اخلاقیات


(۱)

ایمان کے بعد دین کا اہم ترین مطالبہ تزکیۂ اخلاق ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ انسان خلق اور خالق ، دونوں سے متعلق اپنے عمل کو پاکیزہ بنائے ۔ یہی وہ چیز ہے جسے عمل صالح سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تمام شریعت اسی کی فرع ہے۔ تمدن کی تبدیلی کے ساتھ شریعت تو ، بے شک تبدیل بھی ہوئی ہے، لیکن ایمان اور عمل صالح اصل دین ہیں۔ ان میں کوئی ترمیم وتغیر کبھی نہیں ہوا۔ قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ جو شخص ان دونوں کے ساتھ اللہ کے حضور میں آئے گا، اس کے لیے جنت ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔ ارشاد فرمایا ہے :

وَمَنْ یَّاْتِہٖ مُؤْمِنًا ، قَدْ عَمِلَ الصّٰلِحٰتِ، فَاُولٰٓءِکَ لَھُمُ الدَّرَجٰتُ الْعُلٰی،جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ ، خٰلِدِیْنَ فِیْھَا، وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا مَنْ تَزَکّٰی.(طہ ۲۰ :۷۵۔۷۶)

''اور جو اُس کے حضور مومن ہو کر آئیں گے، جنھوں نے نیک عمل کیے ہوں گے، وہی ہیں جن کے لیے اونچے درجے ہوں گے، سدابہار باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہ اُن میں ہمیشہ رہیں گے۔ اوریہ صلہ ہے اُن کا جو پاکیزگی اختیار کریں۔''

یہی عمل صالح ہے جسے فضائل اخلاق سے، اور اس کے مقابل میں غیر صالح اعمال کو اس کے رذائل سے تعبیر کیا جاتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے :'انما بعثت لأتمم مکارم الاخلاق' ۱؂ میں اخلاق عالیہ کو اس کے اتمام تک پہنچانے کے لیے مبعوث کیا گیاہوں۔ نیز فرمایا ہے کہ تم میں سے بہترین لوگ وہی ہیں جو اپنے اخلاق میں دوسروں سے اچھے ہیں۔ ۲؂ یہی لوگ مجھے سب سے زیادہ محبوب بھی ہیں۔ ۳؂ قیامت کے دن آدمی کی میزان میں سب سے زیادہ بھاری چیز اچھے اخلاق ہی ہوں گے، ۴؂ اور بندۂ مومن وہی درجہ حسن اخلاق سے حاصل کرلیتا ہے جو کسی شخص کو دن کے روزوں اور رات کی نمازوں سے حاصل ہوتا ہے ۔ ۵؂

بنیادی مباحث

وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا، فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتْقوٰھَا، قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا، وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰھَا.(الشمس۹۱ :۷۔۱۰)

''اورنفس گواہی دیتاہے ، اورجیسا اُسے سنوارا، پھر اُس کی نیکی اوربدی اُسے سجھادی کہ مراد کوپہنچ گیا وہ جس نے اُس کو پاک کیا اورنامراد ہوا وہ جس نے اسے آلودہ کیا۔''

انسان کے پاس خیرو شر کے جاننے کا ذریعہ کیا ہے ؟ یہ فلسفۂ اخلاق کا سب سے بنیادی سوال ہے۔ قرآن نے ان آیتوں میں واضح کردیاہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور سننے کے لیے کان دیے ہیں، بالکل اسی طرح نیکی اوربدی کو الگ الگ پہچاننے کے لیے ایک حاسۂ اخلاقی بھی عطا فرمایا ہے۔ وہ محض ایک حیوانی اورعقلی وجود ہی نہیں ہے، اس کے ساتھ ایک اخلاقی وجود بھی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ خیرو شر کا امتیاز اورخیر کے خیر اورشر کے شر ہونے کا احساس انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کے دل ودماغ میں الہام کردیا گیا ہے۔ بعض دوسرے مقامات پر یہی حقیقت 'انا ھدینٰہ السبیل ' ۶؂ (ہم نے اسے خیر وشر کی راہ سجھا دی ) اور 'ھدینٰہ النجدین' ۷ ؂ (ہم نے کیا اسے دونوں راستے نہیں سجھائے ) کے الفاظ میں واضح کی گئی ہے۔ یہ امتیاز واحساس ایک عالمگیر حقیقت ہے ۔ چنانچہ برے سے برا آدمی بھی گناہ کرتاہے تو پہلے مرحلے میں اسے چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ آدم علیہ السلام کے بیٹے قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردینے کے بعد اس کی لاش چھپانے کی کوشش کی تھی تو ظاہر ہے کہ احساس گناہ ہی کی وجہ سے کی تھی۔ یہی معاملہ نیکی کا ہے۔ انسان اس سے محبت کرتا ہے ، اس کے لیے اپنے اندر عزت واحترام کے جذبات پاتاہے اوراپنے لیے جب بھی کوئی معاشرت پیدا کرتاہے، اس میں حق وانصاف کے لیے لازماً کوئی نظام قائم کرتا ہے ۔ یہ اس امتیاز خیر وشر کے فطری ہونے کا صریح ثبوت ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ برائی کے حق میں انسان بعض اوقات بہانے بھی تراش لیتا ہے، لیکن جس وقت تراشتا ہے، اسی وقت جانتا ہے کہ یہ بہانے وہ اپنی فطرت کے خلاف تراش رہا ہے۔ اس لیے کہ وہی برائی اگر کوئی دوسرا اس کے ساتھ کر بیٹھے تو بغیر کسی تردد کے وہ اسے برائی ٹھیراتااوراس کے خلاف سراپا احتجاج بن جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے : نیکی حسن اخلاق ہے اورگناہ وہ ہے جو تمھارے دل میں کھٹک پیدا کردے اورتم یہ پسند نہ کرو کہ دوسرے لوگ اسے جانیں۔ ۸؂ نفس انسانی کا یہی پہلو ہے جسے قرآن نے نفس لوامہ۹؂ سے تعبیر کیا ہے اورپھر پوری صراحت کے ساتھ فرمایا ہے :

بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیرَۃٌ، وَّلَوْاَلْقٰی معَاذِیْرَہٗ. (القیامہ۷۵ :۱۴۔۱۵)

''بلکہ (حقیقت یہ ہے کہ )انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، اگرچہ کتنے ہی بہانے بنائے ۔''

اس الہام کی تعبیر میں ، البتہ اشخاص، زمانے اورحالات کے لحاظ سے بہت کچھ اختلافات ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے کہ اس کی گنجایش بھی اس نے باقی نہیں رہنے دی اورجہاں کسی بڑے اختلاف کا اندیشہ تھا، اپنے پیغمبرو ں کے ذریعے سے خیرو شرکو بالکل واضح کردیاہے۔ ان پیغمبرو ں کی ہدایت اب قیامت تک کے لیے قرآن مجید میں محفوظ ہے۔ انسان اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے ، یہ ہدایت اس کی تصدیق کرتی ہے اورانسان کاوجدانی علم، بلکہ تجربی علم ، قوانین حیات اور حالات وجو د سے استنباط کیا ہوا علم اورعقلی علم ، سب اس کی گواہی دیتے ہیں ۔ چنا نچہ اخلاق کے فضائل ورذائل اس کے نتیجے میں پوری قطعیت کے ساتھ متعین ہوجاتے ہیں۔

روایتوں میں ایک تمثیل کے ذریعے سے یہی بات اس طرح سمجھائی گئی ہے کہ تم جس منزل تک پہنچنا چاہتے ہو، اس کے لیے ایک سیدھا راستہ تمھارے سامنے ہے جس کے دو نوں طرف دو دیواریں کھنچی ہوئی ہیں۔ دونوں میں دروازے کھلے ہیں جن پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ راستے کے سرے پر ایک پکارنے والا پکار رہا ہے کہ اندر آجاؤ اورسیدھے چلتے رہو۔ اس کے باوجود کوئی شخص اگر دائیں بائیں کے دروازوں کا پردہ اٹھانا چاہے تو اوپرسے ایک منادی پکار کرکہتاہے : خبردار ، پردہ نہ اٹھانا۔ اٹھاؤ گے تو اندر چلے جاؤ گے۔ فرمایا ہے کہ یہ راستہ اسلام ہے ، دیواریں اللہ کے حدود ہیں، دروازے اس کی قائم کردہ حرمتیں ہیں، اوپر سے پکار نے والا منادی خدا کا وہ واعظ ہے جو ہر بندۂ مومن کے دل میں ہے اور راستے کے سرے پر پکارنے ولا قرآن ہے :۱۰؂

اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ یَھْدِیْ لِلَّتِیْ ھِیَ اَقْوَمُ،وَیُبَشِّرُ الْمُْؤْمِنِیْنَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ الصّٰلِحٰتِ، اَنَّ لَھُمْ اَجْرًا کَبِیْرًا . (بنی اسرائیل ۱۷ :۹)

''بے شک ، یہ قرآن اُس راستے کی رہنمائی کرتاہے جو بالکل سیدھا ہے اور اپنے ماننے والوں کو جو اچھے عمل کرتے ہیں اس بات کی بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔ ''

[باقی]

———————-

۱؂ الاحادیث الصحیحہ، البانی ، رقم ۴۵۔

۲؂ بخاری ،رقم ۵۶۸۲۔ مسلم ، رقم ۲۳۲۱۔

۳؂ بخاری ، رقم ۳۵۴۹۔

۴؂ ابوداؤد ، رقم۴۷۹۹ ۔ ترمذی ، رقم۲۰۰۲۔

۵؂ ابوداؤد ،رقم ۴۷۹۸۔ترمذی ، رقم ۲۰۰۳۔

۶؂ الدہر۷۶:۳۔

۷؂ البلد۹۰:۱۰۔

۸؂ مسلم ، رقم ۲۵۵۳۔

۹؂ القیامہ۷۵:۲۔

۱۰؂ ترمذی ، رقم ۲۸۵۹۔ احمد ، رقم ۱۷۶۷۱۔