اخلاقیات (7)


گزشتہ سے پیوستہاللہ کی راہ میں انفاق

تیسرا حکم یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں انفاق کیا جائے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں انسان کو بخشی ہیں، وہ جس طرح انھیں اپنی ذات پر خرچ کرتا ہے، اسی طرح اپنی ذاتی اور کاروباری ضرورتیں پوری کر لینے کے بعد انھیں دوسرے ابناے نو ع پر بھی خرچ کرے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اللہ کا بندہ بن کر رہنے کے لیے دو چیزوں کی ضرورت ہے: ایک یہ کہ خالق کے ساتھ انسان کا تعلق ٹھیک ٹھیک قائم ہو جائے۔ دوسری یہ کہ مخلوق کے ساتھ وہ صحیح طریقے پر جڑ جائے۔ پہلی چیز نماز سے حاصل ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کا اولین مظہر ہے،اور دوسری انفاق سے جو اس کی مخلوق کے ساتھ محبت کا اولین مظہر ہے۔ پھر اس کا صلہ بھی خدا کی محبت ہی ہے۔اس لیے کہ انسان جو کچھ خرچ کرتاہے، اسے درحقیقت آسمان پر جمع کرتاہے اور سیدنا مسیح علیہ السلام کے الفاظ میں، اس کا دل بھی اس کے نتیجے میں وہیں لگا رہتا ہے۔ ۵۲؂ قرآن نے جگہ جگہ نہا یت موثر اسالیب میں اس کی ترغیب دی ہے۔ ایک جگہ فرمایا ہے:

وَاَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنَاکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّّاْتِیَ اَحَدَکُمُ الْمَوْتُ ، فَیَقُوْلَ: رَبِّ لَوْلَآ اَخَّرْتَنِیْٓ اِلآی اَجَلٍ قَرِیْبٍ ، فَاَصَّدَّقَ وَاَکُنْ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ. (المنافقون۶۳: ۱۰)

''اور ہم نے جو روزی تمھیں دی ہے، اس میں سے خرچ کرو، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اس وقت وہ کہے کہ پروردگار ، تونے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی کہ میں خیرات کرتا اور (اِس کے نتیجے میں)تیرے نیک بندوں میں شامل ہو جاتا۔''

یہ انفاق اعزہ و اقربا اور یتامیٰ و مساکین کا حق ہے جسے ادا کرنا ضروری ہے۔ قرآن کی زیر بحث آیتوں میں اس کے لیے یہی تعبیر اختیار کی گئی ہے۔ اس سے یہ حقیقت و اضح ہوتی ہے کہ اس میں کوتاہی آدمی کو اللہ تعالیٰ کے نزدیک غصب حقوق کا مجرم بنا سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن نے یہ بات ایک دوسری جگہ صاف واضح کر دی ہے کہ ان حقوق سے بے پروا ہو کر اگر کوئی شخص مال و د ولت جمع کرتا ہے تو یہ کنز ہے اور اس کی سزا جہنم کی آگ ہے جس سے ہر بندۂ مومن کو اپنے پروردگار کی پناہ مانگنی چاہیے:

وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّھَبَ وَالْفِضَّۃَ، وَلَا یُنْفِقُوْنَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ، یَّوْمَ یُحْمٰی عَلَیْھَا فِیْ نَارِ جَھَنَّمَ ، فَتُکْوٰی بِھَا جِبَاھُہُمْ ، وَجُنُوْبُہُمْ، وَظُہُوْرُھُمْ، ھٰذَا مَا کَنَزْتُمْ لاَِ نْفُسِکُمْ، فَذُوْقُوْا مَا کُنْتُمْ تَکْنِزُوْنَ.(التوبہ ۹: ۳۴۔۳۵)

''اور جو لوگ سونا اور چاندی ڈھیر کر رہے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے، انھیں ایک درد ناک عذاب کی خوش خبری دو، اُس دن جب اُن کے اس سونے اور چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی۔ پھر اس سے اُن کی پیشانیوں ، اُن کے پہلووں اور اُن کی پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے جو تم نے اپنے لیے ذخیرہ کیا۔ تو اب چکھو اس کا مزہ جو تم جمع کرتے رہے ہو۔''

اس حکم کی یہی نوعیت ہے جس کے پیش نظر فرمایا ہے کہ جن لوگوں پر یہ حق عائد ہوتاہے، ان کے حالات اگر کسی وقت ایسے ہوں کہ کسی حق دار کی مدد سے مجبوراً اعراض کرنا پڑے اور توقع ہو کہ مستقبل میں حالات بہتر ہو جائیں گے تو اس کی دل داری کی جائے اور آیندہ کے لیے اچھے وعدے کے ساتھ رخصت کر دیا جائے: 'واما تعرضن عنہم ابتغاء رحمۃ من ربک تر جوھا ، فقل لھم قولا میسوراً'۔

یہ انفاق علانیہ ہو یا چھپا کر کیا جائے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس کا ایک ایک حصہ اس کے علم میں رہتا ہے،اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا صلہ بھی وہ اپنے وعدے کے مطابق لازماًدے گا:

وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ نَّفَقَۃٍ اَوْ نَذَرْتُمْ مِّنْ نَّذْرٍ، فَاِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُہْ، وَمَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ، اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا ھِیَ، وَاِنْ تُخْفُوْھَا وَتُؤْتُوْھَا الْفُقَرَآءَ، فَھُوَ خَیْرٌ لَّکُمْ، وَیُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِّنْ سَیِاٰتِکُمْ ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ.(البقرہ ۲: ۲۷۰۔۲۷۱)

''اور جو خرچ بھی تم کرو گے یا جو نذر بھی تم مانو گے (اُس کا صلہ لازماً پاؤ گے)، اس لیے کہ اللہ اُسے جانتا ہے اور (اللہ کی اس ہدایت سے منہ موڑ کر )اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والوں کا (اللہ کے ہاں) کوئی مدد گار نہ ہوگا۔ تم اپنی خیرات علانیہ دو تو یہ کیا ہی اچھی بات ہے اور اُسے چھپاؤ اور غریبوں کو دے دو تو یہ تمھارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ (اِس سے)اللہ تمھارے گناہ مٹادے گا اور (اس میں تو کوئی شبہ ہی نہیں کہ)جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔''

چنانچہ فرمایا ہے کہ اس انفاق کو وہ اپنے ہا ں برکت دیتا اور اپنے فضل و عنایت سے اس کی رائی کو پربت بنا دیتا ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، کَمَثَلِ حَبَّۃٍ، اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ، فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّاءَۃُ حَبَّۃٍ، وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ.(البقرہ ۲: ۲۶۱)

''اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے اس عمل کی مثال اُس دانے کی ہے جس سے سات بالیں نکلیں ، اس طرح کہ ہر بال میں سو دانے ہوں ۔ اللہ (اپنی حکمت کے مطابق)جس کے لیے چاہتا ہے، (اِسی طرح )بڑھا دیتا ہے۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ )اللہ بڑی وسعت والاہے، وہ ہر چیز سے واقف ہے۔''

استاذ امام لکھتے ہیں:

''یہ اس بڑھوتری کی تمثیل ہے جو راہ خدا میں خرچ کیے ہوئے مال کے اجروثواب میں ہوگی۔ فرمایا کہ جس طرح ایک دانے سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سوسودانے ہوں، اسی طرح ایک نیکی کا صلہ سات سو گنے تک بندے کو آخرت میں ملے گا۔ اس مضمون کی وضاحت احادیث میں بھی ہوئی ہے۔ حضور نے فرمایا ہے کہ نیکیوں کا بدلہ دس گنے سے لے کر سات سو گنے تک ملے گا۔ یہ فرق ظاہر ہے کہ عمل کی نوعیت ، عمل کے زمانے اور عمل کرنے والے کے ظاہری و باطنی حالات پر مبنی ہوگا۔ اگر ایک نیکی مشکل حالات اور تنگ وسائل کے ساتھ کی گئی ہے تو اس کا اجر زیادہ ہوگااور اگر ایک نیکی آسان حالات اور کشادہ وسائل کے ساتھ کی گئی ہے تو اس کا اجر کم ہوگا۔ پھر نیکی کرنے والے کے احساسات کا بھی اس پر اثر پڑے گا۔ ایک نیکی پوری خوش دلی اور پورے جوش و خروش کے ساتھ کی گئی ہے اور دوسری سرد مہری اور نیم دلی کے ساتھ ۔ ظاہر ہے کہ دونوں کے اجروثواب میں بھی فرق ہوگا۔ آیت میں اجر کی وہ شرح بیان ہوئی ہے جو سب سے اونچی ہے اور فرمایا ہے کہ ''اللہ تعالیٰ جس کے لیے چاہتا ہے بڑھاتا ہے۔ ''یہ اس ضابطے کی طرف اشارہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی چاہنا بھی عدل و حکمت کے خلاف نہیں ہوتا، اس وجہ سے یہ بڑھوتری انھی کے لیے وہ چاہتا ہے جو اس کے ٹھہرائے ہوئے ضابطے کے مطابق اس کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔''(تدبر قرآن ۱/ ۶۱۳)

اس کی مزید وضاحت اس طرح کی ہے کہ انفاق اگر اللہ کی رضاجوئی اور اپنے نفس کی تربیت کے لیے کیا جائے تو اس کی مثال اس شخص کی سی ہے جو بہ جانے والی زمین پر باغ لگانے کے بجائے ایسی بلند ،مسطح اور اچھی آب وہوا کی زمین پر اپنا باغ لگائے کہ بارش ہو تو اس کی بار آوری کو دوگنا کر دے اور نہ ہوتو زمین اور آب و ہواکی خوبی کے باعث ہلکی پھوار بھی کافی ہوجائے:

وَمَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمُ، ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ، وَتَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِھِمْ، کَمَثَلِ جَنَّۃٍ بِرَبْوَۃٍ، اَصَابَھَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُکُلَھَا ضِعْفَیْنِ ، فَاِنْ لَمْ یُصِبْھَا وَابِلٌ فَطَلٌّ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. بقرہ۲: ۲۶۵)

''اور اللہ کی خوش نودی کے لیے اور اپنے آپ کو (حق پر) قائم رکھنے کی غرض سے اپنا مال خرچ کرنے والوں کی مثال اس باغ کی ہے جو بلند اور ہموار زمین پر واقع ہو۔ اس پر زور کی بارش ہو جائے تو دونا پھل لائے اور زور کی بارش نہ ہو تو پھوار بھی کافی ہوجائے ۔ (یہ مثال سامنے رکھو)اور (مطمئن رہو کہ )جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔''

تا ہم یہ صلہ اس انفاق کے لیے ہے جو انسان اپنے بہترین اور پاکیزہ مال میں سے کرے اور جس کے ساتھ احسان جتانے اور دل آزاری کرنے کا کوئی رویہ نہ ہو۔ آدمی جو چیز اپنے لیے پسند نہ کر سکے ، اسے خدا کو پیش کرنا انتہائی دناء ت کی بات ہے۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے، وہ خدا ہی کا بخشا ہوا ہے۔ اس کو اسی کی راہ میں دیتے ہوئے اگر ہم پستی کا یہ رویہ اختیار کرتے ہیں تو اس سے خدا کی خوش نودی اور نفس کی تربیت تو کیا حاصل ہو گی،استاذ امام کے الفاظ میں الٹا اندیشہ ہے کہ دوری اور مہجوری کچھ اور بڑھ جائے گی۔ اسی طرح کسی کو دے کر اگر کوئی شخص احسان جتاتا اور اس کی دل آزاری کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا نے اسے مال تو دیا ہے، لیکن اس کے لحاظ سے ظرف نہیں دیا، اس لیے کہ نیکی اور خیر کی توفیق پا لینے کے بعد یہ رویہ انتہائی لئیم اور کم ظرف لوگ ہی اختیار کر سکتے ہیں جو غالباًسمجھتے ہیں کہ انھوں نے اگر کسی پر خرچ کیا ہے تو اسے اب زندگی بھر اس کا ممنون احسان بن کر رہنا چاہیے۔ چنانچہ ان کی یہ خواہش جب پوری نہیں ہوتی تو وہ اسے طعنوں کا ہدف بنا کر ہر جگہ ذلیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا، اَنْفِقُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبْتُمْ، وَمِمَّآ اَخْرَجْنَا لَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ، وَلَا تَیَمَّمُوا الْخَبِیْثَ، مِنْہُ تُنْفِقُوْنَ، وَلَسْتُمْ بِاٰخِذِیْہِ اِلَّآ اَنْ تُغْمِضُوْا فِیْہِ، وَاعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ.(البقرہ ۲: ۲۶۷)

''ایمان والو ، اپنی پاکیزہ کمائی میں سے خرچ کرو اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمھارے لیے زمین سے نکالا ہے۔ اور کوئی بری چیز تو (اللہ کی راہ میں )خرچ کرنے کا خیال بھی نہ کرو۔تم اس طرح کی چیزوں میں سے خرچ کرتے ہو، لیکن خود آنکھیں موند نہ لو تو اسے لینے کے لیے تیار نہیں ہوتے اور جان رکھو کہ (تمھاری اس خیرات سے )اللہ بے نیاز ہے، وہ ستودہ صفات ہے۔''

اسی طرح فرمایا ہے:

اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ، ثُمَّ لَا یُتْبِعُوْنَ مَآ اَنْفَقُوْا مَنًّا وَّلَآ اَذًی، لَّھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ، وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ.قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ وَّمَغْفِرَۃٌ خَیْرٌ مِّنْ صَدَقَۃٍ یَّتْبَعُھَآ اَذًی، وَاللّٰہُ غَنِیٌّ حَلِیْمٌ. یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ، لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی، کَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَہٗ رِءَآءَ النَّاسِ، وَلَا یُوؤمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ، فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ صَفْوَانٍ، عَلَیْہِ تُرَابٌ، فَاَصَابَہٗ وَابِلٌ فَتَرَکَہٗ صَلْدًا، لَا یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْءٍ مِّمَّا کَسَبُوْا، وَاللّٰہُ لَا یَھْدِی الْقَوْمَ الْکافِرِیْنَ ...اَیَوَدُّ اَحَدُکُمْ اَنْ تَکُوْنَ لَہٗ جَنَّۃٌ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَ نْھٰرُ، لَہٗ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَراتِ، وَاَصَابَہُ الْکِبَرُ وَلَہٗ ذُرِّیَّۃٌ ضُعَفَآءُ، فَاَصَابَھَا اِعْصَارٌ فِیْہِ نَارٌ، فَاحْتَرَقَتْ، کَذٰلِکَ یُبَیِّنُ اللّٰہُ لَکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُوْنَ. (البقرہ ۲: ۲۶۲۔۲۶۶)

''جو لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ، پھر جو کچھ خرچ کیا ہے ، اُس کے پیچھے نہ احسان جتاتے ہیں نہ دل آزاری کرتے ہیں، اُن کے لیے اُن کے پر وردگار کے ہاں اجر ہے اور انھیں (وہاں )کوئی اندیشہ ہوگا اور نہ وہ کوئی غم کبھی کھائیں گے۔ ایک اچھا بول اور (ناگواری کا موقع ہو تو)ذرا سی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جس کے ساتھ اذیت لگی ہو۔ اور (تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس طرح کی خیرات سے) اللہ بے نیاز ہے۔ (اِس رویے پر وہ تمھیں محروم کر دیتا، لیکن اس کامعاملہ یہ ہے کہ اس کے ساتھ )وہ بڑا بردبار بھی ہے۔ ایمان والو، احسان جتا کر اور (دوسروں کی )دل آزاری کر کے اپنی خیرات کو اُن لوگوں کی طرح ضائع نہ کرو جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور وہ نہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور نہ قیامت کے دن کو مانتے ہیں۔ سو اُن کی مثال ایسی ہے کہ ایک چٹان ہو جس پر کچھ مٹی ہو، پھر اس پر زور کا مینہ پڑے اور اس کو بالکل چٹان کی چٹان چھوڑ جائے۔ (قیامت کے دن )اُن کی کمائی میں سے کچھ بھی اُن کے ہاتھ نہ آئے گا۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ )اس طرح کے ناشکروں کو اللہ کبھی راہ یاب نہیں کرتا...کیا تم میں کوئی یہ پسند کرے گا کہ اُس کے پاس کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ ہو جس کے نیچے نہریں بہتی ہوں ۔ اس میں اس کے لیے ہر قسم کے پھل ہوں اور وہ بوڑھا ہو جائے اور اس کے بچے ابھی ناتواں ہوں اور باغ پر سموم کا بگولا پھر جائے اور وہ جل کر خاک ہو جائے۔ اللہ اسی طرح اپنی آیتیں تمھارے لیے واضح کرتا ہے تا کہ تم غور کرو۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی اس کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''یہ تمثیل ایک ایسے شخص کی ہے جس نے انگور اور کھجور وں کا باغ لگایا۔ اس باغ کے نیچے نہر جاری تھی جو اس کی شادابی کی ضامن تھی۔ باغ میں دوسرے مختلف قسم کے پھل بھی تھے اور اس سے ہر قسم کی اجناس بھی حاصل ہوتی تھیں۔ باغ کا مالک بوڑھا ہوگیا اور اس کے بچے سب چھوٹے چھوٹے تھے۔ اسی دوران میں ایک روز سموم کا ایک بگولا اس باغ پر گزرا اور سارا باغ تباہ ہو کر رہ گیا۔ فرمایا کہ یہی حال آخرت میں ان لوگوں کا ہوگا جو اپنے انفاق کو برباد کرنے والی آفتو ں سے نہیں بچاتے۔ ان کے خرمن کے لیے بجلی خود ان کی آستینوں میں چھپی ہوئی ہوتی ہے اور وہ ٹھیک اس وقت ظاہر ہو گی جب ان کے لیے کھو کر پھر پانے کا کوئی امکان باقی نہ رہے گا۔''(تدبر قرآن ۱/ ۶۱۹)

سورۂ بنی اسرائیل کی زیر بحث آیتوں میں یہ چیز بھی قرآن نے اس کے ساتھ واضح کر دی ہے کہ اس انفاق کی توفیق انھی لوگوں کو ملتی ہے جو اپنے اخراجات میں اعتدال کا رویہ اختیار کرتے اور اللہ تعالیٰ جو رزق انھیں عطا فرماتے ہیں، اس کو اپنی کسی تدبیر و حکمت کا نہیں ، بلکہ اللہ کی عنایت کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ چنانچہ دو باتیں مزید فرمائی ہیں:ایک یہ کہ مال کو اللے تللے اڑانا جائز نہیں ہے۔یہ اللہ کی نعمت ہے اور اس کے بارے میں صحیح رویہ یہ ہے کہ آدمی اعتدال اور کفایت شعاری کے ساتھ اپنی جائز ضرورتوں پر خرچ کرے اور جو کچھ بچائے، اسے حق داروں کی امانت سمجھے اور اس امانت کو نہایت احتیاط کے ساتھ ادا کرے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اپنی ضرورتوں کے معاملے میں اعتدال اور توازن کا رویہ اختیار نہیں کرتا،اسے اپنے ہی شوق پورے کرنے سے فرصت نہیں ملتی کہ دوسروں کے حقوق ادا کر پائے۔ فرمایاہے کہ جو لوگ اپنا مال اس طرح اڑاتے ہیں، وہ شیطان کے بھائی ہیں او ر شیطان اپنے رب کا بڑا ہی ناشکرا ہے۔ وہ انھیں ورغلا کر اپنی راہ پر لگا لیتا ہے اور ان سے ان کاموں پر خرچ کراتا ہے جن سے وہ خدا کی خوش نودی حاصل کرنے کے بجائے اس کی ناراضی لے کر لوٹتے ہیں۔ اس معاملے میں صحیح نقطۂ اعتدال کی وضاحت اس طرح کی ہے کہ آدمی نہ اپنے ہاتھ بالکل باندھ لے اور نہ بالکل کھلے ہی چھوڑدے کہ ضرورت کے وقت درماندہ اور ملامت زدہ ہو کر بیٹھا رہے، بلکہ اعتدال کے ساتھ خرچ کرے اور ہمیشہ کچھ بچا کر رکھے تاکہ اپنے اور دوسروں کے حقوق بروقت ادا کر سکے : 'ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ، ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوماً محسوراً'۔

دوسری یہ کہ رزق کی تنگی اور کشادگی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت کے تحت ہے ۔ انسان کی ذمہ داری صرف یہ ہے کہ وہ پوری محنت کے ساتھ اس کے اسباب پیدا کرے ۔ جو لوگ اس حقیقت کو نہیں سمجھتے، وہ دوسروں پر خرچ کرنا تو الگ رہا ، بارہا ایسے سنگ دل ہو جاتے ہیں کہ تنگ دستی کے اندیشے سے اپنی اولاد تک کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس میں خاص طور پر عرب جاہلیت میں لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے کی اس سنگ دلانہ رسم کی طرف اشارہ ہے جس کی بڑی وجہ یہی تھی کہ وہ سمجھتے تھے کہ عورت چونکہ کوئی کماؤ فرد نہیں ہے، اس لیے اس کی پرورش کا بوجھ کیوں اٹھایاجائے۔ فرمایا ہے کہ انھیں قتل نہ کرو، ان کو بھی ہم ہی رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی اور مطمئن رہو کہ اللہ اپنے بندوں کی ہر حالت پر نگران اور ان کا نگہبان ہے۔ وہ ان سے بے خبر نہیں ہے۔

یہی حقیقت ایک دوسری جگہ اس طرح بیان فرمائی ہے:

اَلشَّیْطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ، وَیَاْمُرُکُمْ بِالْفَحْشَآءِ، وَاللّٰہُ یَعِدُکُمْ مَّغْفِرَۃً مِّنْہُ وَفَضْلًا، وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ. یُّؤْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآءُ، وَمَنْ یُّؤْتَ الْحِکْمَۃَ، فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا، وَمَا یَذَّکَّرُ اِلَّآ اُولُوا الْاَلْبَابِ.(البقرہ ۲: ۲۶۸۔۲۶۹)

''شیطان تمھیں تنگ دستی سے ڈراتا اور (خرچ کے لیے) بے حیائی کی راہ سجھاتا ہے اور اللہ اپنی طرف سے تمھارے ساتھ مغفرت اور عنایت کا وعدہ کرتاہے، اور اللہ بڑی وسعت اور بڑا علم رکھنے والا ہے۔ وہ (اپنے قانون کے مطابق) جس کو چاہتا ہے، (اس وعدے کا)فہم عطا کر دیتا ہے، اور جسے یہ فہم دیاگیا ، اسے تو درحقیقت خیر کثیر کا ایک خزانہ دے دیا گیا ۔ لیکن (اِس طرح کی باتوں سے) یاددہانی صرف دانش مند ہی حاصل کرتے ہیں۔''

(باقی)

____________

۵۲؂ متی ۶: ۱۹۔۲۱۔