اخلاقیات (3)


اصل الاصول

اِنَّ اللّٰہَ یَاْ مُرُ بِالْعَدْلِ وَالِْاحْسَانِ، وَاِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰی، وَیَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآءِ وَالْمُنْکَرِ وَالْبَغْیِ، یَعِظُکُمْ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُوْنَ.(النحل ۱۶: ۹۰)

''اللہ تمھیں عدل اور احسان اورقرابت مندوں کودیتے رہنے کا حکم دیتاہے اور بے حیائی ،برائی اور سرکشی سے روکتا ہے۔ وہ تمھیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم یاددہانی حاصل کرو۔''

یہ اس باب میں قرآ ن کی ہدایت کا بنیادی اصول ہے ۔ انسان کی فطرت جن فضائل اخلاق کو پانے اور جن رذائل سے بچنے کا تقاضا کرتی ہے، ان کی بنیادیں اس میں واضح کر دی گئی ہیں ۔خیر وشر کے یہ اصول بالکل فطری ہیں ،لہٰذا خدا کے دین میں بھی ہمیشہ مسلم رہے ہیں ۔ تور ات کے احکام عشرہ انھی پر مبنی ہیں اور قرآن نے بھی اپنے تمام اخلاقی احکام میں انھی کی تفصیل کی ہے۔

ہم یہاں ان کی وضاحت کریں گے۔

پہلی چیز جس کا آیت میں حکم دیا گیا ہے ، عدل ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جس کا جو حق واجب کسی پر عائد ہوتا ہے، اسے بے کم و کاست اور بے لاگ طریقے سے اداکر دیا جائے، خواہ صاحب حق کمزور ہو یا طاقت ور اور خواہ ہم اسے پسند کریں یا نا پسند ۔ چنانچہ فر مایا ہے:

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا،کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِا لْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ، وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ، اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا، فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا، فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا، وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا، فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا. (النساء ۴: ۱۳۵)

'' ایمان والو ، انصاف پر قائم رہنے والے بنو ، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے، اگرچہ اس کی زد خودتمھاری ذات،تمھارے والدین اور تمھارے اقربا ہی پر پڑے ۔ کوئی امیر ہو یا غریب ، اللہ ہی دونوں کے لیے احق ہے۔ اس لیے تم خواہش نفس کی پیروی نہ کرو کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر اسے بگاڑو گے یا اعراض کرو گے تو یاد رکھو اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔''

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ،کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ، شُھَدَآءَ بِالْقِسْطِ، وَلَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓی اَلَّا تَعْدِلُوْا، اِعْدِلُوْا ھُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی وَاتَّقُوا اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ. (المائدہ۵: ۸)

'' ایمان والو، عدل پر قائم رہنے والو بنو ، اللہ کے لیے اس کی شہادت دیتے ہوئے ، اور کسی قوم کی دشمنی تمھیں اس طرح نہ ابھارے کہ تم عدل سے پھر جاؤ ۔ عدل کرو، یہ تقویٰ سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ۔ بے شک، اللہ تمھارے ہر عمل سے باخبر ہے۔''

دوسری چیز احسان ہے ۔ یہ عدل سے زائد ایک چیز اور تمام اخلاقیات کا جمال و کمال ہے ۔ اس سے مراد صرف یہ نہیں کہ حق ادا کر دیا جائے ، بلکہ مزید براں یہ بھی ہے کہ ہم دوسروں سے باہمی مراعات اور فیاضی کا رویہ اختیار کریں۔ ان کے حق سے انھیں کچھ زیادہ دیں اور خود اپنے حق سے کچھ کم پر راضی ہو جائیں ۔ یہی وہ چیز ہے جس سے معاشرے میں محبت و مودت، ایثار و اخلاص ، شکر گزاری ، عالی ظرفی اور خیر خواہی کی قدریں نشوونما پاتی اور زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرتی ہیں۔

تیسری چیز قرابت مندوں کے لیے انفاق ہے ۔ یہ احسان ہی کی ایک نہایت اہم فرع ہے اور اس کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرابت مندصرف اسی کے حق دار نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ عدل و احسان کا رویہ اختیار کیا جائے ، بلکہ اس کے بھی حق دار ہیں کہ لوگ اپنے مال پر ان کا حق تسلیم کریں ، انھیں کسی حال میں بھوکا ننگا نہ چھوڑیں اور اپنے بال بچوں کے ساتھ ان کی ضرورتیں بھی جس حد تک ممکن ہو، فیاضی کے ساتھ پوری کرنے کی کوشش کریں۔

ان کے مقابلے میں بھی تین ہی چیزیں ہیں جن سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔

پہلی چیز 'فحشاء' ہے ۔ اس سے مراد زنا ، لواطت اور ان کے متعلقات ہیں۔

دوسری چیز'منکر' ہے ۔ یہ معروف کا ضد ہے ۔ یعنی وہ برائیاں جنھیں انسان بالعموم برا جانتے ہیں ،ہمیشہ سے برا کہتے رہے ہیں اور جن کی برائی ایسی کھلی ہوئی ہے کہ اس کے لیے کسی استدلال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مذہب و ملت اور تہذیب و تمدن کی ہر اچھی روایت میں انھیں برا ہی سمجھا جاتا ہے ۔ قرآن نے ایک دوسرے مقام پر اس کی جگہ 'اثم' کا لفظ استعمال کر کے واضح کر دیا ہے کہ اس سے مراد یہاں وہ کام ہیں جن سے دوسروں کے حقوق تلف ہوتے ہوں ۔

تیسری چیز' بغی'ہے ۔ اس کے معنی سرکشی اور تعدی کے ہیں ۔ یعنی آدمی اپنی قوت ،طاقت اور زور و اثر سے ناجائز فائدہ اٹھائے، حدود سے تجاوز کرے اور دوسروں کے حقوق پر، خواہ وہ حقوق خالق کے ہوں یا مخلوق کے ، دست درازی کرنے کی کوشش کرے۔

ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ اِنَّمَا حَرَّ مَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ، مَا ظَھَرَ مِنْھَا وَ مَا بَطَنَ، وَالْاِثْمَ، وَالْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ. (الاعراف ۷: ۳۳)

''ان سے کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو بے حیائی کو خواہ و ہ کھلی ہو یا چھپی اور حق تلفی اور ناحق زیادتی ہی کو ممنوع قرار دیا ہے۔''

[باقی]