمان لائے۔ (اِن کا اقرار ہے کہ) ہم اللہ کے پیغمبروں میں سے کسی کے مابین کوئی فرق نہیں کرتے اور اِنھوں نے کہہ دیا ہے کہ ہم نے سنا اور سراطاعت جھکا دیا۔ پروردگار، ہم تیری مغفرت چاہتے ہیں اور (جانتے ہیں کہ) ہمیں لوٹ کر تیرے ہی حضور میں پہنچنا ہے۔''

ہم یہاں ان کی وضاحت کریں گے، لیکن اس سے پہلے یہ ضروری ہے کہ ایمان کی حقیقت بھی واضح کر دی جائے۔

———————-

۱۱؂ بخاری، رقم ۴۹۵۲۔ مسلم، رقم ۱۶۰۔

۱۲؂ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام ۴/۴۳۔

۱۳؂ السیرۃ النبویہ، ابن اسحاق۱۱۷۔ السیرۃ النبویہ، ابن کثیر۱/۴۷۴۔

۱۴؂ مذہب اور جدید چیلنج، وحیدالدین خاں۱۴۳۔

۱۵؂ الانعام۶: ۵،۴۹، ۶۷، ۱۵۸۔ یونس۱۰: ۱۳،۱۰۳۔ ہود۱۱:۸۔ الرعد۱۳:۴۰۔۴۱۔ بنی اسرائیل۱۷: ۷۷۔ الکہف۱۸: ۵۷۔۵۸۔ النمل۲۷: ۷۱۔۷۲۔ الصٰفٰت۳۷: ۱۷۱۔۱۷۳۔ المومن۴۰: ۵۱،۷۷۔۷۸۔ الزخرف۴۳: ۴۱۔۴۲۔ الاحقاف۴۶: ۳۵۔ الفتح۴۸:۲۲۔ ۲۵،۲۸۔ القمر۵۴: ۴۳۔۴۵۔ اللیل۹۲:۲۱۔ الضحیٰ۹۳:۵۔ الم نشرح۹۴: ۵۔۶۔

۱۶؂ السیرۃ النبویہ، ابن ہشام۲/۱۹۷۔

۱۷؂ السیرۃ النبویہ، ابن کثیر ۲/۴۷۹۔

۱۸؂ التوبہ۹:۵۔

۱۹؂ الروم۳۰:۱۔۶۔

۲۰؂ الاحزاب۳۳:۴۰۔

۲۱؂ الحجر۱۵:۹۔