اخلاقیات (10)


(گزشتہ سے پیوستہ)

جمال و کمال

اِنَّ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُسْلِمٰتِ، وَالْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ، وَالْقٰنِتِیْنَ وَالْقٰنِتٰتِ، وَالصّٰدِقِیْنَ وَالصّٰدِقٰتِ، وَالصّٰبِرِیْنَ وَالصّٰبِرٰتِ، وَالْخٰشِعِیْنَ وَالْخٰشِعٰتِ، وَالْمُتَصَدِّقِیْنَ وَالْمُتَصَدِّقٰتِ، وَالصَّآءِمِیْنَ وَالصّآءِمٰتِ، وَالْحٰفِظِیْنَ فُرُوْجَہُمْ وَالْحٰفِظٰتِ، وَالذّٰکِرِیْنَ اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّالذّٰکِرٰتِ، اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّاَجْرًا عَظِیْمًا. (الاحزاب۳۳: ۳۵)

''وہ مرد اور وہ عورتیں جو مسلمان ہیں، مومن ہیں، بندگی کرنے والے ہیں، سچے ہیں، صبر کرنے والے ہیں، اللہ کے آگے جھک کر رہنے والے ہیں، خیرات کرنے والے ہیں، روزہ رکھنے والے ہیں، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اور اللہ کو بہت زیادہ یاد کرنے والے ہیں، اُن کے لیے اللہ نے مغفرت اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔''

انسان کے اخلاقی وجود کا حسن جب خلق اور خالق، دونوں کے معاملے میں درجۂ کمال کو پہنچتا ہے تو اس سے جو اوصاف پیدا ہوتے ہیں یا قرآن مجید کی رو سے ہونے چاہییں، وہ یہی ہیں۔ چنانچہ فرمایا ہے کہ خدا کی مغفرت ان نفوس قدسیہ کی منتظر ہے اور اس نے ایک اجر عظیم ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ تصوف میں تو انسان کی تمام جدوجہد کامنتہاے کمال یہی ہوتا ہے کہ وہ خدا کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرے: خدا علیم و خبیر ہے تو وہ بھی عالم الغیب والشہادہ بن کر جیے ؛ خدا کی شان تجرد ہے تو وہ بھی اپنے اندر یہی شان پیدا کرے؛ خدا بے نیاز ہے تو وہ بھی بشری تقاضوں اورانسانی ضرورتوں سے بے نیاز ہو جائے؛ خدا انفس وآفاق میں تصرف کرتا ہے تو وہ بھی پانی پر چلے ،آگ سے کھیلے، بیماروں کو ہاتھ لگائے اورشفایاب کر دے، مردوں کو جلائے اور ارواح وقلوب میں جو تصرف چاہے کرے۔ لیکن قرآن کا نقطۂ نظر یہ نہیں ہے۔ اس نے کمال کا جو سب سے بڑا درجہ بیان کیا ہے، وہ خدا کی صفات کے تقاضوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالنے اور اس کے نتیجے میں ان اوصاف کا حامل بن کر جینے کا ہے جو قرآن نے یہاں ایک ہی آیت میں جمع کر دیے ہیں۔ یہ دس چیزیں ہیں اور پورے قرآن میں اللہ تعالیٰ نے ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ دین کا جمال وکمال قرآن کے نزدیک یہی ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کو اسی تک پہنچنے اور اسی کو پانے کی دعوت دیتاہے۔ اس کے آگے اگر کوئی درجہ ہے تو وہ نبوت کا درجہ ہے اور اس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ اخذواکتساب کے ذریعے سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ اللہ ہی نے جس کو چاہا ہے، یہ مرتبہ عطا فرمایا ہے۔

یہاں ان اوصاف کی وضاحت کریں گے۔

اسلام

پہلی چیز اسلام ہے۔ یہ جب اس طریقے سے ایمان کے ساتھ آتا ہے جس طرح یہاں آیا ہے تو اس سے دین کا ظاہر مراد ہوتا ہے۔ یعنی وہ ہدایت جو انسان کے قول وفعل اور اعضاوجوارح سے متعلق ہے۔ چنانچہ آدمی کی زبان اگر اللہ ورسول کے حکم پر کھلنے اور بند ہو جانے کے لیے آمادہ ہے، اس کی آنکھیں اگر ان کے ایما سے دیکھنے اور جھک جانے کے لیے تیار ہیں، اس کے کان اگر ان کی ہدایت پر سننے اور سننے سے انکار کر دینے کے لیے مستعد ہیں، اس کے ہاتھ اگر ان کے ارشاد سے اٹھنے اور گر جانے کے منتظر ہیں اور اس کے پاؤں اگر ان کے فرمان پر چلنے اور رک جانے سے گریز نہیں کرتے تو یہی اسلام ہے۔ انبیا علیہم السلام کی زبان پر 'أَسْلَمْتُ وَجْہِیَ لِلّٰہِ ' ۷۲؂ اور 'أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ' ۷۳؂ کے الفاظ اسی حقیقت کو بیان کرنے کے لیے آئے ہیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا بہترین نمونہ بھی انبیا علیہم السلام ہی ہیں۔ لہٰذا ہدایت کی گئی ہے کہ تسلیم و رضا کے اس مرتبے تک پہنچنے کے لیے لوگ ان ہستیوں کی اتباع کریں جنھیں اللہ نے ان کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ: اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ، وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ، وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ. (آل عمران۳: ۳۱)

''ان سے کہہ دو کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمھارے گناہوں کو بخش دے گا، اور (یہ تو تم جانتے ہی ہو کہ) اللہ بخشنے والا ہے، اُ س کی شفقت ابدی ہے۔ ''

یہ اتباع جس شعور اور جس جذبے کے ساتھ ہونی چاہیے ، اس کی وضاحت استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس طرح فرمائی ہے:

''...رسول خدا کی معرفت کا مظہر کامل ہوتا ہے اور اس کی ایک ایک ادا معرفت الہٰی کا نشان ہوتی ہے، اس وجہ سے جو لوگ خدا سے محبت رکھتے ہیں، وہ رسول کی ایک ایک ادا سے محبت رکھتے ہیں۔ وہ رسول کے اندر وہ علم دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے حاصل ہوتا ہے، وہ عمل دیکھتے ہیں جو خدا کی معرفت سے پیدا ہوتا ہے، وہ عادات دیکھتے ہیں جو خدا کو پسند ہیں، وہ صفات دیکھتے ہیں جو خدا کو محبوب ہیں، وہ جمال دیکھتے ہیں جس پر جمال خداوندی کا پرتو ہوتاہے۔ چنانچہ وہ رسول کے ایک ایک نقش کو تلاش کر کر کے اس کی پیروی کرتے ہیں اور چونکہ یہ سب کچھ خدا کی محبت میں کرتے ہیں، اس وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا یہ صلہ پاتے ہیں کہ وہ اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ ''(تزکیۂ نفس۱۱۷)

ایمان

دوسری چیز ایمان ہے۔ یہ دین کا باطن ہے اور یہاں اس سے مراد وہ یقین ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے وعدوں کے بارے میں اس کی حقیقی معرفت کے ساتھ پایا جائے۔ چنانچہ جو خدا کو اس طرح مانے کہ تسلیم ورضا کے بالکل آخری درجے میں اپنے دل ودماغ کو اس کے حوالے کر دے، قرآن کی اصطلاح میں وہ مومن ہے۔دل کو طہارت، عقل کو روشنی اور ارادوں کو پاکیزگی اسی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہی ایمان ہے جو علم وعمل ، دونوں کو ایک ساتھ متاثر کرتا اور انسان کے پورے وجود پر حاوی ہوجاتا ہے۔ پھر اللہ کے ذکر اور اس کی آیتوں کی تلاوت اور انفس وآفاق میں ان آیتوں کے ظہور سے اس میں افزونی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتْ قُلُوْبُہُمْ، وَاِذَا تُلِیَتْ عَلَیْْہِمْ اٰیٰتُہٗ، زَادَتْہُمْ اِیْمَانًا، وَّعَلٰی رَبِّہِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ.(الانفال۸: ۲)

''ایمان والے تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو اُن کے دل لرز جائیں اور جب اُس کی آیتیں انھیں پڑھ کر سنائی جائیں تو اُن کا ایمان بڑھ جائے اور وہ اپنے رب ہی پر بھروسا رکھیں۔''

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کے بارے میں فرمایا ہے کہ اس شخص نے ایمان کی حلاوت پالی جو خدا کے رب، اسلام کے دین اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔ ۷۴؂ قرآن مجید نے اسے ایک ایسے درخت سے تشبیہ دی ہے جس کی جڑیں زمین کے میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان کی وسعتوں میں پھیلی ہوئی ہوں:

اَلَمْ تَرَ کَیْْفَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ، اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَآءِ، تُؤْتِیْٓ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا، وَیَضْرِبُ اللّٰہُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ.(ابراہیم۱۴: ۲۴۔۲۵)

''کیا تم نے غور نہیں کیا کہ اللہ نے کلمۂ طیبہ کی مثال کس طرح بیان فرمائی ہے؟ اس کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شجرۂ طیبہ جس کی جڑیں زمین میں اتری ہوئی اور شاخیں آسمان میں پھیلی ہوئی ہیں۔ ہر موسم میں وہ اپنا پھل اپنے پروردگار کے حکم سے دے رہا ہے۔ (یہ اس کی تمثیل ہے) اور اللہ یہ تمثیلیں لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں۔''

استاذ امام امین احسن اصلاحی نے اس ارشاد خداوندی کی وضاحت اس طرح فرمائی ہے:

''آیات میں کلمۂ طیبہ سے مراد ، ظاہر ہے کہ کلمۂ ایمان ہے۔ اس کی تمثیل اللہ تعالیٰ نے ایسے ثمر بار درخت سے دی ہے جس کی جڑیں زمین میں گہری اتری ہوئی اور اس کی شاخیں فضا میں خوب پھیلی ہوئی ہوں اور وہ برابر ہر موسم میں اپنے رب کے فضل سے ثمر باری کر رہا ہو۔ زمین میں جڑوں کے گہرے اترنے سے مقصود فطرت انسانی کے اندر اس کا رسوخ واستحکام ہے کہ وہ گھورے پر اگے ہوئے پودے کی مانند نہیں ہے جس کی کوئی جڑ نہ ہو، حوادث کا کوئی معمولی سا جھونکا بھی اس کو اکھاڑ پھینکے جیسا کہ کلمۂ کفر کی بابت فرمایا ہے کہ 'اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الأَرْضِ مَا لَہَا مِن قَرَارٍ' ۷۵؂ (جوزمین کے اوپر ہی سے اکھاڑ لیا جائے، اسے ذرا بھی ثبات حاصل نہ ہو)۔ بلکہ وہ ایک تناور درخت کے مانند اتنی پائدار اور گہری جڑیں رکھتا ہے کہ اگر اس پر سے طوفان بھی گزر جائیں جب بھی وہ ذرا متاثر نہ ہو۔ پھر اس کی فیض بخشی اور ثمر باری کی طرف اشارہ فرمایا کہ وہ ٹھونٹھ درخت کے مانند نہیں ہے جس سے نہ کسی کو سایہ حاصل ہونہ پھل، بلکہ اس کی فضا میں پھیلی ہوئی سایہ دار شاخوں کے سایے میں قافلے آرام کرتے اور ہر موسم میں اس کے پھلوں سے غذا اور آسودگی حاصل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اشارہ ان فیوض وبرکات کی طرف ہے جو ایک صاحب ایمان کے ایمان سے خود اس کی زندگی اور اس کے توسط سے ان لوگوں کی زندگیوں پر مترتب ہوتے ہیں جو اس سے کسی نوعیت سے قرب کا شرف حاصل کرتے ہیں۔ یہ فیوض وبرکات لازماً علمی اور عملی، دونوں ہی قسم کے ہوتے ہیں جو اس کے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اور ان سے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف رفعت وسرفرازی حاصل ہوتی ہے۔''(تزکیۂ نفس ۳۲۵)

یہی ایمان ہے جس کا یہ تقاضا قرآن میں بیان ہوا ہے کہ دنیا کی کوئی چیز بھی اس کے حاملین کو اللہ ورسول سے زیادہ محبوب نہیں ہونی چاہیے۔ ارشاد فرمایا ہے:

قُلْ: اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ، وَاَبْنَآؤُکُمْ، وَاِخْوَانُکُمْ، وَاَزْوَاجُکُمْ، وَعَشِیْرَتُکُمْ، وَاَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْہَا، وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا، وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ، اَحَبَّ اِلَیْْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ، وَرَسُوْلِہٖ، وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ، فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ، وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ.(التوبہ۹: ۲۴)

''ان سے کہہ دو کہ تمھارے باپ، تمھارے بیٹے، تمھارے بھائی، تمھاری بیویاں، تمھارا خاندان اور تمھارا وہ مال جو تم نے کمایا اور وہ تجارت جس کے مندے سے تم ڈرتے ہو اور تمھارے وہ گھر جنھیں تم پسند کرتے ہو، تمھیں اگر اللہ سے، اس کے رسول سے، اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ عزیز ہیں تو انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ صادر کر دے، اور (جان لو کہ) اس طرح کے بد عہدوں کو اللہ راہ یاب نہیں کرتا۔''

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ حقیقت مختلف طریقوں سے واضح فرمائی ہے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ کوئی شخص اس وقت تک حقیقی مومن نہیں ہو سکتا، جب تک وہ مجھے اپنی اولاد، والدین اور اعزہ واقربا سے زیادہ محبوب نہ سمجھے۔ ۷۶؂ ایک دوسرے موقع پر فرمایا ہے کہ اللہ ورسول کے ساتھ یہی محبت ہے جس کے بعد کوئی شخص ایمان کی اصلی لذت سے آشنا ہو سکتا ہے۔ ۷۷؂

لیکن یہ کس قسم کی محبت ہے؟ اس کے بارے میں لوگ چونکہ بہت کچھ غلط فہمیوں اور افراط وتفریط میں مبتلا رہتے ہیں، اس لیے اس کو بھی سمجھ لینا چاہیے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''اس سے مقصود محض وہ جذباتی محبت نہیں ہے جو آدمی کو فطری طور پر اپنے بیوی بچوں سے یااپنے دوسرے عزیزوں کے ساتھ ہوتی ہے، بلکہ اس سے مقصود وہ عقلی اور اصولی محبت بھی ہے جو ایک شخص کو کسی اصول اور مسلک کے ساتھ ہوا کرتی ہے اور جس کی بنا پر وہ اپنی زندگی میں ہر جگہ اسی اصول اور اسی مسلک کو مقدم رکھتا ہے۔ اس اصول اور مسلک کے اوپر وہ ہر چیز اور ہر اصول، ہرمسلک اورہر خواہش اور ہر حکم کو قربان کر دیتا ہے، لیکن خود اس کو دنیا کی کسی چیز پر بھی قربان نہیں کرتا۔ اس اصول اور مسلک کی برتری کے لیے وہ ساری چیزوں کو پست کر دیتا ہے، لیکن اس اصول اور مسلک کو کسی حالت میں بھی پست دیکھنا گوارا نہیں کرتا۔ اگر اس سے خود اس کا اپنا نفس اس مسلک کی مخالفت میں مزاحم ہوتاہے تو وہ اس سے بھی لڑتا ہے، اگر دوسرے اس سے مزاحم ہوتے ہیں تو ان کا بھی وہ مقابلہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے بیوی بچوں اور اعزہ واقارب کے مطالبات بھی اگر اس کے اس مسلک کے مطالبات سے کسی مرحلہ پر ٹکراتے ہیں تو وہ اپنے اس اصول اور مسلک کا ساتھ دیتا ہے اور بے تکلف اپنے بیوی بچوں کی خواہشوں اور اپنے خاندان اور قوم کے مطالبہ کو ٹھکرا دیتا ہے۔''(تزکیۂ نفس ۱۱۹)

ایمان واسلام کی یہی حقیقت ہے جو پیغمبر کی زبان فیض ترجمان پر یہ بے مثل دعا بن گئی ہے:

اللھم ،اسلمت وجھی الیک، وفوضت امری الیک، والجأت ظھری الیک، رغبۃ ورھبۃ الیک، لا ملجا ولا منجا منک الا الیک، اللّٰھم، امنت بکتابک الذی انزلت وبنییک الذی ارسلت.(بخاری،رقم۲۴۴)

''اے اللہ، میں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہے، اور اپنا معاملہ تیرے سپرد کر دیا ہے اور تجھ سے ٹیک لگا لی ہے، تیری عظمت سے لرز تے ہوئے اور تیرے اشتیاق میں بڑھتے ہوئے ۔ تجھ سے بھاگ کر کہیں پناہ اور کہیں ٹھکانا نہیں، اور اگر ہے تو تیرے ہی پاس ہے۔ پروردگار،میں تیری کتاب پر ایمان لایا ہوں جو تو نے نازل کی ہے اور تیرے نبی پر ایمان لایا ہوں جسے تو نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔''

قنوت

تیسری چیز قنوت ہے۔ یہ وہ قلبی کیفیت ہے جو انسان کو پورے اخلاص اور یک سوئی کے ساتھ دائماً اپنے پروردگار کی اطاعت پر قائم رکھتی ہے۔ بندۂ مومن کے نہاں خانۂ وجود میں عبدومعبود کے تعلق کا سب سے نمایاں ظہور یہی ہے۔ چنانچہ 'قانتین' وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ بندگی میں رہیں۔ غم، خوشی، جوش، ہیجان اور لذت والم کی کسی حالت میں بھی اپنے خالق سے سرکش نہ ہوں۔ شہوت کا زو ر، جذبات کی یورش اور خواہشوں کا ہجوم بھی انھیں خدا کے سامنے کبھی بے ادب نہ ہونے دے۔ ان کا دل خدا کا عرش ہو اور اس کی شریعت کو وہ حضوری میں دیا گیا حکم سمجھیں جس سے سرتابی کا تصور بھی دربار میں کھڑا ہوا کوئی شخص نہیں کر سکتا۔ یہ، اگر غور کیجیے تو وہی کیفیت ہے جس کا اظہار یہ پورا عالم اور اس کی تمام مخلوقات ہر لحظہ زبان حال سے کر رہی ہیں:

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا خَلَقَ اللّٰہُ مِنْ شَیْْءٍ ، یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُہٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَالْشَّمَآءِلِ، سُجَّدًا لِلّٰہِ، وَہُمْ دٰخِرُوْنَ، وَلِلّٰہِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّۃٍ، وَّالْمَلآءِکَۃُ، وَہُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ، یَخَافُوْنَ رَبَّہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ، وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ.(النحل ۱۶: ۴۸۔۵۰)

''اور کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ اللہ نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں، اُن کے سایے دائیں اور بائیں سے اللہ کو سجدہ کرتے ہوئے ڈھلتے ہیں اور ان پر فروتنی ہوتی ہے۔ اور زمین وآسمان میں جتنے جانور اور فرشتے ہیں، وہ بھی اللہ ہی کے آگے سربسجود ہیں اور کبھی سرکشی نہیں کرتے۔ وہ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ جو اُن سے اوپر ہے اور وہی کرتے ہیں جس کا حکم انھیں دیا جاتا ہے۔''

صدق

چوتھی چیز صدق ہے۔ یہ قول وفعل اورارادہ، تینوں کی مطابقت اور استواری کی تعبیر کے لیے آتا ہے۔ آدمی کے منہ سے کوئی حرف صداقت کے خلاف نہ نکلے، اس کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہ ہو اور وہ اپنی ہر بات کو نباہ دے تو یہ زبان اور عمل کی سچائی ہے، لیکن اس کے ساتھ نیت اور ارادے کی سچائی بھی لازماً شامل ہونی چاہیے۔ قرآن نے اس کے ضد کردار کو نفاق اور اسے اخلاص سے تعبیر کیا ہے پھر جگہ جگہ وضاحت فرمائی ہے کہ خدا کے نزدیک عمل کا اصلی پیکر وہی ہے جو کارگاہ قلب میں تیار کیا جائے، لہٰذا صدق کا درجۂ کمال قول وفعل اور ارادے کی اسی مطابقت سے حاصل ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں 'صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوا اللّٰہَ عَلَیْْہِ' ۷۸؂ (اللہ سے جو عہد انھوں نے باندھا، اُسے پورا کر دکھایا) کے الفاظ اسی حقیقت کو بیان کرتے ہیں۔ یعنی زبان کا حرف، دل کا ارادہ اور عمل کی ہر جنبش حق وصداقت کا مظہر بن جائے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ، ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا، وَجٰہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ، اُولٰٓءِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ. (الحجرات۴۹: ۱۵)

''ایمان والے تو وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر کسی شک میں نہیں پڑے اور اپنے جان ومال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے رہے۔ یہی صادقین ہیں۔''

صبر

پانچویں چیز صبر ہے۔ یہ نفس کو اضطراب اور بے چینی سے روکنے کے لیے آتا ہے۔ سورۂ حجرات کی آیت 'وَلَوْ أَنَّہُمْ صَبَرُوْا حَتّٰی تَخْرُجَ إِلَیْْہِمْ' ۷۹؂ (اور اگر وہ تمھارے باہر نکلنے تک صبر سے کام لیتے) میں یہ اپنے اسی ابتدائی مفہوم میں استعمال ہواہے۔ پھر اس سے مشکلات اور موانع کے علی الرغم پا مردی، استقلال اور ثابت قدمی کے ساتھ اپنے موقف پر جمے رہنے کے معنی اس میں پیدا ہوگئے ہیں۔ چنانچہ آیۂ زیر بحث میں جس صبر کا ذکر ہے، وہ عجزوتذلل کے قسم کی کوئی چیز نہیں ہے جسے بے بسی اور درماندگی کی حالت میں مجبوراً اختیار کیا جائے، بلکہ عزم وہمت کا سرچشمہ اور تمام سیرت وکردار کا جمال وکمال ہے۔ اسی سے انسان میں یہ حوصلہ پیدا ہوتا ہے کہ زندگی کے ناخوش گوار تجربات پر شکایت یا فریاد کرنے کے بجائے وہ انھیں رضا مندی کے ساتھ قبول کر لے اور خدا کی طرف سے مان کر ان کا استقبال کرے۔ اس مفہوم کے لحاظ سے 'صابر' وہ شخص ہے جو ہر خوف وطمع کے مقابل میں اپنے موقف پر قائم اور اپنے پروردگار کے فیصلوں پر راضی اور مطمئن رہے۔

اس کے تین مواقع قرآن میں بیان ہوئے ہیں: غربت، بیماری اور جنگ۔ غور کیجیے تو تمام شدائدومصائب کا منبع یہی تین چیزیں ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَالصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ، والضَّرَّآءِ، وَحِیْنَ الْبَاْسِ.(البقرہ۲: ۱۷۷)

''اور جو تنگی، بیماری اور جنگ کے مواقع پر ثابت قدم رہیں۔''

اس آیت میں 'نصب علی المدح' کے طریقے پر صبر کو نمایاں کر کے قرآن نے بتا دیا ہے کہ سیرت وکردار کے معاملے میں اس کی اہمیت کس قدر غیر معمولی ہے۔ اس کی مزید وضاحت قرآن مجید میں اس کے مواقع استعمال سے ہوتی ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب دعوت حق کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ کو ہدایت کی گئی کہ لوگوں کی عداوت اور دشمنی کی پروا کیے بغیر پوری سرگرمی کے ساتھ اپنے کام میں لگے رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ظاہر ہو جائے۔آپ کو ہر حال میں اس فیصلے کا انتظار کرنا ہے۔ اس سے پہلے آپ کوئی اقدام نہیں کر سکتے۔ قرآن میں یہ مفہوم اسی لفظ صبر سے ادا ہوا ہے:

وَاتَّبِعْ مَا یُوْحٰٓی اِلَیْْکَ، وَاصْبِرْ حَتّٰی یَحْکُمَ اللّٰہُ، وَہُوَ خَیْْرُ الْحٰکِمِیْنَ.(یونس۱۰: ۱۰۹)

''اور اُس وحی کی پیروی کرو جو تمھاری طرف کی جارہی ہے اور صبر کے ساتھ انتظار کرو، یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی فیصلہ کرنے والا ہے۔''

ایوب علیہ السلام پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے، لیکن انھوں نے تسلیم ورضا کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی مدح کی تو اس کے لیے بھی یہی تعبیر اختیار کی ہے:

اِنَّا وَجَدْنٰہُ صَابِرًا، نِعْمَ الْعَبْدُ، اِنَّہٓٗ اَوَّابٌ.(ص۳۸: ۴۴)

''ہم نے اُسے بہت صابر پایا، بہترین بندہ، وہ اپنے پروردگار کی طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔''

لقمان کی نصیحت قرآن میں نقل ہوئی ہے۔ راہ حق کی مصیبتوں کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کے لیے انھوں نے بیٹے کو اسی کی تلقین فرمائی ہے:

وَاْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ، وَانْہَ عَنِ الْمُنْکَرِ، وَاصْبِرْ عَلٰی مَآ اَصَابَکَ، اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ. (لقمان۳۱: ۱۷)

''اور بھلائی کی تلقین کرو اور برائی سے روکو، اور جو مصیبت بھی پیش آئے اس پر صبر کرو۔ اس میں شبہ نہیں کہ یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔''

دعوت کی جدوجہد کے لیے اٹھنے والوں کو ایک اہم ہدایت قرآن میں یہ کی گئی ہے کہ ان کیمخاطبین اگر ظلم و زیادتی اور ایذارسانی پر اتر آئیں تو بہتر یہی ہے کہ ان کی بدتمیزیوں کو نظر انداز کر کے وہ ان کی بد خواہی کا جواب بھی نیکی سے دیں۔ یہ ظاہر ہے کہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ برداشت، تحمل اور عفوودرگزر کی جو صفت اس کے لیے آدمی کو اپنے اندر پیدا کرنی پڑتی ہے، قرآن میں اس کے لیے صبر ہی کا لفظ آیا ہے:

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ، وَالْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ، وَجَادِلْہُم بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ، اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ، وَہُوَ اَعْلَمُبِالْمُہْتَدِیْنَ، وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِہٖ، وَلَءِنْ صَبَرْتُمْ، لَہُوَ خَیْْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ .(النحل۱۶: ۱۲۵۔۱۲۷)

''اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت کے ساتھ دعوت دو اور اچھی نصیحت کے ساتھ اور ان سے بحث کرو اُس طریقے سے جو پسندیدہ ہو۔ بے شک، تمھارا پروردگار خوب جانتاہے اُن کو بھی جو اس کی راہسے بھٹکے ہوئے ہیں اور اُن کوبھی جو ہدایت پانے والے ہیں۔ اور اگر بدلہ لو تو اتنا ہی جتنی تکلیف تمھیں پہنچی ہے اور اگر صبر کرو تو صبر کرنے والوں کے لیے یہ بہت ہی بہتر ہے۔''

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ، وَعَمِلَ صَالِحًا، وَّقَالَ: اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ، وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّءَۃُ، اِدْفَعْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ، فَاِذَا الَّذِیْ بَیْْنَکَ وَبَیْْنَہٗ عَدَاوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ، وَمَا یُلَقّٰہَآ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا، وَمَا یُلَقّٰہَآ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ.حٰم السجدہ ۴۱: ۳۳۔۳۵)

''اور اس سے بڑھ کر اچھی بات کس کی ہوگی جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے کہ میں مسلمان ہوں اور (یہ حقیقت ہے کہ) بھلائی اور برائی یکساں نہیں ہے۔ تم برائی کو اُس خیر سے دفع کرو جو بہتر ہے تو تم دیکھو گے کہ وہی جس کے اور تمھارے درمیان عداوت تھی، وہ گویا ایک سرگرم دوست ہے۔ اور (یاد رکھو کہ)یہ دانش انھی کو ملتیہے جو صبر کریں اور انھی کو ملتی ہے جو بڑے نصیب والے ہوتے ہیں۔''

میدان جنگ میں جب موت سامنے کھڑی ہوتی ہے، کلیجے منہ کو آتے ہیں اور آنکھیں خوف سے پتھرا جاتی ہیں تو جو لوگ بہادری اور استقامت کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کریں اور ان کے پاے استقلال میں لغزش نہ آئے، ان کے لیے بھی یہی لفظ ہے:

فَاِنْ یَکُنْ مِّنْکُمْ مِّاءَۃٌ صَابِرَۃٌ یَغْلِبُوْا مِاءَتَیْْنِ، وَاِنْ یَکُنْ مِّنْکُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْٓا اَلْفَیْْنِ بِاِذْنِ اللّٰہِ، وَاللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ.(الانفال۸: ۶۶)

''لہٰذا تم میں سے اگر سو صبر کرنے والے ہوں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر ہزار ایسے ہوں گے تو اللہ کے حکم سے دوہزار پر بھاری رہیں گے، اور (حقیقت یہ ہے کہ) اللہ انھی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔''

اللہ تعالیٰ نے جو فرائض اور ذمہ داریاں انسان پر عائد کی ہیں، انھیں عمر بھر پورے استقلال اور مضبوطی کے ساتھ ادا کیا جائے اور استاذ امام کے الفاظ میں جس طرح کسان اپنے کھیت میں ہل چلاتا، اس میں تخم ریزی کرتا ، اس کو پانی دیتا اور برابر اس کی نگرانی کرتا ہے، اسی طرح بندۂ مومن اگر اپنے اس مبارک مزرعہ میں پوری محنت اور اس کی پوری حفاظت کرے تو اس کے لیے بھی یہی تعبیر ہے:

... رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَیْْنَہُمَا، فَاعْبُدْہُ، وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِہِ.(مریم۱۹: ۶۵)

''...زمین وآسمان اور اُن کے درمیان کی ہر چیز کا پروردگار، سو اُسی کی بندگی کرو اور صبر کے ساتھ اُسی کی بندگی پر قائم رہو۔''

رنج وراحت اور حزن ومسرت کے جو مواقع زندگی میں ہر شخص کو پیش آتے ہیں، ان میں اگر آدمی ضبط نفس سے کام لے، خوشی اور مسرت اس میں فخروغرور پیدا نہ کرے اور غم واندوہ کی حالت میں اس کے اندر مایوسی اور بددلی نہ ہو تو اس رویے کے لیے بھی قرآن میں یہی لفظ اختیار کیا گیا ہے:

وَلَءِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً، ثُمَّ نَزَعْنٰہَا مِنْہُ، اِنَّہٗ لَئَوُسٌ کَفُوْرٌ، وَلَءِنْ اَذَقْنٰہُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْہُ لَیَقُوْلَنَّ: ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ، اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌ، اِلاَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ، اُوْلٰٓءِکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّاَجْرٌ کَبِیْرٌ.(ہود۱۱: ۹۔۱۱)

''اور اگر ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازتے، پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہو جاتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے، اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی، اسے ہم نعمتوں سے نوازتے ہیں تو کہتا ہے کہ میری مصیبتیں ختم ہوئیں، پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہی ہیں جو صبر کرنے والے ہیں اور نیکو کار ہیں۔ یہی ہیں جن کے لیے مغفرت بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔''

اس سے واضح ہے کہ صبر مجبوری کے درگزر اور بے بسی کی خاموشی کا نام نہیں ہے، بلکہ اس چیز کانا م ہے کہ بندۂ مومن ہر حال میں اپنے رب کے فیصلوں پر راضی رہے، نتیجۂ عمل میں تاخیر سے پریشان نہ ہو، اضطراب اور بے چینی سے بچا رہے، برائی کرنے والوں کے لیے بھی اپنے دل میں انتقام کا کوئی جذبہ پیدا نہ ہونے دے، حق کی مدافعت کا موقع ہوتو موت کو سامنے دیکھ کربھی ثابت قدم رہے، رنج وراحت کی ہر حالت میں ضبط نفس سے کام لے اور جس چیز کو فرض وواجب سمجھے، تمام عمر اس کی پابندی کرتا رہے۔

انسان کی سیرت کا یہی پہلو ہے جس سے خدا اوربندے کے درمیان وہ تعلق قائم ہوتاہے جسے توکل سے تعبیر کیاگیا ہے۔ یعنی ہر حال میں خدا ہی پر بھروسا کیا جائے۔ 'اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْْہِ رٰجِعُوْنَ' اسی تفویض اور سپردگی کا کلمہ ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ ان لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے خاص الطاف وعنایات ہیں جو اس کلمے پر قائم رہتے اوراسی پر دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔ ارشاد فرمایا ہے:

وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْمُّصِیْبَۃٌ، قَالُوْٓا: اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْْہِ رٰجِعُوْنَ. اُولٰٓءِکَ عَلَیْْہِمْ صَلَوٰتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ، وَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ.(البقرہ۲: ۱۵۵۔۱۵۷)

''اور (اِس میں) جو ثابت قدم ہوں گے،اُنھیں(کامیابی کی) بشارت دو۔ (وہی) جنھیں کوئی مصیبت پہنچے تو کہیں کہ لاریب، ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں (ایک دن) اُسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اُن کے پروردگار کی عنایتیں اور اس کی رحمت ہو گی اور یہی ہیں جو (اُس کی) ہدایت سے بہرہ یاب ہونے والے ہیں۔''

خشوع

چھٹی چیز خشوع ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ہیبت اور اس کی عظمت وجلال کے صحیح تصور سے جو تواضع، عجز اور فروتنی انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے، قرآن اسے خشوع سے تعبیر کرتا ہے۔یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو اسے خدا کے سامنے بھی جھکاتی ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے بھی اس کے دل میں رحمت ورأفت کے جذبات پیدا کر دیتی ہے۔

پہلی صورت میں اس کا بہترین اظہار نماز، بالخصوص شب کی نمازوں میں ہوتا ہے، جب بندۂ مومن دنیا کی سب چیزوں سے الگ ہو کر تنہا اپنے پروردگار سے سرگوشیاں کرتا اور اپنی تنہائیوں کو اس کے ذکروشکر سے معمور کر دیتا ہے۔ قرآن کے بعض دوسرے مقامات پر 'مستغفرین بالاسحار'۸۰؂ (پچھلی رات کو اٹھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت چاہنے والے) اور 'والذین یبیتون لربھم سجداً وقیاماً' ۸۱؂ (جو راتیں اپنے پر وردگار کے آگے سجود اور قیام میں گزارتے ہیں) جیسے اسالیب میں اسے ہی بیان کیاگیا ہے۔ صدقے اور روزے سے متصل پہلے اسے رکھ کر یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ترتیب بیان سے اسی جانب اشارہ کیا ہے اور نماز کو گویا اس کی حقیقت سے تعبیر کر دیا ہے ۔ تہجد کی نماز میں یہ حقیقت، جیسا کہ بیان ہوا، سب سے بڑھ کر نمایاں ہوتی ہے۔ قرآن کے اشارات اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضوری کا وقت ہے اور خدا سے محبت کرنے والوں کو ہمیشہ بہت محبوب رہا ہے۔ استاذ امام لکھتے ہیں:

''...پرسکون اور سکون بخش ہونے کے لحاظ سے شب وروز کے چوبیس گھنٹوں میں کوئی وقت بھی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ آسمان سے لے کر زمین تک سکون ہی سکون ہوتا ہے۔ اس وقت سب سورہے ہوتے ہیں۔ شاید شیطان بھی سو رہا ہوتا ہے۔ صرف وہ رب غفاروکریم جاگتا ہے جو کبھی نہیں سوتا یا پھر وہ جاگتا ہے جس کا بخت بیدار ہوتا ہے۔ اٹھیے اور ستاروں کی چھاؤں میں کھڑے ہو جایے تو فی الواقع محسوس ہو گا کہ آسمان کے دریچے کھلے ہوئے ہیں اور سماے دنیا سے توبہ اور رحمت کی منادی ہو رہی ہے۔ اس وقت کی کیفیات ایسی واضح ہیں کہ اس کو دنیا دار اور دین دار، رند اور زاہد، دونوں ہی جانتے ہیں۔ سونے والے اس کو سونے کے لیے بہترین وقت سمجھتے ہیں اور جاگنے والے اس کو جاگنے کے لیے، سب سے بہتر وقت سمجھتے ہیں اور فی الحقیقت ان دونوں کا سمجھنا صحیح ہے۔ جو وقت سونے کے لیے سب سے زیادہ عزیز ومحبوب ہوگا، وہی جاگنے کے لیے بھی سب سے زیادہ عزیزومحبوب ہو گا۔ قربانی تو عزیز ومحبوب ہی کی مقبول ہوتی ہے۔ چنانچہ اس وقت کو اللہ تعالیٰ نے بھی مقربین کی نماز کے لیے خاص کیا ہے۔ جن کے پہلو اس وقت بستر کی لذت کو چھوڑتے ہیں، ان کی التجائیں اور دعائیں سننے کے لیے وہ خود سماے دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی میری رحمت کا طالب کہ میں اس کو اپنی رحمت کے دامن میں چھپا لوں؟'' (تزکیۂ نفس ۲۴۳)

دوسری صورت میں یہ کیفیت بندۂ مومن کی پوری شخصیت پر اثر انداز ہوتی اور اسے اپنے اہل وعیال کے لیے سراپا شفقت، اپنے دوستوں، پڑوسیوں اور ملنے والوں کے لیے سراسر رحمت اور اپنے معاشرے کے لیے ایک سرچشمۂ ہدایت بنا دیتی ہے۔ چنانچہ ایسے ہی حلیم اور مہربان انسانوں سے وہ تمدن وجود میں آتا ہے جو زمین پر خدا کی جنت اور ہر سلیم الفطرت انسان کا مطمح نظر اور اس کی آرزووں کا محور ہوتاہے۔ قرآن میں یہ انھی نفوس قدسیہ کا ذکر ہے:

وَعِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْناً، وَّاِذَا خَاطَبَہُمُ الْجٰہِلُوْنَ، قَالُوْا: سَلَاماً، وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وَقِیَاماً، وَالَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ: رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَہَنَّمَ، إِنَّ عَذَابَہَا کَانَ غَرَاماً، اِنَّہَا سَآءَ تْ مُسْتَقَرّاً وَّمُقَاماً...وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَاماً.(الفرقان ۲۵: ۶۳۔۷۲)

''رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں اور جاہل اُن سے الجھیں تو ان کو سلام کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اور جو اپنی راتیں اپنے پروردگار کے حضور سجودوقیام میں گزارتے ہیں اور جو دعائیں کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب، تو دوزخ کے عذاب سے ہم کو بچالے۔ اس کا عذاب تو بالکل چمٹ جانے کی چیز ہے۔ وہ بڑاہی برامستقر ہے، اور بڑا ہی برا مقام ہے...اور کسی بے ہودہ چیز پر گزر ہو توبڑے وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔''

صدقہ

ساتویں چیز صدقہ ہے۔ اللہ کی راہ میں انفاق کا ایک درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال میں سے فرض زکوٰۃ ادا کر تا رہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ اپنی ذاتی اور کاروباری ضرورتوں سے زیادہ جو کچھ ہو، اسے معاشرے کا حق سمجھے اور جب کوئی مطالبہ سامنے آئے تو اسے فراخ دلی کے ساتھ پورا کردے۔ تیسرا درجہ یہ ہے کہ اپنی خواہشوں کو دبا کر اور اپنی ضرورتوں میں ایثار کر کے بھی وہ دوسروں کی ضرورتیں پوری کرے۔ یہی وہ چیز ہے جسے قرآن نے 'وَیُؤْثِرُوْنَ عَلٰٓی أَنْفُسِہِمْ، وَلَوْ کَانَ بِہِمْ خَصَاصَۃٌ' ۸۲؂ (وہ اُن کو احتیاج کے باجود اپنے اوپر ترجیح دے رہے ہیں) کے الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ صدقہ دینے والوں کی تعبیر ان سب صورتوں کو شامل ہو سکتی ہے، لیکن بیان اوصاف کے موقع پر جب کسی شخص کو 'متصدق ' کہا جائے گا تو اس سے اشارہ اصلاً اس کے درجۂ کمال ہی کی طرف ہو گا۔ یعنی جو سخی اور فیاض ہو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہ دے۔ بندوں کے تعلق سے یہ اسی خشوع کا ظہور ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے۔ نماز اور انفاق کا ذکر قرآن میں اسی بنا پر ساتھ ساتھ آتا ہے۔

روزہ

آٹھویں چیز روزہ ہے ۔ یہ ضبط نفس اور تربیت صبر کی خاص عبادت ہے۔ قرآن میں اس کا مقصد یہ بیان ہوا ہے کہ اس سے تقویٰ حاصل ہوتاہے ۔ چنانچہ 'صائمین' سے مراد وہ لوگ ہیں جو تقویٰ کے ایسے حریص ہیں کہ اس کے لیے زیادہ تر روزے سے رہتے ہیں۔ اس سے یہ بات آپ سے آپ معلوم ہوئی کہ وہ منکرات سے بچتے، فواحش سے اجتناب کرتے اور اپنی زندگی میں تمام اخلاق عالیہ کا بہترین نمونہ ہوتے ہیں۔

حفظ فروج

نویں چیز حفظ فروج ہے۔ یعنی جو شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہ ضبط نفس اور تقویٰ کا ثمرہ ہے۔ برہنگی، عریانی اور فواحش سے اجتناب کرنے والوں کے لیے یہ تعبیر قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی آئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اپنی عفت وعصمت کی بالکل آخری درجے میں حفاظت کرنے والے ہیں۔ چنانچہ اللہ نے جہاں اجازت دی ہے، اس کے سوا خلوت و خلوت میں اپنا ستر وہ کسی کے سامنے نہیں کھولتے اور نہ کوئی ایسا لباس کبھی پہنتے ہیں جو ان اعضا کو نمایاں کرنے والا ہو جو اپنے اندر کسی بھی لحاظ سے جنسی کشش رکھتے ہیں۔ فواحش سے اجتناب کا یہی درجہ ہے جس سے وہ تہذیب پیدا ہوتی ہے جس میں حیا فرماں روائی کرتی اور مردوعورت، دونوں اپنے جسم کو زیادہ سے زیادہ کھولنے کے بجائے، جہاں تک ممکن ہو، زیادہ سے زیادہ ڈھانپ کر رکھنے کے لیے مضطرب ہوتے ہیں۔

[باقی]

____________

۷۲؂ آل عمران۳: ۲۰۔

۷۳؂ البقرہ۲: ۱۳۱۔

۷۴؂ مسلم، رقم ۳۴۔

۷۵؂ ابراہیم۱۴: ۲۶۔

۷۶؂ بخاری، رقم ۱۵۔ مسلم، رقم۴۴۔

۷۷؂ بخاری، رقم ۱۶۔

۷۸؂ الاحزاب۳۳: ۲۳۔

۷۹؂ ۴۹: ۵۔

۸۰؂ آل عمران ۳: ۱۷۔

۸۱؂ الفرقان ۲۵: ۶۴۔

۸۲؂ الحشر۵۹: ۹۔