اخلاقیات (9)


گزشتہ سے پیوستہ

انسانی جان کی حرمت

پانچواں حکم یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو قتل نہ کرے۔ مذہب و اخلاق کی رو سے انسانی جان کو جو حرمت ہمیشہ سے حاصل رہی ہے، یہ اسی کا بیان ہے۔ قرآن نے بتایا ہے کہ اس کے بارے میں یہی تاکید اس سے پہلے بنی اسرائیل کو کی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے یہ بات ان پر لکھ دی تھی کہ ایک انسان کا قتل درحقیقت پوری انسانیت کا قتل ہے۔ تالمود میں یہ فرمان کم و بیش انھی الفاظ میں آج بھی موجود ہے۔ ۵۹؂ سورۂ مائدہ میں قرآن نے اسی کا حوالہ دیا ہے:

مِنْ اَجْلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلٰی بَنِیْٓ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ، اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا، وَمَنْ اَحْیَاہَا فَکَاَنَّمَآ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا.(۵: ۳۲)

''اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا کہ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، اُس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی انسان کو بچایا، اس نے گویا تمام انسانوں کو بچا لیا۔''

اس فرمان سے واضح ہے کہ کسی انسان کی جان دو ہی صورتوں میں لی جا سکتی ہے: ایک یہ کہ وہ کسی کو قتل کر دے، دوسری یہ کہ نظم اجتماعی سے سرکشی کر کے وہ دوسروں کی جان و مال اور آبرو کے درپے ہو جائے۔ زمین میں فساد پھیلانے کی تعبیر یہاں اسی مفہوم کے لیے اختیار کی گئی ہے۔ اس کے سوا ہر قتل ایک ناحق قتل ہے جس کی سزاقرآن کی رو سے ابدی جہنم ہے۔۶۰؂ مسلمانوں میں سے جو لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کے خلاف اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں، انھیں قرآن نے اس طرح متنبہ فرمایاہے:

وَمَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا، فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا، وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَلَعَنَہٗ، وَاَعَدَّ لَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًا .(النساء ۴: ۹۳)

''اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے، اس کی سزا جہنم ہے، وہ اس میں ہمیشہ رہے گا اوراس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہوئی اور اُس کے لیے اس نے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔''

اسی طرح یہ بات بھی قرآن نے واضح کر دی ہے کہ اس جرم کے مرتکبین کا معاملہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ نہیں ہے ، مقتول کے اولیا کے ساتھ بھی ہے اور ان کو اللہ نے پورا اختیار دے دیا ہے، لہٰذا دنیا کی کوئی عدالت ان کی مرضی کے بغیر قاتل کو کوئی رعایت نہیں دے سکتی۔ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اگر قصاص پر اصرار کریں تو ان کی مدد کرے اور جو کچھ وہ چاہیں، اسے پوری قوت کے ساتھ اور ٹھیک ٹھیک نافذ کر دے۔

تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ مقتول کے اولیا اپنی اس حیثیت میں حدود سے تجاوز کریں اور مثال کے طور پر جوش انتقام میں قاتل کے علاوہ دوسروں کو بھی قتل کرنے کی کوشش کریں یا اپنی شرافت و نجابت اور برتری کے زعم میں اپنے غلام کے بدلے میں آزاد اور عورت کے بدلے میں مرد کے قتل کا مطالبہ کریں یا مجرم کو عذاب دے دے کر ماریں یا مار دینے کے بعد اس کی لاش پر غصہ نکالیں یا قتل کے ایسے طریقے اختیار کریں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔'فلا یسرف فی القتل' کے الفاظ یہاں اسی تنبیہ کے لیے آئے ہیں۔

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ قیامت میں یہی اختیار مقتول کو بھی حاصل ہو گا اور اس کی مرضی کے بغیر قاتل کو وہاں بھی کوئی رعایت نہ مل سکے گی۔

یتیم کے مال میں خیانت

چھٹا حکم یہ ہے کہ یتیم کے مال میں کوئی ناجائز تصرف نہ کیا جائے۔ اس حکم کے الفاظ وہی ہیں جو اوپر زنا سے روکنے کے لیے آئے ہیں۔ یعنی یتیم کی بہبود اور بہتری کے ارادے کے سوا اس کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ یتیم کے مال میں صرف وہی تصرف جائز ہے جو اس کی حفاظت اور نشوونما کی غرض سے کیا جائے اور اسی وقت تک کیا جائے، جب تک یتیم سن رشد کو پہنچ کر اپنے مال کی ذمہ داری خود سنبھالنے کے قابل نہیں ہو جاتا۔ سورۂ نساء میں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے چند متعین ہدایات دی ہیں، لیکن ان کا تعلق چونکہ شریعت کے مباحث سے ہے ، اس لیے انھیں ہم اسی کتاب میں آگے ''قانون معاشرت ''کے زیر عنوان بیان کریں گے۔ یہاں اتنی بات ، البتہ واضح رہے کہ آیۂ زیر بحث میں جس چیز سے روکا گیا ہے، وہ قرآن کی رو سے ایک نہایت سنگین جرم ہے، اسے کوئی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے۔ چنانچہ فرمایا ہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ یَاْکُلُوْنَ اَمْوَالَ الْیَتٰمٰی ظُلْمًا، اِنَّمَا یَاْکُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِہِمْ نَارًا، وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیْرًا. (النساء ۴: ۱۰)

''اس میں شبہ نہیں کہ جو لوگ یتیموں کا مال ناحق کھاتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ بھرتے ہیں اور عنقریب وہ دوزخ کی بھڑکتی آگ میں پڑیں گے۔''

عہد کی پابندی

ساتواں حکم یہ ہے کہ جو عہد بھی کیا جائے، اسے ہر حال میں پورا کیا جائے۔ فرمایاہے کہ اس کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ سورۂ بقرہ میں یہی بات نہایت اہتمام و اختصاص اور تاکید و تنبیہ کے اسلوب میں اس طرح بیان ہوئی ہے: 'والموفون بعھدھم اذا عاھدوا'۶۱؂ (اور جب عہد کر بیٹھیں تو اس کو پورا کرنے والے ہوں )۔ اس عہد میں، ظاہر ہے کہ ہر قسم کے عہد شامل ہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...ایفائے عہد کے اندر تمام چھوٹے بڑے حقوق و فرائض آجاتے ہیں خواہ وہ خلق سے متعلق ہوں یا خالق سے، خواہ وہ کسی تحریری معاہدہ سے وجود میں آتے ہوں یا کسی نسبت ، تعلق، رشتہ داری اور قرابت سے، خواہ ان کا اظہار و اعلان ہوتا ہو یا وہ ہر اچھی سوسائٹی میں بغیر کہے ہوئے سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ اللہ اور رسول، ماں اور باپ، بیوی اور بچے، خویش و اقارب، کنبہ اور خاندان، پڑوسی اور اہل محلہ، استاد اور شاگرد، نوکر اور آقا، ملک اورقوم، ہر ایک کے ساتھ ہم کسی نہ کسی ظاہری یا مخفی معاہدے کے تحت بندھے ہوئے ہیں، اور یہ بر و تقویٰ کا ایک لازمی تقاضا ہے کہ ان تمام معاہدوں کے حقوق ادا کرنے والے بنیں۔ گویا ایفائے عہد کی اصل روح ایفائے حقوق ہے اور ایفائے حقوق انسان کے تمام چھوٹے بڑے فرائض کو محیط ہے۔'' (تدبر قرآن ۱/ ۴۲۹)

قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر بھی یہ حکم اسی تاکید کے ساتھ آیا ہے۔ ۶۲؂ جہاد و قتال کے موقع پر بھی جو سب سے اہم ہدایت قرآن میں بیان ہوئی ہے، وہ یہی عہد کی پابندی ہے۔سورۂ توبہ منکرین حق پر عذاب کی سورہ ہے اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو مشرکین عرب کے ساتھ تمام معاہدات ختم کر کے آخری اقدام کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اتنی بات اس میں بھی واضح کر دی گئی ہے کہ کوئی معاہدہ اگروقت کی قید کے ساتھ کیا گیا ہے تو اس کی مدت لازماً پوری کی جائے گی۔ ۶۳؂ اسی طرح انفال میں صاف بتا دیا گیا ہے کہ کوئی معاہد قوم اگر مسلمانوں پر ظلم بھی کر رہی ہوتو معاہدے کی خلاف ورزی کر کے ان کی مدد نہیں کی جاسکتی۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ یُہَاجِرُوْا، مَا لَکُمْ مِّنْ وَّلاَیَتِہِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوْا، وَاِنِ اسْتَنْصَرُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ، فَعَلَیْکُمُ النَّصْرُ اِلاَّ عَلٰی قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَبَیْنَہُمْ مِّیْثَاقٌ، وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ. (۸: ۷۲)

''رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئے ہیں، مگر انھوں نے ہجرت نہیں کی تو اُن سے تمھار ا کوئی رشتۂ ولایت نہیں ہے، جب تک وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں۔ اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد چاہیں تو اُن کی مدد کرنا تم پر لازم ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں، جس کے ساتھ تمھارا معاہدہ ہو۔ اور (حقیقت یہ ہے کہ) جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اُسے دیکھ رہاہے۔''

ناپ تول میں دیانت

آٹھواں حکم یہ ہے کہ ناپ تول میں کمی بیشی نہ کی جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ زمین و آسمان کواس نے ایک میزان پر قائم فرمایا ہے، لہٰذا یہ ضروری ہے کہ انسان بھی اپنے دائرۂ اختیار میں انصاف پر قائم رہے اور ہمیشہ صحیح پیمانے سے ناپے اور ٹھیک ترازو سے تولے۔ سورۂ رحمن میں ہے:

وَالسَّمَآءَ رَفَعَہَا وَوَضَعَ الْمِیْزَانَ اَلَّا تَطْغَوْا فِی الْمِیْزَانِ، وَاَقِیْمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِیْزَانَ.(۵۵: ۷۔۹)

''اور اُس نے آسمان کو اونچا کیا اور اس میں میزان قائم کی کہ تم بھی (اپنے دائرۂ اختیار میں اسی طرح ) میزان میں خلل نہ ڈالو، اور انصاف کے ساتھ سیدھی تول تولو اور وزن میں کمی نہ کرو۔''

اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک عظیم حکم ہے اور اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسی میزان انصاف کی فرع ہے جس پر یہ دنیا قائم ہے۔ چنانچہ اس سے انحراف اگر کوئی شخص کرتا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ عدل و قسط کے تصور میں اختلال واقع ہو چکا اور خدا کے قائم بالقسط ہونے کا عقیدہ باقی نہیں رہا۔ اس کے بعد، ظاہر ہے کہ معیشت اور معاشرت کا پورا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور تمدن کی کوئی اینٹ بھی اپنی جگہ پر قائم نہیں رہتی۔ سیدنا شعیب کی قوم اسی بیماری میں مبتلا تھی۔ ان کی نصیحت قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر نقل ہوئی ہے۔ سورۂ شعرا ء میں فرمایاہے:

اَوْفُوا الْکَیْلَ، وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُخْسِرِیْنَ، وَزِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ، وَلَاتَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَ ہُمْ، وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ.(۲۶: ۱۸۱۔۱۸۴)

''تم پورا ناپو اور کسی کو گھاٹا نہ دو، اور صحیح ترازو سے تولو اور لوگوں کی چیزوں میں کمی نہ کرو، اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔''

اشیا میں ملاوٹ کا معاملہ بھی یہی ہے۔ اگر کوئی شخص دودھ میں پانی، شکر میں ریت اور گندم میں جو ملا کر بیچتا ہے تو اسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس لیے کہ پورا تول کر بھی وہ خریدار کو اس کی خریدی ہوئی چیز پوری نہیں دیتا۔ یہ درحقیقت دوسرے کے حق پر ہاتھ ڈالنا ہے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت، دونوں میں یقیناًبرا ہو گا۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ پیمانے سے دو تو پورا بھر کر دو اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو، اس لیے کہ یہی بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی یہی اچھا ہے۔

اوہام کی پیروی

نواں حکم یہ ہے کہ جس چیز کا علم نہ ہو ، کوئی شخص اس کے پیچھے نہ لگے۔ قرآن نے متنبہ فرمایا ہے کہ اسے کوئی معمولی بات نہیں سمجھنا چاہیے، اس لیے کہ انسان کی سماعت و بصارت اور دل و دماغ، ہر چیز کو ایک دن خدا کے حضور میں جواب دہ ہونا ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ کسی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ بدگمانی کرے یا کسی پر الزام لگائے یا تحقیق کے بغیر کسی کے خلاف کوئی قدم اٹھائے یا محض شبہات پر افواہیں اڑائے یا اپنے پروردگار کی ذات و صفات اور احکام و ہدایات کے بارے میں ظنون و اوہام اور لاطائل قیاسات پر مبنی کوئی نقطۂ نظر اختیار کرے۔ سورۂ حجرات میں ان میں سے بعض چیزیں اسی صراحت کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا، اِنْ جَآءَ کُمْ فَاسِقٌ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا اَنْ تُصِیْبُوْا قَوْمًا بِجَہَالَۃٍ، فَتُصْبِحُوْا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیْنَ.(۴۹: ۶)

''ایمان والو، اگر کوئی فاسق تمھارے پاس کوئی اہم خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو، ایسانہ ہو کہ تم کسی قوم پر نادانی سے جا پڑو اور پھر اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔''

یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا، اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ، اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ، وِّلَا تَجَسَّسُوْا. (۴۹: ۱۲)

''ایمان والو، بہت زیادہ گمان کرنے سے پرہیز کرو، اس لیے کہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں اور کسی کی ٹوہ میں نہ رہو۔''

ان آیتوں میں پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ اگر کوئی فاسق کسی اہم بات کی اطلاع دے تو نفس واقعہ کی تحقیق کیے بغیر کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ مبادا کہ جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر کوئی قدم اٹھا لیا جائے اور بعد میں اس پر پچھتانا پڑے۔

اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اطلاع دینے والا اگر کوئی مجہول شخص ہے جس کا نہ فسق معلوم ہے اور نہ ثقاہت تو اس کی تحقیق بھی لازماً ہونی چاہیے۔ ہمارے محدثین نے اسی اصول پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علم و عمل کی روایت کرنے والوں کے حالات کی تحقیق کی ہے اور اگر کسی راوی کی تحقیق میں ان کو کامیابی نہیں ہوئی تو اسے مجہول قرار دے کر اس کی روایت کو انھو ں نے رد کر دیا ہے۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ زیادہ گمان نہ کیے جائیں، اس لیے کہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں۔ استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس کی وضاحت میں لکھا ہے:

''...انسان کو جن سے زندگی میں واسطہ پڑتا ہے ، ان کی بابت کوئی اچھا یا برا گمان دل میں پیدا ہونا ایک امر فطری ہے۔ یہی گمان آدمی کو آدمی سے جوڑتا یا توڑتا ہے۔ اس پہلو سے معاشرے میں یہ وصل و فصل کی بنیاد ہے۔ اس کی اس اہمیت کا تقاضا ہے کہ آدمی اس کے ردوقبول کے معاملے میں بھی بے پروا و سہل انگار نہ ہو ، بلکہ نہایت ہوشیار اور بیدار مغز رہے۔ اہل ایمان کو اسلام نے اس باب میں یہ رہنمائی دی ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بارے میں ہمیشہ نیک گمان رکھے ، الاآں کہ یہ ثابت ہو جائے کہ وہ اس نیک گمان کا سزاوار نہیں ہے۔ یہ نیک گمانی اس ایمانی اخوت کا لازمی تقاضا ہے جس پر اسلام نے معاشرے کی بنیاد رکھی ہے اور جس کی وضاحت اوپر ہو چکی ہے۔ اگر کوئی شخص اس کے برعکس یہ اصول ٹھیرالے کہ جو رطب و یابس گمان اس کے دل میں پیدا ہوتے جائیں، ان سب کو سینت کے رکھتا جائے تو گمانوں کے ایسے شوقین کی مثال اس شکاری کی ہے جو مچھلیاں پکڑنے کے شوق میں ایسا اندھا ہو جائے کہ مچھلیاں پکڑتے پکڑتے سانپ بھی پکڑ لے۔ ظاہر ہے کہ مچھلیوں کے شوق میں جو شخص ایسا اندھا بن جائے گا ، اندیشہ ہے کہ اسی شوق میں کسی دن وہ اپنی زندگی ہی گنوا بیٹھے گا۔ قرآن نے یہاں اسی خطرے سے مسلمانوں کو روکا ہے کہ گمانوں کے زیادہ درپے نہ ہو ، کیونکہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ اس سے یہ تعلیم نکلی کہ ایک مومن کو بدگمانیوں کا مریض نہیں بننا چاہیے ، بلکہ اپنے دوسرے بھائیوں سے حسن ظن رکھنا چاہیے۔ اگر کسی سے کوئی ایسی بات صادر ہو جو بدگمانی پیدا کرنے والی ہو تو حتی الامکان اس کی اچھی توجیہ کرے ، اگر کوئی اچھی توجیہ نکل سکتی ہو۔ اس کے برے پہلو کو اسی شکل میں اختیار کرنا جائز ہے جب اس کی کوئی اچھی توجیہ نہ نکل سکے۔ اگر بدگمانی کے سزاوار سے آدمی کو خوش گمانی ہو تو یہ اس بات کے مقابل میں اہون ہے کہ وہ کسی خوش گمانی کے حق دار سے بدگمانی رکھے۔ ''(تدبر قرآن ۷/ ۵۰۹)

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہیں۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...یہاں ممانعت اس ٹوہ میں لگنے کی ہے جو برے مقصد سے ہو۔ یعنی تلاش اس بات کی ہو کہ دوسرے کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی بات ہاتھ آئے جس سے اس کی خامیوں سے آگاہی اور اس کے اندرون خانہ کے اسرار تک رسائی ہو۔ یہ چیز کبھی تو حسد کے جذبہ سے پیدا ہوتی ہے کہ حریف کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آئے جس سے کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ کبھی بغض و عناد کی شدت اس کا باعث ہوتی ہے کہ کوئی ایسی بات ہاتھ لگے جس کی عندالضرورت تشہیر کر کے مخالف کو رسوا کیا جاسکے۔ اس زمانے میں اس نے ایک پیشہ کی شکل بھی اختیار کر لی ہے جس کو جدید اخبار نویسی نے بہت ترقی دی ہے۔ بعض اخبار نویس رات دن کسی نہ کسی اسکینڈل کی تلاش میں گھومتے رہتے ہیں اور ان میں سب سے زیادہ شاطر وہ اخبار نویس سمجھا جاتاہے جو کسی نمایاں شخصیت کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی ایسا اسکینڈل تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائے جس سے اس کا اخبار یا رسالہ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ اس طرح کا تجسس ، ظاہر ہے کہ اس اخوت اور باہمی ہمدردی کے بالکل منافی ہے جو اسلامی معاشرہ کی اساس ہے، اس وجہ سے اہل ایمان کو اس سے روکا گیا ہے۔ رہا وہ تجسس جو ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے حالات کا اس مقصد سے کرتا ہے کہ اس کی مشکلات و ضروریات میں اس کا ہاتھ بٹا سکے یا ایک اسلامی حکومت اس غرض سے کرتی ہے کہ رعایا کے حالات سے پوری طرح باخبر رہے تو یہ تجسس نہ یہاں زیر بحث ہے اور نہ یہ ممنوع ہے ، بلکہ ہر شریف پڑوسی کے لیے یہ نہایت نیکی کا کام ہے کہ وہ اپنے پڑوسیوں کے حالات و مسائل سے آگاہ رہے تا کہ ان کی مشکلات میں ان کی مدد کر سکے اور حکومت کے لیے تو یہ صرف نیکی ہی نہیں ، بلکہ اس کا فریضہ ہے کہ وہ رعایا کے اچھے اور برے ، دونوں طرح کے حالات سے پوری طرح باخبر رہنے کا اہتمام رکھے تا کہ اپنی ذمہ داریوں سے صحیح طور پر عہدہ برآ ہو سکے۔'' (تدبر قرآن ۷/ ۵۱۰)

غرور و تکبر

دسواں حکم یہ ہے کہ خدا کی زمین پر کوئی شخص اکڑ کر نہ چلے، اس لیے کہ یہ مغروروں اور متکبروں کی چال ہے۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ تم کتنا ہی زمین پر پاؤں مارتے ہوئے چلو، لیکن اس کو پھاڑ نہیں سکتے اور کتنا ہی اترا کر اور سر اٹھا کو چلو، لیکن پہاڑوں کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...مطلب یہ کہ جس خدا کی قدرت کی یہ شانیں دیکھتے ہو کہ اس نے تمھارے پاؤں کے نیچے یہ طویل و عریض زمین بچھا دی جس کے اوپر تمھاری حیثیت ایک بھنگے اور چیونٹی کی بھی نہیں اور جس نے یہ فلک بوس پہاڑ تمھارے آگے کھڑے کر دیے جن کے سامنے تم ایک گلہری کی بھی حیثیت نہیں رکھتے ، اس کی زمین پر اکڑنے اور اترانے کے کیا معنی ؟ اپنی حیثیت پہچانو اور خداکی عظمت اور اس کے جلال کے آگے ہمیشہ سرفگندہ رہو۔''(تدبر قرآن ۴/ ۵۰۲)

اس طرح کی چال ، ظاہر ہے کہ آدمی کے باطن کی ترجمان ہوتی ہے۔ دولت، اقتدار، حسن، علم، طاقت اور ایسی ہی دوسری جتنی چیزیں آدمی کے اندر غرور پیدا کرتی ہیں، ان میں سے ہر ایک کا گھمنڈ اس کی چال کے ایک مخصوص ٹائپ میں نمایاں ہوتا اور اس بات پر دلیل بن جاتا ہے کہ اس کا دل بندگی کے شعور سے خالی ہے اور اس میں خدا کی عظمت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جس دل میں بندگی کا شعور اور خدا کی عظمت کا تصور ہو، وہ انھی لوگوں کے سینے میں دھڑکتا ہے جن پر تواضع اور فروتنی کی حالت طاری رہتی ہے۔ وہ اکڑنے اور اترانے کے بجائے سر جھکا کر چلتے ہیں۔ لہٰذا یہ ایک بدترین خصلت ہے اور اس کی سزا بھی نہایت سخت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جس شخص کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی غرور ہو، وہ جنت میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ۶۴؂ نیز فرمایا ہے کہ عزت پروردگار کی ازار اور بزرگی اس کی ردا ہے۔ جو ان میں اس کا مقابلہ کرے گا، اسے عذاب دیا جائے گا۔۶۵؂

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ انسان کا یہ غروروتکبر صرف اس کی چال میں ظاہر نہیں ہوتا، اس کی گفتگو، وضع قطع،لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے:

وَلَا تُصَعِّرْ خَدَّکَ لِلنَّاسِ، وَلَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا، اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ. وَاقْصِدْ فِیْ مَشْیِکَ، وَاغْضُضْ مِنْ صَوْتِکَ، اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوْتُ الْحَمِیْرِ.(لقمان۳۱: ۱۸۔۱۹)

''اور لوگوں سے بے رخی اختیار نہ کرو اور زمین میں اکڑ کر نہ چلو، اس لیے کہ اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر جتانے والے کو پسند نہیں کرتا، اور اپنی چال میں میانہ روی اختیار کرو اور اپنی آواز کو پست رکھو ۔ بے شک،سب سے بری آواز گدھے کی آواز ہے۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی بنا پر ایسی تمام چیزوں کے استعمال سے منع کیا ہے جن سے امارت کی نمایش ہوتی ہو یا وہ بڑائی مارنے، شیخی بگھارنے، دون کی لینے، دوسروں پر رعب جمانے یا اوباشوں کے طریقے پر دھونس دینے والوں کی وضع سے تعلق رکھتی ہوں۔ریشم پہننے، قیمتی کھالوں کے غلاف بنانے اور سونے چاندی کے برتنوں میں کھانے پینے سے آپ نے اسی لیے روکا ہے۔ ۶۶؂ یہاں تک کہ چھوٹی ڈاڑھی اور بڑی بڑی مونچھیں رکھنے والوں کو بھی یہ متکبرانہ وضع ترک کر دینے کی نصیحت کی اور فرمایا ہے کہ وہ اپنا یہ شوق ڈاڑھی بڑھا کر پورا کرلیں، لیکن مونچھیں ہر حال میں چھوٹی رکھیں۔ ۶۷؂ آپ کا ارشاد ہے: جس نے اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لیے کوئی لباس پہنا، اللہ اسے قیامت میں ذلت کا لباس پہنائے گا، پھر اس میں آگ بھڑکا دی جائے گی۔ ۶۸؂ اسی طرح فرمایاہے: اللہ قیامت کے دن اس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جو غرور سے اپنا تہ بند گھسیٹتے ہوئے چلتا ہو۔ ۶۹؂

پھر یہی نہیں ، انسان کی یہ نفسی کیفیت بعض بڑے بڑے گناہوں کا باعث بھی بنتی ہے۔ چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ حق کو حق سمجھتے ہوئے اس کی تکذیب کر دینے، رنگ و نسل اور حسب و نسب کے اعتبار سے اپنے آپ کو برتر سمجھنے، دوسروں کو حقیر سمجھ کر ان کا مذاق اڑانے، ان پر طعن کرنے ، برے القاب دینے اور پیٹھ پیچھے ان کے عیب اچھالنے جیسے گناہوں کا محرک انسان کا یہی پندار نفس اور غرور و تکبر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب چیزوں سے بھی نہایت سختی کے ساتھ روکا ہے۔

حق سے اعراض اور اس کے مقابلے میں استکبار کا رویہ اختیار کرنے والوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ اپنے اس جرم کو معمولی نہ سمجھیں۔ ان کی سزا یہ ہے کہ خدا کی جنت کے دروازے ان کے لیے بند ہیں۔ اوپر اور نیچے سے جہنم ہی ان کا اوڑھنا بچھونا ہوگی اور وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے:

اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا، وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْہَا، لاَ تُفَتَّحُ لَہُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ ، وَلاَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ، وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ. لَہُمْ مِّنْ جَہَنَّمَ مِہَادٌ، وَمِنْ فَوْقِہِمْ غَوَاشٍ، وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ. (الاعراف ۷: ۴۰۔۴۱)

'' یہ حقیقت ہے کہ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے اور ان سے متکبرانہ منہ موڑ لیا ہے، ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور نہ وہ جنت میں داخل ہو سکیں گے ۔ ہاں، اس صورت میں کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سما جائے۔ (یہ اُن کی سزا ہے) اور ہم مجرموں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ اُن کے لیے دوزخ ہی کا بچھونا اور اُسی کا اوڑھنا ہو گا، اور ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں۔''

اپنے حسب و نسب پر فخر کرنے والوں کو توجہ دلائی ہے کہ تمام انسان آدم و حوا کی اولاد ہیں۔ کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک عز و شرف کی بنیاد کسی شخص کے خاندان او رقبیلہ یا رنگ و نسل پر نہیں، بلکہ تقویٰ پر ہے۔ اس کے ہاں وہی عزت پائے گا جو سب سے بڑھ کر اس سے ڈرنے والا اور اس کے حدود کی پابندی کرنے والا ہے، اگرچہ کتنے ہی حقیر اور گم نام خاندان سے اٹھا ہو ۔ اور جو سرکشی اور استکبار اختیار کرے گا، وہ لازماً ذلت سے دوچار ہو گا، اگرچہ کتنا ہی بڑا قریشی اور ہاشمی ہو۔ خاندانوں کی یہ تقسیم محض تعارف اور پہچان کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوں کے چہرے مہرے، رنگ اور قد وقامت میں فرق رکھا ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو پہچان سکیں، اسی طرح خاندانوں کی تقسیم بھی اسی مقصد سے کی ہے۔ اس سے زیادہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے:

یٰٓاَ یُّہَا النَّاسُ، اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَاُنْثٰی، وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوْبًا وَّقَبَآءِلَ لِتَعَارَفُوْا، اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ، اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ. (الحجرات ۴۹: ۱۳)

'' لوگو، ہم نے تمھیں ایک مرد و عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر قبیلوں اور برادریوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے۔ بے شک، اللہ علیم و خبیر ہے۔''

دوسروں کا مذاق اڑانے والوں کو تلقین کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی کے شریف یا رذیل ہونے کا انحصار اس کے ایمان و عمل پر ہے اور اس کا صحیح وزن اللہ تعالیٰ کی میزان عدل ہی بتائے گی۔ نہیں کہا جا سکتا کہ جو لوگ اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھ رہے ہیں، وہ قیامت کے دن ذلت کے کس مقام پر ہوں گے اور جنھیں یہاں ذلیل سمجھا جاتا ہے ، وہ خدا کی بادشاہی میں کس اونچے درجے پر فائز ہوں گے۔ اس لیے ہر مسلمان کو متنبہ رہنا چاہیے کہ ایمان کی نعمت سے بہرہ یاب ہونے کے بعد وہ اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ 'انما المومنون اخوۃ' ۷۰؂ کے رشتے میں بندھا ہوا ہے۔ اس کے لیے کسی طرح زیبا نہیں ہے کہ ان کو حقیر خیال کرکے ان کا مذاق اڑائے اور طنز و تعریض کا ہدف بنائے:

یٰٓاَ یُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ، عَسٰٓی اَنْ یَّکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْہُمْ، وَلَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ ، عَسآی اَنْ یَّکُنَّ خَیْرًا مِّنْہُنَّ .(الحجرات ۴۹: ۱۱)

'' ایمان والو، نہ مرد دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ٹھیریں اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ٹھیریں۔''

اپنے بھائیوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے کہ اس سے اجتناب کرو۔ سورۂ حجرات میں اس کے لیے 'لا تلمزوا انفسکم' کی تعبیر اختیار کی گئی ہے جس سے یہ بات نکلتی ہے کہ جو مسلمان کسی دوسرے مسلمان پر طعن کرتا ہے، وہ گویا اپنے ہی اوپر طعن کرتا ہے۔ پھر ' لمز' کا لفظ استعمال کیا ہے جس میں بعض دوسرے مفاہیم، مثلاً عیب چینی کرنا، پھبتیاں کسنا، چوٹیں کرنا، الزام دھرنا اور کھلم کھلا یا اشارے کنایے سے کسی کو اعتراضات کا ہدف بنانا بھی شامل ہیں۔ ان سب چیزوں میں، ظاہر ہے کہ اپنی بڑائی اور دوسرے کی تحقیر و تذلیل ہی کے جذبات کا رفرما ہوتے ہیں۔ اسی نوعیت کا ایک جرم ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرنا ہے۔ دور جاہلیت کے عربوں میں یہ ذوق بہت تھا اور وہ اسے کمال فن سمجھتے تھے۔ قبیلہ کا سب سے بڑا شاعر اور خطیب وہی مانا جاتا تھا جو دوسروں کے مقابل میں اپنے قبیلہ کے مفاخر بیان کرنے اور حریفوں کی ہجوو تحقیر میں یکتا ہو۔ چنانچہ اس سے بھی منع کیا اور فرمایا ہے کہ یہ تمسخر، طعن و تشنیع اور تنابز بالالقاب سراسر فسق ہیں اور ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی برا ہے۔ لہٰذا کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کرے:

وَلَا تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ، وَلَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ، بِءْسَ الاِسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ، وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ، فَاُوْلٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ.(الحجرات ۴۹: ۱۱)

'' او رنہ اپنوں پر طعن کرو، نہ ایک دوسرے پر برے القاب چسپاں کرو۔ ایمان کے بعد فسق کا تو نام بھی برا ہے۔ ( اِس سے توبہ کرو) اور (یاد رکھوکہ) جو اس سے

توبہ نہ کریں گے، وہی ظالم ہیں۔''

غیبت کرنے والوں کو فہمایش کی ہے کہ یہ انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ اس کی مثال بالکل ایسی ہے کہ کوئی شخص اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے۔ مردے کا گوشت کھانا بجائے خود قابل نفرت ہے۔ پھر وہ گوشت بھی اپنے بھائی کا ہو تو اسے کوئی شخص کس طرح کھانا پسند کر سکتا ہے؟ اس میں اگر غور کیجیے تو اپنی مدافعت سے اس کی بے بسی کی تصویر بھی نمایاں ہے۔ قرآن نے اس تشبیہ کو پیش کرکے پوچھا ہے کہ تم جب اس کو گوارا کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو اسی طرح کی ایک نہایت مکروہ او رقابل نفرت چیز، غیبت کو کس طرح گوارا کرتے ہو؟

یہ غیبت کیا ہے؟ استاذ امام لکھتے ہیں:

'' ... غیبت کے معنی کسی کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرنے کے ہیں۔ پیٹھ پیچھے کے مفہوم ہی میں یہ بات داخل ہے کہ غیبت کرنے والا چاہتا ہے کہ اس کے اس فعل کی خبر اس کو نہ ہو جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے۔ اسی خواہش کی بنا پر وہ یہ کام اس کے پیٹھ پیچھے صرف ان لوگوں کے سامنے کرتا ہے جو یا تو اس کے ہم راز و ہم خیال اور شریک مقصد ہوتے ہیں یا کم از کم ان سے یہ اندیشہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کے ہم درد ہوں گے جس کی وہ برائی بیان کر رہا ہے اور اس کے سامنے یہ راز فاش کر دیں گے۔ '' (تدبر قرآن ۷/ ۵۱۰)

اس فعل کا تجزیہ کیجیے تو اس کے پیچھے بھی وہی استکبار چھپا ہوا نظر آئے گا جو انسان کو دوسروں کی تحقیر و تذلیل پر آمادہ کرتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع کیا اور فرمایا ہے کہ اس معاملے میں ہر شخص کو اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے:

وَلَا یَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا، اَ یُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَاْکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا، فَکَرِہْتُمُوْہُ، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ. (الحجرات ۴۹: ۱۲)

''اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔ کیا تمھارے اندر کوئی ایسا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا؟ سو تم اِس سے گھن کھاتے ہو۔ (اِس سے توبہ کرو) اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے، اس کی شفقت ابدی ہے۔''

تورات کے احکام کی طرح یہ قرآن کے احکام عشرہ ہیں۔ تمام اخلاقیات انھی دس احکام کی فرع ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جن گناہوں کو 'کبائر الاثم والفواحش' ۷۱؂ سے تعبیر کیا ہے، وہ انھی احکام کی خلاف ورزی سے پیدا ہوتے ہیں۔ قرآن اس معاملے میں بالکل واضح ہے کہ اس خلاف ورزی کی سزا لوگوں کو قیامت میں بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ ہر مسلمان اس معاملے میں متنبہ رہے۔ اس کے لیے یہ تین باتیں پیش نظر رہنی چاہییں:

ایک یہ کہ ان میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی اگر نادانستہ ہوئی ہے تو اللہ اس پر گرفت کرنے والا نہیں ہے۔ اس کا قانون یہ ہے کہ اگر بلا ارادہ کوئی ایسی بات ہو جائے جو بظاہر تو ایک ممنوع فعل ہو، مگر اس میں درحقیقت اس ممنوع فعل کی نیت نہ ہو تو اس پر وہ کوئی مواخذہ نہ کرے گا۔ منہ بولے بیٹوں کے بارے میں ایک حکم بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے:

وَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُنَاحٌ فِیْمَآ اَخْطَاْتُمْ بِہٖ، وَلٰکِنْ مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوْبُکُمْ، وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. (الاحزاب ۳۳: ۵)

''اس معاملے میں جو غلطی تم سے ہوئی ہے، اُس کے لیے کوئی گرفت نہیں ہے، لیکن تمھارے دل جس بات کا ارادہ کر لیتے ہیں، اس پر ضرور گرفت ہے۔ اور اللہ بخشنے والا ہے ، اس کی شفقت ابدی ہے۔''

دوسری یہ کہ ان احکام کی خلاف ورزی سے کوئی شخص اگر اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہے تو اس کا صلہ یہ ہے کہ اس کے چھوٹے گناہوں کو اللہ تعالیٰ اپنی بے پایاں رحمت سے معاف فرما دیں گے، ورنہ چھوٹے اور بڑے گناہ ، سب اس کے اعمال نامے میں درج ہوں گے اور اسے ان کا حساب دینا پڑے گا۔ ارشاد ہوا ہے:

اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ، وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا. (النساء۴: ۳۱)

'' تمھیں جن باتوں سے روکا جا رہا ہے ، اُن کے بڑے بڑے گناہوں سے اگر تم پرہیز کرتے رہو تو تمھاری چھوٹی برائیاں ہم تمھارے حساب سے ختم کر دیں گے اور تمھیں عزت کی جگہ داخل کریں گے۔''

تیسری یہ کہ جذبات سے مغلوب ہو کر اگر کوئی شخص ان میں سے کسی حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہے تو اسے توبہ کرکے اپنے رویے کی اصلاح کرنی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہو، توبہ کر لی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح کر دیا ہے کہ اس کے اوپر صرف انھی لوگوں کی توبہ کا حق قائم ہوتا ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی گناہ کر بیٹھتے ہیں، پھر فوراً توبہ کر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کی توبہ اللہ کے نزدیک ، کوئی توبہ نہیں ہے جو زندگی بھر گناہوں میں ڈوبے رہتے اور جب دیکھتے ہیں کہ موت سر پر آن کھڑی ہوئی ہے تو توبہ کا وظیفہ پڑھنے لگتے ہیں۔ اسی طرح جانتے بوجھتے حق کا انکار کر دینے والوں کی توبہ بھی توبہ نہیں ہے، اگر وہ موت کے وقت تک اس انکار پر قائم رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَہَالَۃٍ، ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ، فَاُوْلٰٓءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ، وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا. وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَہُمُ الْمَوْتُ، قَالَ: اِنِّیْ تُبْتُ الْءٰنَ، وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ، وَہُمْ کُفَّارٌ، اُوْلٰٓءِکَ اَعْتَدْنَا لَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا.(النساء ۴: ۱۷۔۱۸)

'' اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھی لوگوں کے لیے ہے جو جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اُن لوگوں کے لیے البتہ، کوئی توبہ نہیں ہے جو گناہ کیے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب اُن میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے، اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کر لی ہے۔ اسی طرح اُن کے لیے بھی توبہ نہیں ہے جو مرتے دم تک منکر ہی رہیں۔ یہی تو ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے۔''

توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی یہ دو صورتیں قرآن نے بالکل متعین کر دی ہیں۔ اس کے بعد صرف ایک صورت باقی رہ جاتی ہے کہ کوئی شخص گناہ کے بعد جلد ہی توبہ کر لینے کی سعادت تو حاصل نہیں کر سکا ، لیکن اس نے اتنی دیر بھی نہیں کی کہ موت کا وقت آن پہنچا ہو۔ اس صورت کے بارے میں قرآن خاموش ہے اور استاذ امام کے الفاظ میں ، یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے، اسی طرح خوف بھی پیدا کرتی ہے اور قرآن حکیم کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ بین الرجاء والخوف ہی رہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس کے باوجود ذہن کبھی کبھی اس طرف جاتا ہے کہ اس امت کے اس طرح کے لوگ، امید ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نجات پا جائیں گے، اس لیے کہ ان کے بارے میں شفاعت کے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔

[باقی]

____________

۵۹؂ تالمود یروشلمی ۴:۷۔

۶۰؂ الفرقان ۲۵:۶۸۔۶۹۔

۶۱؂ ۲:۱۷۷۔

۶۲؂ المعارج ۷۰:۳۲۔المومنون ۲۳:۸۔

۶۳؂ ۹:۴۔

۶۴؂ ابو داؤد، رقم ۴۰۹۱۔

۶۵؂ مسلم، رقم ۲۶۲۰۔

۶۶؂ بخاری، رقم ۵۴۹۴،۵۴۹۹،۵۵۰۰۔مسلم، رقم ۲۰۶۵، ۲۰۶۶، ۲۰۶۷۔

۶۷؂ بخاری، رقم ۵۵۵۳۔ مسلم،رقم۲۵۹۔ اس نصیحت کا صحیح مفہوم یہی تھا، مگر لوگوں نے اسے ڈاڑھی بڑھانے کا حکم سمجھا اور اس طرح ایک ایسی چیز دین میں داخل کر دی جو اس سے کسی طرح متعلق نہیں ہو سکتی۔

۶۸؂ ابو داؤد، رقم ۴۰۲۹۔

۶۹؂ بخاری، رقم ۵۴۵۱۔ مسلم، رقم۲۰۸۵۔

۷۰؂ الحجرات ۴۹:۱۰۔

۷۱؂ الشوریٰ ۴۲:۳۷۔ النجم ۵۳: ۳۲۔