ہماری دعوت


[جناب جاوید احمد غامدی کا انٹرنیٹ پر خطاب]

اَلْحَمُدُ لِلّٰہِ! اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ! وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی مُحَمَّدٍ الْاَمِیْنِ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ! بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ! رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ وَ یَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَ احْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَھُوْا قَوْلِیْ.

خواتین و حضرات، میں نے ہمیشہ یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ دین درحقیقت اللہ تعالیٰ کی وہ ہدایت ہے جو اس نے سب سے پہلے انسان کی فطرت میں ودیعت فرمائی اور پھر اپنے نبیوں کے ذریعے سے اس کی دعوت برپا کی۔ قرآن مجید بھی ہمیں بتاتا ہے اور تورات و انجیل بھی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہیں کہ اللہ کے پیغمبر اسی لیے بھیجے گئے کہ وہ انسان کی فطرت میں ودیعت اس پیغام کی تذکیر کریں،اس کے لیے دلوں کو آمادہ کریں، اسے دماغوں میں اتار یں، اس سے متعلق اگر کوئی اشکال ہو تو اس کا جواب دیں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اجمال کے ساتھ ودیعت فرمایا ہے، اس کی تفصیل کر یں۔

اس لحاظ سے اگر آپ دیکھیں تو دین کی دعوت کو ہم دو زمانوں میں تقسیم کر سکتے ہیں: ایک زمانہ وہ ہے جسے زمانۂ رسالت کہنا چاہیے اور دوسرا زمانہ ما بعد رسالت ہے۔زمانۂ رسالت میں اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر بھیجتے تھے۔ اس وقت اصلاً یہ دعوت ان پیغمبروں ہی کے ذریعے سے برپا ہوتی تھی۔ پیغمبروں کا معاملہ یہ تھا کہ ان کی طرف آسمان سے وحی آتی تھی۔ وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں یہ دعوت برپا کرتے تھے۔ اگر کسی جگہ پر ادنیٰ درجے کی بھی لغزش ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ اس کی اصلاح فرما دیتے تھے اور اگر اس دعوت میں شیطانی قوتوں کی طرف سے در اندازی کا امکان ہوتا تھا تو اس کو بھی روکنے کا پورا اہتمام کر دیتے تھے۔اس سلسلے کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ اُن کے ساتھ زمانۂ رسالت ختم ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست دعوت کے نزول کو منقطع کر دیا گیا اور قیامت تک کے لیے منقطع کر دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی آخری کتاب قرآن مجید نازل ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ کوئی نئی کتاب نہیں آئے گی۔ اب اس دعوت کو عام انسانوں کو لے کر اٹھنا ہے۔ چنانچہ اگر آپ قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ سورۂ توبہ جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری دینونت کی سورہ ہے یعنی جس میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے جو جزا اور سزا عالمی سطح پر برپا کی گئی، اس کی سرگذشت بیان ہوئی ہے اس سورہ کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اب زمانۂ رسالت کے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو کیا کرنا ہے؟ چنانچہ ارشاد فرمایا ہے: 'وَمَاکَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا کَآفَّۃً.' یعنی سارے مسلمان تو اس کام کے لیے نہیں اٹھ سکتے۔ کسی کو سائنس دان بننا ہے، کسی کو ڈاکٹر بننا ہے، کسی کو انجینئر بننا ہے، کسی کو کاروبار کرنا ہے، کسی کو منڈی میں بیٹھنا ہے، کسی کو دفتر میں خدمت انجام دینی ہے، کسی کو کھیتوں میں جا کر کام کرنا ہے۔ انسانی زندگی کی تقسیم اسی طرح کی ہے تو ارشاد فرمایا ہے کہ یہ سب لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اس کام کے لیے نکل کھڑے ہوں 'فَلَوْلَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْھُمْ طَآءِفَۃٌ'یعنی ان کے ہر گروہ میں سے ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ لوگ نکلیں دو،چار ،پانچ ،دس وہ نکل کر کیا کریں؟ 'لِیَتَفَقَّھُوْا فِی الدِّیْنِ وَلِیُنْذِرُوْا قَوْمَھُمْ اِذَا رَجَعُوْٓا اِلَیْھِمْ لَعَلَّھُمْ یَحْذَرُوْنَ'،* وہ اللہ کے دین کی سچی بصیرت پیدا کریں یعنی دین کا صحیح علم حاصل کریں، دین کو سمجھیں جس طرح کہ اس کو سمجھنے کا حق ہے اور پھر اپنی قوموں کو انذار کریں۔ یہ قرآن کریم نے وہی لفظ استعمال کیا ہے جو وہ پیغمبروں کے معاملے میں استعمال کرتا ہے۔

قرآن مجید کا یہی ارشاد ہے جس نے ہماری امت میں علما کا منصب پیدا کیا ہے، یعنی کچھ لوگ جس طرح زندگی کے دوسرے شعبوں کا انتخاب کرتے ہیں، اسی طریقے سے اس شعبے کو بھی اپنی زندگی کا مقصد بنائیں۔ کچھ لوگ، یعنی ایسے لوگ جو اس کی فطری صلاحیت رکھتے ہوں، اس کا فطری ذوق رکھتے ہوں، اس کا فطری رجحان رکھتے ہوں، وہ اٹھیں اور اٹھ کر دین کی سچی بصیرت پیدا کریں۔ اور جب وہ دین کی سچی بصیرت پیدا کر لیں تو وہی کام کریں جو اللہ کے پیغمبر کرتے تھے۔ چنانچہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ہماری امت میں یہ روایت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قائم ہو گئی۔ صحابۂ کرام میں سے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے دین کی سچی بصیرت دی تھی، انھوں نے یہ کام کیا۔ تابعین نے یہ کام کیا، تبع تابعین نے یہ کام کیا۔ اس وقت قرآن مجید موجود تھا۔ وہ قرآن مجید جس کے بارے میں خود اس نے کہا تھاکہ جو بھی خدا سے ڈرتا ہے، وہ قرآن کے ذریعے سے تذکیر کا محتاج ہے۔ اسے تذکیر کرو، اسے نصیحت کرو، اس تک دعوت پہنچاؤ۔ قرآن ان کے لیے گویا دعوت کی کتاب تھی۔ وہ اس کو لے کر نکلے اور انھوں نے سارے عالم تک اس دعوت کو پہنچانے کے لیے جدوجہد کی۔ وہ ہمارا وہ دور تھا کہ جس کے بارے میں خود رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: 'خیر القرون قرنی، ثم الذین یلونھم، ثم الذین یلونھم' * (میرا زمانہ بہترین زمانہ ہے ،پھر اس کے بعد، پھر اس کے بعد )۔ اس زمانے میں دین کی خالص دعوت برپا ہوئی۔ دین کا پیغام لوگوں تک پہنچا اور جس طرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حجت تمام کر دی تھی، انھوں نے بھی اسی طریقے سے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کا عمل شروع کیا۔

اس زمانے کے بعد بتدریج وہ دور آگیا جس میں اس دعوت کو کچھ آفات لاحق ہو گئیں۔اگر آپ اپنی علمی تاریخ اور دعوتی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ یہ دو طرح کی آفات ہیں۔ پہلی آفت اس دعوت کو یہ لاحق ہوئی کہ قرآن مجید کو جو حیثیت دین میں دی گئی، جس کو خود قرآن نے بیان کیا، جس کی طرف رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پوری دعوتی زندگی میں توجہ دلائی تھی، جس کو صحابۂ کرام نے اسی حیثیت سے پیش کیا تھا، قرآن کی وہ حیثیت قائم نہیں رہی۔ پہلا حادثہ یہ ہوا۔

قرآن مجید اللہ کی کتاب ہے۔ قرآن مجید ہماری آنکھوں کا سرور ہے۔ قرآن مجید کے ذریعے سے ہم ہدایت حاصل کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی طرف سب سے پہلے نگاہ کرنی چاہیے۔ اگر ہم نے کوئی قانون اخذ کرنا ہے ، کوئی حکم اخذ کرنا ہے تو قرآن کو دیکھنا چاہیے۔ اس میں تو کوئی اضمحلال نہیں ہوا،لیکن قرآن کی یہ حیثیت کہ وہ حکم ہے یعنی اس کی حیثیت ایک فیصلہ کن سند کی ہے۔ جب دین کے معاملے میں کوئی چیز پیدا ہو گی تو قرآن آخری فیصلہ سنائے گا۔ وہ ہر چیز پر حکومت کرے گا۔ خواہ بخاری و مسلم ہوں ، خواہ بو حنیفہ و شافعی ہوں، خواہ اشعری و ماتریدی ہوں، ہر ایک پر قرآن کی حکومت قائم ہو گی یہ حیثیت مجروح ہونا شروع ہوگئی۔ اگر آپ اس کا بھی استقصا کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ چار چیزیں ہیں جو اس حیثیت کو مجروح کرنے کا باعث بنیں۔

ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ پہلی صدی کے خاتمے تک پہنچتے پہنچتے قرآن مجید کی بہت سی قراء تیں رائج ہو گئیں۔ سیکڑوں کی تعداد میں۔ یہ تو بہت بعد میں ان میں سے لوگوں نے انتخاب کرنا شروع کیا۔ پھر کچھ پچیس قراء توں کا انتخاب کیا گیا۔ پھر دس کا کیا گیا، پھر سات کا کیا گیا۔ یہ قرا ء توں کا تعدد قرآن مجید کی حاکمیت پر اثر انداز ہونا شروع ہوا۔ یعنی آپ یہ کہتے ہیں کہ قرآن یہ کہہ رہا ہے، کوئی دوسرا آدمی کہتا ہے کہ قرآن کی یہ آیت اس طرح بھی پڑھی گئی ہے اور اس طرح قرآن مجید کی وہ حجت جو لوگوں پر قائم ہونی تھی ،وہ بتدریج مجروح ہونا شروع ہوئی۔

دوسرامعاملہ یہ ہوا کہ قرآن مجید کے بارے میں متکلمین نے یہ تصور دینا شروع کیا کہ یہ چونکہ الفاظ ہی میں ہے اور الفاظ کی اپنے معنی پر دلالت قطعی نہیں ہوتی، لہٰذا ہمارے لیے اصلی حجت عقلی برہانیات ہیں۔ جب ہم اپنے علم و عقل سے کوئی راے قائم کر لیتے ہیں تو حکم کی حیثیت اس کو حاصل ہوتی ہے۔ قرآن مجید کے الفاظ سے جو مطلب سمجھا جا رہا ہے، یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ وہی ہو جو ہم سمجھ رہے ہیں۔ ہم حتمی طور پر ، قطعی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ قرآن کا منشا یہی ہے۔

تیسری چیز یہ ہوئی کہ خود قرآن مجید میں چونکہ یہ بیان ہوا ہے کہ اس کی آیات محکمات بھی ہیں اور متشابہات بھی ہیں تو متشابہات کے بارے میں یہ تصور قائم کیا گیا کہ یہ متعین نہیں ہیں۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کون سی آیت محکم ہے اور کون سی آیت متشابہ ہے۔ اور پھر متشابہ آیات کے معنی بھی ہم نہیں جانتے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر آیت کے بارے میں اس بحث کا دروازہ کھل گیا کہ اگر وہ متشابہ ہے تو پھر ظاہر ہے کہ وہ اپنی حکومت بھی دوسری چیزوں پر قائم نہیں رکھ سکے گی۔

اس سلسلے کی آخری چیز یہ ہوئی کہ حدیث کے بارے میں یہ خیال کیا گیا کہ وہ قرآن پر حکومت کرے گی۔ قرآن اس کی روشنی میں سمجھا جائے گا۔ جو کچھ قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے، اگر اس سے متعلق کوئی حدیث سامنے آجائے گی تو ہم حدیث سے حاصل ہونے والے مفہوم کو ترجیح دیں گے۔

یہ چار چیزیں ہیں جو آفت بن کر نازل ہوئیں اور قرآن مجید کے بارے میں اور اللہ کی سب کتابوں کے بارے میں جو چیز خود قرآن نے بیان کر دی تھی کہ وہ نازل ہی اس لیے کی گئی تھیں کہ وہ لوگوں کے اختلافات کا فیصلہ کریں اور اپنے بارے میں یہ کہتا ہے کہ یہ میزان ہے ، یہ فرقان ہے۔ یہ وہ ترازو ہے جس پر ہر چیز کو تولا جانا ہے۔ یہ حق و باطل کی کسوٹی ہے، جس پر ہر چیز کو پرکھاجانا ہے۔ یہ حیثیت مجروح ہو گئی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قرآن مجید اللہ کی کتاب کی حیثیت سے مانا گیا،مقدس کتاب کی حیثیت سے مانا گیا، جزدانوں میں لپیٹا گیا، طاقوں پر رکھا گیا، مسجدوں میں سجایا گیا ۔ قرآن مجید کی طرف رجوع بھی کیا گیا۔ اس سے استشہاد بھی کیا گیا۔ اس کو قانون کے اولین ماخذ کی حیثیت سے بھی ترجیح دی گئی، لیکن حکومت کس کی ہو گی، آخری فیصلہ کس کا ہوگا، یہ چیز قرآن مجید کے معاملے میں اس درجے میں نہ رہی جس درجے میں قرآن نے اس کو قائم کیا تھا، جس درجے میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قائم تھی، جس درجے میں یہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے زمانے میں قائم تھی۔

دین کی دعوت کو دوسری آفت یہ لاحق ہوئی کہ جب مسلمانوں نے اپنی ایک عظیم سلطنت قائم کر لی تو بہت سے نئے معاملات درپیش ہوئے۔ جب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعوت برپا کی تھی تو بہت تھوڑے سے لوگ تھے جو آپ کے ساتھ تھے۔ مدینے میں ریاست قائم ہوئی تو چند سو کی تعداد میں صحابۂ کرام تھے۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جب پورے کے پورے جزیرہ نما ے عرب پر اپنی حکومت قائم کر لی، اس وقت بھی یہ لاکھ ڈیڑھ لاکھ سے متجاوز نہیں ہوئے تھے۔ لیکن جب پورا عجم مفتوح ہو گیا ،جو آج کی سلطنتیں ہیں، وہ اس بڑی سلطنت کا حصہ بن گئیں تو بہت بڑی تعداد میں لوگ مسلمان ہوئے۔ چنانچہ اس وقت یہ مسئلہ پیدا ہو اکہ اتنے بڑے پیمانے پر جو لوگ مسلمان ہوئے ہیں، ان کو کیا مسائل اور سوالات درپیش ہیں؟ وہ سوالات سیاست سے بھی پیدا ہوئے، وہ معیشت سے بھی پیدا ہوئے، وہ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ یعنی عبادات سے بھی پیدا ہوئے ۔ یہ بڑی فطری چیز تھی۔ اس کے بارے میں یہ رہنمائی موجود تھی کہ اگر کوئی چیز قرآن مجید میں نہیں ملتی، اگر کوئی چیز سنت میں نہیں ملتی تو اس میں ہم اجتہاد کریں گے، چنانچہ اجتہاد کیا گیا۔ بڑے بڑے مجتہدین پیدا ہوئے اور یہ ایک ناگزیر ضرورت تھی، آج بھی ہے، اس وقت بھی تھی، ہمیشہ رہے گی ۔یہ اجتہاد ہوا اور پانی کی طرح ہماری ضرورت ہے لیکن اس اجتہاد کے نتیجے میں جو فقہ مرتب ہوئی ،وہ انسانی کام تھا۔ انسانی کام کو انسانی کام کے درجے میں رہنا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں ہوا اور بتدریج یہ صورت حال پیدا ہو گئی کہ بحیثیت مجموعی دین کی پوری تصویر کے ساتھ فقہ کی آمیزش ہو گئی۔ یہ پہلی آمیزش تھی۔

دوسری آمیزش یہ ہوئی کہ زیادہ عرصہ نہیں گزرا یونان کے علوم ترجمہ ہو کر مسلمانوں میں پھیلنا شروع ہو گئے۔ مسلمانوں میں بہت سے غیر معمولی طور پر ذہین لوگ اس سے متاثر ہوئے۔ عباسیوں کے ابتدائی زمانے میں جب عجم سے واسطہ پڑا تو عجم میں بھی فلسفے کی ایک روایت رہی تھی۔ اس سے بھی لوگ متاثر ہوئے۔ یونانی فلسفہ، عجمی فلسفہ اور کسی حد تک ہندی اور مصری فلسفہ، اس کی بہت سی چیزیں لوگوں کو بڑی پرکشش محسوس ہوئیں اور انھوں نے خیال کیا کہ یہ شاید ہمارے مسئلے کا حل ہیں، اور جب آدمی کسی چیز سے متاثر ہو جاتا ہے اور ایک جانب وہ کسی دین کو بھی مانتا ہے تو اس میں آپ سے آپ یہ خیال پیدا ہو جاتا ہے کہ کیا ان دونوں میں کوئی موافقت کی صورت تلاش کی جا سکتی ہے؟ چنانچہ موافقت کی جو صورتیں تلاش کی گئیں ،ان فلسفیانہ مباحث کو دین میں وہیں سے داخل ہونے کا موقع ملا۔ جو بڑے بڑے فلسفی مسلمانوں کے اندر پیدا ہوئے ،انھوں نے یہ کوشش کی۔ جو کچھ انھوں نے یونان سے اخذ کیا ،جو کچھ انھوں نے مصر کی روایت سے اخذ کیا ،جو کچھ انھوں نے ہندوستان کی روایت سے اخذ کیا ، اس کو انھوں نے دینی فکر کا حصہ بنانے کی کوشش کی۔ یہ دوسری آمیزش تھی۔

پھر اس کے بعد مسلمانوں میں بعض ایسے لوگ پیدا ہوئے کہ جنھوں نے یہ خیال کیا کہ اب ہمارے لیے فلسفے کا اسلوب استعمال کرنا ضروری ہے۔ دین مجروح ہو رہا ہے، لہٰذا ہمیں استدلال کے ان طریقوں کو استعمال کرکے جو منطق اور فلسفے نے رائج کر لیے ہیں، دین کے عقائد کا دفاع کرنا ہے۔ یہ وہ چیز تھی کہ جس نے ہمارے ہاں علم الکلام کو وجود بخشا اور اس طریقے سے ایک تیسری آمیزش وجود میں آئی۔

پھر اس کے بعد وہ دور آگیا کہ جس میں صوفیانہ مذاہب مسلمانوں میں پھیلنا شروع ہوئے۔ میں یہاں چند لفظوں میں یہ واضح کر دوں کہ مذاہب کی دو اقسام ہمیشہ سے رہی ہیں: ایک الہامی مذاہب، یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجے۔ ان کے بارے میں تو مذاہب کا لفظ بولنا بھی موزوں نہیں ہے، اس لیے کہ خود قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ وہ درحقیقت ایک ہی مذہب، ایک ہی دین تھا اور وہ اسلام ہی تھا۔ سیدنا آدم علیہ السلام بھی اسی کو لے کر آئے، سیدنا نوح علیہ السلام بھی اسی کو لے کر آئے۔ ابراہیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام بھی اسی کو لے کر آئے۔ تمام پیغمبروں نے اسی دین کو پیش کیا۔ سورۂ شوریٰ میں ارشاد ہے:

شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّےْنِ مَاوَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ.(۴۲:۱۳)

''اُس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوح کو دیا ، اور جس کی وحی اب ہم نے تمھاری طرف کی ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو فرمائی ، اِس تاکید کے ساتھ کہ (اپنی زندگی میں) اِس دین کو قائم رکھو اور اِس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔''

اس آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اے پیغمبر ،ہم نے آپ کو وہی دین دیا ہے جو ہم نے ان سب پیغمبروں کو دیا تھا ۔ تو اسلام اللہ کا دین، جو پیغمبروں کے ذریعے سے ملا تھا۔ اسی دین کو، جس طریقے سے وہ دیا گیا، اسی طریقے سے لوگوں تک پہنچنا تھا۔ لوگوں کے پاس اس کو جانا تھا اور لوگوں نے اس کو اخذ کرنا تھا، اس کو قبول کرنا تھا۔ یہ الہامی دین ہے۔اس کے برعکس فلسفیانہ مذاہب وہ تھے کہ جن میں فلسفی مزاج لوگوں نے یہ کوشش کی کہ وہ خدا سے براہ راست رابطے کے راستے ڈھونڈیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال بدھ مت ہے۔ ہندو مت بھی کم و بیش اسی طرح کی چیز ہے۔ تو صوفیانہ مذاہب سے مسلمان پہلی مرتبہ متعارف ہوئے ،اور جب متعارف ہوئے تو صوفیانہ مذاہب کے کچھ بنیادی تصورات ہیں، کچھ اس کے اندر کشش کی چیزیں ہیں، کچھ ایسے مقامات ہیں جو انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتے ہیں۔ انسان کی نفسیات کے بعض لوازم ہیں جو اس کو متاثر کرتے ہیں۔ ان سب چیزوں نے مل کر ایک ایسی فضا پیدا کی کہ بہت سے ذہین عناصر نے یہ آمیزش بھی دین میں داخل کی۔ تصوف درحقیقت اسی کا نام ہے۔ اِس آمیزش سے ہمارے بڑے جلیل القدر لوگ متاثر ہوئے اور اس کے نتیجے میں دین کی دعوت تصوف کی آمیزش کے ساتھ سامنے آنی شروع ہو گئی۔ اس کا ابتدائی غیر معمولی نمونہ امام غزالی کی شخصیت ہے۔ ان کی کتاب ''احیاء علوم الدین'' ہماری دعوتی، علمی اور فکری تاریخ کا غیرمعمولی مرقع ہے۔ ''احیاء علوم الدین'' کے بارے میں ایک زمانے میں لوگ کہتے تھے کہ اگر ساری کتابیں ختم ہو جائیں تو یہی ایک کافی ہے کہ جس کی طرف مراجعت کی جا سکتی ہے۔اس کتاب کو آپ پڑھیے تو جن آمیزشوں کا میں نے ذکر کیا ہے، وہ ان سب کے ساتھ دین کو ملا کر پیش کرتی ہے ،یعنی اس میں اشاعرہ کا علم کلام بھی ہے، اس میں فلسفیانہ مذاہب کا پرتو بھی ہے، اس میں صوفیانہ مذاہب کو ایک حقیقت کے طور پر اختیار کر لیا گیا ہے، یہاں تک کہ ''المنقذ من الضلال''میں ،جو کہ امام غزالی کی سرگذشت ہے، انھوں نے خود اس کو بیان کر دیا کہ میں نے جب حقیقت کو تلاش کرنا چاہا تو میں مختلف دروازوں پر گیا اور میں نے دستک دی، لیکن کہیں سے دل کا اطمینان حاصل نہیں ہوا۔ آخر میں وہ صوفیا سے ملے۔ چنانچہ ان کی پوری فکر پر آپ اس کو سایہ فگن دیکھتے ہیں۔ یہ وہ کتاب ہے کہ جس کتاب نے صدیوں تک مسلمانوں کے ذہنوں پر حکومت کی ہے اور اس وقت بھی کر رہی ہے۔ یہ اسی کے مباحث تھے کہ جن کو دین کی صحیح ترین تعبیر سمجھا گیا اور پھر خود امام غزالی نے اسی کا خلاصہ ''کیمیائے سعادت'' کی صورت میں کیا ۔ یہ ایک روایت ہے جو وہاں سے قائم ہوئی تھی۔

اسی کا منتہاے کمال ''شاہ ولی اللہ'' کی شخصیت ہے۔ انھوں نے بھی یہی کوشش کی کہ ان تمام آمیزشوں کی صلح کرا دیں اور ان کو ایسی صورت میں پیش کر دیں کہ جس میں فقہ بھی شامل رہے، اس میں فلسفہ بھی شامل رہے، اس میں تصوف بھی شامل رہے اور ان سب آمیزشوں کے ساتھ دین کو اس طرح پیش کیا جائے کہ جس میں یہ سارا فکر اس کے پس منظر میں جھلکتا ہو۔ چنانچہ ان کی ''حجۃ اللہ البالغہ'' میں اور ان کی دوسری تصنیفات میں آپ اس رنگ کو دیکھ سکتے ہیں۔

اس کی ایک غیر معمولی صورت وہ ہے جو علامہ اقبال کی "Reconstruction of Religious thought in Islam" میں نظر آتی ہے۔ آپ اس کے آخری خطبے کو پڑھیے، وہ خود یہ بیان کرتے ہیں کہ مذہبی فکر تین ادوار سے گزرتا ہے:اس میں پہلا دور ایمان کا ہوتا ہے۔ محض ایمان ، یعنی ایک دعوت دی گئی، آپ نے اس دعوت کو قبول کر لیا۔ اس میں جوش ہوتا ہے ، جذبہ ہوتا ہے، قوت عمل ہوتی ہے۔ پھر اس کے بعد فکر کا دور آتا ہے، اور پھر عرفان کا دور آتا ہے۔ درحقیقت یہ فکر اور عرفان کیا چیزیں ہیں؟ یہ وہی چیزیں ہیں جو ان آمیزشوں کی نمائندگی کرتی ہیں۔"Reconstruction of Religious thought in Islam" بھی درحقیقت اسی دور کی چیزہے ۔ میں اس پورے دور کو ایک دور سے تعبیر کرتا ہوں۔

ان دونوں آفتوں کی تفصیل سننے کے بعد یہ خیال نہ کیجیے کہ ان کے لاحق ہو جانے کے بعد باقی سب کے سب لوگ سو گئے۔ نہیں ایسا نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا بڑا کرم رہا اس امت پر کہ اس میں وقتاً فوقتاً ایسے لوگ پیدا ہوتے رہے کہ جو دین کو بے آمیز صورت میں پیش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ یعنی انھوں نے بڑی غیر معمولی جدوجہد کی اور اس سارے نقطۂ نظر کو چیلنج کیا، اس کی غلطی واضح کرنے کی کوشش کی، لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ دین ہماری چیز نہیں ہے، یہ کوئی فلسفہ نہیں ہے جسے ہم تراش رہے ہیں، یہ کوئی فکر نہیں ہے جو ہمارے اندر سے پیدا ہو رہا ہے، اس کے مراحل ہمارے ہاں نہیں گزرتے، یہ کوئی ایسی چیز نہیں جس میں فکر و نظر کا ارتقا ہے جس سے چیزیں متعین ہو کر سامنے آتی ہیں۔ یہ درحقیقت پیغمبروں کی دعوت ہے، یہ خدا کی دعوت ہے۔ اس میں اصل چیز یہی ہے کہ اس کو ہر طرح کی آمیزش سے پاک کرکے پیش کیا جائے۔

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی چیز کو واضح کیا تھا، جب یہ کہا تھا کہ یاد رکھو !دین میں کوئی نئی چیز داخل کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ یہ کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ بدعت ہو گی اور ہر بدعت گمراہی ہوتی ہے اور ہر گمراہی کا آخری انجام جہنم ہے۔* یہ آپ کے علم میں ہو گا کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے جو ہمارے خطبات جمعہ کا حصہ بنا دیا گیا ۔ اس جملے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنبیہ کی تھی لوگوں کو اور یہ بتایا تھا کہ ایسا نہ ہونے دینا۔ چنانچہ اس عَلم کو لے کر بہت سے لوگ اترتے رہے اور ہماری امت میں بڑی غیر معمولی شخصیات پیدا ہوئیں جنھوں نے یہ کوشش کی کہ دین کو بے آمیز ، بے کم و کاست، خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔ بہت سی شخصیات پیدا ہوئیں۔ان میں جس طرح امام غزالی کی شخصیت بڑی غیر معمولی ہے ،اسی طرح امام ابن تیمیہ کی شخصیت اس دوسرے مکتبِ فکر میں غیر معمولی ہے۔ ان کا غزالی پربڑا مشہور تبصرہ ہے کہ ''وہ فلسفے کے پیٹ میں داخل ہوئے اورپھر کبھی باہر نہیں نکل سکے''۔ انھوں نے اپنی طرف سے اس کی کوشش کی کہ دین کو اصل قرآن و سنت کی بنیاد پر، خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔ میں نے نمایاں شخصیت کی حیثیت سے ان کا ذکر کیا اور انھی کے شاگرد ابن قیم کو بھی یہی غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے علاوہ بھی بہت سی شخصیات ہیں۔ہمارے زمانے میں بھی یہ جدوجہد اسی طرح جاری رہی اور بہت غیر معمولی شخصیات دونوں نقطہ ہاے نظر کی نمائندگی کرنے والی پیدا ہوتی رہیں۔ اس پچھلے دوسوسال میں جب مسلمان انحطاط میں مبتلا ہوئے ہیں، اس وقت بھی دونوں مکاتب فکر کی غیر معمولی شخصیات آپ کو مل جاتی ہیں۔

میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی اور دین کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو میرا اپنا رجحان پہلے مرحلے میں پہلے مکتب فکر کے ساتھ تھا۔ میرا چونکہ اپنا ذہنی پس منظر فلسفے، تاریخ اور تصوف کا تھا ،اس لیے میں یہ سمجھتا تھا کہ وہی طرز فکر صحیح ہے۔ دین فی الواقع ایمان، فکر اور عرفان کے مراحل سے گزرتا ہے اور اسی موقع پراس کی صحیح تعبیر سامنے آتی ہے۔ لیکن بتدریج یہ حقیقت مجھ پر واضح ہوتی چلی گئی کہ یہ نقطۂ نظر دین کے معاملے میں درست نہیں ہے۔ مجھے اگر کوئی اپنا فلسفہ پیش کرنا ہے، اپنا کوئی فکر پیش کرنا ہے تو وہ مجھے اپنی ہی طرف سے پیش کرنا ہے۔ خدا کی طرف نسبت دے کر وہی بات کہی جا سکتی ہے جو اس کے پیغمبروں کی وساطت سے ہم تک پہنچی ہے ۔ یہ حقیقت ہے جس نے میری زندگی کا رخ تبدیل کیا اور اس کو محکم تر کر دیا۔

میرے جلیل القدر استاذ امام امین احسن اصلاحی کے ساتھ میری ملاقات نے، ان کی ملاقات نے، ان کی فکر نے، ان کی تصنیفات نے، ان کی صحبتوں نے یہ حقیقت واضح کر دی کہ دین کی دعوت اگر برپا کی جائے گی تو یہ ضروری ہے کہ اس کو قرآن مجید کی محکم اساس پر پیش کیا جائے اور بے آمیز صورت میں پیش کیا جائے۔ ان کا تعلق اس جلیل القدر ہستی کے ساتھ تھا جس کو اب ہم امام حمید الدین فراہی کے نام سے جانتے ہیں۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس کام کے نتیجے میں دین کا وہ زاویۂ نظر سامنے آیا ہے جس کے بارے میں میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ دوسرا مکتب فکرہے جس کا میں نے تعارف کرایا۔اس میں سب سے زیادہ اگر کوئی شخصیت کامیاب رہی تو وہ امام حمید الدین فراہی کی شخصیت ہے اور ان کے شاگرد رشید امام امین احسن اصلاحی نے اسی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی جدوجہد کی۔ میری حقیر کاوشیں بھی اسی ضمن میں ہیں۔ اس وقت تک جو کچھ ہو چکا ہے، اس میں پہلی چیز تو یہ تھی کہ قرآن مجید کی ایک پوری تفسیر اس طرز فکر کے تحت لکھی جائے جس میں قرآن حکومت کر رہا ہو، جس میں قرآن کو قطعی الدلالہ مان کر اس کی تفسیر کی جائے ،جس میں قرآن مجید کی متواتر قراء ت کو بنیاد بنا کر اس کا نقطۂ نظر سمجھایا جائے، جس میں قرآن مجید کے محکمات و متشابہات کے بارے میں صحیح نقطۂ نظر کی بنیاد پر ہر چیز کو متعین کرکے پیش کر دیا جائے، جس میں قرآن حدیث پر بھی حکومت کرے، فقہ پر بھی حکومت کرے، فلسفے پر بھی حکومت کرے، تصوف پر بھی حکومت کرے، ہر چیز پر اس کی حکومت قائم ہو۔ چنانچہ ''تدبر قرآن'' اسی طرز فکر کا شاہ کار ہے۔

''تدبر قرآن'' کے معاملے میں دو مسئلے تھے: ایک مسئلہ یہ تھا کہ اس میں نظم کا جو تصور پیش کیا گیا ہے، ترجمہ اس کے لحاظ سے نہیں ہوا اور دوسری چیز یہ تھی کہ اس میں پیش کش کا جو اسلوب اختیار کیا گیا، اس میں قرآن اور قاری کے درمیان مصنف کا اطناب حائل ہوتا ہے۔ بڑی غیر معمولی چیز ہے۔ ایک شاہ کار ہے فکر و تحقیق کا، لیکن یہ دو مسائل ہیں۔ چنانچہ مجھے یہ خیال ہوا کہ ایک خدمت یہ بھی کرنی چاہیے کہ ان دونوں چیزوں کو سامنے رکھ کر قرآن مجید کا ایک ترجمہ کیا جائے اور پھر اس کے نئے حواشی لکھے جائیں۔ ''البیان'' اصل میں اسی پس منظر میں نمایاں ہوتی ہے۔

دوسری چیز یہ سامنے تھی کہ اب جو یہ سب کچھ ہو گیا ہے، اس کی روشنی میں متعین طور پر یہ بتایا جائے کہ دین فی الواقع ہے کیا؟ یعنی ظاہر ہے قرآن مجید پر بہت سا کام ہو گیا۔ قرآن مجید کے بہت سے محکمات واضح ہو گئے۔ ایک نیا طرزفکر وجود میں آگیا۔ بے آمیز دعوت سامنے آگئی۔ قرآن مجید کو جس طرح کہ اس کی حکومت قائم ہونی چاہیے، اس طریقے سے پیش کر دیا گیا، لیکن اب اس کا اطلاق اس پورے کے پورے دین کے مشمولات ، اس کے Content پر بھی ہونا چاہیے۔ چنانچہ میں نے اس کو اپنا کام بنایا اور کم و بیش سترہ سال کی جدوجہد کے بعد آپ کی خدمت میں ''میزان'' پیش کی۔ یہ وہ کتاب ہے کہ اگر آپ غزالی کی ''احیاء علوم الدین''،شاہ ولی اللہ کی تصنیف ''حجۃ اللہ البالغہ'' اور مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی کی ''اسلامی نظام زندگی'' کو سامنے رکھ کر تقابل سے اس کا مطالعہ کریں تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ کس نوعیت کا کام ہے، اس میں کیا حقائق ہیں جو واضح کیے گئے ہیں، اس میں کس طریقے سے بے آمیز دعوت قرآن مجید کی پیش کی گئی ہے، جس طرح کہ وہ دین کو پیش کرتا ہے۔ میں پھر یہ بات عرض کر دوں کہ بہرحال اس طرح کے سب کام انسانی کام ہوتے ہیں۔ یہ سعی ہے، جدو جہد ہے اور جس طرح پہلے لوگوں نے جدوجہد کی ہے، اسی طرح ہمارے بعد آنے والے ہماری غلطیوں کی بھی اصلاح کریں گے، تاہم اپنی طرف سے میں نے اپنے حقیر علم کی حد تک اپنی استطاعت کی حد تک یہ کوشش کی کہ خدا کے دین کو بے کم وکاست خالص قرآن وسنت کی بنیاد پر جس طرح کہ وہ ہے، پیش کر دیا ہے۔ آپ اس کے خاتمے کو پڑھیں تو میں نے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے۔

اس کے بعد ایک بڑا کام یہ ہے کہ ہمارے پاس حدیث اور آثار کا ذخیرہ ہے۔ بہت بڑا ذخیرہ ہے، یعنی ہزاروں کی تعداد میں روایات ہیں جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان ہوئی ہیں، اور ہزاروں ہی کی تعداد میں روایات وآثار ہیں جو صحابۂ کرام کی نسبت سے بیان ہوئے ہیں۔ ان کے بارے میں ہم میں سے ہر شخص جانتا ہے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو گئی کہ جس پر بہت کچھ آمیزش کر دی گئی۔ چیزیں اپنے سیاق و سباق سے الگ کر دی گئیں۔ ان کا مدعا بہت سی صورتوں میں غارت ہو گیا۔ چنانچہ محدثین کا ایک جلیل القدر گروہ پیدا ہوا جس نے اصول قائم کیے، تحقیق کی اور وہ کتابیں متعین کیں جن کو ہم صحاح ستہ کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ ایک بڑا روشن کام ہے، غیرمعمولی کام ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں اس طرح کی روایات کے اندر سے انھوں نے انتخاب کیا ہے۔ یہ مسلمانوں کی تاریخ کا ایسا کام ہے جس پر جتنا خدا کا شکر ادا کریں کم ہے، جتنا فخر کریں کم ہے۔ دنیا کی کسی قوم نے اپنے پیغمبر کی نسبت سے جو علم وعمل کا تاریخی ریکارڈ منتقل ہوتا ہے، اس پر وہ محنت نہیں کی جو ان لوگوں نے کی ہے۔ لیکن یہ بہرحال ایک انسانی کام ہے اور اب مدرسۂ فراہی کے تحت قرآن مجید کو جس طرح پیش کر دیا گیا ہے ،دین کو جس طرح پیش کر دیا گیا ہے، اس میں بڑا کام یہ ہے کہ حدیث اور آثار کے اس بڑے ذخیرے کو اسی طریقے سے نقد ونظر کے اندر سے گزار اجائے۔ اس کا بھی جائزہ لیا جائے ،اس کی بھی تنقیح کی جائے، اور پھر جس طرح کہ اس سے پہلے ''الجامع الصحیح'' مرتب کی گئی، امام بخاری نے مرتب کی، امام مسلم نے مرتب کی، اسی طرح کی ایک الجامع الصحیح اب پھر مرتب کی جائے اور اس میں جو روایت کی تحقیق میں سند کے لحاظ سے کوئی خامی رہ گئی، اس کو بھی دور کیا جائے۔ ہماری امت میں یہ کام پہلے بھی ہوتا رہا ہے، ایک مرتبہ پھر اس روایت کو زندہ کیا جائے اور سب سے بڑھ کر درایت، یعنی یہ بات کہ روایت کوعلم و عقل کے مسلمات اور قرآن وسنت کی روشنی میں دیکھا جائے اور سب سے بڑھ کر خود اللہ کی کتاب کی روشنی میں دیکھا جائے، اس کا جائزہ لیا جائے اور دیکھا جائے۔ میرے پاس وقت ہوتا تو میں آپ کو اس کی کچھ مثالیں دے کر بتاتا کہ کیسی کیسی چیزیں ہیں جو ہمارے ہاں شہرت پا چکی ہیں۔ وہ نقد ونظر کے معیار پر پوری نہیں اترتیں۔ یہ کام کیا جائے۔ چنانچہ میری زندگی کا اب اگر کوئی مقصد رہ گیا ہے تو وہ یہی ہے کہ اللہ اگر مجھے مہلت دیتا ہے تو اپنے فکر ونظر اور اپنے وقت کی اولین ترجیح کی حیثیت سے'' البیان'' کے بعد میں یہ کام سرانجام دوں۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ مسلمانوں کے مذہبی فکر کی تشکیل جدید کے لیے یہ تین کام ناگزیر ہیں۔ یعنی دین کو بے کم وکاست ایک کتاب کی صورت میں پیش کردیا جائے۔ یہ میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے حقیر علم کی حد تک'' میزان'' کی صورت میں اور اس کا خلاصہ''الاسلام'' کی صورت میں پیش کردیا ہے۔ قرآن مجید میں'' تدبر قرآن'' موجود ہے اس مدرسۂ فکر کے تحت، اور'' البیان'' بھی اللہ کی عنایت سے پایۂ تکمیل کو پہنچ رہی ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ اگر اللہ کی توفیق شامل حال رہی تو شاید ایک دو سال میں میں اس سے فارغ ہو جاؤں گا۔ اس کے بعد اگر اللہ مہلت دیتا ہے، اور اللہ ہی ہے جو سب فیصلے کرتاہے اور اسی کے فیصلے حکمت پر مبنی ہوتے ہیں، تو میںیہ سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑا کرنے کا کام حدیث ہی ہے۔ اور میں آپ سے بھی یہ درخواست کروں گا کہ میں نے اس ترجیح کو اپنی زندگی کی ترجیح بنایا ہوا ہے۔ اور آپ اندازہ نہیں کر سکتے کہ اس کام کو اگر ہم نہیں کریں گے اور اس کو اپنی پہلی ترجیح نہیں بنائیں گے تو اس سے دین کے صحیح فکر کو کتنا نقصان پہنچ سکتا ہے، کیونکہ مسلمان امت میں سب سے زیادہ اثر اسی چیز کا ہے۔ تو احادیث و آثار پر اس کام کی ضرورت ہے۔

یہ میں نے آپ کے سامنے اس پوری دعوت کا پس منظر رکھ دیا ہے۔ اس پس منظر کو سامنے رکھیں اور پھر یہ دیکھیں کہ ہم آپ سے کیا تقاضا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں دو چیزوں کو اپنے سامنے رکھا: دیانت داری کے ساتھ دین کو سمجھا جائے، اس کے صحیح حقائق جیسے وہ واضح ہو جائیں، ان کی گواہی دی جائے۔ اس میں اگر کل ایک بات معلوم تھی اور ہم اس کو بیان کر رہے تھے تو ادنیٰ حجاب کے بغیر اعتراف کر لیا جائے کہ ہماری غلطی تھی اور اس طرح دین میں علم کی روایت کو زندہ کریں۔ اور دوسری چیز یہ کہ جو کچھ بھی اللہ کی طرف سے ہم پر واضح ہو جائے، ہم اس کو لوگوں تک پہنچائیں۔ میں نے رسالے نکالے تو اسی چیز کو سامنے رکھا، ادارے بنائے تو اسی چیز کو سامنے رکھا، کتابیں لکھیں تو اسی چیز کو سامنے رکھا۔ آج بھی یہ کام کر رہا ہوں تو اسی چیز کو سامنے رکھ رہا ہوں۔ یہ اصل میں وہ کام ہے کہ جس میں آپ بھی اس کی نصرت کے لیے آگے بڑھیں۔ میں نے اس کے علاوہ کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا اپنے ساتھیوں سے، اپنے احباب سے، اپنے رفقا سے اور اپنے سننے والوں سے کہ وہ خود دین کو سمجھیں جس طرح کہ سمجھنے کا حق ہے۔ جو خدمت ہم ان کی کر سکتے ہیں، ہم وہ کریں اور اس کو سمجھیں اور اس کے بعد دوسروں تک اس کو پہنچانے کی سعی کریں۔ یہ سعی کس کس صورت میں کرنی ہے؟ اس کا یہ موقع نہیں ہے ،دوسرے لوگ بتائیں گے۔ یہ ادارہ بھی اسی مقصد سے بنایا گیا تھا۔ اس وقت بھی یہ دعوت اگر برپا ہے تو اسی مقصد سے برپا ہے۔ میں نے ہمیشہ ان دونوں چیزوں کو سامنے رکھ کر زندگی بسر کی ہے۔ پہلی ترجیح یہ کہ جو اصل Content ہے، اس کو واضح کیا جائے۔ میری آج بھی یہی ترجیح ہے اور میں اسی کو پہلی ترجیح کے طور پر قائم رکھ کر ہمیشہ کام کرتا رہا ہوں اور اب بھی ان شاء اللہ کروں گا۔ دوسری یہ کہ جتنا کچھ تھوڑا وقت اس کے بعد بچے، وہ اس دعوت کو پہنچانے میں صرف کیا جائے۔ میں اللہ کا شکر کرتا ہوں کہ اس میں مجھے بہترین ساتھی ملے، بہترین رفیق ملے۔ اس وقت بھی جو نئے نوجوان سامنے آرہے ہیں، ان کے لیے بھی میں یہی دعا کرتا ہوں، ان سے بھی یہی توقع رکھتا ہوں۔ وہ بھی اسی طریقے سے دین کو سمجھیں گے کہ جس طرح سمجھنے کا حق ہے۔ دین کی دعوت سے زیادہ اجنبی کوئی چیز نہیں ہے اور جب اس کو بے آمیز صورت میں پیش کیا جاتا ہے تو لوگ ہار لے کر آپ کے گلے میں ڈالنے کے لیے نہیں بڑھتے۔ اس میں پھر آپ کو پتھروں کا اور سنگ باری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس میں ہر قدم پر مشکلات ہوتی ہیں۔ اس میں وہی کچھ پیش آتا ہے جو انبیا ے کرام کے ساتھ پیش آیا۔

یہ کوئی سیاسی چیز نہیں ہے، یہ کوئی اس نوعیت کی بھی چیز نہیں ہے جس میں عام طور پر تحریکیں اور دعوتیں برپا ہوتی ہیں۔ یہ درحقیقت ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ دین کو سمجھنے کا عمل ہے اور پھر اسی ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ، اسی محبت کے ساتھ، اسی اخلاص کے ساتھ، اسی خیرخواہی کے ساتھ دوسروں تک پہنچانے کا عمل ہے۔ اس کے لیے آپ کو اپنے اندر کیا تبدیلیاں کرنی ہیں، وہ میں نے''ہماری دعوت'' کے زیر عنوان بیان کر دی ہیں اور ہم آپ سے کیا توقع کرتے ہیں، وہ بھی اس میں بیان کر دیا ہے۔ اس کو پڑھیے اور پھر یہ دیکھیے کہ کیا آپ کے پاس وقت ہے جو اس کے لیے دے سکیں؟ کیا آپ کے پاس وسائل ہیں جو اس کے لیے دے سکیں؟ کیا آپ اس کی تائید ہی کے لیے تھوڑی بہت زبان سے بات کر سکتے ہیں؟ اپنے عمل سے لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں؟ یہ وہ کام ہے جو ہمیشہ ہوتے رہنا چاہیے، آج بھی ہونا چاہیے ،کل بھی ہونا چاہیے۔

میں جو خدمت اس سلسلے میں انجام دے سکتا ہوں، وہ یہ ہے کہ جہاں کوئی اشکال پیش آجائے تو اسے واضح کردوں۔ آپ کی طرف سے سوال آجائے تو اس کا جواب دے دوں۔ اگر کسی حقیقت کے بارے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہو، وہ کر دوں۔لیکن میرا اصلی کام وہی ہے کہ میں قرآن مجید کے بعد اور اسلام کی شرح ووضاحت کے بعد حدیث کے ذخیرے پر نگاہ ڈالوں اور یہ کوشش کروں کہ آپ کو ایک ایسی کتاب بھی دے سکوں جس کو آپ اس اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں کہ یہ درحقیقت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے علم وعمل کا وہ حصہ ہے جو بڑی حد تک آمیزشوں سے پاک رہا۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی اس کام کو اسی یک سوئی کے ساتھ کرنے کی توفیق دے اور آپ کو بھی اس کو سمجھنے، دوسروں تک پہنچانے کی توفیق دے۔ یہ وہ چیز ہے کہ جس کے لیے شب وروز بسر ہونے چاہییں، جس کے لیے زندگی کی بہترین قوتیں صرف ہونی چاہییں، جس کے لیے نوجوانوں پر اگر ان کے پاس کوئی وقت بچے تو سب سے پہلے نکالنا چاہیے، جس کو اپنی زندگی کے معمولات انجام دینے کے بعد لوگوں کی ترجیح بننا چاہیے۔

یہ دین ہمارا دین ہے۔ یہ خدا کی دعوت ہے۔ یہ خدا کے پیغمبروں کی دعوت ہے، اس وقت یہ اجنبی ہو رہا ہے۔ اس اجنبیت کو ہم نے دور کرنا ہے اور اگر صحیح بات ہم پر واضح ہے تو پھر اس کو شایستگی کے ساتھ، تہذیب کے ساتھ، حوصلے کے ساتھ، ہمت کے ساتھ، عزم کے ساتھ، خیرخواہی کے جذبے کے ساتھ، محبت کے ساتھ دوسروں تک پہنچانا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں یہ دونوں کام کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ میں نے عرض کر دیا ہے کہ میری ترجیح کیا رہی ہے اور وہ ترجیح آج بھی اسی طریقے سے قائم ہے اور جو خدمت میں انجام دے سکتا ہوں، اس کے حدود بھی واضح کر دیے ہیں۔ آپ سے میری یہی توقع ہے اور میں یہ سمجھتا ہوں آپ میں سے ہر شخص کو سب سے پہلے اس کو سیکھنے اور اس کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے۔ وقت دیجیے تاکہ آپ خود اس کو سیکھیں۔ آپ کے اندر وہ اعتماد پیدا ہو جو اس کو سیکھنے کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ آپ سمجھیں کہ کیا چیز ہے جو ہم لوگوں کے سامنے لے کر جا رہے ہیں اور پندرہ صدیوں کی تاریخ کے پس منظر میں لے کر جارہے ہیں اور پھر اس کے کیا اثرات ہیں جو آنے والے دور پر ہونے والے ہیں۔ اس میں اپنا کردار انجام دیں اور پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ انجام دیں۔

وہی چراغ کہ جلتی ہے آرزو جس میں

اندھیری شب ہے تو لایا ہوں کارواں کے لیے

وَاَقُوْلُ قَوْلِیْ ہٰذَا وَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ لِیْ وَلَکُمْ اَجْمَعِیْنَ!

ٹرانسکرائب: راجہ قمر

تدوین: سید منظور الحسن