(2) اخلاقیات


گزشتہ سے پیوستہ

دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ اصل محرک کیا ہے جو انسان کو تزکیۂ اخلاق پر آمادہ کرتا ہے ؟ اس سوال کا جواب قرآن نے ان آیتوں میں یہ دیا ہے کہ وہ محرک اسی الہام خیرو شر کی بنا پر انسان کا یہ احساس ہے کہ ان دونوں کے نتائج اس کے لیے یکساں نہیں ہو سکتے ۔ وہ محسوس کرتا ہے کہ خیر کے خیر اور شر کے شر ہونے کا شعور اپنے وجود ہی سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ان دونوں کا نتیجہ بھی انھی کے لحاظ سے سامنے آئے ۔ اس سے یہ حقیقت اس پر واضح ہوتی ہے کہ وہ کوئی شتربے مہار نہیں ہے اور اپنے اعمال کے صلے میں اسے لازماً جزاو سزاسے دوچار ہونا ہے ۔ قرآن نے اسی کو یہاں مراد کو پہنچنے اور نامراد ہو جانے سے تعبیر کیاہے ۔ اس سے ظاہر ہے کہ خوف و طمع کا ایک احساس انسان کے اندر پیدا ہوتا اور اس بات کا محرک بن جاتا ہے کہ اپنے طبعی رجحانات کے علی الرغم وہ اپنے اخلاق کو پاکیزہ بنائے۔ پھر جب وہ ایمان لے آتا ہے تو یہی احساس خدا سے متعلق ہو جاتا ہے ۔ اس وقت قرآن اس سے مطالبہ کرتا ہے کہ اچھے اخلاق کی پابندی اور برے اخلاق سے اجتناب کے لیے اصل محرک اب صرف اس خدا کی محبت ، اس کی رضا کی طلب اور اس کی ناراضی کا خوف ہونا چاہیے جو عالم الغیب ہے ، دانا ے راز ہے ، واقف اسرار ہے اور وجود کی ہر حرکت اور قلب و نظر کی ہر جنبش سے پوری طرح با خبر ہے ۔ قرآن میں یہ بات کئی جگہ بیان ہوئی ہے۔ اداے حقوق کی تاکید کے بعد ایک موقع پر فرمایا ہے:

فَاٰتِ ذَا الْقُرْ بٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ، ذٰلِکَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ، وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ . (الروم۳۰: ۳۸)

'' سو قرابت مند کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو بھی ۔یہ بہتر ہے ان کے لیے جو خدا کی رضا چاہتے ہیں ۔ اور یہی ہیں جو فلاح پانے والے ہوں گے ۔ ''

اس کا بہترین نمونہ انبیا علیہم السلام ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن کا ارشاد ہے :

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی، وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی، اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی. (اللیل ۹۲: ۱۸۔۲۱)

'' جو اپنا مال اس لیے دیتا ہے کہ اسے تزکیہ حاصل ہو، اور جس کی کوئی عنایت بھی کسی پر، اس لیے نہیں ہے کہ اسے بدلہ ملے ، بلکہ صرف اپنے خداوند برتر کی خوش نودی کے لیے ہے۔''

یہ بات عام طور پر مانی جاتی ہے کہ اچھے عمل کی بنیاد اچھا ارادہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی 'انما الاعمال بالنیات'۱۱؂ (انسان کے اعمال اس کی نیت پر موقوف ہیں ) کے بلیغ الفاظ میں یہی بات فرمائی ہے ۔ یہ محرک انسان کی اس نیت کو بالکل آخری درجے میں پاکیزہ بنا دیتا ہے ۔ چنانچہ اس کا کوئی عمل بھی اس کے بعد فخر ، نمایش ، ریا اور دکھاوے کے لیے نہیں ہوتا، اور اگر ہوتا ہے تو جلد یا بدیر وہ اس کو ان آلایشوں سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔

قرآن کی اس تعلیم کا سب سے موثر بیان وہ ہے جسے ابو ہریرہ سے نقل کیا گیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: قیامت کے دن سب سے پہلے ان لوگوں کا فیصلہ کیا جائے گا جوقرآن کے عالم تھے یا جہاد میں مارے گئے یا جنھیں اللہ تعالیٰ نے مال و دولت سے نوازا تھا ۔ انھیں لایا جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں انھیں یاد دلائیں گے ۔ وہ ان کا اقرار کریں گے، پھر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے :تم ان میں کیا کرتے رہے ؟ عالم کہے گا :میں نے علم سیکھا اور سکھایا اور لوگوں کو آپ کی طرف بلانے کے لیے قرآن سناتا رہا ؛مجاہد کہے گا : میں آپ کی راہ میں لڑا اور مارا گیا؛ دولت مند عرض کرے گا : میں نے ہر اس موقع پرخرچ کیا ، جہاں آپ خرچ کرنا پسند کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: تم سب جھوٹے ہو ۔ تم تو یہ سب اس لیے کرتے رہے کہ لوگ تمھیں عالم اور بہادر اور سخی کہیں ۔ سو دنیا میں تمھیں یہ کہہ دیا گیا ہے۔ چنانچہ حکم دیا جائے گا اور وہ منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ ۱۲؂

فلسفۂ اخلاق کا تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ اس سعی و عمل کی غایت اور اس کا مقصود کیا ہے ؟ اس کے مختلف جوابات لوگوں نے دیے ہیں ۔ ایک گروہ کے نزدیک وہ خوشی ہے ۔ دوسرے کے نزدیک کمال ہے ۔ تیسرے کے نزدیک فرض براے فرض ہے ۔ سورۂ شمس کی ان آیتوں سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ قرآن کے نزدیک وہ مقصود تزکیہ ہے جس کے نتیجے میں خدا کی ابدی بادشاہی انسان کو حاصل ہو جائے گی ۔ اس میں ، اگر غور کیجیے تو علماے اخلاقیات کے جوابات بھی آپ سے آپ شامل ہو جاتے ہیں ۔ اس لیے کہ علم وعمل کی پاکیزگی ہی وہ چیز ہے جس سے انسان اپنے کمال کو پہنچتا ہے، حقیقی خوشی بھی اسی سے حاصل ہوتی ہے اور اداے فرض کا عمل بھی اگر کبھی اس درجہ بے غرض ہوتا ہے کہ اسے فرض براے فرض کہا جا سکے تو اسی سے ہوتا ہے ۔ نفس انسانی کا یہی مقام ہے جسے قرآن نے نفس مطمئنہ سے تعبیر کیا اور 'راضیۃ مرضیۃ ' کی بشارت دی ہے:

یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَءِنَّۃُ، ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً، فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ، وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ.(الفجر ۸۹: ۲۷۔۳۰)

''اے وہ ، جس کا دل (اچھی اور بری، ہر حالت میں اپنے رب سے) مطمئن رہا، اپنے رب کی طرف لوٹ، اس طرح کہ تو اس سے راضی ہے ، اور وہ تجھ سے راضی۔ (لوٹ) اور میرے بندوں میں شامل ہو، اورمیری جنت میں داخل ہو۔ ''

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

'' یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کا کلمہ ہے ۔ ان لوگو ں کو خطاب کرکے ارشاد ہوگا کہ شاباش ،تمھارے رب نے جس میدان امتحان میں تمھیں اتارا ، اس میں تمھاری بازی نہایت کامیاب رہی ۔ اب تم اپنے رب کی طرف اس سرخ روئی کے ساتھ لوٹو کہ تم نے ثابت کر دیا کہ تم ہر طرح کے نرم وگرم حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے اور ساتھ ہی تمھیں یہ سرفراز ی بھی حاصل ہوئی کہ تم اپنے رب کی نظروں میں بھی پسند یدہ ٹھیرے ۔ جس طرح تم اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوئے ، اسی طرح تمھارے رب نے تم کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا ۔ تم اس سے راضی، وہ تم سے راضی۔''(تدبرقرآن ۹/ ۳۶۲)

[باقی]

__________

۱۱؂ بخاری ، رقم ۱۔ مسلم ، رقم ۱۹۰۷۔

۱۲؂ مسلم، رقم۱۹۰۵۔