غناء جاریتین کے واقعہ میں راویوں کے تصرفات ’’الاعتصام‘‘ کی تنقید کا جائزہ


اپریل ۲۰۰۶ کے ''اشراق'' میں ''غناء جاریتین کے واقعہ میں راویوں کے تصرفات'' کے زیر عنوان ہماری ایک تحریر شائع ہوئی تھی جس میں عید کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دو لونڈیوں کے دف بجا کر گانا گانے سے متعلق ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ایک روایت میں راویوں کے بعض تصرفات کی نشان دہی کی گئی تھی اور اسی ضمن میں ہشام بن عروہ کی روایات کے اتصال وارسال کی حیثیت بھی زیر بحث آئی تھی۔ موقر معاصر ہفت روزہ ''الاعتصام'' میں محترم مولانا ارشاد الحق اثری صاحب نے ہماری اس تحریر کو موضوع بحث بناتے ہوئے اس کے مندرجات سے اختلاف کیا ہے۔ ان سطور میں ہم مولانا محترم کے اٹھائے ہوئے تنقیدی نکات کے حوالے سے اپنی گزارشات پیش کریں گے۔

ہشام بن عروہ کی روایات

اس نکتے کے حوالے سے ہم نے یہ گزارش کی تھی کہ ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے جو روایات نقل کی ہیں، ان کے ایک بڑے حصے کو اور بالخصوص ان روایات کو جو انھوں نے مدینہ سے عراق منتقل ہونے کے بعد روایت کیں، اکابر محدثین متصل تسلیم نہیں کرتے۔ اس کی تائید میں ''تہذیب التہذیب'' کے حوالے سے یہ وضاحت نقل کی گئی تھی کہ ہشام ثقہ اور ثبت ہیں اور عراق منتقل ہونے سے پہلے ان کی کسی روایت میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی، تاہم عراق جانے کے بعد وہ اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے اور وہ روایات بھی اپنے والد کی نسبت سے نقل کرنا شروع کر دیں جو انھوں نے ان سے براہ راست نہیں، بلکہ بالواسطہ سنی تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہشام کی اپنے والد عروہ بن زبیر سے نقل کردہ روایات کی بابت یہ عمومی تبصرہ کیا گیا تھا کہ انھیں بیش تر روایات میں اپنے والد سے سماع حاصل نہیں اور اس کے لیے امام حاکم کی ''معرفۃ علوم الحدیث'' میں منقول خود ہشام کے ایک اعتراف کا حوالہ دیا گیا تھا۔

مولانا محترم نے اس دوسری بات پر تنقید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ہشام کو یقینی طور پر اپنے والد عروہ سے بہت سی روایات کا سماع حاصل ہے اور صحیح بخاری اور مسلم کے علاوہ دیگر کتب حدیث کی روایات میں وہ اس سماع کی تصریح بھی کرتے ہیں۔ ''معرفۃ علوم الحدیث'' میں مروی ہشام کے محولہ بالا قول پر تنقید کرتے ہوئے مولانا محترم نے اس کی سند کو ناقابل اعتبار قرار دیا ہے۔ (الاعتصام ۵۸:۲۹/ ۱۳۔ ۱۴)

ہمیں اعتراف کرنا چاہیے کہ مولانا محترم کا یہ اعتراض بجا ہے۔ دراصل ''معرفۃ علوم الحدیث'' میں منقول ہشام کا قول ان کی جملہ مرویات کے بارے میں نہیں، بلکہ صرف اس روایت سے متعلق ہے جو اس قول سے متصل پہلے امام حاکم نے ذکر کی ہے۔ہشام اس قول میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انھوں نے روایت کا ایک حصہ تو براہ راست اپنے والد سے سنا ہے، جبکہ باقی حصہ ان تک زہری کی وساطت سے پہنچا ہے۔ 'والباقی لم اسمعہ انما ہو عن الزہری' اس سے یہ تو اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ہشام بعض اوقات اپنے والد کی نسبت سے ایسی روایات بھی بیان کر دیتے ہیں جن کا پورا متن انھوں نے براہ راست اپنے والد سے نہیں سنا ہوتا، لیکن اس سے مطلقاً اپنے والد سے ان کے سماع کی نفی لازم نہیں آتی۔ ہشام کے قو ل کے صحیح محل کی طرف ہمیں برادرم مولانا افتخار تبسم صاحب نے توجہ دلائی ہے اور ہم ان کے شکریے کے ساتھ اس کو قارئین تک منتقل کر رہے ہیں۔

اس وضاحت کی روشنی میں اب ہشام کا اپنے والد سے سماع ہمارے اور مولانا محترم کے مابین نکتۂ اختلاف نہیں رہا، البتہ عراق جانے کے بعد ہشام کی روایات کے اتصال وارسال کے حوالے سے مولانا محترم کی توضیحات ہمیں مطمئن نہیں کر سکیں، چنانچہ ہم یہاں ان کو زیر بحث لائیں گے۔

مولانا محترم نے ہمارے اعتراض کو اصولی طو رپر تسلیم کرتے ہوئے ایک دل چسپ تاویل فرمائی ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں:

''بلاشبہ امام یعقوب بن شیبہ نے فرمایا ہے کہ عراق جانے کے بعد وہ اپنے والد سے روایات نقل کرنے میں غیر محتاط ہو گئے تھے لیکن عراق سے مراد کیا اقلیم عراق ہے یا کوفہ؟ ... ہشام بن عروہ کے بارے میں یہ اعتراض کوفہ میں دوسری اور تیسری بار آمد سے متعلق ہے۔ اس لیے اسے پورے اقلیم عراق سے نتھی کرنا درست نہیں۔ ہشام سے روایت کرنے والوں کی فہرست میں حماد بن سلمہ اور معمر دونوں بصری شاگرد ہیں کوفی قطعاً نہیں۔ اس لیے ہشام کی روایت کو ضعیف قرار دینے کی کوشش قابل التفات نہیں۔'' (الاعتصام ۵۸: ۲۹/ ۱۳)

ہمیں افسوس ہے کہ مولانا محترم یہاں خلط مبحث کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہشام یقیناًکوفہ ہی گئے تھے، لیکن ''تہذیب التہذیب'' کی عبارت: 'ان ہشاما تسہل لاہل العراق' میں اہل عراق سے مراد صرف اہل کوفہ نہیں، بلکہ وہ تمام راوی ہیں جنھوں نے کوفہ جانے کے بعد ہشام سے روایات نقل کیں۔ یہاں اہل عراق کا حوالہ دینے سے مقصد ہشام کی جاے اقامت کا ذکر کرنا نہیں اور نہ یہ بتانا ہے کہ ان کے ہاں عدم احتیاط کا پہلو صرف اہل کوفہ کی نقل کردہ مرویات میں پایا جاتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ اس دور میں ہشام نے ارسال کا طریقہ اختیار کر لیا تھا، لہٰذا اس دور میں جن راویوں نے بھی ان سے روایت کی، خواہ وہ اہل کوفہ ہوں یا اہل بصرہ یا کسی اور شہر کے لوگ، ان کی روایات کو یقینی طور پر متصل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

مولانا محترم نے یہاں حماد بن سلمہ اور معمر کے بصری ہونے کی بنا پر ہشام سے ان کی نقل کردہ روایات سے ارسال کا اعتراض رفع کرنے کے لیے جس طرز استدلال کا سہارا لیا ہے، ایک دوسری جگہ خود اس کی نفی کر چکے ہیں۔ چنانچہ معمر کی ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''امام مسلم فرماتے ہیں کہ امام معمر نے اسے بصرہ میں بیان کیا ہے جس میں انھیں وہم ہو گیا ہے، اور اگر بصرہ کے باہر روایت کرتے تو ہم اسے صحیح قرار دیتے۔ امام ابن حبان اور امام بیہقی وغیرہ نے اما م مسلم کے اسی قول کے پیش نظر امام معمر کے کوفی، خراسانی اور یمانی تلامذہ سے یہ روایت ذکر کرتے ہوئے اسے صحیح اور متصل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے، مگر حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: 'ولا یفید ذلک شیئا فان ہولاء کلہم سمعوا منہ بالبصرۃ وان کانوا من غیر اہلہا'۔ ...لیکن یہ مفید نہیں۔ یہ اگرچہ بصرہ کے رہنے والے نہیں، مگر انھوں نے بصرہ میں سنا ہے۔'' (توضیح الکلام ۱/ ۱۲۵)

اب اگر ہشام کے بصری شاگردوں حماد بن سلمہ اور معمر نے ان کے کوفہ میں آنے کے بعد ہی ان سے روایات لی ہیں تو خود حماد اور معمر کا تعلق کسی بھی شہر سے ہو، ان کی مرویات کا حکم اس دور کی باقی مرویات سے مختلف نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے اس امر کا تاریخی ثبوت بہم پہنچانا پڑے گا کہ یہ دونوں شاگرد ہشام کے عراق جانے سے قبل، قیام مدینہ کے دور میں ان کے پاس مدینہ گئے تھے اور وہاں ان سے روایات سنی تھیں۔

مولانا محترم مزید فرماتے ہیں:

''چلیے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ آخری دور میں ''عراق'' جانے کے بعد ہشام بن عروہ غیر محتاط ہو گئے تھے، لیکن کیا دلیل ہے کہ یہ روایت ہشام نے اسی ''غیر محتاط'' دو رمیں بیان کی تھی؟ تہذیب التہذیب کے حوالہ سے ہشام کے اس ''غیر محتاط'' دور کا ذکر تو ارباب اشراق نے کر دیا مگر اسی تہذیب میں یہ صراحت بھی ہے کہ اس دور میں ہشام سے وکیع، ابن نمیر اور محاضر نے سنا ہے۔...صحیح بخاری اور مسلم میں جب یہ روایت وکیع، ابن نمیر اور محاضر کے علاوہ ہشام کے دیگر متقدمین تلامذہ سے مروی ہے تو ہشام کی روایت کو اس اعتراض کی بنا پر غیر متصل قرار دینا قطعاً قرین انصاف نہیں۔

محدثین کے ہاں یہ بات تقریباً طے شدہ ہے کہ صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات محمول علی السماع ہیں اور مختلطین کی روایات قبل از اختلاط مروی ہیں۔ اگر کہیں ایسے راوی سے روایات لی ہیں تو دیگر شواہد کی تائید کی بنا پر لی ہیں۔ کیونکہ شیخین کا اس حوالے سے تتبع معروف ہے۔'' (الاعتصام ۵۸:۲۹/ ۱۴)

مولانا کے استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ عراق جانے کے بعد ہشام بن عروہ کے غیر محتاط ہو جانے کو ایک امر واقعہ کے طور پر تسلیم کر لینے کے باوجود صحیحین میں منقول ان کی مرویات کو غیر متصل نہیں کہا جا سکتا، اس لیے کہ محدثین صحیحین کی اس طرح کی روایات کو سماع پر محمول کرتے ہیں۔ ہم سردست اس بحث میں نہیں پڑتے کہ صحیحین کے بارے میں محدثین (زیادہ تر متاخرین) کے مذکورہ زاویۂ نگاہ کی بنیاد تتبع اور استقرا پر ہے یا محض حسن ظن پر یا بعض فنی بلکہ (Funny) تحفظات پر۔ یہاں ہم مولانا محترم کی بات پر صرف اتنا اضافہ کرنا چاہیں گے کہ صحیحین کے حوالے سے محدثین کا مذکورہ رجحان ایک عمومی نوعیت کا ہے نہ کہ کلی نوعیت کا۔ خود مولانا محترم نے ایک دوسری بحث میں یہ بات تسلیم کی ہے کہ محدثانہ دلائل وشواہد کی روشنی میں صحیحین کی روایات کے اتصال کو زیر بحث لانا نہ صرف اصولی طورپر ممکن ہے، بلکہ اکابر اہل علم نے اس نوعیت کے سوالات اٹھائے بھی ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں:

''صحیحین میں مدلسین کی معنعن روایات جمہور کے ہاں سماع پرمحمول ہیں، مگر جہاں دلائل قطعیہ سے انقطاع ثابت ہو، اس کا انکار محض مجادلہ ومکابرہ پر مبنی ہے۔ البتہ اس سلسلے میں متاخرین کی بجائے عموماً متقدمین محدثین جن کی نگاہوں میں ذخیرۂ حدیث تھا، کا قول قابل قبول ہوگا۔ ہر کس وناکس کی بات کا کوئی اعتبار نہیں کیا جائے گا۔''

(توضیح الکلام ۲/ ۳۰۲)

کیا مولانا محترم اس بات کی وضاحت فرمائیں گے کہ اگر مدلسین کی معنعن روایات کے حوالے سے شیخین کا تتبع ایسا ہی قطعی ہے تو بعض روایات میں ''دلائل قطعیہ سے انقطاع ثابت'' ہونے کی گنجایش کیسے پیدا ہو گئی؟ اور جب بعض مقامات پر انقطاع کا انکار ''محض مجادلہ ومکابرہ پر مبنی'' ہے تو پھر اس بات کی کیا دلیل ہے کہ باقی مقامات پر جو شیخین پر اعتماد یا توجہ اور تنبہ نہ ہونے کے باعث محدثین کے ہاں زیر بحث نہیں آ سکے، اتصال ہی کو حتمی سمجھنا محض خوش اعتقادی اور تقلید پر مبنی نہیں؟

واقعہ میں راویوں کے تصرفات

ہشام بن عروہ کے نقل کردہ متن میں ان کے ایک شاگرد ابو اسامہ کے طریق میں یہ اضافہ موجود ہے کہ 'قالت ولیستا بمغنیتین'۔ یعنی ام المومنین نے کہا کہ یہ دونوں لونڈیاں پیشہ ور گانے والی نہیں تھیں۔ اس جملے کے حوالے سے ہم نے گزارش کی تھی کہ ہشام بن عروہ سے اس واقعے کو ابو اسامہ کے علاوہ شعبہ بن الحجاج، حماد بن سلمہ، عبد اللہ بن نمیر، عبد اللہ بن معاویہ اور معمر بن راشد نے بھی نقل کیا ہے اور ان میں سے کسی کے طریق میں مذکورہ جملے کا کوئی وجود نہیں۔ اس جملے کا اضافہ صرف ابو اسامہ نے اپنی روایت میں کیا ہے، اس لیے یہ قرار دینا خلاف قیاس ہوگا کہ ہشام کے باقی پانچوں شاگرد یہ جملہ بیان کرنا بھول گئے اور صرف ابو اسامہ نے اس کو یاد رکھا۔

ہماری اس رائے پر مولانا محترم نے پہلا اعتراض یہ کیا ہے :

''بڑے ہی افسوس بلکہ تعجب کی بات ہے کہ راوی بالصراحت بیان کرتا ہے ''قالت ولیستا بمغنیتین'' کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ دونوں پیشہ و ر مغنیہ نہ تھیں۔ مگر ارباب اشراق کو ''قالت'' کا لفظ شاید نظر نہیں آیا بالکل اسی طرح جس طرح اس سے پہلے انھیں یہ جملہ سرے سے نظر ہی نہیں آیا اور ''قینہ'' کا لفظ نظر آ گیا۔ تبھی تو فرمایا جا رہا ہے کہ ''یہ درحقیقت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہی نہیں یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے'' ... جس وہم میں ارباب اشراق مبتلا ہیں کہ ''یہ بعد کے راوی کا اپنا قیاس ہے'' اسی وہم کے ازالہ کے لیے ہی تو راوی نے ''قالت'' کی پہلے ہی صراحت کر دی کہ یہ کسی راوی کا نہیں خود حضرت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا اپنا ارشاد ہے۔ (الاعتصام ۵۸: ۲۹/ ۱۲)

اپنے اسی اعتراض کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اگر یہ امر واقع نہیں تو آپ فرمائیے کہ یہ جملہ ہوشیار راوی نے حضرت عائشہ کی طرف منسوب کر دیا ان کا فرمودہ نہیں تھا۔ یوں راوی کی عدالت پر حرف گیری کیجیے اور میدان میں آئیے۔ اور بتلائیے کہ عروہ یا ہشام یا ابو اسامہ ایسا اور ویسا راوی تھا۔ اور اس نے اپنی بات غلط طور پر سیدہ عائشہ صدیقہ کی طرف منسوب کر دی۔''(الاعتصام ۵۸:۲۹/۱۲۔ ۱۳)

مولانا محترم کا مذکورہ ارشاد، واقعہ یہ ہے کہ ہمارے فہم سے بالکل بالاتر ہے۔ اس کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ کوئی بھی راوی وہم اور سوء فہم کی بنا پر کسی ایسی بات کو جو محض اس کا اپنا قیاس ہو، مروی عنہ کی طرف منسوب ہی نہیں کر سکتا، اور خاص طور پر جب وہ اپنے سے اوپر کے کسی راوی یا خود صحابی کی طرف اس بات کی نسبت کی تصریح کر دے تو اس کے بعد اس کا امکان ختم ہو جاتا ہے کہ اس کے حوالے سے کوئی تنقیدی سوال اٹھایا جائے۔

اس ضمن میں مولانا محترم جیسے فن حدیث سے اشتغال رکھنے والے صاحب علم کو ذخیرۂ حدیث کی مراجعت کا مشورہ دینا تو غالباً ایک جسارت ہوگی، البتہ عام قارئین کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ ذخیرۂ حدیث میں اس کی ان گنت مثالیں پائی جاتی ہیں کہ ایک راوی کوئی روایت بیان کرتا ہے اور اس کے متن میں کوئی ایسی بات بھی شامل کر دیتا ہے جس کو وہ بربناے وہم اصل روایت کا حصہ سمجھ رہا ہوتا ہے۔ اس صورت میں وہ اگر کسی موقع پر اپنے شامل کردہ ٹکڑے کو 'قال' یا 'قالت' کہہ کر اوپر کے راوی کی طرف منسوب کر دیتا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کسی راوی کو اس طرح کا وہم لاحق ہوگا تو وہ اپنے قیاسی اضافے کو سامعین کے سامنے بھی اصل راوی کی بیان کردہ روایت ہی کی حیثیت سے پیش کرے گا۔ تاہم اس کی اس تصریح سے روایت کی فنی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ چیز نقد حدیث کے اصولوں کی روشنی میں طے کی جائے گی اور اگر روایت مطلوبہ معیار پر پوری نہیں اترتی تو راوی کے دعووں اور تصریحات کو کوئی وقعت نہیں دی جائے گی۔

مولانا محترم نے ابو اسامہ کی زیر بحث زیادت کو تسلیم نہ کرنے اور اس کی عدالت پر حرف گیری کے مابین جو لزوم پیدا کیا ہے، وہ بھی دل چسپ ہے۔ گویا مولانا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی راوی کی روایت پر تنقید کی صرف ایک ہی صورت ممکن ہے اور وہ یہ کہ اسے قصداً غلط بیانی کا مجرم قرار دے دیا جائے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ راوی اگر کسی غلط فہمی کی بنا پر مروی عنہ کی نسبت سے روایت میں کوئی ایسی بات بیان کرے جس کو وہ اپنے گمان کے مطابق اصل متن ہی کا حصہ سمجھ رہا ہو تو اس سے اس کی عدالت یا ثقاہت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ انسانی ذہن بہت سے اسباب ووجوہ کے تحت غلط فہمی اور وہم کا شکار ہو جاتا ہے، اس لیے کسی روایت کو کلاً یا جزواً رد کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا راوی دیدہ و دانستہ غلط بیانی سے کام لے رہا ہو۔

مولانا کا دوسرا اعتراض حسب ذیل ہے:

''یہ الفاظ مسند یا سنن ومعاجم کی کسی کتاب کے نہیں، ہم عرض کر چکے ہیں کہ یہ الفاظ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے ہیں۔ ارباب اشراق کو یہ الفاظ گوارا نہیں اس لیے انھوں نے ان کی صحت کے انکار کا بیڑا اٹھایا۔ ان سے پہلے ان الفاظ کی صحت کا انکار کسی بھی صاحب علم سے ثابت نہیں۔ ہم شکر گزار ہوں گے اگر وہ اپنی تائید میں ائمہ فن میں سے کسی ایک کا قول پیش کریں۔ ان کی یہ کوشش یقیناًہمارے علم میں اضافہ کا باعث ہوگی۔'' (الاعتصام ۵۸: ۲۹/ ۱۲)

اعتراض کے پہلے نکتے یعنی زیر بحث الفاظ کے صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہونے کی بابت ہم مولانا محترم کی توجہ خود انھی کی تحریر فرمودہ ایک عبارت کی طرف دلانا چاہیں گے جس میں انھوں نے بخاری ومسلم میں مروی روایات کی محدثانہ حیثیت کا درست تعین فرمایا ہے۔ ''توضیح الکلام'' میں ایک روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:

''بعض اہل علم نے ان الفاظ کو صرف اس بنا پر صحیح باور کر لیا ہے کہ یہ صحیح بخاری میں ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں، جبکہ صحیح بخاری و مسلم میں شیخین ایسی حدیث کو بھی لے آتے ہیں جو مقصود کے اعتبار سے تو صحیح ہوتی ہے (یعنی من حیث المجموع) اگرچہ کوئی ٹکڑا اس کا ان کے معیار صحت کے مطابق نہیں ہوتا، بلکہ اس میں بعض رواۃ کا وہم ہوتا ہے۔ صحیحین کا غائر نظر سے مطالعہ کرنے والے حضرات کے لیے یہ بات نئی نہیں۔'' (۱/ ۱۲۴)

جہاں تک اعتراض کے دوسرے نکتے یعنی ائمۂ فن میں سے کسی سے زیر بحث جملے پر تنقید کے ثبوت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ہمارا سوال یہ ہے کہ کسی حدیث کی صحت وضعف کو طے کرنے کا معیار نقد روایت کے اصول ہیں یا ائمۂ فن کے اقوال؟ آخر ائمۂ فن کس بنیاد پر کسی روایت کی صحت یا ضعف کا فیصلہ فرماتے ہیں؟ اگر ان کے فیصلوں کی بنیاد وحی و الہام کے بجائے دلائل وشواہد پر ہوتی ہے تو دلائل وشواہد ہی کی روشنی میں ان کی رائے سے اختلاف کیوں نہیں کیا جاسکتا؟ علم حدیث کے جس ذخیرے اور طرق واسانید کے جس مواد سے استفادہ کرتے ہوئے متقدمین رائے قائم کیا کرتے تھے، کیا وہ دنیا سے ناپید ہو چکا ہے اور اب ہمارے پاس متقدمین کے فیصلوں کو علمی معیار پر جانچنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا؟ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناًنہیں ہے تو پھر محض خوش اعتقادی کی بنا پر متقدمین اور متاخرین میں فرق کیوں روا رکھا جا رہا ہے؟ ہم سمجھتے ہیں کہ قرائن وشواہد پر مبنی تنقید کے جواب میں 'ائمۂ فن' میں سے کسی کا قول طلب کرنے پر اصرار کا رویہ اس تقلید جامد سے کسی طرح مختلف نہیں جسے فقہی دائرے میں مکاتب فقہ کے پیروکاروں نے اختیار کر رکھا ہے۔

مولانا محترم نے زیر بحث جملے پر ہماری تنقید کے جواب میں تیسرے نکتے کے طور پر اصول حدیث کے اس ضابطے کا حوالہ دیا ہے کہ:

''ایک حدیث کا متن مختلف راویوں سے مروی ہو تو قاعدہ یہ ہے کہ تمام ثقہ راویوں کی بیان کردہ روایت کو ملایا جاتا ہے اور مختلف اجزاء کو جمع کر کے ایک مکمل روایت کو معین کیا جاتا ہے، بشرطیکہ ثقہ کا بیان کیا ہوا کوئی جملہ یا حصہ شاذ نہ ہو۔'' (الاعتصام۵۸:۳۰/ ۱۶)

مولانا کے مذکورہ اقتباس میں بیان کردہ اصول سے ہمیں سر مو کوئی اختلاف نہیں، البتہ ہم اس اقتباس کے آخری جملے یعنی ''بشرطیکہ ثقہ کا بیان کیا ہوا کوئی جملہ یا حصہ شاذ نہ ہو'' کی ذرا تفصیل کرنا چاہیں گے۔ محدثین کے ہاں ضابطہ صرف یہی نہیں ہے کہ مختلف ثقہ راویوں کے نقل کردہ متون کو جمع کر کے ان سے ایک جامع متن مرتب کیا جائے، بلکہ یہ بھی ہے کہ متون کا باہمی موازنہ اور تقابل کر کے نقل روایت میں رواۃ کے باہمی اختلافات کو معین کیا جائے اور اس کی روشنی میں اس امر کو جانچا جائے کہ کہیں کسی راوی نے عقلی قیاس یا وہم کی بنا پر کسی ایسے جملے کو متن کا حصہ تو نہیں بنا دیا جو فی الحقیقت روایت کے اصل ناقل سے ثابت نہ ہو۔ یوں متون کے تقابلی مطالعے کا یہ عمل محدثین کے ہاں کسی بھی روایت کی اصل اور مکمل صورت کو معین کرنے کے ساتھ ساتھ متن کی تنقیح اور راویوں کے اوہام کی نشان دہی کرنے کے لیے بھی ایک بنیادی وسیلے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکابر محدثین ثقہ راویوں کی بیان کردہ زیادات کو مطلقاً نہیں، بلکہ بعض قیود کے ساتھ قبول کرتے ہیں جن میں سے ایک اہم قید یہ ہے کہ اگر راوی کسی روایت میں کوئی زائد بات بیان کرے، جبکہ اس کے مقابلے میں اس زیادت کے بغیر روایت کو نقل کرنے والے راوی تعداد میں زیادہ اور پختہ کار اور ضابط ہوں اور زیادت بھی اپنی معنوی اہمیت کے لحاظ سے نظر انداز کرنے کے قابل نہ ہو تو ایسے راوی کی بیان کردہ زیادت کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ سیوطی لکھتے ہیں:

وقال ابن الصباغ ان زادہا واحد وکان من رواہ ناقصا جماعۃ لا یجوز علیہم الوہم سقطت وعبارۃ غیرہ لا یغفل مثلہم عن مثلہا عادۃ وقال ابن السمعانی مثلہ وزاد ان یکون مما تتوفر الدواعی علی نقلہ.(تدریب الراوی ۱/۲۴۶)

''ابن الصباغ نے کہا ہے کہ اگر ایک راوی اضافہ بیان کرے، جبکہ اس کے بغیر روایت کرنے والے راوی ایک ایسی جماعت ہوں جس کا وہم میں مبتلا ہو جانا بعید از قیاس ہو یا ان جیسے راویوں کا اس جیسی بات کو نقل کرنے سے غافل رہ جانا عادتاً ممکن نہ ہو تو زیادت ناقابل اعتبار قرار پائے گی۔ ابن السمعانی نے بھی یہی بات کہی ہے اور اس پر اتنا اضافہ کیا ہے کہ وہ بات ایسی ہو کہ اس کو نقل کرنے کے محرکات اور دواعی بھی کافی پائے جاتے ہوں۔''

یہ ایک بالکل سادہ عقلی اصول ہے۔ جب ایک ہی روایت کو بہت سے ایسے راوی نقل کر رہے ہوں جن کے بارے میں یہ گمان نہ کیا جا سکے کہ وہم یا نسیان کی بنا پر انھوں نے ادھورا متن نقل کیا ہے، اور ان کے مقابلے میں کوئی ایک راوی روایت میں اضافی بات بیان کر رہا ہو تو اس ایک راوی کو وہم لاحق ہونے کا امکان زیادہ ہے، اس لیے اس کی زیادت کو قبول نہ کرنا بالکل عقلی اور فطری بات ہے۔ ہم نے اسی اصول پر ہشام کی روایت میں ابو اسامہ کے اضافہ کردہ جملے 'قالت ولیستا بمغنیتین' کو ابو اسامہ کا وہم قرار دیا ہے، اس لیے کہ ایک ابو اسامہ کے مقابلے میں ہشام کے پا نچ شاگرد اس اضافے کا ذکر نہیں کرتے اور ان میں سے عبد اللہ بن معاویہ اگرچہ ضعیف ہیں، لیکن شعبہ بن الحجاج، حماد بن سلمہ، عبد اللہ بن نمیر اور معمر بن راشد بہرحال ثقہ اور ثبت راوی ہیں۔ اس کی مزید تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ عروہ بن الزبیر سے اس روایت کو نقل کرنے والے دوسرے دو راویوں ابو الاسود اور زہری کی روایات میں بھی یہ جملہ موجود نہیں۔

دل چسپ بات یہ ہے کہ مولانا محترم نے مذکورہ اصول ہی کے تحت ام المومنین کی زیر بحث روایت میں ایک دوسرے راوی کے بیان کردہ اضافے پر ہماری تنقید سے اتفاق فرمایا ہے۔ ہم نے لکھا تھا کہ ابن شہاب سے مذکورہ واقعے کو روایت کرنے والے ایک راوی اسحاق بن راشد نے روایت کے متن میں اپنا قیاس داخل کرتے ہوئے 'فسبہما وخرق دفیہما' (ابوبکر نے دونوں لونڈیوں کو برا بھلا کہا اور ان کے دف پھاڑ دیے) کے الفاظ بڑھا دیے ہیں، جبکہ ابن شہاب زہری کے دوسرے تلامذہ عقیل بن خالد، عمرو بن الحارث ، مالک بن انس ، معمر بن راشد اور عبد الرحمن بن عمرو اوزاعی کے طرق میں یہ جملہ موجود نہیں، چنانچہ اس کے بے اصل ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ مولانا محترم اس تنقید سے اتفاق کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''رہے صحیح ابن حبان کی روایت کے لفظ جس میں اسحاق بن راشد ((فَسَبَّہُمَا وَخَرَقَ دَفَّیْہِمَا)) کا ذکر کرتے ہیں تو یہ جملہ بالخصوص ''وخرق دفیہما'' کے الفاظ بلاشبہ محل نظر ہیں۔ اس لیے کہ اسحاق بن راشد گو ثقہ ہیں تاہم امام زہری سے روایت کرنے میں ان کے کچھ اوہام ہیں۔ ... اور یہ روایت بھی اسحاق بن راشد نے امام زہری سے ہی بیان کی ہے۔'' (الاعتصام ۵۸: ۳۰/ ۱۷)

ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا کسی ثقہ راوی کے ہاں ''کچھ اوہام'' کے پائے جانے سے یہ لازم آتا ہے کہ اس کی نقل کردہ روایات اور زیادات بالکل قابل اعتنا نہ رہیں؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے اور خود مولانا محترم نے ہشام بن عروہ کے عراقی تلامذہ کی روایات میں بعض اوہام کے پائے جانے کا اعتراف کرنے کے باوجود ان کا دفاع کیا ہے اور فرمایا ہے کہ ''علی الاطلاق ہشام سے عراقیوں کی روایات پر کلام کرنا درست نہیں۔'' (الاعتصام ۵۸:۲۹/ ۱۴۔ ۱۵) تو پھر اسحاق بن راشد کی مذکورہ زیادت کو جس سے دوسرے ثقہ راویوں کی روایت کی نفی بھی لازم نہیں آتی، ''محل نظر'' قرار دینے کی کیا دلیل ہے؟ مولانا محترم اگر غور فرمائیں گے تو اسحاق بن راشد کی زیادت پر اپنے عدم اطمینان کا باعث انھیں اس کے سوا کچھ نہیں ملے گا کہ ایک ہی استاد کے پانچ شاگردوں کے مقابلے میں جو مذکورہ جملہ بیان نہیں کرتے، صرف ایک شاگرد کے بیان کی بنیاد پر مذکورہ اضافے کو اصل روایت کا حصہ قرار دینا عقلاً ناقابل قبول ہے، اس لیے اسے اسحاق بن راشد ہی کا وہم قرار دیے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

ہماری تحریر سے براہ راست متعلق تنقیدی نکات یہی تھے جن کا سطور بالا میں ذکر ہوا، البتہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی اس واقعے ہی کے حوالے سے یہ نکتہ بھی مولانا محترم کے مقالے میں زیر بحث آیا ہے کہ روایت میں 'وعندی جاریتان' کے الفاظ چھوٹی بچیوں کے معنی میں آئے ہیں یا لونڈیوں کے مفہوم میں۔ شارحین کا اس میں اختلاف ہے۔ ابن تیمیہ، ابن جوزی، ابن قیم اور نووی وغیرہ کی رائے میں یہ چھوٹی بچیاں تھیں، جبکہ صحیح بخاری کے شارح حافظ ابن حجر نے اس کا مفہوم لونڈیاں مراد لیا ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ 'ولیستا بمغنیتین' کا زیر بحث جملہ اس بات کا قرینہ ہے کہ گانا گانے والی لڑکیاں چھوٹی بچیاں نہیں، بلکہ لونڈیاں تھیں، اس لیے کہ اس جملے سے قائل کامقصد، خواہ وہ ام المومنین ہوں یا ہشام یا ابو اسامہ ، ظاہر ہے کہ کسی ممکنہ احتمال کی نفی ہے۔ اب اگر گانا گانے والی لڑکیاں چھوٹی بچیاں تھیں تو ان کے بارے میں اس گمان کا پیدا ہونا ہی بعید ہے کہ گانا گانا ان کا باقاعدہ پیشہ ہوگا، اس لیے ان کے بارے میں اس احتمال کی نفی کی بھی ضرورت نہیں۔ پیشے کے طور پر گانا گانے کا احتمال چھوٹی بچیوں کے بارے میں نہیں، بلکہ لونڈیوں ہی کے بارے میں پیدا ہو سکتا ہے، اس لیے کہ عرب معاشرت میں لونڈیاں ہی اس فن کو بطور ایک پیشے کے اختیار کیا کرتی تھیں۔ پس 'ولیستا بمغنیتین' کا جملہ بذات خود اس امر کا قرینہ ہے کہ راوی 'جاریتان' سے چھوٹی بچیاں نہیں، بلکہ لونڈیاں مراد لے رہا ہے۔ مزید براں ہشام کے شاگردوں میں سے شعبہ (بخاری، رقم ۳۶۳۸) اور زہری اور ہشام کے مشترک شاگرد معمر (المعجم الکبیر، ۲۳/۱۸۰، رقم ۲۸۵) کے طرق میں روایت بالمعنی کے طریقے پر 'جاریتان' کی جگہ 'قینتان' کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو لونڈیوں کے مفہوم میں بالکل صریح ہے۔ حافظ ابن حجر نے غالباً انھی قرائن کی بنا پر 'جاریتان' کو لونڈیوں کے معنی میں لیا ہے اور مختلف روایات کی روشنی میں ان کا مصداق متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔

مولانا محترم نے اس ضمن میں ابن حجر کی پیش کردہ تین روایتوں پر یہ تنقید کی ہے کہ وہ تینوں سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں، اس لیے ان سے استدلال درست نہیں۔ (الاعتصام ۵۸:۳۰/ ۲۰) تاہم مولانا محترم خود ایک دوسرے مقام پر یہ تسلیم فرما چکے ہیں کہ کسی صحیح روایت کے محتملات کی تعیین کے لیے ضعیف روایت سے استدلال خلاف اصول نہیں ہے۔ چنانچہ اپنے استاد محترم مولانا حافظ محمد گوندلوی کے ایک ضعیف روایت سے استدلال کا دفاع کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''یہ روایت ضعیف سہی، مگر نامور دیوبندی عالم مولانا بدر عالم صاحب لکھتے ہیں کہ ضعیف روایت سے احد المحتملات کی تعیین ہو سکتی ہے۔ ان کے الفاظ ہیں: 'لا باس بضعف الروایۃ فانہا تکفی لتعیین احد المحتملات''' (توضیح الکلام ۲/ ۲۷۶۔ ۲۷۷)

احد المحتملات کی تعیین کے لیے اپنے استاد محترم کے 'ایک' ضعیف روایت سے استدلال کو درست قرار دینے، لیکن ابن حجر کے 'تین' ضعیف روایتوں سے استدلال کو قبول نہ کرنے کے لیے مولانا محترم کے سامنے یقیناًمعقول وجوہ ہوں گے۔ اگر وہ ان پر روشنی ڈال سکیں تو ان کی توضیحات ہمارے لیے طالب علمانہ استفادہ کا ذریعہ ہوں گی۔