غامدی صاحب کے تصور ’سنت‘ پر اعتراضات کا جائزہ حصہ اول


ماہنامہ ''الشریعہ'' کے ستمبر ۲۰۰۶ کے شمارے میں جناب حافظ محمد زبیر کا مضمون ''غامدی صاحب کے تصور سنت کا تنقیدی جائزہ''شائع ہوا تھا جو اب ان کی تصنیف ''فکر غامدی ایک تحقیقی و تجزیاتی مطالعہ'' کا حصہ ہے۔ اس مضمون میں فاضل ناقد نے یہ بیان کیا ہے کہ سنت کے تصور ،اس کے تعین، اس کے مصداق اور اس کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کا موقف عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔ اس موضوع پر ایک اور تنقیدی مضمون ''الشریعہ'' ہی کے جون ۲۰۰۸ کے شمارے میں بھی شائع ہوا ہے۔ یہ رسالے کے رئیس التحریر مولانا زاہد الراشدی کی تصنیف ہے۔ ''غامدی صاحب کا تصور سنت'' کے زیر عنوان اس مضمون میں انھوں نے بیان کیا ہے کہ سنت کے بارے میں غامدی صاحب کا تصور جمہور امت، بالخصوص خیرالقرون کے اجماعی تعامل کے منافی ہے اور عملاً سنت کے حجت ہونے سے انکار کے مترادف ہے۔ ان مضامین کے مطالعے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ دونوں مضامین سنت کے بارے میں غامدی صاحب کے نقطۂ نظر سے نا واقفیت اور اس کے سوء فہم پر مبنی ہیں۔اس تحریر میں ہم حافظ زبیر صاحب کے جملہ اعتراضات کے حوالے سے بحث کریں گے۔ ان کا مضمون تفصیلی بھی ہے اور کم و بیش ان تمام اعتراضات کا احاطہ کرتا ہے جو مولانا زاہد الراشدی نے اٹھائے ہیں۔ مزید براں یہ اسی سلسلۂ مباحث کا حصہ ہے جس پر ان کے ساتھ بحث و تمحیص کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں ہم اپنے فہم کی حد تک غامدی صاحب کے تصور سنت کو بیان کریں گے،اس موضوع پر اہل علم کی آرا کی تنقیح کریں گے اور عقل و نقل کی روشنی میں فاضل ناقدین کی تنقیدات کا جائزہ لیں گے۔ مباحث کے عنوانات حسب ذیل ہیں:

۱۔ غامدی صاحب کا تصور سنت

۲۔ غامدی صاحب کے تصور سنت پر اعتراضات کا جائزہ

۳۔ سنت کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر اعتراضات کا جائزہ

۴۔ سنت کی اصطلاح کے حوالے سے غامدی صاحب اور ائمۂ سلف کے موقف کا فرق

غامدی صاحب کا تصور سنت

سنت کے بارے میں جناب جاوید احمد غامدی کا تصور یہ ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی روایت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اس میں بعض اضافوں کے ساتھ اسے دین کی حیثیت سے امت میں جاری فرمایاہے ۔اس کا پس منظر ان کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دین کے بنیادی حقائق اس کی فطرت میں ودیعت کر کے دنیا میں بھیجا۔ پھر اس کی ہدایت کی ضرورتوں کے پیش نظر انبیا کا سلسلہ جاری فرمایا ۔ یہ انبیا وقتاً فوقتاً مبعوث ہوتے رہے اور بنی آدم تک ان کے پروردگار کادین پہنچاتے رہے۔یہ دین ہمیشہ دو اجزا پر مشتمل رہا : ایک حکمت، یعنی دین کی مابعدالطبیعاتی اور اخلاقی اساسات اور دوسرے شریعت، یعنی اس کے مراسم اور حدود و قیود ۔ حکمت ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی ، لہٰذا وہ ہمیشہ ایک رہی۔ لیکن شریعت کا معاملہ قدرے مختلف رہا۔ وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، لہٰذا انسانی تمدن میں ارتقا اور تغیر کے باعث بہت کچھ مختلف بھی رہی۔ مختلف اقوام میں انبیا کی بعثت کے ساتھ شریعت میں ارتقا و تغیر کا سلسلہ جاری رہا ،یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اس کے احکام بہت حد تک متعین ہو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹوں اسحق اور اسماعیل علیہما السلام کو اسی دین کی پیروی کی وصیت کی اور سیدنا یعقوب علیہ السلام نے بھی بنی اسرائیل کو اسی پر عمل پیرا رہنے کی ہدایت کی:

وَمَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ... وَوَصّٰی بِہَآ اِبْرٰہٖمُ بَنِیْہِ وَیَعْقُوْبُ.(البقرہ۲: ۱۳۰، ۱۳۲)

''اور کون ہے جو ملت ابراہیم سے اعراض کر سکے، مگر وہی جو اپنے آپ کو حماقت میں مبتلا کرے...۔ اور ابراہیم نے اسی (ملت) کی وصیت اپنے بیٹوں کو کی اور (اسی کی وصیت) یعقوب نے (اپنے بیٹوں کو) کی۔''

دین ابراہیمی کے احکام ذریت ابراہیم کی دونوں شاخوں، بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل میں نسلاً بعد نسلٍ ایک دینی روایت کے طور پرجاری رہے۔ بنی اسماعیل میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو آپ کو بھی دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا۔ سورۂ نحل میں ارشاد فرمایا ہے:

ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(۱۶ :۱۲۳)

''پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جب دین ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیا گیا تو عبادات، معاشرت، خور و نوش اور رسوم و آداب سے متعلق دین ابراہیمی کے یہ احکام پہلے سے رائج تھے اور بنی اسماعیل ان سے ایک معلوم و متعین روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھے۔بنی اسماعیل بڑی حد تک ان پر عمل پیرا بھی تھے ۔ دین ابراہیمی کے یہی معلوم و متعارف اور رائج احکام ہیں جنھیں اصطلاح میں 'سنت' سے تعبیر کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کے بعد اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔

یہ جناب جاوید احمد غامدی کا سنت کے بارے میں تصور ہے۔ یہ تصور ان کی کتاب ''میزان'' کے مقدمے ''اصول و مبادی'' میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کی تمہید میں انھوں نے دین کے ماخذ کی بحث کرتے ہوئے سنت کے بارے میں اپنا اصولی موقف ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

''... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دین آپ کے صحابہ کے اجماع اور قولی و عملی تواتر سے منتقل ہوا اور دو صورتوں میں ہم تک پہنچا ہے :

۱۔ قرآن مجید

۲ ۔سنت

... سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے ۔ ''(میزان۱۳۔۱۴)

اسی مقدمے میں ایک مقام پر انھوں نے سنت کے اس تصور کے پس منظر کو بیان کیا ہے۔ ''مبادی تد بر قرآن'' کے تحت فہم قرآن کے اصول بیان کرتے ہوئے ''دین کی آخری کتاب'' کے زیر عنوان یہ واضح کیا ہے کہ قرآن جس دین کو پیش کرتا ہے، تاریخی طور پر وہ اس کی پہلی نہیں، بلکہ آخری کتاب ہے ۔ دین فطرت، ملت ابراہیمی کی روایت اورنبیوں کے صحائف تاریخی لحاظ سے اس سے مقدم ہیں۔ لکھتے ہیں:

''... دین کی تاریخ یہ ہے کہ انسان کو جب اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھیجا تو اُس کے بنیادی حقائق ابتدا ہی سے اُس کی فطرت میں ودیعت کر دیے۔ پھر اُس کے ابوالآبا آدم علیہ السلام کی وساطت سے اُسے بتا دیا گیا کہ اولاً، اُس کا ایک خالق ہے جس نے اُسے وجود بخشا ہے،وہی اُس کا مالک ہے اور اِس کے لازمی نتیجے کے طور پر تنہا وہی ہے جسے اُس کا معبود ہونا چاہیے ۔ثانیاً ،وہ اِس دنیا میں امتحان کے لیے بھیجا گیا ہے اور اِس کے لیے خیر وشر کے راستے نہایت واضح شعور کے ساتھ اُسے سمجھا دیے گئے ہیں ۔پھر اُسے ارادہ و اختیار ہی نہیں ، زمین کا اقتدار بھی دیا گیا ہے۔ اُس کا یہ امتحان دنیا میں اُس کی زندگی کے آخری لمحے تک جاری رہے گا ۔وہ اگر اِس میں کامیاب رہا تو اِس کے صلے میں خدا کی ابدی بادشاہی اُسے حاصل ہو جائے گی جہاں نہ ماضی کا کوئی پچھتاوا ہو گا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ثالثاً، اُس کی ضرورتوں کے پیش نظر اُس کا خالق وقتاً فوقتاً اپنی ہدایت اُسے بھیجتا رہے گا ،پھر اُس نے اگر اِس ہدایت کی پیروی کی تو ہر قسم کی گمراہیوں سے محفوظ رہے گا اور اِس سے گریز کا رویہ اختیار کیا تو قیامت میں ابدی شقاوت اُس کا مقدر ٹھیرے گی ۔

چنانچہ پروردگار نے اپنا یہ وعدہ پورا کیا اور انسانوں ہی میں سے کچھ ہستیوں کو منتخب کر کے اُن کے ذریعے سے اپنی یہ ہدایت بنی آدم کو پہنچائی۔ اِس میں حکمت بھی تھی اور شریعت بھی۔حکمت، ظاہر ہے کہ ہر طرح کے تغیرات سے بالا تھی ،لیکن شریعت کا معاملہ یہ نہ تھا ۔وہ ہر قوم کی ضرورتوں کے لحاظ سے اترتی رہی، یہاں تک کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نبوت میں پوری انسانیت کے لیے اُس کے احکام بہت حد تک ایک واضح سنت کی صورت اختیار کر گئے۔ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جب بنی اسرائیل کی ایک باقاعدہ حکومت قائم ہو جانے کا مرحلہ آیا تو تورات نازل ہوئی اور اجتماعی زندگی سے متعلق شریعت کے احکام بھی اترے۔ اِس عرصے میں حکمت کے بعض پہلو نگاہوں سے اوجھل ہوئے تو زبور اور انجیل کے ذریعے سے اُنھیں نمایاں کیا گیا۔ پھر اِن کتابوں کے متن جب اپنی اصل زبان میں باقی نہیں رہے تو اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے آخری پیغمبر کی حیثیت سے مبعوث کیا اور اُنھیں یہ قرآن دیا ۔...

یہ دین کی تاریخ ہے ۔چنانچہ قرآن کی دعوت اِس کے پیش نظر جن مقدمات سے شروع ہوتی ہے ،وہ یہ ہیں :

۱۔ فطرت کے حقائق

۲۔ دین ابراہیمی کی روایت

۳۔ نبیوں کے صحائف۔'' (میزان ۴۳۔۴۵)

بنی اسماعیل میں دین ابراہیمی کی روایت

جناب جاوید احمد غامدی کا موقف یہ ہے کہ عربوں کے ہاں دین ابراہیمی کی روایت پوری طرح مسلم تھی ۔ لوگ بعض تحریفات کے ساتھ کم و بیش وہ تمام امور انجام دیتے تھے جنھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جاری کیا تھا اور جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تصویب سے امت میں سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا۔ چنانچہ ان کے نزدیک نماز، روزہ، حج،زکوٰۃ،نماز جنازہ، جمعہ، قربانی، اعتکاف اور ختنہ جیسی سنتیں دین ابراہیمی کے طور پر قریش میں معلوم و معروف تھیں۔لکھتے ہیں:

''...نماز ،روزہ ،حج ،زکوٰۃ، یہ سب اِسی ملت کے احکام ہیں جن سے قرآن کے مخاطب پوری طرح واقف ،بلکہ بڑی حد تک اُن پر عامل تھے ۔ سیدنا ابوذر کے ایمان لانے کی جو روایت مسلم میں بیان ہوئی ہے ، اُس میں وہ صراحت کے ساتھ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ہی وہ نماز کے پابند ہو چکے تھے۔ جمعہ کی اقامت کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ قرآن کے مخاطبین کے لیے کوئی اجنبی چیز نہ تھی۔ نماز جنازہ وہ پڑھتے تھے ۔ روزہ اُسی طرح رکھتے تھے، جس طرح اب ہم رکھتے ہیں۔ زکوٰۃ اُن کے ہاں بالکل اُسی طرح ایک متعین حق تھی، جس طرح اب متعین ہے۔ حج و عمرہ سے متعلق ہر صاحب علم اِس حقیقت کو جانتا ہے کہ قریش نے چند بدعتیں اُن میں بے شک داخل کر دی تھیں، لیکن اُن کے مناسک فی الجملہ وہی تھے جن کے مطابق یہ عبادات اِس وقت ادا کی جاتی ہیں ،بلکہ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اِن بدعتوں پر متنبہ بھی تھے ۔ چنانچہ بخاری و مسلم، دونوں میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعثت سے پہلے جو حج کیا ،وہ قریش کی اِن بدعتوں سے الگ رہ کر بالکل اُسی طریقے پر کیا ، جس طریقے پر سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے حج ہمیشہ جاری رہا ہے۔

یہی معاملہ قربانی، اعتکاف، ختنہ اور بعض دوسرے رسوم و آداب کا ہے۔یہ سب چیزیں پہلے سے رائج، معلوم و متعین اور نسلاً بعد نسلٍ جاری ایک روایت کی حیثیت سے پوری طرح متعارف تھیں ۔ چنانچہ اِس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ قرآن اِن کی تفصیل کرتا ۔ لغت عرب میں جو الفاظ اِن کے لیے مستعمل تھے ، اُن کا مصداق لوگوں کے سامنے موجود تھا۔ قرآن نے اُنھیں نماز قائم کرنے یا زکوٰۃ ادا کرنے یا روزہ رکھنے یا حج و عمرہ کے لیے آنے کا حکم دیا تو وہ جانتے تھے کہ نماز، زکوٰۃ ، روزہ اور حج و عمرہ کن چیزوں کے نام ہیں۔''(میزان۴۵۔۴۶)

غامدی صاحب کے تصور سنت پر اعتراضات کا جائزہ

فاضل ناقد نے اپنے مضمون میں غامدی صاحب کے تصور سنت پر بنیادی طور پر یہ تنقید کی ہے کہ غامدی صاحب کا سنت کو ملت ابراہیمی کی روایت کا حصہ قرار دینا اور اس بنا پر اسے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی نسبت سے بیان کرنا عقل و نقل کی روشنی میں درست نہیں ہے۔فاضل ناقد نے اس تنقید کوچار مختلف پہلووں سے پیش کیا ہے۔ ذیل میں ان کا خلاصہ اور ان کے بارے میں ہمارا تبصرہ پیش ہے۔

'ملت' کا مفہوم

فاضل ناقد نے پہلا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کا سورۂ نحل (۱۶) کی آیت ۱۲۳ کے الفاظ 'اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا' میں لفظ 'مِلَّۃَ' کا ترجمہ 'سنت' کرنا درست نہیں ہے۔ یہ ترجمہ قرآن مجید کے عرف اور عربی زبان کے مسلمات کے خلاف ہے۔ اس آیت میں ملت کا لفظ توحیداور شرک سے اجتناب اور اطاعت الٰہی کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے سنت کا مفہوم مراد نہیں لیا جا سکتا۔ چنانچہ غامدی صاحب کا اس آیت کوسنت کی دلیل کے طور پر پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب نے اپنی بیان کردہ تعریف سنت کے ثبوت کے لیے سورۃ النحل کی درج ذیل آیت کو بطور دلیل بیان کیا ہے:

ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(النحل۱۶ :۱۲۳)

''پھر ہم نے آپ کی طرف وحی کی کہ آپ حضرت ابراہیم کی ملت کی پیروی کریں جو بالکل یک سو تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔''

غامدی صاحب بحث ''سنت'' کی کر رہے ہیں اور دلیل ایک ایسی آیت کو بنا رہے ہیں جس میں لفظ 'ملت' استعمال ہوا ہے، حالانکہ یہاں پر'ملت ابراہیم ' سے مراد بالکل بھی سنت ابراہیمی (وہ ستائیس چیزیں جو کہ غامدی صاحب نے بیان کی ہیں) نہیں ہے۔ 'سنت' کا لفظ جزئیات پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ باندھنا سنت ہے، جبکہ ملت کے لفظ کا اطلاق جزئیات پر نہیں ہوتا، مثلاً یہ کہنا غلط ہو گا کہ نماز میں ہاتھ باندھنا ملت ہے، کیونکہ 'سنت' کے لفظ کی نسبت جزئیات کی طرف ہو جاتی ہے جبکہ 'ملت' کی نسبت جزئی امور کی طرف نہیں ہوتی بلکہ اجتماعی یا مجموعی امور کی طرف ہوتی ہے۔ ...ملت کا لفظ قرآن میں معمولی سے فرق کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے ۔ اس آیت میں 'ملت ابراہیم ' سے مراد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین کی وہ مجموعی ہیئت ہے جو کہ دین اسلام کی بنیادی اور تمام انبیا کے ہاں متفق علیہ تعلیمات پر عمل کرنے، خصوصاً ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرنے اور اللہ کا انتہائی درجے میں فرماں بردار ہو جانے کی صورت میں ہمارے سامنے آتی ہے۔ ...لفظ ملت کا ترجمہ 'دین ' تو کیا جاسکتا ہے... اس کی وجہ یہ ہے کہ دین کا اصل معنی بھی اطاعت اور فرمانبرداری ہی ہے، لیکن ملت کا ترجمہ'سنت ' کسی طرح نہیں بنتا۔...لفظ ملت کا ترجمہ' سنت' سے کرنا عربی زبان سے لاعلمی اور قرآنی اصطلاحات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔'' (فکر غامدی ۵۲۔۵۳،۵۷)

فاضل ناقد کا یہ اعتراض سنت کے بارے میں ''میزان'' کے مندرجات کے سوء فہم پر مبنی ہے۔ غامدی صاحب نے ''اصول و مبادی'' میں جن دو مقامات پر یہ آیت نقل کی ہے، وہاں لفظ ملت کا ترجمہ سنت ہر گز نہیں کیا ہے۔ انھوں نے 'مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ' کا ترجمہ ''ملت ابراہیم'' ہی کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

''ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا، وَ مَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ.(النحل۱۶ :۱۲۳)

''پھر ہم نے تمھیں وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھا اور مشرکوں میں سے نہیں تھا۔'' ''(میزان۱۴)

جہاں تک ملت کے مفہوم کا تعلق ہے تو ان دونوں مقامات سے واضح ہے کہ ملت ابراہیم سے ان کی مراد دین ابراہیم ہے۔ چنانچہ ان مباحث میں انھوں نے جا بجا''سنت ابراہیمی'' کے نہیں، بلکہ ''دین ابراہیمی'' کے الفاظ استعمال کیے ہیں ۔ سنت ان کے نزدیک دین ابراہیمی یا ملت ابراہیمی ہی کا ایک جز ہے۔ یہ در حقیقت دین ابراہیم کے ان احکام پر مشتمل ہے جو بنی اسماعیل میں پہلے سے رائج اور معلوم و متعین تھے اور نسل در نسل چلتی ہوئی ایک روایت کی حیثیت سے متعارف تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تجدید و اصلاح کی اور ان میں بعض اضافوں کے ساتھ انھیں مسلمانوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا۔وہ لکھتے ہیں:

''سنت سے ہماری مراد دین ابراہیمی کی وہ روایت ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کی تجدید واصلاح کے بعد اور اُس میں بعض اضافوں کے ساتھ اپنے ماننے والوں میں دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔''(میزان۱۴)

''...دین ابراہیمی کی روایت کا یہ حصہ جسے اصطلاح میں سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، قرآن کے نزدیک خدا کا دین ہے اور وہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیتا ہے تو گویا اِس کو بھی پورا کا پورا اپنانے کی تلقین کرتا ہے۔'' (میزان۴۶)

فاضل ناقد کی یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ غامدی صاحب نے سنت کے معنی و مصداق کے لیے مذکورہ آیت کواصل بناے استدلال کے طور پر پیش کیا ہے۔ اصول و مبادی کے مندرجات سے یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ ان کے نزدیک یہ آیت فقط اس بات کا حوالہ ہے کہ قرآن کے علاوہ دین ابراہیمی کی روایت کو بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے امت میں جاری فرمایا ہے ۔

جہاں تک فاضل ناقد کے اس اعتراض کا تعلق ہے کہ ملت کے جامع لفظ سے بطور تائید ہی سہی، سنت کا جزوی مفہوم اخذ کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے تو اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ زبان و بیان کے مسلمات کی رو سے یہ بھی جائز ہے کہ متکلم کوئی وسیع الاطلاق لفظ یا اصطلاح استعمال کر کے اس کے کسی ایک جز یا ایک اطلاق کومراد لے رہا ہو اور یہ بھی جائز ہے کہ مخاطب کسی وسیع الاطلاق لفظ کے جملہ اطلاقات میں سے جو اس کے مفہوم کو پوری طرح شامل ہوں، کسی ایک اطلاق کو بیان کرنے پر اکتفا کرے۔ گویا کل کو بول کر جز بھی مراد لیا جا سکتا ہے اور بولے گئے کل سے اس کے کسی جز پر استدلال بھی کیا جا سکتا ہے۔ تفہیم مدعا کے لیے سورۂ بینہ کی درج ذیل آیت کا مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَآءَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْقَیِّمَۃِ.(۹۸:۵)

''ان (اہل کتاب کو) یہی ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اطاعت کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے، پوری یک سوئی کے ساتھ، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں اور یہی دین قیم (سیدھی ملت کا دین) ہے۔''

اس آیت کو پڑھ کر اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اس کی روسے ' دین قیم'کا اطلاق فقط تین چیزوں، یعنی اللہ کی عبادت، نماز کے اہتمام اور زکوٰۃ کی ادائیگی پر ہوتا ہے اور عقائد و اعمال کی دیگر چیزیں، مثلاً توحید، رسالت، آخرت، روزہ، حج، اور قربانی وغیرہ دین قیم کے اطلاق میں شامل نہیں ہیں تو اس کی بات کو کسی طرح بھی درست قرار نہیں دیا جائے گا۔

فاضل ناقد کے مذکورہ اعتراض کا ایک جز یہ بھی ہے کہ ملت ابراہیم کے الفاظ سے دین ابراہیمی کی روایت مراد لینا درست نہیں ہے۔ اس سے مراد بالخصوص دین کی اساسی تعلیمات، یعنی توحید، شرک اور اطاعت الٰہی ہیں۔ ہمارے نزدیک فاضل ناقد کے اس موقف کی نفی لفظ کے لغوی مفہوم اور آیت کے سیاق و سباق ہی سے ہو جاتی ہے۔لغت کے مطابق، جیسا کہ فاضل ناقد نے خود تسلیم کیا ہے، لفظ 'ملت' ایک جامع لفظ ہے جو اصولی تصورات کے علاوہ عملی احکام کو بھی شامل ہے:

''لسان العرب'' میں ہے:

والملۃ: الشریعۃ والدین....الملۃ: الدین کملۃ الاسلام والنصرانیۃ والیہودیۃ، وقیل: ہی معظم الدین، وجملۃ ما یجئ بہ الرسل.... قال ابو اسحٰق: الملۃ فی اللغۃ سنتہم و طریقہم.( ۱۱ / ۶۳۱۔۶۳۲)

''شریعت اور دین کا نام ملت ہے۔ ... ملت، ملت اسلام، ملت نصرانیہ اور ملت یہودیہ کی طرح ایک دین کا نام ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بنیادی اور جملہ اجزاے دین کو ملت کہتے ہیں جس کو رسول لے کر آتے ہیں۔... ابواسحاق کہتے ہیں کہ لغت میں ان کی سنت اور طریقے کو ملت کہتے ہیں۔''

سورۂ نحل کی مذکورہ آیات میں سیاق وسباق کی رو سے عملی پہلو مراد ہیں۔اس مقام پر اصل میں ان مشرکانہ بدعات کی تردید کی گئی ہے جوبعض جانوروں کی حرمت کے حوالے سے مشرکین عرب میں رائج تھیں اور جن کے بارے میں ان کادعویٰ تھا کہ انھیں سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہی نے جاری فرمایا تھا۔ اس ضمن میں انھوں نے اپنے طور پر ایک پوری شریعت وضع کر رکھی تھی۔ مثال کے طور پر وہ منتوں اور نذروں کے لیے خاص کیے گئے جانوروں پر اللہ کانام لینا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ ان پر سوار ہو کر حج کرنا ممنوع تھا۔ وہ اپنی کھیتیوں اور جانوروں میں سے ایک حصہ اللہ کے لیے مقرر کرتے اور ایک حصہ دیوی دیوتاؤں کے لیے خاص کر دیتے تھے۔نذروں اور منتوں کے لیے مخصوص جانوروں میں سے مادائیں جو بچہ جنتیں، اس کا گوشت عورتوں کے لیے ناجائز اور مردوں کے لیے جائز تھا، لیکن اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو یا بعد میں مر جائے تو پھر اس کا گوشت عورتوں کے لیے بھی جائز ہو جاتا تھا۔ قرآن مجید نے ان مشرکانہ بدعات اور ان کی سیدنا ابراہیم سے نسبت کی نہایت سختی سے تردید کی ۔ یہ اس آیت کا پس منظر ہے۔ اس پس منظرمیں اگر آیت کا مطالعہ اس کے سیاق و سباق کے ساتھ کیا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ' اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ' کا حکم اصل میں عملی احکام ہی کے تناظر میں آیا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

فَکُلُوْا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلاً طَیِّبًا وَّاشْکُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ. اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْْکُمُ الْمَیْْتَۃَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَمَآ اُہِلَّ لِغَیْْرِ اللّٰہِ بِہٖ... وَلاَ تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ... وَعَلَی الَّذِیْنَ ہَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْْکَ مِنْ قَبْلُ وَمَا ظَلَمْنٰہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْٓا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ... اِنَّ اِبْرٰہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِلّٰہِ حَنِیْفًا وَلَمْ یَکُ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. شَاکِرًا لِّاَنْعُمِہِ، اِجْتَبٰہُ وَہَدٰہُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ... ثُمَّ اَوْحَیْْنَآ اِلَیْْکَ اَنِِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا وَمَا کَانَ مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ. اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَی الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ وَاِنَّ رَبَّکَ لَیَحْکُمُ بَیْْنَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ.(النحل۱۶ :۱۱۴۔۱۲۴)

''تو اللہ نے تمھیں جو چیزیں جائز و پاکیزہ دے رکھی ہیں، ان میں سے کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی پرستش کرتے ہو۔ اس نے تو تم پر بس مردار اور خون اور سؤر کا گوشت اور جس پر غیر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حرام ٹھہرایا ہے۔... اور اپنی زبانوں کے گھڑے ہوئے جھوٹ کی بنا پر یہ نہ کہو کہ فلاں چیز حلال ہے اور فلاں چیز حرام کہ اللہ پر جھوٹی تہمت لگاؤ۔.. .، اور جو یہودی ہوئے، ان پر بھی ہم نے وہی چیزیں حرام کیں جو ہم نے پہلے تم کو بتائیں اور ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔ ... بے شک، ابراہیم ایک الگ امت تھے، اللہ کے فرماں بردار اور اس کی طرف یک سو اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ وہ اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ اللہ نے ان کو برگزیدہ کیا اور ان کی رہنمائی ایک سیدھی راہ کی طرف فرمائی۔... پھر ہم نے تمھاری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم کی پیروی کرو جو بالکل یک سو تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ سبت انھی لوگوں پر عائد کیا گیا تھا جنھوں نے اس کے باب میں اختلاف کیا، اور بے شک، تمھارا رب ان چیزوں کے باب میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں، قیامت کے روز ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا۔ ' '

'اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا'کی تفسیر میں جلیل القدر اہل علم نے ملت سے فقط اصولی تصورات مراد نہیں لیے، بلکہ عملی پہلووں کو نمایاں طور پر شامل سمجھتے ہوئے اس آیت کی تفسیر کی ہے۔

ابن قیم نے ملت کو توحید کے مفہوم میں لینے کی صریح طور پر تردید کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ اس سے مراد دین ہے اور اس کے مفہوم میں عقائد کے ساتھ اعمال بھی شامل ہیں:

واما قولکم ان الملۃ ہی التوحید فالملۃ ہی الدین وہی مجموع اقوال وافعال واعتقاد ودخول الاعمال فی الملۃ کدخول الایمان فالملۃ ہی الفطرۃ وہی الدین ومحال ان یامر اللّٰہ سبحانہ باتباع ابراہیم فی مجرد الکلمۃ دون الاعمال وخصال الفطرۃ.(ابن القیم، تحفۃ المولود۱۰۶)

''تم اگر یہ کہتے ہو کہ ملت سے مراد توحید ہے (تو یہ درست نہیں ہے)۔ ملت سے مراد دین ہے اور دین اقوال، افعال اور اعتقاد کے مجموعے کا نام ہے۔ جس طرح ایمان ملت کے مفہوم میں داخل ہے، اسی طرح اعمال بھی اس کے مفہوم میں داخل ہیں۔ پس فطرت کا نام ملت ہے اور وہ دین ہے۔ یہ بات محال ہے کہ اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعمال اور عادات فطرت کو چھوڑ کر صرف کلمہ کی پیروی کرنے کا حکم فرمائیں۔''

امام رازی نے ملت سے شریعت مراد لیا ہے اور بیان کیا ہے کہ ملت ابراہیم ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ ہے:

ظاہر ہذہ الآیۃ یقتضی ان شرع محمد علیہ الصلٰوۃ والسلام نفس شرع ابراہیم، وعلی ہذا التقدیر لم یکن محمد علیہ الصلٰوۃ والسلام صاحب شریعۃ مستقلۃ، وانتم لا تقولون بذلک. قلنا: یجوز ان تکون ملۃ ابراہیم داخلۃ فی ملۃ محمد علیہ الصلٰوۃ والسلام مع اشتمال ہذہ الملۃ علی زوائد حسنۃ وفوائد جلیلۃ.(تفسیر کبیر ۱ /۵۷)

''(پھر اگر یہ کہا جائے کہ) آیت کا ظاہر تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اور ابراہیم علیہ السلام کی شریعت یکساں ہے اور اس بنا پر تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مستقل شریعت کے حامل نہ ہوئے، جبکہ تم ایسا نہیں کہتے ۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ ملت محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ملت ابراہیم داخل ہے کچھ اچھے زوائد اور بہتر فوائد کے ساتھ۔''

امام ابن حزم نے اسے شریعت کے معنوں میں لیا ہے اور واضح کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کو لے کر آئے جس پر سیدنا ابراہیم عمل پیرا تھے:

واما شریعۃ ابراہیم علیہ السلام فہی شریعتنا ہذہ بعینہا ولسنا نقول ان ابراہیم بعث الی الناس کافۃ وانما نقول ان اللّٰہ تعالٰی بعث محمدًا الی الناس کافۃ بالشریعۃ التی بعث تعالٰی بہا ابراہیم علیہ السلام الی قومہ خاصۃ دون سائر اہل عصرہ وانما لزمتنا ملۃ ابراہیم لان محمدًا صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعث بہا الینا لا لان ابراہیم علیہ السلام بعث بہا.(ابن حزم، الاحکام ۲ /۱۶۵۔۱۶۶)

''حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت بعینہٖ وہی شریعت ہے جوہماری ہے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ابراہیم علیہ السلام تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے تھے، ہم تو یہ کہتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسی شریعت کے ساتھ تمام لوگوں کی طرف بھیجے گئے جس کے ساتھ ابراہیم علیہ السلام بالخصوص اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے نہ کہ اپنے ہم عصر تمام لوگوں کی طرف۔ ہم پر ملت ابراہیم کی پیروی لازم ہے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی کے ساتھ ہماری طرف بھیجے گئے ہیں، نہ کہ اس لیے کہ ابراہیم علیہ السلام اس کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔ ''

بیضاوی نے ملت ابراہیم سے ملت اسلام کو مراد لیا ہے:

(فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا) ای ملۃ الاسلام التی ہی فی الاصل ملۃ ابراہیم، او مثل ملتہ.(تفسیر البیضاوی ۱/ ۱۴۸)

'''فَاتَّبِعُوْا مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ'، یعنی ملت اسلام (کی پیروی کرو)جو اصل میں ملت ابراہیم ہے یا اس کی مثل ہے۔''

شاہ ولی اللہ نے حج جیسی عملی عبادت کو' فَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا 'ہی کے حکم کے تحت شامل کیا ہے:

والنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بعث لتظہر بہ الملۃ الحنیفیۃ وتعلو بہا کلمتہا، وہو قولہ تعالٰی: (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرَہِیْمَ) فمن الواجب المحافظۃ علی ما استفاض عن امامیہا کخصال الفطرۃ ومناسک الحج؛ وہو قولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم (قفوا علی مشاعرکم فانکم علی ارث من ارث ابیکم ابراہیم).(حجۃ اللہ البالغہ۲ /۹۸)

'' نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ملت حنیفیہ ہی کے احیا اور قیام کے لیے ہوئی ہے اور اسی کا بول بالا کرنے کے لیے آپ اس دنیا میں تشریف لائے۔ قرآن مجید میں ہے: 'مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ' اس لیے یہ ضروری تھا کہ جو مناسک وہ بجا لائے ہیں اور ان کی لائی ہوئی شریعت کے شعائر ہیں، ان کو من و عن قائم رکھا جائے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےجب عربوں کو موقف میں دیکھا تو ان سے مخاطب ہو کر فرمایا:''اپنی اپنی جگہ کھڑے رہو، کیونکہ یہ مناسک تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی میراث ہے۔'' ''

''تفسیر مظہری'' میں شریعت کو ملت کے مفہوم میں شامل کر کے بیان کیا گیا ہے:

والملۃ کالدین اسم لما شرع اللّٰہ لعبادہ علی لسان الانبیاء لیتوصلوا بہا الی مدارج القرب وصلاح الدارین.( ۲/ ۹۴)

'' 'ملۃ' کا لفظ دین کی طرح ہے اور یہ اس چیز کے لیے اسم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے انبیا کی زبان سے شریعت کے طور پر جاری کیا ہو تاکہ وہ قرب کے مدارج اور دنیا و آخرت کی صلاح تک پہنچ سکیں۔''

(وَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ) خص ابراہیم علیہ السلام بالذکر، مع ان دین الانبیاء کلہم واحد وہو صرف نفسہ واعضاۂ وقواہ ظاہرًا او باطنًا فی مرضاۃ اللّٰہ تعالٰی مشتغلاً بہ تعالٰی معرضًا عن غیرہ تعالٰی لاتفاق جمیع الامم علی کونہ نبیًا حقًا حمیدًا فی کل دین، ولکون دین الاسلام موافقًا لشریعۃ ابراہیم علیہ السلام فی کثیر من فروع الاعمال کالصلٰوۃ الی الکعبۃ والطواف بہا ومناسک الحج والختان وحسن الضیافۃ وغیر ذلک من کلمات ابتلاہ اللّٰہ تعالٰی بہا فاتمہن.(تفسیر مظہری ۲/۴۶۱)

'''وَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ'۔اس میں حضرت ابراہیم کو خاص کیا ہے باوجود اس کے کہ تمام انبیا کا دین ایک ہی ہے، جبکہ حضرت ابراہیم نے اپنی جان، اپنے اعضا اور قویٰ ظاہری اور باطنی طور پر اللہ تعالیٰ کی مرضی کے لیے صرف کیے ، اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول ہو کر اور اس کے علاوہ سب سے اعراض کرتے ہوئے ، اس لیے کہ تمام امتوں کا ہر دین کے معاملے میں ان کے نبی برحق اور محمود ہونے پر اتفاق ہو جائے اور دین اسلام اعمال کی فروع میں ان کی شریعت کے موافق ہو ، جیسا کہ کعبے کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا، اس کا طواف کرنا، مناسک حج، ختنہ اور حسن ضیافت اور اس کے علاوہ وہ کلمات جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے انھیں آزمایا تو انھوں نے ان کو پورا کر دیا وغیرہ۔''

''تفسیر عثمانی'' میں حلال و حرام کو ملت کے مفہوم میں شامل تصور کیا گیا ہے:

''...مقصد یہ ہے کہ حلال و حرام اور دین کی باتوں میں اصل ملت ابراہیم ہے۔ ''( ۳۶۴)

مفتی محمد شفیع کی تفسیر سے واضح ہے کہ وہ شریعت اور احکام کو ملت کے مفہوم میں شامل سمجھتے ہیں:

''حق تعالیٰ نے جو شریعت و احکام حضرت ابراہیم علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے، خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت بھی بعض خاص احکام کے علاوہ اس کے مطابق رکھی گئی۔'' (معارف القرآن ۵/ ۴۰۵)

مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے ملت ابراہیم کے مفہوم کو ادا کرنے کے لیے ابراہیم علیہ السلام کے طریقے کی تعبیر اختیار کی ہے۔ لکھتے ہیں:

''... محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جس طریقے کی پیروی کا حکم دیا گیا ہے، وہ ابراہیم علیہ السلام کا طریقہ ہے اور تمھیں معلوم ہے کہ ملت ابراہیمی میں وہ چیزیں حرام نہ تھیں جو یہودیوں کے ہاں حرام ہیں۔ مثلاً یہودی اونٹ نہیں کھاتے، مگر ملت ابراہیمی میں وہ حلال تھا۔ یہودیوں کے ہاں شتر مرغ، بط، خرگوش وغیرہ حرام ہیں، مگر ملت ابراہیمی میں یہ سب چیزیں حلال تھیں۔'' (تفہیم القرآن۲ /۵۸۰)

اس تفصیل سے یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ ملت ابراہیمی سے مراد دین ابراہیمی ہے اور اس کے مشمولات میں فقط اصولی تصورات نہیں، بلکہ احکام و اعمال بھی شامل ہیں۔

ملت ابراہیم کی اتباع

فاضل ناقد نے دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کی یہ بات درست نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دین ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا تھا۔ ان کے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی ملت کے احکام محفوظ ہی نہیں تھے تونبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی اتباع کا حکم کیونکردیا جا سکتا تھا۔ لکھتے ہیں:

''اگر ملت ابراہیمی سے مراد وہ ستائیس اعمال لے بھی لیے جائیں جو کہ غامدی صاحب بیان کر رہے ہیں تو پھر بھی یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دین ابراہیمی کی بنیادی عبادات نماز اور مناسک حج وغیرہ بھی محفوظ نہ تھیں چہ جائیکہ باقی اعمال محفوظ رہے ہوں۔ جب دین ابراہیمی ہی محفوظ نہ تھا تواللہ تعالیٰ کا اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کواس کی اتباع کا حکم دینا کچھ معنی نہیں رکھتا ۔'' (فکر غامدی۵۷)

فاضل ناقد کے پہلے اعتراض کے جواب میں یہ بات ہر لحاظ سے واضح ہو گئی ہے کہ ملت ابراہیمی سے مراد دین ابراہیمی ہے اور اس کے مشمولات میں فقط اصولی تصورات نہیں، بلکہ احکام و اعمال بھی شامل ہیں۔اس تناظر میں دوسرے اعتراض کے بارے میں ہماری معروضات حسب ذیل نکات پر مبنی ہیں:

اولاً، اس اعتراض کی تردید خود آیت کے اسلوب بیان سے ہو جاتی ہے۔ حکم دیا گیا ہے :'وَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ' یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ اپنے پیغمبر کو یا اپنے بندوں کو کسی ایسی چیز کا حکم دیں جس کا وجود عنقا ہو ، جو غیر محفوظ ہو یاجس کا مصداق مشتبہ ہو۔ اس ضمن میں دلیل قاطع یہ ہے کہ آیت کے اولین مخاطب نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ عامۂ عرب کو ملت ابراہیم کے مختلف احکام کے بارے میں ابہام یا اشکال ہو، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ ہرگز ممکن نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو اللہ کے احکام کی تفہیم کے لیے وحی کی مکمل رہنمائی میسر تھی۔چنانچہ یہ یقینی امر ہے کہ آپ ان سنن کی حقیقی صورتوں سے بھی آگاہ تھے اور ان سے متعلق بدعات اورتحریفات کو بھی پوری طرح جانتے تھے۔

ثانیاً، قرآن مجید میں مختلف سنن کا جس طریقے سے ذکر ہوا ہے، اس سے بھی یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ دین ابراہیمی کے سنن اہل عرب میں پوری طرح معلوم و متعارف تھے۔ عرب جاہلی میں دین ابراہیمی کے سنن کوئی اجنبی چیز نہیں تھے۔ ان کی زبان میں صلوٰۃ، صوم، زکوٰۃ ، حج، نسک کے الفاظ کا وجود بجاے خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ ان عبادات سے پوری طرح واقف تھے۔ وہ ان کی مذہبی حیثیت ، ان کے آداب ، ان کے اعمال و اذکار اور حدود و شرائط کو بھی بہت حد تک جانتے تھے۔ چنانچہ یہ واقعہ ہے کہ قرآن نے جب ان کاذکر کیا تو ایسے ہی کیا جیسے کسی معلوم و معروف چیزکا ذکر کیا جاتا ہے۔ نہ ان کی نوعیت اور ماہیت بیان کی اور نہ ان کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دین ابراہیمی کی ایک روایت کی حیثیت سے یہ جس طرح انجام دی جاتی تھیں،وحی کی رہنمائی میں ان میں بعض ترامیم کر کے، ان میں کیے جانے والے انحرافات کو ختم کر کے اور ان کی بدعات کی اصلاح کر کے انھیں اپنے ماننے والوں کے لیے جاری فرمایا۔

فاضل ناقد نے نماز اور حج کی مثال دی ہے اور لکھا ہے: ''دین ابراہیمی کی بنیادی عبادات نماز اور مناسک حج وغیرہ بھی محفوظ نہ تھیں چہ جائیکہ باقی اعمال محفوظ رہے ہوں۔''ہمارے نزدیک ان سنن کے حوالے سے قرآن و حدیث میں ان کے بیان ہی سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ اعمال فی الجملہ محفوظ تھے اور اہل عرب ان پر عامل تھے۔۱؂

ثالثاً، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بنی اسماعیل میں دین ابراہیمی کی جو روایت رائج تھی ، اس میں انھوں نے بعض تحریفات کر رکھی تھیں اور بعض بدعات اختراع کر لی تھیں، لیکن یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ان تحریفات او ر بدعات کا تحریف اور بدعت ہونا پوری طرح مسلم تھا، یہی وجہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت سے پہلے بھی انھیں اختیار نہیں کیا۔۲؂ مزید براں نبوت کے بعد ان تحریفات کی نشان دہی اور ان بدعات سے آگاہی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کی رہنمائی بھی میسر ہو گئی۔ اس تناظر میں بالبداہت واضح ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو سنت ابراہیمی کی پیروی کا حکم دیاتو اس میں کسی طرح کا کوئی ابہام نہیں تھا۔

رابعاً، فاضل ناقد کا اعتراض اگر حفاظت ہی کے پہلو سے ہے تو سوال یہ ہے کہ ''ملت ابراہیم'' کا جو مفہوم و مصداق خودانھوں نے متعین کیاہے،یعنی توحید، شرک سے اجتناب اور اطاعت الٰہی، کیا یہ تصورات مشرکین عرب کے ہاں محفوظ اور تحریف و آمیزش سے پاک تھے؟ ہر شخص جانتا ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ چنانچہ فاضل ناقد اس کے جواب میں یہی کہیں گے کہ، بلا شبہ مشرکین نے ان تصورات میں تحریف و آمیزش کر رکھی تھی، لیکن وہ اس آمیزش سے بھی پوری طرح آگاہ تھے اور اصل تصورات کو بھی بخوبی جانتے تھے۔ ہم کہتے ہیں کہ بعینہٖ یہی معاملہ اعمال کا بھی ہے۔وہ ان اعمال کی اصل سے بھی واقف تھے اور ان کے محرفات کو بھی جانتے تھے۔

یہ نکات امید ہے کہ فاضل ناقد کے اطمینان کے لیے کافی ہوں گے۔مزید تاکید کے لیے اہل علم کی تالیفات کے چند اقتباس درج ذیل ہیں۔ ان کے مطالعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ تمام احکام جنھیں غامدی صاحب نے دین ابراہیمی کی روایت قرار دے کر سنن کی فہرست میں شمار کیا ہے،ہمارے جلیل القدر علما بھی انھیں دین ابراہیمی کی مستند روایت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔

شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کے پس منظر کے حوالے سے اپنی شہرۂ آفاق کتاب ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں بیان کیا ہے کہ اصل دین ہمیشہ سے ایک ہی رہا ہے ۔ تمام انبیا نے بنیادی طور پر ایک ہی جیسے عقائد اور ایک ہی جیسے اعمال کی تعلیم دی ہے۔ شریعت کے احکام اور ان کی بجا آوری کے طریقوں میں حالات کی ضرورتوں کے لحاظ سے ، البتہ کچھ فرق رہا ہے۔ سر زمین عرب میں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی تو اس موقع پر اس دین کے احوال یہ تھے کہ صدیوں کے تعامل کے نتیجے میں اس کے احکام دینی مسلمات کی حیثیت اختیار کر چکے تھے اورملت ابراہیم کے طور پر پوری طرح معلوم و معروف تھے، تاہم بعض احکام میں تحریفات اور بدعات داخل ہو گئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد ہوا:' اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا' یعنی ملت ابراہیم کی پیروی کرو۔ آپ نے یہ پیروی اس طریقے سے کی کہ اس ملت کے معلوم و معروف احکام کو برقرار رکھا، بدعات کا قلع قمع کیااور تحریف شدہ احکام کو ان کی اصل صورت پر بحال فرمایا۔ شاہ صاحب لکھتے ہیں:

اصل الدین واحد اتفق علیہ الانبیاء علیہم السلام، وانما الاختلاف فی الشرائع والمناہج. تفصیل ذلک انہ اجمع الانبیاء علیہم السلام علی توحید اللّٰہ تعالٰی عبادۃ واستعانۃ،... وانہ قدر جمیع الحوادث قبل ان یخلقہا، وان للّٰہ ملائکۃ لا یعصونہ فیما امر، ویفعلون ما یؤمرون، وانہ ینزل الکتاب علی من یشاء من عبادہ، ویفرض طاعتہ علی الناس، وان القیامۃ حق، والبعث بعد الموت حق، والجنۃ حق، والنار حق. وکذلک اجمعوا علی انواع البر من الطہارۃ والصلٰوۃ والزکٰوۃ والصوم والحج والتقرب الی اللّٰہ بنوافل الطاعات من الدعاء والذکر وتلاوۃ الکتاب المنزل من اللّٰہ، وکذلک اجمعوا الی النکاح وتحریم السفاح واقامۃ العدل بین الناس وتحریم المظالم واقامۃ الحدود علی اہل المعاصی والجھاد مع اعداء اللّٰہ والاجتہاد فی اشاعۃ امر اللّٰہ ودینہ، فھذا اصل الدین، ولذلک لم یبحث القرآن العظیم عن لمیۃ ہذہ الاشیاء الا ما شاء اللّٰہ، فانہا مسلمۃ فیمن نزل القرآن علی السنتہم. وانما الاختلاف فی صور ہذہ الامور واشباحہا.(حجۃ اللہ البالغہ۱ / ۱۹۹۔۲۰۰)

''اصل دین ایک ہے، سب انبیا علیہم السلام نے اسی کی تبلیغ کی ہے۔ اختلاف اگر ہے تو فقط شرائع اور مناہج میں ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب انبیا نے متفق الکلمہ ہو کر یہ تعلیم دی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید دین کا بنیادی پتھر ہے۔ عبادت اور استعانت میں کسی دوسری ہستی کو اس کا شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ ... ان کا یہ پختہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے سب حوادث اور واقعات کو وقوع سے پہلے ازل میں مقدر کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ایک پاک مخلوق ہے جس کو ملائکہ کہتے ہیں۔ وہ کبھی اس کے حکم سے سرتابی نہیں کرتے اور اس کے احکام کی اسی طرح تعمیل کرتے ہیں، جس طرح ان کو حکم ہوتا ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے کسی ایک کو چن لیتا ہے جس پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا ہے اور لوگوں پر اس کی اطاعت فرض کر دیتا ہے۔ موت کے بعد زندہ ہونا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہے، جنت اور دوزخ کا ہونا حق ہے۔جس طرح ہر دین کے عقائد ایک ہیں، اسی طرح بنیادی نیکیاں بھی ایک جیسی ہیں۔ چنانچہ دین میں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے، طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج کو فرض قرار دیا گیا ہے۔نوافل عبادات کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں قرب حاصل کرنے کی تعلیم ہر دین میں موجود ہے۔ مثلاًمرادوں کے پورا ہونے کے لیے دعا مانگنا، اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول رہنا نیز کتاب منزل کی تلاوت کرنا۔ اس بات پر بھی تمام انبیا علیہم السلام کا اتفاق ہے کہ نکاح جائز اور سفاح۳؂ حرام اور ناجائز ہے۔ جو حکومت دنیا میں قائم ہو عدل اور انصاف کی پابندی کرنا اور کمزوروں کو ان کے حقوق دلانا اس کا فرض ہے۔ اسی طرح یہ بھی اس کا فرض ہے کہ مظالم اور جرائم کے ارتکاب کرنے والوں پر حد نافذ کرے، دین اور اس کے احکام کی تبلیغ اور اشاعت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھے۔ یہ دین کے وہ اصول ہیں جن پر تمام ادیان کا اتفاق ہے اور اس لیے تم دیکھو گے کہ قرآن مجید میں ان باتوں کو مسلمات مخاطبین کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے اور ان کی لمیت سے بحث نہیں کی گئی۔ مختلف ادیان میں اگر اختلاف ہے تو وہ فقط ان احکام کی تفاصیل اور جزئیات اور طریق ادا سے متعلق ہے۔''

واعلم أن النبوۃ کثیرًا ما تکون من تحت الملۃ کما قال اللّٰہ تعالٰی: (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ) وکما قال: (وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ) وسر ذلک انہ تنشأ قرون کثیرۃ علی التدین بدین. وعلی تعظیم شعائرہ. وتصیر احکامہ من المشھورات الذائعۃ اللاحقۃ بالبدیہیات الاولیۃ التی لا تکاد تنکر. فتجئ نبوۃ اخری لاقامۃ ما اعوج منہا؛ وصلاح ما فسد منہا بعد اختلاط روایۃ نبیہا، فتفتش عن الاحکام المشہورۃ عندہم، فما کان صحیحًا موافقًا لقواعد السیاسۃ الملیۃ لا تغیرہ، بل تدعو الیہ، وتحث علیہ، وما کان سقیمًا قد دخلہ التحریف، فانہا تغیرہ بقدر الحاجۃ، وما کان حریًا ان یزداد، فانہا تزیدہ علی ما کان عندہم.(حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۲۰۹)

'' ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم ملا: 'اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا' اور آپ کی امت کو ان الفاظ سے مخاطب کیا گیا: 'مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ'۔ اسی طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے حق میں فرمایا: 'وَاِنَّ مِنْ شِیْعَتِہٖ لَاِبْرٰہِیْمَ'۔ اس کا راز اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب کسی دین پر بہت صدیاں گزر جاتی ہیں اور اس اثنا میں لوگ اس کی پابندی اور اس کے شعائر کی تعظیم اور احترام میں مشغول رہتے ہیں تو اس کے احکام اس قدر شائع وذائع ہو جاتے ہیں کہ ان کو بدیہات اور مشہورات مسلمہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے اور کسی کو بھی ان سے انکار کرنے کی جرأت نہیں ہوتی، لیکن ساتھ ہی اس کے احکام میں طرح طرح کا تغیر و تبدل اور اس کی تعلیمات میں مختلف النوع تحریفات بھی آجاتی ہیں اور بعض بری رسوم بھی رواج پا جاتی ہیں۔ چنانچہ ان رسوم کی اصلاح اور ان تحریفات کا قلع قمع کرنے کے لیے ایک نبی کی ضرورت ہوتی ہے اور جب وہ مبعوث ہو چکتا ہے تو اس کا کام یہ ہوتا ہے کہ جو احکام اس قوم میں جس کی طرف وہ مبعوث ہوا ہے، شائع و ذائع ہیں، ان پر وہ ایک نظر غائر ڈالتا ہے جو احکام سیاست ملیہ کے اصول کے مطابق ہوتے ہیں، ان کو برقرار رکھتا ہے اور لوگوں کو ان کے پابند رہنے کی ترغیب دیتا اور تاکید کرتا ہے، برخلاف اس کے جن میں تحریف آچکی ہے، ان کو بدل کر اپنی اصل صورت پر لاتا ہے اور جن احکام میں ہنگامی مصلحت کے لحاظ سے کچھ کمی بیشی کرنا مطلوب ہو، ان میں وقتی مصالح کے تقاضوں کے مطابق تغیر و تبدل کر دیتا ہے۔''

شاہ صاحب نے ملت ابراہیمی کے حوالے سے اسی بات کو ایک دوسرے مقام پر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

فاعلم انہ ﷺ بعث بالملۃ الحنیفیۃ الاسماعیلیۃ لاقامۃ عوجہا وازالۃ تحریفہا واشاعۃ نورہا، وذلک قولہ تعالٰی: (مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ) ولما کان الامر علی ذلک وجب ان تکون اصول تلک الملۃ مسلمۃ، وسنتہا مقررۃ اذ النبی اذا بعث الی قوم فیہم بقیۃ سنۃ راشدۃ، فلا معنی لتغییرہا وتبدیلہا، بل الواجب تقریرہا، لانہ اطوع لنفوسہم واثبت عند الاحتجاج علیہم.(حجۃاللہ البالغہ ۱/ ۴۲۷)

''اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت حنیفیہ اسماعیلیہ کی کجیاں درست کرنے اور جو تحریفات اس میں واقع ہوتی تھیں، ان کا ازالہ کرکے ملت مذکورہ کو اپنے اصلی رنگ میں جلوہ گر کرنے کے لیے مبعوث فرمایا تھا۔ چنانچہ : 'مِلَّۃَ اَبِیْکُمْ اِبْرٰہِیْمَ' (اور 'اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰہِیْمَ حَنِیْفًا') میں اسی حقیقت کا اظہار ہے، اس لیے یہ ضروری تھا کہ ملت ابراہیم کے اصول کو محفوظ رکھا جائے اور ان کی حیثیت مسلمات کی ہو۔ اسی طرح جو سنتیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے قائم کی تھیں، ان میں اگر کوئی تغیر نہیں آیا تو ان کا اتباع کیا جائے۔ جب کوئی نبی کسی قوم میں مبعوث ہوتا ہے تو اس سے پہلے نبی کی شریعت کی سنت راشدہ ایک حد تک ان کے پاس محفوظ ہوتی ہے جس کو بدلنا غیر ضروری، بلکہ بے معنی ہوتا ہے۔ قرین مصلحت یہی ہے کہ اس کو واجب الاتباع قرار دیا جائے، کیونکہ جس سنت راشدہ کو وہ لوگ پہلے بنظراستحسان دیکھتے ہیں، اسی کی پابندی پر مامور کیا جائے تو کچھ شک نہیں کہ وہ اس کو قبول کرنے میں ذرہ بھی پس و پیش نہیں کریں گے اور اگر کوئی اس سے انحراف یا سرتابی کرے تو اس کو زیادہ آسانی سے قائل کیا جاسکے گا، کیونکہ وہ خود اس کے مسلمات میں سے ہے۔''

یہ بات بھی اہل علم کے ہاں پوری طرح مسلم ہے کہ دین ابراہیمی کے سنن عربوں میں قبل از اسلام رائج تھے۔ شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے بیان کیا ہے کہ عرب نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، اعتکاف، قربانی، ختنہ، وضو، غسل، نکاح اور تدفین کے احکام پر دین ابراہیمی کی حیثیت سے عمل پیرا تھے۔ ان احکام کے لیے شاہ صاحب نے 'سنۃ' (سنت)، 'سنن متاکدہ' (مؤکد سنتیں)، 'سنۃ الانبیاء' (انبیا کی سنت) اور'شعائر الملۃ الحنیفیۃ' (ملت ابراہیمی کے شعار) کی تعبیرات اختیار کی ہیں:

وکان من المعلوم عندہم ان کما ل الانسان ان یسلم وجہہ لربہ، ویعبدہ اقصی مجہودہ.وان من ابواب العبادۃ الطہارۃ، وما زال الغسل من الجنابۃ سنۃ معمولۃ عندہم، وکذلک الختان وسائر خصال الفطرۃ، وفی (التوراۃ) ان اللّٰہ تعالی جعل الختان میسمۃ علی ابراہیم وذریتہ. وہذا الوضوء یفعلہ المجوس والیہود وغیرہم، وکانت تفعلہ حکماء العرب. وکانت فیہم الصلٰوۃ، وکان ''ابو ذر'' رضی اللّٰہ عنہ یصلی قبل ان یقدم علی النبی ﷺ بثلاث سنین، وکان ''قس بن ساعدۃ الایادی'' یصلی، والمحفوظ من الصلٰوۃ فی امم الیہود والمجوس وبقیۃ العرب افعال تعظیمیۃ لا سیما السجود واقوال من الدعاء والذکر. وکانت فیہم الزکاۃ،... وکان فیہم الصوم من الفجر الی غروب الشمس، وکانت قریش تصوم عاشوراء فی الجاہلیۃ. وکان الجوار فی المسجد، وکان ''عمر'' نذر اعتکاف لیلۃ فی الجاہلیۃ، فاستفتی فی ذلک رسول اللّٰہ ﷺ،... واما حج بیت اللّٰہ وتعظیم شعائرہ والاشہر الحرم... ولم تزل سنتہم الذبح فی الحلق والنحر فی اللبۃ ما کانوا یخنقون، ولا یبعجون.... وکانت لہم سنن متأکدۃ یتلاومون علی ترکہا فی مأکلہم ومشربہم ولباسہم وولائمہم واعیادہم ودفن موتاہم ونکاحہم وطلاقہم وعدتہم واحدادہم، وبیوعہم ومعاملاتہم، وما زالوا یحرمون المحارم کالبنات والامہات والاخوات وغیرہا. وکانت لہم مزاجر فی مظالمہم کالقصاص والدیات والقسامۃ وعقوبات علی الزنا والسرقۃ.(حجۃاللہ البالغہ ۱ / ۲۹۰۔۲۹۲)

''یہ بات وہ سب(عر ب)جانتے تھے کہ انسان کا کمال اور اس کی سعادت اس میں ہے کہ وہ اپنا ظاہر اور باطن کلیۃً اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور اس کی عبادت میں اپنی انتہائی کوشش صرف کرے۔ طہارت کو وہ عبادت کا جز سمجھتے تھے اورجنابت سے غسل کرنا ان کا معمول تھا۔ ختنہ اور دیگر خصال فطرت کے وہ پابند تھے۔ تورات میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام اور اس کی اولاد کے لیے ختنہ کو ایک شناخت کی علامت مقرر کیا۔ یہودیوں اور مجوسیوں وغیرہ میں بھی وضو کرنے کا رواج تھا اور حکماے عرب بھی وضو اور نماز عمل میں لایا کرتے تھے۔ ابوذر غفاری اسلام میں داخل ہونے سے تین سال پہلے، جبکہ ابھی ان کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں نیاز حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، نماز پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح قس بن ساعدہ ایادی کے بارے میں منقول ہے کہ وہ نماز پڑھا کرتے تھے۔ یہود اور مجوس اور اہل عرب جس طریقے پر نماز پڑھتے تھے، اس کے متعلق اس قدر معلوم ہے کہ ان کی نماز افعال تعظیمہ پر مشتمل ہوتی تھی جس کا جزو اعظم سجود تھا۔ دعا اور ذکر بھی نماز کے اجزا تھے۔ نماز کے علاوہ دیگر احکام ملت بھی ان میں رائج تھے۔ مثلاً زکوٰۃ وغیرہ۔... صبح صادق سے لے کرغروب آفتاب تک کھانے پینے اور صنفی تعلق سے محترز رہنے کو روزہ خیال کیا جاتا تھا۔ چنانچہ عہد جاہلیت میں قریش عاشورکے دن روزہ رکھنے کے پابند تھے۔ اعتکاف کو بھی وہ عبادت سمجھتے تھے۔ حضرت عمر کا یہ قول کتب حدیث میں منقول ہے کہ انھوں نے زمانۂ جاہلیت میں ایک دن کے لیے اعتکاف میں بیٹھنے کی منت مانی تھی جس کا حکم انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا۔ ... اور یہ تو خاص و عام جانتے ہیں کہ سال بہ سال بیت اللہ کے حج کے لیے دور دور سے ہزاروں کی تعداد میں مختلف قبائل کے لوگ آتے تھے۔ ذبح اور نحر کو بھی وہ ضروری سمجھتے تھے۔ جانور کا گلا نہیں گھونٹ دیتے تھے یا اسے چیرتے پھاڑتے نہیں تھے۔ اسی طرح اشہر الحرم کی حرمت ان کے ہاں مسلم تھی۔ ... ان کے ہاں دین مذکور کی بعض ایسی مؤکد سنتیں ماثور تھیں جن کے ترک کرنے والے کو مستوجب ملامت قرار دیا جاتا تھا۔ اس سے مراد کھانے پینے، لباس، عید اور ولیمہ، نکاح اور طلاق، عدت اور احداد، خریدو فروخت، مردوں کی تجہیزوتکفین وغیرہ کے متعلق آداب اور احکام ہیں جو حضرت ابراہیم سے ماثور و منقول تھے اور جن پر ان کی لائی ہوئی شریعت مشتمل تھی۔ ان سب کی وہ پابندی کرتے تھے۔ ماں بہن اور دیگر محرمات سے نکاح کرنا اسی طرح حرام سمجھتے تھے، جیسا کہ قرآن کریم میں مذکور ہے۔ قصاص اور دیت اور قسامت کے بارے میں بھی وہ ملت ابراہیمی کے احکام پر عامل تھے۔ اور حرام کاری اور چوری کے لیے سزائیں مقرر تھیں۔''

والذبح والنحر سنۃ الانبیاء علیہم السلام توارثوہما وفیہما مصالح... منہا انہ صار ذلک احد شعائر الملۃ الحنیفیۃ یعرف بہ الحنیفی من غیرہ فکان بمنزلۃ الختان وخصال الفطرۃ فلما بعث النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم مقیمًا للملۃ الحنیفیۃ وجب الحفظ علیہ.(حجۃ اللہ البالغہ ۲ / ۳۱۹۔۳۲۰)

''انبیا علیہم السلام کی سنت ذبح اور نحر ہے جو ان سے متوارث چلی آئی ہے۔ ذبح اور نحر دین حق کے شعائر میں سے ہے اور وہ حنیف اور غیر حنیف میں تمیز کرنے کا ذریعہ ہے، اس لیے یہ بھی اسی طرح کی ایک سنت ہے، جس طرح کہ ختنہ اور دیگر خصال فطرت ہیں اور جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو خلعت نبوت سے سرفراز فرما کر دنیا میں ہدایت کے لیے بھیجا گیا تو آپ کے دین میں اس سنت ابراہیمی کو دین حنیفی کے شعار کے طور پر محفوظ رکھا گیا۔''

امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ عربوں میں حج اور ختنہ وغیرہ کو دین ابراہیمی ہی کی حیثیت حاصل تھی:

ومعلوم انہ علیہ السلام اتی بشرائع مخصوصۃ، من حج البیت والختان وغیرہما،... وکان العرب تدین بہذہ الاشیاء.(التفسیر الکبیر ۴/ ۱۸)

'' اور یہ بات معلوم ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی شریعت خاص تھی، جیسے بیت اللہ کا حج اور ختنہ وغیرہ۔... عربوں نے ان چیزوں کو دین کی حیثیت سے اختیار کر رکھا تھا۔''

ختنہ کی سنت کے حوالے سے ابن قیم نے لکھا ہے کہ اس کی روایت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک بلا انقطاع جاری رہی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کی تکمیل اور توثیق کے لیے مبعوث ہوئے:

قال الموجبون الختان علم الحنیفیۃ وشعار الاسلام ورأس الفطرۃ وعنوان الملۃ.... وعلیہ استمر عمل الحنفاء من عہد امامہم ابراہیم الی عہد خاتم الانبیاء فبعث بتکمیل الحنیفیۃ وتقریرہا لا بتحویلہا وتغییرہا.(ابن القیم، مختصر تحفۃ المولود ۱۰۳۔ ۱۰۴)

''ختنہ کو واجب کہنے والوں کا قول ہے کہ یہ دین ابراہیمی کی علامت، اسلام کا شعار، فطرت کی اصل اور ملت کا عنوان ہے۔... دین ابراہیمی کی اتباع کرنے والے اپنے امام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عہد سے لے کر خاتم الانبیا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد تک ہمیشہ اسی پر کاربند رہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین ابراہیمی کی تکمیل اور توثیق کے لیے مبعوث فرمائے گئے نہ کہ اس میں تغیر و تبدل کرنے کے لیے۔''

قبل از اسلام تاریخ کے محقق ڈاکٹر جواد علی نے اپنی کتاب ''المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام'' میں کم و بیش ان تمام سنن کو دین ابراہیمی کے طور پر نقل کیا ہے جنھیں جناب جاوید احمد غامدی نے سنتوں کی فہرست میں جمع کیا ہے اور جو عربوں میں اسلام سے پہلے رائج تھیں۔ اس ضمن میں فاضل محقق نے نماز ، روزہ، اعتکاف، حج و عمرہ، قربانی ، جانوروں کا تذکیہ، ختنہ، مو نچھیں پست رکھنا ، زیر ناف کے بال کاٹنا، بغل کے بال صاف کرنا، بڑھے ہوئے ناخن کاٹنا، ناک ، منہ اور دانتوں کی صفائی، استنجا، میت کا غسل، تجہیز و تکفین اور تدفین کے بارے میں واضح کیا ہے کہ یہ سنن دین ابراہیم کے طور پر رائج تھیں اور عرب بالخصوص قریش ان پر کاربند تھے۔ لکھتے ہیں:

وعامۃ ولد (معد) بن عدنان علی بعض دین ابراہیم، یحجون البیت ویقیمون المناسک، ویقرون الضیف ویعظمون الاشہر الحرم، وینکرون الفواحش والتقاطع والتظالم، ویعاقبون علی الجرائم. فادخل فی الدین امورًا نعدہا الیوم من الاعراف وقواعد الاخلاق والسلوک، وجعلہا من سنۃ ابراہیم، ای دین العرب القدیم قبل افسادہ بالتعبد للاصنام.(۶/ ۳۴۵)

''بنو معد بن عدنان دین ابراہیمی کے بعض اجزاپر کارفرما تھے۔وہ بیت اللہ کا حج کرتے تھے اور اس کے مناسک اداکرتے تھے۔ مہمان نواز تھے ، حرمت والے مہینوں کی تعظیم کرتے تھے۔ فواحش ،قطع رحمی اور ایک دوسرے کے ساتھ ظلم و زیادتی کو برا جانتے تھے۔ جرائم کی صورت میں سزا بھی دیتے تھے۔ یہی چیزیں ہیں جنھیں آج ہم رسم و رواج اور اخلاقی اصول و ضوابط میں شمار کرتے ہیں۔ یہی امور سنت ابراہیمی تھے، یعنی بت پرستی سے پہلے عربوں کا قدیم دین ۔''

ویذکر اہل الاخبار ان قریشًا کانت تصوم یوم عاشوراء... وذکر ان رسول اللّٰہ کان یصوم عاشوراء فی الجاھلیۃ.(۶ /۳۳۹)

''روایتوں میں ہے کہ قریش یوم عاشور کا روزہ رکھتے تھے۔ ...روایتوں میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔''

<

strong>وقد نسب الاعتکاف فی الکھوف وفی البراری وفی الجبال الی عدد من ہؤلاء الحنفاء. فقد ذکر اہل الاخبار انہم کانوا قد اعتکفوا فی المواضع الحالیۃ البعیدۃ عن الناس، وحبسوا انفسہم فیہا، فلا یخرجون منہا الا لحاجۃ شدیدۃ وضرورۃ ماسۃ. یتحنثون فیہا ویتأملون فی الکون، یلتمسون الصدق والحق.(۶ /۵۰۹)

''اعتکاف کی نسبت دین ابراہیمی کے متبعین کی طرف کی جاتی ہے جو پہاڑوں،غاروں اورغیر آباد جگہوں میں اس کااہتمام کرتے تھے۔ اہل اخبار بیان کرتے ہیں کہ وہ ویران اورآبادی سے دور مقامات پراعتکاف کیا کرتے تھے۔ ان جگہوں میں وہ اپنے آپ کو بند رکھتےاور شدید حاجت اور ضروری کام کے علاوہ باہر نہیں نکلتے تھے۔ ان میں عبادت کرتے، کائنات میں غوروفکر کرتے، سچ اور حق کے لیے دعا کرتے۔''

وقد کان الحنفاء من النساک ای المتعبدین. وعدوا الذبائح من النسک. وجعلوا النسیکۃ: الذبیحۃ. والذبائح، ای النسائک، ہی من اہم مظاہر التعبد والزہد عند الجاہلیین.(۶ /۵۱۰)

''دین ابراہیمی کے پیرو نساک، یعنی عبادت گزاروں میں سے تھے۔ وہ قربانی کے جانور کو بھی 'نسک' میں شمار کرتے تھے اور وہ ''نسیکہ'' سے مراد ''ذبیحہ'' لیتے تھے۔ قربانی کے جانور، یعنی نسائک زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کے نزدیک زہد و عبادت کے اہم مظاہر میں سے تھے ۔''

وذکر انہم کانوا یصلون علی موتاہم، وکانت صلاتہم ان یحمل المیت علی سریر، ثم یقوم ولیہ، فیذکر محاسنہ کلہا ویثنی علیہ. ثم یقول: علیک رحمۃ اللّٰہ. ثم یدفن.(۶ /۳۳۷)

''بیان کیا گیا ہے کہ وہ اپنے مردوں پر صلوٰۃ پڑھتے تھے۔ ان کی نمازجنازہ یہ تھی کہ میت کو کھاٹ پر لٹا دیا جاتا، پھراس کا ولی کھڑا ہوتا اور اس کے تمام محاسن بیان کرتا اور اس کی مدح و ثنا کرتا۔ پھر کہتا: تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو۔ پھر اس کو دفن کر دیا جاتا۔''

واما الاغتسال من الجنابۃ وتغسیل الموتی، فمن السنن التی اقرت فی الاسلام، وقد اشیر الی غسل المیت فی شعر للأفوہ الأودی. وأشیر الی تکفین الموتی والصلٰوۃ علیہم فی اشعار منسوبۃ الی الأعشی والی بعض الجاہلیین. وورد أن قریشًا کانت تغسل موتاہا وتحنطہم.(۶ /۳۴۴)

''غسل جنابت اور مردوں کو نہلانا بھی ان سنتوں میں سے ہے جو اسلام میں مقرر کی گئیں۔ افوہ اودی کے شعر میں غسل میت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اعشیٰ اور بعض جاہلی شعرا کی طرف منسوب اشعار میں مردوں کے کفن اور ان پر نماز پڑھنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ روایتوں میں ہے کہ قریش اپنے مردوں کو غسل دیتے اور خوشبو لگاتے تھے۔''

ویذکر اہل الاخبار انہ کان لاتباع ابراہیم من العرب علامات وعادات میزوا انفسہم بہا عن غیرہم، منہا: الختان، وحلق العانۃ، وقص الشارب. ... ومن سنن شریعۃ ابراہیم الاختتان. وہو من العادات القدیمۃ الشائعۃ بین العرب الجاھلیین الوثنیین.(۶ /۵۰۸)

''اہل اخبار بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متبعین کی کچھ ایسی علامات اور عادات تھیں، جن کی وجہ سے وہ دوسروں سے ممتاز تھے۔ ان میں سے ختنہ، زیرناف بال کاٹنا اور مونچھیں ترشوانا۔ ... ختنہ شریعت ابراہیم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے۔ یہ ان قدیم عادات میں سے ہے جو زمانۂ جاہلیت کے بت پرستوں میں عام تھیں۔''

سیدنا ابراہیم سے سنن کا استناد

فاضل ناقد نے تیسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام سے سنن کی نسبت تواتر عملی کے معیار پر تو کجا، خبر صحیح کے معیار پر بھی ثابت نہیں کی جا سکتی۔ چنانچہ اگر یہ ثابت ہی نہیں ہے کہ مذکورہ اعمال کو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے دین کی حیثیت سے جاری فرمایا تھا تو انھیں دین ابراہیمی کی روایت کی حیثیت سے پیش کرنا کیسے درست ہو سکتا ہے۔ لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ آپ کے نزدیک سنت وہ ہے جس کا منبع حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں۔ آپ نے جن ستائیس سنن کو بیان کیا ہے پہلے ان کو حضرت ابراہیم تک تواتر عملی سے ثابت تو کریں ۔کیونکہ خود آپ کے بیان کردہ اصول کے مطابق سنت خبر سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ تواترعملی سے ثابت ہوتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ کسی شے کو اخذ کرنے کا ذریعہ یا تو براہ راست مشاہدہ ہے یا بالواسطہ مشاہدہ۔ یہ بات تو واضح ہے کہ غامدی صاحب نے اپنی بیان کردہ سنن کا حضرت ابراہیم علیہ السلام سے براہ راست مشاہدہ نہیں کیا۔ رہی دوسری صورت یعنی بالواسطہ مشاہدہ تو اس کا ذریعہ خبر ہے۔ غامدی صاحب خبر سے ثابت کر دیں کہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنن ہیں تو پھر ہم بھی مان لیں گے ۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ غامدی صاحب خبر کے ذریعے بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اپنی بیان کردہ سنن کی فہرست کی نسبت ثابت کرنے سے عاجز اور قاصرہیں۔ غامدی صاحب نے یہ لکھ تو دیا ہے کہ سنت کامنبع و سرچشمہ حضرت ابراہیم ؑ ہیں اور سنت تواتر عملی سے ثابت ہوتی، لیکن ہمیں حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ وہ حضرت ابراہیم ؑ کی طرف ان اعمال کی نسبت تواتر عملی سے کیسے ثابت کریں گے ؟ چلیں تواترعملی نہ سہی خبرصحیح سے ثابت کر دیں کہ ان اعمال کو حضرت ابراہیم ؑ نے بطوردین جاری کیا۔ جب تک غامدی صاحب اپنی بیان کردہ سنن کی فہرست کے بارے میں یہ ثابت نہ کر دیں کہ ان اعمال کو حضرت ابراہیم ؑ نے دین کی حیثیت جاری کیا، اس وقت تک اس بات کا کوئی جواز نہیں بنتاکہ وہ ان اعمال کو دین ابراہیمی کی روایت کے نام سے پیش کریں، کیونکہ یہ اعمال ان کی تعریف کے مطابق اسی وقت سنت بنیں گے جب ان کی نسبت حضرت ابراہیم ؑ سے صحیح ثابت ہو جائے۔ اور حضرت ابراہیم ؑ کی طرف ان اعمال کی نسبت صحیح ثابت کرنے کا واحد ذریعہ اب ان کے پاس خبر ہے اور خبر سے ان کے نزدیک سنت ثابت نہیں ہوتی بلکہ سنت تو ان کے نزدیک تواتر عملی سے ثابت ہوتی ہے۔ غامدی صاحب کی بیان کردہ سنن کی نسبت حضرت ابراہیم ؑ سے ثابت کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ جب کسی عمل کے بارے میں یہ ثابت کرنا ہی ممکن نہیں ہے کہ ان اعمال کوحضرت ابراہیم ؑ نے بطور دین جاری کیا تو کسی عمل کے بارے میں یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سنت ابراہیمی ہے!''(فکر غامدی ۴۸۔۴۹)

ہمارے نزدیک فاضل ناقد کا یہ اعتراض بالکل بے معنی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ غامدی صاحب کے تصور کے مطابق سنت کی صورت میں موجود دین کا ماخذ سیدنا ابراہیم علیہ السلام نہیں، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ وہ اگر سیدنا ابراہیم کی ذات کو ماخذ قرار دیتے تو اسی صورت میں فاضل ناقد کا اعتراض لائق اعتنا ہوتا، لیکن ان کی کسی تحریر میں بھی اس طرح کا تاثر نہیں ہے۔ ''اصول و مبادی'' میں انھوں نے نہایت وضاحت کے ساتھ یہ بات بیان کی ہے کہ رہتی دنیا تک کے لیے دین کا ایک ہی ماخذ ہے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات ہے۔ انھی سے یہ دین قرآن اور سنت کی دو صورتوں میں ملا ہے۔ سنت اگرچہ اپنی نسبت اور تاریخی روایت کے لحاظ سے سیدنا ابراہیم ہی سے منسوب ہے، لیکن اس روایت کو ہمارے لیے دین کی حیثیت اس بنا پر حاصل ہوئی ہے کہ اسے نبی آخر الزماں نے دین کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے۔

سنن کی سیدنا ابراہیم سے نسبت

فاضل ناقدنے چوتھا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کی مرتب کردہ سنن کی فہرست میں سے بیش تر سنن ایسی ہیں جن پر عمل کے شواہد ابراہیم علیہ السلام سے پہلے انبیا کے ہاں بھی تسلیم کیے جاتے ہیں۔ اس کی مثال قربانی اور تدفین ہے۔ چنانچہ حقیقت اگر یہی ہے تو غامدی صاحب کے اصول کی رو سے انھیں سنت ابراہیمی کے طور پر نہیں، بلکہ سنت آدم یا سنت نوح کے طور پر پیش کیا جانا چاہیے۔ لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنت کی تعریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ ایک تاریخی حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کیا ہے۔ ہم یہ کہتے ہیں کہ تاریخی حقیقت تو یہ کہتی ہے کہ غامدی صاحب کو سنت کی تعریف میں حضرت ابراہیم ؑ کی بجائے حضرت آدم ؑ کا نام شامل کرنا چاہیے۔ غامدی صاحب کی بیان کردہ اکثر و بیشتر سنن وہ ہیں جو کہ حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے چلی آ رہی ہیں۔ مثلاً غامدی صاحب کی بیان کردہ دو سنن قربانی اور تدفین کو ہی لے لیں ۔ ان سنن کی تاریخ اس بات کی طرف اشارہ کر تی ہے کہ ہم ان کی نسبت حضرت آدم کی طرف کریں، قرآن کے مطابق قربانی اور تدفین کی سنن کی ابتدا حضرت آدم کے زمانے ہی سے ہو گئی تھی۔...

ان آیات سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ قربانی اور تدفین سنت ابراہیمی نہیں ،بلکہ سنت آدم ہیں۔ اسی طرح نکاح و طلاق، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، حیض و نفاس میں زن و شو کے تعلق سے اجتناب، حیض و نفاس کے بعد غسل، غسل جنابت اور اللہ کا نام لے کر جانوروں کا تذکیہ کرنے کو سنت ابراہیم کہنے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ معاذاللہ حضرت ابراہیم سے پہلے انبیا میں زن و شو کے تعلقات کے لیے نکاح و طلاق کا کوئی تصور نہ تھا، حیض و نفاس کی حالت میں انبیا اپنی بیویوں سے مباشرت کرتے اور مباشرت کے بعد غسل کا بھی کوئی حکم ان کی شریعت میں موجود نہ تھا! حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے گزر جانے والے انبیا کی امتوں میں جانوروں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہیں لیا جاتا تھااور نہ ہی حیض و نفاس کے بعد عورتیں غسل کرتی تھیں۔ مزید برآں پچھلے انبیا میں نہ نماز تھی نہ روزہ نہ حج نہ زکوٰۃ۔ اگر یہ سب کچھ پچھلے انبیا کی شریعتوں میں نہیں تھاتو پھر ان کی شریعت کیا تھی؟ جس کے بارے میں قرآن نے ہمیں حکم دیا ہے:...

ہماری اس تنقیح پر اگر غامدی صاحب یہ کہتے ہیں کہ ان احکامات کے بارے میں ہمارا بھی نقطۂ نظر یہی ہے کہ یہ احکامات حضرت ابراہیم سے ماقبل شریعتوں میں بھی موجود تھے تو پھر غامدی صاحب کی یہ بیان کردہ سنن،سنن ابراہیمی نہ رہیں گی بلکہ سنن آدم ہوں گی ۔ غامدی صاحب کوچاہیے جس عمل کی ابتدا جس نبی سے پہلی مرتبہ ثابت ہو رہی ہے، اس عمل کی نسبت اسی نبی کی طرف کریں اور اس کو اسی نبی کی سنت کے نام سے پیش کریں، پھر دیکھیں کہ حضرت ابراہیم کے حوالے سے جو انہوں نے سنن بیا ن کی ہیں ان میں سے کتنی ایسی ہیں جو کہ ان کی تعریف سنت کا صحیح مصداق بنتی ہیں۔'' (فکر غامدی ۵۰۔۵۲)

فاضل ناقد کا یہ اعتراض بھی درست نہیں ہے۔ زبان و بیان کے مسلمات اور تاریخ و سیر کے معروفات کی رو سے یہ لازم نہیں ہے کہ کسی چیز کی نسبت اس کے اصل موجد ہی کی طرف کی جائے۔بعض اوقات یہ نسبت بعد کے زمانے کی کسی مشہور و معروف شخصیت یا قوم کی طرف بھی کر دی جاتی ہے۔ سورۂ مائدہ میں قصاص کے قانون کے لیے 'کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِ یْلَ' (۳۲۔ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا)کے الفاظ آئے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ قانون بنی اسرائیل سے پہلے بھی موجود تھا۔ قرآن نے اگر اسے بنی اسرائیل کے حوالے سے بیان کیا ہے تو اس کے معنی یہ ہر گز نہیں ہیں کہ اس کا اجرا بھی بنی اسرائیل کے زمانے میں ہوا ہے۔ چنانچہ ابن العربی نے ''احکام القرآن'' میں بیان کیا ہے:

ولم یخل زمان آدم ولا زمن من بعدہ من شرع. واہم قواعد الشرائع حمایۃ الدماء عن الاعتداء وحیاطتہ بالقصاص کفًا وردعًا للظالمین والجائرین، وہذا من القواعد التی لا تخلو عنہا الشرائع، والاصول التی لا تختلف فیہا الملل؛ وانما خص اللّٰہ بنی اسرائیل بالذکر للکتاب فیہ علیہم؛ لانہ ما کان ینزل قبل ذلک من الملل والشرائع کان قولاً مطلقًا غیر مکتوب.( ۲/۵۹۱)

''حضرت آدم اور ان کے بعد کوئی دور ایسا نہیں گزراکہ اس میں (اللہ کی) شریعت موجود نہ رہی ہو۔ شریعت کے قواعد میں سب سے اہم قاعدہ یہ ہے کہ ظلم سے خون بہنے سے بچایا جائے اور قصاص کے ذریعہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے تا کہ ظالموں اور جور کرنے والوں کے ہاتھ کو روکا اور پابند کیا جائے۔ یہ ان قواعد میں سے ہے جو ہر شریعت اپنے اندر رکھتی ہے اور یہ اس اصول کا حصہ ہے جو تمام ملتیں بالاتفاق مانتی ہیں۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر بنی اسرائیل میں یہ قانون جاری فرمانے کا ذکر کیا، کیونکہ ان سے پہلے کی امتوں کی طرف ان کی شریعتوں میں جو بھی وحی نازل کی گئی، وہ محض قول ہوتا تھا اور لکھا ہوا نہ ہوتا تھا۔''

فاضل ناقد کاوضع کردہ یہ اصول کہ کسی چیز کی نسبت لازماً اس کے اصل موجد ہی کی طرف ہونی چاہیے ،اس قدر خلاف حقیقت ہے کہ خود لفظ ملت پر، جس کے مفہوم ومصداق کی تعیین کے لیے فاضل ناقد نے یہ اصول تشکیل دیا ہے، اس کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔فاضل ناقد نے لکھا ہے: '' 'ملت ابراہیم ' سے مراددین اسلام کی وہ اساسی تعلیمات ہیں جو کہ حضرت ابراہیم کی شخصیت میں نمایاں تھیں یعنی ہر قسم کے شرک سے اجتناب کرنااور اللہ کا انتہائی درجے میں فرمانبردار ہو جانا۔'' سوال یہ ہے کہ ملت ابراہیم کو فاضل ناقد شرک سے اجتناب اور اللہ کی فرماں برداری کے جس مفہوم میں لے رہے ہیں، کیا یہ تصور اور یہ رویہ آپ سے پہلے انبیا کے ہاں نہیں تھا؟اگر اس کا جواب اثبات میں ہے اور یقیناًایسا ہی ہے تو پھر فاضل ناقد نے اس کی نسبت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کیوں کی ہے ؟

سنت کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر اعتراضات کا جائزہ

سنت کے ثبوت کے بارے میں غامدی صاحب کے موقف پر فاضل ناقد نے بنیادی طور پر چار اعتراض کیے ہیں:ایک اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب معیار ثبوت میں فرق کی بنا پر حکم کی نوعیت اور اہمیت میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں، جبکہ ذریعے کی بنیاد پر کسی چیز کے دین ہونے یا نہ ہونے میں فرق کرنا درست نہیں ہے۔ دوسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کے نزدیک سنت کے ثبوت کا معیاراخبار آحاد نہیں،بلکہ تواترعملی ہے، حالاں کہ تواتر کا ثبوت بذات خوداخبار آحاد کا محتاج ہے۔ تیسرا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب نے سنت کی تعیین کے جو اصول قائم کیے ہیں ، بعض اطلاقات میں خود ان کی خلاف ورزی کی ہے۔ چوتھا اعتراض یہ کیا ہے کہ غامدی صاحب کا سنت کی اصطلاح کوامت میں رائج مفہوم و مصداق سے مختلف مفہوم و مصداق کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہے۔ ان اعتراضات کی تفصیل اور ان پر ہمارا تبصرہ درج ذیل ہے۔

معیار ثبوت کی بنا پر فرق

فاضل ناقد نے بیان کیا ہے کہ غامدی صاحب معیار ثبوت میں فرق کی بنا پر حکم کی نوعیت اور اہمیت میں فرق کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ وہ تواتر کے ذریعے سے ملنے والے احکام کو ایک درجہ دیتے ہیں اور آحاد کے ذریعے سے ملنے والے احکام کو دوسرادرجہ دیتے ہیں۔ یہ تفریق درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تواتر، دین کے نقل کا ذریعہ ہے اور ذریعے کی بنیاد پر کسی چیز کے دین ہونے یا نہ ہونے میں فرق کرنا درست نہیں ہے۔ صحابۂ کرام کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے والا ہر حکم دین تھا۔ بعد میں کسی حکم کو لوگوں نے تواتر سے نقل کیا اور کسی کو اخبار آحاد سے۔ ذریعے کو فیصلہ کن حیثیت دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسے شارع پر مقدم مان لیا جائے ۔ بالفاظ دیگر غامدی صاحب نے تواتر کی شرط عائد کر کے لوگوں کو دین کے شارع کی حیثیت دے دی ہے۔ لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ عمل جو کہ تواتر عملی سے ہم تک پہنچاہو، سنت ہے، اور سنت دین ہے، گویا کہ ان کے نزدیک تواتر عملی سے ایک عمل دین بن جاتا ہے اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دوسراعمل جو تواتر عملی سے منقول نہ ہو بلکہ خبر واحد سے مروی ہو،وہ دین نہیں ہے۔غامدی صاحب کے نزدیک اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی عمل کے دین بننے میں اصل حیثیت تواتر عملی کی ہے۔گویایہ تواتر عملی ہی ہے جو کہ آپ کے کسی عمل کو دین بنا دیتا ہے اور کسی دوسرے عمل کو دین نہیں بناتا۔ غور طلب بات یہ ہے کہ جب آپؐ کے کسی عمل کے دین بننے کے لیے اصل معیار تواتر عملی ٹھہرا تو معاذ اللہ تواتر عملی کی حیثیت آپؐ سے بڑھ کر ہو گئی جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اعمال کو دین بنا دیتا ہے اور بعض کو دین نہیں بناتا، نتیجتاً اصل شارع تولوگ ہوئے ،نہ کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے جس عمل کو لوگوں نے تواتر سے نقل کر دیا وہ دین بن گیا اور جس عمل کو تواتر سے نقل نہ کیا وہ دین نہ بن سکا،یعنی اصل حیثیت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی نہیں ہے بلکہ اصل حیثیت لوگوں کے آپؐ کے اعمال پر عمل کی ہے ۔آپؐ کے جس عمل پر لوگوں نے تواتر سے عمل کیا ہے، وہ دین ہے اور جس پر تواترسے عمل نہیں کیا، وہ دین نہیں ہے ۔...

دین اور چیز ہے اور اس کو آگے نقل کرنے کے ذرائع اورچیز ہیں ۔دونوں میں فرق ہے ۔دین کو روایت اور نقل کرنے کے ذرائع نہ تو دین ہیں اورنہ ان کو کسی چیز کے دین قرار دینے کے لیے معیار بنایا جا سکتا ہے۔ تواتر عملی دین کو پہنچانے کا ایک ذریعہ ہے نہ کہ کسی چیز کے دین بننے کا معیار۔ اگر غامدی صاحب کا یہ نقطہ نظر مان لیاجائے کہ تواتر عملی سے ایک چیز دین بن جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ صحابہ کے لیے دین اور تھا اور ہمارے لیے دین اور ہے کیونکہ غامدی صاحب کے بقول ہمارے لیے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ اعمال دین قرار پائیں گے جو کہ تواتر عملی سے نقل ہوئے ہوں جبکہ صحابہ کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل دین ہو گاکیونکہ وہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر عمل کا براہ راست مشاہدہ کر رہے تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عمل جو کہ خبر واحدسے ثابت ہے غامدی صاحب کے نزدیک وہ ہمارے لیے دین نہیں ہے کیونکہ وہ تواترعملی سے ثابت نہیں ہے، تو کیا وہ عمل صحابہ کے لیے بھی دین نہیں ہوگاجو کہ دیکھتی آنکھوں اس کا مشاہدہ کر رہے تھے؟ حقیقت یہ ہے کہ تواتر عملی کسی چیز کو دین ٹھہرانے کا کوئی معیار نہیں ہے۔ دین وہ ہے جسے اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم دین قرار دیں، چاہے وہ خبر واحدسے ہمیں ملے یاقولی تواتر سے یا عملی تواتر سے۔'ذریعے' سے کوئی چیز دین نہیں بنتی، بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے دین بنانے سے ایک چیز دین بنتی ہے اور بعد میں کسی ذریعے سے ہم تک پہنچتی ہے۔ یعنی دین پہلے موجود ہے پھر ذریعہ ہے جس سے وہ ہم تک پہنچا ہے۔جبکہ غامدی صاحب کے بقول ذریعہ پہلے ہے اور دین بعدمیں ہے اور ذریعے نے ہی ایک چیز کو دین بنانا ہے اور ایک چیز کو دین سے خارج کرنا ہے۔ ''(فکرغامدی۵۹۔۶۰)

فاضل ناقد کی اس تقریر سے نہ صرف یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ تواتر عملی کے حوالے سے غامدی صاحب کی بات کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں، بلکہ یہ تاثر بھی ہوتا ہے کہ انھوں نے یہ تقریر ان مسلمات سے صرف نظر کرتے ہوئے کی ہے جو انتقال علم کے ذرائع کے بارے میں بدیہیات کی حیثیت رکھتے ہیں۔ غامدی صاحب کے نزدیک اجماع و تواتر کی شرط کا بنیادی مقدمہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے فریضۂ منصبی کے لحاظ سے اس پر مامور تھے کہ وہ اللہ کا دین پورے اہتمام، پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھ اوربے کم و کاست لوگوں تک پہنچائیں۔علماے امت بھی اس امر پر متفق ہیں کہ دین کومکمل اور بغیر کسی کمی یا زیادتی کے انسانوں تک پہنچانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی منصبی ذمہ داری تھی۔

امام سرخسی نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی جانب سے اس پر مامور تھے کہ لوگوں کے لیے دین کے احکام کو واضح کریں:

ان صاحب الشرع کان مامورًا بان یبین للناس ما یحتاجون الیہ.(اصول السرخسی ۱ / ۳۷۸)

''شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں کے لیے حاجت طلب احکام کو واضح فرمائیں۔''

شاہ ولی اللہ نے ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں بعثت انبیا کی ضرورت کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ نبی کی لازمی ذمہ داری ہے کہ خدا کے جس پیغام کو وہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے مامور ہوا ہے، اسے وہ بے کم و کاست لوگوں تک پہنچا دے۔ اس ضمن میں اس کی طرف سے کوئی کمی یا کوتاہی نہیں ہونی چاہیے:

ثم لا بد لہذا العالم ان یثبت علی رؤوس الاشہاد انہ عالم بالسنۃ الراشدۃ، وانہ معصوم فیما یقولہ من الخطأ والاضلال، ومن ان یدرک حصۃ من الاصلاح، ویترک حصۃ اخری لا بد منہا.(۱ / ۱۹۱)

''پھر یہ بھی ضروری ہے کہ جو فرد کامل اس عظیم الشان مقصد کو انجام دینے کے لیے چنا گیا ہے، وہ کھلے طور پر تمام لوگوں کے سامنے کسی طرح یہ ثابت کر دے کہ درحقیقت یہ وہی جلیل القدر ہستی ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اس منصب کے لیے چن لیا ہے اور سب لوگ یقین کر لیں کہ اس کو باری تعالیٰ نے سنت راشدہ کا پورا علم عنایت فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغاموں کو پہنچانے میں شیطان کے تصرف اور در اندازی سے محفوظ ہے۔ (اس کا کلام 'وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی' کا زندہ ثبوت ہے اور وہ خداے پاک کی نازل کردہ ہدایات کو مکمل طور پر لوگوں تک پہنچاتا ہے) یا بالفاظ دیگر اس کے یہ معنی ہیں کہ تبلیغ میں وہ کسی قسم کی کوتاہی نہیں کرتا کہ حق تعالیٰ کی بتائی ہوئی بعض باتیں ان کو پہنچا دے اور بعض کو چھپائے رکھے۔''

شاہ صاحب نے مزید بیان کیا ہے کہ نبی کا فریضہ نہ صرف دین کو بے کم وکاست اور پوری طرح پہنچانا ہے، بلکہ ان کے حقوق و فرائض کی اس حد تک تعیین کر دینا بھی ہے کہ اس کے نتیجے میں اعمال کے حدود اور ان کی کم سے کم مقداروں کے تعین میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ان کے نزدیک یہ تعیین پیغمبر کا منصبی فریضہ ہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو یہ خلاف شریعت ہے:

یجب عند سیاسۃ الامۃ ان یجعل لکل شئ من الطاعات حدان: اعلی وادنی فالاعلی ہو ما یکون مفضیًا الی المقصود منہ علی الوجہ الاتم، والادنی ہو ما یکون مفضیًا الی جملۃ من المقصود لیس بعدہا شئ یعتد بہ.وذلک لانہ لا سبیل الی ان یطلب منہم الشء، ولا یبین لہم اجزاء ہ وصورتہ ومقدار المطلوب منہ، فانہ ینافی موضوع الشرع.(حجۃ اللہ البالغہ۱ / ۲۱۸۔۲۱۹)

''جب کوئی نبی اپنی امت کی سیاست دینیہ میں مشغول ہوتا ہے۔ بالفاظ دیگر ان کے لیے فرائض اور حقوق کی تعیین کرنے پر متوجہ ہوتا ہے تو ہر ایک طاعت کے لیے اعلیٰ اور ادنیٰ دو قسم کے حدود متعین کرتا ہے۔ ''اعلیٰ'' سے مراد کسی طاعت کی وہ مقدار ہے جس سے اس طاعت کا مقصدکامل ترین وجہ پر حاصل ہو جائے۔ برخلاف اس کے ''ادنیٰ'' طاعت مذکورہ کی کم از کم مقدار ہے جو فی الجملہ مقصد اور غایت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، لیکن اس میں مزید کمی کی مطلق گنجایش نہیں ہوتی۔ یہ حدود اور مقادیر وہ اس لیے معین کرتا ہے کہ یہ ہر گز اس کے منصب نبوت کے شایان شان نہیں ہے کہ جن اعمال کی بجا آوری کا وہ اپنی امت سے مطالبہ کرتا ہے یا ان کی بجا آوری کی ترغیب و تحریص دلاتا ہے، ان کے حدود کی تعیین نہ کرے اور نہ ہی ان کا طریق ادا اور ان کے اجزا و ارکان ان کو بتائے اگر وہ بالفرض ایسا کرے تو یہ موضوع شریعت کے خلاف ہوگا۔''

اس تفصیل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اہل علم کے نزدیک یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دین کو بے کم و کاست اور پوری قطعیت کے ساتھ امت کو پہنچانے کے مکلف تھے۔یہی مقدمہ ہے جس کی بنا پر اکابر اہل علم کے ہاں دو باتیں اصولی طور پر ہمیشہ مسلم رہی ہیں:

ایک کہ یہ دین کا اصل اور بنیادی حصہ، جس کا جاننا اور جس پر عمل پیرا ہونا تمام امت کے لیے واجب ہے، تواتر اور تعامل ہی سے نقل ہوا ہے ۔ چنانچہ کوئی ایسی چیزجو اس سے کم تر معیار پر ثابت ہو، اسے اصل دین کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔

دوسری یہ کہ اخبار آحاد میں مجمع علیہ سنت کے فروع اور جزئیات ہی ہو سکتے ہیں جن کے ثبوت میں بھی بحث ہو سکتی ہے، بلکہ فقہا کے مابین بکثرت ہوئی ہے، اور جن کا جاننا ہر مسلمان کے لیے لازم بھی نہیں ہے۔

ان دو مسلمات کے حوالے سے جلیل القدر علماکی آرا درج ذیل ہیں۔

۱۔ اصل دین کااجماع اور تواتر سے منتقل ہونا

امام شافعی نے اجماع و تواتر سے ملنے والے دین کو''علم عامۃ''اور ''اخبار العامۃ'' سے تعبیر کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ یہ دین کا وہ حصہ ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد عامۃ المسلمین نے نسل در نسل منتقل کیا ہے ۔ ہر شخص اس سے واقف ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت کے بارے میں تمام مسلمان متفق ہیں۔ یہ قطعی ہے اور درجۂ یقین کو پہنچا ہوا ہے ۔نہ اس کے نقل کرنے میں غلطی کا کوئی امکان ہو سکتا ہے اور نہ اس کی تاویل و تفسیر میں کوئی غلط چیز داخل کی جا سکتی ہے۔ یہی دین ہے جس کی اتباع کے تمام لوگ مکلف ہیں:

قال الشافعی: فقال لی قائل: ما العلم؟ وما یجب علی الناس فی العلم؟ فقلت لہ: العلم علمان: علم عامۃ لا یسع بالغًا غیر مغلوبٍ علی عقلہ جہلہ. قال: ومثل ماذا؟ قلت: مثل الصلوات الخمس، وان للّٰہ علی الناس صوم شہر رمضان، وحج البیت اذا استطاعوہ، وزکاۃً فی اموالہم، وانہ حرم علیہم الزنا والقتل والسرقۃ والخمر، وما کان فی معنی ھذا، مما کلف العباد ان یعقلوہ ویعملوہ ویعطوہ من انفسہم واموالہم، وان یکفوا عنہ: ما حرم علیہم منہ. وھذا الصنف کلہ من العلم موجود نصًا فی کتاب اللّٰہ، وموجودًا عامًا عند اہل الاسلام، ینقلہ عوامہم عن من مضی من عوامہم، یحکونہ عن رسول اللّٰہ، ولا یتنازعون فی حکایتہ ولا وجوبہ علیہم. وھذا العلم العام الذی لا یمکن فیہ الغلط من الخبر، ولا التاویل، ولا یجوز فیہ التنازع.(الرسالہ۳۵۷۔۳۵۹)

''امام شافعی کہتے ہیں : سائل نے مجھ سے سوال کیا کہ علم (دین)کیا ہے اور اس علم (دین)کے بارے میں لوگوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟میں نے اسے جواب دیا کہ علم کی دو قسمیں ہیں:پہلی قسم علم عام ہے۔ اس علم سے کوئی عاقل،کوئی بالغ بے خبر نہیں رہ سکتا۔ اس علم کی مثال پنج وقتہ نماز ہے ۔ اسی طرح اس کی مثا ل رمضان کے روزے ، اصحاب استطاعت پر بیت اللہ کے حج کی فرضیت اور اپنے اموال میں سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہے۔ زنا، قتل، چوری اور نشے کی حرمت بھی اسی کی مثال ہے۔ان چیزوں کے بارے میں لوگوں کو اس بات کا مکلف بنایا گیا ہے کہ وہ جو جاننے کی چیزیں ہیں، ان سے آگاہ ہوں، جن چیزوں پر عمل مقصود ہے، ان پر عمل کریں، جنھیں ادا کرنا پیش نظر ہے، ان میں اپنے جان و مال میں سے ادا کریں اور جو حرام ہیں، ان سے اجتناب کریں۔اس نوعیت کی چیزوں کا علم کتاب اللہ میں منصوص ہے اور مسلمانوں کے عوام میں شائع وذائع ہے۔ علم کی یہ وہ قسم ہے جسے ایک نسل کے لوگ گذشتہ نسل کے لوگوں سے حاصل کرتے اور اگلی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ مسلمان امت اس سارے عمل کی نسبت (بالاتفاق) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرتی ہے۔ اس کی روایت میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نسبت میں اور اس کے لزوم میں مسلمانوں کے مابین کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا۔یہ علم تمام مسلمانوں کی مشترک میراث ہے۔ نہ اس کے نقل میں غلطی کا کوئی امکان ہوتا ہے اور نہ اس کی تاویل اور تفسیر میں غلط بات داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اس میں اختلاف کرنے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہتی ۔''

ابن عبدالبر نے اجماع اور تواتر سے ملنے والی سنت کو 'نقل الکافۃ عن الکافۃ' کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے اور اسے درجۂ یقین پر ثابت تسلیم کیا ہے۔انھوں نے اس کے انکار کو اللہ کے نصوص کے انکار کے مترادف قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک اس کا مرتکب اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل جائز ہے:

تنقسم السنۃ قسمین احدہما اجماع تنقلہ الکافۃ عن الکافۃ، فہذا من الحجج القاطعۃ للأعذار اذا لم یوجد ہنالک خلاف، ومن رد اجماعہم فقد رد نصًا من نصوص اللّٰہ یجب استتابتہ علیہ واراقۃ دمہ ان لم یتب لخروجہ عما اجمع علیہ المسلمون وسلو کہ غیر سبیل جمیعہم. والضرب الثانی من السنۃ خبر الآحاد الثقات الأثبات المتصل الاسناد.(جامع بیان العلم وفضلہ۲ /۴۱۔۴۲)

''سنت کی دو قسمیں ہیں: ایک قسم وہ ہے جسے تمام لوگ نسل در نسل آگے منتقل کرتے ہیں ۔ اس طریقے سے منتقل ہونے والی چیزکی حیثیت جس میں کوئی اختلاف نہ ہو، قاطع عذر حجت کی ہے۔ چنانچہ جو شخص ان (ناقلین) کے اجماع کو تسلیم نہیں کرتا، وہ اللہ کے نصوص میں سے ایک نص کا انکار کرتا ہے۔ ایسے شخص پر توبہ کرنا لازم ہے اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اس کا خون جائز ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے عادل مسلمانوں کے اجماعی موقف سے انحراف کیا ہے اور ان کے اجماعی طریقے سے الگ راہ اختیار کی ہے۔ سنت کی دوسری قسم وہ ہے جسے ''آحاد راویوں'' میں سے ثابت، ثقہ اور عادل لوگ منتقل کرتے ہیں اورجس کی روایت میں اتصال پایا جاتا ہے۔''

امام سرخسی نے عمومی معاملات میں کسی چیز کے مشروع ہونے کے لیے اس کے مشہور اور معلوم و معروف ہونے کو ضروری قرار دیا ہے۔ انھوں نے بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی جانب سے اس پر مامور تھے کہ لوگوں کے لیے دین کے احکام کو واضح کریں ۔آپ نے اپنے صحابہ کو انھیں اگلی نسلوں کو منتقل کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ اگر ان میں سے کوئی چیز کثرت اور شہرت کے ساتھ منتقل نہیں ہوئی، بلکہ خبر واحد کے طریقے پر منتقل ہوئی ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام امت کے لیے اسے مشروع نہیں کیا۔ لکھتے ہیں:

ان صاحب الشرع کان مامورًا بان یبین للناس ما یحتاجون الیہ وقد امرہم بان ینقلوا عنہ ما یحتاج الیہ من بعدہم. فاذا کانت الحادثۃ مما تعم بہ البلوی فاظاہر ان صاحب الشرع لم یترک بیان ذلک للکافۃ وتعلیمہم وانہم لم یترکوا نقلہ علٰی وجہ الاستفاضۃ فحین لم یشتہر النقل عنہم عرفنا انہ سہو او منسوخ الاتری ان المتاخرین لما نقلوہ اشتہر فیہم فلو کان ثابتًا فی المتقدمین لاشتہر ایضًا وما تفرد بنقلہ مع حاجۃ العامۃ الی معرفتہ. (اصول السرخسی ۱ / ۳۷۸)

''شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کو اس بات کا حکم دیا گیا تھا کہ لوگوں کے لیے حاجت طلب احکام کو واضح فرمائیں۔ چنانچہ آپ نے انھیں حکم فرمایا کہ بعد میں آنے والوں کے لیے ان ضروری مسائل کو منتقل کریں۔ اگر کوئی ایسا معاملہ ہوتا کہ تمام لوگ اس میں مبتلا ہوتے تو ، ظاہر ہے کہ، شارع (علیہ السلام) نے تمام لوگوں کے لیے اس کے بیان اور تعلیم کو نہیں چھوڑا ہے۔ اور انھوں نے آپ سے استفادہ کے بعد اس کو نقل کیے بغیر نہیں چھوڑا۔ اگر ان کی طرف یہ روایت مشہور نہیں ہوئی تو ہمیں معلوم ہے کہ یہ سہو ہے یا حکم منسوخ ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جب متاخرین نے اس حکم کو نقل کیاہے تو ان کے درمیان یہ مشہور ہو گیا۔ اگر متقدمین میں بھی یہ ثابت ہوتا تو مشہور ہو جاتا۔اورباوجود اس کے کہ عامۃ الناس کو اس کی معرفت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ اس کو منفرد (تنہا) ہو کر روایت نہ کرتے۔''

علامہ آمدی نے قرآن مجید کے خبر واحد سے ثابت ہونے کو اسی بنا پر ممتنع قرار دیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ واجب تھا کہ آپ اسے قطعی ذریعے یعنی تواتر سے لوگوں تک پہنچائیں۔ نماز اور نکاح و طلاق جیسے مسائل جنھیں آپ لوگوں تک قطعی طور پر پہنچانے کے مکلف تھے، انھیں بھی آپ نے خبر واحد کے ذریعے سے نہیں، بلکہ تواتر ہی کے ذریعے سے لوگوں تک پہنچایا۔ ''الاحکام فی اصول الاحکام'' میں لکھتے ہیں:

واما القرآن فانما امتنع اثباتہ بخبر الواحد، لا لانہ مما عم بہ البلوی، بل لانہ المعجز فی اثبات نبوۃ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، وطریق معرفتہ متوقف علی القطع. ولذلک وجب علی النبی اشاعتہ والقاؤہ علی عدد التواتر. ... وما عدا القرآن مما اشیع اشاعۃ اشترک فیہا الخاص والعام، کالعبادات الخمس، واصول المعاملات کالبیع والنکاح والطلاق والعتاق، وغیر ذلک من الاحکام مماکان یجوز ان لا یشیع؛ فذلک اما بحکم الاتفاق، واما لانہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان متعبدًا باشاعتہ.(۲ / ۱۶۴)

''جہاں تک قرآن مجید کا تعلق ہے تو اس کا اثبات خبر واحد کے ذریعے سے ممتنع ہے۔ اس وجہ سے نہیں کہ وہ عموم بلویٰ مسائل میں سے ہے، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے اثبات میں معجز ہے اور اس کی معرفت کا طریق دلیل قطعی پر موقوف ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اس کی اشاعت اور حد تواتر تک لوگوں تک پہنچانا واجب تھا۔... قرآن مجید کے علاوہ جن چیزوں کی اشاعت ہوئی اور جن میں خاص و عام سب شریک ہیں، ان میں عبادت پنجگانہ، بیع، نکاح، طلاق اور عتاق جیسے معاملات کے اصول و قواعد شامل ہیں۔ ان کے علاوہ وہ احکام بھی ان میں شامل ہیں جن کی اشاعت نہ کرنا جائز ہے۔ ان کا اثبات یا اجماعی حکم کے ذریعے سے ہے یا اس وجہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ان کی اشاعت کرتے رہے ہیں۔''