اخلاقیات (8)


گزشتہ سے پیوستہعفت و عصمت

چوتھا حکم یہ ہے کہ کوئی شخص زنا کے قریب نہ جائے۔ اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ کھلی بے حیائی اور نہایت برا طریقہ ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کے برائی اور بے حیائی ہونے پر کسی دلیل و حجت کی ضرورت نہیں ہے۔ انسان کی فطرت اسے ہمیشہ سے ایک بڑا گناہ اورایک سنگین جرم سمجھتی رہی ہے اور جب تک وہ بالکل مسخ نہ ہوجائے، اسی طرح سمجھتی رہے گی۔ انسان سے متعلق یہ حقیقت بالکل ناقابل تردید ہے کہ خاندان کا ادارہ اس کے لیے ہوا اورپانی کی طرح ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ یہ ادارہ صحیح فطری جذبات کے ساتھ صرف اسی صورت میں قائم ہوتا اور قائم رہ سکتا ہے، جب زوجین کا باہمی تعلق مستقل رفاقت کا ہو۔ یہ چیز اگر مفقود ہوجائے تو اس سے فطری اورروحانی جذبات سے محروم جانوروں کا ایک گلہ تو وجود میں آسکتا ہے، کوئی صالح معاشرہ اورصالح تمدن وجود پزیرنہیں ہو سکتا۔ صاحب''تفہیم القرآن '' سید ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:

''اس فعل کا اخلاقاً برا ہونا، یا مذہباً گنا ہ ہونا، یا معاشرتی حیثیت سے معیوب اور قابل اعتراض ہونا، ایک ایسی چیز ہے جس پر قدیم ترین زمانے سے آج تک تمام انسانی معاشرے متفق رہے ہیں، اوراس میں بجز ان متفرق لوگوں کے جنھوں نے اپنی عقل کو اپنی نفس پر ستی کے تابع کردیا ہے، یا جنھوں نے خبطی پن کی اپچ کو فلسفہ طرازی سمجھ رکھا ہے،کسی نے آج تک اختلاف نہیں کیا ہے۔ اس عالمگیر اتفاق رائے کی وجہ یہ ہے کہ انسانی فطرت خود زناکی حرمت کا تقاضا کرتی ہے۔ نوع انسانی کا بقا اورانسانی تمدن کا قیام، دونوں اس بات پر منحصرہیں کہ عورت اورمرد محض لطف اورلذت کے لیے ملنے اورپھر الگ ہوجانے میں آزاد نہ ہوں، بلکہ ہر جوڑے کا باہمی تعلق ایک ایسے مستقل اور پائدار عہد وفا پراستوار ہو جو معاشرے میں معلوم و معروف بھی ہو اورجسے معاشرے کی ضمانت بھی حاصل ہو۔ اس کے بغیر انسانی نسل ایک دن کے لیے بھی نہیں چل سکتی، کیونکہ انسان کا بچہ اپنی زندگی اوراپنے انسانی نشوونما کے لیے کئی برس کی درد مندانہ نگہداشت اورتربیت کا محتاج ہوتاہے ،اورتنہا عورت اس بار کو اٹھانے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوسکتی جب تک کہ وہ مرد اس کا ساتھ نہ دے جو اس بچے کے وجود میں آنے کا سبب بنا ہو۔ اسی طرح اس معاہدے کے بغیرانسانی تمدن بھی برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ تمدن کی تو پیدایش ہی ایک مرد اور ایک عورت کے مل کر رہنے، ایک گھر او رایک خاندان وجود میں لانے، اور پھر خاندانوں کے درمیان رشتے اور رابطے پیدا ہونے سے ہوئی ہے۔ اگر عورت اور مرد گھر اورخاندان کی تخلیق سے قطع نظر کر کے محض لطف و لذت کے لیے آزاد انہ ملنے لگیں تو سارے انسان بکھر کر رہ جائیں ، اجتماعی زندگی کی جڑ کٹ جائے ، اوروہ بنیاد ہی باقی نہ رہے جس پر تہذیب و تمدن کی یہ عمارت اٹھی ہے۔ ان وجوہ سے عورت اورمرد کا ایسا آزادانہ تعلق جو کسی معلوم و معروف اور مسلم عہد وفا پر مبنی نہ ہو، انسانی فطرت کے خلاف ہے۔ انھی وجوہ سے انسان اس کو ہر زمانے میں ایک سخت عیب، ایک بڑی بد اخلاقی، اور مذہبی اصطلاح میں ایک شدید گناہ سمجھتا رہاہے۔'' (تفہیم القرآن۳/ ۳۲۰)

اس فعل کی یہی شناعت ہے جس کی بنا پراللہ تعالیٰ نے صرف اتنی بات نہیں کہی کہ زنا نہ کرو، بلکہ فرمایا ہے کہ زنا کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ ایسی تمام باتوں سے دور رہو جو زناکی محرک، اس کی ترغیب دینے والی اور اس کے قریب لے جانے والی ہیں۔ سورۂ نور میں مرد وزن کے اختلاط کے جو آداب بیان ہوئے ہیں، وہ انسان کو اسی طرح کی چیزوں سے بچانے کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ مرد وعورت ، دونوں اپنے جسمانی اور نفسیاتی تقاضوں کے لحاظ سے اپنی نگاہوں کو زیادہ سے زیادہ بچا کر اوراپنے جسم میں اندیشے کی جگہوں کو زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کررکھیں اورکوئی ایسی بات نہ کریں جو ایک دوسرے کے صنفی جذبات کو برانگیختہ کرنے والی ہو۔اس کی وجہ یہ ہے کہ شیطان جب کسی معاشرے میں زناکو عام کرنا چاہتاہے تو وہ اپنی تاخت کی ابتدا بالعموم انھی چیزوں سے کرتا ہے۔قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم و حوا پر بھی وہ اسی راستے سے حملہ آور ہوا تھا۔ چنانچہ فرمایا ہے:

یٰبَنِیْٓ اٰدَمَ لاَ یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطٰنُ کَمَآاَخْرَجَ اَبَوَیْکُمْ مِّنَ الْجَنَّۃِ، یَنْزِعُ عَنْہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوَْاٰتِہِمَا، اِنَّہٗ یَرٰئکُمْ ہُوَ وَقَبِیْلُہٗ ، مِنْ حَیْثُ لاَ تَرَوْنَہُمْ، اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ. (الاعراف۷: ۲۷)

''آدم کے بیٹو، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمھیں پھر اسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے، جس طرح اُس نے تمھارے والدین کو اُن کے لباس اتروا کر کہ اُن کی شرم گاہیں اُن کے سامنے کھول دیں، اُس باغ سے نکلوا دیاتھا(جس میں وہ رہ رہے تھے )۔وہ اور اس کے ساتھی تمھیں وہاں سے دیکھتے ہیں، جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے ۔اس طرح کے شیطانوں کو (البتہ)، ہم نے اُنھی لوگوں کا ساتھی بنایا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔''

یہ حملہ کس طرح ہوتا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...وہ اپنی وسوسہ اندازیوں سے پہلے لوگوں کو اس لباس تقویٰ و خشیت سے محروم کرتاہے جو اللہ نے بنی آدم کے لیے اس ظاہری لباس کے ساتھ ایک تشریف باطنی کی حیثیت سے اتاراہے ...جب یہ باطنی جامہ اتر جاتا ہے تو وہ حیا ختم ہو جاتی ہے جو اس ظاہری لباس کی اصل محرک ہے۔ پھر یہ ظاہری لباس ایک بوجھ معلوم ہونے لگتاہے۔ بے حیائی صنفی اعضا میں، جن کا چھپانا تقاضاے فطرت ہے، عریاں ہونے کے لیے تڑپ پیدا کرتی ہے، پھر فیشن اس کو سہارا دیتا ہے اوروہ لباس کی تراش خراش میں نت نئی اختراعات سے ایسے ایسے اسلوب پیدا کرتا ہے کہ آدم کے بیٹے اورحوا کی بیٹیاں کپڑے پہن کر بھی لباس کے بنیادی مقصد ،یعنی ستر پوشی کے اعتبار سے گویا ننگے ہی رہتے ہیں۔پھر لباس میں صرف زینت اورآرایش کا پہلو باقی رہ جاتا ہے اور اس میں بھی اصل مدعا یہ ہوتاہے کہ بے حیائی زیادہ سے زیادہ دل کش زاویہ سے نمایاں ہو۔ پھر آہستہ آہستہ عقل اس طرح ماؤف ہوجاتی ہے کہ عریانی تہذیب کا نام پاتی ہے اور ساتر لباس وحشت و دقیانوسیت کا۔ پھر پڑھے لکھے شیاطین اٹھتے ہیں اور تاریخ کی روشنی میں یہ فلسفہ پیدا کرتے ہیں کہ انسان کی اصل فطرت تو عریانی ہی ہے، لباس تو اس نے رسوم و رواج کی پابندیوں کے تحت اختیار کیا ہے۔ یہ مرحلہ ہے جب دیدوں کا پانی مر جاتا ہے اورپورا تمدن شہوانیت کے زہر سے مسموم ہوجاتا ہے۔''(تدبرقرآن۳/ ۲۴۶ )

اللہ تعالیٰ نے زنا کا چرچا کرنے اوراس کے لیے ترغیبات پیدا کر نے کی کوشش کو اسی بنا پر ایک بڑا جرم قرارد یا ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ مدینہ میں جب منافقین واشرارنے اس طرح کی کوششیں شروع کیں تو ارشاد ہوا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَاوَالْاٰخِرَۃِ، وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ.(النور۲۴: ۱۹)

'' بے شک،جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں میں بدکاری پھیلے، اُن کے لیے دنیا اور آخرت، دونوں میں دردناک عذاب ہے۔ ( وہ اِسی کے سزاوارہیں ) اوراللہ (اُنھیں ) جانتاہے، لیکن تم نہیں جانتے۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسی مقصد سے عورتوں کے تیز خوشبو لگا کر باہر نکلنے ، مردوں کے پاس تنہا بیٹھنے، یا ان کے ساتھ تنہا سفر کرنے سے منع فرمایا۔ ۵۳؂ لوگوں نے دیور کے بارے میں پوچھا تو ارشادہوا کہ اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھنا موت کو دعوت دینا ہے۔۵۴؂ لمبے سفرمیں محرم رشتے داروں کو ساتھ لے جانے کی ہدایت کا مقصد بھی یہی ہے۔۵۵؂ پہلی کے بعد دوسری نظر کو فوراً پھیر لینے کے لیے بھی اسی لیے کہا ہے۔ ۵۶؂ غنا اور موسیقی کی بعض صورتوں کے بارے میں بھی اسی لیے متنبہ فرمایا ہے کہ وہ اس کی محرک ہو سکتی ہیں۔ ۵۷؂ آپ کا ارشاد ہے کہ آدم کے بیٹے زنا میں سے کچھ نہ کچھ حصہ لازماً پا لیتے ہیں۔ چنانچہ دیدہ بازی آنکھوں کی زنا ہے، لگاوٹ کی بات چیت زبان کی زنا ہے، اس طرح کی باتوں سے لذت لینا کانوں کی زنا ہے، ہاتھ لگانا اور اس کے لیے چلنا ہاتھ پاؤں کی زنا ہے۔ پھر دل و دماغ خواہش کرتے ہیں اور شرم گاہ کبھی اس کی تصدیق کرتی ہے اور کبھی جھٹلا دیتی ہے۔ ۵۸؂

یہ سد ذریعہ کی ہدایات ہیں اور اسی لیے دی گئی ہیں کہ زنا کو وہاں سے روک دیا جائے، جہاں سے اس کے لیے سفر کی ابتدا ہوتی ہے۔

[باقی]

____________

۵۳؂ بخاری ، رقم ۱۰۳۸۔

۵۴؂ بخاری ، رقم ۴۹۳۴۔ مسلم ، رقم ۲۱۷۲۔

۵۵؂ بخاری ، رقم ۱۰۳۶۔ مسلم ، رقم ۱۰۴۰۔

۵۶؂ ابوداؤد ، رقم ۲۱۴۸۔

۵۷؂ بخاری ، رقم ۵۲۶۸۔

۵۸؂ بخاری ، رقم ۵۸۸۹۔ مسلم ، رقم ۲۶۵۷۔