غناء جاریتین کے واقعہ میں راویوں کے تصرفات


مارچ ۲۰۰۶ کے ''اشراق'' میں برادرم منظور الحسن صاحب نے ''اسلام اور موسیقی'' کے زیر عنوان اپنے مقالے میں صحیح بخاری کی ایک روایت پر گفتگو کرتے ہوئے میرا ایک اقتباس نقل کیا ہے۔ یہ اقتباس میری ایک غیر مطبوعہ تحریر سے لیا گیا ہے اور اس میں ایک علمی غلطی موجود ہے جس کی وضاحت دیانتاً ضروری ہے۔ وہ یہ کہ اس میں عروہ بن الزبیر کے چار شاگردوں یعنی ابو الاسود، محمد بن عبد الرحمن، زہری اور ہشام بن عروہ کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ درحقیقت یہ تین شاگرد ہیں، کیونکہ ابو الاسود اور محمد بن عبد الرحمن الاسدی ایک ہی شخصیت ہیں۔ بخاری کے بعض طرق میں ان کا ذکر کنیت کے ساتھ اور بعض میں نام کے ساتھ ہوا ہے جس کی وجہ سے ان کو دو الگ الگ آدمی سمجھنے کا اشتباہ پیدا ہوا۔ مزید براں زیر بحث روایت کی تنقید کے بعض دیگر پہلو بھی قابل غور ہیں جو مذکورہ اقتباس سے واضح نہیں ہوتے۔ چنانچہ یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محولہ تحریر کا پورا اور اصلاح شدہ متن قارئین کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔

زیر بحث روایت کا متن حسب ذیل ہے:

عن عائشۃ قالت دخل علی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعندی جاریتان تغنیان بغناء بعاث فاضطجع علی الفراش وحول وجہہ ودخل ابوبکر فانتہرنی وقال مزمارۃ الشیطان عند النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاقبل علیہ رسول اللّٰہ علیہ السلام فقال دعہما فلما غفل غمزتہما فخرجتا.(بخاری، رقم ۸۹۷)

''ام المومنین عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ اس وقت میرے پاس دو لونڈیاں جنگ بعاث کے اشعار گا رہی تھیں۔ رسول اللہ بستر پر آرام فرما ہو گئے اور آپ نے اپنا رخ پھیر لیا۔ اتنے میں ابوبکر آئے اور انھوں نے مجھے ڈانٹا اور کہا کہ کیا رسول اللہ کی موجودگی میں شیطانی آلات بجائے جا رہے ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر سے مخاطب ہو کر کہا کہ ان کو گانے دو۔پھر جب ابوبکر کی توجہ ہٹی تو میں نے ان دونوں کو آنکھ سے اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔''

روایت کے تمام طرق کو جمع کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ام المومنین عائشہ اس واقعے کی اصل اور مرکزی راوی ہیں۔ ان سے یہ واقعہ ان کے بھتیجے عروہ بن زبیر نے نقل کیا ہے اور عروہ سے درج ذیل تین راوی اس کو روایت کرتے ہیں:

۱۔ ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن الاسدی (بخاری، رقم ۲۶۹۱)

۲۔ ابن شہاب زہری (بخاری، رقم ۹۳۴)

۳۔ ہشام بن عروہ (بخاری، رقم ۸۹۹)

ابو الاسود محمد بن عبد الرحمن الاسدی ایک یتیم تھے جو عروہ بن زبیر کی کفالت میں رہے۔ابن شہاب زہری ایک جلیل القدر محدث ہیں اور انھوں نے عروہ بن زبیر سے روایات کی ایک بڑی تعداد نقل کی ہے۔ ہشام بن عروہ، عروہ بن زبیر کے فرزند ہیں اور ان سے بھی ان کے والد کی روایات ایک بڑی تعداد میں منقول ہیں۔ ان میں سے ابو الاسود اور ابن شہاب زہری تو براہ راست عروہ کے شاگرد ہیں اور ان کے نقل کردہ متون کی سند متصل ہے، البتہ ہشام بن عروہ کا معاملہ مختلف ہے۔ انھوں نے اپنے والد سے جو روایات نقل کی ہیں، ان کے ایک بڑے حصے کو اور بالخصوص ان روایات کو جو انھوں نے مدینہ سے عراق منتقل ہونے کے بعد روایت کیں، اکابر محدثین متصل تسلیم نہیں کرتے:

قال یعقوب بن شیبۃ ثقۃ ثبت لم ینکر علیہ شئ الا بعد ما صار الی العراق فانہ انبسط فی الروایۃ عن ابیہ فانکر ذلک علیہ اہل بلدہ والذی نری ان ہشاما تسہل لاہل العراق انہ کان لا یحدث عن ابیہ الا بما سمعہ منہ فکان تسہلہ انہ ارسل عن ابیہ مما کان یسمعہ من غیر ابیہ عن ابیہ.(تہذیب التہذیب ۱۱/۴۵)

''یعقوب بن شیبہ نے کہا ہے کہ ہشام ثقہ اور ثبت ہیں اور عراق منتقل ہونے سے پہلے ان کی کسی روایت میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی، تاہم عراق جانے کے بعد وہ اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے جس کی وجہ سے ان کے اپنے شہر کے لوگوں نے ان پر اعتراض کیا۔ ہماری رائے میں ہشام اہل عراق کو تاثریہ دیتے تھے کہ وہ اپنے والد سے صرف وہی روایات نقل کرتے ہیں جو انھوں نے ان سے سنی ہیں۔ اس میں ان کی بے احتیاطی یہ تھی کہ انھوں نے وہ روایات بھی اپنے والد کی نسبت سے نقل کر دیں جو انھوں نے ان سے براہ راست نہیں، بلکہ بالواسطہ سنی تھیں۔''

امام حاکم نے ''علوم الحدیث'' میں خود ان کا یہ اعتراف نقل کیا ہے :

لم اسمع من ابی الا ہذا والباقی لم اسمعہ انما ہو عن الزہری.(معرفۃ علوم الحدیث۱/۱۰۵)

''میں نے اپنے والد سے صرف ایک روایت سنی ہے۔ باقی تمام روایات میں نے ان سے نہیں سنیں، بلکہ وہ مجھے زہری کے واسطے سے حاصل ہوئی ہیں۔''

زیر بحث روایت بھی ان سے شعبہ، حماد بن سلمہ، معمر، ابو معاویہ، عبد اللہ بن نمیر اور ابو اسامہ نے نقل کی ہے جو سب کے سب اہل عراق میں سے ہیں۔ اس وجہ سے اس روایت کی سند کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ یہ بات بعید از امکان نہیں کہ ہشام بن عروہ نے یہ روایت زہری سے سنی ہو اور ان کا ذکر کیے بغیر مرسلاً اس کو نقل کر دیا ہو۔

مذکورہ تینوں راویوں کے نقل کردہ متون میں سے ابو الاسود کا نقل کردہ متن سب سے زیادہ منضبط ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان سے صرف ایک راوی عمرو بن الحارث نے اسے نقل کیا ہے اور عمرو بن الحارث سے بھی ان کے صرف ایک شاگرد عبد اللہ بن وہب اسے روایت کرتے ہیں۔ راویوں کے محدود ہونے کے باعث متن مختلف راویوں کے قیاسات اور تصرفات سے محفوظ رہا ہے۔ اس کے برعکس ابن شہاب اور ہشام بن عروہ سے ان کے متعدد شاگردوں نے اس متن کو نقل کیا ہے جس کی وجہ سے نہ صرف متن کے الفاظ اور اجزا کے انتخاب وترتیب میں راویوں کے شخصی رجحانات کا اثر نمایاں ہے، بلکہ بعض جگہوں پر راویوں کو اپنے قیاسات بھی متن میں شامل کر دینے کا موقع مل گیا ہے۔ یہاں ہم باقی تفصیلات سے قطع نظر کرتے ہوئے ابن شہاب اور ہشام کے متون میں سے صرف ایک ایک مثال پیش کریں گے۔

ابن شہاب سے روایت کرنے والے ایک راوی اسحاق بن راشد نے روایت کے متن میں اپنا ایک قیاس یوں داخل کیا ہے :

ان ابا بکر دخل علیہا فی ایام التشریق وعندہا جاریتان تغنیان وتضربان بالدف فسبہما وخرق دفیہما.(صحیح ابن حبان، رقم۵۸۶۹)

''ابوبکر عید الاضحٰی کے دنوں میں عائشہ کے ہاں آئے۔ اس وقت ان کے پاس دو لونڈیاں گانا گا رہی تھیں اور دف بجا رہی تھیں۔ ابوبکر نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کے دف پھاڑ دیے۔ ''

اسحاق بن راشد کے علاوہ ابن شہاب زہری سے اس روایت کو حسب ذیل رواۃ نے بھی نقل کیا ہے:

۱۔ عقیل بن خالد (بخاری،رقم ۹۳۴)

۲۔ عمرو بن الحارث (مسلم، رقم۱۴۸۰)

۳۔ مالک بن انس (نسائی، رقم۵۷۹)

۴۔ معمر بن راشد (نسائی،رقم ۵۷۵ا)

۵۔ عبد الرحمن بن عمرو اوزاعی (احمد،رقم ۲۳۴۰۰)

ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دف پھاڑ دینے کی بات نہ زہری کے مذکورہ شاگردوں کے طرق میں بیان ہوئی ہے اور نہ عروہ بن زبیر سے روایت کرنے والے باقی دو راویوں یعنی ابو الاسود اور ہشام کی روایتوں میں اس کا کوئی ذکر ہے۔ چنانچہ اس کے بے اصل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔

اس ضمن میں دوسری مثال ہشام بن عروہ کے نقل کردہ متن میں ملتی ہے۔ ان کے ایک شاگرد ابو اسامہ کے طریق میں یہ اضافہ موجود ہے کہ 'قالت ولیستا بمغنیتین'۔ یعنی ام المومنین نے کہا کہ یہ دونوں لونڈیاں گانے والی نہیں تھیں۔ (بخاری، رقم ۸۹۹) شارحین نے بالعموم اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ پیشہ ور گانے والیاں نہیں تھیں۔ (فتح الباری ۲/۴۴۲) البتہ ابن حزم کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دونوں اچھا گانے والیاں نہیں تھیں۔ (المحلی ۹/۶۲)

ہشام بن عروہ کے طریق کی تفصیلات جمع کرنے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ جملہ درحقیقت ان کا بیان کردہ نہیں، بلکہ ابو اسامہ کا اپنا قیاس ہے جسے انھوں نے روایت کے متن میں داخل کر دیا ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ابو اسامہ کے علاوہ اس واقعے کو ہشام سے ان کے درج ذیل پانچ شاگردوں نے نقل کیا ہے:

۱۔ شعبہ بن الحجاج (بخاری، رقم ۳۶۳۸)

۲۔ حماد بن سلمہ (مسند احمد، رقم ۲۳۸۷۹)

۳۔ عبد اللہ بن نمیر (المعجم الکبیر ۲۳؍۱۸۱)

۴۔ ابو معاویہ عبد اللہ بن معاویہ (مسند اسحاق بن راہویہ ۲/۲۷۲)

۵۔ معمر بن راشد (المعجم الکبیر ۲۳/۱۸۰)

ان میں سے کسی شاگرد کے طریق میں اس جملے کا کوئی وجود نہیں اور صرف ابو اسامہ نے روایت میں اس جملے کا اضافہ کیا ہے۔ ابو اسامہ ایک ثقہ راوی ہیں اور انھوں نے ہشام بن عروہ سے روایات کی ایک بڑی تعداد نقل کی ہے، تاہم یہ قرار دینا خلاف قیاس ہوگا کہ ہشام کے باقی پانچوں شاگرد یہ جملہ بیان کرنا بھول گئے اور صرف ابو اسامہ نے اس کو یاد رکھا۔

بالفرض یہ مان لیا جائے کہ یہ جملہ خود ہشام ہی کا نقل کردہ ہے تو بھی اسے اصل متن کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کہ اگر ہشام کا ماخذ زہری کے علاوہ کوئی اور ہے تو واسطے کے مجہول ہونے کی بنا پر اس سند کو اتصال حاصل نہیں اور اگر انھوں نے یہ روایت زہری سے سنی ہے تو زیر بحث جملے کے اصل متن کا حصہ نہ ہونے کی بات مزید موکد ہو جاتی ہے، اس لیے کہ خود زہری کی روایت میں یہ جملہ موجود نہیں۔ ان وجوہ سے اس جملے کو ام المومنین کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ۔