اخلاقیات (6)


گزشتہ سے پیوستہ

والدین کے علاوہ جو تعلقات اس دنیا میں پیدا ہوتے ہیں، ان میں بھی آدمی کا رویہ درجہ بدرجہ یہی ہونا چاہیے۔ قرآن نے ایک دوسری جگہ یہ بات پوری صراحت کے ساتھ بیان کر دی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖ شَیْئاً، وَّ بِا لْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا، وَّبِذِی الْقُرْبیٰ، وَالْیَتٰمٰی، وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی، وَالْجَارِ الْجُنُبِ، وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ، وَابْنِ السَّبِیْلِ، وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ، اِنَ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْتَالاً فَخُوْرَا .(النساء ۴: ۳۶)

''اللہ کی بندگی کرو اور کسی چیز کو اس کا ساجھی نہ بناؤ اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، فقیروں، قرابت مند پڑوسی، اجنبی پڑوسی ، ہم پہلو ، مسافر اور اپنے غلاموں کے ساتھ بھی۔ اس لیے کہ اللہ اترانے والوں اور بڑائی مارنے کو پسند نہیں کرتا۔''

اعزہ واقربا

آیت سے واضح ہے کہ والدین کے بعد ان تعلقات میں پہلا حق اعزہ و اقربا کا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے حسن سلوک کو صلۂ رحمی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ انسانوں کے مابین وجہ تعلق ہم عمری بھی ہو سکتی ہے، ہم درسی، ہم سایگی، ہم نشینی، ہم مذاقی، ہم پیشگی اور ہم وطنی بھی، لیکن ان تمام تعلقات میں سب سے بڑھ کر وہی تعلق ہے جو رحم مادر کے اشتراک سے پیدا ہوتاہے۔ یہ خالق فطرت کی باندھی ہوئی گرہ ہے جسے توڑنا انسان کے لیے کسی طرح زیبا نہیں ہے، لہٰذا اس کے حقوق کی نگہداشت بھی سب سے مقدم ہے:

وَاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآءَ لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْباً.(النساء ۴: ۱)

''اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ تم ایک دوسرے کو دیتے ہو اور رشتوں کے بارے میں بھی خبردار رہو۔ بے شک ،اللہ تم پر نگران ہے۔''

اس کی یہی اہمیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے بھی واضح ہوتی ہے۔

ابو ہریرہ کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: رحم رحمن ہی سے نکلا ہوا ہے، لہٰذا اللہ نے اسے مخاطب کر کے کہا ہے کہ جس نے تجھے ملایا، اس کو میں نے اپنے ساتھ ملایا اور جس نے تجھے کاٹا، اس کو میں نے بھی الگ کیا۔ ۴۰؂

انھی کا بیان ہے کہ ایک دوسرے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن تعبیر کا اس سے بھی زیادہ نازک طریقہ اختیار کیا اور فرمایا: اللہ مخلوقات کو پیدا کر چکے تو رحم بارگاہ الٰہی میں کھڑا ہو ا او ر اس نے عرض کیا: یہ اُس کی جگہ ہے جو قطع رحمی سے آپ کی پناہ چاہتا ہے۔ اللہ نے فرمایا: بے شک، کیا تو اس سے خوش نہیں کہ جو تجھے ملائے، اس کو میں اپنے ساتھ ملاؤں اور جو تجھے کاٹے، اس کو میں بھی اپنے سے الگ کردوں۔ ۴۱؂

ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور کی خدمت میں آکر عرض کیا: یا رسول اللہ ، مجھے کو ئی ایسی بات بتایے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ ارشاد ہوا: اللہ کی بندگی کرو، کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ ؛نماز کا اہتمام کرو، زکوٰۃ دو اور قرابت مندوں کا حق ادا کرو۔ ۴۲؂

جبیربن مطعم کا بیان ہے کہ آپ نے فرمایا: قطع رحمی کرنے والا کوئی شخص جنت میں داخل نہ ہو سکے گا۔۴۳؂

انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ میں نے حضور کا یہ ارشاد سناہے کہ جس کو یہ پسند ہو کہ اُس کی روزی میں وسعت اور عمر میں برکت ہو، اسے چاہیے کہ صلۂ رحمی کرے۔۴۴؂

اس کا کمال نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ قطع رحمی کرنے والوں کے ساتھ بھی اسی کا اہتمام رکھا جائے۔۴۵؂

یتامیٰ اور مساکین

اعزہ و اقربا کے بعد یتامیٰ و مساکین کو اس حکم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ گویا یہ بھی قرابت مندوں ہی کے زمرے میں ہیں، لہٰذا ہر مسلمان کو انھیں اسی نگاہ سے دیکھنا چاہیے اور اسی جذبے سے ان کی خدمت اور سرپرستی کرنی چاہیے۔ نیکی اور خیر کا جو نصب العین اس دنیا میں انسان کو دیا گیا ہے، قرآن نے ایک جگہ بتایا ہے کہ اس تک پہنچنے کے لیے پہلا قدم یہی ہے کہ غلام آزاد کیے جائیں اور یتامیٰ ومساکین کی ضرورتیں پوری کی جائیں۔ ارشاد فرمایاہے:

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ، وَمَآ اَدْرٰکَ مَاالْعَقَبَۃُ؟ فَکُّ رَقَبَۃٍ، اَوْ اِطْعٰمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ، یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ، اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ.(البلد ۹۰: ۱۱ ۔ ۱۶ )

''پر وہ گھاٹی نہیں چڑھا ۔ اور تم کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟ (یہی کہ)گردن چھڑائی جائے اور بھوک کے دن کسی قرابت مند یتیم یا کسی خاک آلود مسکین کو کھانا کھلایا جائے۔''

سورۂ فجر میں جو اسلوب اس کے لیے اختیار کیا گیا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلوب صرف یہ نہیں کہ یتامیٰ و مساکین کی کچھ مدد کی جائے، بلکہ اصلی مطلوب یہ ہے کہ انھیں معاشرے میں عزت کا مقام حاصل رہے:

کَلَّا، بَلْ لَّا تُکْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَ، وَلَا تَحآضُّوْنَ عَلٰی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ. (۸۹: ۱۷۔۱۸)

''ہر گز نہیں، بلکہ تم یتیم کی قدر نہیں کرتے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے کے لیے ایک دوسرے کو نہیں ابھارتے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا صلہ یہ بیان فرمایا ہے کہ میں اور یتیموں کی کفالت کرنے والے جنت میں ایک دوسرے کے اس طرح قریب ہوں گے، جس طرح دو انگلیاں قریب ہوتی ہیں۔ ۴۶؂

پڑوسی ، مسافر اور غلام

اس کے بعد پڑوسی ، مسافر اور غلام کا ذکر ہے اور ان سے بھی اسی حسن سلوک کی ہدایت کی گئی ہے۔ تمدن کی تبدیلی کے باوجود مسافر تو اب بھی کسی نہ کسی صورت میں ضرورت مند ہو جاتے ہیں، لیکن غلامی اس زمانے میں ختم ہو چکی ہے۔ اسلام نے جو اقدامات اسے ختم کرنے کے لیے کیے، ان کی تفصیلات ہم نے اسی کتاب میں ''قانون معاشرت''کے زیر عنوان بیان کر دی ہیں۔ پڑوسی کے بارے میں ، البتہ قرآن کا تصور مذہب و اخلاق کی تاریخ میں ایک بالکل ہی منفرد تصور ہے۔ عام طور پر تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ پڑوسی وہ ہے جس کا مکان آپ کے مکان سے ملا ہوا یا اس کے قریب ہے، لیکن قرآن نے بتایا ہے کہ پڑوسی تین قسم کا ہوتا ہے:

ایک وہ جو پڑوسی بھی ہے اور قرابت مند بھی۔ اسے 'الجار ذی القربیٰ ' سے تعبیر کیا ہے اور اس کا ذکر سب سے پہلے ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ دوسرے پڑوسیوں کے مقابلے میں یہ حسن سلوک کا زیادہ حق دار ہے۔

دوسرا وہ جو قرابت مند تو نہیں ہے ، لیکن پڑوسی ہے ۔ اس کے لیے 'الجار الجنب ' یعنی اجنبی پڑوسی کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ اجنبیت رشتہ و قرابت کے لحاظ سے بھی ہو سکتی ہے اور دین و مذہب میں اختلاف کے باعث بھی ہو سکتی ہے۔ قرابت مند پڑوسی کے بعد اسی کا درجہ ہے۔

تیسرا وہ جو سفر و حضر میں کسی جگہ آدمی کا ساتھی یا ہم نشین بن گیا ہے۔ قرآن نے اسے 'الصاحب با لجنب'سے تعبیر کیا ہے اور اس کے لیے بھی اسی طرح حسن سلوک کی ہدایت فرمائی ہے جس طرح دوسرے پڑوسیوں کے لیے فرمائی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد ات اس باب میں یہ ہیں:

ابو شریح کی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا :خدا کی قسم ، وہ مومن نہ ہو گا؛ خدا کی قسم ،وہ مومن نہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا : کون یا رسول اللہ؟ فرمایا: جس کا پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہیں ہے۔۴۷؂

انھی کا بیان ہے کہ ارشاد ہوا: جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتاہے، اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسی کی عزت کرے۔ ۴۸؂

سیدہ عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا: جبریل نے مجھے پڑوسی کے حقوق کی اس قدر تاکید کی کہ مجھے خیال ہوا، یہ تو عنقریب اسے وراثت میں حق دار بنا دیں گے۔ ۴۹؂

ابو ذر غفاری کا بیان ہے کہ آپ نے انھیں نصیحت فرمائی : ابوذر ، شوربا پکاؤ تو اس میں پانی بڑھا دو اور اس سے اپنے ہمسایوں کی خبر گیری کرتے رہو۔ ۵۰؂

ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ یہی نصیحت آپ نے عورتوں کو بھی کی اور فرمایا: مسلمان بیویو، تم میں سے کوئی اپنی پڑوسن کے لیے کسی تحفے کو حقیر نہ سمجھے ، اگر چہ وہ بکری کا ایک کھر ہی کیوں نہ ہو۔۵۱؂

(باقی)

__________

۴۰؂ بخاری ، رقم ۵۶۴۲۔

۴۱؂ بخاری ، رقم۵۶۴۱۔مسلم، رقم۲۵۵۴۔

۴۲؂ بخاری ، رقم۵۶۳۷۔

۴۳؂ بخاری ، رقم۵۶۳۸۔ مسلم، رقم۲۵۵۶۔

۴۴؂ بخاری ، رقم ۵۶۳۹ ۔ مسلم ، رقم۲۵۵۷۔

۴۵؂ بخاری ، رقم ۵۶۴۵۔

۴۶؂ بخاری ، رقم ۵۶۵۹۔مسلم ، رقم۲۹۸۳۔

۴۷؂ بخاری ، رقم ۵۶۷۰۔

۴۸؂ بخاری ، رقم ۵۶۷۳۔

۴۹؂ بخاری ، رقم۵۶۶۸۔مسلم ، رقم ۲۶۲۴۔

۵۰؂ مسلم، رقم ۲۶۲۵۔

۵۱؂ بخاری ، رقم۵۶۷۱۔