ایمانیات (5)


ایمان کی حقیقت

ایمان ایک قدیم دینی اصطلاح ہے۔ 'اٰمن' کا مادہ عبرانی زبان میں بھی موجود ہے اور صدق و اعتماد کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اسی سے 'اٰمین' کا کلمہ ہے جس سے ہم کسی بات کی تصدیق کرتے ہیں۔ قرآن میں یہ تعبیر اسی مفہوم کے لیے آئی ہے۔ چنانچہ جب کسی چیز کو دل کے پورے یقین کے ساتھ تسلیم کر لیا جائے تو اسے ایمان کہا جاتا ہے۔ اس کی اصل خدا پر ایمان ہے۔ انسان اگر اپنے پروردگار کو اس طرح مان لے کہ تسلیم و رضا کے بالکل آخری درجے میں اپنے دل و دماغ کو اس کے حوالے کر دے توقرآن کی اصطلاح میں وہ مومن ہے۔ امام حمید الدین فراہی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے:

''...پس وہ یقین جو خشیت، توکل اور اعتقاد کے تمام لوازم و شرائط کے ساتھ پایا جائے، ایمان ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے ، اپنا سب کچھ اس کو سونپ دے، اس کے فیصلوں پر راضی ہو جائے، وہ مومن ہے۔'' (تفسیر سورۃ والعصر۳۱)

ایمان کی یہی حقیقت ہے جس کی بنا پر قرآن تقاضا کرتا ہے کہ دل کی تصدیق کے ساتھ انسان کے قول و عمل کو بھی اس پر گواہ ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہر نیکی کو وہ ایمان کا خاصہ اور ایمان والوں کا لازمی وصف بتاتا ہے۔ جن روایتوں میں اس طرح کی چیزیں بیان ہوئی ہیں کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ ہوں،۲۲؂ اور ایمان کی ستر سے کچھ اوپر شاخیں ہیں، جن میں سے ایک شرم و حیا بھی ہے ۲۳؂ اور جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ ہم سایے سے حسن سلوک کرے، مہمان کی عزت کرے اور بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے،۲۴؂ وہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس سے واضح ہے کہ قرآن مجید میں ایمان کے بعد عمل صالح کا ذکر ایک طرح کی وضاحت کے طور پر آتا ہے او راس کی نوعیت بالکل وہی ہے جو عام پر خاص کے عطف کی ہوتی ہے۔ امام فراہی لکھتے ہیں:

''...ایمان کا محل دل اور عقل ہے اور عقل و دل کے معاملات میں انسان نہ صرف دوسروں کو دھوکا دے سکتا ہے، بلکہ بسا اوقات خود بھی دھوکے میں رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ مومن ہے، حالاں کہ وہ مومن نہیں ہوتا۔ اس وجہ سے ایمان کے دو شاہد قرار دیے گئے: ایک قول، دوسرے عمل۔ اور چونکہ قول بھی جھوٹ ہو سکتا ہے، اس وجہ سے صرف زبان سے اقرار کرنے والا مومن نہیں قرا ردیا گیا، بلکہ ضروری ہوا کہ آدمی کا عمل اس کے ایمان کی تصدیق کرے۔''(تفسیر سورۃ والعصر ۳۲)

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ، وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ اٰیٰتُہٗ زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا، وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ، الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰہُمْ یُنْفِقُوْنَ، اُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا، لَہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَمَغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ.(الانفال ۸ :۲۔۴)

''ایمان والے تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل لرز جائیں اور جب اس کی آیتیں انھیں پڑھ کر سنائی جائیں تو اُن کا ایمان بڑھ جائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسارکھیں، جو نماز کا اہتمام کریں اور جو کچھ ہم نے انھیں عطا فرمایا ہے، اس میں سے (ہماری راہ میں) خرچ کریں۔ یہی سچے مومن ہیں۔ ان کے پروردگار کے پاس ان کے لیے درجے ہیں اور مغفرت ہے اور بڑی عزت کی روزی ہے۔''

اسی طرح فرمایا ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ، ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا، وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ.(الحجرات ۴۹ :۱۵)

''ایمان والے تو وہی ہیں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کو مانا، پھر کسی ریب وگمان میں مبتلا نہیں ہوئے اور اپنی جان و مال سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔ یہی لوگ (اپنے ایمان میں )سچے ہیں۔''

اس میں شبہ نہیں کہ قانون کی نگاہ میں ہر وہ شخص مومن ہے جو زبان سے اسلام کا اقرار کرتا ہے۔ اس کا یہ ایمان کم یا زیادہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن جہاں تک حقیقی ایمان کا تعلق ہے، وہ ہرگز کوئی جامد چیز نہیں ہے۔ اوپر انفال کی جو آیات ہم نے نقل کی ہیں، ان سے واضح ہے کہ اللہ کے ذکر اور اس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس و آفاق میں ان کے ظہور سے اس میں افزونی ہوتی ہے۔ قرآن مجید نے اسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے اعماق میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں:

اَلَمْ تَرَکَیْْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً، کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ، اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَآءِ، تُؤْتِیْٓ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا، وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ، لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ.(ابراہیم ۴ :۲۴۔۲۵)

''کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کلمۂ طیبہ کی مثال کس طرح بیان فرمائی ہے؟ اس کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شجرۂ طیبہ جس کی جڑیں زمین میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ ہر موسم میں وہ اپنا پھل اپنے پروردگا رکے حکم سے دے رہا ہے۔ (یہ اس کی تمثیل ہے) اور اللہ یہ تمثیلیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ یاد دہانی حاصل کریں۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس ارشاد خداوندی کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے:

''آیات میں کلمۂ طیبہ سے مراد، ظاہر ہے کہ کلمۂ ایمان ہے۔ اس کی تمثیل اللہ تعالیٰ نے ایسے ثمر بار درخت سے دی ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری اتری ہوئی اور اس کی شاخیں فضا میں خوب پھیلی ہوئی ہوں اور وہ برابر ہر موسم میں اپنے رب کے فضل سے ثمر باری کر رہا ہو۔ زمین میں جڑوں کے گہرے اترنے سے مقصود فطرت انسانی کے اندر اس کا رسوخ و استحکام ہے کہ وہ گھورے پر اگے ہوئے پودے کی مانند نہیں ہے جس کی کوئی جڑ نہ ہو، حوادث کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی اس کو اکھاڑ پھینکے، جیسا کہ کلمۂ کفر کی بابت فرمایا ہے کہ 'اجْتُثَّتْ مِنْ فَوْقِ الْاَرْضِ، مَا لَھَا مِنْ قَرَارٍ'۲۵؂ (جو زمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اسے ذرا بھی ثبات حاصل نہ ہو)۔ بلکہ وہ ایک تناور درخت کے مانند اتنی پائدار اور گہری جڑیں رکھتا ہے کہ اگراس پر سے طوفان بھی گزر جائیں، جب بھی وہ ذرا متاثر نہ ہو۔ پھر اس کی فیض بخشی اور ثمر باری کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ٹھونٹھ درخت کے مانند نہیں ہے، جس سے نہ کسی کو سایہ حاصل ہو نہ پھل، بلکہ اس کی فضا میں پھیلی ہوئی سایہ دار شاخوں کے سایے میں قافلے آرام کرتے اور ہر موسم میں اس کے پھلوں سے غذا اور آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ ان فیوض و برکات کی طرف ہے جو ایک صاحب ایمان کے ایمان سے خود اس کی زندگی اور اس کے توسط سے ان لوگوں کی زندگیوں پر مترتب ہوتے ہیں جو اس سے کسی نوعیت سے قرب کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ یہ فیوض و برکات لازماً علمی اور عملی، دونوں ہی قسم کے ہوتے ہیں جو اس کے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اور ان سے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف رفعت و سرفرازی حاصل ہوتی ہے۔''(تزکیۂ نفس ۳۲۵)

یہی معاملہ ایمان میں کمی کا ہے انسان اگر اپنے ایمان کو علم نافع اور عمل صالح سے برابر بڑھاتے رہنے کے بجائے اس کے تقاضوں کے خلاف عمل کرنا شروع کر دے تو یہ کم بھی ہوتا ہے، بلکہ بعض حالات میں بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ 'ھُمْ لِلْکُفْرِ یَوْمَءِذٍ اَقْرَبُ مِنْھُمْ لِلْاِیْمَانِ'۲۶؂ (اس دن وہ ایمان سے زیادہ کفر کے قریب تھے) اور اس طرح کی دوسری آیات سے یہی حقیقت واضح ہوتی ہے۔ قرآن نے صراحت فرمائی ہے کہ جو لوگ گناہ ہی کو اوڑھنا اور بچھونا بنا لیتے اور وہ ان کی زندگی کا احاطہ کر لیتا ہے یا اس حد تک سرکش ہو جاتے ہیں کہ حدود الٰہی کو جانتے بوجھتے پامال کرتے ہیں یا کسی مسلمان کو عمداً قتل کر دیتے ہیں، ان کے ایمان کا اعتبار نہ ہو گا اور وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیے جائیں گے،۲۷؂ الا یہ کہ اللہ ہی اپنی حکمت کے مطابق کسی کے لیے عفو و درگزر کا فیصلہ کرے۔۲۸؂ چنانچہ ایک جگہ فرمایا ہے کہ پیغمبر کی اطاعت سے انحراف کے بعد ایمان کا کوئی دعویٰ بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے:

فَلاَ وَرَبِّکَ، لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْْنَہُمْ، ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْْتَ، وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا.(النساء ۴ :۶۵)

''پس نہیں،تیرے پروردگار کی قسم ، یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے ، جب تک اپنے اختلافات میں یہ تمھیں فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ تم کردو، اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں، بلکہ سربہ سر تسلیم کر لیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ارشادات بھی اسی حقیقت کی وضاحت کرتے ہیں۔ فرمایا ہے:

زانی جب زنا کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا اور چور جب چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ ۲۹؂

تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، جب تک میں اس کے بیٹے، اس کے باپ اور دوسرے سب لوگوں سے اس کو زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔۳۰؂

اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے۔۳۱؂

آدمی (اپنے دائرۂ اختیار میں) برائی دیکھے تو اس کو ہاتھ سے مٹا دے، اس کی ہمت نہ ہو تو زبان سے روکنے کی کوشش کرے، یہ بھی نہ کر سکے تو دل میں برا سمجھے، لیکن اس کے بعد پھر ایمان کا کوئی درجہ نہیں ہے۔۳۲؂

جس نے دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۳۳؂ جس نے گال پیٹے یا گریبان پھاڑا یا جاہلیت کی آواز بلند کی ، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔۳۴؂

اس سے واضح ہے کہ ایمان اور عمل لازم و ملزوم ہیں۔ لہٰذا جس طرح ایمان کے ساتھ عمل ضروری ہے، اسی طرح عمل کے ساتھ ایمان بھی ضروری ہے۔ نجات کے لیے قرآن نے ہر جگہ اسے شرط اولین قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان اگر جانتے بوجھتے اپنے پروردگار کو اور اس کی آیتوں کو ماننے سے انکار کر دے یا اس پر افترا کرے اور کسی کو اس کا شریک ٹھیرادے تو یہ استکبار ہے اور استکبار کے بارے میں قرآن نے صاف کہہ دیا ہے کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو سکتا ہے، لیکن کوئی مستکبر جنت میں داخل نہیں ہو سکتا:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا، لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ، وَلاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ، وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْن، لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ، وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ، وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. (الاعراف ۷ :۴۰۔۴۱)

''یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور اُن سے متکبرانہ منہ موڑ لیا ہے، اُن کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہو سکیں گے۔ ہاں، اس صورت میں کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل ہو جائے۔ (یہ اُن کی سزا ہے) اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ اُن کے لیے دوزخ ہی کا بچھونا اور اسی کا اوڑھنا ہو گا۔ اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔''

چنانچہ فرمایا ہے کہ ایمان سے محرومی کے بعد ہر عمل بے بنیاد ہے۔ اس کی مثال پھر اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا کر بالکل صاف کر دیا ہو۔ قیامت کے دن اس کا ایک ذرہ بھی ان کے پاس اس لائق نہ رہے گا کہ اسے خدا کے حضور پیش کر سکیں۔ ان کی ساری کمائی وہاں خاک ہو جائے گی، صرف اس کا وبال باقی رہے گا:

مَثَلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِرَبِّہِمْ، اَعْمَالُہُمْ کَرَمَادٍ اشْتَدَّتْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ یَوْمٍ عَاصِفٍ، لاَ یَقْدِرُوْنَ مِمَّا کَسَبُوْا عَلٰی شَیْْءٍ، ذٰلِکَ ہُوَ الضَّلٰلُ الْبَعِیْدُ.(ابراہیم۱۴ :۱۸)/strong>

''جن لوگوں نے اپنے رب سے کفرکیا ہے، اُن کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے راکھ ہو جس پر آندھی کے دن تند و تیز ہوا چل جائے۔ اُن کی کمائی میں سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہ آئے گا۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔''

سورۂ نور میں ایمان کی دولت سے محروم لوگوں کے اعمال کی مثال کسی چٹیل صحرا کے سراب سے دی گئی ہے جس کی حقیقت فریب نظر سے زیادہ نہیں ہوتی۔ پیاسا پانی سمجھ کر اس کی طرف لپکتا ہے، مگر جب اس کے قریب پہنچتا ہے تو راز کھلتا ہے کہ جس چیز کو وہ لہریں لیتا ہوا دریا سمجھ رہا تھا، وہ درحقیقت چمکتی ہوئی ریت تھی:

وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا، اَعْمَالُہُمْ کَسَرَابٍ بِقِیْعَۃٍ، یَّحْسَبُہُ الظَّمْاٰنُ مَآءً حَتّآی اِذَا جَآءَ ہٗ لَمْ یَجِدْہُ شَیْْءًا، وَّوَجَدَ اللّٰہَ عِنْدَہٗ، فَوَفّٰہُ حِسَابَہٗ، وَاللّٰہُ سَرِیْعُ الْحِسَابِ.(النور ۲۴ :۳۹)

''اور جو منکر ہیں، اُن کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت بے آب میں سراب کہ پیاسے نے اسے پانی سمجھا (اور اس کی طرف دوڑا)، یہاں تک کہ اس کے پاس آیا تو کچھ نہ پایا، بلکہ خدا کو اس کے پاس موجود پایا، پھر اس نے اس کا حساب چکا دیا اور اللہ بہت جلد حساب چکا دینے والا ہے۔''

[باقی]

———————-

۲۲؂ بخاری، رقم ۱۰۔ مسلم، رقم ۴۱۔

۲۳؂ بخاری، رقم۹۔ مسلم، رقم۳۵۔

۲۴؂ بخاری،رقم ۶۰۱۹۔ مسلم ، رقم ۴۸۔

۲۵؂ ابراہیم ۱۴:۲۶۔

۲۶؂ آل عمران ۳:۱۶۷۔

۲۷؂ البقرہ ۲:۸۱۔ النساء ۴:۱۴،۹۳۔

۲۸؂ النساء ۴:۴۸۔

۲۹؂ بخاری، رقم ۵۵۷۸۔ مسلم، رقم ۵۷۔

۳۰؂ بخاری، رقم ۱۵۔ مسلم، رقم ۴۴۔

۳۱؂ بخاری، رقم ۱۳۔ مسلم، رقم ۴۵۔

۳۲؂ مسلم، رقم ۴۹،۵۰۔

۳۳؂ مسلم، رقم ۱۰۱،۱۰۲۔

۳۴؂ بخاری، رقم ۱۲۹۷۔ مسلم، رقم ۱۰۳۔