اسلام اور مصوری جاوید احمد غامدی کا نقطۂ نظر


انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم پر پیدا کیاہے۔ چنانچہ فکر و عمل میں حسن و خوبی کی جستجو اس کی خلقت کا لازمی تقاضا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شر کے مقابلے میں خیر کا طالب اور سیئات کے برعکس حسنات کا تمنائی ہے۔ وہ نفرت، جھوٹ، ظلم اور بے انصافی کے بجائے اخلاص و محبت، صدق و صفا اور عدل و انصاف کا داعی اور ظلمت کے بجائے نور، تعفن کے بجائے خوش بو اور بدنمائی کے بجائے رعنائی کا مشتاق ہے۔ تہذیب و تمدن کا ارتقا درحقیقت حسن وخوبی کی جستجو ہی کی داستان ہے۔ اس کا لفظ لفظ بتا رہا ہے کہ انسان نے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا ہے ۔ نشو و نما کے لیے اسے غذا کی ضرورت تھی۔ وہ اسے خار و خس اور ساگ پات سے بھی پورا کر سکتا تھا، مگر اس نے انواع و اقسام کے خوش ذائقہ کھانوں کو دستر خوان پر سجایا۔ سترپوشی اس کی حیا کا تقاضا تھا، یہ بوریااوڑھ کر اور ٹاٹ لپیٹ کر بھی پورا ہو سکتا تھا، مگر اس نے ریشم و دیبا اور اطلس و کم خواب کا انتخاب کیا۔ رہنے بسنے کے لیے اسے مسکن درکار تھا، اس کا بندوبست جنگلوں اور صحراؤں میں غاروں، خیموں اور جھونپڑیوں کی صورت میں بھی ہو سکتا تھا، مگر اس نے شہر آباد کیے اور ان میں عالی شان محلات آراستہ کیے۔ میل جول میں اسے ابلاغ مدعاکی ضرورت تھی ۔ یہ اشاروں سے نہ سہی تو سادہ بول چال سے بھی کیا جا سکتا تھا، مگر اس نے کلام کے ایسے اسالیب وضع کیے کہ زبان شعر و ادب کے قالب میں ڈھل گئی۔ انسان کی اس تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر اقدام میں حسن و خوبی کا خوگر ہے۔اس کی ظاہری و باطنی حسیات اور ان کے لوازم اس کے ذوق جمال کے آئینہ دار ہیں۔ چنانچہ یہ اس کا حسن بیان ہے کہ وہ لفظوں کو مرتب کرتا اور ان کے آہنگ اور معانی کی تاثیر سے اشعار تخلیق کرتا ہے، یہ اس کا حسن صو ت ہے کہ وہ آواز میں درد و سوز اور لحن و غنا پیدا کرتا اور اس کے زیر و بم سے راگ اور سر ترتیب دیتا ہے، یہ اس کا حسن سماعت ہے کہ وہ اپنے ماحول کی آوازوں سے مسحور ہوتا اور انھیں محفوظ کرنے کے لیے ساز تشکیل دیتا ہے اوریہ اس کا حسن نظر ہے کہ وہ قدرت کی رعنائیوں سے مسرور ہوتا ،گرد و پیش کی تزیین و آرایش کرتا اور رفتہ کی یادگاروں، حاضر کے نظاروں اورآیندہ کے تصورات کو تصویروں میں ڈھالتا ہے۔ حسن بیان، حسن صوت، حسن سماعت اور حسن نظر کی صورت میں انسان کا یہی ذوق جمالیات جب اپنے کمال کو پہنچتا ہے تو فن کامقام حاصل کرتاہے او ر شاعری، موسیقی اور مصوری سے موسوم ہوتاہے۔شعر و ادب، ساز و سرود اور تصویر و تمثیل سے متعلق انھی فنون کے مجموعے کا عنوان فنون لطیفہ ہے۔ یہ انسان کی نفسی تسکین کا باعث بنتے اور اس کے جمالیاتی وجود کے لیے حظ و نشاط کا سامان کرتے ہیں۔

فنون لطیفہ مباحات فطرت میں سے ہیں، اس لیے ان کی اباحت میں کوئی شبہ نہیں ہے، مگر ان میں سے موسیقی اور مصوری کے بارے میں بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اسلامی شریعت انھیں حرام قرار دیتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس تصور کے لیے شریعت میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ دین میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے ۔ ان کی سند کے بغیر شریعت کی فہرست حلت و حرمت میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایمان کا تقاضا ہے کہ جن امور کو یہ جائز قرار دیں،انھیں پورے شرح صدر کے ساتھ جائز تصور کیا جائے اور جنھیں ناجائز قرار دیں ، فکر و عمل کے میدان میں ان کے جواز کی کوئی راہ ہرگز نہ ڈھونڈی جائے۔

—————

دین کے مصادر میں فن مصوری کے مختلف مظاہر کا ذکر مثبت اسلوب میں آیا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ کے ایک برگزیدہ نبی سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تصویریں اور مجسمے بنوانے کا تذکرہ ہے۔ بائیبل میں انھی جلیل القدر پیغمبر کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنے گھر اور اللہ کی عبادت گاہ کو تصویروں اور مجسموں سے مزین کیاتھا۔حدیث کی کتابوں میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فن کی بعض مصنوعات سے بالعموم گریز فرمایا،تاہم عام لوگوں کے لیے آپ نے ان کے استعمال پر اصلاً کوئی پابندی نہیں لگائی۔ ان روایتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے گریز کا سبب آپ کا طبعی میلان اور منصب نبوت کی ذمہ داریاں تھیں۔

ان ماخذ میں فن مصوری کی بعض اصناف کی شناعت بھی مذکور ہے، مگر اس کا تعلق سرتاسر مشرکانہ تماثیل و تصاویر سے ہے۔قرآن مجید نے پوجی جانے والی تماثیل ہی کی مذمت فرمائی ہے، بائیبل میں ایسی مورتیں بنانے سے منع کیا گیا ہے جن کی پرستش کی جاتی تھی اور احادیث میں بھی معبود ٹھہرائے جانے والے مجسموں اور ان کی تصویروں اور شبیہوں کو مذموم قرار دیا گیا ہے اور انھیں بنانے والے مصوروں کے بارے میں اخروی عذاب کا اعلان کیا گیا ہے۔اس بنا پر یہ بات نہایت اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ تماثیل و تصاویر کی یہ شناعت علی الاطلاق نہیں، بلکہ اس کے بعض مظاہر کے شرک سے متعلق ہونے کی وجہ سے ہے۔

اس ضمن میں ہمارے بیش تر علما اور فقہا کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ جان دار مخلوقات کی تصاویر حرام اور بے جان کی جائز ہیں۔ اس کی اساس ان کے نزدیک وہ روایات ہیں جن میں اللہ کی مخلوق کے مشابہ مخلوق بنانے کی مذمت کی گئی ہے اور ایسی تصویریں اور مجسمے بنانے سے منع کیا گیا ہے جن میں روح پائی جاتی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ نقطۂ نظر مذکورہ روایتوں کے صحیح فہم پر مبنی نہیں ہے۔ ان روایتوں کو اگر دیگر روایات اور تاریخی پس منظر کی روشنی میں سمجھا جائے تو یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ ممانعت صرف اور صرف مشرکانہ تصویروں کے ضمن میں ہے۔ مشرکین عرب بعض مخصوص مجسموں میں فرشتوں، جنوں اور انسانوں کی روحوں کے حلول کے قائل تھے اور انھیں حی و قیوم اور نافع وضار سمجھ کر ان کی پرستش کرتے تھے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مجسموں کو اور ان کی شبیہ پر بننے والی تصویروں کو اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق بنانے سے تعبیر کیا اور انھیں بنانے اور گھروں میں رکھنے سے منع فرمایا۔

اس تناظر میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ دیگر فنون لطیفہ کی طرح فن مصوری بھی مباحات فطرت میں سے ہے۔اسلامی شریعت نے اس کی فطری اباحت کی تائید کی ہے اور اس کی حرمت و شناعت کا کوئی حکم صادر نہیں کیا۔ چنانچہ مجسمہ سازی،تصویر کشی،کندہ کاری، نقاشی اور اس نوع کے دیگر فنون مصوری بجا طور پر استعمال کیے جا سکتے اور تہذیب و تمدن کے ارتقا میں ان کی صنعتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ جہاں تک قرآن، بائیبل اور احادیث میں مذکور ان کے بعض مظاہر کی شناعت کا تعلق ہے تو اس کا سبب ان کا مشرکانہ مراسم کے لیے مستعمل ہونا ہے۔ کسی صنف کو اگر لوگ غیر دینی اور غیر اخلاقی مقاصد کے لیے استعمال کریں گے تو اسے لازماً شنیع قرار دیا جائے گا، مگر ظاہر ہے کہ یہ شناعت اس صنف سے نہیں، بلکہ دینی و اخلاقی مفاسد سے متعلق ہو گی۔یہ مفاسد جب تک اس صنف کے ساتھ وابستہ رہیں گے، شناعت قائم رہے گی اور جب منفک ہو جائیں گے تو شناعت بھی ختم ہو جائے گی۔چنانچہ مصوری کے مظاہر کی حرمت و اباحت کا تعلق ان کے جان دار اور بے جان یا حیوان اور غیر حیوان ہونے سے نہیں ہے۔ اس کا تعلق اصلاً دینی و اخلاقی عوارض سے ہے۔ یہ عوارض اگر کسی شبیہ یا تصویر میں موجودہیں تو وہ جان دار کی ہے یا بے جان کی، بہرصورت شنیع قرار پائے گی اور اگروہ ان سے خالی ہے تو شجر و حجر کی ہے یا انسان و حیوان کی، ہر حال میں مباح ہو گی۔

—————

قرآن مجید اور مصوری

وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ. یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ اِعْمَلُوْآ اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ. ( السبا۳۴ :۱۲۔ ۱۳)

''اور ہم نے سلیمان کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا۔ اس کا جانا بھی مہینا بھر کا ہوتا اور آنا بھی مہینا بھر کا ہوتا اور ہم نے اس کے لیے تانبے کا چشمہ بہا دیااور جنات میں سے بھی اس کے لیے مسخر کر دیے جو اس کے رب کے حکم سے اس کے حضور میں خدمت کرتے (اور ان کے لیے ہمارا حکم یہ تھا کہ) جو ان میں سے ہمارے حکم کی سرتابی کرے گا تو ہم اس کو دوزخ کا عذاب چکھائیں گے۔ وہ اس کے لیے بناتے جو وہ چاہتا: محرابیں ، تماثیل، حوضوں کے مانند لگن اور لنگر انداز دیگیں اے آل داؤد، شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار تھوڑے ہی ہیں۔''

سورۂ سبا کے اس مقام پران انعامات کا ذکر ہواہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمائے تھے ۔ ان میں سے ایک انعام یہ بیان ہواہے کہ اللہ تعالیٰ نے بعض جنات کو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے لیے مسخر کر دیا تھا۔ وہ آپ کے تابع فرمان تھے اور آپ کی خواہش کے مطا بق مختلف خدمات انجام دیتے تھے۔آپ نے انھیں جن کاموں پر مامور فرمایا، ان میں سے ایک کام یہ بھی تھا کہ وہ آپ کے لیے تماثیل یعنی تصویریں اور مجسمے بناتے تھے۔ ۱؂

سورۂ سبا کی ان آیات سے مصوری کے بارے میں حسب ذیل باتوں کی وضاحت ہوتی ہے:

اولاً ، اللہ کے ایک برگزیدہ پیغمبر نے اپنے تابع فرمان جنوں سے تصویریں اور مجسمے بنوائے۔ پیغمبر چونکہ اللہ کی براہ راست رہنمائی میں زندگی بسر کرتا ہے، اس لیے یہ امر یقینی ہے کہ اس سے شعوری طور پر کوئی غیر مباح عمل صادر نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کا یہ عمل تصویر کی اباحت پر دلیل قاطع ہے۔

ثانیاً ، سیدنا سلیمان علیہ السلام کے اس عمل کا ذکر قرآن مجید نے کیا ہے۔یہ کتاب برحق ہے۔ یہ اگر کسی واقعے کی تصدیق کر دے تو اس کے بارے میں شک و شبہے کا ہر احتمال ختم ہو جاتا ہے۔چنانچہ قرآن کا مذکورہ واقعے کو بیان کر دینا ہی اس کی صحت کی دلیل ہے۔ مزید براں قرآن کے اس ذکر سے ان تفصیلات کی بھی تصدیق ہوتی ہے جو سیدنا سلیمان علیہ السلام کے تعمیر کردہ ہیکل اور محل میں تصویروں اور مجسموں کے حوالے سے تورات میں بیان ہوئی ہیں۔ ۲؂

ثالثاً ، ان آیات میں تماثیل کے ساتھ یکساں طور پر محرابیں ، حوضوں کے مانند لگن اور لنگر انداز دیگیں بنانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس یکساں ذکر کی وجہ سے مذکورہ چار چیزوں پر باہم مختلف حکم نہیں لگایا جا سکتا۔ یعنی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں فلاں چیز جائز ہے اور فلاں ناجائز ہے ۔ جواز کاحکم لگانا ہے تو سبھی پر لگے گا اور عدم جواز کے حکم کا اطلاق کرنا ہے تو سبھی پر ہو گا۔ چنانچہ یہاں اگر محرابوں، لگنوں اور دیگوں کے جواز کا حکم مستنبط ہوتا ہے تو تماثیل کو اس حکم سے ہر گز خارج نہیں کیا جا سکتا۔

رابعاً ، تماثیل کا لفظ حیوان اور غیر حیوان ، دونوں کی تصویروں اور مجسموں پر محیط ہے۔ اس مفہوم کی بنا پر یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ جب یہ لفظ مجرد طور پر استعمال ہو تو اس کے مفہوم سے حیوانات کی تصویروں کو ہر گز خارج نہیں کیا جا سکتا۔ یہاں یہ لفظ کسی تخصیص کے بغیر استعمال ہو اہے۔ چنانچہ قرین قیاس یہی ہے کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام نے حیوان اور غیر حیوان ، دونوں طرح کی مخلوقات کی تصویریں اور مجسمے بنوائے تھے۔

خامساً، آیت کے اختتام پر ''اے آل داؤد، شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو'' کے الفاظ سے واضح ہے کہ مذکورہ چیزیں انعامات ہی کی نوعیت کی تھیں۔اللہ کی شکر گزاری اس کے فضل و انعام ہی سے مستلزم ہے۔ مولانا امین احسن اصلاحی آیت کے ان الفاظ کے تحت لکھتے ہیں:

''یہ اس فضل و انعام کا حق بیان ہوا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر فرمایا۔ ان کو ہدایت ہوئی کہ اس علم و سائنس اور ان ارضی و سماوی برکات کو پا کر بہک نہ جانا، بلکہ اپنے رب کی شکرگزاری کے ساتھ ہر چیز اس کے صحیح محل میں برتنا اور ہر قدم صحیح سمت میں اٹھانا۔ یہ نصیحت یوں تو اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت زبان حال سے بھی کرتی ہے، لیکن حضرت سلیمان علیہ السلام پیغمبر تھے ، اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے بھی ان کو ہدایت فرمائی۔''(تدبر قرآن۶/ ۳۰۵)

سادساً ،قرآن مجید نے اس موقع پر تماثیل کی حرمت و شناعت کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ چنانچہ یہ رائے صحیح نہیں ہے کہ یہ سابقہ شریعتوں میں جائز اور اسلامی شریعت میں ناجائز ہیں۔ اگر یہ بات درست ہوتی تو قرآن اسی مقام پر یا کسی دوسرے مقام پرشریعت کی اس تبدیلی کو ضرور بیان کرتا۔

ان نکات کی بنا پر یہ بات نہایت اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ قرآن مجید سے مصوری کی اباحت ہی معلوم ہوتی ہے۔

—————

۱؂ 'تماثیل' 'تمثال ' کی جمع ہے۔ یہ لفظ حیوانات اور جمادات و نباتات کی صورت میں تمام مخلوقات کی تصویروں اور مجسموں کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔

۲؂ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصویریں اور مجسمے حیوان اور غیر حیوان ، دونوں طرح کی مخلوقات کے تھے اور سیدنا سیلمان علیہ السلام نے انھیں ہیکل اور اپنے محل کی تعمیر کے موقع پر بنوایا تھا۔ (سلاطین ۱۸: ۳۰، ۲۷:۳۰)

———————-

بائیبل اور مصوری

بائیبل میں مختلف مقامات پر بنی اسرائیل کی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی اور سیدنا سلیمان علیہ السلام کے محل کی تصویر کشی کی گئی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعمیر کے موقع پر سیدنا سلیمان علیہ السلام نے تزئین و آرایش کے لیے ان میں مجسمے اور تصویریں بنوائیں۔یہ مجسمے اور تصویریں فرشتوں، حیوانوں، درختوں اور پھولوں کی تھیں۔

سلاطین میں ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اللہ کے گھر ہیکل کو تعمیر کرایا تو اس میں فرشتوں اور بعض حیوانوں کی تصویریں، مجسمے اور کندہ کی ہوئی صورتیں بنوائیں:

''اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے ... دونوں کروبی ایک ہی ناپ اور ایک ہی صورت کے تھے ... اور اس نے اس گھر کی سب دیواروں پر گردا گرد اندر اور باہر کروبیوں اور کھجور کے درختوں اور کھلے ہوئے پھولوں کی کھدی ہوئی صورتیں کندہ کیں۔'' (۶ :۲۳،۲۵، ۲۹)

سلاطین ہی میں ہے کہ ہیکل کی تعمیر کے بعد سیدنا سلیمان علیہ السلام نے اپنا محل تعمیر کرایا اور اس میں رکھی جانے والی کرسیوں پر بھی تماثیل بنوائیں:

''اس نے پیتل کی دس کرسیاں بنائیں ... اور ان کرسیوں کی کاری گری اس طرح کی تھی۔ ان کے حاشیے تھے اور پڑوں کے درمیان بھی حاشیے تھے۔ اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے ، شیر اور بیل اور کروبی بنے تھے۔'' ( ۷ :۲۷، ۲۸)

بائیبل میں حزقی ایل نبی کے ہیکل سلیمانی کے مشاہدے کا واقعہ نقل ہواہے۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ حزقی ایل نبی نے ہیکل میں کھجور کے درختوں اور فرشتوں کی تصویروں کا نظارہ کیا:

''اور (وہاں) کروبی اور کھجور بنے تھے اور ایک کھجور دوکروبیوں کے بیچ میں تھا اور ہر ایک کروبی کے دو چہرے تھے ۔ چنانچہ ایک طرف انسان کا چہرہ کھجور کی طرف تھااور دوسری طرف جوان شیر ببر کا چہرہ بھی کھجور کی طرف تھا۔ گھر کی چاروں طرف اسی طرح کا کام تھا۔ زمین سے دروازہ کے اوپر تک اور ہیکل کی دیوار پر کروبی اور کھجور بنے تھے۔'' (حزقی ایل۴۱ : ۱۹۔۲۱)

بائیبل کے درج بالا مندرجات سے ان باتوں کی صراحت ہوتی ہے:

ایک یہ کہ اللہ کے گھراور پیغمبر کے گھر، دونوں کو مختلف تصویروں اور مجسموں سے مزین کیا گیا تھا۔ بنی اسرائیل کے لیے ہیکل کی حیثیت خانۂ خدا کی تھی اورشاہی محل کی حیثیت سیدنا سلیمان علیہ السلام کی قیام گاہ کی تھی۔ان مقامات پر تصویروں کی موجودگی کے معنی یہ ہیں کہ گویا پیغمبر کے حین حیات بنی اسرائیل کے ہاں بیت اللہ اور بیت النبی، دونوں میں تصویریں موجود تھیں۔

دوسرے یہ کہ تصویروں اور مجسموں کے ذریعے سے تزئین و آرایش کا یہ کام خوداللہ کے پیغمبر سیدنا سلیمان علیہ السلام کے حکم سے اور آپ کی براہ راست رہنمائی میں ہوا تھا۔

تیسرے یہ کہ ان تصویروں میں کھجور کے درختوں اور پھولوں جیسی بے جان چیزوں کی تصویریں بھی تھیں اور فرشتوں اورحیوانوں جیسی جان دار مخلوقات کی تصویریں بھی شامل تھیں۔

ان باتوں سے یہ حقیقت پوری طرح واضح ہوتی ہے کہ انبیاے بنی اسرائیل کی شریعت میں مصوری نہ صرف جائز تھی، بلکہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے عہد میں اسے ایک قابل قدر فن کی حیثیت بھی حاصل تھی اور نقاشی، کندہ کاری اور مجسمہ سازی جیسے فنون کو تعمیر اور تزئین کے موقعوں پرنہایت دل چسپی کے ساتھ استعمال کیا جاتا تھا۔ ۳؂

—————

۳؂ بائیبل کے مذکورہ مقامات کے بارے میں یہ سوال ہو سکتا تھا کہ کیایہ من جملۂ تحریفات تو نہیں ہیں،مگر قرآن مجید نے سورۂ سبا(۳۴) میں سیدنا سلیمان علیہ السلام کی بابت تماثیل کا حوالہ دے کران کی صحت کی تصدیق کر دی ہے۔ اس تصدیق کے بعد ان کی حیثیت سچے واقعات کی ہے اور اسی بنا پر یہ مصوری کے جواز کے لیے نصوص کا درجہ رکھتے ہیں۔

———————-

احادیث اور مصوری

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مصوری عرب معاشرت کا حصہ تھی۔تزئین و آرایش کے لیے بالعموم اسی فن کو استعمال میں لایا جاتا تھا۔ لوگ اپنے گھروں کی زیب و زینت کے لیے دیواروں اور ستونوں کو تصویروں سے مزین کرتے، طاقوں اور دروازوں پر منقش پردے سجاتے اور نشست گاہوں میں تصویروں والے غالیچے اور تکیے آراستہ کرتے تھے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کے پیش نظراگرچہ اس فن کے مختلف جمالیاتی اور آرایشی مظاہرسے رغبت کا اظہار نہیں فرمایا، تاہم عام لوگوں کے لیے آپ نے ان کے استعمال پر اصلاً کوئی قدغن نہیں لگائی۔ مزید براں کھلونوں کی صورت میں اس فن کی مختلف مصنوعات کے بارے میں آپ نے جس طرز عمل کا اظہار کیا، اس سے بھی اس کے جواز ہی کی تصدیق ہوتی ہے ۔چنانچہ اس بنا پر یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مصوری اور اس نوع کے دیگر فنون کی فطری اباحت کو ہر لحاظ سے قائم رکھا ہے۔ ذیل میں اسی پہلو سے چند نمائندہ روایتیں نقل کی گئی ہیں۔

پردے پر تصویر

عن عائشۃ قالت کان لنا ستر فیہ تمثال طائر وکان الداخل اذا دخل استقبلہ فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حولی ھذا فانی کلما دخلت فرایتہ ذکرت الدنیا... فلم یامرنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقطعہ. (مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ہمارے ہاں(گھر کے دروازے پر) ایک پردہ (لٹکا ہوا)تھا جس پر پرندے کی تصویر تھی۔ گھر میں داخل ہونے والا کوئی شخص جب داخل ہوتاتو اس (پردے)کو اپنے سامنے پاتا۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی جب گھر میں آتے تو آپ کی نظر اس پر پڑتی)۔ پھر (ایک موقع پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : اس (پردے ) کو (یہاں سے) ہٹا دو ، میں جب بھی گھر داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے ... (سیدہ فرماتی ہیں کہ )رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اسے (ہٹانے ہی کا حکم دیا) پھاڑ دینے کا حکم نہیں دیا۔''

اس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا ہواتھاجس پر تصویر بنی ہوئی تھی۔

o یہ تصویر کسی پرندے کی تھی۔

o پردہ چونکہ دروازے پر لٹکا ہوا تھا، اس لیے گھر میں داخل ہونے والے ہر شخص کی نظر اس پر پڑتی تھی۔

o یہ پردہ کچھ روزتک لٹکا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے گزرتے رہے۔ ۴؂

o بالآخر ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ کو اسے ہٹانے کا حکم دیا۔

o پردے کو ہٹانے کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ نے یہ ارشاد فرمایا کہ اس کو دیکھنے سے مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے۔

o روایت میں یہ مزید وضاحت کی گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردے کو پھاڑنے اور اس پر منقش تصویر کو قطع کرنے کا حکم نہیں دیا۔

اس روایت سے یہ بات پوری طرح واضح ہوجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تصویر کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ روایت کے حسب ذیل پہلووں سے اسی بات کی تصدیق ہوتی ہے:

اولاً، تصویر اگر ناجائز ہوتی تویہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ کے ہاں معلوم و معروف ہوتی اور کوئی شخص بیت النبی پر تصویر والا پردہ لٹکانے کی جسارت نہ کرتا۔

ثانیاً ، اگر ایسا ہو بھی جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی نظر ہی میں پردہ اتروا دیتے اور اس میں سے ایک سے زائد بار گزرنا گوارا نہ کرتے۔

ثالثاً ، آپ اپنے حکم کو پردہ اتارنے تک ہی محدود نہ رکھتے، بلکہ اسے قطع بھی کرا دیتے تاکہ تصویر باقی نہ رہے۔

اس توضیح سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر کو ممنوع یا غیرمباح قرار نہیں دیا اور نہ اسے کسی حرام شے سے وابستہ کیا ہے، بلکہ اس کے برعکس تصویر والے پردے کو دنیا سے متعلق کر کے تصویر کی اباحت کی تصدیق فرما دی ہے۔ ۵؂

یہاں یہ واضح رہے کہ پردے پر تصویرکا نقش درحقیقت اس کے مزین ہونے کی علامت ہے۔ عربوں کے ہاں گھروں کی آرایش وزیبایش کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ لوگ انسانوں اور حیوانوں کی تصویروں والے منقش پارچہ جات کو دیواروں،طاقوں اور دروازوں پر آویزاں کرتے تھے۔ ''المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام'' میں ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں :

بعض اہل مکۃ وسائر مواضع الحجاز الأخری، کانوا یضعون الصور والتماثیل فی بیوتہم... وأن طائفۃ من النساجین والخیاطین کانوا یجعلون صور انسان او حیوان علی الستائر أو الملابس لتزویقہا... اھل الجاہلیۃ کانوا یزینون بیوتہم بالصور وبالنسیج المصور،کما کانوا یستعملون ستائر ذات صور. (۸ / ۸۳، ۸۸)

''بعض اہل مکہ اور حجاز کے دوسرے تمام علاقوں کے لوگ اپنے گھروں میں تصویریں اور مجسمے رکھتے تھے ... اور ایک گروہ درزیوں اور بافندوں کا تھا جو پردوں اور ملبوسات کو منقش کرنے کے لیے ان پر انسانوں اور جانوروں کی تصویریں بنایا کرتا تھا ... زمانۂ جاہلیت کے لوگ اپنے گھروں کی آرایش تصویروں سے اور ایسے کپڑوں سے کرتے تھے جن پر تصویریں بنی ہوتی تھیں۔ اسی طرح وہ تصویروں والے پردے استعمال کرتے تھے۔''

اس تناظر میں یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ '' اس پردے کو دیکھنے سے مجھے دنیا یاد آ جاتی ہے''، تصویر سے نہیں، بلکہ زیب و زینت اور تزئین و آرایش سے متعلق ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ سرتاسر من جملۂ مباحات ہیں اور الہامی شریعتوں نے انھیں کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسالیب جب حد اعتدال سے متجاوز ہو جائیں تو یہی مباحات نمود و نمایش اور فخر و استکبار کا مظہر بن جاتے اور انسان کو آخرت سے غافل کرکے دنیا پرستی کی طرف راغب کر دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی ان میں مستغرق ہونے اور انھیں اوڑھنا بچھونابنا لینے کو ناپسند کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے رغبات دنیا کو اصلاً جائز قرار دیا، انھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کیا اور اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک ان سے بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ اپنے اہل خانہ کو بھی آپ نے اسی رویے کی تلقین کی ۔ چنانچہ اسی طرح کے ایک منقش پردے کوجب آپ نے اپنی صاحب زادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے دروازے پر لٹکے ہوئے دیکھا تو اسے ناپسند فرمایا اور کسی ضرورت مندکو دے دینے کا حکم دیا:

عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما قال اتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت فاطمۃ فلم یدخل علیھا وجاء علی فذکرت لہ ذلک فذکرہ للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال انی رایت علی بابھا سترا موشیاً فقال ما لی وللدنیا فاتاھا علی فذکر ذلک لھا فقالت لیامرنی فیہ بما شاء قال ترسل بہ الی فلان اھل بیت بھم حاجۃ.(بخاری ، رقم ۲۶۱۳)

''ابن عمررضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (ایک روز)نبی صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تک آئے،مگر گھر میں داخل نہیں ہوئے (اور واپس تشریف لے گئے۔ سیدہ کو یہ معلوم ہوا ) تو جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے تو انھوں نے ان سے اس کا ذکر کیا۔ سیدنا علی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کا سبب) معلوم کیا۔ آپ نے فرمایا:میں نے اس کے دروازے پر منقش پردہ دیکھا تھا۔ پھر فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق۔ پھر سیدنا علی فاطمہ رضی اللہ عنھا کے پاس آئے اور انھیں یہ بات بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں جو چاہتے ہیں، مجھے حکم دیں۔( سیدہ کی یہ گزارش جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو) آپ نے فرمایا : اسے فلاں گھر والوں کے پاس بھجوا دو، وہ ضرورت مند ہیں۔''

مسلم کی مذکورہ روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کا سبب اگر طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کو متصورنہ کیا جائے تو آرایش و زیبایش سے آپ کا ابا کرنا دینی عمل قرار پاتااور اس اعتبار سے لائق اتباع اسوۂ حسنہ کے زمرے میں شامل ہوتا ہے۔ زیب و زینت سے گریز کو دینی عمل تصور کرنا چونکہ قرآنی نصوص، بعض دیگر انبیا کے طرز عمل اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض دوسرے اعمال سے متعارض ہے، اس وجہ سے قرین قیاس یہی ہے کہ منقش پردے کو اتار دینے کا حکم ایک اعتبار سے آپ کی ذاتی پسند و ناپسند کا مظہر اور ایک پہلو سے آپ کی منصبی ذمہ داریوں میں یکسوئی کا آئینہ دار ہے۔

اس تنقیح سے ہو سکتا ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ گریز آپ کے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کے تناظر میں ہے تو پھر سیدنا مسیح اور سیدنا یحییٰ علیھما السلام کے دنیا کی لذتوں سے اس کنارہ کشی کے کیا معنی ہیں جس کا حوالہ خود قرآن مجید نے دیا ہے؟

ہمارے نزدیک اس کا سبب بھی ان انبیا کی منصبی ذمہ داریاں ہی ہیں۔ استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی سورۂ آل عمران کی تفسیر میں اسی پہلو کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

'' اس کنارہ کشی کی وجہ یہ تھی کہ یحییٰ و مسیح، دو نوں بنی اسرائیل پر عذاب سے پہلے آخری اتمام حجت کے لیے آئے تھے۔ وہ اس بستی میں گھر کیا بناتے جو سیلاب کی زد میں تھی اور اس درخت کی بہار کیا دیکھتے جس کی جڑوں پر کلہاڑا رکھا ہوا تھا۔ ایک ایک دروازے پر دستک دے کر لوگوں کو آنے والے طوفان سے خبردار کرنے والے اپنا گھر بسانے اور اپنا کھیت اگانے میں لگ جاتے تو اپنے فرض سے کوتاہی کے مرتکب قرار پاتے۔ چنانچہ دونوں نے تجردو انقطاع کا طریقہ اختیار کیا، قوت لایموت پر اکتفا کی، درویشوں کا لباس پہنا اور زمین و آسمان ہی کو چھت اور بچھونا بنا کر زندگی بسر کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ نصاریٰ کی بد قسمتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ان جلیل القدر پیغمبروں کی اس منصبی ذمہ داری کو سمجھنے کے بجائے انھوں نے اسے رہبانیت کا رنگ دیا اور پھر اسی کو دین کا اصلی مطالبہ قرار دے کر رہبانیت کا ایک پورا نظام کھڑا کر دیا۔ ہمارے ہاں بھی صوفیوں نے پیغمبروں کی زندگی میں اسی طرح کی بعض چیزوں کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بہت سے اجنبی تصورات دین میں داخل کر دیے ہیں اور اب گزشتہ کئی صدیوں سے علما کو بھی ان سے متاثر کرلینے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ''(اشراق، اکتوبر ۲۰۰۴)

سیدہ عائشہ کی گڑیاں

۱۔قالت کنت ألعب بالبنات فربما دخل علیّ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وعندی الجواری فاذا دخل خرجن واذا خرج دخلن.(ابوداؤد، رقم ۴۹۳۹)

۲۔قالت قدم رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من غزوۃ تبوک أو خیبر وفی سہوتہا ستر فہبت الریح فکشفت ناحیۃ الستر عن بنات لعائشۃ لعب فقال ما ہذا یا عائشۃ قالت بناتی ورأی بینہن فرسا لہ جناحان من رقاع فقال ما ہذا الذی أری فی وسطہن قالت فرس قال وما ہذا الذی علیہ قلت جناحان قال فرس لہ جناحان قالت أما سمعت ان لسلیمان خیلا لہا أجنحۃ قالت فضحک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حتی رأیت نواجذہ.(ابو داؤد، رقم ۴۹۳۲)

۱۔''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ میں گڑیوں سے کھیلتی تھی اور (اس دوران میں) بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آتے تھے ، جبکہ میری سہیلیاں میرے ساتھ ہوتی تھیں۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لاتے تو وہ چلی جاتیں اور جب آپ تشریف لے جاتے تو وہ آجاتیں۔''

۲۔ ''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھابیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوۂ تبوک یا غزوۂ خیبر سے واپس تشریف لائے۔ گھر کے طاق (میں گڑیاں پڑی تھیں اور اس )پر پردہ لٹکا ہوا تھا۔ پھر ہوا چلی تو سیدہ کی کھیلنے کی گڑیوں پر سے پردہ سرک گیا۔ آپ نے پوچھا : عائشہ، یہ کیا ہے؟انھوں نے کہا: یہ میری گڑیاں ہیں۔ آپ نے دیکھاکہ ان کھلونوں میں ایک گھوڑا تھاجس پر کاغذ کے دو پر لگے ہوئے تھے۔آپ نے (اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)فرمایا: میں ان کے درمیان میں یہ کیا چیزدیکھ رہا ہوں ؟ انھوں نے عرض کیا: یہ گھوڑا ہے۔ آپ نے فرمایا: یہ اس کے اوپر کیا ہے؟ میں نے کہا کہ یہ پر ہیں۔آپ نے(ازراہ تفنن) پوچھا: کیاگھوڑے کے پر بھی ہوتے ہیں؟ انھوں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات نہیں سنی ہے کہ حضرت سلیمان کے پاس پروں والے گھوڑے تھے؟سیدہ بیان کرتی ہیں کہ (یہ بات سن کر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے (اور اس قدر ہنسے ) یہاں تک کہ میں نے آپ کی ڈاڑھیں دیکھ لیں۔''

ان روایتوں سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o سیدہ عائشہ کے پاس گڑیاں اور دوسرے کھلونے تھے اور وہ اپنی ہم جولیوں کے ساتھ ان سے کھیلا کرتی تھیں۔

o انھی میں ایک کاغذ سے بنا ہوا پروں والاگھوڑا بھی تھا۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کو انھیں اپنے پاس رکھنے اور ان کے ساتھ کھیلنے سے منع نہیں فرمایا، بلکہ ایک موقع پر سیدہ سے ان کے بارے میں نہایت دل چسپی کے ساتھ مکالمہ کیا۔

یہ روایتیں مصوری کی اباحت کو نہایت صراحت سے بیان کر رہی ہے ۔ ام المومنین سیدہ عائشہ نے جو گڑیاں استعمال کیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جن پر کوئی نکیر نہیں فرمائی، وہ درحقیقت فن مصوری ہی کا مظہر تھیں۔ اپنی اصل کے لحاظ سے یہ تماثیل ہی تھیں جو مٹی، پتھر، دھات، کاغذ یا کپڑے وغیرہ سے انسانوں، جانوروں اور دیگر مخلوقات کی شبیہوں پر بنائی جاتی اور کھلونوں کے طور پر استعمال ہوتی تھیں۔ یہاں ان کے لیے'بنات' کا لفظ استعمال ہوا ہے ، ' لعبۃ'کا لفظ بھی انھی معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر جواد علی نے انھیں چھوٹی تماثیل کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے جو اصلاً بچوں کے کھیلنے کے لیے بنائی جاتی تھیں:

واما البنات فالتماثیل الصغار التی یلعب بہا...واللعبۃ التمثال یلعب بہ الصبیان.(المفصل فی تاریخ العرب ۵ /۱۲۵)

'''بنات' چھوٹی تماثیل تھیں جن سے کھیلا جاتا تھا ... 'لعبہ' وہ تمثال تھی جس سے بچے کھیلتے تھے۔''

یہ گڑیاں اور کھلونے عام تھے اور گھریلو خواتین بھی اپنے بچوں کا دل لبھانے کے لیے انھیں بنا لیتی تھیں۔ بخاری کی ایک روایت میں نقل ہوا ہے کہ مسلمان خواتین بچوں کو روزہ رکھوانے کے بعد اون کے کھلونے بنا کر ان کا دل بہلاتی تھیں :

عن الربیع بنت معوذ... قالت فکنا نصومہ بعد و نصوم صبیاننا ونجعل لھم اللعبۃ من العھن فاذا بکی احدھم علی الطعام اعطیناہ ذاک حتی یکون عند الافطار. (بخاری، رقم۱۸۵۹)

''ربیع بنت معوذ بیان کرتی ہیں ...(نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے) اس حکم کے بعد ہم عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ، اپنے بچوں کو بھی رکھاتے اور ان کے لیے اون کا ایک کھلونا بنا دیتے ۔ جب ان میں کوئی کھانے کے لیے روتا تو ہم اس کو یہ کھلونا دے دیتے ۔ (وہ بہل جاتا) یہاں تک کہ افطار کا وقت ہو جاتا۔''

تکیے پر تصویر

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا انھاکانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترا فیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت یجلس علیھما. (بخاری ، رقم۲۳۴۷)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر کے طاقچے پر ایک ایسا پردہ لٹکایا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھینچ کر اتار دیا ۔ پھرسیدہ نے اس کے دو تکیے بنا لیے۔ یہ دونوں تکیے گھر میں موجود رہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔''

اس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o ام المومنین سیدہ عائشہ نے اپنے گھر میں ایسا پردہ لٹکایا جس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پردے کو کھینچ کر اتار دیا۔

o سیدہ عائشہ نے اس کپڑے کے دو تکیے بنا لیے۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تکیوں کو نا پسند نہیں فرمایا، بلکہ اپنے استعمال میں لے آئے۔

اس روایت کے آخری جز سے تصویر کی اباحت ہی کی تصدیق ہوتی ہے۔ سیدہ عائشہ کا تصویر والے پردے سے تکیے بنانا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انھیں استعمال میں لانا ، اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے ۔ یہ روایت مسند احمد میں بھی نقل ہوئی ہے اور اس میں بیان ہوا ہے کہ جس تکیے پر آپ تشریف فرما ہوتے تھے، اس پر تصویر بنی ہوئی تھی:

عن عائشۃ قالت قدم رسول اللّٰہ من سفر وقد اشتریت نمطا فیہ صورۃ فسترتہ علی سھوۃ بیتی فلما دخل کرہ ما صنعت وقال اتسترین الجدر یا عائشۃ فطرحتہ فقطعتہ مرفقتین فقد رایتہ متکئا علی احداھما وفیھا صورۃ. (مسنداحمد، رقم۲۶۱۴۶)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لائے۔ میں نے ایک کپڑا خرید کر جس پر تصویر تھی اسے پردے کے طور پراپنے گھر کے طاقچے پر لٹکا رکھا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے تو آپ نے میرے اس عمل کو ناپسند کیا اور فرمایا :عائشہ، کیا تم دیوار پر بھی پردہ لٹکاتی ہو؟ (سیدہ کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کو محسوس کرتے ہوئے ) میں نے اسے اتار دیا اور چاک کر کے دو تکیے بنا لیے۔ پھر (ایک موقع پر) میں نے آپ کو ان میں سے ایک کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے دیکھا، جبکہ اس پر تصویر تھی۔''

جہاں تک بخاری کی مذکورہ روایت کے پہلے جز کا تعلق ہے جس کے مطابق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویروں والے کپڑے کو کھینچ کر اتار دیا تو اس سے بادی النظر میں تصویر کی شناعت کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے ، مگر روایت کے صحیح فہم تک رسائی کے لیے ضروری ہے کہ اسے لازماًدوسرے جز کے تقابل میں دیکھا جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے اسی کپڑے سے بنے ہوئے تکیے کو بیٹھنے کے لیے استعمال کیا۔اس تقابل سے یہ بات محسوس ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصویر والے کپڑے کے استعمال کی ایک صورت کو ناپسند کیا اور دوسری کو ناپسند نہیں کیا۔ طرز عمل کے اس اختلاف کا سبب اسی روایت کے ایک دوسرے طریق میں نہایت صراحت کے ساتھ بیان ہوا ہے ۔ مسلم کی روایت ہے :

قالت عائشۃ خرج (رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم) فی غزاتہ فاخذت غطا فسترتہ علی الباب فلما قدم فرأی النمط عرفت الکراھیۃ فی وجہہ فجذبہ حتی ھتکہ أو قطعہ وقال إن اللّٰہ لم یأمر نا أن نکسو الحجارۃ والطین. قالت فقطعنا منہ وسادتین و حشوتھما لیفا فلم یعب ذلک علی.(مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لیے تشریف لے گئے ۔ میں نے ایک پردہ لیا اور اسے دروازے پر لٹکا دیا ۔ جب آپ واپس تشریف لائے اور پردہ دیکھا تو آپ نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ۔ پھر آپ نے اس کو کھینچا یہاں تک کہ پھاڑ ڈالا یا کاٹ ڈالا۔ پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ہم کو پتھراور مٹی کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔ سیدہ بیان کرتی ہیں کہ پھر ہم نے اس کو کاٹ کر دو تکیے بنا لیے اور ان میں کھجور کی چھال بھر دی۔ آپ نے اس کو ناپسند نہیں فرمایا۔''

اس روایت سے واضح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو اس وجہ سے اتارا کہ وہ دیوار پر لٹکا ہوا تھااور اس کی علت یہ بیان فرمائی کہ اللہ نے مٹی اور پتھر کو کپڑا پہنانے کا حکم نہیں دیا۔ اس بنا پر یہ بات ہر لحاظ سے متعین ہو گئی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پردے کو اتارنے اور قطع کر دینے کا سبب نمودونمایش یا اسراف تو ہو سکتا ہے ، تصاویر ہرگز نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ مذکورہ روایت سے تصویر کی شناعت کا مفہوم ہرگز اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

تصاویر اور نماز

عن انس قال کان قرام لعائشۃ سترت بہ جانب بیتھا. فقال لھا النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم امیطی عنی فانہ لاتزال تصاویرہ تعرض لی فی صلوٰتی. (بخاری، رقم۵۹۵۹)

''حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا کے پاس ایک پردہ تھا ۔ انھوں نے اس سے گھر کے ایک کونے کو ڈھانپا ہوا تھا۔ (اس پر تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ ایک موقع پر) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ سے ) فرمایا: اسے میرے سامنے سے ہٹا دو، کیونکہ اس کی تصاویر میری نماز میں مخل ہوتی رہتی ہیں۔''

اس روایت سے حسب ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میںآپ کی اہلیہ سیدہ عائشہ نے ایک پردہ لٹکایا ہوا تھا۔

o اس پردے پر تصویریں نقش تھیں۔

o یہ ایسے رخ پر تھاکہ جب آپ گھر میں نماز پڑھتے تو اس کی تصویریں آپ کے سامنے آجاتیں۔

o نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ کو اسے ہٹانے کا حکم دیا۔

o اس کا سبب بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ یہ تصویریں میری نماز میں خلل انداز ہوتی رہتی ہیں۔

o ' لاتزال تصاویرہ تعرض لی فی صلوٰتی' یعنی '' اس کی تصاویر میری نماز میں مخل ہوتی رہتی ہیں '' کے الفاظ سے واضح ہے کہ یہ پردہ کچھ روز تک لٹکا رہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے رہے ۔

یہ روایت نہایت وضاحت کے ساتھ تصویروں کے جواز کو بیان کر رہی ہے۔سیدہ عائشہ کا پیغمبر کے گھر میں تصویروں والا پردہ لٹکانا بجائے خود اس بات کی دلیل ہے کہ تصویریں اپنی اصل کے لحاظ سے کسی طرح بھی دائرۂ شناعت میں نہیں آتیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھتے ہی ہٹانے کا حکم نہیں دیا۔ تصویر اگر حرام ہوتی تو آپ اسے دیکھتے ہی پردے کو اتارنے کا حکم ارشاد فرماتے۔ مزید براں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پردے کو ہٹانے کی جو وجہ بیان فرمائی ہے، اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے تصاویر کو ان کے شنیع ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ نماز میں ان کی طرف توجہ مبذول ہوجانے کی وجہ سے ہٹانے کا حکم دیا۔چنانچہ اس حکم کا تعلق اصلاً تصاویر سے نہیں، بلکہ ہراس چیز سے ہے جو کسی موقع پر سماعت و بصارت کے ذریعے سے اللہ کی حضوری میں اختلال کا باعث بن جائے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا رویہ اس معاملے میں نہایت محتاط تھا۔ ایک موقع پر جب نماز کے دوران میں آپ کی توجہ اپنی اوڑھی ہوئی چادر کے حاشیے کی طرف مبذول ہوئی تو آپ نے نمازسے فارغ ہونے کے بعد اسے ایک صحابی کو بھجوا دیا اور اس کے بدلے میں ان سے سادہ چادر منگوا لی:

عن عائشۃ ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم صلی فی خمیصۃ لھا اعلام فنظر الی اعلامھا نظرۃ فلما انصرف قال : اذھبوا بخمیصتی ھذہ الی ابی جہم واتونی بانبجانیۃ ابی جھم فانھا الھتنی انفا عن صلاتی ... کنت انظر الی علمھا وانا فی الصلاۃ فاخاف ان تفتننی.(بخاری، رقم۳۶۶)

''سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حاشیہ دار چادر میں نماز پڑھی جس پر (بیل بوٹوں وغیرہ کے) نقوش تھے۔ آپ نے ان پر ایک نظر ڈالی۔ پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: یہ چادر ابو جہم کو دے آؤ اور (اس کے بدلے میں) ان سے (نقوش کے بغیر) سادہ چادر لے آؤ۔ اس چادر نے ابھی مجھے نماز سے غافل کر دیا تھا ... (دراصل) میں نماز میں اس کے نقش کو دیکھ رہا تھا، مجھے ڈر ہے کہیں وہ میری نماز میں خلل نہ ڈال دے۔''

[باقی]

———————-

۴ ؂ ' کلما دخلت فرایتہ' ،''میں جب بھی گھر داخل ہوتے ہوئے اسے دیکھتا ہوں'' کے الفاظ سے یہی بات معلوم ہوتی ہے۔

۵؂ دین کے نصوص سے واضح ہے کہ مرغوبات دنیا فی الاصل مباح ہیں۔