’’اسلام اور موسیقی‘‘ (1) (حصہ اول)


''الاعتصام'' کی تنقید پر تبصرہ

''اسلام اور موسیقی'' کے زیر عنوان مارچ ۲۰۰۴ کے ''اشراق'' میں ہم نے ایک مفصل مضمون تحریر کیا تھا۔ یہ مضمون استاذ گرامی جناب جاوید احمد صاحب غامدی کے افادات پر مبنی تھااور اس میں یہ نقطۂ نظر پیش کیا گیا تھا کہ غنا یاموسیقی مباحات فطرت میں سے ہے۔ اسلامی شریعت اسے ہرگزحرام قرار نہیں دیتی۔ لوگ چاہیں تو حمد، نعت، غزل، گیت، یا دیگر المیہ، طربیہ اور رزمیہ اصناف شاعری میں فن موسیقی کو استعمال کر سکتے ہیں۔شعر و ادب کی ان اصناف میں اگر شرک و الحاد اور فسق و فجور جیسے نفس انسانی کو آلودہ کرنے والے مضامین پائے جاتے ہوں تو یہ، بہرحال مذموم اور شنیع ہیں۔ اس شناعت کا باعث ظاہر ہے کہ نفس مضمون ہے۔نفس مضمون اگر دین و اخلاق کی روسے جائز ہے تو نظم ، نثر ، تقریر، تحریر، صدا کاری یا موسیقی کی صورت میں اس کے تمام ذرائع ابلاغ مباح ہیں، لیکن اس کے اندر اگر کوئی اخلاقی قباحت موجود ہے تو اس کی حامل مخصوص چیزوں کولازماً لغو قرار دیا جائے گا ۔چنانچہ مثال کے طور پر اگر کسی نعت میں مشرکانہ مضامین کے اشعار ہیں تواس نعت کی شاعری ناجائز سمجھی جائے گی ، صنف نعت ہی کو غلط نہیں کہا جائے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی نغمہ فحش شاعری پر مشتمل ہو تواس کے اشعار ہی لائق مذمت ٹھہریں گے، نہ کہ اصناف شعر و نغمہ کو مذموم تصور کیا جائے گا۔ تاہم، کسی موقع پر اگر کوئی اخلاقی برائی کسی مباح چیز کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر لے تو سد ذریعہ کے اصول کے تحت اسے وقتی طور پر ممنوع قرار دیا جا سکتاہے۔

یہ نقطۂ نظرہم نے اپنے فہم کے مطابق دینی نصوص کی روشنی میں اختیار کیا تھا۔ چنانچہ اس پر استدلال کے لیے ہم نے قرآن مجیدکے حوالے سے یہ بیان کیا تھا کہ موسیقی کے بارے میںیہ کتاب اصلاً خاموش ہے۔ اس کے اندر کوئی ایسی آیت نہیں ہے جو موسیقی کی حلت و حرمت کے بارے میں کسی حکم کو بیان کر رہی ہو۔ البتہ ، اس میں بعض ایسے اشارات ضرور موجود ہیں جن سے موسیقی کے جواز کی تائید ہوتی ہے۔مثال کے طور پر اس کی آیات میں قوافی کے التزام کی بنا پر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ اس میں صوتی آہنگ کی رعایت کی گئی ہے۔مزید براں اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام جب اللہ کی حمد و ثنا کرتے تو اللہ کے اذن سے پہاڑ اور پرندے ان کے ہم نوا ہو جاتے تھے، جبکہ قدیم صحائف سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا ساز و سرود کے ساتھ کرتے تھے۔ یہ اور اس نوعیت کے بعض دوسرے اشارات کی بنا پر قرآن سے موسیقی کے جواز کا یقینی حکم اخذ کرناتو بلا شبہ، کلام کے اصل مدعاسے تجاوز ہو گا، لیکن بالبداہت واضح ہے کہ ان کی موجودگی میں اس کے عدم جواز کا حکم بھی کسی صورت میں اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

بائیبل کے حوالے سے ہم نے لکھا تھا کہ اس میں موسیقی اور آلات موسیقی کا ذکر متعدد مقامات پر موجود ہے۔ ان سے بصراحت یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ پیغمبروں کے دین میں موسیقی یا آلات موسیقی کو کبھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا۔ بیش تر مقامات پراللہ کی حمد و ثنا کے لیے موسیقی کے استعمال کا ذکر آیاہے۔ چنانچہ یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام نہایت خوش الحان تھے اورگیتوں کی صورت میں اللہ کی حمد و ثنا کرتے تھے۔آپ پر نازل ہونے والی کتاب ''زبور'' ان الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے جو آپ نے بربط پر گائے تھے۔ اس کے علاوہ خوشی، غمی اورجنگی مواقع کے حوالے سے بھی موسیقی کا ذکر مثبت انداز سے آیا ہے۔اس کتاب مقدس میں بعض مقامات پرموسیقی کا ذکر شراب نوشی اور فحاشی کے مظاہر کے ساتھ آیا ہے ۔ ان سے بادی النظر میں اس کی شناعت کا مفہوم اخذ کیا جا سکتا ہے، مگرسیاق و سباق اور اسلوب بیان سے واضح ہے کہ ان جگہوں پرموسیقی کی نہیں،بلکہ رذائل اخلاق کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ان کی بنا پر یہ بات بجا طور پر کہی جا سکتی ہے کہ موسیقی کی جو صورتیں اخلاقی قباحتوں کے ساتھ ملحق ہوں، وہ شنیع قرار دی جا سکتی ہیں۔

احادیث نبوی کے ضمن میں ہماری رائے یہ تھی کہ ان کے مجموعوں میں صحیح اور حسن کے درجے کی متعدد روایات موسیقی اور آلات موسیقی کے جوازپر دلالت کرتی ہیں۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ عید کے ایک موقع پر ام المومنین سیدہ عائشہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں گانا سنا؛ شادی کی ایک تقریب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کوگانے کی ترغیب دی اور مثبت طور پر اس بات کا اظہار فرمایا کہ انصار گانے کوپسند کرتے ہیں؛ہجرت کے بعد آپ مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں نے دف بجا کراستقبالیہ گیت گائے اور آپ نے انھیں پسند فرمایا؛ ایک مغنیہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپناگانا سنانے کی خواہش ظاہر کی تو آپ نے سیدہ عائشہ کو اس کا گانا سنوایا؛ سفروں میں آپ نے صحرائی نغموں کی معروف قسم حدی خوانی کو نہ صرف پسند فرمایا، بلکہ اپنے اونٹوں کے لیے ایک خوش آواز حدی خوان بھی مقرر کیا اور اعلان نکاح کے لیے آپ نے آلۂ موسیقی دف بجانے کی تاکید فرمائی۔موسیقی کے جواز کی روایتوں کے علاوہ اس کی ممانعت کی روایتیں بھی حدیث کی کتابوں میں مذکور ہیں، مگر ان میں سے بیش تر کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ تاہم، ان کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کا سبب ان کی بعض صورتوں کا شراب نوشی، فواحش اور بعض دوسرے رذائل اخلاق سے وابستہ ہونا ہے ۔

قرآن، بائیبل اور احادیث کی روشنی میں اس بات کوپیش کرنے کے بعد کہ اسلام نے موسیقی کی علی الاطلاق حرمت کا حکم ہر گز صادر نہیں کیا ہے، ہم نے ''موسیقی کی شناعت کے بعض پہلو'' کے زیر عنوان اس بات کی تصریح کی تھی کہ اسلام کی رو سے موسیقی کی وہ اصناف لازماً شنیع قرار پائیں گی جن سے منکرات و فواحش وابستہ ہو جائیں یا جو انسان کے اندر ہیجان پیدا کرنے اور سفلی اور شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے کا باعث بنیں ۔اس کا سبب ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ دین کا مقصد چونکہ تزکیۂ نفس ہے اور وہ انسانوں سے یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے نفس کو فکر و عمل کی مختلف آلایشوں سے پاک کر کے جنت کے مستحق بن جائیں، لہٰذا وہ انھیں ان اعمال کی ترغیب دیتا ہے جو نفس انسانی کے لیے پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بنیں اور ان سے روکتا ہے جو اسے آلودہ کرنے کا باعث ہوں ۔

ہمارا مضمون اسی نقطۂ نظرکی تفصیل اور اسی استدلال کی توضیح پر مبنی تھا۔ اس مضمون پر مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہفت روزہ ''الاعتصام''لاہور نے ۱۱ اقساط پر مشتمل ایک مفصل تنقیدی مقالہ شائع کیا ہے جس میں ہمارے نقطۂ نظر اور اس کی بناے استدلال کو صریح طور پر غلط قرار دیا گیاہے۔اس میں شبہ نہیں کہ کسی مضمون پر تنقید اصلاًایک مثبت عمل ہوتا ہے۔اس کے نتیجے میں علم و دانش کے نئے دریچے کھلتے ہیں۔اگر کوئی بات مصنف کے سہو یا سوے فہم کے نتیجے میں غلط طور پر بیان ہو گئی ہوتو اس کا امکان ہوتا ہے کہ وہ تنقید کی روشنی میں اپنی تالیف پر نظر ثانی کرے گا۔ چنانچہ یہ بات بالکل بجا ہے کہ تنقید وہ زینہ ہے جس پر علم اپنے ارتقا کی منزلیں طے کرتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ علمی ارتقا کی خدمت کا فریضہ صرف اور صرف وہی تنقید انجام دیتی ہے جس میں مصنف کا نقطۂ نظر تعصب سے بالاتر ہو کر پوری دیانت داری سے سمجھا گیا ہو اور بے کم وکاست بیان کیا گیا ہو،جس میں مصنف کے محرکات طے کر کے انھیں ہدف تنقید بنانے کے بجائے اس کے استدلال کے نکات کو متعین کر کے ان پر تنقید کی گئی ہو، جس میں ضمنیات کو نمایاں کر کے ان پرمباحث لکھنے کے بجائے اساسات کو بنیاد بنا کر ان پر بحث کی گئی ہو اورجس میں الزام تراشی، دروغ گوئی اور دشنام طرازی کے بجائے سنجیدہ اور شایستہ اسلوب بیان میں اپنی بات سمجھائی گئی ہو۔ اگر کوئی تنقید ان معیارات پر پوری نہیں اترتی تو صاف واضح ہے کہ وہ علم کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتی۔علم کی دنیا میں اس کی حیثیت محض رطب و یابس کی ہوتی ہے اور اصحاب علم و دانش اس سے اعتنا برتنے کو بھی غیر علمی رویے پر محمول کرتے ہیں۔

ہمارے لیے یہ بات باعث تاسف ہے کہ ''الاعتصام'' کی مذکورہ تنقید ان معیارات پر پوری اترتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی۔ چنانچہ یہ عین ممکن ہے کہ اہل دانش ہمارے اسے در خور اعتنا سمجھنے کو دانش مندی کے منافی قرار دیں،مگر ہمیں یقین ہے کہ وہ دو گزارشات سننے کے بعد ہمارے اس طرز عمل کی تائید کریں گے : اولاً، مذکورہ تنقید میں جو کچھ بھی بیان کیا گیا ہے، اس میں چونکہ بظاہر علمی استدلال کا طریقہ اختیارکیا گیاہے، اس لیے اس کا اندیشہ ہے کہ بعض قارئین اس کی بنا پرکسی قسم کے انتشار فہم میں مبتلا ہو جائیں، لہٰذا ضروری توضیحات ناگزیر ہیں۔ثانیاً، خدمت دین کی ایک ہی برادری سے تعلق رکھنے کی بنا پر یہ ہماری برادرانہ ذمہ داری ہے کہ معاصر جریدے کی تلخ نوائی سے صرف نظر کرتے ہوئے، اس کی مخاطبت کا جواب دیں۔چنانچہ مضمون کی ترتیب سے ''الاعتصام ''کی تنقیدات پر ہمارا تبصرہ پیش خدمت ہے۔

ہمارے مضمون کے پہلے باب کا عنوان ''قرآن اور موسیقی''، دوسرے کا ''بائیبل اور موسیقی'' اور تیسرے کا ''احادیث اور موسیقی'' تھا ۔ ''الاعتصام'' نے پہلے دو ابواب پر کوئی تبصرہ کیے بغیر تیسرے باب سے اپنی تنقید کا آغاز کیا ہے۔ ابتدائی دو ابواب کے مباحث پر ان کی خاموشی کو ہم خاموشی نیم رضا کے مقولے پر محمول کر کے آگے بڑھتے ہیں اور ''احادیث اور موسیقی'' کے باب پر ان کی تنقیدات کا ملاحظہ کرتے ہیں۔

عید پر موسیقی

''عید پر موسیقی'' کے زیر عنوان ہم نے بخاری کی روایت رقم۹۰۷سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا تھا۔ اس روایت میں سیدہ عائشہ نے بیان کیا ہے کہ عید کے دن ان کے گھر پر 'جاریتان'(دو لونڈیاں؍لڑکیاں) جنگ بعاث کے گیت گا رہی تھیں۔ اسی اثنا میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اپنا رخ دوسری جانب کر کے بستر پر دراز ہو گئے۔ پھر سیدنا ابوبکر صدیق آئے اورسیدہ کوسرزنش کرتے ہوئے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ شیطانی سازکیوں بجائے جا رہے ہیں؟ نبی کریم یہ سن کر متوجہ ہوئے اور فرمایاکہ انھیں کرنے دو۔ پھرجب حضرت ابوبکر دوسرے کام میں مشغول ہوئے تو سیدہ نے 'جاریتان'کو جانے کا اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید کے موقع پر موسیقی کو ناجائز نہیں سمجھتے تھے۔ام المومنین سیدہ عائشہ کاآپ کی موجودگی میں گانا سننا ، آپ کااس پرنہ پابندی عائد کرنا اور نہ کسی ناراضی کا اظہار فرمانا، بلکہ سیدنا ابوبکر کو بھی مداخلت سے روک دینا، یہ سب باتیں موسیقی کے مباح ہونے ہی کو بیان کر رہی ہیں۔

لفظ 'جاریتان'کے مفہوم کے حوالے سے حاشیے میں ہم نے یہ تصریح کی تھی کہ اس سے بعض لوگوں نے ''بچیاں'' مراد لیاہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ' جاریۃ' کا اطلاق ''بچی '' پر بھی کیا جا سکتا ہے، مگر یہاں لازم ہے کہ اس سے ''لونڈیاں'' ہی مراد لیا جائے اور لونڈیاں بھی وہ جو ماہر فن مغنیات کی حیثیت سے معروف تھیں۔ روایت کے اسلوب بیان کے علاوہ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اسی روایت کے دوسرے طریق: بخاری، رقم ۳۷۱۶میں 'جاریتان' کے بجائے 'قینتان' کے الفاظ نقل ہوئے ہیں اور ' قینۃ 'کامعلوم و معروف معنی '' پیشہ ور مغنیہ ''ہے۔

ہمارے اس استدلال پر ''الاعتصام'' کی تنقید کا خلاصہ یہ ہے کہ بخاری ہی میں درج اس روایت کے ایک اور طریق: رقم۹۵۲میں گانے والیوں کے بارے میں سیدہ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں کہ 'لیستا بمغنیتین' یعنی وہ مغنیہ نہیں تھیں۔ چنانچہ انھیں مغنیہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مزید براں 'جاریتان'کا معنی لونڈی کرنا اور اس سے 'قینتان' والے طریق کی روشنی میں مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اولاً، 'جاریۃ'کے لفظ کا اطلاق عموماً بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اس لیے اس سے بچیاں ہی مراد لینا چاہیے ۔ ثانیاً،مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے تین میں'جاریتان' کا لفظ آیا ہے، جبکہ صرف ایک طریق یعنی امام شعبہ کے طریق میں 'قینتان' کا لفظ آیا ہے، لہٰذا یہاں 'جاریۃ' کا اطلاق ہی زیادہ قرین قیاس ہے۔ ثالثاً، اگر 'قینتان'والے طریق کو من و عن قبول بھی کر لیا جائے تب بھی اس سے مغنیات مراد لینا درست نہیں ہے، کیونکہ 'قینۃ 'کے معنی فقط پیشہ ور مغنیہ قرار دینا لغوی طور پر غلط ہے۔ جہاں تک ان کے غنا کا تعلق ہے تو اس سے وہ غنا مراد نہیں ہے جو اہل لہو و لعب کے نزدیک معروف ہے، بلکہ سادہ طریقے سے اشعار پڑھنا مراد ہے۔

درج بالا خلاصہ'' الاعتصام'' کے جن متون پر مبنی ہے، ان میں چونکہ الفاظ اور ان کے معانی کو زیر بحث لایا گیا ہے، لغات سے مراجعت کی گئی ہے، روایتوں کی اسنادپر جرح کی گئی ہے اور شارحین حدیث کے حوالے نقل کیے گئے ہیں، اس لیے بادی النظر میں یہ علمی بحث وتمحیص کا تاثر دیتے ہیں، مگر عجیب بات یہ ہے کہ ان میں ہمارے اصل استدلال کو زیربحث ہی نہیں لایا گیا ۔چنانچہ اس سے پہلے کہ ان نکات پر اپنا نقطۂ نظر پیش کریں ، ہم اہل الاعتصام سے یہ گزارش کریں گے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ہماری تحریر کا مطالعہ فرما لیں، ہمیں امید ہے کہ ان پر یہ بات پوری طرح واضح ہو جائے گی کہ اس حدیث کے حوالے سے ہماری بناے استدلال اصلاً نہ 'جاریتان '(دو لڑکیاں؍لونڈیاں) کے الفاظ ہیں اورنہ 'قینتان' (دوگانے والیاں؍لونڈیاں) کے، بلکہ یہ واقعہ ہے کہ دولڑکیوں یا لونڈیوں نے گیت گایا، سیدہ نے اسے سنا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ گانے والیوں کو گانے سے روکااور نہ سیدہ کو گانے کی سماعت سے منع فرمایا۔ یہی نقطۂ نظر ہے جسے ہم نے اس روایت کے حوالے سے بیان کیا ہے۔

چنانچہ بر سبیل تنزل ''الاعتصام ''کے مذکورہ نکات کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے تب بھی ہماری بناے استدلال میں ادنیٰ تغیر واقع نہیں ہو تا۔ہماری یہ بناے استدلال صرف اور صرف اسی صورت میں ختم ہوگی ، جب اہل الاعتصام درج بالا حدیث کے حوالے سے حسب ذیل نکات کی تردید کریں گے:

۱۔ سیدہ عائشہ نے غنا سنا۔

۲۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دوران میں تشریف لائے ، مگر آپ نے سیدہ کو غنا سننے سے منع نہیں فرمایا۔

۳۔ سیدنا ابوبکر نے جب سیدہ کوغنا سننے سے روکنا چاہاتو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں روکنے سے منع فرما دیا۔

وہ اگر ان نکات کی تردید کرنا چاہتے ہیں تو تھوڑی دیر کے لیے توقف کر کے یہ ضرور سوچ لیں کہ اس تردید کو کوئی شخص انکار حدیث سے بھی تعبیر کر سکتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ وہ اس حدیث کا پاس کریںیا نہ کریں، کم سے کم اس دعوے کا پاس ضرور کریں گے جو ''مسلک اہل حدیث کا داعی اور ترجمان'' کے الفاظ میں ''الاعتصام ''کے سرورق پرہمیشہ سے رقم رہا ہے۔

اس وضاحت کے بعد آئیے اب ان کی تنقید کا جائزہ لیتے ہیں:

'لیستا بمغنیتین' کا جملہ

''الاعتصام ''نے لکھا ہے:

''بڑے وثوق سے فرمایا گیا ہے کہ گانے والیاں ''ماہر فن مغنیات'' اور ''پیشہ ور مغنیہ'' تھیں اور یہ اس لیے کہ ایک روایت میں' 'جاریتان''کی بجائے ''قینتان''کا لفظ ہے۔

بڑے ہی افسوس سے عرض ہے کہ غامدی صاحب کو بخاری کی ایک روایت میں...''قینتان'' کا لفظ تو نظر آ گیا۔ مگر... بخاری ہی کی ایک روایت رقم ۹۵۲ میں خود حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا کی یہ وضاحت نظر نہ آئی کہ' 'قالت ولیستا بمغنیتین'' انھوں نے فرمایا وہ دونوں مغنیہ نہ تھیں... حضرت عائشہ صدیقہ کی اس وضاحت کے بعدکہ وہ دونوں ''مغنیہ'' نہ تھیں، پھر بھی یہ ضد کرنا اور اس پر اڑنا کہ وہ ''پیشہ ور مغنیہ'' اور ''ماہر فن مغنیہ'' تھیں، علم کی کون سی معراج ہے؟ یہ ضدکسی ضدی ، نافہم بچے کی تو ہو سکتی ہے، کسی صاحب علم اور بالغ نظر محقق سے اس کی توقع نہیں کی جا سکتی۔''(۷؍۵۷:۲۰)

یہ ''الاعتصام ''کی تنقید کا پہلا نکتہ ہے اور اسی پر ان کی تمام تر تنقید کا انحصار ہے۔ 'قالت ولیستا بمغنیتین'(انھوں نے کہا کہ وہ مغنیات نہیں تھیں)کے جملے کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ یہ درحقیت سیدہ عائشہ کاقول ہی نہیں ہے۔ یہ بعد کے راویوں کا اپنا قیاس ہے جسے انھوں نے روایت کے متن میں شامل کر دیا ہے۔ اس ضمن میں مدیر ''الشریعہ'' اور ''المورد '' میں ہمارے رفیق عمار خان صاحب ناصر کی تحقیق حسب ذیل ہے:

''روایت کے تمام طرق جمع کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا اس واقعے کی اصل اور مرکزی راوی ہیں۔ ان سے یہ واقعہ ان کے بھانجے عروہ بن زبیر نے نقل کیا ہے اور عروہ سے ان کے یہ چار شاگرد اس کو روایت کرتے ہیں:

۱۔ ابوالاسود بمطابق بخاری، رقم ۲۶۹۱۔

۲۔ ابن شہاب زہری بمطابق بخاری، رقم ۹۳۴۔

۳۔ محمد بن عبدالرحمن الاسدی بمطابق بخاری، رقم ۸۹۷۔

۴۔ ہشام بن عروہ بمطابق بخاری، رقم ۸۹۹۔

ان میں سے پہلے تین شاگردوںیعنی ابوالاسود، ابن شہاب زہری اور محمد بن عبدالرحمن الاسدی کے طرق میں 'قالت ولیستا بمغنیتین' کا جملہ موجود نہیں ہے۔ یہ صرف ہشام بن عروہ ہیں جن کے طریق میں یہ جملہ نقل ہوا ہے۔ اصول روایت کی رو سے یہ بات بعید از قیاس ہے کہ ایک استاد کے چار شاگردوں میں سے تین شاگردایک جملہ نقل کرنا بھول گئے ہوں اور صرف ایک کو یاد رہاہو۔

ہشام بن عروہ کے اس واحد طریق کی جس میں مذکورہ جملہ نقل ہوا ہے، تفصیلات جمع کرنے سے مزید یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خود ہشام بن عروہ کی طرف بھی اس جملے کی روایت کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ دیکھیے، اس واقعے کو ہشام سے ان کے ان پانچ شاگردوں نے نقل کیا ہے:

۱۔ شعبہ بمطابق بخاری، رقم ۳۶۳۸۔

۲۔ حماد بن سلمہ بمطابق مسند احمد، رقم ۲۳۸۷۹۔

۳۔ عبداللہ بن نمیر بمطابق المعجم الکبیر، رقم ۲۸۸۔

۴۔ ابو معاویہ بمطابق مسند اسحاق بن راہویہ ۲؍۲۷۲، رقم ۷۸۰۔

۵۔ ابو اسامہ بمطابق بخاری، رقم ۸۹۹۔

ان پانچ میں سے پہلے چار شاگردوں کے طرق میں اس جملے کا کوئی وجود نہیں ہے۔ صرف آخری شاگرد ابو اسامہ کی روایت میں اس جملے کا اضافہ ہوا ہے۔ چنانچہ یہ قرار دینا خلاف قیاس ہو گا کہ ہشام کے چار شاگردیہ جملہ بیان کرنا بھول گئے اور صرف ابو اسامہ نے اس کو یاد رکھا۔

اس تفصیل سے واضح ہے کہ یہ جملہ اصل روایت کا حصہ نہیں ہے اور نہ اسے ام المومنین کی طرف منسوب کیا جا سکتا ہے۔''

'جاریتان' کا معنی اور مصداق

''الاعتصام ''نے لکھا ہے:

''حدیث میں ''جاریتان' 'کا لفظ استعمال ہوا ہے اور' 'جاریۃ' 'کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے، اور اس کا اعتراف گو غامدی صاحب کو بھی ہے کہ' 'جاریۃ' 'کا لفظ بچی کے معنی میں بھی آتا ہے ۔اس اعتبار سے اس حدیث سے بالغ عورتوں کے لیے گانے بجانے کا جواز ڈھونڈنااندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی کا مصداق ہے۔... یہی وجہ ہے کہ شارحین حدیث نے انھیں نابالغ ہی قرار دیا ہے۔ چنانچہ علامہ عینی رقم طراز ہیں: الجاریۃ فی النساء کالغلام فی الرجال ویقال علی من دون البلوغ۔(عمدۃالقاری۶؍۲۶۸):'' جاریہ کا اطلاق عورتوں میں اسی طرح ہے جس طرح غلام کا اطلاق مردوں میں ہے اور جاریہ اسے کہتے ہیں جو ابھی بالغ نہ ہو۔'' ''(۸؍۵۷ :۱۷)

یہ بات درست نہیں ہے کہ ''جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔'' تمام اہل لغت بلا استثنا یہ کہتے ہیں کہ جاریہ کا لفظ لڑکی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور لونڈی کے لیے بھی۔ پہلے معنی میں اس کا اطلاق کم سن بچی سے لے کر نوجوان دوشیزہ تک، ہر عمر کی لڑکی پر ہو سکتا ہے اور دوسرے معنی میںیہ ہر عمر کی لونڈی کے لیے مستعمل ہے۔ صاحب ''لسان العرب'' لکھتے ہیں:

الجاریۃ: الفتیۃ من النساء.(۱۴/ ۱۴۳)

''جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔''

''تاج العروس'' میں ہے:

الجاریۃ فتیۃ النساء .(۱۰ /۷۲)

''جاریہ جوان عورت کو کہتے ہیں۔''

''المعجم الوسیط'' میں درج ہے :

الجاریۃ: الامۃ وان کانت عجوزا. والفتیۃ من النساء.(۱ /۱۱۹)

''جاریہ کے معنی لونڈی کے ہیں خواہ وہ بوڑھی ہو۔ اور جوان عورت کو بھی کہتے ہیں۔''

''الرائد'' میں بیان ہوا ہے:

الجاریۃ: ج :جوار. الفتاۃ. الامۃ. العبدۃ . الخادمۃ.(۱ /۴۹۴)

''جاریہ کی جمع جوار ہے اس کے معنی جوان عورت، لونڈی اور خادمہ کے ہیں ۔''

درج بالا لغات کی بنا پر یہ دعویٰ صریح طور پر غلط ثابت ہوگیا ہے کہ ''جاریہ کا عموماً اطلاق بچی اور نابالغ لڑکی پر ہوتا ہے۔'' اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی واضح ہو گئی ہے کہ یہ لفظ لونڈی اور لڑکی کے دو مختلف معنوں کا حامل ہے ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ لفظ جب کسی کلام میں استعمال ہو گاتو اس کا فیصلہ کہ یہاں اس سے مراد لونڈی ہے یا لڑکی، مجرد طور پر نہیں، بلکہ سیاق کلام اور دیگر قرائن کی بنا پر کیا جائے گا۔ ہمارے نزدیک روایت کے حسب ذیل داخلی اور خارجی شواہد کی بنا پر یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ یہاں اس سے لونڈی مراد لیا جائے:

۱۔' جاریتان 'کے ساتھ' تغنیان 'کا فعل آیا ہے ۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ دونوں گا رہی تھیں۔ یہ بات معلوم و معروف ہے کہ اس زمانے میں عرب میں گانے یا غنا کا پیشہ بالعموم لونڈیوں ہی سے وابستہ تھا۔ وہ تہواروں کے موقع پراور خوشی کی تقریبات میں اس کا مظاہرہ کرتی رہتی تھیں۔آزاد عورتیں اورلڑکیاں نہ اس فن کو سیکھتی تھیں اور نہ اس کا مظاہرہ کرتی تھیں۔

۲۔ روایت میں مذکور سیدنا ابو بکر کے تبصرے'مزمار الشیطان عند النبی' سے بھی یہی تاثر ہوتا ہے کہ گانے والیاں بچیاں نہیں تھیں۔ ظاہر ہے کہ اگر وہ چھوٹی بچیاں ہوتیں تو محض ان کے کھیل پر سیدنا ابوبکر''شیطانی ساز'' کے الفاظ میں سرزنش نہ کرتے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی عید کے موقعے کا حوالہ دیے بغیر سیدنا ابوبکر کو مداخلت سے روکتے۔

۳۔ اسی روایت کے ایک اور طریق: بخاری، رقم۳۷۱۶ میں'جاریتان 'کے بجائے 'قینتان 'کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔' قینۃ' کے معنی مغنیہ یا گانے والی لونڈی کے ہیں۔

۴۔شارح بخاری علامہ ابن حجرعسقلانی نے بعض روایتوں کی بنا پر ان لونڈیوں کا تعین بھی کیا ہے۔ ایک روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک لونڈی حضرت حسان بن ثابت کی مملوکہ تھی۔ ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ یہ دونوں حضرت عبداللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ایک گانے والی کا نام حمامہ بیان ہوا ہے اور دوسری کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ زینب تھی اور اسے شادی بیاہ کی تقریبات میں گانا گانے کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ ایک روایت کے مطابق خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ سے فرمایا تھا کہ وہ گانے کے لیے زینب کو دلہن کے ساتھ بھیج دیں۔ فتح الباری میں ہے:

وللطبرانی من حدیث ام سلمۃ ان احداہما کانت لحسان بن ثابت وفی الاربعین للسلمی انہما کانتا لعبد اللّٰہ بن السلام، وفی العیدین لابن ابی الدنیا من طریق فلیح عن ہشام بن عروۃ 'وحمامۃ وصاحبتہا تغنیان' واسنادہ صحیح ، لم اقف علی تسمیۃ الاخری. لکن یحتمل ان یکون اسم الثانیۃ زینب وذکرہ فی کتاب النکاح.( ۴؍۴۴۰)

''طبرانی میں ام سلمہ کی روایت میں ہے کہ ان میں سے ایک حسان بن ثابت کی لونڈی تھی۔ سلمیٰ کی 'اربعین ' میں ہے کہ یہ دونوں حضرت عبد اللہ بن سلام کی لونڈیاں تھیں۔ ابن ابی الدنیا کی ''العیدین''میں ہے ہشام بن عروہ سے فلیح کی سند کے ساتھ بیان ہوا: 'حمامہ اور اس کی ساتھی گارہی تھیں'۔ اس کی سند صحیح ہے۔ دوسری لونڈی کے نام سے میں واقف نہیں ہوں مگر احتمال یہی ہے کہ اس کا نام زینب ہے۔ اور اس کا ذکرکتاب النکاح میں آیاہے۔''

وفی حدیث جابر عند المحاملی 'ادرکیہا یا زینب' امراۃ کانت تغنی بالمدینۃ ویستفاد منہ تسمیۃ المغنیۃ الثانیۃ فی القصۃ التی وقعت فی حدیث عائشۃ الماضی فی العیدین حیث جاء فیہ 'دخل علیہا وعندہا جاریتان تغنیان' وکنت ذکرت ہناک ان اسم احداہما حمامۃ کما ذکرہ ابن ابی الدنیا فی کتاب العیدین لہ باسناد حسن.(۹؍۲۲۶)

'' محاملی کی ایک روایت جو حضرت جابر سے ہے، اس میں 'زینب اس (دلہن )کے پاس جاؤ ' کے الفاظ ہیں۔ یہ(زینب ) مدینے میں گاتی تھی۔ اس روایت سے اس دوسری مغنیہ لونڈی کا نام جاننے میں مدد ملتی ہے جس کا ذکر حضرت عائشہ کی اس روایت میں آیا ہے جو کتاب العیدین میں گزر چکی ہے اور جس کے الفاظ یہ ہیں کہ'نبی صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین کے پاس آئے ، جبکہ ان کے پاس دو لونڈیاں گا رہی تھیں۔' ایک کا نام تو ہم نے اس روایت کی شرح ہی میں حمامہ لکھا تھا،جیسا کہ ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب العیدین میں حسن سند کے ساتھ بیان کیا ہے۔''

امام ابن حجر نے ''الاصابہ فی تمییز الصحابہ'' میں بھی زینب کا ذکر اسی پہلو سے کیا ہے:

(زینب) الانصاریۃ...غیر منسوبۃ جاء انھا کانت تغنی بالمدینۃ فاخرج ابن طاہر فی کتاب الصفوۃ من طریق المحاملی... ان جمیلۃ اخبرتہ انھا سالت جابر بن عبد اللّٰہ عن الغناءفقال نکح بعض الانصار بعض اھل عائشۃ فاھدتھا الی قباء فقال لھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم اھدیت عروسک قالت نعم قال فارسلت معھا بغناء فان الانصار یحبونہ قالت لا قال فادرکیہا بزینب امراۃ کانت تغنی بالمدینۃ. (۱۴؍ ۱۴۳)

''(زینب) انصاری خاتون تھی...اس کی نسبت کسی کی طرف نہیں۔ یہ مدینہ میں گاتی تھی۔ ابن طاہر کتاب الصفوہ میں محاملی کی یہ روایت لائے ہیں کہ... جمیلہ نے انھیں بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ سے غنا کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بیان کیا کہ انصارکے ایک مرد نے سیدہ عائشہ کی ایک رشتہ دار خاتون سے نکاح کیا۔سیدہ نے اسے قبا کی طرف بھیج دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سے پوچھا کہ کیا تم نے ان کی طرف دلہن کو رخصت کر دیا ہے؟ سیدہ نے اثبات میں جواب دیا۔آپ نے فرمایا کہ کیااس کے ساتھ غنا کا اہتمام بھی کیا ہے؟ کیونکہ انصار گانا پسند کرتے ہیں۔سیدہ نے فرمایا نہیں۔ آپ نے فرمایا کہ زینب کو اس کے ساتھ بھیجو۔ زینب مدینے میں گاتی تھی۔''

'قینتان' کے معنی

''الاعتصام'' نے لکھا ہے:

'' '' قینہ'' کے معنی ''پیشہ ور مغنیہ'' ہی قرار دینا بجائے خود غلط ہے۔ ...علامہ زمخشری حضرت عائشہ کی یہی حدیث ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ''القینہ لونڈی کو کہتے ہیں، وہ گانا گائے یا نہ گائے۔'' (الفائق: ۲؍۱۹۰) اسی طرح علامہ جوہری رقم طراز ہیں: ''القینہ کے معنی لونڈی ہے ، وہ گانے والی ہو خواہ نہ گانے والی ہو... ''ابو عمرو نے کہا ہے کہ اہل عرب ہر غلام کو ''قین'' اور لونڈی کو ''قینۃ'' کہتے ہیں اور بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ''القینۃ'' خاص طور پر مغنیہ کو کہتے ہیں، حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔'' (الصحاح ۶ ؍ ۲۱۸۶) غور فرمائیے ابو عمرو جس معنی کی تردید کر رہے ہیں، ہمارے یہ متجددین اسی معنی کی بنیاد پر ''القینۃ'' کے معنی ''پیشہ ور مغنیہ'' قرار دینے پرادھار کھائے بیٹھے ہیں۔دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا... علامہ ابن منظور نے بھی لسان العرب میں ابو عمرو کا مذکورہ قول ذکر کیا اور اس کے متصل بعد حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا کی مذکورۃ الصدر روایت نقل کر کے وضاحت فرما دی کہ''القینۃ'' سے مراد لونڈی ہے وہ گانا گائے یا نہ گائے'' (۷؍۵۷:۲۱)

مزید لکھتے ہیں:

''یہ روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا سے عروہ نے بیان کی ہے اور ان سے روایت کرنے والوں میں محمد بن عبدالرحمن ابو الاسودالاسدی، ہشام، ابن شہاب زہری تینوں کی روایت میں جاریتان کا لفظ ہے رقم، ۹۴۹، ۹۵۳، ۳۵۲۵۔ البتہ ہشام سے شعبہ کی روایت میں ''قینتان'' کا لفظ ہے،رقم۳۹۳۱۔ اور اسی روایت میں یہ شک بھی بیان ہوا ہے کہ یہ عیدالفطر کا دن تھا یا عیدالاضحیٰ کا۔... گویا صرف امام شعبہ کی روایت میں ''قینتان'' کا ذکر ہے اور اسی میں شک کا ایک اور پہلو بھی موجود ہے۔ باقی روایات میں' 'جاریتان' 'ہی کا لفظ ہے۔ بلکہ مسندامام احمد (ج۶ ص:۹۹)میں خود شعبہ کی روایت میں بھی ''جاریتان'' ہی کا لفظ ہے۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ امام شعبہ نے بھی اگر ''قینتان'' کا لفظ ایک روایت میں بیان کیا ہے تو اس کے معنی بھی ''جاریتان ''ہی ہے۔ جیسا کہ اہل عرب کے ہاں معروف ہے۔ کہ'' قینۃ'' کے معنی جاریہ ہے۔ بایں طور بھی امام شعبہ کی ایک روایت کے مطابق ''قینۃ'' کے معنی پیشہ ور مغنیہ قرار دینا محض خواہش پرستی ہے، علم کی کوئی خدمت نہیں۔''(۷؍۵۷:۲۱)

فرماتے ہیں کہ قینہ کے معنی لونڈی کے ہیں اوربخاری میں درج شعبہ کی روایت کے لفظ 'قینتان' سے مراد احمد بن حنبل میں درج شعبہ ہی کی روایت کا لفظ 'جاریتان'ہے اور اس کے معنی دو لونڈیاں ہے۔گویا بالفاظ دیگر یہ فرمایا گیا ہے کہ قینہ کا معنی لونڈی ہے اور روایات میں قینہ اور جاریہ باہم مترادف استعمال ہوئے ہیں، چنانچہ جاریہ کا معنی مغنیہ نہیں ، بلکہ لونڈی کرنا ہو گا۔اس تحقیق پر سوال صرف یہ ہے کہ اب اس پر زور استدلال کی کیا حیثیت ہیجو قبل ازیں 'جاریتان 'کا معنی چھوٹی بچیاں قرار دینے کے لیے کیا گیا تھا؟

چلیے، اس سے قطع نظر کرتے ہیں اور ''الاعتصام ''کے درج بالا بیانات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ان کا خلاصہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ تین باتیں ارشاد فرمائی ہیں:

پہلی بات یہ فرمائی ہے کہ 'قینۃ' کے معلوم و معروف معنی مغنیہ کرنا درست نہیں ہے ، کیونکہ اسے مجرد طور پر لونڈی کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ روایت میں لفظ' قینتان'سے مغنیات نہیں، بلکہ غیر مغنیہ لونڈیاں مراد لینا چاہیے۔

اس ضمن میں نمائندہ لغات کے چند حوالے ملاحظہ فرمائیے۔ ان سے واضح ہو گا کہ اگرچہ 'قینۃ' کا لفظ مجرد طور پر لونڈی کے معنوں میں بھی استعمال ہو سکتا ہے، مگر اس کا کثیر استعمال مغنیہ لونڈی ہی ہے۔ واضح رہے کہ ان میں سے بیش تر لغات وہی ہیں جن کے حوالے ''الاعتصام ''نے کمال مہارت سے نقل کیے ہیں۔

''لسان العرب ''میں ہے:

القینۃ، الامۃ غنت او لم تغن کثیرا ما یطلق علی المغنیۃ فی الاماء. وفی الحدیث: نہی عن بیع القینات ای الاماء المغنیات.( ۱۳؍۳۵۲)

''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔ اس(قینہ)کا زیادہ تراطلاق مغنیہ لونڈی پر ہوتا ہے۔ اور حدیث میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خریدو فروخت سے ۔''

یہی بات ابن اثیر نے ''النہایہ ''میں بیان کی ہے:

القینۃ: الامۃ غنت او لم تغن، وکثیرا ما تطلق علی المغنیۃ من الاماء، وجمعہا قینات. ومنہ الحدیث 'نہی عن بیع القینات' ای الاماء المغنیات.(۴ ؍۱۳۵)

''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔ اس کا زیادہ تر اطلاق مغنیہ لونڈی پر ہی ہوتاہے۔ اس کی جمع قینات ہے۔ حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قینات کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے۔ یعنی مغنیہ لونڈیوں کی خرید و فروخت سے۔''

''الصحاح ''کے الفاظ ہیں:

والقینۃ: الامۃ المغنیۃ کانت او غیر مغنیۃ.( ۶؍۲۱۸۶)

''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ وہ مغنیہ ہو یا غیر مغنیہ۔''

''الرائد ''میں درج ہے:

القینۃ:ج قیان. الامۃ، المغنیۃ.(۲؍ ۱۲۱۴)

''قینہ کی جمع قیان ہے۔ اس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔''

''المنجد ''میں ہے:

القینۃ:ج قیان. الامۃ، المغنیۃ.( ۶۶۷)

''قینہ کی جمع قیان ہے۔ اس کے معنی لونڈی اور گانے والی کے ہیں۔''

''المعجم الوسیط ''میں درج ہے:

القینۃ: الامۃ صانعۃ او غیر صانعۃ وغلب علی المغنیۃ.( ۲ ؍ ۷۷۱)

''قینہ لونڈی کو کہتے ہیں خواہ پیشہ ور ہو یا غیر پیشہ ور۔ اس کے غالب معنی مغنیہ کے ہیں۔ ''

واضح ہوا کہ ان لغات میں سے کوئی ایک لغت بھی ایسی نہیں ہے جس میں 'قینۃ' کے معنی میں نمایاں طور پر مغنیہ کو بیان نہ کیا گیا ہو۔ اس ضمن میں ''الاعتصام ''کی تحقیق کی مثال ایسے ہی ہے کہ کوئی شخص یہ جملہ پڑھ کر کہ ''اسلام نے شراب کو ممنوع قرار دیا ہے'' یہ حکم صادر فرمائے کہ چونکہ لغت میں لفظ شراب کا ایک معنی پیا جانے والا رقیق مشروب بھی درج ہے، اس لیے ہر چیز جو اس معنی کا مصداق قرار پائے گی، ممنوع ٹھہرے گی۔ اس پر ان صاحب سے کہاجائے گا کہ زبان پر اس قدر ظلم نہ فرمائیے ، بلا شبہ لغت میں وہ معنی درج ہیں جو آپ نے ارشاد فرمائے ہیں، مگر جان لیجیے کہ یہ لفظ اپنے عموم میں نشہ آور مشروب کے لیے خاص ہو گیا ہے۔ مزید براںیہ لفظ جس جملے میں آیا ہے، اس کے دیگر الفاظ بھی اسی معنی پر دلالت کرتے ہیں۔بعینہٖ یہ بات ''الاعتصام ''کی خدمت میں لفظ قینہ کے بارے میں پیش ہے۔بے شک، اس اسم کا معنی مجرد طور پر لونڈی بھی ہے ، مگر اولاً، اس کا عمومی اطلاق مغنیہ لونڈی ہی پر ہوتا ہے اور ثانیاً مذکورہ روایت میں اس کے ساتھ فعل غنا کے استعمال نے اسے مغنیہ ہی کے مفہوم کے ساتھ خاص کر دیا ہے۔

''الاعتصام'' نے اس بحث میں ''لسان العرب'' کے حوالے سے یہ قول بھی نقل کیا ہے :وقال اللیث: عوام الناس یقولون: القینۃ المغنیۃ ۔یعنی لیث نے کہا ہے کہ عوام الناس کہتے ہیں کہ القینہ کے معنی مغنیہ ہے۔ یہ قول نقل کر کے اس کی شرح میں لکھا ہے:

''غور فرمایا آپ نے کہ ''قینۃ'' کے معنی مغنیہ کرنا ''عوام الناس'' کا قول ہے، اہل عرب کا نہیں ۔ مگر ہمارے یہ متجددین اس کو ''معرف ومعلوم '' معنی قرار دیتے ہیں اور یہ محض ''عوام الناس'' کو دھوکا دینے کے لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں ''پیشہ ور مغنیہ'' نے گانا گایالہٰذا موسیقی جائز ہوئی۔ (معاذ اللہ)۔'' (۷؍۵۷:۲۱)

اس شرح کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اسے ان کی علمیت کا کمال سمجھا جائے یا دیانت کا۔ اہل الاعتصام غالباً بھول گئے ہیں کہ جس لغت کے حوالے سے انھوں نے یہ قول نقل کیا ہے، وہ لغت کسی عجمی زبان کی نہیں،بلکہ عربی زبان کی ہے اور ہر عربی لغت کی طرح اس میں بھی عربوں ہی کے الفاظ و معانی درج کیے گئے ہیں۔ چنانچہ اس میں درج کسی لفظ کے وہ معنی ہر گز مراد نہیں ہو سکتے جو اردو ، فارسی یا کسی اور زبان میں مستعمل ہیں۔ لہٰذا بصد ادب گزارش ہے کہ یہاں اردو کا ''عوام الناس'' نہیں، بلکہ عربی کا ''عوام الناس'' استعمال ہوا ہے اور اس کا مصداق پاک و ہند کے عام لوگ نہیں، بلکہ عرب کے عام لوگ ہیں۔ مزید براں لغت کی اس کتاب سے مراجعت کرنے والے جانتے ہیں کہ اس میں اگر یہ لکھا ہو کہ 'کثیرا ما یطلق علی الفلان' یا 'غلب علی الفلان' یا 'عوام الناس یقولون فلان' تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ ''اہل عرب کے ہاں اس لفظ کا زیادہ تر استعمال فلاں معنی میں ہوتا ہے'' یا''اہل عرب کے نزدیک اس کے فلاں معنی غالب ہیں''یا ''عرب کے اکثر لوگ اس کے معنی فلاں کرتے ہیں۔ '' چنانچہ لیث کے مذکورہ قول کے معنی یہ ہوں گے کہ عربوں کے عام لوگ یہ لفظ مغنیہ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یعنی قینہ کارائج اور معروف مفہوم مغنیہ ہے۔

''قینہ'' کے معنی کی یہ بحث توقع ہے کہ ''الاعتصام ''کے اطمینان کے لیے کفایت کرے گی ، تاہم اگر وہ اس میں کچھ کمی محسوس کریں تو مزید تشفی کے لیے ہم انھی کی برہان قاطع پیش کیے دیتے ہیں۔ ''الاعتصام ''کی جلد ۵۷ کے شمارہ ۱۷ کا صفحہ ۱۳ ملاحظہ کیجیے۔ اسی تنقیدی مضمون کے دوسرے حصے کی پہلی قسط میں قینات کا ترجمہ بقلم خود مغنیات کیا ہے:

'' حضرت ابو امامہ کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لا تبیعوا القینات، ولا تشتروھن ولا تعلموھن.

مغنیات کی خرید و فروخت نہ کرو، اور نہ انھیں (موسیقی) کی تربیت دو۔''

خامہ انگشت بدنداں ہے، اسے کیا لکھیے

'قینتان' کے معنی کی بحث میں ''الاعتصام ''نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ مذکورہ روایت کے چار طرق میں سے صرف ایک طریق میں 'قینتان 'کا لفظ آیا ہے، جبکہ باقی تین طرق میں 'جاریتان' نقل ہوا ہے، لہٰذا 'جاریتان' ہی کے لفظ کو ترجیح دینی چاہیے۔

اس پر ہماری گزارش یہ ہے کہ اہل الاعتصام مسلک اہل حدیث کے ترجمان ہیں، اس لیے یقیناًیہ جانتے ہوں گے کہ کسی روایت کے دوصحیح طرق میں اگر ایک بات مختلف الفاظ سے ادا کی گئی ہوتو تناقض کا سوال اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ایک کے الفاظ یا اسالیب دوسری کے نقیض بن رہے ہوں۔ اس صورت میں محدثین داخلی اور خارجی قرائن کی روشنی میں کسی ایک کو ترجیح دیتے ہیں یا دونوں کے بارے میں توقف کا فیصلہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر یہ تناقض پیدا نہیں ہوتا تو پھر ایک روایت دوسری کی شرح و وضاحت اور تفصیل و توضیح قرار پاتی ہے۔ چنانچہ 'جاریۃ' کے ایک معنی اگر لونڈی کے ہیں اور 'قینۃ' بھی گانے والی لونڈی ہی کو کہتے ہیں تو صاف واضح ہے کہ یہاں کوئی تناقض پیدا نہیں ہوا، بلکہ 'قینتان 'کے الفاظ نے 'جاریتان' کے اس ابہام کو دور کر دیا جو باول وہلہ اس کے معنی میں لڑکی کے مفہوم کا اشتراک ہونے کی وجہ سے پیدا ہو رہا تھا۔

تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ 'قینتان 'والا طریق شعبہ سے مروی ہے اور اس میں شک کا ایک پہلو بھی موجود ہے (کہ وہ عیدالفطر کا دن تھا یا عید الاضحی کا) ، جبکہ شعبہ ہی کایہ طریق جب مسند احمد بن حنبل میں رقم ہوا ہے تو اس میں 'قینتان' نہیں، بلکہ 'جاریتان' ہی آیا ہے۔ اس لیے اس سے 'جاریتان' ہی مراد لینا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اس شک کے پہلو نے روایت کو کم زور کر دیا ہے یا 'قینتان 'کے معنی و مصداق میں کوئی ابہام پیدا کیاہے؟ بہرحال، اطلاعاً عرض ہے کہ شک کے جس پہلو کی بنا پر ''الاعتصام'' نے احمد بن حنبل کی روایت کو بخاری کی روایت پر ترجیح دی ہے، وہی شک کا پہلو بعینہٖ احمد بن حنبل کی روایت میں بھی مذکور ہے۔ ملاحظے کے لیے دونوں روایتیں حسب ذیل ہیں:

بخاری کے الفاظ ہیں:

حدثنا شعبۃ عن ہشام عن ابیہ عن عائشۃ ان ابا بکر دخل علیھا والنبی عندھا یوم فطر او اضحی وعندھا قینتان تغنیان.(رقم۳۷۱۶)

احمد بن حنبل کے الفاظ ہیں:

...ثنا شعبۃ عن ہشام بن عروۃ عن ابیہ عن عائشۃ ان ابا بکر دخل علیھا ورسول اللّٰہ عندھا یوم فطر او اضحی وعندھا جاریتان تضربان بدفین.(رقم۲۴۷۲۶)

دونوں روایتوں میں 'یوم فطر او اضحی' (عیدالفطر کا دن یا عیدالاضحی کا) کے الفاظ آئے ہیں جو ''شک'' کے مذکورہ پہلو کو دونوں روایتوں میں داخل کررہے ہیں۔

غنا سے مراد

''الاعتصام ''نے لکھا ہے:

''اس غنا سے مراد لہو ولعب میں مبتلا لوگوں کا غنا نہیں بلکہ سادہ طریقہ سے اشعار پڑھنا مراد ہے۔... لہٰذا جب گانے والیاں مغنیہ نہیں تھیں اور جو کچھ گایا وہ بھی غناء معروف میں شمار نہیں ہوتاتو ان کے گانے کو ''عید پر موسیقی'' قرار دینا خود فریبی نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اسی دھوکے میں مبتلا ہو کر جو تفریعات قائم کی گئی ہیں ان کی حیثیت ہی کیا رہ جاتی ہے؟

سادہ آواز سے اشعار پڑھنا، بشرطیکہ وہ عشق و معاشقہ کے قبیل سے نہ ہوں، حرب و ضرب کے بارے میں ہوںیا حمد و نعت اور حسن اخلاق کے پہلو سے ہوں، وہ عید کے دن بھی جائز ہیں اور دوسرے ایام میں بھی ۔ ایسے اشعار کو غناء محرم سے تعبیر کرنا اور اس سے موسیقی کے جواز کا فتویٰ و فیصلہ کرنا علم نہیں بے علمی کی بدترین مثال ہے۔ جو بچیاں جنگ بعاث کے متعلق اشعار ایام عید میں پڑھ رہی تھیں اور ساتھ دف بھی بجا رہی تھیں،آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم چادر لیے رخ دوسری جانب کیے ہوئے لیٹے تھے، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو سمجھا کہ آپ آرام فرما رہے ہیں اور گھر میں یہ تماشا ہورہا ہے۔ اسی بنا پر اس عمل کو انھوں نے شیطانی ساز فرمایا۔ مگر آپ نے عید کی مناسبت سے اس پر انکار نہ فرمایا کہ یہ خوشی کا دن ہے اور خوشی کے دن اس قدر خوشی کا اظہار ممنوع نہیں مگر اس بنیاد پر عید کے روز ''موسیقی'' کا باقاعدہ ''اہتمام'' اور اس کے لیے معروف ''پیشہ ور مغنیہ'' کو دعوت کا جواز کیسے ثابت ہوا؟''(۸؍۵۷:۱۸)

اس تقریر پر بصد ادب چند سوال پیش خدمت ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ 'تغنیان' کے معنی یہ کرنا کہ ''وہ سادہ آواز سے اشعار پڑھ رہی تھیں''کس بنا پر کیا گیا ہے؟ کسی رائج لفظ کے مفہوم ، اطلاق اور مصداق میں تصرف اور اسے نئے معنی پہنانے کا اختیارہمیں یاآپ کو کس نے دیا ہے؟ اسلامی ادب کی تاریخ میں اس کی نادر مثال پرویزصاحب اور ان کے پیش رو ضرور ہیں جنھوں نے عربی الفاظ و اسالیب کے ایسے معنی دریافت کیے ہیں جنھیں نہ صرف عربی زبان، بلکہ دنیا کی کوئی اور زبان بھی قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہو سکی۔ غور فرمائیے، غنا کے معنی کی تعیین میں آپ کی کاوش کہیں اسی نوعیت کی تو نہیں ہے؟ ازراہ عنایت ملاحظہ فرما لیجیے کہ اہل لغت اس لفظ کے مفہوم کے بارے میں کیا کہتے ہیں:

لسان العرب میں ہے:

والغِنَاء بالکسر من السماع.(۵؍۱۳۶)

''غنا بالکسر (غ کی زیر کے ساتھ)کے معنی سماع (موسیقی)ہیں۔''

الصحاح میں ہے:

والغناء بالکسر من السماع.(۶؍۲۴۴۹)

''غنا بالکسر (غ کی زیر کے ساتھ) کے معنی سماع (موسیقی) ہیں۔''

المعجم الوسیط میں ہے:

الغناء : التطریب والترنم بالکلام الموزون وغیرہ.( ۲؍ ۶۶۵)

''غنا کے معنی سر اور ترنم سے موزوں اور غیر موزوں کلام کو پڑھنا ہے۔''

المنجد میں ہے:

الغناء من الصوت: ما طرب بہ.(۵۶۱)

''غنا سے مراد گانا گانا ہے۔''

دوسرا سوال یہ ہے کہ یہاں فعل غنا کا مفہوم آپ سادہ آواز میں شعر پڑھنا قرار دے کر اسے جائز قرار دے رہے ہیں، مگر کیا وجہ ہے کہ آگے قرآن کے مباحث میں آپ نے 'لھو الحدیث' اور 'سمد' کے الفاظ کا مصداق اسی فعل غنا کو قراردے کر اور موسیقی اور گانے بجانے کو اس کے ہم معنی استعمال کر کے اسے باطل اور ممنوع قرار دیا ہے؟ دیکھیے، آپ نے لکھا ہے:

'' اس آیت میں ''لھو الحدیث'' سے مراد غناء اور آلات ملاہی ہیں...لھو الحدیث کے لغوی معنی کے اعتبار سے اگر مفسرین نے ہر غافل کر دینے والی چیز مراد لی ہے تو کیا غناء اور موسیقی میں یہی عنصر موجود نہیں؟... مولانا عثمانی مرحوم نے بھی شان نزول کے اعتبار سے ''لھو الحدیث'' کے مفہوم میں گانے بجانے کو خاص طور پر ذکر فرمایا... حضرت مفتی شفیع صاحب نے صاف صاف لکھا ہے کہ آیت مذکورہ میں چند صحابۂ کرام نے تو ''لھو الحدیث'' کی تفسیر گانے بجانے سے کی ہے... ''لھو الحدیث'' سے حقیقۃًغناء و موسیقی اور تمام آلات ملاہی مراد ہیں...ادھر حضرت عبداللہ بن مسعود تین بار قسم اٹھا کر کہ ''مجھے اللہ کی قسم ! لھو الحدیث سے مراد غناء ہے۔ ''یہی بات حضرت ابن عباس فرمائیں۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں ''غناء کی یہ تعیین درست نہیں۔'' تف ہے ایسے علم پر اور تاسف ہے ایسی عقل ودانش پر... صحابۂ کرام نے تو وضاحت فرما دی کہ وہ موسیقی تھی، کیا وہ عربی لغت اور سیاق کلام سے بے بہرا تھے؟... یہ ''خریدا'' ہوا لھوا لحدیث غناء اور مغنیہ نہیں تو اور کیا ہے؟... غناء و موسیقی حق نہیں، بلکہ باطل ہے۔''(۱۷؍۱۴تا۱۶،۱۸؍۱۲تا۱۶)

''حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ حمیری زبان میں غناء کو 'سمد' کہتے ہیں۔ (جامع الاحکام، ج۱۷ص:۱۲۳: ج۱۴، ص۵۱) حافظ ابن کثیر نے بھی تفسیر ج۴ص۳۳۲ میں یہ قول ذکر کیا ہے اور ''قینۃ'' کو کہا جاتا ہے ''اسمدینا ای الھینا بالغناء'' کہ ہمیں غنا کے ساتھ سے غافل کر دو... مفسرین اور فقہا تو اس کے معنی غناء مراد لیتے ہیں اور اس سے غناء کی ممانعت پر دلیل لاتے ہیں۔'' (۱۹؍۵۷:۱۱)

تیسرا سوال یہ ہے کہ اگر 'جاریتان' سادہ الفاظ سے اشعار ہی پڑھ رہی تھیں اور اس میں ترنم یا غنا کی نوعیت کی کوئی چیز نہیں تھی تو کیا وجہ تھی کہ سیدنا ابو بکر نے اسے مزمار الشیطان سے تعبیر کیا؟

چوتھا سوال یہ ہے کہ اسی روایت کے ایک دوسرے طریق جو ابن شہاب زہری سے مروی ہے اور جس میں بقول آپ کے شک کے الفاظ بھی نہیں ہیں، 'تدفان وتضربان'کے الفاظ آئے ہیں یعنی وہ دونوں دف بجا رہی تھیں۔ سوال یہ ہے کہ سادہ آواز سے شعر پڑھنے کے لیے ایسے آلۂ موسیقی کی کیا ضرورت تھی جو غنا کے اہم رکن تال کو پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

ہماری گزارش ہے کہ یہاں تھوڑی دیر کے لیے رک کر یہ غور فرما لیجیے کہ ہم اصل میں کہہ کیا رہے ہیں۔

دف کی تال پر گیت گانا، صحرائی سفروں میں حدی خوانی کرنااورلمبی تان کے ساتھ 'نصب' پڑھنا عربوں کے غنا ہی کی مختلف اصناف ہیں،اسی طرح جیسے کلاسیقی موسیقی، نیم کلاسیکی موسیقی،خیال، ٹھمری، غزل، گیت،ماہیا، ٹپا، قوالی وغیرہ برصغیر کے غنا کی اصناف ہیں۔ان میں جو چیز قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے، وہ خوش الحانی یا بالفاظ دیگر سر، لے اور تال کے ساتھ آواز کا زیرو بم ہے۔یہی چیز ہے جو ان اصناف کو زمرۂ غنا میں داخل کرتی ہے۔ چنانچہ قدیم عرب کے کسی حدی خوان کی حدی خوانی کویا کسی خوش آواز کے نصب پڑھنے کو یا کسی قینہ کے دف کے ساتھ رزمیہ گیت کو اگر موجودہ زمانے کے کسی ماہر فن کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ بے تکلف بتا دے گا کہ اس میں کون سا سر اور کون سا راگ استعمال ہوا ہے۔ دور کیوں جائیے، ہمارے بچے روز اسکول میں ''لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری'' راگ بہاگ میں اور ''پاک سر زمین شاد باد''بلاول ٹھاٹھ میں گاتے ہیں اور ہمیں اس میں کوئی شناعت محسوس نہیں ہوتی۔

ان اصناف کو استعمال کرکے گائی جانے والی چیز اسی صورت میں لغویا ناجائز قرار پائے گی جب وہ کسی غیر دینی یا غیر اخلاقی داعیے کو پروان چڑھانے والی ہو گی۔ کوئی حدی خوان اگر اخلاق باختہ اشعار گاتا ہے تو اس کی حدی خوانی محض اس لیے جائز نہیں ٹھہرے گی کہ اس نے غنا کی ایسی صنف کا انتخاب کیا ہے جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسندیدگی کا اظہار فرمایا تھایا دف کے ساتھ گایا گیا کوئی فحش نغمہ فقط اس بنا پر قابل قبول نہیں ہو گا کہ اسے ایک ایسے آلۂ موسیقی کے ساتھ گایا گیا ہے جس کی اباحت احادیث میں مذکور ہے، بعینہٖ وہ اشعار جو اپنے وجود میں مباح ہیں، فقط اس بنا پر ناجائز نہیں قرار پائیں گے کہ ان کے سر حدی خوانی یا نصب کے سروں سے مختلف ہیں یا انھیں دف کے علاوہ کسی آلۂ موسیقی کے ساتھ گایا گیا ہے۔

ہماری بات کی مزید وضاحت کے لیے دو احادیث ملاحظہ فرمائیے:

۱۔ السنن الکبریٰ للنسائی کی صحیح روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ عائشہ سے پوچھاکہ کیا تم اس عورت کوجانتی ہو؟ سیدہ نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا: 'ھذہ قینۃ بنی فلان تحبین ان تغنیک'( یہ فلاں قبیلے کی مغنیہ لونڈی ہے ، کیا تم چاہو گی کہ وہ تمھارے لیے گائے)؟ چنانچہ اس نے سیدہ کوگاناسنایا۔

۲۔ بخاری کی صحیح روایت ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ بعض انصاریوں کی منعقد کردہ غنا اور شراب نوشی کی ایک مجلس میں شریک تھے۔ عندہ قینۃ واصحابہ فقالت فی غناءھا: الا یا حمز للشرف النواء(ان کے دوست اورایک مغنیہ لونڈی بھی ان کے پاس موجود تھی تو اس مغنیہ نے گاتے ہوئے کہا کہ حمزہ اٹھو اور ان فربہ اونٹنیوں کو ذبح کر ڈالو)۔ یہ سنتے ہی حضرت حمزہ تلوار لے کر لپکے اور ان کے کوہان کاٹ ڈالے اور پیٹ پھاڑ کر کلیجے نکال لیے۔اطلاع ملنے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے تو حضرت حمزہ کو نشے کی حالت میں پایا۔

دیکھیے، پہلے واقعے میں بھی گانا گایا گیا ہے اور دوسرے میں بھی اور دونوں میں اس کے لیے 'غناء' ہی کا فعل استعمال ہوا ہے۔اسی طرح پہلے واقعے میں بھی مغنیہ لونڈی نے گانا گایا ہے اور دوسرے میں بھی اور دونوں میں اس کے لیے 'قینۃ' یعنی مغنیہ لونڈی کا اسم استعمال ہوا۔ اس یکسانی کے باوجود ایک واقعے کا غنا جائز قرار پائے گا اور دوسرے کا ناجائز۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ کون سی چیز ہے جس نے ایک ہی فعل کو ایک مقام پر جائز بنا دیا ہے اور دوسرے پر ناجائز۔ بالبداہت واضح ہے کہ شراب نوشی اور اس کے نتائج کے الحاق نے دوسرے موقع پر فعل غنا کو جواز کے دائرے سے نکال کر عدم جواز کے دائرے میں داخل کر دیا۔ احادیث کے اس تقابل سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ غنا اور آلۂ غنا ایسی چیزیں ہر گز نہیں ہیں جنھیں علی الاطلاق ناجائز قرار دیا جائے۔ یہ اصلاً جائز ہیں، البتہ بعض موقعوں پران کے لوازم و لواحق اورنتائج و اثرات کی بنا پر ان کے عدم جواز کا حکم بھی لگایا جا سکتا ہے۔

شادی بیاہ پر موسیقی

''شادی بیاہ پر موسیقی'' کے زیر عنوان ہم نے ابن ماجہ کی روایت رقم ۱۹۰۰سے موسیقی کے جواز پر استدلال کیا تھا۔ اس روایت میں ابن عباس کے حوالے سے یہ واقعہ بیان ہوا ہے کہ سیدہ عائشہ نے انصار میں سے اپنی ایک عزیزہ کا نکاح کیا۔ تقریب نکاح میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے۔ آپ نے پوچھا کہ کیا لڑکی کو رخصت کرتے ہوئے اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجاہے؟ سیدہ عائشہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا کہ انصار گانا پسند کرتے ہیں، یہ بہتر ہوتا کہ اس کے ساتھ کسی گانے والے کو بھیجا جاتا۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر موسیقی کا استعمال سرتاسر مباح ہے۔

''الاعتصام ''نے ہمارے اس استدلال کو اصلاً تسلیم کیا ہے اور لکھا ہے :

''شادی کے موقعے پر عورتوں کی مجلس میں لونڈیوں یا بچیوں کا گانا درست ہے بشرطیکہ وہ گیت جائز ہوں، ان میں حسن و جمال کی داستانیں نہ ہوں اور فسق و فجور اور عشق بازی کا تذکرہ نہ ہو۔ ''(۸؍۵۷:۱۹)

ہمارے استدلال کو بنیادی طور پر مان لینے کے بعد غالباً قاری کی توجہ اصل نکتے سے ہٹانے کے لیے یا اس امر کی یقین دہانی کے لیے کہ ان کے پاس مان کر بھی مان کر نہ دینے کی صلاحیت کا وافر بہرہ موجود ہے، انھوں نے لکھا ہے:

''ان متجددین کی یہ بھی کرشمہ سازی ہے کہ ابن ماجہ کی اس روایت کو بطور استدلال پیش کیا، جس سے شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ شادی کے موقع پر گانے والے مردوں کا گانا بھی جائز ہے۔ چنانچہ روایت کے ظاہر الفاظ ''ارسلتم معھا من یغنی' 'کا ترجمہ ہی یہ کیا گیا کہ کیا ''اس کے ساتھ کوئی گانے والا بھی بھیجا ہے۔''''(۸؍۵۷:۱۹)

اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل بحث میں بتایا ہے کہ یہاں مرد مراد لینا درست نہیں ہے۔

کوئی صاحب علم کیا یہ باور کر سکتا ہے کہ یہ تنقید کسی یقینی مقدمے پر قائم ہی نہیں کی گئی، بلکہ اس امکان کی بنا پر قائم کی گئی ہے کہ ''شاید یہ ثابت کرنا مقصود ہے کہ شادی کے موقعے پر گانے والے مردوں کا گانا بھی جائز ہے۔ ''

اس کے جواب میں اتنا ہی کافی ہے کہ اس روایت کے تحت ہماری پوری بحث میں مردوں یا عورتوں کے الفاظ کہیں استعمال ہی نہیں ہوئے۔ روایت میں چونکہ اس طرح کی کوئی تخصیص بیان نہیں ہوئی، اس وجہ سے یہ کسی طرح بھی موزوں نہ تھا کہ اسے مردوں یا عورتوں کی تخصیص کے ساتھ بیان کیا جاتا، البتہ روایت میں چونکہ 'من یغنی 'کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ، اس لیے یہ ضروری تھا کہ اس کا ترجمہ صیغۂ تذکیر میں کیا جاتا۔ دنیا کی تمام بڑی زبانوں کا یہ قاعدہ ہے کہ جب جنس کی تخصیص مقصود نہ ہوتو بالعموم مذکر ہی کا صیغہ استعمال ہوتا ہے ۔

ایک اور سخن طرازی ملاحظہ فرمائیے:

''مزید براں حضرت عبداللہ بن عباس کی اس روایت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ''محدثین نے اس روایت کو حسن قرار دیا ہے'' کن محدثین نے؟کاش اس کی بھی وضاحت کر دی ہوتی۔ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ... یہ روایت بہر نوع معنعن ہے۔ اس لیے سند کے اعتبار سے اسے حسن قرار دینا قطعاً غلط ہے۔ البتہ اس کے دیگرشواہد کی بنیاد پر یہ روایت حسن ،صحیح ہے۔''(۸؍۵۷:۲۰)

سوال یہ ہے کہ اگر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کسی بات کو حدیث کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے تو پھر جرح کس بات پر ہے، اگر کچھ کہنا ہی تھاتو کیا اتنا کافی نہیں تھا کہ اس روایت کو فلاں سند کے بجائے فلاں سند سے نقل کیا جائے۔

بہرحال،نوٹ فرما لیجیے کہ عصر حاضر کے جلیل القدر محدث علامہ ناصر الدین البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور اسے اپنی کتاب ''صحیح سنن ابن ماجہ'' کی دوسری جلد میں صفحہ ۱۳۶ پر درج کیا ہے۔ مزید براں یہی روایت اسی مدعا کے ساتھ ، مگر الفاظ کے تغیر کے ساتھ صحیح بخاری میں نقل ہوئی ہے اور ہمارے مضمون میں بھی درج ہے۔

جشن پر موسیقی

''جشن پر موسیقی'' کے زیر عنوان ہم نے ایک ہی موضوع کی دو روایتیں نقل کی تھیں۔ایک روایت ''السیرۃ الحلبیہ'' سے لی گئی تھی۔ اس میں نقل ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو عورتوں اور بچوں (النساء والصبیان) نے گیت گایا۔ دوسری روایت ابن ماجہ کی تھی جس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے بعدجب مدینہ کی ایک گلی سے گزرے توبنی نجار کی 'جوار' ( لونڈیاں؍لڑکیاں) دف بجا کرآپ کی مدح میں گیت گا رہی تھیں۔ آپ نے انھیں سن کر گانے والیوں کے لیے شفقت اور محبت کا اظہار فرمایا۔حاشیے میں 'جوار' کے معنی کے بارے میں ہم نے یہ تصریح کی تھی کہ یہاں اس کا ترجمہ ''بچیاں'' کرنا درست نہیں ہے، کیونکہ ''المعجم الصغیر'' میں درج اس روایت کے دوسرے طریق میں 'جوار'کے بجائے 'قینات' (مغنیات) نقل ہوا ہے۔

ان روایتوں سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ ان کی بنا پر یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ جشن یاخوشی کی تقریب کے موقع پر گیت گائے جا سکتے ہیں اور آلات موسیقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہماری اس بحث پر ''الاعتصام ''نے تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے:

'' ''جشن موسیقی'' اشراق کے مقالہ نگاربلکہ جناب غامدی صاحب کے اس عنوان پر غور فرمائیے اور پھر بتلائیے کہ جن روایات کی بنیاد پر ''موسیقی'' بلکہ ''جشن موسیقی'' کا جواز ثابت کیا جا رہا ہے، ان سے ہمارے ہاں کا معروف ''جشن موسیقی'' کیوں کر جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ جس میں لہر بہر، عیش و نشاط اور ناچ رنگ کے وہ تمام طریقے اختیارکیے جاتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں اور جن سے سفلی جذبات بھڑکتے اور حیوانی جبلت ابھرتی ہے، اور وہ جشن بالآخر من تو شدی تو من شدم کا منظر و مظہر بن جاتا ہے۔''(۹؍ ۵۷ :۱۴)

اس تنقید کی حقیقت کو جاننے کے لیے ہمارا خیال ہے کہ فقط یہی دو اطلاعات کافی ہوں گی:

اولاً، ہمارے پورے مضمون میں عنوان کے طور پر یا متن کے اندر ''جشن موسیقی''کے الفاظ کہیں استعمال نہیں کیے گئے۔ جس عنوان کو ''الاعتصام'' نے ''جشن موسیقی''قرار دے کر درج بالا مضمون آفرینی کی ہے، وہ ''جشن موسیقی'' نہیں ہے، بلکہ ''جشن پرموسیقی'' ہے۔ زبان وبیان سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہ پکار اٹھے گا کہ ان دونوں عنوانات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ '' جشن موسیقی ''کا مطلب ہے کہ موسیقی کا جشن منایا جا رہا ہے اور ''جشن پر موسیقی'' سے مراد ہے کہ کسی قومی یا علاقائی جشن کی تقریبات کے موقع پر موسیقی کا استعمال کیا جا رہا ہے ۔ تاہم، کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ مذکورہ ترکیب میں لفظ ''پر'' پر نظر نہ پڑنے کو سہو سے تعبیر کرنا چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ اس عنوان کے تحت درج اس کا یہ مدعا کیونکر ایک ایسے مصنف کی نظروں سے اوجھل ہو سکتا ہے جس نے تنقید کے لیے قلم اٹھایا ہے:

''روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوئے تو اہل مدینہ نے آپ کا فقید المثال استقبال کیا۔مدینے میں جشن برپا تھا۔ ہر چھوٹا بڑا آپ کی آمد کی خوشی میں مسرور تھا۔ اس موقع پر عام عورتوں اور بچوں اور مغنیات نے دف بجا کر استقبالیہ نغمے بھی گائے ، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند فرمایا۔ چنانچہ ان کی بنا پر یہ بات پورے اطمینان سے کہی جا سکتی ہے کہ جشن یاخوشی کی تقریب کے موقع پر گیت گائے جا سکتے ہیں اور آلات موسیقی کو استعمال کیا جا سکتا ہے۔''(اشراق مارچ ۲۰۰۴؍۲۶)

ثانیاً،سوال یہ ہے کہ ایسے جشن موسیقی کو جس میں بقول ''الاعتصام ''''وہ تمام طریقے اختیارکیے جاتے ہیں جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے اور جن سے سفلی جذبات بھڑکتے اور حیوانی جبلت ابھرتی ہے'' ، کس نے جائز قرار دیا ہے اور ایک ایسے مضمون پر جس کے مختلف مندرجات نہایت صراحت کے ساتھ اس تاثر کی نفی کرتے ہیں ، یہ مفہوم چسپاں کرنا دین و اخلاق کی رو سے کہاں کی دیانت ہے؟ اگر یہ تنقید اسی مضمون پر کی گئی ہے تو واضح رہے کہ اس میں بیان ہوا ہے کہ:

'' انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے اعمال کو قرآن ' فحشاء'، ' منکر' اور ' بغی' سے تعبیر کرتا ہے اور انھیں ہر لحاظ سے ممنوع قرار دیتا ہے ۔ انسانی نفس کو آلودہ کرنے والے یہ منکرات و فواحش اگر کسی مباح عمل سے منسلک ہو جائیں تو بعض اوقات اسے بھی دائرۂ شناعت میں داخل کر دیتے ہیں ۔ چنانچہ شاعری اور موسیقی جیسی مباح چیزوں کے ساتھ شرک ، زنا اور شراب جیسے ممنوعات شریعت وابستہ ہو کر انھیں شنیع بنا سکتے ہیں ۔ ''(اشراق مارچ۲۰۰۴؍۴۱)

''اسلام کی رو سے موسیقی کی وہ اصناف شنیع قرار پائیں گی جن سے منکرات و فواحش وابستہ ہو جائیں یا جو انسان کے اندر ہیجان پیدا کرنے اور سفلی اور شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے کا باعث بنیں ۔ عامۃ الناس کو بہرحال ان سے اجتناب کی تلقین کی جائے گی۔'' (اشراق مارچ۲۰۰۴؍۴۷)

''مفسدین نے لوگوں کوقرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو و لعب کے جوذرائع اختیار کیے ہوں گے، وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے ، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرائع اگر لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں تو فی نفسہٖ مباح ہونے کے باوجوداپنے غلط استعمال کی وجہ سے شنیع قرار پائیں گے اور اہل ایمان کو ان سے گریز ہی کی تلقین کی جائے گی۔''(اشراق مارچ۲۰۰۴؍۶۲)

''ہمارے نزدیک قرآن مجید نے(سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۶۴میں) 'صوت 'کا لفظ استعمال کر کے ان تمام ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو شیطان صوت رحمان کے مقابل میں پیش کرتا اور ان کے ذریعے سے اللہ کے بندوں کو گم راہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ہر وہ چیز صوت شیطان ہے جو انسان کو اس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہے۔ یہ درس اگر کوئی تقریر،کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی دیتی ہے تو وہ بلا شبہ صوت شیطان ہے اور اسلام اسے کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا۔'' (اشراق مارچ۲۰۰۴؍۶۸)

عنوان پر تنقید کے بعد وہ اس کے متن کو بھی زیر بحث لائے ہیں۔ دیگر مباحث کی طرح یہاں بھی انھوں نے اصل بناے استدلال پر بات کرنے کے بجائے چند ضمنیات ہی کو موضوع بنانے پر اکتفا کیا ہے۔ چنانچہ دیکھیے، ہمارا بنیادی استدلال ابن ماجہ کی صحیح روایت کی بناپریہ تھاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی خوشی میں باندیوں نے آلۂ موسیقی دف بجا کر گیت گائے اور آپ نے ان سے شفقت و محبت کا اظہار فرمایا۔ اس سے واضح ہے کہ گانا اور آلات موسیقی اگر فی نفسہٖ باطل ہوتے توآپ نہ صرف یہ کہ پسندیدگی کا اظہار نہ کرتے، بلکہ اس سے منع بھی فرماتے، لہٰذا اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل موسیقی کے جائز ہونے کی صریح دلیل ہے۔

اس استدلال کو زیر بحث لانے سے گریز کرتے ہوئے انھوں نے ہماری نقل کردہ روایتوں کی اسناد پر بحث کی ہے اور اس ضمن میں ابن ماجہ کی مذکورہ روایت کو صحیح ماننے کے باوجود ساری قوت اس پر صرف کی ہے کہ زیر بحث واقعے کی توضیح کے لیے مزید براں جو دو روایتیں ہم نے ''السیرۃ الحلبیہ'' اور ''المعجم الصغیر'' سے نقل کی ہیں، وہ سند کے اعتبار سے صحیح نہیں ہیں۔

اس تنقید کے جواب میںیہ بحث کی جا سکتی ہے کہ اگر ضعیف روایت کی تائید صحیح روایت کر رہی ہو تو علما کے نزدیک وہ لائق استدلال قرار پاتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ابن کثیر، شبلی نعمانی، سلیمان سلمان منصور پوری، ابو الاعلیٰ مودودی اور صفی الرحمن مبارک پوری جیسے معروف سیرت نگاروں کے حوالے بھی پیش کیے جا سکتے ہیں جنھوں نے اپنی کتابوں میں ان واقعات کو بعینہٖ نقل کیا ہے ، مگر اس لاطائل تکرار سے گریزکرتے ہوئے ہم ان دو روایتوں کے ضعف کے حوالے سے ''الاعتصام ''کی تنقید کوتسلیم کرتے ہیں۔اس کے باوجود مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا استدلال اپنی تمام جزئیات کے ساتھ اب بھی پوری طرح قائم ہے۔ چنانچہ اسی کی جانب متوجہ کرنے کے لیے اہل الاعتصام کی خدمت میں یہ سوال ہے کہ اگر انھیںیہ تسلیم ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دف کے ساتھ گائے جانے والے گیتوں کو سن کر ان پر نکیر نہیں فرمائی، بلکہ گانے والیوں سے شفقت کا اظہار کیاتوپھر وہ کیا دلیل ہے جس کی بنا پر موسیقی اورآلات موسیقی کی اباحت کا انکار کیا جا رہا ہے اور اس کی حرمت کا حکم لگایا جا رہا ہے؟

ہمارے اصل استدلال سے صرف نظر کرتے ہوئے ''الاعتصام ''نے ایک اور نکتہ بھی پیدا کیا ہے، فرمایا ہے :

''آپ کی تشریف آوری پر یہ جو کچھ ہوا ، وہ بچوں اور لونڈیوں کا معاملہ تھا۔ اسے معروف معنی میں ''جشن آمد'' قرار دینا کسی صحیح دلیل سے ثابت نہیں۔'' (الاعتصام۹؍۵۷:۱۵)

اس کے جواب میں ہمارا خیال ہے کہ سیرت کی کتابوں کے یہ اقتباس کفایت کریں گے:

''آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال اور دیدار کے لیے سارا مدینہ امڈ پڑا تھا۔ یہ ایک تاریخی دن تھا جس کی نظیر سرزمین مدینہ نے کبھی نہ دیکھی تھی... یہ نہایت تابناک تاریخی دن تھا۔ گلی کوچے تقدیس و تحمید کے کلمات سے گونج رہے تھے اور انصار کی بچیاں خوشی و مسرت سے ان اشعار کے نغمے بکھیر رہی تھیں: اشرق البدر علینا من ثنیات الوداع...۔'' (الرحیق المختوم، صفی الرحمن مبارک پوری۲۴۰)

''شہر میں آپ کا استقبال جس جوش و خروش اور جس والہانہ انداز میں ہوا وہ بے نظیر تھا۔ عرب میں نہ اس سے پہلے کبھی کسی کا ایسا استقبال ہوا تھا نہ اس کے بعد ہوا... بیہقی نے دلائل میں اور ابوبکر المقری صاحب المعجم الکبیر نے کتاب الشمائل میں یہ روایت بیان کی ہے کہ عورتیں چھتوں پر چڑھ کر یہ گیت گا رہی تھیں:طلع البدر علینا من ثنیات الوداع...۔'' (سیرت سرور عالم ابوالاعلیٰ مودودی۲؍۷۴۴)

سفر میں موسیقی

اس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت رقم ۳۹۶۰ نقل کی تھی ۔ اس میں بیان ہو اہے کہ رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں مسلمانوں کا لشکر خیبر کی طرف روانہ ہوا ۔ دوران سفر میں لوگوں میں سے ایک آدمی نے حدی خوان شاعر عامر بن الاکوع سے حدی خوانی کی فرمایش کی ، چنانچہ انھوں نے جنگ میں کامیابی کے لیے دعائیہ اشعار گانے شروع کیے۔ان کی آواز سن کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھاکہ یہ گانے والا کون ہے؟ لوگوں نے کہاکہ عامر بن الاکوع ہیں۔ آپ نے ان کے لیے رحمت کی دعا فرمائی۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ ''حدی خوانی''صحرائی نغمے کی ایک صنف ہے۔ قدیم عرب میں ساربان صحراؤں میں سفر کرتے ہوئے حدی خوانی کرتے تھے۔اس کا اصل مقصد تو اونٹوں کو مست کر کے انھیں تیز رفتاری کی طرف مائل کرنا ہوتا تھا، مگر شتر سوار بھی اس سے پوری طرح حظ اٹھایا کرتے تھے۔ اس کے بارے میں حدیث کی کتابوں میں متعدد روایتیں موجود ہیں ۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابۂ کرام بھی صحرائی سفروں کے دوران میں حدی خوانی سے محظوظ ہوتے تھے۔ بعض صحیح روایتوں میں مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خوش آواز حدی خوان انجشہ کو اپنے سفروں کے لیے مقرر کر رکھا تھا۔

اس بحث پر ''الاعتصام ''نے ''حدی خوانی'' کے مفہوم کے بارے میں چند حوالے نقل کرنے پر اکتفا کی ہے۔ ان سے مقصود غالباً یہ ثابت کرنا ہے کہ حدی خوانی غنا یا موسیقی سے کوئی مختلف صنف ہے۔ چنانچہ انھوں نے لکھا ہے:

''حدی خوانی اصل میں اہل بادیہ کا گانا ہے، اسے معروف غناء اورگانے کے مروجہ اسلوب سے کوئی مناسبت نہیں۔ علامہ الجوہری نے بھی لکھا ہے کہ حدی خوانی دراصل ''سوق الابل والغناء لھا' 'اونٹوں کو چلانے اور ان کے لیے گانے کا نام ہے اور یہی کچھ دیگر ائمۂ لغت نے لکھا ہے۔ حافظ ابن حجر رقم طراز ہیں: حدی خوانی سے ایسے غناء کا جواز ثابت ہوتا ہے جس میں لمبی آواز نکالی جاتی ہے، جسے نصب کہتے ہیں۔''(۹؍۵۷:۱۶)

یہ بات، صریح طور پر ہمارے موقف کی تائید کر رہی ہے، مگرتعجب ہے کہ ''الاعتصام'' نے اسی کو تنقید کے لیے پیش کیا ہے ۔ حدی خوانی اگر غنا ہے جیسا کہ تمام حوالوں میں تسلیم کیا گیا ہے تو کیا فقط یہی روایت جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدی خوانی کی سماعت ثابت ہے،غنا کے جواز پر دلیل قاطع نہیں ہے؟

یہ کہاں کی منطق ہے کہ اگر کوئی بدوی نغمہ سرا ہو تو جائز اور حضری نغمہ سرا ہوتو ناجائز، لمبی آواز نکال کر شتر سواروں کے مخصوص سر میں گائے تو درست اور کسی دوسرے سر میں گائے تو غلط، فطری صلاحیت کی بنا پر خوش الحانی کرے تو قبول اور اگر اکتساب فن کے بعد خوش الحانی کرے تو رد!

آلات موسیقی

اس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت رقم۳۷۷۹ نقل کی تھی ۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ سیدہ ربیع بنت معوذکی شادی کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لائے ۔ اس وقت باندیاں دف پر بدر کے مقتولین کا نوحہ گا رہی تھیں۔ ان میں سے ایک باندی نے گاتے ہوئے کہا کہ اس وقت ہمارے درمیان وہ نبی موجود ہیں جنھیں آنے والے دنوں کی باتیں بھی معلوم ہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ نہ کہو ، بلکہ وہی کہو جو پہلے کہہ رہی تھی۔

اس رو ایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ یہ عرب میں کثرت سے استعمال ہونے والے آلۂ موسیقی دف کے جواز پر دلالت کرتی ہے۔ اہل عرب کے ہاں خوشی کی تقریبات میں گیتوں کے ساتھ اس کا استعمال عام تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے مختلف موقعوں پر بجایا گیا اور آپ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' نے جو تنقید کی ہے، اسے تین نکات میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ دف اگرچہ آلات موسیقی میں شامل ہے، مگر اس سے تمام آلات موسیقی کے جواز پر استدلال درست نہیں ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

''محض دف سے تمام ''آلات موسیقی'' کا جواز کہاں سے در آیا؟ آپ زیادہ سے زیادہ اسے ''آلۂ موسیقی'' کہہ سکتے ہیں۔محض اس کی بنیاد پر تمام ''آلات موسیقی'' کا جواز ہمارے متجددین کا علمی کرشمہ ہے۔''(۹؍۵۷:۱۵)

''''دف'' آٹا یا گندم صاف کرنے والی چھلنی کی مانند ہوتا تھا۔ اس کے ساتھ گھنگرو بندھے ہوئے ہوں تووہ دف نہیں آلۂ موسیقی ہوتا ہے۔ پھر نکاح کی تقریب ہو یا عید کا روز یا کوئی اور خوشی کا موقع ان میں صرف دف ہی بجائی جاتی تھی۔ دف سے تمام ''آلات موسیقی'' کا جواز ثابت کرنا علم و عقل کے اعتبار سے قطعاً غلط ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ان مواقع پر دف کا ہی ذکر ہے ، باقی ''آلات'' کا کیوں نہیں؟''(۹؍۵۷:۱۷)

درج بالا اقتباس سے واضح ہے کہ اہل الاعتصام دف کو زمرۂ آلات موسیقی میں شامل سمجھتے اور اس کے جواز کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم وہ اسے ایک استثنائی معاملہ قرار دیتے ہوئے دیگر آلات موسیقی کے عدم جواز کا حکم لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اہل الاعتصام آلات موسیقی کو حرام لذاتہسمجھتے ہیں یا حرام لغیرہ؟ اگران کے نزدیک یہ حرام لذاتہ کے زمرے میں آتے ہیں یعنی اپنی ذات ہی میں حرام ہیں تو پھر ان میں سے کسی ایک کا استثنا کس دلیل کی بنا پر ہے ؟ اور اگر یہ حرام لغیرہ ہیں یعنی خود تو حرام نہیں ہیں، لیکن کسی دوسری علت کے باعث دائرۂ حرمت میں داخل ہیں تو پھر وہ کون سی علت ہے جو انھیں دائرۂ حرمت میں شامل کرتی ہے اوردف میں وہ علت کیونکر موجود نہیں ہے؟

یہی سوال ایک دوسرے زاویے سے بھی زیر غور آ سکتا ہے کہ اگر کوئی چیز علی الاطلاق یعنی اپنے وجود ہی کی بنا پر حرام ہے تو پھر اس کے کسی جز یا کسی مظہرکا استثنا کیونکر جائز ہے؟ شراب علی الاطلاق حرام ہے، لہٰذا وہ اپنے تمام اجزا اور تمام مظاہر میں حرام ہو گی۔ یہی معاملہ سود اور جوئے کا ہے۔ چنانچہ یہ کیسے ممکن ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم آلات موسیقی کو علی الاطلاق حرام سمجھتے ہوں اور اس کے باوجود اس کے کسی جز کے استعمال کی اجازت دے دیں۔ایسی اجازت صرف اضطرار کی حالت میں ہوتی ہے جب جان، مال یا آبرو کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہو۔ ظاہر ہے کہ آلۂ موسیقی کے سماع کی نوعیت ایسی ہر گز نہیں ہے۔ چنانچہ جملہ آلات موسیقی کے بارے میںیہی کہا جائے گا کہ یہ اصلاً مباح ہیں،تاہم اگر کسی موقع پر کوئی حرام چیز ان سے منسلک ہو گی تو وہ اس وقت ان کی اباحت کو حرمت میں تبدیل کر دے گی۔ کرکٹ، ہاکی، فٹ بال اور اس جیسے دوسرے کھیلوں کے مباح ہونے میں کیا شبہ ہے، لیکن اگر یہ کبھی جوئے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو ان کا کھیلنا ناجائز قرار دیا جائے گا۔ اسی طرح شعر و ادب کی اباحت مسلم ہے، لیکن یہ اگر شرک و الحاد اور فسق و فجور کی ترویج کا باعث ہوں گے تو یقیناً ناجائز قرار پائیں گے۔

دوسری بات یہ فرمائی ہے :

''امام الحلیمی فرماتے ہیں:

وضرب الدف لا یحل الا للنساء لانہ فی الاصل من اعمالھن، وقد لعن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم المتشبھین من الرجال بالنساء۔(شعب الایمان ج۴،ص:۲۸۳) ''دف بجانا صرف عورتوں کے لیے حلال ہے کیوں کہ یہ دراصل انھی کا عمل ہے، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت فرمائی ہے جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔''

پس دف یا گانے کا یہ شغل صرف لونڈیوں اور بچیوں کے لیے ہے، آزاد عورتوں اور مردوں کے لیے نہیں۔اور وہ بھی سادہ طریقہ پر نہ کہ غناء کی معروف صورت میں۔''(۸؍۵۷:۲۰)

یہ تنقید غالباً بہت عجلت میں لکھی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب تصنیف کو یہ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ ان کے قلم سے باہم متضاد باتیں صادر ہو گئی ہیں۔ امام الحلیمی کے جس قول کو استدلال کی بنیادبنایا ہے، وہ یہ ہے کہ ''دف بجانا صرف عورتوں (النساء )کے لیے حلال ہے '' اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ''پس دف یا گانے کا یہ شغل صرف لونڈیوں اور بچیوں کے لیے ہے، آزاد عورتوں اور مردوں کے لیے نہیں۔''گویا بناے استدلال یہ ہے کہ عورتوں کے لیے دف بجانا جائز ہے اور نتیجۂ استدلال ہے کہ عورتوں کے لیے دف بجانا ناجائز ہے یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے۔

بہرحال ہمارااستدلال دو لفظوں میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آلۂ موسیقی دف بجایا گیا اور آپ نے اس کی نکیر نہیں فرمائی۔اگراہل الاعتصام آلات موسیقی کو حرام قرار دیناچاہتے ہیں تو انھیں اس روایت اور اس نوعیت کی دیگرصحیح روایتوں کی تردید کرنی ہو گی۔

پھر سوال یہ ہے کہ اگر دف بجانا ''آزاد عورتوں اور مردوں'' کے لیے حرام ہے ، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے تو حرمت کی وجہ دف بذات خود ہے یا اسے بجانے والوں کی جنس اور عمر؟ اگر دف بذات خود ہے تو اسے کسی استثنا کے بغیر، ہر حال میں حرام ہونا چاہیے اورآزاد عورتوں اور مردوں کے ساتھ ساتھ لونڈیوں اور بچیوں کا اسے بجانا بھی دائرۂ حرمت میں آنا چاہیے، لیکن اگر اس کی وجہ جنس ہے تو پھر لونڈی کا دف بجانا بھی اس کے جنس عورت سے متعلق ہونے کی بنا پر حرام قرار پائے گا۔ بصورت دیگر ''الاعتصام ''کولونڈی کے لیے عورت کے بجائے کوئی اور جنس اختراع کرنی ہو گی۔ اس مقصد کے لیے ہو سکتا ہے کہ انھیں عرف و لغت سے ماورا کوئی نئی تحقیق پیش کرنی پڑے ، مگر قارئین جانتے ہیں کہ اگر عزم وہمت ہوتو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اس کام کے لیے ان کے پاس وافر بہرہ موجود ہے۔ ''جاریہ''، ''قینہ'' اور ''غنا'' کے بارے میں ان کے نوادر تحقیق اسی عزم وہمت کا شاہ کار ہیں۔

مزید براں، مردوں کے دف بجانے کی حرمت کا سبب اگر عورتوں سے مشابہت کا مسئلہ ہے جیسا کہ امام الحلیمی کے حوالے میں مذکور ہے توپھر اس کا اطلاق صرف مردوں پر ہو گا ، آزاد عورتوں پر ہر گز نہیں ہو گا۔ تاہم، اس میں یہ سوال اپنی جگہ باقی رہے گا کہ مشابہت کا استدلال کس اصول کی بنا پر کیا گیا ہے۔

اس مسئلے پر مزید بحث گراں باری خاطر کا باعث ہو سکتی ہے ، اس لیے ہم اس سوال کے ساتھ اسے ختم کرتے ہیں کہ دف کو بجانے کے معاملے سے قطع نظر اس کی سماعت کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھی روایتوں سے کیا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس آلۂ موسیقی کو بلااستثناے جنس، مردوں، عورتوں اور بچوں نے سنا ۔ پیغمبر نے بھی سنا اور آپ کے صحابہ اور صحابیات نے بھی۔ چنانچہ اگر سماع دف مباح ہے تو اسی نوع کے دوسرے آلات موسیقی کا سماع کیوں مباح نہیں ہے؟

تیسری بات یہ فرمائی ہے:

''موسیقی نواز حضرات کادف کے جواز سے تمام ''آلات موسیقی'' کو جائز قرار دینا سراسر دھوکا ہے بلکہ آگے بڑھ کر یہ کہنا کہ ''موجودہ زمانے میں عرف اور حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے'' گویا جس کے پاس جس قدر وسائل ہیں، وہ آلات موسیقی اور پیشہ ور گانے والوں کو اپنے ہاں مدعو کر کے مجلس موسیقی منعقد کر سکتا ہے۔ رقص و ناچ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ اسلام کی ترجمانی نہیں''اسلام سازی'' ہے اور خدمت اسلام کی بجائے ''مرمت اسلام'' ہو رہی ہے۔'' (۹؍۵۷:۱۷)

''الاعتصام ''نے یہ مضمون آفرینی ہماری جس بات پر کی ہے، وہ ابن ماجہ کی ایک حدیث اور اس پر حاشیے میں درج توضیحی نوٹ ہے۔ ہم نے لکھا ہے:

''بعض روایتیں دف کے جواز سے آگے بڑھ کر نکاح کے موقع پر اس کے لزوم کو بھی بیان کرتی ہیں۔مثلاً:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نکاح کے حلال اور حرام میں فرق یہ ہے کہ دف بجایا جائے اور بلند آواز سے اعلان کیا جائے۔شریعت کی رو سے خفیہ نکاح باطل قرار پاتا ہے۔چنانچہ نکاح کا اعلان شرائط نکاح میں شامل ہے۔اسی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے میں نکاح کے موقع پر دف بجانے کو ضروری قرار دیا۔ سنن البیہقی الکبریٰ کی ایک روایت میں یہی بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے:

''حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ہم راہ بنی زریق کے پاس سے گزرے ۔ اس موقع پر آپ نے ان کے گانے بجانے کی آواز سنی ۔ آپ نے پوچھا :یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا :یا رسول اللہ ، فلاں شخص کا نکاح ہو رہا ہے ۔ آپ نے فرمایا : اس کا دین مکمل ہو گیا۔ نکاح کا صحیح طریقہ یہی ہے ۔ نہ بدکاری جائز ہے اور نہ پوشیدہ نکاح ۔ یہاں تک کہ دف کی آواز سنائی دے یا دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دے۔ حسین نے کہا ہے اور مجھ سے عمرو بن یحییٰ المازنی نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پوشیدہ نکاح کو ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ اس میں دف بجایا جائے ۔ '' (رقم۱۴۴۷۷)

نکاح کے موقع پر موسیقی کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زمانے اور تمدن کے لحاظ سے ضروری قرار دیا۔ موجودہ زمانے میں عرف اور حالات کے مطابق کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ ''(اشراق ۳۱)

یہ ہے وہ بیان جس کی بنا پر ''الاعتصام'' نے درج بالا نتائج اخذ کیے ہیں ۔زبان سے معمولی واقفیت رکھنے والا شخص بھی یہی کہے گاکہ اس سے مذکورہ نتائج اخذ کرنا علم و نظر کا افلاس ہے۔ہم نے یہ نہیں لکھا کہ نکاح کے موقع پردف کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لازم قرار دیا، بلکہ یہ لکھا ہے کہ نکاح کے موقع پر اس کے اعلان کے لیے موسیقی کے استعمال کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری قرار دیا۔ اور اس کے بعد یہ بیان کیا ہے کہ موجودہ زمانے میں کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔موسیقی کے مقابل میں دوسرا طریقہ کے الفاظ اس امر کو لازم کرتے ہیں کہ ان کا مصداق لازماً موسیقی سے مغایر ہونا چاہیے، یہ ظاہر ہے کہ لاؤڈ اسپیکر، اخبار میں اشتہار یا شادی کارڈ وغیرہ تو ہو سکتا ہے، موسیقی کی کوئی صنف یا آلۂ موسیقی ہر گز نہیں ہو سکتا۔