’’اسلام اور موسیقی‘‘ (2)


''الاعتصام'' کی تنقید پر تبصرہ

اپنے مضمون میں ''قرآن اور موسیقی''، ''بائیبل اور موسیقی'' اور ''احادیث اور موسیقی''کے ابواب کے بعد اگلا باب ہم نے ''موسیقی کی شناعت کے بعض پہلو '' کے زیر عنوان قائم کیا تھا اور اس میں یہ بیان کیا تھا کہ قرآن مجید تو موسیقی یا آلات موسیقی کی شناعت کے بارے میں خاموش ہے ، البتہ بائیبل اور احادیث میں ان کی شناعت بیان ہوئی ہے۔ یہ شناعت علی الاطلاق نہیں ہے، بلکہ بعض موقعوں پر ان کے شراب نوشی اور فواحش سے منسلک ہونے کی وجہ سے ہے۔ ''الاعتصام'' نے پہلے دو ابواب کی طرح اس باب پر بھی کوئی نقد و تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔

اس باب پر ہمارا مضمون اپنے مثبت استدلال کے لحاظ سے اصلاً ختم ہوگیا تھا۔ اس کے بعد ہم نے ''موسیقی کی حرمت کا جائزہ'' کے زیر عنوان ایک فصل قائم کی تھی اور اس کے تحت قرآن و حدیث کے ان مقامات کا جائزہ پیش کیا تھا جنھیں موسیقی کی حرمت کے لیے بناے استدلال بنایا جاتا ہے۔اس ضمن میں پہلے ہم نے قرآن مجید پر مبنی استدلال پر بحث کی تھی۔ ''الاعتصام'' نے اس پر تفصیلی تنقید لکھی ہے۔ اس پر ہمارا تبصرہ حسب ذیل ہے۔

' لھوالحدیث' کے معنی

سورۂ لقمان کی آیت ۶ میں بیان ہوا ہے: ''اور لوگوں میں ایسے بھی ہیں جو 'لھو الحدیث' خرید کر لاتے ہیں تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر بھٹکا دیں اور ان آیات کا مذاق اڑائیں۔'' اس آیت میں 'لھو الحدیث' کے الفاظ کا مصداق غنا کو قرار دے کر بعض علما نے اسے موسیقی کی حرمت کے لیے بناے استدلال بنایا ہے۔ اس نقطۂ نظر کے بارے میں ہم نے یہ بیان کیا تھا کہ مذکورہ الفاظ کا مصداق غنا کو قرار دینا کسی طور پر بھی صحیح نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہم نے جو استدلال پیش کیا تھا،اس کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ 'لھو الحدیث'کا لغوی مفہوم کھیل تماشے کی خبر، غافل کر دینے والی بات یا باطل چیز ہے ۔ چنانچہ اس کے معنی غنا کرنا لغوی اعتبار سے درست نہیں ہے۔

۲۔ آیت کے سیاق کلام میں بھی کوئی ایسا اشارہ موجود نہیں ہے کہ اس کا مصداق متعین طور پر غنا یا آلات غنا کو قرار دیا جا سکے۔

۳۔ 'لہو' کا لفظ قرآن مجید میں متعدد دوسرے مقامات مثلاًسورۂ عنکبوت کی آیت ۶۴، سورۂ انعام کی آیات ۳۲ اور ۷۰، سورۂ اعراف کی آیت۵۱اور سورۂ جمعہ کی آیت ۱۱میں آیا ہے۔ ان میں سے کوئی مقام بھی غنا کے مصداق کی تخصیص کو قبول نہیں کرتا۔

۴۔بعض تفسیری اقوال میں اگرچہ اس کا مصداق غنا نقل ہوا ہے، مگر اس کے باوجودقدیم و جدید زمانے کے جلیل القدر مفسرین میں سے کسی نے بھی ان کا مصداق طے کرتے ہوئے غنا کی تخصیص نہیں کی۔ چنانچہ ابن جریر طبری نے اس کے معنی ''اللہ کی راہ سے غافل کر دینے والی بات''، زمخشری نے ''خیر کے کاموں سے غافل کرنے والی باطل چیز''، رازی نے ''بری بات''، امین احسن اصلاحی نے ''فضولیات''، ابوالکلام آزادنے''غافل کرنے والا کلام''، مفتی محمد شفیع نے ''کھیل کی باتیں'' اور ابوالاعلیٰ مودودی نے ''کلام دل فریب'' کے کیے ہیں۔

اس استدلال کی روشنی میں ہم نے بیان کیا تھا کہ'لھو الحدیث'کے ان الفاظ کی بنا پرقرآن مجید کے حوالے سے حرمت غنا کی تعیین ہر گز درست نہیں ہے۔مذکورہ آیت میں ان کا مفہوم اگر عربی لغت ، عرف قرآن اور سیاق کلام کی روشنی میں سمجھا جائے تو اس سے مرادوہ گمراہ کن باتیں قرار پائیں گی جو مفسدین زمانۂ نزول قرآن میں لوگوں کو کتاب اللہ سے منحرف کرنے کے لیے پھیلا رہے تھے۔

اس تفصیل سے واضح ہے کہ ہمارا استدلال دو لفظوں میں یہ تھا کہ عربی لغت، عرف قرآن اور سیاق کلام اور مفسرین کی آرا کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو لھو الحدیث کا مصداق متعین طور پر غنا کو قرار دینا کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔ ''الاعتصام'' کو اگر اس استدلال کی تغلیط کرنی تھی تو یہ لازم تھا کہ وہ برعکس طور پر اس کے دلائل فراہم کرتے کہ عربی لغت ، عرف قرآن اور سیاق کلام اور مفسرین کی آرا کو اگر ملحوظ رکھا جائے تو لھو الحدیث کا مصداق متعین طور پر غنا کو قرار دینا سرتاسر درست ہے۔مگر قارئین حیران رہ جائیں گے کہ انھوں نے اس موضوع پر صفحے کے صفحے سیاہ کیے ہیں اور اپنی دانست میں دلائل کے انبار بھی لگائے ہیں،مگر ہمارے استدلال کی تردید میں کوئی ایک دلیل بھی پیش کرنی مناسب نہیں سمجھی۔اس پوری بحث کو پڑھ کر یہ فیصلہ کرناکہ اسے زمرۂ تنقید میں شمار کیا جائے یا زمرۂ تائید میں اور اس سے کوئی مدعا اخذ کرنا اگرچہ کم و بیش ناممکن ہے، تاہم ہمارا احساس یہ ہے کہ انھوں نے جو کچھ بھی کہا ہے ، وہ ان دو نکات ہی پر مبنی ہے۔

۱۔ لھو الحدیث سے صحابۂ کرام نے تخصیصاً غنا مراد لیا ہے، چنانچہ اس کا مصداق غنا ہی قرار پانا چاہیے۔

۲۔ مفسرین نے لھو الحدیث کی تفسیر میں اگرچہ غنا کی تخصیص نہیں کی، مگر غنا کو اس کے مصداق سے الگ بھی نہیں کیا۔ چنانچہ غنا کو اس اطلاق سے خارج کرنا درست نہیں ہے۔

''الاعتصام'' نے لکھا ہے:

''''ادھرحضرت عبداللہ بن مسعود تین بار قسم اٹھا کر کہ ''مجھے اللہ کی قسم! لہوالحدیث سے مراد غناء ہے۔''یہی بات ابن عباس فرمائیں۔ مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں''غناء کی یہ تعیین درست نہیں۔'' تف ہے ایسے علم پر اور تاسف ہے ایسی عقل و دانش پر۔(۱۸؍۵۷:۱۴)...جناب من! یہ تعیین کیوں درست نہیں؟صحابۂ کرام جن کے سامنے قرآن نازل ہوا، جس کے مطالب و مفاہیم انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھے، وہی اس کے اولین مخاطب تھے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ قرآن کا جو مفہوم انھوں نے سمجھا وہ تو درست نہ ہو اور جو غامدی صاحب بیان فرمائیں وہ درست اور راجح قرار پائے۔''(۱۸؍۵۷:۱۳)

''لھوالحدیث کے لغوی معنی کے اعتبار سے اگر مفسرین نے ہر غافل کر دینے والی چیز مراد لی ہے تو کیا غناء اور موسیقی میں یہی عنصر موجود نہیں؟ اور کیا کسی مفسر نے اس قول کو تفسیر سے خارج کیاہے؟ یا موسیقی اور غناء پر محمول کرنے کی کسی نے تردید کی ہے ؟ ہر گز نہیں... لھو الحدیث کے جس قدر مصداقات ہیں، موسیقی بہرنوع اس میں شامل ہے۔''(۱۷؍۵۷:۱۴، ۱۵)

پہلی بات پر ہمارا تبصرہ فقط اس قدر ہے کہ لھو الحدیث کو غنا کے ساتھ خاص نہ کرنے کا کام جس پر ''الاعتصام'' نے ''تف'' اور ''تاسف '' کا اظہار فرمایا ہے ،صرف ہمیں نے انجام نہیں دیا ہے۔ یہ کام کس کس نے انجام دیا ہے؟ چلیے، خود ''الاعتصام'' ہی سے معلوم کر لیتے ہیں:

''حضرت عبداللہ بن عباس (صحابی)نے ایک قول میں اس سے مراد باطل الحدیث(باطل بات) فرمایا ہے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷:۱۲)

''امام ضحاک رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس سے مراد شرک لیا ہے۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۳)

''قتادہ رحمۃ اللہ علیہ (تابعی)نے اس کے معنی باطل بات کے کیے ہیں۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۳)

''حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ (تابعی) لھو الحدیث کے متعلق فرماتے ہیں کہ لھو الحدیث ہر وہ چیز ہے جو اللہ کی عبادت اور یاد سے ہٹانے والی ہو۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۷)

''امام ابن جریر فرماتے ہیں... کہ اس سے مراد ہر وہ بات ہے جو اللہ کے راستے سے غافل کر دے۔''(الاعتصام۱۷؍۵۷:۱۵)

''علامہ زمخشری فرماتے ہیں: ہر وہ باطل چیز ''لھو'' ہے جو انسان کو خیر کے کاموں اور بامقصد باتوں سے غافل کر دے۔'' (الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۵)

''علامہ آلوسی وغیرہ متاخرین مفسرین نے اس سے عام مفہوم مراد لیا ہے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷: ۱۳)

''مولانامودودی لکھتے ہیں... ایسی ہر بات جو آدمی کو اپنے اندر مشغول کر کے ہر دوسری چیز سے غافل کر دے۔''(الاعتصام ۱۷؍۵۷: ۱۵)

''مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا ہے کہ یہ حکم عام ہے جس میں ہر وہ چیز شامل ہے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی یاد سے ہٹانے والی ہو۔'' (الاعتصام۱۷؍۵۷: ۱۶)

''...حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رقم طراز ہیں:جمہور صحابہ و تابعین اور عام مفسرین کے نزدیک لہو الحدیث عام ہے تمام ان چیزوں کے لیے جو انسان کو اللہ کی عبادت اور یاد سے غفلت میں ڈالے۔''(الاعتصام۱۸؍۵۷: ۱۲)

دوسری بات کے حوالے سے فقط یہ سوال ہے کہ کیا ہم نے موسیقی کو مطلق طور پر لھوالحدیث کے اطلاق سے خارج قرار دیا ہے؟ ایسا ہر گز نہیں ہے، ہم نے نہایت صراحت کے ساتھ لکھا ہے :

''مفسدین نے لوگوں کوقرآن سے دور کرنے اور خرافات میں مشغول کرنے کے لیے لہو و لعب کے جوذرائع اختیار کیے ہوں گے، وہ اس زمانے کے لحاظ سے ظاہر ہے کہ خطبات، کھیل تماشے ، موسیقی کی محفلیں اور مشاعرے ہی ہو سکتے ہیں۔ یہ ذرائع اگر لوگوں کو دین سے برگشتہ کرنے کے لیے اختیار کیے جائیں تو فی نفسہٖ مباح ہونے کے باوجوداپنے غلط استعمال کی وجہ سے شنیع قرار پائیں گے اور اہل ایمان کو ان سے گریز ہی کی تلقین کی جائے گی۔''(اشراق مارچ۲۰۰۴،۶۲)

' سامدون' کے معنی

سورۂ نجم کی اختتامی آیات میں ارشاد باری ہے:

''قریب آنے والی قریب آ گئی ہے۔اللہ کے سوا اس کو کوئی ٹالنے والا نہیں ہو سکتا۔تو کیا تم اس کلام پر متعجب ہوتے ہو۔ اور ہنستے ہو، روتے نہیں ۔اور تم 'سامدون ' ہو۔ اللہ ہی کو سجدہ کرو اور اسی کی بندگی کرو۔'' (النجم:۵۷۔۶۲)

ان آیات کو اپنے مضمون میں نقل کر کے ہم نے بیان کیا تھا کہبعض مفسرین ان سے بھی حرمت موسیقی کے لیے استدلال کرتے ہیں۔ یہاں لفظ 'سامدون' کا مفہوم ان کے نزدیک غنا ہے۔ اس پر نقد کرتے ہوئے ہم نے لکھا تھا کہ اہل لغت نے اگر چہ 'سامد' کا ایک معنی گانے والا بھی بیان کیا ہے اور بعض تفسیری اقوال کے مطابق یہاں یہی معنی مراد ہیں، مگر سیاق سے واضح ہے کہ یہاں مغنی مراد لینا درست نہیں ہے۔ چنانچہ بیش تر مفسرین نے اس سے گانے والا مراد نہیں لیا ہے۔ یہاں اس کے معنی غافل ہونے والے کے ہیں اور اس سے مراد قرآن سے غفلت اور بے اعتنائی برتنے والے اس کے مخاطبین ہیں۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' نے پہلے یہ سوال کیا ہے:

''جناب من! یہ ''بیش تر مفسرین'' کون ہیں؟ اور ان کے اقوال کیا ہیں؟'' (۱۹؍۵۷:۱۱)

جواباً عرض ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس سے منسوب ایک تفسیری قول کے مطابق سامد کے معنی''تکبر سے سر اٹھا کر اور سینہ تان کر گزر جانے والے'' کے ہیں(تفسیر طبری۲۷؍۹۷)۔ قتادہ کے نزدیک اس کے معنی ''غافل ہو جانے والے'' کے ہیں(تفسیر طبری۲۷؍۹۷)۔ مجاہد ''تکبر سے سر نیوڑھانے والے'' کو سامد کہتے ہیں ( بحوالہ تفہیم القرآن ۵؍۲۲۳)۔ زمخشری اس کا معنی '' مغرور اور غضب ناک ہونے والا'' کرتے ہیں(الکشاف۴؍۴۳۰)۔ رازی نے بھی ''غافل ہونے والا'' کیا ہے(التفسیر الکبیر۲۹؍۲۷)۔ امین احسن اصلاحی اس کا مفہوم ''مدہوش ہونے والا، غافل ہونے والا'' بیان کرتے ہیں(تدبر قرآن۸؍۸۰)۔

مفسرین کے حوالے سے اس سوال کے بعد ''الاعتصام'' نے یہ تنقید کی ہے کہ 'سامدون' کا معنی 'غافلون' یعنی غافل ہو جانے والے کرنا درست نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن مشرکین عرب کے لیے یہ لفظ استعمال کیا گیا ہے، وہ غافل نہیں، بلکہ مستعد معاند تھے۔ وہ لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب بڑی ہوشیاری سے فرماتے ہیں: ''یہاں اس سے مراد غافل ہو جانا اور قرآن سے بے اعتنائی برتنا ہے۔'' مگر سوال یہ ہے کہ مشرکین مکہ کی ''غفلت ''کا باعث اور سبب کیا تھا؟ کس چیز میں مبتلا ہو کر انھوں نے قرآن پاک سے بے اعتنائی اختیار کی؟ متکبر، بے اعتناء نہیں ہوتامعاند ہوتا ہے اور معاند مخالفت کے نت نئے بہانے اور حیلے تراشتا ہے۔ وہ غافل نہیں ہوتا۔'' (۱۹؍۵۷:۱۲)

اس ضمن میں ہماری گزارش فقط یہ ہے کہ وہ قرآن مجید سے رجوع کریں ، اس کے متعدد مقامات نہایت صراحت کے ساتھ اس حقیقت کو واضح کر دیں گے کہ قرآن جب اپنے مخاطبین کے حوالے سے غفلت یا اس مفہوم کا کوئی دوسرا لفظ اختیار کرتا ہے تو اس سے اس کی مراد نہایت درجہ بے پروائی اور بے اعتنائی ہوتی ہے۔جب انسان تکبر ، عناداور اس جیسی دوسری حقیر چیزوں میں مبتلا ہو کرتوحید، رسالت اورآخرت جیسی بینات سے بے پروا ہو جائے تو اس سے بڑھ کر غفلت اور کیا ہو گی ۔سورۂ اعراف کی آیت ۱۷۹ میں 'اُولٰٓءِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ اُولٰٓءِکَ ھُمُ الْغٰفِلُوْنَ'(وہ جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھو گئے ہیں)، سورۂ یونس کی آیت ۷ میں 'وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ' (اور جو ہماری نشانیوں سے غافل ہیں)اور سورۂ انبیا کی آیت۱ میں'اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُھُمْ وَھُمْ فِیْ غَفْلَۃٍ مُّعْرِضُوْنَ'(قریب آ گیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں)کے الفاظ اسی حقیقت کو واضح کر رہے ہیں۔ اسی طرح دیکھیے، سورۂ نحل میں مشرکین قریش کے حوالے سے نہایت وضاحت کے ساتھ یہی حقیقت بیان ہوئی ہے۔ ارشاد فرمایا ہے:

ذٰلِکَ بِأَنَّہُمُ اسْتَحَبُّوْا الْحَیَاۃَ الْدُّنْیَا عَلَی الآخِرَۃِ وَأَنَّ اللّٰہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ أُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلَی قُلُوبِہِمْ وَسَمْعِہِمْ وَأَبْصَارِہِمْ وَأُولٰءِکَ ہُمُ الْغَافِلُوْنَ لاَ جَرَمَ أَنَّہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ ہُمُ الْخَاسِرُوْنَ.(۱۶ :۱۰۷۔۱۰۹)

''یہ اس وجہ سے کہ انھوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی اور اللہ کفر اختیار کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں اور جن کے سمع و بصرپراللہ نے مہر کر دی اور یہی لوگ ہیں جو آخرت سے غافل ہیں۔''

مولانا امین احسن اصلاحی اس مقام کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

''فرمایا کہ ایسے لوگ جو ایمان کی روشنی ایک مرتبہ دیکھ لینے کے بعد، محض اپنے دنیوی مفادات کی خاطر اس سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں ، ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر مہر کر دیا کرتا ہے اور وہ ہدایت کی توفیق سے بالکل ہی محروم ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ نہ خود اصل حقیقت پر غور کرتے، نہ کسی دوسرے معقول آدمی کی بات سنتے اور نہ بصیرت حاصل کرنے کے لیے اپنی آنکھیں کھولتے۔ یہ ہدایت و ضلالت کے باب میں اس سنت الہٰی کی طرف اشارہ ہے جس کی وضاحت بقرہ کی آیت ۷ کے تحت ہو چکی ہے 'واولٰئک ہم الغٰفلون' یعنی اصل بے خبر یہی لوگ ہیں اس لیے کہ ان کے دل اور ان کے کان آنکھ سب جپاٹ ہو چکے ہیں۔ کسی طرف سے بھی کوئی بصیرت کی کرن ان کے اندر داخل ہونے کی کوئی گنجایش باقی نہیں رہی۔''(تدبر قرآن ۴؍۴۵۴)

صوت شیطان سے مراد

اس عنوان کے تحت ہم نے سورۂ بنی اسرائیل کی آیات ۶۱ تا ۶۵ نقل کر کے یہ بیان کیا تھا کہ ان آیات میں 'وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْھُمْ بِصَوْتِکَ'(اور ان (انسانوں) میں سے جن پر (اے شیطان)تیرا بس چلے، ان کو اپنی 'صوت' سے گھبرا لے) کے جو الفاظ آئے ہیں، ان میں 'صوت 'کامصداق بعض فقہا اورمفسرین نے تفسیری اقوال کی روشنی میں 'غناء' قرار دیا ہے۔ہمارے نزدیک صوت شیطان یعنی شیطان کی آواز کو غنا سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے۔ قرآن مجید نے یہ لفظ استعمال کر کے ان تمام ہتھکنڈوں کی طرف اشارہ کیا ہے جو شیطان صوت رحمان کے مقابل میں پیش کرتا اور ان کے ذریعے سے اللہ کے بندوں کو گمراہی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھیے تو ہر وہ چیز صوت شیطان ہے جو انسان کو اس کے پروردگار سے سرکشی یا دوری کا درس دیتی ہے۔ یہ درس اگر کوئی تقریر،کوئی تعلیم، کوئی شاعری اور کوئی موسیقی دیتی ہے تو وہ بلا شبہ صوت شیطان ہے اور اسلام اسے کسی حال میں گوارا نہیں کر سکتا۔ مگر ظاہر ہے کہ اس صورت میں شیطان کا وہ پیغام شنیع قرار پائے گا نہ کہ تقریر، تدریس، شاعری اور موسیقی جیسی اصناف ہی اصلاً لغو ٹھہریں گی۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے ''الاعتصام'' نے لکھا ہے:

''مگر غامدی صاحب فرماتے ہیں: ''ہمارے نزدیک صوت شیطان یعنی شیطان کی آواز کو غناء سے محدود کرنا کسی طرح بھی صحیح نہیں۔'' (اشراق ص :۶۸)ہم کب کہتے ہیں کہ شیطان کی آواز سے صرف غناء اور موسیقی مراد ہے۔ بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ موسیقی صوت شیطان ہے جیسا کہ ابن عباس اور مجاہد نے فرمایا ہے۔ لہٰذا موسیقی کو صوت شیطان سے خارج سمجھنا شیطان کو خوش کرنے کے مترادف ہے۔اسی طرح ان کا یہ کہنا کہ '' موسیقی اصلاً لغو نہیں، وہ موسیقی صوت شیطان ہے جو پروردگار سے سرکشی کا سبب بنتی ہے۔'' (اشراق ص :۶۸)بڑا پرفریب دعویٰ ہے۔ پہلے دلائل سے گزر چکا ہے کہ لہو الحدیث سے مراد موسیقی ہے۔ لہٰذا وہ بہرحال لغو ہے اگر یہ صوت الشیطان نہیں تو کیا معاذ اللہ یہ صوت الرحمن ہے؟ موسیقی، ایک باقاعدہ فن ہے۔ یعنی گانے بجانے کا علم، راگ کا علم اور موسیقار ، گانے والے اور گویے کو کہتے ہیں جسے عربی میں مغنی یا مغنیہ کہا جاتا ہے۔ سادہ طریقہ پر حسن صوت سے اچھے اور بامقصد شعر پڑھنا اصطلاحاً غناء اور موسیقی نہیں۔'' (۱۹؍۵۷:۱۳)

اس تنقیدی نوٹ کے مطالعے سے قارئین پر یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی ہوگی کہ یہ تنقید نہیں، بلکہ سر تا سر تائید ہے، کیونکہ اس میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ صوت شیطان کا مصداق تخصیصاً غنا کو قرار دینا درست نہیں ہے۔ تاہم جہاں تک ان کے اس نادر روزگار فرمان کا تعلق ہے کہ موسیقی ایک باقاعدہ فن ہے اور سادہ طریقے پر حسن صوت سے اچھے اور بامقصد شعر پڑھنا اصطلاحاً غنا اور موسیقی نہیں، تو اس ضمن میں ہماری گزارش فقط اتنی ہے کہ وہ اس سادہ حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ فنون لطیفہ کا ہر فن اپنے اصول وقواعد سے ہمیشہ مقدم ہوتا ہے۔ شاعری پہلے وجود میں آئی ہے اور فن عروض بعد میں پیدا ہوا ہے اور کوئی شخص فن عروض پڑھ کر شاعر نہیں بنتا، بلکہ وہ قدرتی طور پر الفاظ کو ایسے ترتیب دیتا ہے کہ جملہ خاص وزن پر موزوں ہوتا اور اس میں آہنگ اور نغمگی پیدا ہو جاتی ہے اور اکثر اوقات اسے یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ اس کا فلاں شعر بحر متقارب میں ہے، بحر رمل میں ہے یا بحر ہزج میں۔ اسی طرح غنا اور اس کے اجزا مثلاً لے، تال وغیرہ مقدم ہیں اور اس کی راگوں اورسروں کے مختلف عنوانات کے تحت قسم بندی بعد کا کام ہے۔ گویا اپنی اصل کے لحاظ سے غنا بھی کوئی اکتساب کی چیز نہیں ہے۔ کوئی شخص اگر قدرتی طور پر غنا کی صلاحیت سے محروم ہے تو وہ برسوں کی مشق اور ماہرین فن سے کسب فیض کے باوجود اس سے اجنبی رہے گا، اور جسے یہ صلاحیت خداداد طریقے پر ملی ہے تو وہ غنا کا مظاہرہ تو ابتداءً ہی کرلے گا، مگر مشق اور ریاضت سے اسے پختگی حاصل ہو جائے گی۔ ''الاعتصام'' کے لیے یہ بات شاید تعجب انگیز ہو کہ دنیا کے مختلف خطوں میں بے شمارایسے فن کار ہیں جو گلوکار کی حیثیت سے متعارف ہونے کے بعد فنی باریکیوں سے روشناس ہوئے۔اور ایسے بھی ہیں جو فنی اکتساب کے بغیر ہی تمام زندگی خوش نوائی کا مظاہرہ کرتے رہے۔ہمارے ہاں نعت خوانی غنا کی ایک معروف قسم ہے۔ اکثر نعت خوان پوری طرح سر میں گاتے ہیں، مگر انھوں نے سر اور راگ کی کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہوتی۔ ان کی گائیکی محض اس بنا پر زمرۂ غنا یا موسیقی سے خارج نہیں ہو جائے گی کہ وہ اس فن کو باقاعدہ طور پر سیکھے ہوئے نہیں ہیں۔

'لا یشھدون الزور 'کی تفسیر

سورۂ فرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

وَالَّذِیْنَ لَا یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا کِرَامًا.(۲۵ :۷۲)

''اور جو لوگ کسی باطل میں شریک نہیں ہوتے اور اگر کسی بے ہودہ چیز پر سے ان کا گزر ہوتاہے تووقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔''

بعض تفسیری اقوال کے مطابق اس آیت کے لفظ ' الزور 'سے مراد غنا ہے اور اس بنا پر اس سے موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا گیا ہے۔اس ضمن میں ہم نے اپنے مضمون میںیہ بیان کیا تھا کہ ہمارے نزدیک اس آیت میں 'زور' اپنے لغوی معنی یعنی جھوٹ اور باطل ہی کے مفہوم میں آیا ہے، اسے غنا، شرک یا کسی دوسرے مفہوم کا حامل قرار دیناہر گز موزوں نہیں ہے۔اس آیت کو اس کے سیاق و سباق کے لحاظ سے دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اپنے فرماں بردار بندوں کی صفات کے ذیل میں جہاں فروتنی،عبادت گزاری، عمل صالح اور توبہ و انابت کے اوصاف بیان کیے ہیں، وہاں یہ وصف بھی بیان کیا ہے کہ وہ کسی جھوٹ اور باطل میں شریک نہیں ہوتے اور لغویات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' نے حسب ذیل تنقید کی ہے:

''علمائے کرام نے فی الجملہ اس آیت سے بھی موسیقی کی حرمت پر استدلال کیا ہے...''زور'' سے ''غناء ہی'' مراد نہیں بلکہ غناء بھی زور کے مفہوم میں شامل ہے، اور سیاق و سباق بھی یہ معنی متعین کرنے میں مانع نہیں۔ امام ابوحنیفہ، حضرت محمد بن حنفیہ اور امام مجاہد کا اس سے مراد غناء لینا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ زور میں غناء بہرحال شامل ہے... اس آیت میں ''زور'' سے غناء اور موسیقی مراد لیناقرآنی تعلیمات کے بالکل مطابق ہے اور امام مجاہد اور ابو حنیفہ رحمہما اللہ وغیرہ نے جو سمجھا، وہ بالکل درست ہے، اور یہ آیت بھی موسیقی کی شناعت(سنگینی) اور حرمت کی دلیل ہے۔'' (۱۹؍۵۷:۱۳، ۱۴)

اس ضمن میں پہلی بات یہ ہے کہ ''الاعتصام'' نے یہ کہہ کر کہ ''زور'' سے ''غناء ہی'' مراد نہیں '' از خود امام ابو حنیفہ، امام مجاہد اور حضرت محمد بن حنفیہ کے اقوال کی تردید کر دی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں حضرات سے ''غناء بھی'' کا نہیں، بلکہ ''غناء ہی'' کا مفہوم مروی ہے۔ تاہم جہاں تک ''غناء بھی'' کا تعلق ہے تو ہم نے یہ کہاں بیان کیا ہے کہ غنا کا کوئی مظہر کسی طور بھی باطل میں شامل نہیں ہو سکتا؟ اس کے برعکس ہم نے جا بجا یہ بیان کیا ہے کہ وہ غنا جو کسی باطل کو ترویج دیتا ہے، وہ ہر حال میں شنیع ہے۔ اس بحث میں ہماری بنیادی بات صرف اور صرف یہ ہے کہ ''زور'' کا مصداق علی الاطلاق غنا کو قرار دینا اور اس کی بنا پر اس کی مطلق حرمت کا حکم صادر کرنا کسی طرح بھی درست نہیں ہے، کیونکہ آیت میں ''زور'' یعنی کذب و باطل سے مجتنب رہنے کا مفہوم تو بے شک، واضح ہے، مگراس کے کسی مصداق کی تعیین نہیں کی گئی۔ چنانچہ اگر سیاق کلام ، عرف قرآن اور زبان کے نظائر میں اس کے مصداق کی تعیین کے لیے کوئی قرینہ نہیں ہے تو اسے متعین کرنے کی کوشش درحقیقت قرآن کے مدعا سے تجاوز اوراس کے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے مترادف ہے، لہٰذا ایسی کسی تفسیر کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ طبری،زمخشری، رازی، آلوسی اور امین احسن اصلاحی رحمہم اللہ جیسے ائمۂ تفسیر نے اس کا کوئی مصداق طے کیے بغیر اسے عمومی معنی ہی میں بیان کیا ہے۔

قرآن سے حرمت موسیقی کے استدلال کو زیر بحث لانے کے بعد ہم نے ''حرمت موسیقی کے لیے روایات سے استدلال'' کے زیر عنوان وہ نمائندہ روایتیں نقل کی تھیں جن کی بنا پر موسیقی کی علی الاطلاق حرمت پراستدلال کیا جاتا ہے۔ ان روایتوں کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا کہ ان میں صحیح ، حسن اور ضعیف، تینوں طرح کی روایات موجود ہیں۔ ان میں سے بیش تر روایات کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، تاہم ان کے مضامین سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ان میں مذکور موسیقی اور آلات موسیقی کی ممانعت کا سبب ان کی بعض صورتوں کا شراب، فواحش اور بعض دوسرے رذائل اخلاق سے وابستہ ہونا ہے۔ چنانچہ ان کی بنا پر موسیقی کی علی الاطلاق حرمت کا حکم ہر گز صادر نہیں کیا جا سکتا۔

''الاعتصام'' نے ''احادیث اور حرمت موسیقی'' کے زیر عنوان ہمارے مضمون کے اس حصے کو بھی موضوع تنقید بنایا ہے۔ اپنے نقطۂ نظر کا خلاصہ اس بحث کے آغاز میں انھوں نے مولانا مفتی محمد شفیع کی کتاب ''احکام القرآن'' کے حوالے سے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

''مجموعی طور پر یہ احادیث ساز اور گانے بجانے کی حرمت پر دلالت کرتی ہیں، میں کسی مسلمان کے بارے میں یہ گمان نہیں کر سکتاکہ وہ ہمارے ان دلائل کو سننے کے بعد ان کی حرمت میں شک کرے گا۔ ان احادیث کا ظاہری اطلاق اس کی حرمت اور کراہت کا متقاضی ہے۔''(۲۰؍۵۷:۱۲)

''احادیث اور حرمت موسیقی'' کی بحث پر ''الاعتصام'' کی تنقیدات اور ان پر ہمارا تبصرہ حسب ذیل ہے۔

سازوں کی حرمت

''صحیح اور حسن روایات'' کے زیر عنوان اولاً ہم نے بخاری کی روایت رقم۵۲۶۸ نقل کی تھی۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو شرم گاہ (زنا)، ریشم، شراب اور معازف (سازوں) کو حلال کر لیں گے۔

اس روایت کے بارے میں ہم نے یہ نقطۂ نظر پیش کیا تھا کہ اس سے آلات موسیقی کی حرمت کا حکم اخذ کرنا درست نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہم نے جو استدلال کیا تھا، اس کا خلاصہ حسب ذیل نکات پر مبنی ہے:

اولاً، اس روایت میں جن چار چیزوں کا ذکر ہوا ہے ، ان میں زنا اور شراب کی حرمت تو قرآن و حدیث سے پوری طرح واضح ہے، مگرریشم کے بارے میں قرآن نے نہ صرف یہ کہ حرمت کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ مثبت طور پراسے جنت کی ایک نعمت کے طور پر بیان کیا ہے۔ جہاں تک روایتوں کا تعلق ہے تو اس ضمن میں حلت و حرمت، دونوں طرح کی روایتیں موجود ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشم کو بالکلیہ حرام قرار نہیں دیا۔ آپ نے اس کے مکمل لباس کو عورتوں کے لیے جائز قرار دیا ہے اور مردوں کے لیے ناجائز۔ مردوں کو البتہ ، اس کا کچھ حصہ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے ۔ مردوں کے لیے اس کی ممانعت کے جو اسباب روایتوں سے معلوم ہوتے ہیں ، وہ یہ ہیں کہ اس کے استعمال سے عورتوں سے مشابہت کی صورت پیدا ہو سکتی ہے اور اسراف اور تکبر کا اظہار ہو سکتا ہے۔ اس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ قرآن اور حدیث نے ریشم پہننے کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا۔ یہ بات اگر درست ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس روایت میں مذکور چاروں چیزوں کے بارے میں یکساں طور پر یہ نہیں کہا جا سکتاکہ یہ دین میں علی الاطلاق حرام ہیں۔

ثانیاً، موسیقی اور آلات موسیقی کے جواز کی روایتوں کے ہوتے ہوئے بخاری کی مذکورہ روایت کی بنا پر سازوں کو علی الاطلاق حرام قرار دینا ، ظاہر ہے کہ کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔

ثالثاً، اس روایت کے دیگر طرق اور اس موضوع کی دوسری روایتوں کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح واضح ہو جاتی ہے کہ یہ بات موسیقی کے اس استعمال کے بارے میں کہی گئی ہے جو فواحش کی ترویج کا باعث بنتاہے۔ عرب میں ناچ گانا اور شراب لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے تھے اور آلات موسیقی زیادہ تر عریانی اور فحاشی کی محفلوں ہی کے ساتھ مخصوص ہو کر رہ گئے تھے۔ عرب میں ایسی مجالس عام تھیں جن میں امرا اظہار تکبر کے لیے ریشمی لباس پہن کر شریک ہوتے، سازوں کے ساتھ ناچ گانے کا اہتمام کیا جاتا ، خوب شراب نوشی کی جاتی اوران کا اختتام فواحش پر ہوتا تھا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے توکوئی بھی مباح چیز ان مجالس کے ساتھ مخصوص ہو کر دائرۂ حرمت میں داخل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ روایت سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ اگر شاعری کی کوئی قسم، کوئی لباس، کوئی برتن، کوئی مقام یا کوئی تہوار ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں سے وابستہ ہو جاتاہے تو وقتی طور پراس کی ممانعت کا حکم لگانا شریعت کے منشا کے عین مطابق ہے۔

یہ بخاری کی اس روایت کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر اور اس کے استدلال کا خلاصہ ہے۔ ہمارے اس نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے ''الاعتصام'' نے پہلے مذکورہ روایت کی سند پر بحث کی ہے۔ لکھتے ہیں:

''غامدی صاحب کی یہاں ہوشیاری دیکھیے کہ اشراق ص: ۷۳ پر پہلے عنوان قائم کیا ہے ''صحیح اور حسن روایات'' اس کے تحت سب سے پہلے بخاری کی یہی روایت ذکر کی ہے مگر حاشیے میں لکھتے ہیں: ''بخاری کی مذکورہ روایت پر اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں، ابن حزم ...اپنی کتاب المحلی میں لکھتے ہیں: ھذا منقطع ولم یتصل ما بین البخاری وصدقۃ بن خالد۔ '' غور کیجیے ایک طرف اس روایت کو صحیح اور حسن روایات میں سر فہرست ذکر کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی اس کے بارے میں حافظ ابن حزم کے حوالے سے تشکیک کا اظہار بھی فرماتے ہیں۔ پھر لطف کی بات یہ کہ حافظ ابن حزم نے اس پر انقطاع کا حکم لگاتے ہوئے خود جس غلطی کا ارتکاب کیا، غامدی صاحب نے اس مکھی پر مکھی ماری ...غامدی صاحب نے اپنی ہوشیاری میں حافظ ابن حزم کی طرف سے اعتراض کیاجس کے جواب سے علمائے امت بحمداللہ فارغ ہو چکے ہیں۔ (۲۰/۵۷:۱۲)

ہماری اس ''ہوشیاری'' پر الاعتصام نے جس ''دیانت'' کا مظاہرہ کیا ہے، اس پر ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اور دست بدعا ہیں کہ اگر علم و معرفت اسی کا نام ہے تو خدا دشمن کو بھی اس سے محفوظ رکھے۔قارئین کی تشفی کے لیے ہم وہ بات یہاں من و عن نقل کر دیتے ہیں جس کا مضمون ''الاعتصام'' نے سو رنگ سے باندھا ہے :

''بخاری کی مذکورہ روایت پر اس کی صحت کے حوالے سے بھی بعض اعتراضات ہیں۔ ابن حزم لکھتے ہیں: یہ حدیث منقطع ہے اور بخاری اور صدقہ بن خالد کے مابین اتصال نہیں ہے۔ اس کے برعکس بعض علما مثلاً ابن حجر عسقلانی اور ابن قیم جوزی ابن حزم کی اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح متصل ہے۔ علامہ ناصر الدین البانی نے بھی اسے 'صحیح' قرار دیا ہے۔'' (اشراق مارچ ۲۰۰۴،۷۳)

گویا ہم نے اس پر اگر ایک عالم کی تنقید نقل کی ہے توتین علما کی تائید بھی پیش کی ہے اور اسے صحیح روایات کے زمرے میں درج کر کے اس کے بارے میں اپنا موقف بھی واضح کر دیا ہے۔

''الاعتصام''کے علما و عارفین کے لیے اگر گراں باری خاطر نہ ہو توہم یہ عرض کرنے کی جسارت کریں گے کہ یہ دعویٰ کسی طرح بھی درست نہیں ہے کہ اہل علم ابن حزم کے اعتراض کا جواب دے کرفارغ ہو چکے ہیں۔ اس کے بارے میں علما کے مابین آج بھی اختلاف پایا جاتا ہے۔دور حاضر میں عالم اسلام کے معروف عالم دین علامہ یوسف القرضاوی کی چند سطور پیش خدمت ہیں:

''یہ حدیث گرچہ صحیح بخاری میں وارد ہوئی ہے لیکن یہ متصل روایتوں میں سے نہیں بلکہ منقطع روایتوں میں سے ایک ہے ۔ اسی وجہ سے ابن حزم نے اس روایت کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا ہے کہ اس روایت کی سند اور متن دونوں خلل (اضطراب) سے محفوظ نہیں ہیں ۔ حافظ ابن حجر نے اس روایت کو متصل ثابت کرنے کی انتھک کوشش کی ہے اور عملاً نو سندوں سے ثابت بھی کیا ہے لیکن ان تمام سندوں میں ایک راوی ایسے ہیں جن کے بارے میں ائمۂ جرح و تعدیل نے کلام کیا ہے اور وہ ہشام بن عمار ہیں ۔ ان پر جرح کرنے والے ائمہ میں امام ابو داؤد ، امام احمد ، امام نسائی، ابن سیار اور حافظ ذہبی شامل ہیں ۔ اس لیے اس طرح کے اختلافی امور میں ان کی حدیث قبول نہیں کی جا سکتی بالخصوص ان معاملات میں جو بہت عام ہوں ۔ ''(زندگی نو، انڈیا، نومبر۲۰۰۵، ۳۲)

روایت کی سند پر بحث کے بعد ''الاعتصام'' نے ہمارے استدلال پر ایک طویل بحث کی ہے۔ اس بحث میں انھوں نے نہایت اصرار کے ساتھ حدیث کی کتابوں سے وہ روایتیں نقل کی ہیں جن میں ریشم کی ممانعت مذکور ہے، مگر اس ضمن میں ہمارے استدلال سے کچھ خاص اعتنا نہیں برتا ۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ حدیث کی انھی کتابوں میں متوازی طور پرریشم کی حلت کی روایتیں بھی درج ہیں، لہٰذا ان میں سے ایک نوعیت کے حکم کو عام مان کردوسری نوعیت کے حکم کی تخصیص ضروری ہے۔اور بعض روایتوں میں چونکہ حرمت کے ضمن میں اسراف اور عورتوں سے مشابہت کی علتیں بھی بیان ہو گئی ہیں، اس لیے اس کی حرمت یا شناعت کا حکم انھی صورتوں پر لاگو ہو گا جن میں یہ موجود ہوں گی اور عمومی حکم جواز ہی کا قرار پائے گا۔

گھنٹی سے فرشتوں کی کراہت

اس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی تین روایات رقم ۲۵۵۵،۲۵۵۶، ۴۲۳۱ نقل کی تھیں ۔ ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ فرمان بیان ہوئے ہیں کہ'' الجرس مزامیر الشیطانیعنی گھنٹی شیطان کا ساز ہے''، ''فرشتے اس جماعت کے ہم راہ نہیں ہوتے جس میں گھنٹی ہو یاکتا ہو'' اور ''جس گھر میں گھنٹی ہو، وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔'' ان روایتوں کے بارے میں ہم نے اپنا نقطۂ نظر یہ ظاہر کیا تھاکہ ان سے حرمت موسیقی پر استدلال درست نہیں ہے۔ اس ضمن میں ہمارا استدلال حسب ذیل نکات پر مبنی تھا:

اولاً ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عرب میں' جرس' (گھنٹی) کو آلات موسیقی میں شمار ہی نہیں کیا جاتاتھا، اس لیے اس کی شناعت کی بنا پر آلات موسیقی کو شنیع قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ثانیاً، یہ درحقیقت اس گھنٹی کا بیان ہے جو اونٹوں یا دوسرے جانوروں کے گلے میں لٹکائی جاتی تھی۔جانوروں کی گردنوں میں گھنٹی باندھنے کا مقصدانھیں آراستہ کرنا بھی ہو سکتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ راعی یا ساربان اپنے جانوروں سے باخبر رہیں اور اگر وہ کہیں کھو جائیں تو اس کی آواز کے ذریعے سے انھیں ڈھونڈنے میں مدد مل سکے ،مگر یہ بہرحال نہیں ہو سکتا کہ اس سے موسیقی کا حظ اٹھایا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل آلات موسیقی بھی اسی صورت میں موثر ہوتے ہیں جب انھیں خاص ترتیب سے بجایا جائے ۔ یہ ترتیب ہی انھیں زمرۂ موسیقی میں داخل کرتی ہے۔ چنانچہ یہ بات قطعی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ مذکورہ روایت میں 'جرس' کا ذکر آلۂ موسیقی کے طور پر نہیں آیا ہے ،اس لیے اس کی بنا پر آلات موسیقی کے بارے میں کوئی حکم اخذ کرنا ہر گز درست نہیں ہے۔

ثالثاً، ان روایتوں میں فرشتوں کے حوالے سے صرف گھنٹی ہی کی کراہت مذکور نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ کتے کی کراہت کا ذکر بھی ہے۔ اس کے برعکس متعدد روایات میں نہ صرف کتا رکھنے، بلکہ اس کا پکڑا ہوا شکار کھانے کی اجازت بیان ہوئی ہے۔چنانچہ مذکورہ روایت سے حرمت کا مفہوم اخذ کرنے سے ظاہر ہے کہ روایتوں کے باہمی تناقض کا سوال پیدا ہو جاتا ہے۔

اپنے استدلال کی صراحت کے بعد ہم نے ان روایتوں کا مفہوم بیان کرتے ہوئے یہ نقطۂ نظر اختیار کیا تھاکہ گھنٹی کی شناعت درحقیقت ان قافلوں کے حوالے سے ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی میں مختلف مقاصد کے تحت سفروں پر نکلتے تھے۔اس زمانے میں مسلمان پورے عرب سے برسرجنگ تھے۔ ان کے اطراف میں مشرکین ، یہود اور منافقین پھیلے ہوئے تھے۔ وہ ہر وقت اس تاک میں رہتے تھے کہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طرح زک پہنچائی جائے۔ جنگی قافلے کے لیے یہ صورت حال اور بھی نازک ہوتی تھی ۔ اس تناظر میں غالب امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں جنگی کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہوگاجو دشمن کو متوجہ کرنے کا باعث بن سکیں۔ کتوں کا شوروغل اور جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں دشمن کو باخبر کرنے کی صورت پیدا کر سکتی ہیں۔چنانچہ آپ نے کتوں کو ہم راہ نہ رکھنے اور گھنٹیوں کو اتارنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ اس رجحان کی تائید میں ہم نے صاحب ''لسان العرب'' ، امام سرخسی اور علامہ وحید الزماں کے حوالے بھی نقل کیے تھے۔

جہاں تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کا تعلق ہے کہ ''جس گھر میں گھنٹی ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے'' تو اس کے بارے میں ہم نے یہ رجحان ظاہر کیا تھا کہ اسے عربوں کے مشرکانہ مراسم میں گھنٹی کے استعمال کے حوالے سے دیکھا جا سکتااور انھی باتوں میں شمار کیا جا سکتا ہے جوشرک کی شناعت کے حوالے سے آپ نے ارشاد فرمائیں۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' نے ایک طویل وعریض تنقید لکھی ہے۔بلاشبہ، یہ اس لائق ہے کہ اسے زبان و ادب کے نصابات میں شامل کیا جائے تاکہ طلبا نقد و نظر کی اس صنف جدید سے آگاہ ہو سکیں جس میں موضوع پر بات کیے بغیر تنقید کی جاتی ہے۔ہزاروں الفاظ صفحۂ قرطاس پر رقم کیے گئے ، مگر ان میں دو لفظ بھی ایسے نہیں ہیں جن میں ہمارے استدلال پر نقد کیا گیا ہو۔ ہماری بات فقط اس قدر تھی کہ عربی لغت اور عرب ثقافت کی معلومات اگر سامنے ہوں تو گھنٹی کو من جملۂ آلات موسیقی تصور کرنا درست نہیں ہے ۔ مذکورہ احادیث میں بھی اس کا ذکر آلۂ موسیقی کے طور پر نہیں ، بلکہ جانوروں کے گلے میں لٹکائی جانے والی شے کے طور پر ہوا ہے۔ لہٰذا ان روایتوں سے گھنٹی سے متعلق کوئی حکم تو بے شک، اخذ کیا جاسکتا ہے، لیکن موسیقی یا آلات موسیقی کی حرمت کا حکم ہر گز اخذ نہیں کیا جا سکتا۔ ''الاعتصام'' نے ہمارے اس استدلال پر تو کوئی گفتگو نہیں کی ، البتہ ہماری اس تاویل کو ہدف تنقید بنایا ہے جو گھنٹی کی ممانعت کا سبب بیان کرتے ہوئے ہم نے پیش کی تھی اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تاویل کو ہم نے یقینی رائے کے طور پر نہیں، بلکہ امکانی رائے کے طور پر بیان کیا تھا۔ ہم نے لکھا تھا: ''غالب امکان یہ ہے کہ رات کے اوقات میں جنگی کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چیزوں سے منع فرمایا ہوگاجو دشمن کو متوجہ کرنے کا باعث بن سکیں۔ کتوں کا شور و غل اور جانوروں کی گھنٹیوں کی آوازیں دشمن کو باخبر کرنے کی صورت پیدا کر سکتی ہیں۔ ''

چلیے، ہم اپنی اس رائے پر اصرار نہیں کرتے اور کچھ دیر کے لیے ''الاعتصام'' ہی کی یہ تاویل مان لیتے ہیں کہ گھنٹی اور کتوں سے اس لیے منع کیا گیاکہ وحی لانے والے فرشتے ان سے کراہت محسوس کرتے تھے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس بات کو تسلیم کرنے سے ہمارے استدلال پر کیا زد پڑی ہے؟ کیا اس کے نتیجے میں گھنٹی آلات موسیقی کے زمرے میں شامل ہو گئی ہے؟اگر ایسا نہیں ہے توپھر ان روایتوں کو حرمت موسیقی کی بنا ہر گز نہیں بنایا جا سکتا ۔

اپنے مضمون کے حاشیے میں ہم نے یہ وضاحت کی تھی کہ 'الجرس مزامیر الشیطان' (گھنٹی شیطان کا ساز ہے) کے الفاظ میں لفظ مزامیر کی بنیاد پر 'جرس ' کو من جملۂ مزامیر(ساز) تصور کرنا درست نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں مزامیرکا لفظ اپنے لغوی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا، بلکہ تشبیہ و استعارے کے طور پر استعمال ہوا ہے اور یہ زبان کا عام اسلوب ہے کہ کسی چیز کے اوصاف کو نہایت درجہ بیان کرنے کے لیے تمثیل وتشبیہ اور مبالغے کے اسالیب اختیار کیے جاتے ہیں۔

ہماری اس بات پر ''الاعتصام'' کا تبصرہ ملاحظہ فرمائیے:

''دین کے احکام و مسائل بیان کرتے ہوئے مبالغہ اور افراط و تفریط کا احتمال دیگر انسانوں میں تو ہوتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اس قسم کا تصورمقام نبوت سے ناآشنائی کا نتیجہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات قلم بند کیا کرتے تھے، بعض نے کہا کہ رسول اللہ بالآخر انسان ہیں، آپ خوشی اور ناراضی میں بھی بات کرتے ہیں، اس لیے ہر بات نہ لکھا کرو، انھوں نے اس بات کا اظہار رسول اللہ سے کیا تو آپ نے فرمایا:... ''لکھا کرو، مجھے اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میرے منہ سے صرف حق نکلتا ہے۔'' اس لیے رسول اللہ کے بارے میں یہ تصور کرنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دینی مسائل و احکام بیان کرنے میں عامۃ الناس کی طرح مبالغہ آرائی کرتے اور افراط و تفریط کا شکار ہو جاتے تھے، مقام نبوت سے ناآشنائی ہی کا نتیجہ ہے اور ایسی جسارت غامدی صاحب اور ان جیسے ''دانش ور'' تو کر سکتے ہیں۔ ایک سچے امتی سے اس کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔'' (الاعتصام۲۲؍۵۷:۱۶)

ہم اس پر کیا گزارش کریں۔ حسن ظن کو ملحوظ رکھیں تو ''الاعتصام'' کے اس تبصرے کو ان کے اس تقاضے ہی پر محمول کیا جا سکتا ہے کہ:

بہرا ہوں میں تو چاہیے دونا ہو التفات

سنتا نہیں ہوں بات، مکرر کہے بغیر

چنانچہ تفہیم مکرر کے لیے فقط یہ عرض کریں گے کہ تشبیہ ، استعارے اور مبالغے کے اسالیب اس لیے نہیں اختیار کیے جاتے کہ افراط و تفریط کا اظہار کیا جائے، غیر حقیقی طور پرمبالغہ آرائی کی جائے یا جھوٹی اور خلاف حقیقت بات بیان کی جائے۔ یہ متکلم کے انداز بیان کی مختلف صورتیں ہیں جنھیں وہ کبھی حسن تکلم کی خاطر، کبھی مدح و ذم کی غرض سے ، کبھی زور بیان کی ضرورت کے تحت اور کبھی شدت تاثر کے اظہار کے لیے اختیار کرتا ہے ، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جب اسے حقائق کو نہایت درجہ بیان کرنا مقصود ہو تو وہ انھی اسالیب کا سہارا لیتا ہے ۔ سیدنا حمزہ، سیدنا علی یا سیدنا خالد بن ولید کی میدان جنگ میں آمد کے حوالے سے بیان کرتے ہوئے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ: کس شیر کی آمد ہے کہ رن کانپ رہا ہے تو اسے سن کر سادہ سے سادہ آدمی بھی 'شیر' اور 'کانپ' کے وہ معنی نہیں لے گا جو لغت میں ان الفاظ کے تحت لکھے ہوئے ہیں۔ درج بالا تنقیدی نوٹ میں ''الاعتصام'' نے خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ''اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔'' انھیں پڑھ کر اگر کوئی شخص یہ نتیجہ اخذ کرے کہ انسانوں کی طرح خدا کے بھی اعضا و جوارح ہیں (معاذ اللہ )اور جان بھی کوئی مجسم شے ہے تو اس کی عقل کا ماتم کیا جائے گا۔

اہل الاعتصام کی درج بالا نکتہ آفرینی کو زبان ناشناسی یا سادہ لوحی پر محمول کر کے صرف نظر کیا جاسکتا ہے، مگر اس کا کیا کیجیے کہ اسی مضمون کے ایک مقام پر خود انھوں نے ہمیں یہ بات باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ الفاظ اپنے ظاہری مفہوم سے اٹھ کر تشبیہ و مشابہت کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور طرفہ تماشا یہ ہے کہ اس بات کو سمجھانے کے لیے انھوں نے یہی مزامیر کا لفظ استعمال کیا ہے۔ لکھتے ہیں:

''بعض حضرات کو ایک روایت کے ظاہری الفاظ سے بھی دھوکا لگا جس میں بیان ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تلاوت سن کر فرمایا: ''لقد اوتیت مزمارا من مزامیر آل داؤد'' کہ اے ابو موسیٰ'' تجھے توقوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے''۔ روایت میں ''مزمار ''کا لفظ آیا ہے جس سے ظاہر بینوں اور موسیقی پرستوں کو دھوکا لگا ، اسی بنا پر اس کا یہاں معنی ''ساز'' کیا گیا ...بلا شبہ ''مزمار'' کے معنی ساز کے ہیں۔ لیکن اس سے یہاں مراد حسن صوت ہے۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: ...مزمار آلہ ہے ، اس کا آواز پر اطلاق اس کی خوب صورتی کی مشابہت کی بنا پر ہے۔'' (الاعتصام ۱۱؍۵۷:۲۲)

طبل کی حرمت

اس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت رقم ۳۶۹۶ نقل کی تھی جس میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ نے مجھ پر شراب، جوئے اور کوبہ کو حرام ٹھہرایا ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔اس روایت کے لفظ 'کوبۃ' کا معنی بالعموم طبل یا بربط بیان کیا گیاہے اور اس بنا پر اس سے آلۂ موسیقی طبل کی حرمت پر استدلال کیا گیا ہے۔

اس روایت کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر ان دو نکات پر مبنی تھا :

اولاً، لغت میں کوبہ کے معنی طبل یا بربط کے علاوہ 'نرد' بھی نقل ہوئے ہیں اور یہ ایک کھیل ہے جو اس زمانے میں جوا کھیلنے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں کوبہ کے معنی نردکیے جائیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روایت میںیہ لفظ ''میسر'' کے ساتھ آیا ہے جس کے معنی جوئے کے ہیں اور بعض روایتوں میں نرد کو جوئے کی ایک شکل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ مثلاً ابوداؤد، رقم ۴۹۳۸ میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ جو نرد سے کھیلا، اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ بیہقی، رقم۲۰۷۴۵ میں نقل ہوا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منبر پر یہ اعلان کیا کہ لوگو، جوئے سے بچو۔ اس سے ان کی مراد 'نرد' تھی۔بیہقی، رقم۲۰۷۴۶ میں مذکور ہے کہ عبداللہ بن عمر نرد کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ یہ جوا ہے۔ ابن ابی شیبہ ، رقم ۲۶۱۵۰ میں سیدنا علی کا یہ قول روایت ہوا ہے کہ نرد یا شطرنج جوئے میں سے ہے۔

ثانیاً، کوبہ کے معنی نرد لینا اگرچہ زیادہ قرین قیاس ہے، لیکن اس امکان کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ یہاں کوبہ سے مراد طبل ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شراب اور جوئے کی انھی مجالس میں کیف و سرور کو بڑھانے کے لیے مغنیات اور ان کے ساتھ دف، طبل اور دیگر آلات موسیقی بھی فراہم رہتے تھے۔ تاہم اس امکان کو ماننے کے باوجود ہمارے اصل استدلال میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا، کیونکہ اگر دف کا جواز موجود ہے جو طبل ہی کی طرح بجانے کا آلۂ موسیقی ہے تو طبل کو علی الاطلاق حرام قرار نہیں دیا جا سکتا، البتہ یہ عین ممکن ہے کہ اس کے جوئے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو۔

درج بالا نکات سے واضح ہے کہ اس روایت کے بارے میں ہمارا بنیادی استدلال لفظ 'الکوبۃ' کے معنی پر مبنی ہے ۔ ''الاعتصام'' نے بھی اپنی بحث اسی لفظ کے حوالے سے کی ہے، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ اس تمام بحث کو بار بار پڑھنے کے باوجود اس کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ ہمارے ہی بیان کردہ نکات کی تفصیل ہے۔

قارئین کی دل چسپی کے لیے دونوں مضامین کے چند نمائندہ جملے درج ذیل ہیں:

ہم نے لکھا ہے:

'' 'کوبہ' کا معنی طبل بیان کیا جاتا ہے۔''(اشراق مارچ۲۰۰۴،۸۸)

''الاعتصام'' کا بیان ہے:

''الکوبہ کی تعبیر راویان حدیث طبل سے کرتے ہیں۔''(۲۱؍۵۷:۱۳)

ہم نے ''لسان العرب'' کے حوالے سے نقل کیا ہے:

''کوبہ کے معنی طبل اور نرد کے ہیں۔'' (اشراق مارچ۲۰۰۴،۸۹)

''الاعتصام'' میں تحریر ہے:

''علامہ خطابی فرماتے ہیں... الکوبہ کی تفسیر طبل سے کی گئی ہے، اور کہا گیا ہے کہ اس سے مراد نرد ہے... ''الکوبہ'' کی یہی تعبیر عموماً اہل لغت(بحوالہ لسان العرب، تاج، صحاح) نے کی ہے ۔اس میں طبل ،نرد، شطرنج، بربط، ڈگڈگی شامل ہے۔'' (۲۱؍۵۷:۱۳)

ہم نے بیان کیا ہے کہ مذکورہ روایت میں کوبہ کا لفظ چونکہ میسر(جوا) کے ساتھ متصل ہو کر آیا ہے، اس لیے زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہاں اس کے معنی طبل کے بجائے نرد کیے جائیں، کیونکہ نرد کا کھیل اس زمانے میں جوئے کے ساتھ خاص تھا۔

''الاعتصام'' کا کہنا ہے:

'' چلیے ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ''نرد'' جوئے کے طور پر کھیلا جاتا تھا، اس لیے ''میسر'' کے ساتھ ساتھ اس کی حرمت بیان ہوئی۔'' (۲۱؍۵۷:۱۴)

ہم نے لکھا ہے کہ کوبہ کے معنی نرد لینا اگرچہ زیادہ قرین قیاس ہے، لیکن اس امکان کی تردید نہیں کی جا سکتی کہ یہاں کوبہ سے مراد طبل ہو۔ یہ عین ممکن ہے کہ اس کے جوئے اور شراب کی مجالس کے ساتھ معروف ہونے کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت کا حکم ارشاد فرمایا ہو۔

اس پر'' الاعتصام'' نے لکھا ہے:

''جب یہ روایت ان کے ہاں مسلمہ ہے تو کوبہ، یعنی طبل کی حرمت کا اس میں ذکر ہے۔ اس لیے طبل کی حرمت کا انکار اور ''کوبہ'' سے صرف نرد مراد لینابہرنوع بے بنیاد ہے۔''(۲۱؍۵۷:۱۴)

بانسری کی حرمت

اس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت ، رقم۴۹۲۴ نقل کی تھی ۔ اس کے مطابق حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے (سر راہ) بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں رکھ لیں اور راستے سے دور ہو گئے ۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ نافع تمھیں کوئی آواز آ رہی ہے ؟ نافع نے نفی میں جواب دیا تو انھوں نے اپنے کانوں سے انگلیاں اٹھا لیں اور یہ بتایاکہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ تھے تو آپ نے بانسری کی آواز سن کر ایساہی کیاتھا۔

اس روایت کے بارے میں ہم نے اپنا نقطۂ نظر یہ بیان کیا تھا کہ یہ روایت محدثین کے نزدیک صحیح کے درجے کی ہے۔ اس میں حضرت عبداللہ بن عمر نے کسی موقع پرنبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل کا مشاہدہ نقل کیا ہے کہ آپ نے بانسری کی آواز سن کر کانوں میں انگلیاں رکھ لی تھیں، لیکن سیدنا ابن عمر نے نہ ازخودآپ کے عمل کی کوئی علت بیان کی ہے اور نہ حرمت یا شناعت کی نوعیت کا کوئی جملہ ہی آپ سے منسوب کیا ہے،لہٰذا اس روایت کی بنا پر آلات موسیقی کومکروہ قرار دینا یا ان کی حرمت یا شناعت کا یقینی حکم اخذ کرنا روایت کے اسلوب بیان اور الفاظ سے تجاوز ہے۔ جہاں تک کانوں میں انگلیاں رکھنے اور راستہ تبدیل کرنے کے اعمال کو اظہار نفرت و کراہت پر محمول کرنے کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ہم نے یہ عرض کیا تھا کہ یہ محض ایک توجیہ ہے جسے کسی یقینی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عمل کی متعددایسی توجیہات پیش کی جاسکتی ہیں جو مذکورہ توجیہ سے یکسر مختلف ہوں۔مثلاً یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری سے طبعی ناپسندیدگی کی وجہ سے ایسا کیا یا آواز اس قدر قریب سے آئی کہ آپ نے الجھن محسوس کی یا بجانے والے نے ایسی دھن بجائی جو مشرکانہ گیتوں کے حوالے سے معروف تھی یا آپ اس وقت اللہ کے ذکر میں مصروف تھے یا کسی بات پر غور فرما رہے تھے۔یہ اور اس نوعیت کی متنوع توجیہات اگر اس عمل سے قیاس کی جاسکتی ہیں تو ان میں سے کسی ایک قیاس پر اصرار کرنا اور اس کی بنا پر حرمت و کراہت کا حکم لگانا کسی طرح بھی موزوں نہیں ہے۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر تنقید کے لیے ''الاعتصام'' نے اپنی بحث کا آغاز اس روایت کی سند سے کیا ہے۔ اس ضمن میں انھوں نے متعددکتابوں کے حوالوں سے نہایت تفصیل کے ساتھ اس کی صحت کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ اہتمام اس کے باوجود ہے کہ ہم نے اسے صحیح روایت کے طور پر قبول کیا ہے اور اپنے مضمون میں صحیح روایات کے زیر عنوان نقل کیا ہے۔یہ اور اس نوعیت کے بعض دوسرے مقامات پرایسی مفصل توضیحات سے مقصودغالباً اس لیاقت کا اظہار ہے کہ وہ حدیث کی کتابوں سے مراجعت کرسکتے اور ان کی شروح کا مطالعہ کر سکتے ہیں۔اہل الاعتصام بے فکر رہیں، ہم انھیں یقین دلاتے ہیں کہ ہمیں ان کی اس صلاحیت کا پورا اعتراف ہے، بلاشبہ یہ صلاحیت کتب سے ابتدائی ممارست کے لیے بہت مفید ہوتی ہے ، لیکن ان کے مطالب تک رسائی، ان کا تجزیہ و تحلیل اور ان سے اصول و فروع اور احکام و علل کا استنباط، ظاہر ہے کہ ایک بالکل مختلف نوعیت کی چیز ہے ۔ اس کے لیے جو تفحص، جو وسعت نظری اور جو مجتہدانہ بصیرت درکار ہوتی ہے، اہل الاعتصام اور ان کے ہم قبیل چونکہ اسے لائق اعتنا ہی نہیں سمجھتے، اس لیے ان سے اس کا تقاضا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ البتہ، یہ خیال کبھی کبھی آتا ہے کہ اخلاقیات علم کی وہ میراث ہم نے گنوا دی ہے جو اپنے اسلاف سے پائی تھی اور یہ شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ:

ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا

بات دور نکل گئی ،بہرحال ہمارے اصل استدلال پر ''الاعتصام ''کی تنقید ملاحظہ کیجیے:

''اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین کی اطاعت کا حکم ہی نہیں دیا ، آپ کی اتباع اور تابع داری کا بھی حکم فرمایا ہے۔ بلکہ آپ کے طرز عمل کو ''اسوۂ حسنہ'' قرار دیا ہے ، اور اسی کی پیروی میں حضرت عبداللہ بن عمر نے محض بانسری کی آواز سننے پراپنے کان بند کر لیے... بلا شبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے صرف مشاہدہ ہی نقل کیا۔ آپ نے قولاً اس کی شناعت بیان کی ہوتی تو یقیناً وہ اسے بھی بیان کرتے۔ وہ چوں کہ سچے متبع تھے، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسے دیکھا اسی طرح کر کے دکھایا، مگر غامدی صاحب کی طبیعت اس قدر اتباع کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے مختلف احتمالات سے جان کی امان چاہتے ہیں۔ فرق بس اتنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عبداللہ بن عمر نے تو اتفاقاً چرواہے کی کان پڑی آواز پر اپنی نفرت اور کراہت کا اظہار فرمایا۔ چہ جائیکہ اسے ماہر فن سے بڑے اہتمام سے سنا جائے۔ اس لیے جس کا بلا ارادہ سننا مکروہ ہے اس کا قصداًسننا اور مختلف سروں سے سن سنا کر سر دھننا حرام کیوں نہیں؟... یہاں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بانسری کی آواز پر کانوں میں انگلیاں ہی نہیں ڈالیں، بلکہ آپ جس راستے پر چلے جا رہے تھے اس راستے کو چھوڑ دیا اور اس سے الگ راستہ اختیار کیا۔ قابل غور یہ بات ہے کہ کانوں کو بند کر لینے کے باوجود آپ نے اور پھر آپ کی تابع داری میں حضرت عبداللہ بن عمر نے وہ راستہ کیوں چھوڑا؟غامدی صاحب اگر اس نکتے ہی پر غور کر لیتے تو ان احتمالات کی کم زوری ان پر واضح ہو جاتی، جن کا انھوں نے ذکر کیا ہے۔'' (۲۳؍۵۷:۱۱،۱۲)

ان کی اس تقریر دل پذیر کے باوجود ہمارایہ اصل استدلال جوں کا توں قائم ہے کہ روایت کے اندر آلۂ موسیقی بانسری کی حرمت یا شناعت کی کوئی تصریح نہیں ہے اور فقط کانوں میں انگلیاں رکھنے کے عمل کی بنا پر نفرت و کراہت کا حتمی فیصلہ ہر گز نہیں کیا جا سکتا۔

انھوں نے بیان کیا ہے کہ سیدنا ابن عمر نے درحقیقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ہے ،چنانچہ جو انھوں نے دیکھا ، اس پر ہو بہو عمل کیا ۔ اگر ''الاعتصام'' کے اسی استدلال کواصل اصول مان لیا جائے تب بھی اس سے بانسری کی حرمت، شناعت یا کراہت کا نتیجہ ہر گز نہیں نکلتا۔ اتباع کے اس اصول کو اگر بعینہٖ اختیار کیا جائے تو اس سے جو حکم مستنبط ہو گا، وہ یہ ہے کہ راستے میں جاتے ہوئے اگر بانسری کی آواز سنائی دے تو کانوں میں انگلیاں رکھ لینی چاہییں اور راستہ تبدیل کر لینا چاہیے۔ یہ ضروری ہے کہ اس موقع پر کوئی شخص آپ کے ہم راہ ہو جس سے آپ یہ معلوم کر سکیں کہ آیا بانسری کی آواز آ رہی ہے یا نہیں۔ اس کا التزام بھی ہونا چاہیے کہ وہ آدمی سن بلوغ کو نہ پہنچا ہوا ہو ورنہ وہ خود کانوں میں انگلیاں رکھنے کامکلف ہو جائے گا اور آپ اس سے بانسری کی آواز سنتے رہنے اور اس کے بند ہو جانے سے آگاہ کرنے کی خدمت نہیں لے سکیں گے۔

جہاں تک ''الاعتصام'' کی اس بات کا تعلق ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر سچے متبع تھے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جیسا کرتے دیکھا، اسی طرح کر کے دکھایا، تو اس بارے میں واضح رہنا چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کی ان کے ظاہر کے لحاظ سے بعینہٖ پیروی سیدنا ابن عمر کا خاص مزاج ہے۔ چنانچہ ان کی مرویات سے علما وفقہا اس مزاج کی رعایت کرتے ہوئے احکام کا استنباط کرتے ہیں۔ بخاری ، رقم ۱۶۱میں بیان ہواہے کہ ابن جریج نے عبداللہ ابن عمر سے پوچھا کہ میں آپ کو دیکھتا ہوں کہ آپ دباغت کی ہوئی کھال کے چپل پہننے اور زرد رنگ استعمال کرنے کا اہتمام کرتے ہیں، لیکن صحابہ میں سے اور کسی کو میں نے ایساکرتے نہیں دیکھا۔ انھوں نے اس کے جواب میں کہاکہ یہ دونوں کام رسول اللہ کرتے تھے، اس لیے میں بھی انھیں پسند کرتا ہوں۔اسی طرح حضرت ابن عمر کے بارے میں ثابت ہے کہ وہ سفر میں اہتمام کے ساتھ ان مقامات پر نماز ادا کیا کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اتفاقاً نماز ادا کی تھی۔ ایک جگہ انھوں نے پانی بہایا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں پانی بہایا تھا۔ایسا اہتمام دیگر اکابر صحابہ سے ثابت نہیں ہے۔ امام ابن تیمیہ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ابن عمر نے جو کیا، اس پر صحابہ میں سے کسی نے ان کی موافقت نہیں کی۔ چنانچہ خلفاے راشدین یا دوسرے مہاجر اور انصار صحابہ میں سے کسی سے منقول نہیں کہ وہ ان مقامات پر نماز پڑھنے کی کوشش کرتے تھے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے۔ صحیح طریقہ جمہور صحابہ ہی کا ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کا مطلب آپ کے حکم کو ماننا ہے یا آپ کے فعل کی بایں طور پیروی کرنا ہے کہ وہ کام جو آپ نے کیا، اسی نوعیت کے ساتھ کیا جائے جس کے ساتھ آپ نے کیا۔ پس اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جگہ پر قصداً عبادت کی ہے تو وہاں قصداً عبادت کرنا آپ کی اتباع ہوگی، جیسا کہ مختلف مقدس جگہوں یا مساجد میں عبادت کرنا۔ لیکن اگر آپ اتفاقاً کسی جگہ پر ٹھہرے ہوں ،اس وجہ سے کہ اتفاقاً وہ وقت نماز کا تھا یا کوئی اور وجہ تھی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ آپ نے اہتمام سے اس جگہ رکنے کا قصد نہیں کیا تھا تو اگر ہم اس جگہ اہتمام سے عبادت کرنے کی کوشش کریں گے تو یہ آپ کی اتباع نہ ہوگی، کیونکہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے۔''(اقتضاء۳۸۷)

گانے کی احمقانہ آواز سے ممانعت

اس عنوان کے تحت ہم نے المستدرک علی الصحیحین کی روایت رقم ۶۸۲۵ نقل کی تھی۔ اس میں حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بیان کیا ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزندحضرت ابراہیم نے آپ کی گود میں وفات پائی تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ اس موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سوال کیا کہ آپ نے تو رونے سے منع فرمایا ہوا ہے۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ میں نے رونے سے نہیں، بلکہ دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا ہے: ایک خوشی کے موقع پر لہو و لعب اور شیطان کے باجوں کی آواز اور دوسری مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے ، گریبان چاک کرنے کی آواز۔

اس روایت کے بارے میں ہم نے جو نقطۂ نظر اپنے مضمون میں پیش کیا تھا، اس کا خلاصہ یہ ہے:

اولاً، اس روایت کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے، چنانچہ یہ روایت اصلاً لائق استدلال نہیں ہے۔

ثانیاً، اس کا وہ طریق قرین قیاس ہے جو ترمذی میں نقل ہوا ہے اور جسے علامہ ناصر الدین البانی نے حسن کے طور پر قبول کیا ہے۔ اس میں مصیبت کے وقت چہرہ پیٹنے، گریبان پھاڑنے اور شیطان کی طرح چیخنے کاذکر تو موجود ہے، مگر غنا یا لہو و لعب کا ذکر کسی پہلو سے نہیں ہے۔ اس طریق کو قرین قیاس سمجھنے کا سبب یہ ہے کہ یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آوازوں کے حسن و قبح کے بارے میں کسی مجرد سوال کا جواب نہیں دیا، بلکہ بیٹے کی وفات کے موقع پر اپنے رونے کی وضاحت فرمائی ہے۔ چنانچہ دیکھیے عبدالرحمن بن عوف کا سوال ہی یہ ہے کہ آپ کیوں رو رہے ہیں، جبکہ آپ نے ایسے موقعوں پر رونے سے منع فرمایا ہے؟ اس کے جواب میں آپ نے یہ توضیح فرمائی ہے کہ میں نے آنسو بہانے سے نہیں روکا، یہ تو فطری امر ہے۔ میں نے تو جسم پیٹنے اورچیخنے چلانے سے منع کیا ہے۔ روایت کو اس زاویے سے سمجھا جائے تو اس سیاق و سباق میں گانے بجانے کا ذکر بالکل بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' کے اعتراضات کا خلاصہ حسب ذیل ہے:

مستدرک اور ترمذی میں درج دونوں روایتوں میں مشترک طور پر ایک ہی راوی عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ ضعیف ہے۔ اس اشتراک کے باوجود مستدرک کی روایت کوتولائق استدلال نہیں سمجھا گیاجس میں لہو و لعب اور مزامیر شیطان کے الفاظ نقل ہوئے ہیں ،مگر ترمذی کی روایت کو قابل اعتنا قرار دیا گیا ہے جس میں یہ الفاظ مذکور نہیں ہیں۔ یہ صریح بددیانتی ہے۔ ترمذی نے یہ روایت بیان کرتے ہوئے صاف طور پر لکھا ہے: وفی الحدیث کلام اکثر من ھذا۔ ''حدیث میں اس سے زیادہ کلام ہے۔'' دیگر مراجع مثلاً بیہقی کی روایت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ترمذی کے ان الفاظ: 'صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب ورنۃ شیطان' کا مصداق دو آوازیں نہیں، بلکہ ایک ہی آواز ہے۔ مزید براں ، ان کے مصداق کو اگر الگ الگ کرنا ہی ہے تو پھر دو نہیں، بلکہ تین آوازیں بنتی ہیں۔ یعنی 'خمش وجوہ، شق جیوب، رنۃ الشیطان'۔اس موضوع پر مستدرک، ترمذی اور بیہقی وغیرہ کی روایتیں اگر چہ ضعیف ہیں، مگر مسند امام بزار میں یہی روایت حضرت انس بن مالک سے مروی ہے اور مجموعی طور پر صحیح ہے۔اس کے الفاظ یہ ہیں:''دو آوازیں ایسی ہیں جو دنیا و آخرت میں ملعون ہیں: ایک نعمت کے وقت مزمار اور دوسری مصیبت کے وقت چیخنے چلانے کی آواز۔''

اس روایت کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''خوشی، غمی میں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث بنے۔ نبی محض دانش ور نہیں بلکہ مبلغ بھی ہوتا ہے اور کامل راہ نمائی کرتا ہے، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غمی کے موقع پر راہ نمائیفرماتے ہوئے خوشی کے لمحات میں در آنے والی مصیبت سے خبردار فرمایا ہے تو یہ آپ کے منصب کے عین مطابق ہے۔''(الاعتصام۲۱؍۵۷:۱۲)

پہلی بات یہ ہے کہ اہل الاعتصام کے نزدیک اگر مستدرک کی زیر بحث روایت کے ساتھ ساتھ ترمذی کی مذکورہ روایت بھی ضعیف ہے تو پھر تو انھوں نے اصلاًہماری ہی بات کی تائید کی ہے ، کیونکہ ہم نے ان روایتوں کو ضعیف روایات ہی کے زیر عنوان درج کیا ہے اور موسیقی کے بارے میں ان سے کسی حکم کا استنباط نہیں کیا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ترمذی کی مذکورہ روایت کو اگر ہم نے لائق اعتنا سمجھا ہے تو اس کاسبب یہ نہیں کہ اس میں غنا کا ذکر نہیں ہے، بلکہ یہ ہے کہ علامہ ناصر الدین البانی نے اسے اپنی ''صحیح سنن الترمذی'' میں نقل کیا ہے اور اسے حسن کے زمرے میں شامل کیا ہے۔آپ علامہ البانی کی تحقیق سے اپنا اختلاف بیان کیجیے، ہم اگر قائل ہو گئے تو اس کو ضرور قبول کریں گے۔اس طرح آپ کا یہ کام ہمارے نقطۂ نظر کی تائید ہی کے زمرے میں شمار ہو گا۔ تاہم، جہاں تک اس تنقید کا تعلق ہے کہ ترمذی کی روایت میں لفظ 'صوتان' (دو آوازیں) کا مصداق فقط 'صوت عند مصیبۃ خمش وجوہ وشق جیوب ورنۃ شیطان'کے الفاظ کو قرار نہیں دیا جا سکتا، تو یہ بالکل بجا ہے۔ بلا شبہ یہاں ایک ہی آواز مراد لینا درست ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ روایت کی تاویل کے حوالے سے ہمارا اصل استدلال روایت پر نہیں، بلکہ درایت پر مبنی ہے۔ہمارے نزدیک سیاق و سباق کی روشنی میں یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فقط نوحہ خوانی ہی پر تبصرہ فرمایا ہو گا۔یہ بات ہم نے قرین قیاس کے الفاظ ہی کے ساتھ بیان کی تھی، اس سے واضح ہے کہ ہم اسے حتمی نہیں سمجھتے اور اس سے مختلف رائے کی صحت کا امکان تسلیم کرتے ہیں۔

چوتھی بات یہ ہے کہ جہاں تک مسند امام بزار کی اس روایت کاتعلق ہے جس میں یہ بیان ہوا ہے کہ نعمت یا خوشی کے موقع پر مزمار کی آواز ملعون ہے، اس سے اگرخوشی کے موقع پر موسیقی یا آلات موسیقی کی حرمت کا مفہوم اخذ کیا جائے تو ان روایتوں کی نفی ہوتی ہے جو عید، شادی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد جیسے خوشی کے مواقع پر موسیقی اور آلات موسیقی کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور کامل صحت کے ساتھ حدیث کی کم و بیش تمام کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔ ان کے مقابلے میں امام بزار کی مذکورہ روایت پر توقف کرنا زیادہ قرین حقیقت معلوم ہوتا ہے۔ اس ضمن میں یہ بھی واضح رہے کہ اس حدیث کے بارے میں خود امام بزار کا قول ہے کہ ' لا نعلمہ عن انس الا بھذا الاسناد' یعنی ہم حضرت انس کی اس روایت کو اس سند کے سوا کہیں اور نہیں پاتے۔

سازوں کا عام ہونا اورمصائب کا نزول

اس عنوان کے تحت ہم نے ترمذی کی روایت ، رقم ۲۲۱۰ نقل کی ہے۔ اس میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میری امت میں پندرہ خصلتیں پیدا ہوں گی تو اس پر مصیبتیں نازل ہوں گی ۔سوال کیا گیا : یا رسول اللہ، یہ کون کون سی خصلتیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب ... شرابیں پی جائیں گی، ریشمی لباس پہنے جائیں گے،اور مغنیات اور ساز عام ہو جائیں گے اور آخری زمانے کے امتی پہلے زمانے کے امتیوں پر لعنت کریں گے۔ پس منتظر رہو اس وقت سرخ ہوا کے یا زمین میں دھنسنے کے اور شکلیں بگڑنے کے۔

اس روایت کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا:

اولاً،اس روایت کو ترمذی نے غریب قرار دیا ہے۔ ابن حزم کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے اور ناصر الدین البانی کی تحقیق کے مطابق بھی یہ ضعیف روایت ہے۔

ثانیاً، یہ روایت اسی مضمون کی حامل ہے جو بخاری، رقم۵۲۶۸ میں بیان ہوا ہے ۔ اور جسے ہم نے صحیح روایات کے زیر عنوان نقل کیا ہے۔ چنانچہ بخاری کی روایت کی روشنی میں اس کے معنی بھی یہی ہوں گے کہ آلا ت موسیقی اگر شراب نوشی اور دیگررذائل اخلاق کے ساتھ منسلک ہو جائیں تو ان کی شناعت مسلم ہے۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' کے تبصرے کا خلاصہ یہ ہے کہ بلا شبہ ترمذی کی یہ روایت ضعیف ہے۔ علامہ ابن حزم نے اس روایت کی جس سند کو ضعیف قرار دیا ہے ، وہ ترمذی کی نہیں، بلکہ ان کی اپنی سند ہے۔ چنانچہ ابن حزم کی تنقیدکی بنا پر ترمذی کی سند کو ضعیف قرار دینا درست نہیں ہے۔ علامہ البانی ترمذی کی مکمل روایت کو تو ضعیف قرار دیتے ہیں، مگر ترمذی کے اس حصے کو شواہد کی بنا پر صحیح قرار دیتے ہیں۔

اس تلخیص سے واضح ہے کہ ''الاعتصام'' نے اس روایت کے ضعیف ہونے سے اصلاً اتفاق کیا ہے۔ چنانچہ یہ لائق استدلال نہیں ہے۔

گانے سے نفاق کی نشو و نما

اس عنوان کے تحت ہم نے ابوداؤد کی روایت، رقم ۴۹۲۷ نقل کی تھی۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ گانا دل میں نفاق کو پروان چڑھاتا ہے۔

اس روایت کے بارے میں ہم نے بیان کیا تھا کہ محدثین نے اس روایت کو ضعیف قرار دیا ہے، اس لیے اس کے الفاظ کو نہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب قرار دیا جا سکتا اور نہ اسے کسی حکم کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔

''الاعتصام'' نے اس روایت کے ضعیف ہونے سے اتفاق کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:

''سنداً یہ روایت کم زور ہے کیونکہ سلام بن مسکین اسے ''عن شیخ'' کے لفظ سے بیان کرتے ہیں اور وہ مبہم ہے ، اس لیے مجہول ہے۔ '' (۲۳؍۵۷:۱۲)

تاہم انھوں نے اسے عبداللہ بن مسعود کے قول کے طور پر پیش کیا ہے ۔اس ضمن میں ہماری گزارش یہ ہے کہ اس کی سند اگر صحیح ہو تب بھی یہ موقوف روایت ہے اور حدیث نہیں، بلکہ اثر ہے۔ چنانچہ اسے دین کے کسی قطعی حکم کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔مزید براں اس کے الفاظ بھی حرمت کے مفہوم میں صریح نہیں ہیں۔

اس بحث کے ساتھ ''الاعتصام'' کی تنقید پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اس تنقید کا مجموعی طور پر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ نصوص پر بحث کے ساتھ ساتھ قارئین کو یہ دو باتیں باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے :

اولاً، ''اسلام اور موسیقی'' کے زیر عنوان ہمارا مضمون ایسی موسیقی کی حمایت کرتا ہے جو سفلی جذبات کی ترویج کا باعث بنتی ہے۔

ثانیاً، اس میں جمہور علماے امت کی رائے کے علی الرغم بالکل منفرد رائے پیش کی ہے۔

پہلی بات کے بارے میں قارئین پر یہ واضح رہنا چاہیے کہ ہمارے مضمون میں جابجا یہ مذکور ہے کہ اسلام کی رو سے موسیقی کا ہر وہ مظہر شنیع قرار پائے گا جو منکرات و فواحش سے ادنیٰ علاقہ بھی رکھتا ہو۔دوسری بات کے حوالے سے

گزارش یہ ہے کہ موسیقی اور آلات موسیقی کی اباحت کے بارے میں ہم نے کوئی نئی رائے پیش نہیں کی ہے، پہلے بھی متعدد جلیل القدر علما اس کے قائل رہے ہیں اور موجودہ زمانے میں بھی اس نقطۂ نظر کے حاملین موجود ہیں۔ خاتمۂ کلام کے طور پر چند اقتباس پیش خدمت ہیں:

امام غزالی لکھتے ہیں:

''واضح رہے کہ سماع (موسیقی) کو حرام قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ (یہ ایک گناہ ہے اور) اللہ تعالیٰ اس پر مواخذہ فرمائیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ بات محض عقل کی بنیاد پر نہیں کہی جا سکتی۔ بلکہ اس کا تعلق سمع یعنی نقل سے ہے۔ شرعی احکام نص پر مبنی ہوتے ہیں یا انھیں نص پر قیاس کیا جاتا ہے۔ نص سے مراد وہ بات ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول یا فعل سے صریح طور پر معلوم ہو اور قیاس سے مراد وہ بات ہے جو آپ کے قول یا فعل سے مفہوم ہو۔ چنانچہ اگر سماع (کی حرمت) کے بارے میں نہ کوئی نص ہے اور نہ کسی نص پر اسے قیاس کیا جا سکتا ہے تو سماع (موسیقی) کے حرام ہونے کا دعویٰ ہی باطل ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں اس کی نوعیت دوسرے مباحات کی طرح ایک ایسے مباح کی ہے جس میں کوئی مضایقہ نہ ہو۔ سماع کی حرمت کے بارے میں نہ کوئی نص موجود ہے اور نہ کوئی قیاس ہے۔'' (احیاء علوم الدین ۲/۲۷۰)

مولانا ابو الکلام آزاد کا نقطۂ نظر یہ ہے:

''اس بات کی عام طور پر شہرت ہو گئی ہے کہ اسلام کادینی مزاج فنون لطیفہ کے خلاف ہے، اور موسیقی محرمات شرعیہ میں داخل ہے، حال آنکہ اس کی اصلیت اس سے زیادہ کچھ نہیں کہ فقہا نے

سدوسائل کے خیال سے اس بارے میں تشدد کیا؛ اور یہ تشدد بھی باب قضا سے تھا، نہ کہ باب تشریع سے۔ قضا کا میدان نہایت وسیع ہے؛ ہر چیز جو سوء استعمال سے کسی مفسدہ کا وسیلہ بن جائے، قضاءً روکی جاسکتی ہے؛ لیکن اس سے تشریع کا حکم اصلی اپنی جگہ سے نہیں ہل جاسکتا۔'' (غبار خاطر/۸۳ ۲)

علامہ یوسف القرضاوی نے اس موضوع پر ایک مفصل مقالے میں یہ بیان کیا ہے:

''علما ء اسلام نے ایک اصول طے کیا ہے کہ چیزوں کی اصل اباحت ہے یعنی اس کا جائز ہونا ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں۔ (البقرہ: ۲۹)

اور کوئی چیز اس وقت تک حرام نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس سلسلہ میں کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ سے کوئی صحیح اور صریح دلیل نہ وارد ہوئی ہو یا اجماع نہ ثابت ہو۔ اس لیے جب تک کوئی دلیل وارد نہ ہو یا اجماع ثابت نہ ہو یا کوئی نص صریح ہو لیکن صحیح نہ ہو یا صحیح ہو صریح نہ ہو اس وقت تک کوئی چیز حرام نہیں ہو سکتی اور چیزوں کی حلت پر اثر انداز بھی نہیں ہو سکتی بلکہ وہ چیز وسیع دائرۂ عفو میں داخل رہے گی۔...گانے کو حرام قرار دینے والوں نے جو دلائل پیش کیے ہیں وہ صحیح ہیں تو صریح نہیں یا صریح ہیں تو صحیح نہیں ، اور ایک بھی ایسی مرفوع حدیث اللہ کے رسول سے مروی نہیں جو حرمت پر دلالت کرتی ہو اور اوپر مذکورہ تمام حدیثوں کو ظاہریہ، مالکیہ، حنابلہ اور شوافع کی ایک معتدبہ تعداد نے ضعیف قرار دیا ہے۔''(ماہنامہ زندگی نو، انڈیا، نومبر۲۰۰۵ :۲۷،۳۶)