حرابہ‘ اور ’فساد فی الارض‘


[یہ مصنف کی زیر طبع کتاب ''حدود و تعزیرات چند اہم مباحث'' کا ایک جز ہے۔ قارئین ''اشراق'' کے افادے کے لیے اس کتاب کے جملہ مباحث بالا قساط شائع کیے جا رہے ہیں .]

شرعی سزاؤں سے متعلق نصوص میں سورۂ مائدہ (۵)کی آیات ۳۲۔ ۳۴، جن میں انسانی جان کی حرمت اور محاربہ کی سزائیں بیان ہوئی ہیں، بے حد اہمیت کی حامل ہیں۔ ارشاد ہوا ہے:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا. وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنٰتِ ثُمَّ اِنَّ کَثِیْرًا مِّنْہُمْ بَعْدَ ذٰلِکَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ. اِنَّمَا جَزآؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْٓا اَوْ یُصَلَّبُوْٓا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِّنْ خِلاَفٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ ذٰلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ. اِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْْہِمْ فَاعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.

''اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جس نے کسی ایک انسان کو کسی دوسرے انسان کی جان لینے یا زمین میں فساد برپا کرنے کے علاوہ قتل کیا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی ایک انسان کو زندہ رکھا تو اس نے گویا تمام انسانوں کو زندہ رکھا۔ اور یقیناًان کے پاس ہمارے رسول واضح دلائل لے کر آئے، لیکن اس کے بعد بھی ان میں سے بہت سے لوگ زمین میں حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے اور زمین میں فساد پھیلانے کے لیے سرگرم رہتے ہیں، ان کی سزا یہی ہے کہ انھیں عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیا جائے، یا انھیں سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹ دیے جائیں یا انھیں جلاوطن کر دیا جائے۔ یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، جبکہ آخرت میں بھی ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے، البتہ جو مجرم تمھارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ کرلیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔''

ان میں سے پہلی آیت میں 'فساد فی الارض' کی تعبیر استعمال ہوئی ہے جو قرآن مجید کی خاص اصطلاح ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اس زمین پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا رویہ ترک کر کے سرکشی پر اتر آئے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ حدود کی پاس داری کے بجاے انھیں پامال کرنا شروع کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے جن وانس کی تخلیق کی غایت یہ بیان کی ہے کہ وہ خداے واحد کی عبادت اور اطاعت کریں۔ ۱؂ یہ ذمہ داری ظاہر ہے اسی صورت میں پوری ہو سکتی ہے جب انسان خدا کی وحدانیت اور حاکمیت کے پورے اعتراف کے ساتھ اس کی بندگی بجا لائے اور اس کے مقرر کردہ حدود وقیود کے اندر زندگی بسر کرے۔ زمین کو انسان کا مستقر بنانے اور اس میں اس کو اختیار و اقتدار بخشنے کا مقصد بھی اسی پہلو سے انسان کی آزمایش ہے کہ وہ اس اختیار کو خدا کی مرضی کی موافقت میں استعمال کرتے ہوئے زمین کو صلاح کا گہوارہ بناتا ہے یا رضاے الٰہی سے انحراف کرتے ہوئے اس میں 'فساد' کی آگ بھڑکاتا ہے۔ چنانچہ انسان کی تخلیق اور اس کی آزمایش کی اسکیم سے جب فرشتوں کو مطلع کیا گیا تو انھوں نے انسان کے متوقع رویے اور طرز عمل کو 'فساد فی الارض' ہی سے تعبیر کرتے ہوئے اس پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ۲؂ اور قرآن مجید نے دنیا میں انسان کو درپیش امتحان میں کامیابی اور اس کے بدلے میں آخرت کی نعمتوں کے استحقاق کا معیار بھی اسی 'فساد فی الارض' سے بچنے کو قرار دیا ہے:

تِلْکَ الدَّارُ الْاٰخِرَۃُ نَجْعَلُہَا لِلَّذِیْنَ لَا یُرِیْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا وَالْعَاقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ .(القصص ۲۸:۸۳)

''یہ آخرت کا گھر، اس کا حق دار ہم خاص انھی لوگوں کو بنائیں گے جو نہ زمین میں سرکش ہو کر رہنا چاہتے ہیں اور نہ فساد برپا کرنااور کامیابی تو انجام کار پرہیزگاروں ہی کے لیے ہے۔''

دنیا میں جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا، ان سب کی جامع فرد قرارداد جرم بیان کرنے کے لیے بھی یہی تعبیر استعمال ہوئی ہے:

فَلَوْلاَ کَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِکُمْ اُوْلُوْا بَقِیَّۃٍ یَّنْہَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلاَّ قَلِیْلاً مِّمَّنْ اَنْجَیْْنَا مِنْہُمْ وَاتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَآ اُتْرِفُوْا فِیْہِ وَکَانُوْا مُجْرِمِیْنَ.(ہود۱۱: ۱۱۶)

''تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے جو قومیں تھیں، ان میں ایسے عقل مند ہوتے جو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ بہت کم تھے اور یہ وہ تھے جنھیں ہم نے ان میں سے (عذاب سے) محفوظ رکھا، جبکہ ظالم اس سامان عیش وعشرت کے پیچھے لگے رہے جو انھیں دیا گیا تھا اور وہ مجرم تھے۔''

قرآن مجید میں مختلف مقامات پر 'فساد فی الارض' کا اطلاق اعتقادی کج روی، اللہ کی اطاعت اور فرماں برداری سے بے نیاز ہو کر زندگی بسر کرنے، اخلاقی وشرعی حدود کو پامال کرنے، اللہ کے عائد کردہ معاشرتی حقوق کو نظر انداز کرنے، کسی معاملے میں اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے روبہ عمل ہونے کی راہ میں رکاوٹ بننے یا اس کی مرضی اور منشا کے علی الرغم روش اختیار کرنے، لوگوں کو اللہ کے دین سے روکنے، دوسرے انسانوں کے جان ومال کے درپے ہو جانے، ان کی عزت وآبرو اور آزادئ دین ومذہب پر تعدی کرنے، مال ودولت اور ملک گیری کی ہوس میں دوسری قوموں پر حملے کرنے اور اپنی سرکشی اور عدوان سے انسانی معاشرے کے امن وامان کو تباہ کرنے کی کوششوں پر ہوا ہے۔۳؂ اس اعتبار سے دیکھیے تو عقیدہ وعمل اور اخلاق وکردار کا ہر انحراف درحقیقت 'فساد فی الارض' ہے اور قرآن نے متعدد مقامات پر اس تعبیر کو ایمان اور عمل صالح یا محض 'اصلاح' کے تقابل میں استعمال کر کے اس کے جامع مفہوم کو پوری طرح واضح کر دیا ہے۔ ۴؂ مثلاً سورۂ ص میں ارشاد ہوا ہے:

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ کَالْفُجَّارِ.(۳۸: ۲۸)

''کیا ہم ایمان لانے اور نیک اعمال کرنے والوں کا انجام ان کی طرح کر دیں گے جو زمین میں فساد مچاتے رہے؟ یا کیا ہم پرہیز گاروں اور بدکاروں کے ساتھ یکساں معاملہ کریں گے؟''

فساد فی الارض' کا یہ مفہوم پیش نظر رہے تو بآسانی واضح ہوگا کہ 'مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ'کی زیر بحث آیت میں عطف العام علی الخاص کا اسلوب پایا جاتا ہے۔ قتل دراصل 'فساد فی الارض' ہی کی ایک صورت ہے جسے نمایاں کرنے کی غرض سے الگ ذکر کر کے اس پر اس عمومی اصول، یعنی 'فساد فی الارض' کو عطف کر دیا گیا ہے جس کے تحت قتل سمیت باقی تمام صورتیں بھی مندرج ہو جاتی ہیں۔ منشاے کلام یہ ہے کہ کسی انسان کی جان کسی حق ہی کے تحت لی جا سکتی ہے اور ناحق کسی کی جان لینا ایسا ہی ہے جیسے ساری انسانیت کو قتل کر دینا۔ قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر یہی بات 'لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ' ۵؂ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔ گویا زیر بحث آیت 'اِلَّا بِالْحَقِّ' کی تفسیر کرتی اور یہ بتاتی ہے کہ 'فساد فی الارض' وہ بنیاد ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کی جان لینے کی اجازت دی ہے اور جو کسی انسان کے قتل کو قتل بالحق بناتی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر خدا کی اطاعت سے کسی بھی نوعیت کا انحراف فی نفسہٖ 'فساد فی الارض' کے تحت آتا ہے، جبکہ آیت میں 'فساد فی الارض' کو کسی انسان کی جان لینے کی وجہ جواز قرار دیا گیا ہے تو کیا اس کی کسی بھی صورت کے ارتکاب پر انسان قتل کا مستحق قرار پائے گا؟ ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہے، اس لیے کہ آیت کا اصل مدعا یہ بیان کرنا نہیں کہ 'فساد فی الارض' انسان کو لازماً قتل کا مستوجب بنا دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اس کے بغیر انسان کی جان لینے کا کوئی جواز نہیں۔ رہی یہ بات کہ 'فساد فی الارض' کی کس صورت میں موت کی سزا دی جا سکتی ہے اور کس صورت میں نہیں تو آیت اس سے تعرض نہیں کرتی اور اس کے لیے دیگر نصوص کی طرف رجوع کرنا لازم ہے۔ اس ضمن میں شریعت موسوی کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ شریعت موسوی کے عمومی مزاج کے لحاظ سے بنی اسرائیل کے لیے قتل کی سزا تجویز کرنے میں بھی زیادہ سختی برتی گئی تھی۔ تورات میں اس کی تفصیلات دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن جرائم کو موت کی سزا کا مستوجب قرار دیا گیا ہے، ان کو تین دائروں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

۱۔ کسی انسان کی جان، مال، عزت وآبرو یا اس کے کسی مذہبی یا معاشرتی حق پر تعدی۔ اس نوعیت کے جرائم حسب ذیل ہیں:

oکسی انسان کو ناحق قتل کرنا۔ ۶؂

o کسی آزاد کو غلام بنا کر بیچنا۔ ۷؂

o شادی شدہ عورت یا کسی کی منگیتر کے ساتھ زنا۔ ۸؂

۲۔ ان اخلاقی و مذہبی آداب، معاشرتی ضوابط اور قانونی حدود وقیود کی خلاف ورزی جن کی پابندی پر معاشرتی نظم اور اس کے مادی واخلاقی وجود وبقا کا انحصار تھا ۔ اس دائرے میں درج ذیل جرائم آتے ہیں:

o قاضی کے سامنے گستاخی کرنا یا اس کا فیصلہ نہ ماننا۔ ۹؂

o باپ کے سامنے سرکشی اور اس کی نافرمانی۔ ۱۰؂

o باپ یا ماں پر لعنت کرنا۔ ۱۱؂

o کہانت کی خدمت میں بنی لاوی کے ساتھ شریک ہونے کی کوشش کرنا۔ ۱۲؂

o لواطت۔ ۱۳؂

o جانور کے ساتھ جماع۔ ۱۴؂

o اپنی بہن یا بھائی کے بدن کو بے پردہ دیکھنا۔ ۱۵؂

۳۔ ان احکام اور حقوق وآداب کی پامالی جنھیں حقوق اللہ یا حقوق الشرع کا عنوان دینا زیادہ مناسب ہوگا۔

یہ جرائم حسب ذیل ہیں:

o خدا کے علاوہ کسی اور معبود یا سورج یا چاند یا اجرام فلکی کی عبادت ۔ ۱۶؂

o اولاد کو مولک کی نذر کرنا۔ ۱۷؂

o خدا کے نام کی بے حرمتی کرنا۔ ۱۸؂

o نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنا۔ ۱۹؂

o سبت کے دن کی پابندی کو توڑنا۔ ۲۰؂

o سفلی عمل یا جادو کرنا۔ ۲۱؂

یہ سزائیں بنی اسرائیل کے لیے مقرر کی گئی تھیں، اس لیے کہ خدا کی شریعت کا حامل ہونے اور خدا کے ساتھ اس کی پابندی اور اقوام عالم کے سامنے اس کی شہادت کا عہد ومیثاق باندھنے کے بعد مذکورہ اعمال کا ارتکاب صریحاً 'فساد فی الارض' کے زمرے میں آتا ہے۔

جہاں تک اسلامی شریعت کا تعلق ہے تو اس میں متعین طور پر قتل کی سزا بہت کم جرائم میں تجویز کی گئی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صورتوں کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا ہے:

لا یحل دم امرئ مسلم الا باحدی ثلاث زنا بعد احصان او ارتداد بعد اسلام او قتل نفس بغیر حق.(ترمذی، رقم ۲۰۸۴)

''کسی مسلمان کی جان لینا ان تین صورتوں کے سوا جائز نہیں: کوئی شخص محصن ہونے کے بعد زنا کا مرتکب ہو یا اسلام قبول کرنے کے بعد مرتد ہو جائے یا کسی انسان کو ناحق قتل کر دے۔''

ا ن کے علاوہ قرآن وسنت کے نصوص میں جن جرائم پر سزاے موت کا ذکر ملتا ہے، ان سب میں یہ سزا تعزیری اور صواب دیدی سزا کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان جرائم میں محاربہ، ۲۲؂ مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے بغاوت، ۲۳؂ سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح، ۲۴؂ کسی محرم خاتون کے ساتھ بدکاری، ۲۵؂ زنا بالجبر، ۲۶؂ لواطت، ۲۷؂ شراب نوشی کا عادی مجرم ہونا ۲۸؂ اور شراب نوشی ترک کرنے سے انکار کرنا ۲۹؂ شامل ہیں۔ اسی طرح جب بعض افراد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی اور زبان درازی کی پاداش میں قتل کر دیا گیا تو آپ نے ان کے خون کو رائگاں قرار دے دیا۔ ۳۰؂

یہ تمام صورتیں 'فساد فی الارض' میں داخل ہیں۔ ان میں سے زنا، ارتداد اور توہین رسالت پر موت کی سزا سے متعلق ہم نے مستقل عنوانات کے تحت بحث کی ہے، جبکہ محاربہ کے مفہوم و مصداق کے حوالے سے آیندہ سطور میں بعض نکات کی وضاحت کریں گے۔ ان کے علاوہ باقی جرائم میں موت کی سزا ہماری راے میں تعزیری سزا کی حیثیت رکھتی ہے اور ان صورتوں سے موت کی سزا کے حوالے سے عمومی ضابطے بھی اخذ کیے جا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح یا شراب نوشی ترک کرنے سے انکار پر سزاے موت دینا یہ بتاتا ہے کہ کسی مسلمان کا اسلامی شریعت کے واضح اور قطعی احکام کی اس طرح علانیہ خلاف ورزی کرنا کہ اس سے سرکشی اور بغاوت کے علاوہ ان احکام کے استخفاف کا پہلو بھی ظاہر ہوتا ہو، سزاے موت کا مستوجب ہو سکتا ہے۔ محرم خاتون کے ساتھ بدکاری اور لواطت جنسی انحراف کی معمول سے زیادہ بگڑی ہوئی اور سنگین صورتیں ہیں اور ان پر سزاے موت دینے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی مستوجب حد جرم اپنی شناعت میں زیادہ بڑھ جائے اور مجرم کو معمول کی سزا دینے سے انصاف کے تقاضے پورے ہوتے نظر نہ آئیں تو موت تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔

شراب نوشی کے عادی مجرم کے لیے سزاے موت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر کسی جرم کا انسداد ہلکی اور کم تر سزاؤں سے ممکن نہ ہو اور مجرم اپنے رویے کی اصلاح پر آمادہ نہ ہو تو جرم کی نوعیت کے لحاظ سے عدالت اس کے لیے موت کی سزا بھی تجویز کر سکتی ہے۔

ان تعزیری سزاؤں کی مذکورہ تعبیر کے ساتھ ساتھ محاربہ کا وہ مفہوم بھی پیش نظررہے جس پر ہم نے آیندہ سطور میں گفتگو کی ہے تو یہ واضح ہوگا کہ قرآن وسنت کے نصوص میں اصولی طور پر جرائم کی ان تمام صورتوں کا احاطہ کر لیا گیا ہے جنھیں 'فساد فی الارض' کے اصول پر موت کی سزا کا مستوجب قرار دیا جا سکتا ہے۔ ۳۱؂

اب آیت محاربہ کو دیکھیے:

یہاں 'یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ' اور 'یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا'کی دو الگ الگ تعبیریں استعمال ہوئی ہیں۔ قرآن مجید میں ان دونوں تعبیروں کے مواقع استعمال کا استقصا کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان سے مراد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالف اور معاند گروہوں کی وہ سرگرمیاں ہیں جن کا مقصد مدینہ منورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتدار کو چیلنج کرنا اور سازش، بغاوت یا اس طرح کے دوسرے طریقوں سے کام لیتے ہوئے اسے کمزور کرنے کی کوشش کرنا تھا۔ چنانچہ مثال کے طور پر منافقین مدینہ کی اندرونی سازشوں کے لیے سورۂ توبہ(۹) کی آیت ۱۰۷ میں 'حَارَبَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ' کے الفاظ آئے ہیں۔ قرآن مجید کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے لائے ہوئے دین کا غلبہ جزیرۂ عرب پر قائم ہونا آپ کی بعثت کا ہدف اور مقصود تھا اور جن گروہوں نے بھی اس کے علی الرغم کھڑا ہونے اور اس کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، انھوں نے گویا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف برسر جنگ ہونے کا اعلان کر دیا۔ یہ بنیادی طور پر مشرکین عرب، یہود اور منافقین کے گروہ تھے اور قرآن میں ان گروہوں کی سرگرمیوں کے لیے 'یُشَاقِقِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ' ۳۲؂ اور 'یُحَادِدِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ' ۳۳؂ کی تعبیریں بھی استعمال ہوئی ہیں جو محاربہ کے مفہوم کو مزید واضح کرتی ہیں۔ اسی طرح 'سَعٰی فِی الْاَرْضِ فَسَادًا' کی تعبیر قرآن مجید میں یہود اور منافقین کی ایسی مفسدانہ، شرانگیز اور باغیانہ (subversive) سرگرمیوں کے لیے استعمال ہوئی ہے جن کا مقصد انارکی پھیلانا اور مدینہ کی اسلامی ریاست کو سیاسی، اخلاقی اور معاشرتی سطح پر کمزور کرنا تھا۔ ۳۴؂ مائدہ کی زیر بحث آیت میں ان گروہوں کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے ایک باقاعدہ قانونی سزا بیان کی گئی ہے۔

اس تناظرمیں دیکھا جائے تو یہ آیت اصلاً مسلمانوں سے متعلق شریعت کے ضابطۂ حدود و تعزیرات کی ایک شق کے طور پر نہیں، بلکہ ریاست کے داخلی وخارجی دشمنوں سے نمٹنے کے ایک عمومی قانون کے طور پر نازل ہوئی تھی۔

فقہا اور مفسرین بالعموم آیت محاربہ کو جتھے بندی کے ساتھ قتل اور سلب ونہب کی بعض متعین صورتوں کے ساتھ مخصوص کر دیتے ہیں اور ان کی غالب اکثریت کے نزدیک جرم کی متعین صورتوں میں متعین سزا ہی دی جا سکتی ہے، چنانچہ محاربین نے اگر قتل اور نہب، دونوں کا ارتکاب کیا ہو تو انھیں قتل یا صلب کی سزا دی جائے گی،

اگر صرف مال لوٹا ہو تو ان کے ہاتھ پاؤں الٹے کاٹے جائیں گے اور اگر صرف خوف وہراس پیدا کیا ہو تو انھیں 'نفی من الارض' کی سزا دی جائے گی، تاہم آیت کے الفاظ اور اسلوب اس تحدید کو قبول نہیں کرتے۔ آیت میں جرم کی کسی مخصوص صورت کا ذکر کرنے کے بجاے 'یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ'اور 'یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا' کی عمومی اور وسیع تر مفہوم کی حامل تعبیرات استعمال ہوئی ہیں جو ہر اس صورت کو شامل ہیں جس میں ریاست کے اقتدار اعلیٰ کو چیلنج کرنے، معاشرے کے امن وامان کو تباہ کرنے یا اس کی دینی واخلاقی بنیادوں کو منہدم کرنے کی کوشش کی جائے۔

آیت محاربہ کے شان نزول کے طور پر کتب حدیث میں عکل اور عرینہ کے افرادکا جو واقعہ نقل کیا گیا ہے، وہ بھی کوئی ڈکیتی کا واقعہ نہیں ہے۔ ان لوگوں نے راہ چلتے مسافروں کا مال نہیں لوٹا تھا، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان قبول کیا تھا اور اس کے بعد نہ صرف مرتد ہو گئے، بلکہ انھوں نے بیت المال کے اونٹوں کے رکھوالے کو اذیت ناک طریقے سے قتل کر کے اونٹوں کے ساتھ فرار ہونے کی کوشش کی۔ ۳۵؂ بالبداہت واضح ہے کہ یہ ریاست مدینہ کے ساتھ بد عہدی، خیانت، لوٹ مار اور بغاوت کا مقدمہ تھا، اسے 'ڈکیتی' کا واقعہ سمجھنا اور پھر آیت محاربہ کے دائرۂ اطلاق کو ڈکیتی تک محدود کر دینا، ایک نہایت ناقابل فہم بات ہے۔

امت کے جلیل القدر اہل علم کی آرا سے آیت محاربہ کے مفہوم ومصداق اور دائرۂ اطلاق کی وسعت ہی واضح ہوتی ہے۔ چنانچہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آیت محاربہ اصلاً کفار کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اس لیے اس میں مجرم پر قدرت پانے سے پہلے اس کے توبہ کر لینے کی صورت میں معافی کی جو بات کہی گئی ہے، اس کا اطلاق مسلمان محارب پر نہیں ہوتا:

فمن قتل وافسد فی الارض وحارب اللّٰہ ورسولہ ثم لحق بالکفار قبل ان یقدر علیہ لم یمنعہ ذلک ان یقام فیہ الحد الذی اصاب. (نسائی، رقم ۳۹۷۸)

''جو مسلمان قتل کرے، زمین میں فساد مچائے اور اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرے، پھر اپنے اوپر قدرت پائے جانے سے پہلے کفار کے ساتھ جا ملے، (توبہ کرنے کی صورت میں) اس پر اس کے جرائم کی سزا نافذ کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں۔''

ابن عباس کی اس راے سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ وہ اس آیت کو صرف ڈکیتی تک

محدود

نہیں سمجھتے، بلکہ ان کے نزدیک اس کا دائرۂ اطلاق اس سے زیادہ وسیع ہے۔

جلیل القدر تابعی مفسر مجاہد سے یہ راے منقول ہے کہ آیت حرابہ میں مذکور' فساد فی الارض' کے دائرے میں چوری، زنا،قتل اور حرث ونسل کی بربادی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ ۳۶؂ عام طور پر اہل علم نے اس راے پر اچنبھے کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ جب چوری، زنا اور قتل کی سزائیں مستقل نصوص میں بیان ہوئی ہیں تو آیت محاربہ کو ان جرائم سے متعلق قرار دینے کا کیا مطلب؟ تاہم علامہ رشید رضا نے بجا طور پر اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ جان ومال اور آبرو کے خلاف عام نوعیت کے جرائم اگر جتھا بندی کی صورت میں کیے جائیں جس سے' فساد فی الارض' کی کیفیت پیدا ہو جائے تو وہ 'حرابہ' کے تحت آ جاتے ہیں۔ ۳۷؂

فقہاے مالکیہ کے ہاں بھی 'حرابہ' کے مفہوم میں نسبتاً توسع دکھائی دیتا ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر وہ کسی شخص کو دھوکے سے یا ویران جگہ پر لے جا کر قتل کرنے کو بھی حرابہ میں شمار کرتے ہیں۔ ۳۸؂ جلیل القدر مالکی فقیہ ابوبکر ابن العربی نے کسی خاتون کو اغوا کرنے کو بھی 'حرابہ' قرار دیا ہے، بلکہ یہ کہا ہے کہ اگر اس جرم پر قرآن کی بیان کردہ سزاؤں سے بھی شدید تر کوئی سزا دی جا سکتی تو وہ وہی تجویز کرتے۔ ۳۹؂ یہی نقطۂ نظر فقہاے امامیہ نے اختیار کیا ہے اور ابو جعفر الطوسی نے مثال کے طور پر اس جرم کو بھی اس آیت کے تحت داخل قرار دیا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو کسی دوسرے شخص کے ہاتھ بیچ دے۔ ۴۰؂

دور جدید کے اہل علم کے ہاں بھی بالعموم آیت حرابہ کو معاشرے اور ریاست کے خلاف جرائم کے وسیع تر تناظر میں دیکھنے کا رجحان نمایاں ہے اور وہ قانون کو ہاتھ میں لینے، ریاست کے اختیار اور اتھارٹی کو چیلنج کرنے، معاشرے کے امن وامان کو درہم برہم کرنے اور جان ومال اور آبرو کے حوالے سے خوف وہراس کی صورت حال پیدا کر دینے کی ہر صورت کو اس کے مفہوم میں داخل مانتے ہیں۔

چنانچہ مولانا حمید الدین فراہی کے نزدیک سیدنا عمر کے نجران کے نصاریٰ کو سود کھانے کی بنا پر جزیرۂ عرب سے جلاوطن کرنے کا ماخذ بھی آیت محاربہ ہے، کیونکہ اس میں فساد فی الارض کی سزا بیان ہوئی ہے اور سود بھی اسی کی ایک صورت ہے۔ ۴۱؂

مولانا امین احسن اصلاحی نے اس کے مفہوم میں 'زنا'کی بعض صورتوں کو بھی شامل قرار دیا ہے۔ چنانچہ ان کے نزدیک ''وہ گنڈے اور بدمعاش جو شریفوں کے عزت وناموس کے لیے خطرہ بن جائیں، جو اغوا اور زنا کو پیشہ بنا لیں، جو دن دہاڑے لوگوں کی عزت وآبرو پر ڈاکے ڈالیں اور کھلم کھلا زنا بالجبر کے مرتکب ہوں، ان کے لیے رجم کی سزا اس لفظ کے مفہوم میں داخل ہے۔'' ۴۲؂ مولانا کی راے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عکل اور عرینہ کے لٹیروں اور بنو نضیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع کے یہود کے خلاف، جبکہ صحابہ نے مسیلمہ کذاب اور مانعین زکوٰۃ کے خلاف جنگ اور خیبر کے یہود کو جزیرۂ عرب سے جلا وطن کرنے کے جو اقدامات کیے، ان سب کا ماخذ بھی یہی آیت ہے۔ ۴۳؂

مولانا شبیر احمد عثمانی لکھتے ہیں:

''...اکثر مفسرین نے اس جگہ رہزنی اور ڈکیتی مراد لی ہے، مگر الفاظ کو عموم پر رکھا جائے تو مضمون زیادہ وسیع ہو جاتا ہے۔ آیت کی جو شان نزول احادیث صحیحہ میں بیان ہوئی، وہ بھی اسی کو مقتضی ہے کہ الفاظ کو ان کے عموم پر رکھا جائے۔ ''اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنا'' یا ''زمین میں فساد اور بد امنی پھیلانا'' یہ دو لفظ ایسے ہیں جن میں کفار کے حملے، ارتداد کا فتنہ، رہزنی، ڈکیتی، ناحق قتل ونہب، مجرمانہ سازشیں اور مغویانہ پروپیگنڈا سب داخل ہو سکتے ہیں اور ان میں سے ہر جرم ایسا ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ان چار سزاؤں میں سے جو آگے مذکور ہیں، کسی نہ کسی سزا کا ضرور مستحق ٹھہرتا ہے۔'' (تفسیر عثمانی ۱۵۰)

ہمارے نزدیک سورۂ احزاب کی آیات ۶۰۔ ۶۱ بھی آیت محاربہ ہی کی ایک فرع ہیں۔ یہاں منافقین اور مدینہ منورہ میں فتنہ انگیزی کرنے والے بعض دوسرے گروہوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر وہ باز نہیں آئیں گے تو انھیں ،جہاں پائے جائیں، عبرت ناک طریقے سے قتل کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔

(اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا) آیت کے سیاق وسباق سے واضح ہے کہ مدینہ منورہ کے ان فتنہ پرداز گروہوں کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے اہل بیت اور مسلمان خواتین کے بارے میں بہتان تراشنے اور ان کی کردارکشی کے مکروہ عمل نے ایک باقاعدہ اور منظم مہم کی شکل اختیار کر لی تھی اور اسی سے نمٹنے کے لیے یہاں ان کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی گئی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کے واقعاتی پس منظر سے متعلق جو روایات و اقوال نقل کیے ہیں، ان میں ان شرپسند عناصر کی طرف سے شریف گھرانوں کی خواتین کا پیچھا کرنے اور ان سے چھیڑ چھاڑ کرنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔۴۴؂ ہماری راے میں ان جرائم پر 'تقتیل' کی سزا بیان کرنا آیت محاربہ میں بیان ہونے والے اصولی حکم ہی کا ایک اطلاق ہے اور اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ آیت محاربہ میں محض ڈاکا زنی کی نہیں، بلکہ وسیع تر دائرے میں جرم کی ان تمام صورتوں کی سزا بیان کی گئی ہے جن میں جرم کے اثرات انفرادی اور شخصی دائرے سے نکل کر معاشرے کے عمومی امن وامان اور ریاست کے اختیار واقتدار کے لیے ایک خطرے کی صورت اختیار کرلیں۔ کعب بن اشرف اور ابو رافع جیسے یہودی سرداروں کے قتل کو بھی بآسانی اسی حکم پرعمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ کعب بن اشرف یہود کے قبیلہ بنو نضیر کا لیڈر اور شاعر تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو اور کفار قریش کو آپ کے خلاف بھڑکانے میں مصروف رہتا تھا۔ بدر میں قریش کی شکست کے بعد اس نے نہ صرف مکہ جا کر قریش کو انتقام کے لیے بھڑکایا، بلکہ اپنی شاعری کے ذریعے سے مسلمانوں کی ہجو اور ان کی خواتین کے ساتھ تشبیب کا باقاعدہ ایک محاذ کھول لیا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی انھی حرکتوں کی پاداش میں اسے قتل کرا دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ۴۵؂

ابو رافع بھی بنو نضیر کا سردار تھا۔ یہ ان لوگوں میں سے تھا جنھوں نے قریش اور عرب کے دیگر قبائل کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑکانے اور متحد ہو کر مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ ۵ ہجری میں غزوۂ احزاب انھی کوششوں کے نتیجے میں پیش آیا اور جنگ کے ختم ہو جانے کے فوراً بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عتیک اور ان کے ساتھیوں کے ذریعے سے ابو رافع کو قتل کرا دیا۔ ۴۶؂

ہماری راے میں اسلام یا پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کا جرم اور اس پر سزا کا معاملہ بھی اپنی قانونی اساس کے لحاظ سے آیت 'محاربہ' ہی پر مبنی ہے، اس لیے کہ ایک اسلامی معاشرے میں، جو ایمان واعتقاد اور قانونی وسیاسی سطح پر اطاعت وسرافگندگی کے آخری مرجع خدا اور اس کے رسول کو مانتا اور اپنی اجتماعی زندگی کی تشکیل کو رسول اللہ ہی کی لائی ہوئی ہدایت کا مرہون منت سمجھتا ہے، خدا کے رسول کی توہین وتحقیر بھی 'محاربہ' اور 'فساد فی الارض' کی ایک صورت ہے اور اگر کوئی شخص دانستہ ایسا کرتا اور اس پر مصر رہتا ہے تو وہ نہ صرف اس کے باشندوں کے مذہبی جذبات واحساسات کو مجروح کرتا ہے، بلکہ ریاست کے مذہبی تشخص کو بھی چیلنج کرتا اور اسے پامال کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ چنانچہ یہ جرم انھی سزاؤں کا مستوجب قرار پانا چاہیے جو آیت 'محاربہ' میں بیان ہوئی ہیں، بلکہ صحابہ کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اہل ذمہ میں سے کوئی شخص کسی عام مسلمان کی توہین و تذلیل کا مرتکب ہوتا تو وہ اس کو بھی نقض عہد کے مترادف قرار دیتے ہوئے اس پر موت کی سزا نافذ کر دیتے تھے۔ چنانچہ ایک ذمی نے ایک مسلمان خاتون کو سواری سے گرا دیا جس سے اس کا پردہ کھل گیا، پھر اس نے اس کے ساتھ جماع کرنے کی کوشش کی۔ سیدنا عمر کے سامنے یہ مقدمہ پیش کیا گیا تو انھوں نے اسے سولی چڑھانے کا حکم دے دیا اور فرمایا کہ ہم نے تمھارے ساتھ اس بات پر معاہدہ نہیں کیا۔ ۴۷؂

'حرابہ' کے مفہوم اور دائرۂ اطلاق کی تحدید کی طرح قاضی کو حرابہ کی مخصوص صورتوں میں متعین سزا کا پابند کر دینا بھی قانون کی حکمت اور منشا کے منافی دکھائی دیتا ہے، اس لیے کہ بعض اوقات عملاً قتل و نہب نہ ہونے کے باوجود محض خوف وہراس کی کیفیت پیدا کرنے کا جرم اپنے اثرات کے لحاظ سے اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ اس پر تقتیل یا تصلیب کی سزا دی جانی چاہیے۔ اس صورت حال میں قاضی کو پابند کرنے کے بجاے صورت حال کے لحاظ سے کوئی بھی سزا اور تقتیل کی کوئی بھی صورت اختیار کرنے کی آزادی حاصل رہنی چاہیے۔ جلیل القدر تابعی عطاء سے یہی راے منقول ہے اور فقہاے مالکیہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ ۴۸؂

___________

۱؂ الذاریات ۵۱:۵۶۔

۲؂ البقرہ ۲:۳۰۔

۳؂ البقرہ۲: ۱۱، ۲۷، ۳۰، ۶۰۔ آل عمران ۳:۶۳۔ الاعراف۷: ۵۵۔۵۶، ۷۴، ۸۵۔ الانفال۸: ۷۳۔ یوسف۱۲: ۷۳۔ الرعد ۱۳:۲۵۔ بنی اسرائیل۱۷: ۴۔ الکہف ۱۸:۹۴۔ الشعراء ۲۶:۱۸۳۔ القصص ۲۸:۴، ۷۷۔ العنکبوت۲۹: ۳۶۔ المومن ۴۰:۲۶۔ الفجر ۸۹: ۱۱۔۱۲۔

۴؂ الشعراء۲۶: ۱۵۲۔ النمل۲۷: ۴۸۔

۵؂ بنی اسرائیل ۱۷:۳۳۔ ''جس جان کو اللہ نے حرمت بخشی ہے، اسے کسی حق کے بغیر قتل نہ کرو۔''

۶؂ گنتی ۳۵: ۱۶ ۔ ۲۱۔

۷؂ استثنا ۲۴:۷۔

۸؂ استثنا ۲۲:۲۲ ۔ ۲۴۔

۹؂ استثنا ۱۷: ۱۲۔ ۱۳۔

۱۰؂ استثنا ۲۱:۱۸ ۔۲۱۔

۱۱؂ احبار ۲۰: ۹۔

۱۲؂ گنتی ۱۸: ۷۔

۱۳؂ احبار ۲۰: ۱۳۔

۱۴؂ احبار ۲۰: ۱۵۔۱۶۔

۱۵؂ احبار ۲۰:۱۷۔

۱۶؂ استثنا ۱۳:۱ ۔ ۱۸، ۱۷: ۲ ۔ ۷۔

۱۷؂ احبار ۲۰: ۲۔

۱۸؂ احبار ۲۴: ۱۳ ۔۱۶۔

۱۹؂ استثنا ۱۸: ۲۰ ۔۲۲۔

۲۰؂ گنتی ۱۵: ۳۲ ۔۳۶۔

۲۱؂ احبار ۲۰: ۲۷ ۔۲۲؂ المائدہ۵: ۳۳۔

۲۲؂ المائدہ۵: ۳۳۔

۲۳؂ مسلم، رقم ۱۸۵۲۔

۲۴؂ ترمذی، رقم ۱۲۸۲۔

۲۵؂ ترمذی، رقم ۱۴۶۲۔

۲۶؂ ابوداؤد،ر قم ۴۳۷۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۴۔

۲۷؂ المستدرک، رقم ۸۰۴۹۔ ترمذی، رقم ۱۴۵۵۔

۲۸؂ ابو داؤد، رقم ۴۴۸۲ ۔۴۴۸۴۔

۲۹؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۳۷۴۲۔

۳۰؂ ابو داؤد، رقم ۳۷۹۵۔ نسائی، رقم ۴۰۰۲۔ ابن ابی عاصم، الدیات ۱/۷۳۔

۳۱؂ فقہا نے 'فساد فی الارض' کے اصول سے ایسے اہل بدعت اور زندیقین کے لیے سزاے موت کا جواز بھی اخذ کیا ہے جو معاشرے میں اپنے مبتدعانہ افکار کو پھیلانے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں اور ان کو قتل کیے بغیر ان کے شرکو دفع کرنا ممکن نہ ہو۔ (ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ ۲۸/۳۴۶۔ ابن عابدین، رسائل ابن عابدین ۱/۳۵۷) ہمارے نزدیک زندقہ والحاد یا مذہبی بدعات کے اصولی طور پر 'فساد فی الارض' کے دائرے میں آنے کے باوجود انھیں سزاے موت کا مستوجب قرار دینا عملاً ایک بے حد نازک مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذہبی و اعتقادی امور کے دائرے میں کسی فرد یا گروہ پر اس کی غلطی کو 'اتمام حجت' کے درجے میں واضح کیے بغیر اسے سزا کا مستحق قرار دینا دینی واخلاقی اعتبار سے درست نہیں اور اس کی اہمیت اس سے واضح ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کو مبعوث کرنے کے بعد اس شرط کو پورا کیے بغیر ان کی قوموں پر عذاب نازل نہیں کیا۔ اتمام حجت کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اس کے تحقق یاعدم تحقق کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا اور یوں سلسلۂ نبوت کے ختم ہونے کے بعد عملاً اس شرط کا پورا ہونا محال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابۂ کرام نے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے 'منصب شہادت' پر فائز کیے جانے کی بنیاد پر اس اختیار کو استعمال کرنے کا سب سے زیادہ حق رکھتے تھے، اپنے دور میں سامنے آنے والی اعتقادی یا عملی بدعات کے بارے میں یہ طریقہ اختیار نہیں کیا اور علم واستدلال ہی کے ذریعے سے ان کی گمراہی کو واضحکرنے پر اکتفا کیا۔ پھر یہ کہ اس وقت مسلمانوں کے کم وبیش تمام فرقے ایک دوسرے کو گمراہ اور بدعتی سمجھتے ہیں اور اگر انھیں موقع دیا جائے تو ہر فرقہ اپنی اختیار کردہ بدعات کے علاوہ دوسری ہر بدعت کا قلع قمع کرنے کے لیے دل وجان سے آمادہ ہوگا۔ اس طرح 'فساد فی الارض' ،یعنی بدعات کے خاتمے کے لیے موت کی سزا دینے کا اختیار اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ اختیار بذات خود 'فساد فی الارض' پر منتج ہوگا۔

۳۲؂ النساء ۴:۱۱۵۔ الانفال ۸:۱۳۔ محمد۴۷: ۳۲۔ الحشر۵۹: ۴۔

۳۳؂ التوبہ ۹:۶۳۔ المجادلہ۵۸: ۵، ۲۰۔

۳۴؂ البقرہ ۲:۲۰۵۔ المائدہ ۵:۶۴۔

۳۵؂ بخاری، رقم ۳۸۷۱۔

۳۶؂ طبری، جامع البیان ۶/۱۳۲۔

۳۷؂ رشید رضا، تفسیر المنار ۶/۲۹۶۔

۳۸؂ مسائل الامام احمد بن حنبل واسحاق بن راہویہ ۲/۲۳۰، ۲۷۲۔ وہبہ الزحیلی، الفقہ الاسلامی وادلتہ ۶/۲۷۲۔

۳۹؂ ابن العربی، احکام القرآن ۲/۵۹۷۔

۴۰؂ الطوسی، تہذیب الاحکام ۱۰/۲۴۔

۴۱؂ تفسیر نظام القرآن، سورۃ البقرہ ۲۸۶۔

۴۲؂ تدبر قرآن ۲/۵۰۶۔

۴۳؂ تدبر قرآن۲/۵۰۷۔

۴۴؂ طبری، جامع البیان ۲۲/۴۶۔

۴۵؂ ابو داؤد، رقم ۲۶۰۶۔ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۳/۳۱۸ ۔ ۳۲۵۔

۴۶؂ ابن ہشام، السیرۃ النبویہ ۴/۲۳۴ ۔ ۲۳۷۔

۴۷؂ مصنف ابن ابی شیبہ، رقم۲۸۸۳۷۔ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۰۱۶۷۔

۴۸؂ مصنف عبد الرزاق، رقم۱۸۵۴۹۔ ابن رشد، بدایۃ المجتہد ۲/۳۴۱۔