اخلاقیات (4)


گزشتہ سے پیوستہ

فضائل و رذائل

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا، وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآاِیَّاہُ، وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا، اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُھُمَآ اَوْکِلٰھُمَا، فَلَا تَقُلْ لَّہُمَآ اُفٍّ وَّلاَ تَنْھَرْھُمَا، وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا، وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ، وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا. رَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِکُمْ، اِنْ تَکُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ، فَاِنَّہٗ کَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا. وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ، وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا. اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْٓا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ، وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوْرًا. وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْھُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ، تَرْجُوْھَا، فَقُلْ لَّہُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا، وَلَا تَجْعَلْ یَدَکَ مَغْلُوْلَۃً اِلٰی عُنُقِکَ، وَلَا تَبْسُطْھَا کُلَّ الْبَسْطِ، فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا، اِنَّ رَبَّکَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَیَقْدِرُ، اِنَّہٗ کَانَ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرًا بَصِیْرًا. وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَاقٍ، نَحْنُ نَرْزُقُہُمْ وَاِیَّاکُمْ، اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا. وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنآی اِنَّہٗ کَانَ فَاحِشَۃً، وَسَآءَ سَبِیْلاً. وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بِالْحَقِّ، وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّہٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ، اِنَّہٗ کَانَ مَنْصُوْرًا. وَلَا تَقْرَبُوْا مََالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتّٰی یَبْلُغَ اَشُدَّہٗ، وَاَوْفُوْا بِالْعَھْدِ، اِنَّ الْعَھْدَ کَانَ مَسْءُوْلًا. وَاَوْفُوا الْکَیْلَ اِذَا کِلْتُمْ وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ، ذٰلِکَ خَیْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِیْلًا. وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ، اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالفُؤَادَ کُلُّ اُولٰٓءِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْءُوْلاً. وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا، اِنَّکَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا. کُلُّ ذٰلِکَ کَانَ سَیِّءُہٗ عِنْدَ رَبِّکَ مَکْرُوْھًا.

ذٰلِکَ مِمَّآ اَوْحٰٓی اِلَیْکَ رَبُّکَ مِنَ الْحِکْمَۃِ، وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتُلْقٰی فِیْ جَھَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدحُوْرًا.(بنی اسرائیل ۱۷: ۲۲۔۳۹)

''اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو معبود نہ بناؤ کہ ( قیامت کے دن) ملامت زدہ اوردھتکارے ہوئے ہو کر رہ جاؤ۔ اور(یاد رکھو کہ ) تمھارے پروردگار نے فیصلہ کردیا ہے کہ اُس کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو اوروالدین کے ساتھ نہایت اچھا سلوک کرو۔ تمھارے سامنے اگر اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو نہ اف کہو، نہ جھڑک کر جواب دو، بلکہ ادب کی بات کرو اور اُن کے لیے مہرو محبت کے ساتھ عاجزی کے بازو جھکائے رکھو اوردعا کرتے رہو کہ پروردگار اِن پر رحم فرما ، جس طرح اِنھوں نے بچپن میں مجھے پالا تھا۔ تمھار ا پروردگار خوب جانتا ہے اُسے جو تمھارے دلوں میں ہے۔ اگر تم سعادت مند رہوگے تو ( جان لو کہ ) پلٹ کر آنے والوں کے لیے وہ بڑا درگزر فرمانے والا ہے۔ اور قرابت مند کو اُس کا حق دو اور مسکین اورمسافر کو بھی،اورمال کو اللے تللے نہ اڑاؤ۔ اس لیے کہ مال کو اِس طرح اڑانے والے شیطان کے بھائی ہوتے ہیں، اورشیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے ۔ اور اگر اِن ( ضرورت مندوں ) سے اِس بناپر اعراض کر نا پڑے کہ ابھی تم اللہ کی رحمت تلاش کررہے ہو، جس کے تم امید وار ہو، تو اِن سے نرمی کی بات کہہ دو ۔اور اپنا ہاتھ نہ گردن سے باندھے رکھو اور نہ اُسے بالکل کھلا چھوڑ دو کہ( اِس کے نتیجے میں) ملامت زدہ اوردرماندہ بن کر بیٹھے رہو۔ اِس میں شبہ نہیں کہ تمھار ا پروردگار جس کے لیے چاہتا ہے، رزق کشادہ کرتاہے اورجس کے لیے چاہتا ہے،تنگ کردیتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور اُنھیں دیکھ رہا ہے۔ اوراپنی اولاد کو ناداری کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم اُنھیں بھی روزی دیتے ہیں اورتمھیں بھی ۔ اِ س لیے کہ اُن کا قتل بہت بڑا جرم ہے ۔ اورزنا کے پاس نہ جاؤ، اِس لیے کہ وہ کھلی بے حیائی اور بہت بری راہ ہے۔ اورجس جان کی حرمت اللہ نے قائم کردی ہے، اُسے ناحق قتل نہ کرواور (یاد رکھو کہ) جسے مظلومانہ قتل کیا جائے، اُس کے ولی کو ہم نے اختیار دیا ہے ۔ پھر اُسے بھی چاہیے کہ قتل میں حدود سے تجاوز نہ کرے۔ اِس لیے کہ اُس کی مدد کی گئی ہے ۔ اوریتیم کے مال کے قریب نہ پھٹکو ۔ ہاں، مگر اچھے طریقے سے ، یہاں تک کہ وہ پختہ عمر کو پہنچ جائے ۔ اورعہد کی پابندی کرو ، اس لیے کہ عہد کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اورپیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولوتو ٹھیک ترازو سے تولو۔ یہی بہتر ہے اورانجام کے لحاظ سے بھی یہی اچھا طریقہ ہے۔ اوراُس چیز کے پیچھے نہ پڑو جسے تم نہیں جانتے، اس لیے کہ آنکھ ،کان اوردل، اِن میں سے ہر ایک کی پرسش ہو نی ہے۔ اورزمین میں اکڑ کرنہ چلو، اِس لیے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ اِن میں سے ہر چیز کی برائی تمھارے پروردگار کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔

یہ وہ حکمت ہے جو تمھارے رب نے تمھاری طرف وحی کی ہے۔ (اِسے مضبوطی سے پکڑو) اور( آخر میں ایک مرتبہ پھر سن لو کہ) اللہ کے سوا کسی اورکو معبود نہ بناؤ کہ ( اِس کے نتیجے میں) راندہ اور ملامت زدہ ہو کر جہنم میں ڈال دیے جاؤ۔''

اس سے پہلے جو بنیادی اصول بیان ہوا ہے، یہ اسی کے اجمال کی شرح ہے جس میں اخلاق کے فضائل و رذائل بالکل متعین طریقے پر واضح کردیے گئے ہیں۔ ان میں ،اگر غور کیجیے تو سلسلۂ بیان کی ابتدا بھی شرک کی ممانعت سے ہوئی ہے اوراس کا خاتمہ بھی اسی کی تاکید پر کیا گیاہے۔ قرآن میں یہ اسلوب کسی چیز کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں اس سے مقصود یہ بتانا ہے کہ درمیان میں جن چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے ، ان کے لیے یہ عقیدہ گویاشہر پناہ ہے جس کے وجود سے شہر قائم رہتااور جس میں کوئی رخنہ پیدا ہوجائے تو پورا شہر خطرے کی زد میں آجاتا ہے۔اس میں شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جوحکمت ان آیتوں میں بیان ہوئی ہے، اس کے لیے توحیدکی حیثیت یہی ہے۔ یہ اس عدل کا سب سے بڑا اور بنیادی تقاضا ہے جس کا حکم قرآن نے دیا ہے۔ چنانچہ شرک کو اسی بنا پرظلم عظیم کہا گیا ہے ۱۳؂ اوراس کا یہ نتیجہ بھی قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے جس کی پاداش میں لوگ راندہ اورملامت زدہ ہو کر جہنم میں ڈال دیے جائیں گے۔ ارشادفرمایا ہے :

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ، وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ، وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدِ افْتَرآی اِثْمًا عَظِیْمًا.(النساء۴: ۴۸)

'' اللہ اِس بات کو معاف نہیں کریں گے کہ ( جانتے بوجھتے ) اُن کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا جائے۔ اِس کے نیچے ، البتہ جس کے لیے جو گناہ چاہیں گے، ( اپنے قانون کے مطابق ) معاف کردیں گے۔ اور( اِس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ ) جو اللہ کے ساتھ شرک کرتاہے، اُس نے ایک بڑے گناہ کا افترا کیا ہے۔''

یہ شرک کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو الٰہ بنایا جائے تو قرآن اپنی اصطلاح میں اسے شرک سے تعبیر کرتاہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی کو خدا کی ذات سے یا خدا کو اس کی ذات سے سمجھاجائے یا خلق میں یا مخلوقات کی تدبیر امورمیں کسی کا کوئی حصہ مانا جائے او راس طرح کسی نہ کسی درجے میں اسے اللہ تعالیٰ کا ہم سر بنادیا جائے۔

پہلی صورت کی مثا ل سیدنا مسیح ، سیدہ مریم اورفرشتوں کے بارے میں عیسائیوں اور مشرکین عرب کے عقائد ہیں۔ صوفیوں کا عقیدۂ وحدت الوجود بھی اسی کے قبیل سے ہے۔

دوسری صورت کی مثال ہندووں میں برہما، وشنو، شیو اورمسلمانوں میں غوث،قطب ،ابدال ، داتا اور غریب نواز جیسی ہستیوں کا عقیدہ ہے۔ ارواح خبیثہ، نجوم و کواکب اورشیاطین کے تصرفات پرایمان کو بھی اسی کے ذیل میں سمجھنا چاہیے ۔

ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ ھُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ، اَللّٰہُ الصَّمَدُ، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ.(الاخلاص ۱۱۲)

''تم اعلان کرو( اے پیغمبر ) کہ وہ اللہ تنہا ہے ۔ اللہ سب کے لیے پناہ کی چٹان ہے۔ وہ نہ باپ ہے نہ بیٹا اورنہ اس کا کوئی ہم سر ہے۔''

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ، ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ، یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَارَ، یَطْلُبُہٗ حَثِیْثًا، وَّالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍ بِاَمْرِہٖ، اَلَا لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ، تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ .(الاعراف۷: ۵۴)

'' تمھار ا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے چھ دن میں زمین وآسمان پیدا کیے ، پھر اپنے عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ وہ رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے جو اِس کے پیچھے دوڑی چلی آتی ہے ۔اور اُس نے سورج اورچاند اور تارے پیدا کیے جو اُس کے حکم پر کام میں لگے ہوئے ہیں۔ سن لو، خلق بھی اُسی کے لیے ہے اور تدبیر امور بھی ۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ جہانوں کا پروردگار۔''

ان عقائد کے ماننے والے اس کے ساتھ بالعموم یہ بھی مانتے ہیں کہ ان ہستیوں کو خدا نے یہ حیثیت دے رکھی ہے کہ یہ جب چاہیں کسی غیب پر مطلع ہوسکتی اوراپنی سفارش سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں کو دنیا اورآخرت میں تبدیل کراسکتی ہیں۔ قرآن نے ان دونوں ہی باتوں کی تردید کردی ہے۔

پہلی بات کے بارے میں فرمایا ہے :

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَاْلَارْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ، وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ.(النمل ۲۷: ۶۵)

''کہہ دو، زمین و آسمان میں کوئی بھی اللہ کے سوا غیب سے واقف نہیں ہے اور( جنھیں یہ حیثیت دی جاتی ہے )، اُنھیں تو پتا بھی نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔''

دوسری بات کے بارے میں فرمایا ہے:

قُلْ لِّلّٰہِ الشَّفَاعَۃُ جَمِیْعًا، لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ، ثُمَّ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ.( الزمر۳۹: ۴۴)

'' کہہ دو کہ تمام شفاعت اللہ ہی کے اختیار میں ہے، زمین وآسمان کی بادشاہی اسی کی ہے، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔''

اپنے اوہام کو یہ لوگ تصویروں اورمجسموں میں بھی ڈھالتے ہیں۔ قرآن نے اسے اصنام واوثان کی نجاست قرار دیا اور اس سے بچنے کی ہدایت فرمائی ہے:'فاجتنبوا الرجس من الاوثان، واجتنبوا قول الزور.۱۴؂ '( ان بتوں کی گندگی سے بچو اوران کے بارے میں جو جھوٹ تم اللہ پر باندھتے ہو، اس سے بھی اجتناب کرو)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر فرمایا ہے کہ قیامت کے دن یہ تصویریں اورمجسمے بنانے والے شدیدترین عذاب سے دو چار ہوں گے اوران سے تقاضا کیا جائے گا کہ اپنے زعم کے مطابق جن زندہ اورنافع وضار ہستیوں کی تصویریں تم بناتے رہے ہو، ان میں اب جان ڈال کردکھاؤ۔ آپ کا ارشاد ہے:

ان الذین یصنعون ھذہ الصور، یعذبون یوم القیٰمۃ، یقال لھم: احیوا ما خلقتم.(بخاری، رقم۵۶۰۷)

'' اس طرح کی تصویریں جو لوگ بناتے ہیں ، انھیں قیامت میں عذاب دیا جائے گا، ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے بنایا ہے ، اسے اب زندہ کرو۔'' ۱۵؂

ان ہستیوں سے استمداد پرمبنی تعویذ گنڈوں میں بھی یہی نجاست ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اس طرح کی جھاڑ پھونک ، گنڈے اور میاں بیوی میں جدائی ڈالنے کے تعویذ، سب شرک ہیں۔ ۱۶؂

اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کو بھی آپ نے اسی کے تحت رکھا ہے ، اس لیے کہ اس میں بھی آدمی جس کی قسم کھاتا ہے، اسے درحقیقت کسی واقعے پر گواہ بناتا ہے اور اس طرح گویا اسے خدا ہی کی طرح عالم الغیب قرار دیتا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

من حلف بغیر اللّٰہ فقد اشرک.(ابو داؤد ، رقم۳۲۵۱)

'' جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی ، اس نے شرک کا ارتکاب کیا۔''

اس ضمن میں بعض مشرکانہ رویے بھی قابل توجہ ہیں:

اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کی تمثیل بیان فرمائی ہے جو اپنی دولت وثروت ، جمعیت وعصبیت اورخدم و حشم کی کارفرمائیوں کے غرور میں مبتلا ہوکر یہ سمجھے بیٹھا تھاکہ اسے جو کچھ حاصل ہے، یہ اس کی صلاحیت و قابلیت کا کرشمہ اور اس کے علم وتدبرکا ثمرہ ہے ۔ یہ ہمیشہ اسی کے پاس رہے گا ، قیامت اول تو آئے گی نہیں اوراگر آئی تو یہی سب ، بلکہ اس سے بہت کچھ زیادہ اسے وہاں بھی حاصل ہو جائے گا ۔ قرآن کا بیان ہے کہ اس کا لہلہاتا باغ جب ایک دن تباہ ہوگیا تو ان اصنام کی حقیقت کھل گئی اوروہ پکار اٹھا کہ ہائے ، میر ی کم بختی، میں نے کیوں ان چیزوں کو اپنے پروردگا رکا شریک ٹھیرایا تھا :

وَاُحِیْطَ بِثَمَرِہٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ کَفَّیْہِ عَلٰی مَآاَنْفَقَ فِیْھَا، وَھِیَ خَاوِیَۃٌ عَلٰی عُرُوْشِہَا، وَیَقُوْلُ: یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِکْ بِرَبِّیْٓ اَحَدًا.( الکہف۱۸: ۴۲)

'' اورہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اوراپنے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کروہ اپنے لگائے ہوئے مال پر ہاتھ ملتا رہ گیا اورکہنے لگا کہ اے کاش ، میں کسی کو اپنے رب کے ساتھ شریک نہ بناتا۔''

یہی معاملہ ریا کا ہے۔ وہ کام جو صرف خداکے لیے ہونے چاہییں، اگر دوسروں کے لیے ہونے لگیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان دوسروں نے خدا کی جگہ لے لی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر اسے چھپا ہوا شرک قرار دیا ہے۔ ۱۷؂ آپ کا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میں تمام شریکوں میں سب سے زیادہ شرکت سے بے نیاز ہوں، لہٰذا جس نے اپنے کسی کام میں میر ے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کیا، میں اس سے الگ ہو ں اوروہ اسی کا ہے جس کو اس نے میرا شریک بنایا ہے۔ ۱۸؂

انسان کے توہمات کی حقیقت بھی یہی ہے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ان پر متنبہ فرمایا ہے۔ اسی طرح سدذریعہ کے اصول پر بعض ان چیزوں سے بھی روکا ہے جو اگر چہ شرک تو نہیں ہیں، لیکن اس تک لے جانے کا باعث ہوسکتی ہیں۔

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ ایک رات تارا ٹوٹا توآپ نے دریافت فرمایا: زمانۂ جاہلیت میں تم ان کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ لوگوں نے عرض کیا: ہم سمجھتے تھے کہ جب کوئی بڑا شخص مرجاتا ہے یا پیدا ہوتا ہے تو تارے ٹوٹتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: نہیں، کسی کے مرنے یا پیداہونے سے تارے نہیں ٹوٹتے ۔ ۱۹؂

زیدبن خالد کا بیان ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر اتفاق سے رات کو بارش ہوئی۔ صبح کو نماز کے بعد آپ لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: جانتے ہو، تمھارے رب نے کیا کہا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ اوراس کا رسول زیادہ جانتا ہے۔ ارشادہوا: اللہ نے فرمایا ہے کہ آج صبح کو میرے بندوں میں سے کچھ مومن ہو کر اٹھے اورکچھ کافر ہو کر، جنھوں نے یہ کہا کہ یہ بارش اللہ کے فضل ورحمت سے ہوئی ہے، وہ میرے ماننے والے اور تاروں کے منکرہیں اور جنھوں نے یہ کہا کہ ہم پر پانی فلاں نچھتر سے برساہے، وہ میرے منکر اورتاروں کے ماننے والے ہیں۔ ۲۰؂

ابو مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سورج اورچاند کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں گہناتے، یہ تو اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، لہٰذا انھیں دیکھوتو نماز پڑھو۔ ۲۱؂

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجۂ محترمہ کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا : جو اپنی کسی چیز کا پتا پوچھنے کسی عراف ۲۲؂ کے پاس جائے گا، اس کی چالیس دن کی نماز قبول نہ ہوگی۔ ۲۳؂

سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ لوگوں نے کاہنوں کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: یہ کچھ نہیں ہیں۔ انھوں نے عرض کیا: یارسول اللہ، ان کی بعض باتیں سچی بھی نکل آتی ہیں۔ فرمایا : شیطان ایک آدھ بات سن لیتا ہے اورمرغی کی طرح قر قر کر کے اپنے دوستوں کے کانوں میں ڈالتا ہے۔ پھر وہ سو جھوٹ اس کے ساتھ ملا کر لوگوں سے بیان کرتے ہیں۔ ۲۴؂

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے : نہ چھوت ہے، نہ بدفالی ہے، نہ پیٹ میں بھوک کا سانپ ہے اورنہ مردے کی کھوپڑی سے پرندہ نکلتا ہے۔ ۲۵؂

جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اس کے ساتھ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ غول بیابانی بھی کچھ نہیں ہے۔ ۲۶؂

سیدنا عمر کابیان ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری شان میں اس طرح مبالغہ نہ کرو، جس طرح نصاریٰ نے مسیح علیہ السلام کی شان میں کیا ہے۔ میں تو بس خداکا بندہ ہوں ،اس لیے مجھے خدا کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہا کرو۔ ۲۷؂

ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر سلسلۂ کلام میں کہا : جو اللہ چاہے اورآپ چاہیں۔ آپ نے اسے فوراً روکااور فرمایا: تم نے مجھے خدا کا ہم سر بنا دیا ہے ؟ نہیں، بلکہ یہ کہو کہ جو تنہا اللہ چاہے۔ ۲۸؂

[باقی]

__________

۱۳؂ لقمان۳۱:۱۳۔

۱۴؂ الحج۲۲: ۳۰۔

۱۵؂ یہی تصویریں ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ممنوع قرار دیا ہے۔ عام تصویروں سے اس ممانعت کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

۱۶؂ ابوداؤد، رقم ۳۸۸۳۔

۱۷؂ ابن ماجہ، رقم۴۲۰۴۔

۱۸؂ ابن ماجہ، رقم ۴۲۰۲۔

۱۹؂ مسلم ، رقم۲۲۲۹۔

۲۰؂ بخاری، رقم۸۱۰۔ مسلم، رقم ۷۱۔

۲۱؂ بخاری، رقم۹۹۴۔

۲۲؂ یہ وہ لوگ تھے جو چوری کا پتا بتانے کا دعویٰ کرتے تھے۔

۲۳ ؂ مسلم ، رقم۲۲۳۰۔

۲۴؂ بخاری ، رقم ۵۸۵۹۔ مسلم، رقم۲۲۲۸۔

۲۵؂ بخاری ، رقم۵۳۸۰۔ مسلم ، رقم۲۲۲۰۔

۲۶؂ مسلم، رقم۲۲۲۲۔

۲۷؂ بخاری، رقم۳۲۶۱۔

۲۸؂ احمد، رقم۱۸۳۹۔