اخلاقیات (5)


گزشتہ سے پیوستہ

اس کے علاوہ جواحکام ان آیتوں میں بیان ہوئے ہیں، اس کی تفصیلات درج ذیل ہیں:

۔۔

اللہ کی عبادت

پہلا حکم یہ ہے کہ جب اللہ کے سواکوئی الٰہ نہیں ہے تو پھر عبادت بھی اسی کی ہونی چاہیے۔ اس عبادت کے بار ے میں اس سے پہلے اسی کتاب میں '' دین کی حقیقت'' کے زیر عنوان ہم بیان کرچکے ہیں کہ اس کی حقیقت خضوع اور تذلل ہے جس کا اولین ظہور پرستش کی صورت میں ہوتاہے۔ پھر انسان کے عملی وجود کی رعایت سے یہی پرستش اطاعت کو شامل ہو جاتی ہے۔ پہلی صورت کے مظاہر تسبیح وتحمید، دعاو مناجات، رکوع و سجود، نذر، نیاز، قربانی اور اعتکاف ہیں۔ دوسری صورت میں آدمی کسی کو مستقل بالذات شارع وحاکم سمجھ کر اس کے لیے تحلیل و تحریم اورامرو نہی کے اختیارت مانتا اور اس کے حکم پرسر تسلیم خم کرتا ہے ۔ اللہ، پروردگار عالم کا فیصلہ ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اس کے سوا کسی اور کے لیے نہیں ہوسکتی۔ 'قضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ'کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے اپنا یہی فیصلہ بیان فرمایا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر کسی کی تسبیح و تحمید کرتاہے یا اس سے دعا و مناجات کرتا ہے یا اس کے لیے رکوع و سجود کرتا ہے یا اس کے حضور میں نذر ، نیاز یا قربانی پیش کرتا ہے یا اس کے لیے اعتکاف کرتاہے یا تحلیل و تحریم کے اختیارات مانتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ قرآن کے مخاطبین میں سے جو لوگ اس جرم کے مرتکب تھے، ان کی غلطی اس نے اسی صراحت کے ساتھ واضح فرمائی ہے۔

سورج اور چاند کو سجدہ کرنے والوں سے کہا ہے:

لَا تَسْجُدُوْا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ، وَاسْجُدُوْا لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَھُنَّ، اِنْ کُنْتُمْ اِیَّاہُ تَعْبُدُوْنَ. ( حٰم السجدہ ۴۱: ۳۷)

'' سورج کو سجدہ کرو اور نہ چاند کو، بلکہ اس اللہ کے سامنے سجدہ ریز رہو جس نے انھیں بنایا ہے، اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔''

بزرگوں سے دعاومناجات کرنے والوں کو سمجھایا ہے:

وَالَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ، لَا یَخْلُقُوْنَ شَیْءًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ، اَمْوَاتٌ غَیْرُ اَحْیَآءٍ وَمَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ .(النحل۱۶ :۲۰۔۲۱)

''اور جنھیں یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، وہ خود مخلوق ہیں، کچھ پیدا نہیں کرتے۔ مردہ ہیں ،زندہ نہیں ہیں اور اُن کو پتا بھی نہیں کہ کب اٹھائے جائیں گے۔''

اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں کو انھی ہستیوں کے حضور میں نذر اور قربانی کے لیے خاص کرنے والوں کو متنبہ کیا ہے:

وَجَعَلُوْا لِلّٰہِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْاَنْعَامِ نَصِیْبًا، فَقَالُوْا: ھٰذَا لِلّٰہِ بِزَعْمِھِمْ وَھٰذَا لِشُرَکَآءِنَا، فَمَا کَانَ لِشُرَکَآءِھِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَی اللّٰہِ، وَمَا کَانَ لِلّٰہِ فَھُوَ یَصِلُ اِلٰی شُرَکَآءِھِمْ، سَآءَ مَا یَحْکُمُوْنَ.(الانعام۶: ۱۳۷)

'' اور خدا نے جو کھیتی اور چوپائے پیدا کیے ہیں، اُن میں ایک حصہ انھوں نے اللہ کا مقرر کر رکھا ہے۔ پھر کہتے ہیں: یہ حصہ تو اللہ کا ہے، ان کے گمان کے مطابق ، اور یہ اُ ن کا ہے جنھیں ہم اللہ کے شریک ٹھیراتے ہیں ۔ اس پر مزید یہ کہ جو حصہ ان کے شریکوں کا ہے، وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا اور جو اللہ کا ہے، وہ ان کے شریکوں کو پہنچ سکتا ہے۔ ۲۹؂ کیا ہی بُرا فیصلہ ہے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔''

علما اور فقہا کے لیے تحلیل و تحریم کے اختیارات مان کر ان کی اطاعت کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے:

اِتَّخَذُواْ أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَاباً مِّن دُونِ اللّہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِیَعْبُدُواْ إِلَہاً وَاحِداً لاَّ إِلَہَ إِلاَّ ہُوَ سُبْحَانَہُ عَمَّا یُشْرِکُونَْ.(التوبہ ۹: ۳۱)

''اپنے علما اور درویشوں کو انھوں نے اللہ کے سوا اپنا رب بنا لیا ہے اور مسیح ابن مریم کو بھی ، دراں حالیکہ ان کو ایک ہی معبود کی عبادت کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ وہ پاک ہے اُن چیزوں سے جنھیں یہ شریک ٹھیراتے ہیں ۔''

چنانچہ اس طرح کی تحلیل و تحریم کو قرآن نے باطل قرار دیا اور بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام کے نام سے بعض جانوروں کے لیے جو ممنوعات اہل عرب نے قائم کر رکھے تھے، ان کے بارے میں صاف کہہ دیا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

'بحیرۃ' اس اونٹنی کو کہتے تھے جس سے پانچ بچے پیدا ہو چکے ہوتے اور ان میںآخری نر ہوتا۔ اسی اونٹنی کے کان چیر کر اسے آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا۔

'سائبۃ'اس اونٹنی کو کہتے تھے جسے کسی منت کے پورا ہو جانے کے بعد آزاد چھوڑ دیتے تھے۔

'وصیلۃ' بعض لوگ نذر مانتے تھے کہ بکری اگر نر جنے گی تو اسے بتوں کے حضور پیش کریں گے اور اگر مادہ جنے گی تو اپنے پاس رکھیں گے۔ پھر اگر وہ نر و مادہ ، دونوں ایک ساتھ جنتی تو اس کو وصیلہ کہتے اور ایسے نر کو بتوں کی نذر نہیں کرتے تھے۔

'حام'اس سانڈ کو کہتے تھے جس کی صلب سے کئی پشتیں پیدا ہو چکی ہوتیں۔ اسے بھی آزاد چھوڑ دیتے تھے۔

ارشاد فرمایا ہے:

مَا جَعَلَ اللّٰہُ مِنْ بَحِیْرَۃٍ وَّلَا سَآءِبَۃٍ وَّلاَ وَصِیْلَۃٍ وَّلَا حَامٍ، وَلٰکِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ، وَاَکْثَرُھُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ. (المائدہ ۵: ۱۰۳)

''اللہ نے کوئی بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام نہیں ٹھیرائے، لیکن یہ منکر اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں اور ان میں سے زیادہ عقل سے عاری ہیں۔''

اللہ کی عبادت کے معاملے میں قرآن کا یہی فیصلہ ہے جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لینے سے منع کیا اور فرمایا ہے کہ اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے، انھوں نے اپنے پیغمبروں کی قبروں کو مسجد بنا لیا ۔۳۰؂

رخصت ہونے سے پہلے یہ آپ کی آخری نصیحت تھی جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

والدین سے حسن سلوک

دوسرا حکم یہ ہے کہ والدین سے حسن سلوک کیا جائے۔ اس کی تعلیم تمام الہامی صحائف میں دی گئی ہے۔ قرآن مجید نے یہاں اور اس کے علاوہ عنکبوت (۲۹) کی آیت ۸، لقمان (۳۱) کی آیات ۱۴۔۱۵اور احقاف (۴۶) کی آیت ۱۵ میں یہی تلقین فرمائی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ انسانوں میں سب سے مقدم حق والدین کا ہے۔ چنانچہ اللہ کی عبادت کے بعد سب سے پہلے اسی کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے والدین ہی اس کے وجود میں آنے اور پرورش پانے کا ذریعہ بنتے ہیں ۔ لقمان اور احقاف میں یہ حکم جس طرح بیان ہوا ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں بھی ماں کا حق زیادہ ہے:

وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ، حَمَلَتْہُ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلٰی وَھْنٍ، وَّفِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَلِوَالِدَیْکَ، اِلَیَّ الْمَصِیْرُ.(لقمان ۳۱: ۱۴)

''اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں نصیحت کی ہے۔اس کی ماں نے ضعف پرضعف اٹھا کر اس کو پیٹ میں رکھا اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال میں ہوا۔ (ہم نے اس کو نصیحت کی ہے)کہ میرے شکر گزار رہو اور اپنے والدین کا شکر بجا لاؤ ۔ بالآخر پلٹنا میری ہی طرف ہے۔''

بچے کی پرورش کے معاملے میں باپ کی شفقت بھی کچھ کم نہیں ہوتی ، لیکن حمل ، ولادت اور رضاعت کے مختلف مراحل میں جو مشقت بچے کی ماں اٹھاتی ہے، اس میں یقینااس کا کوئی شریک و سہیم نہیں ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی بنا پر ماں کا حق باپ کے مقابلے میں تین درجے زیادہ قرار دیا ہے۔ ۳۱؂ تاہم اس فرق سے قطع نظر اللہ تعالیٰ کی نصیحت ان دونوں ہی کے بارے میں یہ ہے کہ اپنے پروردگار کے بعد انسان کو سب سے بڑھ کرانھی کا شکر گزار ہوناچاہیے۔ یہ شکر محض زبان سے ادا نہیں ہوتا۔ اس کے چند لازمی تقاضے ہیں جو قرآن نے سورۂ بنی اسرائیل کی ان آیات میں بیان کر دیے ہیں ۔

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ آدمی کو اس طرح پیش آنا چاہیے کہ وہ ظاہر و باطن میں ان کی عزت کرے ، ان کے خلاف اپنے دل میں کوئی بے زاری نہ پیدا ہونے دے، ان کے سامنے سوء ادب کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالے، بلکہ نرمی، محبت، شرافت اور سعادت مندی کا اسلوب اختیار کرے۔ ان کی بات مانے اور بڑھاپے کی ناتوانیوں میں ان کی دل داری اورتسلی کرتا رہے۔

اس بڑھاپے کا حوالہ بالخصوص جس مقصد سے دیا گیا ہے، اس کی وضاحت استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس طرح کی ہے:

'' ...یہی زمانہ ہوتا ہے جس میں ان لوگوں کو ماں باپ بوجھ محسوس ہوتے ہیں جو ان کی ان قربانیوں اور جاں فشانیوں کو بھول جاتے ہیں جو انھوں نے ان کے لیے بچپن میں کی ہوتی ہیں۔ سعادت مند اولاد تو اس بات کو یاد رکھتی ہے کہ جس طرح کبھی ایک مضغۂ گوشت کی صورت میں تجھ کو اپنے والدین کی گود میں ڈالا گیا تھا ، اسی طرح اب میرے والدین ہڈیوں کے ایک ڈھانچے کی صورت میں میرے حوالے کیے گئے ہیں اور میرا فرض ہے کہ میں ان کے احسان کابدلہ احسان کی صورت میں دوں ۔لیکن ہر شخص اس بات کو یاد نہیں رکھتا ۔ یہ اسی بات کی یاد دہانی ہے۔ ورنہ اصل حقیقت یہ ہے کہ والدین ہر دور میں محبت، تعظیم اور احسان کے حق دار ہیں۔''(تدبر قرآن ۴/ ۴۹۶)

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ والدین کے سامنے اطاعت و فرماں برداری کے بازو ہر حال میں جھکے رہیں اور یہ اطاعت و فرماں برداری تمام تر مہرو محبت اور رحمت و شفقت کے جذبے سے ہونی چاہیے۔ اس کے لیے 'واخفض لھما جناح الذل من الرحمۃ' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اس میں یہ تلمیح ہے کہ والدین جس طرح بچے کو پرندوں کی طرح اپنے بازووں میں چھپا کر رکھتے ہیں، بچوں کو بھی چاہیے کہ ان کے بڑھاپے میں اسی طرح ان کو اپنی محبت و اطاعت کے بازووں میں چھپا کر رکھیں۔ اس لیے کہ والدین کی شفقت کا حق اگر کچھ ادا ہوسکتا ہے تو اسی جذبے سے ہو سکتا ہے۔ اس کے بغیر یہ حق ادا کرنا کسی شخص کے لیے ممکن نہیں ہے۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ اس کے ساتھ ان کے لیے برابر دعا کی جائے کہ پروردگار جس طرح انھوں نے شفقت و محبت کے ساتھ بچپن میں ہمیں پالا ہے، اسی طرح اب بڑھاپے میں آپ ان پر اپنی رحمت نازل فرمائیں۔ یہ دعا والدین کا حق ہے اور اس حق کی یاد دہانی بھی جو والدین سے متعلق اولاد پر عائد ہوتا ہے۔ پھر یہ اس جذبۂ محبت کی محرک بھی ہے جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ نے والدین سے حسن سلوک کے معاملے میں کیا ہے۔ سورۂ لقمان میں اس کے علاوہ اس حسن سلوک کے حدود بھی بیان ہوئے ہیں۔ لیکن یہ شریعت کا موضوع ہے، لہٰذا انھیں ہم آگے ''قانون معاشرت ''کے زیر عنوان بیان کریں گے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس باب میں یہ ہیں:

ابن مسعود کی روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا ۔ میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: والدین کے ساتھ اچھا برتاؤ۔۳۲؂

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص کے لیے ذلت ہے، اس شخص کے لیے ذلت ہے، اس شخص کے لیے ذلت ہے۔لوگوں نے پوچھا: کس کے لیے، یا رسول اللہ ؟ فرمایا: جس کے ماں باپ یا ان میں سے کوئی ایک اس کے پاس بڑھاپے کو پہنچا اور وہ اس کے باوجود جنت میں داخل نہ ہو سکا۔ ۳۳؂

عبداللہ بن عمرو کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے جہاد کی اجازت چاہی۔ آپ نے پوچھا: تمھارے والدین زندہ ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں ۔ فرمایا: پھر ان کی خدمت میں رہو ، یہی جہاد ہے۔ ۳۴؂

ابو سعید خدری کہتے ہیں کہ یمن کے لوگوں میں سے ایک شخص جہاد کی غرض سے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ آپ نے پوچھا : یمن میں کوئی عزیز ہے؟ عرض کیا: میرے ماں باپ ہیں۔ فرمایا: انھوں نے اجازت دی ہے؟ عرض کیا:نہیں ۔ فرمایا: جاؤ اور ان سے اجازت لو۔ اگر دیں تو جہاد کرو ورنہ ان کی خدمت کرتے رہو۔ ۳۵؂

معاویہ اپنے باپ جاہمہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یارسول اللہ ، جہاد کے لیے جانا چاہتا ہوں اور آپ سے مشورے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ آپ نے پوچھا: تمھاری ماں زندہ ہے؟ عرض کیا: جی ہاں۔ فرمایا: تو اس کی خدمت میں رہو، اس لیے کہ جنت اس کے پاؤں کے نیچے ہے۔۳۶؂

عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پروردگار کی خوشی باپ کی خوشی میں اور اس کی ناراضی باپ کی ناراضی میں ہے۔ ۳۷؂

ابو الدردا کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جنت کا بہترین دروازہ باپ ہے، اس لیے چاہو تو اسے ضائع کرو اور چاہو تو اس کی حفاظت کرو۔۳۸؂

عمرو بن شعیب اپنی ماں سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: میرے پاس کچھ مال ہے اور میری اولاد بھی ہے، لیکن میرے والد اس مال کے ضرورت مند ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم اور تمھارا مال، دونوں والد ہی کے ہیں۔ ۳۹؂

[باقی]

__________

۲۹؂ یہ اس حماقت در حماقت کا ذکر ہے کہ بتوں کے نام کی بکری مر جائے تو اس کی تلافی لازماً خدا کے حصے میں سے کر دی جائے گی،لیکن اگر اس طرح کی کوئی آفت خدا کے نام پر نکالے ہوئے حصے پر آجائے تو اس کی تلافی بتوں کے حصے میں سے نہیں ہوگی۔

۳۰؂ مسلم ، رقم ۹۷۲۔

۳۱؂ بخاری ،رقم ۵۶۲۶۔

۳۲؂ بخاری ،رقم ۵۶۲۵۔

۳۳؂ مسلم، رقم ۲۵۵۱۔

۳۴؂ بخاری،رقم ۵۶۲۷۔

۳۵؂ ابوداؤد،رقم ۲۵۳۰۔

۳۶ ؂ نسائی،رقم ۳۱۰۴۔

۳۷؂ ترمذی،رقم ۱۸۹۹۔

۳۸؂ ترمذی،رقم۱۹۰۰۔

۳۹؂ ابو داؤد،رقم ۳۵۳۰۔