غلبہ دین بطور دلیل نبوت-۵


[''نقطۂ نظر''کا یہ کالم مختلف اصحاب فکر کی نگارشات کے لیے مختص ہے۔اس میں شائع ہونے والے مضامین سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔]

سابقہ صفحات میں ہم قرآن وحدیث اور سیرت میں موضوع سے متعلق سارے مواد کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ان مآخذ میں جہاد وقتال کی دو الگ الگ صورتوں کا ذکر ہوا ہے۔ ایک صورت کا تعلق عمومی انسانی اخلاقیات سے ہے جبکہ دوسری میں اللہ تعالیٰ کے ایک مخصوص قانون یعنی کسی قوم پر اتمام حجت کے بعد اس پر سزا کے نفاذ کو رو بعمل لانے کے لیے تلوار اٹھائی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مخالفین کے معاملے میں قتال کی یہ دونوں صورتیں رونما ہوئیں۔ آپ کے مخالفین نے آپ اور آپ کے پیروکاروں کے خلاف ظلم وتشدد کا رویہ اختیار کیا اور طاقت وقوت کے زور پر انھیں ان کے مذہب سے برگشتہ کرنے کی کوشش کی۔ چنانچہ ان کے ظلم وعدوان اور فتنہ وفساد کو رفع کرنے کے لیے مسلمہ اور ابدی اخلاقیات کی رو سے مسلمانوں کو ان کے خلاف جہاد کرنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اسے ان پر فرض قرار دے دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک رسول تھے اور آپ کی بعثت، قانون رسالت کے مطابق، اس مشن کے تحت اور اس کی تکمیل کے پیشگی وعدے کے ساتھ ہوئی تھی کہ آپ کو ہر حال میں اپنے مخالفوں اور منکروں پر غلبہ حاصل ہوگا، اس لیے یہ بات روز اول سے واضح کر دی گئی تھی کہ آپ پر ایمان لانے والوں کے لیے غلبہ اور سرفرازی ، جبکہ مخالفین اور منکروں کے لیے مغلوبیت، رسوائی اور محکومی مقدر کر دی گئی ہے۔ چنانچہ آپ کے جہاد کا یہ ہدف شروع ہی سے واضح کر دیا گیا کہ یہ عام انسانی اخلاقیات کے دائرے میں فتنہ وفساد کے ازالے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے بڑھ کر خدا کے قانون جزا وسزا کو سرزمین عرب پر رو بہ عمل کرنے کا ذریعہ بنے گا۔

اس ضمن میں متعلقہ نصوص اور اقدامات کے اصل پس منظر اور ان میں موجود داخلی شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے اس پورے عمل کی توجیہ دفاع اور تحفظ کے اصول پر کرنے کا جو رجحان دور جدید میں پیدا ہوا ہے، اس کا محرک، جو فی نفسہ مخلصانہ اور قابل احترام ہے، بظاہر یہ دکھائی دیتا ہے کہ غیر مسلم دنیا کے سامنے اسلام اور پیغمبر اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا جائے۔ معاصر ذہنی فضا میں 'مثبت تعارف' کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کو امن وسلامتی کا مذہب اور پیغمبر اسلام کو صلح وآشتی کا پیغامبر ثابت کیا جائے۔ ہماری رائے میں اسلام کے تعارف کا یہ پہلو اپنی جگہ بالکل درست ہے، لیکن اس معاملے کا ایک دوسرا اور اس سے زیادہ اہم پہلو بھی ہے جسے اگر پورے توازن کے ساتھ ملحوظ نہ رکھا جائے تو خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کی تفہیم کا معاملہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔

ہم نے قرآن مجید اور صحف سماوی کی روشنی میں قوموں کی جزا وسزا کے اس قانون کا یہ پہلو واضح کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ مختلف زمانوں میں کفر وشرک اور بدکاری میں مبتلا قوموں کے محاسبہ اور مواخذہ کا اختیار خود انسانوں میں سے بعض منتخب گروہوں کو دیتے رہے ہیں جو خدا کے اذن کے تحت اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والی بدکار قوموں کے خلاف جنگ کرتے اور قتل، اسارت اور محکومی کی صورت میں انھیں ان کی بد اعمالیوں کی سزا دیتے ہیں۔ اقوام عالم کے سامنے اس منتخب گروہ کی اس خصوصی حیثیت کو علیٰ رؤوس الاشہاد مبرہن کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے خصوصی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے اور خدا ان کے دشمنوں کو ان کے مقابلے میں ذلیل ورسوا کر کے دنیا کی قوموں پریہ واضح کر دیتا ہے کہ وہ دنیا میں خدا کے نمائندے ہیں اور ان کا دین ہی خدا کا پسندیدہ دین ہے۔ تاریخ میں اللہ کے اس قانون کی تفصیلات بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل، دونوں کے حوالے سے محفوظ ہیں۔ یہاں اس کی بعض تفصیلات کا مطالعہ دلچسپی کا موجب ہوگا۔

بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے یہ میثاق لیا تھا کہ وہ اللہ کے دیے ہوئے دین وشریعت پر خود قائم رہتے ہوئے دنیا کی اقوام کے سامنے شہادت حق کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کا ان سے وعدہ ہے کہ وہ دنیا میں سربلند وسرفراز اور اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے، لیکن اس سے انحراف کی صورت میں خدا کی طرف سے ذلت ورسوائی اور مغلوبیت ومحکومی کا عذاب ان پر مسلط کر دیا جائے گا۔ ارشاد ہوا ہے:

وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ أَنجَاکُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَسُومُونَکُم سُوءَ الْعَذَابِ وَیُذَبِّحُونَ أَبْنَاء کُمْ وَیَسْتَحْیُونَ نِسَاء کُمْ وَفِیْ ذَلِکُم بَلاء مِّن رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ ۔ وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَءِن شَکَرْتُمْ لأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَءِن کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ ۔(ابراہیم ۱۴:۶،۷)

''اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اپنے اوپر اللہ کے احسان کو یاد کرو جب اس نے تمھیں آل فرعون سے نجات دلائی جو تمھیں بد ترین عذاب چکھاتے تھے اور تمھارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑ دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمایش تھی۔ اور جب تمہارے رب نے یہ اعلان کیا کہ (اے بنی اسرائیل) اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں تم پر مزید احسانات کروں گا اور اگر ناشکری کا رویہ اختیار کرو گے تو بے شک میرا عذاب بڑا دردناک ہے۔''

بنی اسرائیل کے ساتھ اس معاملہ الٰہی کا آغاز ان کے خروج مصر سے ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے دعوت توحید کے بعد جب فرعون اور اس کی قوم نے ان کی تکذیب کا رویہ اختیار کیا تو ایک خاص عرصے تک انھیں مختلف نشانیاں دکھا کر اور متنوع آزمایشوں میں مبتلا کر کے انھیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی گئی:

وَمَا نُرِیْہِم مِّنْ آیَۃٍ إِلَّا ہِیَ أَکْبَرُ مِنْ أُخْتِہَا وَأَخَذْنَاہُم بِالْعَذَابِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُون۔َ (الزخرف ۴۳:۴۸)

''اور ہم ان کو جو بھی نشانی دکھاتے تھے، وہ اپنے سے پہلی نشانی سے بڑی ہوتی تھی۔ اور ہم نے ان کو عذاب میں گرفتار کیا تاکہ وہ پلٹ آئیں۔''

امتحان وابتلا کی مہلت ختم ہونے کے باوجود جب اہل مصر ایمان نہ لائے تو فرعون کو اس کے پورے لشکر سمیت دریاے نیل میں غرق کر دیا گیا۔ وقت کی ایک عظیم سلطنت کی تباہی وبربادی کا یہ عبرت ناک واقعہ اس وقت مصر کے ارد گرد بسنے والی قوموں کے لیے خداے واحد کی قدرت وحقانیت اور بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ منصب فضیلت کی ایک بین دلیل بن گیا:

فَلَمَّا آسَفُونَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَأَغْرَقْنَاہُمْ أَجْمَعِیْنَ ۔ فَجَعَلْنَاہُمْ سَلَفاً وَمَثَلاً لِلْآخِرِیْنَ۔ (الزخرف ۴۳: ۵۵، ۵۶)

''پس جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا۔ پھر ہم نے ان کو بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا ایک نمونہ بنا دیا۔''

وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ الْحُسْنَی عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ بِمَا صَبَرُواْ وَدَ مَّرْنَا مَا کَانَ یَصْنَعُ فِرْعَوْنُ وَقَوْمُہُ وَمَا کَانُواْ یَعْرِشُونَ (الاعراف ۷:۱۳۷)

''اور بنی اسرائیل کی ثابت قدمی کی بدولت تیرے رب کا مبارک وعدہ ان کے حق میں پورا ہو گیا۔ اور فرعون اور اس کی قوم جو کچھ بناتے اور جو کچھ چھتریوں پر چڑھاتے تھے، ہم نے اس سب کو برباد کر کے رکھ دیا۔''

تورات میں ہے:

ً''اور خداوند نے موسیٰ سے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو حکم دے کہ وہ لوٹ کر مجدال اور سمندر کے بیچ فی ہخیروت کے مقابل بعل صفوان کے آگے ڈیرے لگائیں۔ اسی کے آگے سمندر کے کنارے کنارے ڈیرے لگانا۔ فرعون بنی اسرائیل کے حق میں کہے گا کہ وہ زمین کی الجھنوں میں آکر بیابان میں گھر گئے ہیں اور میں فرعون کے دل کو سخت کروں گا اور وہ ان کا پیچھا کرے گا اور میں فرعون اور اس کے سارے لشکر پر ممتاز ہوں گے اور مصری جان لیں گے کہ خداوند میں ہوں اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔'' (خروج ۱۴:۱۔۴)

ارد گرد کی اقوام پر اس واقعے سے ہیبت، رعب اور دبدبہ کی جو کیفیت طاری ہوئی، اس کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے:

''قومیں سن کر تھرا گئی ہیں

اور فلستین کے باشندوں کی جان پر آبنی ہے۔

ادون کے رئیس حیران ہیں۔

موآب کے پہلوانوں کو کپکپی لگ گئی ہے۔

کنعان کے سب باشندوں کے دل پگھلے جاتے ہیں۔

خوف وہراس ان پر طاری ہے۔

تیرے بازو کی عظمت کے سبب سے وہ پتھر کی طرح بے حس وحرکت ہیں۔

جب تک اے خداوند تیرے لوگ نکل نہ جائیں۔

جب تک تیرے لوگ جن کو تو نے خریدا ہے پار نہ ہو جائیں۔

تو ان کو وہاں لے جا کر اپنی میراث کے پہاڑ پر درخت کی طرح لگائے گا۔

تو ان کو اسی جگہ لے جائے گا جسے تو نے اپنی سکونت کے لیے بنایا ہے۔'' (خروج ۱۵: ۱۴۔۱۷)

اللہ تعالیٰ کی طرف سے بنی اسرائیل کو عطا کی جانے والی اس نصرت اور غلبے کو ان کی پوری تاریخ میں ایک بنیادی حوالے کی حیثیت حاصل رہی۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی سرکشی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ہلاکت مسلط کی گئی تو موسیٰ علیہ السلام نے اسی چیز کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے عفو ودرگزر کی درخواست کی:

''پس اگر تو اس قوم کو ایک اکیلے آدمی کی طرح جان سے مار ڈالے تو وہ قومیں جنھوں نے تیری شہرت سنی ہے کہیں گی کہ چونکہ خداوند اس قوم کو اس ملک میں جسے اس نے ان کو دینے کی قسم کھائی تھی، پہنچا نہ سکا اس لیے اس نے ان کو بیابان میں ہلاک کر دیا۔'' (گنتی ۱۴:۱۶)

موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو لے کر جب ارض مقدس کی طرف روانہ ہوئے اور راستے میں بعض حکمرانوں نے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو انھوں نے اسی بات کا حوالہ دیا:

''اور موسیٰ نے قادس سے ادوم کے بادشاہ کے پاس ایلچی روانہ کیے اور کہلا بھیجا کہ تیرا بھائی اسرائیل یہ عرض کرتا ہے کہ تو ہماری سب مصیبتوں سے جو ہم پر آئیں واقف ہے کہ ہمارے باپ دادا مصر میں گئے اور ہم بہت مدت تک مصر میں رہے اور مصریوں نے ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے برا برتاؤ کیا اور جب ہم نے خداوند سے فریاد کی تو اس نے ہماری سنی اور ایک فرشتہ کو بھیج کر ہم کو مصر سے نکال لے آیا ہے اور ا ب ہم قادس شہر میں ہیں جو تیری سرحد کے آخر میں واقع ہے سو ہم کو اپنے ملک میں سے ہو کر جانے کی اجازت دے۔'' (گنتی ۲۰: ۱۴۔۱۷)

موآبیوں کے بادشاہ بلق بن صفور نے بنی اسرائیل کے بڑھتے ہوئے لشکر سے خوف زدہ ہو کر بلعام بن بعور نامی بزرگ ہستی سے یہ درخواست کی کہ وہ موآب کے حق میں کامیابی کی دعا اور بنی اسرائیل کے خلاف بد دعا کرے۔ بلعام نے ان کو جواب دیا:

''اٹھ اے بلق اور سن۔

اے صفور کے بیٹے! میری باتوں پر کان لگا۔

خدا انسان نہیں کہ جھوٹ بولے

اور نہ وہ آدم زاد ہے کہ اپنا ارادہ بدلے۔

کیا جو کچھ اس نے کہا اسے نہ کرے؟

یا جو فرمایا ہے اسے پورا نہ کرے؟

دیکھ! مجھے تو برکت دینے کا حکم ملا ہے۔

اس نے برکت دی ہے اور میں اسے پلٹ نہیں سکتا۔

وہ یعقوب میں بدی نہیں پاتا

اور نہ اسرائیل میں کوئی خرابی دیکھتا ہے۔

خداوند اس کا خدا اس کے ساتھ ہے

اور بادشاہ کی سی للکار ان کے لوگوں کے بیچ میں ہے۔

خدا ان کو مصر سے نکال کر لیے آ رہا ہے۔

ان میں جنگلی سانڈ کی سی طاقت ہے۔

یعقوب پر کوئی افسون نہیں چلتا

اور نہ اسرائیل کے خلاف فال کوئی چیز ہے۔

بلکہ یعقوب اور اسرائیل کے حق میں اب یہ کہا جائے گا

کہ خدا نے کیسے کیسے کام کیے۔'' (گنتی ۲۳: ۱۸۔۲۳)

شام اور عراق کی جس سرزمین کو بنی اسرائیل کی میراث قرار دیا گیا تھا، اسے فتح کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کے اسی قانون کا حوالہ دیا گیا:

قَالَ رَجُلاَنِ مِنَ الَّذِیْنَ یَخَافُونَ أَنْعَمَ اللّہُ عَلَیْْہِمَا ادْخُلُواْ عَلَیْْہِمُ الْبَابَ فَإِذَا دَخَلْتُمُوہُ فَإِنَّکُمْ غَالِبُونَ وَعَلَی اللّہِ فَتَوَکَّلُواْ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ (مائدہ ۵:۲۳)

''دو آدمیوں نے، جو اللہ سے ڈرنے والوں میں سے تھے اور اللہ نے ان پر انعام کیا تھا، کہا کہ (اے بنی اسرائیل) شہر کے دروازے میں داخل ہو جاؤ۔ پس جب تم داخل ہو جاؤ گے تو تمھی غالب رہو گے۔ اور اگر تم سچ مچ ایمان رکھتے ہو تو اللہ ہی پر بھروسہ رکھو۔''

تورات میں ہے:

''اگر تم ان سب حکموں کو جو میں تم کو دیتا ہوں جانفشانی سے مانو اور ان پر عمل کرو اور خداوند اپنے خدا سے محبت رکھو اور اس کی سب راہوں پر چلو اور اس سے لپٹے رہو تو خداوند ان سب قوموں کو تمہارے آگے سے نکال ڈالے گا اور تم ان قوموں پر جو تم سے بڑی اور زور آور ہیں، قابض ہوگے۔ جہاں جہاں تمہارے پاؤں کا تلوا اٹکے، وہ جگہ تمہاری ہو جائے گی، یعنی بیابان اور لبنان سے اور دریاے فرات سے مغرب کے سمندر تک تمہاری سرحد ہوگی اور کوئی شخص وہاں تمہارا مقابلہ نہ کر سکے گا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تمہارا رعب اور خوف اس تمام ملک میں جہاں کہیں تمہارے قدم پڑیں، پیدا کر دے گا جیسا اس نے تم سے کہا ہے۔'' (استثنا ۱۱: ۲۲-۲۵)

حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں جب بنی اسرائیل کی حکومت واقتدار اپنے عروج کو پہنچے اور انھوں نے اللہ کی یاد کے لیے ایک عظیم الشان عبادت گاہ تعمیر کی تو اسی اصول کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے یہ دعا کی:

''اب رہا وہ پردیسی جو تیری قوم اسرائیل میں سے نہیں ہ، وہ جب دور ملک سے تیرے نام کی خاطر آئے (کیونکہ وہ تیرے بزرگ نام اور قوی ہاتھ اور بلند بازو کا حال سنیں گے) سو جب وہ آئے اور اس گھر کی طرف رخ کر کے دعا کرے تو تو آسمان پر سے جو تیری سکونت گاہ ہے، سن لینا اور جس جس بات کے لیے وہ پردیسی تجھ سے فریاد کرے تو اس کے مطابق کرنا تاکہ زمین کی سب قومیں تیرے نام کو پہچانیں اور تیری قوم اسرائیل کی طرح تیرا خوف مانیں اور جان لیں کہ یہ گھر جسے میں نے بنایا ہے، تیرے نام کا کہلاتا ہے۔'' (ا۔ سلاطین ۸: ۱۴۔۴۳)

''اور یہ میری باتیں جن کو میں نے خداوند کے حضور مناجات میں پیش کیا ہے، دن اور رات خداوند ہمارے خدا کے نزدیک رہیں تاکہ وہ اپنے بندہ کی داد اور اپنی قوم اسرائیل کی داد ہر روز کی ضرورت کے مطابق دے جس سے زمین کی سب قومیں جان لیں کہ خداوند ہی خدا ہے اور اس کے سوا اور کوئی نہیں۔'' (۱۔ سلاطین ۸: ۵۹، ۶۰)

بنی اسرائیل کو عطا کی جانے والی اسی فضیلت کے اعتراف میں ارد گرد کی سب قومیں ان کی مطیع اور باج گزار ہو گئیں اور ان کو حاصل ہونے والا یہ شرف اللہ کے دین کی دعوت کے پھیلنے کا ذریعہ بن گیا:

''اور سلیمان دریاے فرات سے فلستیوں کے ملک تک اور مصر کی سرحد تک سب مملکتوں پر حکمران تھا۔ وہ اس کے لیے ہدیے لاتی تھیں اور سلیمان کی عمر بھر اس کی مطیع رہیں۔'' (۱۔ سلاطین ۴:۲۱)

''اور خدا نے سلیمان کو حکمت اور سمجھ بہت ہی زیادہ اور دل کی وسعت بھی عنایت کی جیسی سمندر کے کنارے کی ریت ہوتی ہے۔ اور سلیمان کی حکمت سب اہل مشرق کی حکمت اور مصر کی ساری حکمت پر فوقیت رکھتی تھی۔'' (ا۔ سلاطین ۴: ۲۹، ۳۰)

''اور سب قوموں میں سے زمین کے سب بادشاہوں کی طرف سے جنھوں نے اس کی حکمت کی شہرت سنی تھی، لوگ سلیمان کی حکمت کو سننے آتے تھے۔'' (۱۔ سلاطین ۴: ۳۴)

''اور جب سبا کی ملکہ نے خداوند کے نام کی بابت سلیمان کی شہرت سنی تو وہ آئی تاکہ مشکل سوالوں سے اسے آزمائے۔ ....اور اس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جو میں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے ملک میں سنی تھی۔ تو بھی میں نے وہ باتیں باور نہ کیں جب تک خود آکر اپنی آنکھوں سے یہ دیکھ نہ لیا اور مجھے تو آدھا بھی نہیں بتایا گیا تھا کیونکہ تیری حکمت اور اقبال مندی اس شہرت سے جو میں نے سنی بہت زیادہ ہے۔ خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو برابر تیرے حضور کھڑے رہتے اور تیری حکمت سنتے ہیں۔ خداوند تیرا خدا مبارک ہو جو تجھ سے ایسا خوشنود ہوا کہ تجھے اسرائیل کے تخت پر بٹھایا ہے۔ چونکہ خداوند نے اسرائیل سے سدا محبت رکھی ہے اس لیے اس نے تجھے عدل اور انصاف کرنے کو بادشاہ بنایا۔'' (۱۔ سلاطین ۱۰: ۱۔۹)

شاہ ارام کے لشکر کے سردار نعمان نے، جو کوڑھی تھا، الیشع کے کہنے پر یردن میں سات غوطے مارے اور اس کا مرض دور ہو گیا۔

''پھر وہ اپنی جلو کے سب لوگوں سمیت مرد خدا کے پاس لوٹا اور اس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ دیکھ اب میں نے جان لیا کہ اسرائیل کو چھوڑ اور کہیں روئے زمین پر کوئی خدا نہیں۔ اس لیے اب کرم فرما کر اپنے خادم کا ہدیہ قبول کر۔'' (۲۔ سلاطین ۵:۱۵)

بنی اسرائیل کے انبیا، بادشاہ اور اکابر بالعموم اسی بات کا حوالہ دے کر اللہ تعالیٰ سے فتح ونصرت کی دعائیں مانگتے تھے:

''سو اب اے خداوند ہمارے خدا میں تیری منت کرتا ہوں کہ تو ہم کو اس کے ہاتھ سے بچا لے تاکہ زمین کی سب سلطنتیں جان لیں کہ تو ہی اکیلا خداوند خدا ہے۔'' (۲۔ سلاطین ۱۹: ۱۹)

زبور میں ہے:

''اے خداوند! اے ہماری سپر!

اپنی قدرت سے ان کو پراگندہ کر کے پست کر دے۔

وہ اپنے منہ کے گناہ اور اپنے ہونٹوں کی باتوں

اور اپنی لعن طعن اور جھوٹ بولنے کے باعث

اپنے غرور میں پکڑے جائیں۔

قہر میں ان کو فنا کر دے۔ فنا کردے تاکہ وہ نابود ہو جائیں۔

اور وہ زمین کی انتہا تک جان لیں

کہ خدا یعقوب پر حکمران ہے۔ (سلاہ)'' (زبور ۵۹: ۱۱۔۱۳)

بابل کی اسیری سے خلاصی بھی بنی اسرائیل کو اسی نصرت الٰہی کے نتیجے میں حاصل ہوئی اور ایک مرتبہ پھر اللہ تعالیٰ کا قانون دینونت دنیا کی قوموں کے سامنے آشکارا ہو گیا:

''غرض باون دن میں الول مہینے کی پچیسویں تاریخ کو شہر پناہ بن چکی۔ جب ہمارے سب دشمنوں نے یہ سنا تو ہمارے آس پاس کی سب قومیں ڈرنے لگیں اور اپنی ہی نظر میں خود ذلیل ہو گئیں کیونکہ انھوں نے جان لیا کہ یہ کام ہمارے خدا کی طرف سے ہوا۔'' (نحمیاہ ۶: ۱۵، ۱۶)

زبور میں ہے:

''جب خداوند صیون کے اسیروں کو واپس لایا

تو ہم خواب دیکھنے والوں کی مانند تھے۔

اس وقت ہمارے منہ میں ہنسی

اور ہماری زبان پر راگنی تھی۔

تب قوموں میں یہ چرچا ہونے لگا

کہ خداوند نے ان کے لیے بڑے بڑے کام کیے ہیں۔

خداوند نے ہمارے لیے بڑے بڑے کام کیے ہیں

اور ہم شادمان ہیں۔'' (زبور ۱۲۶: ۱۔۳)

تاہم، جیسا کہ ہم نے اوپر واضح کیا ہے، یہ قانون یک طرفہ نہیں تھا، بلکہ خود بنی اسرائیل بھی پوری طرح اس کے اطلاق کی زد میں تھے ۔ قرآن مجید نے 'لئن کفرتم ان عذابی لشدید' کے الفاظ میں اسی پہلو کو بیان کیا ہے۔ بائبل میں ہے:

''اگر تم میری پیروی سے برگشتہ ہو جاؤ اور میرے احکام اور آئین کو جو میں نے تمھارے آگے رکھے ہیں، نہ مانو ، بلکہ جا کر اور معبودوں کی عبادت کرنے اور ان کو سجدہ کرنے لگو تو میں اسرائیل کو اس ملک سے جو میں نے ان کو دیا ہے، کاٹ ڈالوں گا اور اس گھر کو جسے میں نے اپنے نام کے لیے مقدس کیا ہے، اپنی نظر سے دور کر دوں گا اور اسرائیل سب قوموں میں ضرب المثل اور انگشت نما ہوگا اور اگرچہ یہ گھر ایسا ممتاز ہے تو بھی ہر ایک جو اس کے پاس سے گزرے گا، حیران ہوگا اور سسکا رہے گا اور وہ کہیں گے کہ خداوند نے اس ملک اور اس گھر سے ایسا کیوں کیا؟'' ( سلاطین ۱: ۹: ۱۔۹)

حزقی ایل نبی کی معرفت ارشاد ہوا:

''اور جب میں ان کو اقوام میں پراگندہ اور ممالک میں تتر بتر کروں گا تب وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں لیکن ان میں سے بعض کو تلوار اور کال سے اور وبا سے بچا رکھوں گا تاکہ وہ قوموں کے درمیان جہاں کہیں ہوں، اپنے تمام نفرتی کاموں کو بیان کریں اور وہ معلوم کریں گے کہ میں خداوند ہوں۔'' (حزقی ایل ۱۲: ۱۵، ۱۶)

بابل کے بادشاہ نبوکد نضر نے بنی اسرائیل کے علاقوں پر قبضہ کرنے کا ارادہ کیا تو بنی عمون کے سردار احیور نے اس کے سامنے بنی اسرائیل کی پوری سابقہ تاریخ بیان کی اور ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اس خاص معاملے کو واضح کرتے ہوئے کہا:

''اور جہاں کہیں وہ گئے، بغیر تیر کمان کے اور بغیر ڈھال تلوار کے ان کا خدا ان کے لیے لڑا اور غالب ہوا۔ اور کسی نے ان لوگوں کو مغلوب نہ کیا سوائے اس وقت کے جب کہ انھوں نے خداوند اپنے خدا کی عبادت کو ترک کیا۔ تو جتنی دفعہ انھوں نے اپنے خدا کی بجائے اوروں کی پرستش کی، وہ لوٹ اور تلوار اور ننگ کے حوالے کیے گئے۔ اور جتنی دفعہ انھوں نے اپنے خدا کی عبادت ترک کرنے سے توبہ کی، آسمان کے خدا نے ان کو مقابلہ کرنے کی طاقت دی۔ سو انھوں نے اپنے سامنے کنعانیوں اور یبوسیوں اور فرزیوں اور حتیوں اور حویوں اور اموریوں کے بادشاہوں کو اور تمام جباروں کو جو حشبون میں تھے، مغلوب کیا اور ان کی زمینوں اور ان کے شہروں پر قابض ہوئے۔ اور جب تک وہ اپنے خدا کے سامنے خطا نہیں کرتے تھے وہ اچھی حالت میں رہتے تھے کیونکہ ان کا خدا بدی سے نفرت کرتا ہے۔ اور چند برس ہوئے کہ انھوں نے اس راہ کی مخالفت کی جس میں چلنے کے لیے ان کے خدا نے ان کو حکم دیا تھا تو وہ لڑائیوں میں بہت قوموں کے سامنے مغلوب ہوئے اور ان میں سے بہت اپنے ملک سے دوسرے ملک میں جلا وطن کیے گئے۔ مگر تھوڑے عرصہ سے وہ خداوند اپنے خدا کی طرف پھرے ہیں اور اپنی پراگندگی سے جہاں کہیں الگ الگ ہو گئے تھے، اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان تمام پہاڑوں پر چڑھے ہیں اور پھر یروشلم پر قبضہ کر لیا ہے جہاں ان کا مقدس ہے۔ اب اے میرے آقا، دیکھ کہ اگر ان لوگوں نے اپنے خدا کے حضور بدی کی ہے تو ہم ان پر چڑھ جائیں گے کیونکہ ان کا خدا ان کو تیرے حوالے کر دے گا اور وہ تیری طاقت کے جوئے کے نیچے خدمت کریں گے۔ اور اگر ان لوگوں نے اپنے خدا کے حضور بدی نہیں کی تو ان کے خلاف ہماری کچھ طاقت نہیں ہوگی کیونکہ ان کا خدا ان کے لیے لڑے گا اور ہم تمام روئے زمین پر شرم زدہ ہوں گے۔'' (یہودیت ۵: ۱۔۲۵)

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کے آخری پیغمبر کی حیثیت سے بنی اسماعیل میں مبعوث کیا گیا تو آپ اور آپ پر ایمان لانے والے صحابہ کو بھی اللہ کی طرف سے نصرت اور کامیابی کی بشارت دی گئی۔ قرآن میں اہل ایمان کے لیے کامیابی وسرفرازی کے وعدے آپ کے تیئیس سالہ دور نبوت کے ہر ہر مرحلے میں نہایت وضاحت اور تکرار کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔

مکی سورتوں میں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بیان کیا گیا کہ اللہ کے رسولوں کے لیے ناکامی یا شکست کا کوئی سوال نہیں اور وہ ہر حال میں مخالفین پر غالب آ کر رہتے ہیں:

وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ. ۔ إِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنصُورُونَ ۔ وَإِنَّ جُندَنَا لَہُمُ الْغَالِبُون۔َ (الصافات ۳۷:۱۷۱-۱۷۳)

''اور ہم اپنے جن بندوں کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں، ان کے بارے میں ہمارا یہ فیصلہ پہلے سے طے ہو چکا ہے کہ (دشمنوں کے مقابلے میں) انھی کی مدد کی جائے گی اور بے شک ہمارا لشکر ہی غالب آکر رہے گا۔''

إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ آمَنُوا فِیْ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَیَوْمَ یَقُومُ الْأَشْہَادُ۔ (غافر ۴۰:۵۱)

''یقینی بات ہے کہ اہم اپنے رسولوں اور ان پر ایمان لانے وا لوں کی دنیا میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب (خدا کی عدالت میں) گواہ کھڑے ہوں گے۔''

گزشتہ اقوام پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے واقعات بیان کر کے فرمایا :

أَکُفَّارُکُمْ خَیْْرٌ مِّنْ أُوْلَءِکُمْ أَمْ لَکُم بَرَاءۃٌ فِیْ الزُّبُرِ ۔ أَمْ یَقُولُونَ نَحْنُ جَمِیْعٌ مُّنتَصِرٌ ۔ سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَ الدُّبُرَ (القمر ۵۴:۴۳-۴۵)

کیاتمھاری قوم کے کفاران قوموں سے کچھ بہتر ہیں۔ تمھارے لیے آسمانی صحیفوں میں برآء ت نامہ لکھا ہواہے۔کیا ان کا زعم ہے کہ ہم مقابلہ کی قوت رکھنے والی جمعیت ہیں۔(یاد رکھیں کہ)ان کی یہ جمعیت عنقریب شکست کھائے گی اور یہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔

یہ اعلان کیا گیا کہ اللہ کے اس قانون کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی اہل ایمان کی کامیابی بھی یقینی ہے:

فَہَلْ یَنتَظِرُونَ إِلاَّ مِثْلَ أَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِہِمْ قُلْ فَانتَظِرُواْ إِنِّیْ مَعَکُم مِّنَ الْمُنتَظِرِیْنَ ۔ ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ کَذَلِکَ حَقّاً عَلَیْْنَا نُنجِ الْمُؤْمِنِیْنَ (یونس ۱۰:۱۰۲، ۱۰۳)

''پھر کیا یہ بھی (خدا کے عذاب کے) انھی دنوں کا انتظار کر رہے ہیں جو ان سے پہلے گزر جانے والوں پر آئے؟ کہہ دو کہ پس تم بھی انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر (جب عذاب آئے گا تو) ہم اپنے رسولوں اور ان پرایمان لانے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ اسی طرح ہوگا۔ ہم پر لازم ہے کہ ہم ایمان لانے والوں کو بچا لیں۔''

مکہ مکرمہ ہی میں آپ کو 'الکوثر' یعنی بیت اللہ کی تولیت حاصل ہونے کی بشارت دے دی گئی اور کہا گیا کہ آپ کے دشمنوں کا نام ونشان تک مٹ جائے گا:

إِنَّا أَعْطَیْْنَاکَ الْکَوثر فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ ۔ إِنّ شَانِءَکَ ہُوَ الْأَبْتَر۔ُ (الکوثر ۱۰۸:۱۔۳)

''ہم نے تجھے خیر کثیر عطا کر دی۔ سو تم اپنے رب کے لیے نماز بھی پڑھو اور قربانی بھی کرو۔ بے شک تمھارے دشمن ہی کا نام ونشان مٹ کر رہے گا۔''

خبابؓ فرماتے ہیں کہ ہم نے مکی عہد میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے مصائب وتکالیف کا شکوہ کیا تو آپ نے فرمایا:

واللہ لیتمن ہذا الامر حتی یسیر الراکب من صنعاء الی حضر موت لا یخاف الا اللہ او الذئب علی غنمہ ولکنکم تستعجلون۔ (بخاری، رقم ۳۳۴۳)

''بخدا اس دین کا غلبہ اس طرح اپنے درجہ کمال کو پہنچے گا کہ ایک سوار صنعا سے حضرموت تک سفر کرے گا اور اسے یا خدا کا خوف ہوگا یا اس بات کا کہ بھیڑیا اس کی بکریوں کو نہ کھا جائے، لیکن بات یہ ہے کہ تم لوگ عجلت کا مظاہرہ کر رہے ہو۔''

مکی دور میں ہی ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے مکہ میں آکر اسلام قبول کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ہدایت کی کہ:

یا ابا ذر اکتم ہذا الامر وارجع الی بلدک فاذا بلغک ظہورنا فاقبل ۔(بخاری، رقم ۳۵۲۲)

''ابو ذر، اس معاملے کوچھپائے رکھو اور اپنے علاقے میں واپس چلے جاؤ۔ پھر جب تمھیں ہمارے غالب آجا نے کی خبر پہنچے تو آ جانا۔''

بیعت عقبہ کے موقع پر انصار نے اسی یقین کے پیش نظر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہرحال غلبہ حاصل ہو کر رہے گا، آپ سے یہ یقین دہانی حاصل کی کہ اس کے بعد آپ انھیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم کے پاس واپس نہیں چلے جائیں گے:

یا رسول اللہ ان بیننا وبین الرجال حبالا وانا قاطعوہا یعنی الیہود فہل عسیت ان نحن فعلنا ذلک ثم اظہرک اللہ ان ترجع الی قومک وتدعنا؟۔ (ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱/۴۰۲)

''یا رسول اللہ! ہمارے اور یہود کے مابین تعلقات ہیں جنھیں (آپ کا ساتھ دینے کے لیے) ہم توڑ دیں گے، لیکن کہیں ایسا تو نہیں ہوگا کہ ہم یہ کر لیں اور پھر اللہ آپ کو (قریش پر) غلبہ عطا کر دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر واپس اپنی قوم کے پاس چلے جائیں؟''

سفر ہجرت کے موقع پر سراقہ بن مالک نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر کا پیچھا کر کے انھیں گرفتار کرنے کی کوشش کی، لیکن قریب پہنچنے پر ان کے گھوڑے کے پاؤں زمین میں دھنس گئے اور وہ اپنی کوشش میں ناکام رہے۔ اس پر انھیں یقین ہو گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غلبہ پا کر رہیں گے:

فعرفت حین رایت ذلک انہ قد منع منی وانہ ظاہر۔ (السیرۃ النبویۃ ۱/۴۴۲)

''یہ دیکھ کر میں نے جان لیا کہ آپ کو مجھ سے محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہ کہ آپ غالب ہو کر رہیں گے۔''

سراقہ نے آپ نے درخواست کی کہ آپ کو امان نامہ لکھ دیا جائے جو آپ نے قبول فرما لی۔ فتح مکہ کے موقع پر سراقہ یہی امان نامہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر اسلام قبول کر لیا۔

مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد جب اہل ایمان کو قتال کا حکم دے دیا گیا تو انھیں بشارت دی گئی کہ مسلمانوں کو اس جنگ میں خدا کی تائید حاصل ہے، اس لیے وہ کمزوری دکھاتے ہوئے ازخود دشمن کے ساتھ صلح کی خواہش کا اظہار نہ کریں:

فَلَا تَہِنُوا وَتَدْعُوا إِلَی السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّہُ مَعَکُمْ وَلَن یَتِرَکُمْ أَعْمَالَکُمْ ۔(محمد ۴۷:۳۵)

''سو تم کمزوری دکھا کر صلح کی دعوت نہ دو جبکہ بہرحال تم ہی غالب رہو گے۔ اور اللہ تمھارے ساتھ ہے اور وہ تمھارے اعمال کا بدلہ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔''

سورۂ بقرہ کی آیات ۱۹۲، ۱۹۳ میں بھی قریش کے خلاف قتال کا حکم ایسے اسلوب میں دیا گیا ہے کہ گویا اس کے نتیجے میں قریش کے برپا کردہ فتنے کا خاتمہ اور اللہ کا دین کا غلبہ ایک قضاے مبرم ہے:

وَقَاتِلُوہُمْ حَتَّی لاَ تَکُونَ فِتْنَۃٌ وَیَکُونَ الدِّیْنُ لِلّٰہِ (البقرہ ۲:۱۹۳)

''اور ان کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ ہی کے لیے ہو جائے۔''

یہی اعلان مختلف اسالیب میں قرآن میں جگہ جگہ دیکھا جا سکتا ہے۔ سورۂ صف میں ارشاد ہوا ہے:

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ ۔(الصف ۶۱:۹)

''وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے تاکہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے، چاہے مشرک اس بات کو کتنا ہی ناپسند کرتے رہیں۔''

إِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُوْلَءِکَ فِیْ الأَذَلِّیْنَ ۔کَتَبَ اللَّہُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِیْ إِنَّ اللَّہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (المجادلہ ۵۸:۲۰، ۲۱)

''بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر پیکار ہیں، وہی ذلیل ہو کر رہیں گے۔ اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول ہر حال میں غالب آئیں گے۔ بے شک اللہ بے حد قوت والا، غالب آنے والا ہے۔''

اہل کفر اور اہل ایمان کے مابین پہلا معرکہ بدرمیں ہوا۔ اس جنگ میں قریش کی صف اول کی قیادت کو تہ تیغ کر کے نہ صرف قریش کو ان کے حتمی انجام کی تصویر دکھا دی گئی بلکہ رسول اللہ کے مخالف دوسرے گروہوں کو بھی اس سے عبرت حاصل کرنے کی نصیحت کی گئی۔ قرآن مجید نے اسی لیے غزوۂ بدر کو 'یوم الفرقان' یعنی حق وباطل کے مابین فیصلہ کن معرکے کا دن قرار دیا (الانفال ۸:۴۱) اور کہا کہ منکرین حق کے تمام گروہ اس واقعے میں اپنے انجام کی تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ ارشاد ہے:

قُل للَذِیْنَ کَفَرُواْ سَتُغْلَبُونَ وَتُحْشَرُونَ إِلَی جَہَنَّمَ وَبِءْسَ الْمِہَادُ ۔ قَدْ کَانَ لَکُمْ آیَۃٌ فِیْ فِءَتَیْْنِ الْتَقَتَا فِءَۃٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَأُخْرَی کَافِرَۃٌ یَرَوْنَہُم مِّثْلَیْْہِمْ رَأْیَ الْعَیْْنِ وَاللّہُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِہِ مَن یَشَاءُ إِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَعِبْرَۃً لَّأُوْلِیْ الأَبْصَار۔ِ (آل عمران ۳: ۱۲، ۱۳)

''تم ان منکروں سے کہہ دو کہ عنقریب تم مغلوب کر دیے جاؤ گے اور تمہیں دھکیل کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔ تمہارے لیے ان دو گروہوں میں جن کی آپس میں مڈبھیڑ ہوئی، عبرت کی ایک بڑی نشانی تھی ۔ ایک گروہ تو مومن تھا)جو اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا جبکہ دوسرا کافر تھا جو طاغوت کے لیے برسر پیکار تھا، اور انہیں مسلمان اپنی آنکھوں سے اپنے سے دوگنا دکھائی دے رہے تھے۔ اور اللہ جس کی چاہے اپنی مدد سے تائید کرتا ہے۔ بے شک اس میں آنکھیں رکھنے والوں کے لیے عبرت کا بڑا سامان ہے۔''

تاریخ وسیرت بھی قرآن مجید کے اس بیان کی تائید کرتے ہیں۔ واقدی کا بیان ہے:

فلما قدم بالاسری اذل اللہ بذلک رقاب المشرکین والمنافقین والیہود ولم یبق بالمدینۃ یہودی ولا منافق الا خضع عنقہ لوقعۃ بدر ..... وفرق اللہ فی صبحہا بین الکفر والایمان وقالت الیہود فی ما بینہا ہو الذی نجدہ منعوتا واللہ لا تفرع لہ رایۃ بعد الیوم الا ظہرت۔ (المغازی، ۱/۱۲۱)

''جب آپ قیدیوں کو گرفتار کرکے لائے تو اللہ نے اس کی وجہ سے مشرکوں اور منافقوں اور یہودیوں کے سرنگوں کر دیے اور مدینے میں کوئی یہودی یا منافق ایسا نہ رہا جس کی گردن واقعہ بدر کے بعد جھک نہ گئی ہو۔۔۔ اس روز اللہ نے کفر اور ایمان کے مابین امتیاز قائم کر دیا اور یہود آپس میں کہنے لگے کہ یہ وہی پیغمبر ہے جس کی صفات تمھاری کتابوں میں لکھی ہوئی ہیں۔بخدا،آج کے بعد جب بھی جنگ کا علم لہرائے گا،غلبہ اسی کو نصیب ہو گا۔''

غزوۂ احد کے بعد مدینہ منورہ کے یہود اور منافقین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کے خلاف اعتراضات کیے تو سیدنا عمر نے آپ سے اجازت طلب کی کہ ان یہودیوں اور منافقوں کو قتل کر دیں۔ آپ نے فرمایا:

یا عمر ان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ وللیہود ذمۃ فلا اقتلہم۔(المغازی، ۱/۳۱۸)

''اے عمر! اللہ یقیناًاپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کرے گا، لیکن یہود کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اس لیے میں انھیں قتل نہیں کروں گا۔''

غزوۂ احد ہی کے موقع پر ابو سفیان نے جاتے ہوئے مسلمانوں کو آئندہ سال اسی وقت بدر الصفراء کے مقام پر آ کر لڑنے کا چیلنج دیا تھا۔ مقررہ وقت پر جب ابو سفیان کی پھیلائی ہوئی افواہوں کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف کی کیفیت ہونے لگی اور اندیشہ ہوا کہ وہ لڑائی کے لیے نہیں نکلیں گے تو سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمرؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ:

یا رسول اللہ ان اللہ مظہر دینہ ومعز نبیہ وقد وعدنا القوم موعدا ونحن لا نحب ان نتخلف عن القوم فیرون ان ہذا جبن منا عنہم فسر لموعدہم۔ (المغازی، ۱/۳۸۷)

''یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو غالب اور اپنے نبی کو سرفراز کرنے کا وعدہ کر رکھا ہے۔ ہم نے اپنے دشمن کے ساتھ ایک وقت مقرر کیا تھا اور ہم اس کو پسند نہیں کرتے کہ لڑائی سے پیچھے ہٹیں اور دشمن یہ سمجھے کہ یہ ہماری بزدلی ہے، اس لیے آپ مقررہ مقام کی طرف روانہ ہو جائیے۔''

اس کے بعد مسلمانوں کی قوت اور اسلام کی دعوت میں مسلسل وسعت پیدا ہوتی رہی اور قریش کی رسوائی اور ہزیمت کا دائرہ بھی اسی تناسب سے پھیلتا رہا۔ صورت حال پر نظر رکھنے والے ذہین لوگوں کو فتح مکہ سے قبل ہی اس بات کا یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ آخر کار قریش پر غالب آ کر رہیں گے۔ چنانچہ ۵ ہجری میں غزوۂ احزاب کے موقع پر قریش نے پورے عرب سے قبائل کو جمع کر کے مدینہ پر حملے کا ارادہ کیا تو حارث بن عوف نے اپنے قبیلہ بنو غطفان کو اس مہم میں شریک ہونے سے منع کیا اور ان سے کہا:

تفرقوا فی بلادکم ولا تسیروا الی محمد فانی اری ان محمدا امرہ ظاہر لو ناواہ من بین المشرق والمغرب لکانت لہ العاقبۃ ۔(الواقدی، المغازی، ۲/۴۴۳)

''اپنے علاقے میں منتشر ہو جاؤ اور محمد پر حملے کے لیے مت جاؤ۔ مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد کا دین غالب آ کر رہے گا۔ اگر مشرق سے مغرب تک سارے انسان اس کے مقابلے میں آجائیں تو بھی فتح اسی کو حاصل ہوگی۔''

عمرو بن العاص بیان کرتے ہیں کہ وہ قریش کی طرف سے بدر، احد اور خندق میں شریک ہوئے۔ اس کے بعد انھیں قریش کی مغلوبیت کا یقین ہو گیا۔کہتے ہیں:

فقلت فی نفسی کم اوضع؟ واللہ لیظہرن محمد علی قریش فخلفت مالی بالرہط وافلت یعنی من الناس فلم احضر الحدیبیۃ ولا صلحہا۔ (المغازی، ۲/۷۴۱، ۷۴۲)

''میں نے اپنے جی میں کہا: میں کب تک اس لاحاصل تگ ودو میں شریک رہوں گا؟ بخدا، محمد کو قریش پر غلبہ حاصل ہو کر رہے گا۔ چنانچہ میں نے اپنا مال واسباب اپنے قبیلے ہی میں چھوڑا اور لوگوں سے پیچھا چھڑا کر نکل گیا۔ چنانچہ میں حدیبیہ کے معاہدہ صلح کے موقع پر موجود نہیں تھا۔''

عمرو اس کے بعد حبشہ چلے گئے۔ نجاشی شاہ حبشہ نے ایک موقع پر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی تصدیق کی تو عمرو قبول حق کی طرف متوجہ ہوئے۔ کہتے ہیں:

قلت فی نفسی عرف ہذا الحق العرب والعجم وتخالف انت؟ قلت اتشہد ایہا الملک بہذا؟ قال نعم اشہد بہ عند اللہ یا عمرو فاطعنی واتبعہ واللہ انہ لعلی الحق ولیظہرن علی کل دین خالفہ کما ظہر موسی علی فرعون وجنودہ۔ (المغازی، ۲/۷۴۳)

''میں نے اپنے دل میں کہا: ارے، اس حق کو تو عرب اور عجم کے لوگ پہچانتے ہیں اور تو ابھی تک مخالف ہے؟ میں نے بادشاہ سے پوچھا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو؟ اس نے کہا، اے عمرو، میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ گواہی دیتا ہوں، اس لیے میری بات مان لو اور اس نبی کی اطاعت اختیار کر لو۔ بخدا وہ حق پر ہے اور اپنی مخالفت کرنے والے ہر دین پر اسی طرح غالب آ کر رہے گا جیسے موسیٰ کو فرعون اور اس کے لشکر کے مقابلے میں غلبہ حاصل ہوا تھا۔''

ہرقل کے نام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ مبارک پہنچنے پر اس نے ابو سفیان کو بلا کر ان سے گفتگو کی۔ اس گفتگو کے بعد ابو سفیان نے اپنے تاثرات یوں بیان کیے:

فلما ان خرجت مع اصحابی وخلوت بہم قلت لہم قد امر امر ابن ابی کبشۃ ہذا ملک بنی الاصفر یخافہقال ابو سفیان واللہ ما زلت ذلیلا مستیقنا بان امرہ سیظہر حتی پکا ادخل اللہ قلبی الاسلام وانا کارہ۔ (بخاری،رقم۲۷۲۳)

''پھر جب میں اور میرے ساتھی اس کے دربار سے نکل کر تنہائی میں بیٹھے تو میں نے ان سے کہا: ابو کبشہ کے بیٹے کا معاملہ تو ہمارے بس سے باہر ہو گیا ہے۔ یہ دیکھو، رومیوں کا بادشاہ بھی اس سے خوف زدہ ہے۔

ابو سفیان کہتے ہیں کہ بخدا، اس وقت سے مجھے یقین ہو گیا کہ محمد غالب آ کر رہیں گے، یہاں تک آخر کار اللہ نے میرے دل میں اسلام کو داخل کر دیا، حالانکہ میں اس کو ناپسند کرتا تھا۔''

خالد بن الولید کہتے ہیں:

لما اراد اللہ بی من الخیر ما اراد قذف فی قلبی حب الاسلام وحضرنی رشدی وقلت قد شہدت ہذہ المواطن کلہا علی محمد فلیس موطن اشہدہ الا انصرف وانا اری فی نفسی انی موضع فی غیر شئ وان محمد سیظہر۔ (المغازی، ۲/۷۴۶)

''جب اللہ نے میرے ساتھ بھلائی کا ارادہ کیا تو میرے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی اور مجھے ہدایت کی بات سوجھ گئی۔ میں نے کہا: میں محمد کے خلاف ان تمام جنگوں میں شریک رہا ہوں اور کوئی جنگ ایسی نہیں ہوتی کہ جس میں شریک ہونے کے بعد میں پلٹوں اور میرے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ میں ایک بے فائدہ جدوجہد میں مصروف ہوں اور محمد بہرحال غالب آکر رہیں گے۔''

فتح مکہ کے بعد بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے مل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حملہ کرنے کا ارادہ کیا تو اس موقع پر بنو ہوازن میں سے دو قبیلے بنو کعب اور بنو کلاب ان کے ساتھ شریک نہ ہوئے۔ ان میں سے ایک سردار ابن ابی البراء نے بنو کلاب کو اس جنگ میں شریک ہونے سے منع کیا اور ان سے کہا کہ:

واللہ لو ناوا محمدا من بین المشرق والمغرب لظہر علیہ۔ (المغازی، ۳/۸۸۶)

''بخدا، اگر مشرق سے مغرب تک سب لوگ محمد کے مقابلے میں آ جائیں، تب بھی محمد ہی غالب رہیں گے۔''

غزوۂ حنین کے موقع پر جب دوران سفر میں ایک مشرک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سویا ہوا پا کر آپ پر تلوار سونت لی۔ اس موقع پر آپ نے اس شخص کو معاف کر دیا اور ابو بردہ سے مخاطب ہو کر فرمایا:

ان اللہ مانعی وحافظی حتی یظہر دینہ علی الدین کلہ ۔(المغازی، ۳/۸۹۲)

''بے شک اللہ میری حفاظت کرے گا ، یہاں تک کہ اپنے دین کو تمام دینوں پر غالب کر دے۔''

غزوۂ حنین میں شکست کی کیفیت کو خود بنو ثقیف کے بعض لوگوں نے یوں بیان کیا:

فتفرقت جماعتنا فی کل وجہ وجعلت الرعدۃ تسحقنا حتی لحقنا کانت العرب تلوم باسلامہم الفتح فیقولون اترکوہ وقومہ فان ان ظہر علیہم فہو نبی صادق فلما کانت وقعۃ اہل الفتح بادر کل قوم باسلامہم بعلیاء بلادنا فان کان لیحکی عنا الکلام ما کنا ندری بہ مما کان بنا من الرعب فقذف اللہ الاسلام فی قلوبنا۔(المغازی ۳/۹۰۷)۔(بخاری، رقم ۳۹۶۳)

''ہمارا لشکر تمام اطراف میں تتر بتر ہو گیا اور کپکپی ہم پر اس طرح طاری ہوئی کہ کسی کام کا نہ چھوڑا۔ آخر کار ہم گرتے پڑتے اپنے علاقے کی سخت اور سنگین زمین تک پہنچ گئے۔ لوگ ہمیں وہ باتیں بتاتے تھے جو اس موقع پر ہمارے مونہوں سے نکلیں لیکن رعب اور ہیبت کی وجہ ہمیں خود کچھ پتہ نہیں تھا کہ ہم کیا بول رہے ہیں۔ اس کے بعد اللہ نے ہمارے دلوں میں اسلام قبول کرنے کا خیال ڈال دیا۔''

مسلمانوں کے غلبہ اور قریش کی ہزیمت کا یہ عمل فتح مکہ کی صورت میں اپنے نقطہ کمال کو پہنچا اور قریش کے اس انجام نے تردد اور شکوک وشبہات کی اس کیفیت کا بالکل خاتمہ کر دیا جس میں جزیرۂ عرب کے اکثر قبائل اس سے پہلے مبتلا تھے۔ چنانچہ پورے عرب نے آپ کے سامنے تسلیم وانقیاد کی گردن جھکا دی۔ عمرو بن سلمہ بتاتے ہیں:

''اہل عرب اسلام لانے کے لیے فتح مکہ کا انتظار کر رہے تھے۔ چنانچہ وہ کہتے تھے کہ محمد اور ان کے قبیلے کے مابین فیصلہ ہو لینے دو۔ اگر محمد غالب آ گئے تو وہ سچے نبی ہیں۔ پھر جب مکہ فتح ہو گیا تو ہر قبیلہ اسلام قبول کرنے کے لیے لپکنے لگا۔''

ابن اسحاق کا بیان ہے:

وانما کانت العرب تربص باسلامہا امر ہذا الحی من قریش لان قریشا کانوا امام الناس وہادیہم واہل البیت والحرم وصریح ولد اسماعیل بن ابراہیم وقادۃ العرب لا ینکرون ذلک وکانت قریش ہی التی نصبت الحرب لرسول اللہ صلی اللہ فلما افتتحت مکۃ ودانت لہ قریش ودوخہا الاسلام عرفت العرب انہ لا طاقۃ لہم بحرب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ولا عداوتہ فدخلوا فی دین اللہ کما قال اللہ عز وجل افواجا یضربون الیہ من کل وجہ ۔(ابن کثیر، السیرۃ النبویۃ، ۴/۷۶)

''سارا عرب اسلام قبول کرنے کے لیے قریش کا انجام طے ہونے کا انتظار کر رہا تھا، کیونکہ قریش لوگوں کے پیشوا ورہنما، حرم اور بیت اللہ کے متولی اور اسماعیل علیہ السلام کی خالص نسل سے تھے اور عرب کی قیادت کے منصب پر فائز تھے جس کو کوئی چیلنج کرنے والا نہیں تھا۔ اور یہ قریش ہی تھے جو حقیقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف برسرپیکار تھے۔پھر جب مکہ فتح ہو گیا اور اسلام نے قریش کو زیر کر کے اپنا مطیع بنا لیا تو اہل عرب جان گئے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ اور دشمنی کا خطرہ مول نہیں لے سکتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق وہ ہر جانب سے آپ کے پاس حاضر ہوئے اور گروہ در گروہ اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔''

اس پوری داستان سے، ظاہر ہے کہ ارد گرد کی اقوام بے خبر نہیں تھیں، چنانچہ جزیرۂ عرب میں اسلام کے غالب ہونے کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دعواے نبوت کی صداقت ان اقوام پر بھی پوری طرح واضح ہو گئی۔ ابن سعد کی 'الطبقات الکبریٰ' (۱/ ۲۵۸-۲۶۳) اور دیگر تاریخی مآخذ میں درج تفصیلات کے اس کی مختصر روداد حسب ذیل ہے:

عمرو بن امیۃ الضمری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی شاہ حبشہ کے نام دعوت اسلام کا خط دے کر بھیجا۔ اس نے آپ کے خط کو آنکھوں سے لگایا، تخت سے اتر کر نہایت تواضع کے ساتھ زمین پر بیٹھ گیا اور اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا۔ پھر اس نے اپنے قبول اسلام کی باقاعدہ تحریر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لکھی اور کہا کہ اگر میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو سکتا تو ہو جاتا۔

دحیہ کلبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نامہ مبارک لے کر قیصر روم کے پاس گئے تو اس نے علامات کو پہچان کر نہ صرف خود آپ کی نبوت کی تصدیق کی بلکہ اپنی قوم کو بھی آپ پر ایمان لانے کی دعوت دی۔ لیکن مسیحی علما اور سرداروں کی جانب سے شدید رد عمل دیکھ کر اسے خوف ہوا کہ وہ اس بات پر وہ خود قیصر کی اطاعت قبول کرنے سے بھی انکار کر دیں گے، چنانچہ اس نے اپنی بادشاہت کو بچانے کی خاطر اسلام قبول کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس موقع پر قیصر نے ابو سفیان کو بلا کر، جو اتفاق سے اس وقت شام میں موجود تھے، آپ کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ان معلومات کی روشنی میں اس نے یہ پیش گوئی کی کہ یوشک ان یملک موضع قدمی ہاتین (بخاری، رقم ۲۷۲۳) یعنی عنقریب یہ علاقہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے قبضے میں ہوگا جو اس وقت میرے زیر نگیں ہے۔

طب بن ابی بلتعہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقوقس شاہ مصر کے نام مکتوب مبارک دے کر بھیجا۔ اس نے خط پڑھ کر اچھے کلمات کہے اور نہایت ادب اور احترام سے آپ کے خط کو محفوظ کر لیا۔ اس نے دو نہایت قیمتی لونڈیاں اور ایک سفید گدھا تحفے کے طور پر آپ کی خدمت میں بھیجے اور جوابی خط میں لکھا کہ یہ بات تو میرے علم میں تھی کہ ایک نبی نے مبعوث ہونا ہے، البتہ میرا گمان یہ تھا کہ شاید وہ شام میں مبعوث ہوگا۔ تاہم اس نے آپ کی طرف سے قبول اسلام کی دعوت کے جواب میں یہ عذر پیش کیا کہ قبطی قوم اس معاملے میں میری بات نہیں مانے گی۔ اس نے پیش گوئی کی کہ:

وسیظہر علی البلاد وینزل اصحابہ من بعدہ بساحتنا ہذہ حتی یظہروا علی ما ہہنا ۔(الاصابۃ، ۴/۱۹۶۷)

''انھیں ملکوں پر غلبہ نصیب ہوگااور ان کے بعد ان کے ساتھی ہمارے اس علاقے میں آئیں گے یہاں تک کہ یہاں بھی ان کا غلبہ قائم ہو جائے گا۔'

'

اس نے مزید کہا:

وستکون لہ العاقبۃ حتی لا ینازعہ احد ویظہر دینہ الی منتہی الخف والحافر۔ (الاصابہ، ۴/۱۹۶۸)

''انجام کار سرفرازی انھی کا مقدر ہے یہاں تک کہ کوئی ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھے گا اور جہاں تک گھوڑے اور اونٹ پہنچ سکتے ہیں، وہاں تک ان کا دین غالب ہوگا۔''

عبد اللہ بن حذافہ سہمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط لے کر خسرو شاہ ایران کے پاس گئے۔ اس نے نہایت تکبر کے ساتھ آپ کا والا نامہ پھاڑ دیا اور یمن میں اپنے گورنر باذان کو لکھا کہ دو آدمی بھیج کر اس مدعی نبوت کے بارے میں معلومات حاصل کرو۔ باذان کے قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے کہا کہ ایک دن ٹھہر جاؤ اور کل دوبارہ میرے پاس آنا۔ اگلے دن وہ آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اطلاع دی کہ میرے رب نے گزشتہ رات تمہارے آقا کو خود اس کے بیٹے شیرویہ کے ہاتھوں قتل کروا دیا ہے۔ قاصد یہ اطلاع لے کر یمن واپس گئے تو باذان اور اس کے ماتحت عرب فارسی نسل کے لوگوں نے صورت حال کی تصدیق کرنے کے بعد اسلام قبول کر لیا۔