’’اسلام اور موسیقی‘‘ (1) (حصہ دوم)


فن موسیقی

اس عنوان کے تحت ہم نے جو روایت نقل کی تھی، اس میں بیان ہوا ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ آپ نے سیدہ عائشہ سے فرمایاکہ کیا تم اس عورت کوجانتی ہو؟ سیدہ نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ یہ فلاں قبیلے کی قینہ (مغنیہ) ہے ، کیا تم اس کا گانا پسند کرو گی ؟ اور پھر اس نے سیدہ کوگاناسنایا۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سے یہ بات واضح ہو تی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فن موسیقی کو اصلاً باطل نہیں سمجھتے تھے۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ اس ماہر فن مغنیہ کو ٹوک دیتے یا کم سے کم سیدہ کو اس کا گانا ہرگز نہ سننے دیتے۔ یہ بات مسلم ہے کہ حبشہ کے غلام اور لونڈیاں رقص و موسیقی کے فنون میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ اکثر عربوں کی تقریبات میں شریک ہوتے رہتے تھے۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ انھی میں سے بعض نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور آپ نے اس پر نکیر نہیں فرمائی۔

مذکورہ روایت کے تحت جو حوالہ ہم نے نقل کیا ہے، وہ سنن البیہقی الکبریٰ، رقم ۸۹۶۰ ہے۔ یہ درحقیقت السنن الکبریٰ للنسائی، رقم ۸۹۶۰ ہے ۔ پروف کی غلطی سے نسائی کے بجائے بیہقی لکھا گیا ہے۔ ''الاعتصام ''نے اس جانب متوجہ کرنے کے لیے' 'غلط حوالہ'' کے عنوان سے جلی سرخی قائم کی ہے اور اس کے تحت ایک نوٹ میں اپنے خاص انداز سے اس کی نشان دہی کی ہے۔ اس طرح کی پروف اور تدوین کی غلطیاں معتد بہ تعداد میں خود ''الاعتصام'' کے مضمون میں بھی موجود ہیں اور جواب آں غزل کے طور پر 'غلط حوالہ' ، 'غلط ترجمہ'، 'غلط اعراب'، 'غلط املا' ، 'غلط محاورہ'اور' غلط اوقاف ' کے عنوانات قائم کر کے ان کی نشان دہی بھی کی جا سکتی ہے، مگر ظاہر ہے کہ یہ طریق مکالمے اور علمی تبادلۂ خیال کی فضا کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے ہم اس سے قطع نظر کرتے ہوئے اس نشان دہی پر ''الاعتصام ''کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔آیندہ اشاعت میں ان شا اللہ اس کی تصحیح ہو جائے گی۔

اس روایت سے ہمارے استدلال پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''ہم علامہ الزمخشری ، علامہ الجوہری رحمہم اللہ وغیرہ کے حوالے سے ذکر کر آئے ہیں کہ ''قینۃ'' دراصل لونڈی کو کہتے ہیں، ماہر فن اور پیشہ ور مغنیہ کو نہیں۔ لہٰذا جب وہ ''پیشہ ور'' تھی ہی نہیں، لونڈی تھی، اس کے گانے کا انداز ''ماہر فن مغنیہ'' کا نہیں، اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا تھا، چنانچہ اس نے وہ اشعار پڑھے۔سیدہ عائشہ نے وہ اشعار سنے۔''(۱۱؍۵۷ :۱۷

قینہ کے مفہوم اور اطلاق کی بحث تو گزشتہ صفحات میں فیصل ہو چکی ہے، تاہم ''الاعتصام'' کے اس نوٹ پر کہ '' اس کے گانے کا انداز ماہر فن مغنیہ کا نہیں، اونچی آواز سے شعر پڑھنے کا تھا، چنانچہ اس نے وہ اشعار پڑھے۔سیدہ عائشہ نے وہ اشعار سنے،'' چند سوال پیدا ہوتے ہیں۔

پہلا سوال یہ ہے کہ یہ اطلاع کہاں سے ملی ہے کہ اس قینہ کا انداز اونچی آواز میں شعر پڑھنے کا تھا؟ مذکورہ روایت میں توایسا کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا جس کا معنی 'شعر' یا 'اونچی آواز ' کیا جا سکے؟ اس کے الفاظ تو فقط یہ ہیں: تحبین ان تغنیک؟ فغنتھا۔(کیا تم اس کا غنا سننا چاہو گی؟ چنانچہ اس نے انھیں غنا سنایا)گویا یہاں فقط غنا کا فعل استعمال ہوا جس کے معلوم اور معروف معنی گانا گانے کے ہیں۔ اسی سے مغنی اور مغنیہ بنا ہے جس کے معنی گلوکار اور گلوکارہ کے ہیں۔ چنانچہ وہ کون سی داخلی یا خارجی دلیل ہے جس کی بنا پر یہ تحقیق پیش کی گئی ہے؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ شعر اور آواز کے بلند آہنگ کو آپ نے غنا کے مصداق سے الگ کیسے کر لیا ہے۔ ناشناسی کی اگر یہی نوعیت ہے توکسی راہ چلتے سے معلوم کر لیجیے ، وہ بادنیٰ تامل بتا دے گا کہ اشعار کو آواز کے زیرو بم کے ساتھ پڑھنا غنا ہی تو ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ آپ کی دانست میں جب قینہ کے معنی گانے والی کے نہیں ، بلکہ عام لونڈی کے ہیں اور اس نے اونچی آواز سے شعر پڑھنے ہی پر اکتفا کی ہے تو پھر آپ کے قلم سے ''اس کے گانے کا انداز''کے الفاظ کیوں نکل گئے ہیں؟ آپ نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ ''اس کے کہنے کا انداز'' یا ''اس کے پڑھنے کا انداز''؟ کہیں معاملہ وہی تو نہیں ہے کہ:

کوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چھپائے نہ بنے

تنقید کو آگے بڑھاتے ہوئے ''الاعتصام'' نے لکھا ہے:

''السنن الکبریٰ للنسائی میں حضرت سائب کی یہ روایت تو انھیں نظر آگئی مگر مسند امام احمد اور المعجم الکبیر لطبرانی میں حضرت سائب کی یہ روایت نظر نہ آئی، جس میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جب وہ لونڈی گانے لگی

''فقال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم:((قد نفخ الشیطان فی منخریھا))''تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''شیطان نے اس کے نتھنوں میں پھونک ماری ہے۔'' یہی روایت علامہ ہیثمی نے مجمع الزوائد (ج:۷، ص۱۳۰) میں بھی ذکر کی اور فرمایا: ''رواہ احمد والطبرانی ورجال احمد رجال الصحیح'' ''اسے امام احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے اور مسند احمد کے راوی الصحیح کے راوی ہیں... جس سے یہ بات نصف النہار کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لونڈی کے گانے پر نفرت اور ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایاکہ ''اس کے نتھنوں میں شیطان پھونک لگاتا ہے۔'' مگر افسوس اہل اشراق بڑی سادگی بلکہ عیاری سے مکمل روایت سے آنکھیں بند کر کے یہ باور کرانے کے درپے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گانے پر کراہت کا اظہار نہیں فرمایا... شیطان کے ساتھ اس کی تشبیہ اس کی کراہت کی بین دلیل ہے ، مگر افسوس وہ تو اہل اشراق کو نظر ہی نہیں آتی۔''(۱۱؍۵۷:۱۷)

اس عبارت کوپڑھ کر ہم اہل الاعتصام سے التجا کرتے ہیں کہ اپنے مزعومہ تصورات کے اثبات کے لیے علم بھینٹ چڑھتا ہے تو چڑھا دیجیے، حق کا کتمان ہوتا ہے تو کر دیجیے، اخلاقیات کی دھجیاں بکھرتی ہیں تو بکھیر دیجیے، مگر خدا کے لیے کم سے کم پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے معاملے میں بہت احتیاط سے کام لیجیے ۔اس معاملے میں ہمارا اور آپ کارویہ یہ ہونا چاہیے کہ زبان کٹ جائے، قلم ٹوٹ جائے، مگر ایک لفظ بھی ایسا نہ نکلے جو اس عظیم المرتبت کی شان سے فروتر ہو۔ اس لیے کہ اسی کی ذات والا صفات ہے جس پر دین کا مدار ہے اور اسی کی ہستی ہے جس کا قول و عمل دین کا منبع و ماخذ ہے۔ دیکھیے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف میں سے وہ وصف جسے آپ کی اتباع نہ کرنے والوں نے بھی تسلیم کیا ہے ، آپ کے قول و فعل میں کامل ہم آہنگی ہے ۔آپ نے جو کچھ کہا ، آپ کا عمل ہمیشہ اس کے عین مطابق رہا اور جو کچھ آپ نے کیا ، اس کے برعکس کوئی ایک قول بھی مورخین دریافت نہیں کر سکے۔ چنانچہ یہ کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ غنا کو آپ شیطان سے منسوب قرار دیں اور اس بنا پر اسے ناپسندیدہ اور لائق نفرت سمجھیں اور پھر یہی غنا اپنی زوجۂ محترمہ کو سنوائیں یازوجۂ محترمہ کو غنا سنوانے کے بعد آپ اسے باطل اور شیطانی عمل قرار دیں۔ ایسے تضاد فکر و عمل کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نسبت کاتصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں آپ کے دینی اخلاص پر اطمینان اور رسول اللہ کے ساتھ آپ کی محبت پر یقین ہے، مگر غور کیجیے، یہاں آپ سے کیا صادرہوا ہے۔ آپ کی درج بالا تعبیر کو اگر مان لیا جائے تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمل کی اجازت دی اورمعاً بعد اسی کے خلاف قول صادر فرما دیا۔ معاذ اللہ

ہماری رائے یہ ہے کہ اگر 'قد نفخ الشیطان فی منخریھا' کو روایت کا جز قرار دینا ہے اور اس سے وہی مراد لینا ہے جسے ''الاعتصام ''نے بیان کیا ہے توپھر یہ زیادہ بہتر ہے کہ اس روایت کو رد کر دیا جائے تاکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسی بات منسوب نہ ہوجوادنیٰ درجے میں بھی تضاد بیانی کا تاثر دے۔ تاہم، ہمارے نزدیک اس کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جملے کا مفہوم وہ ہے ہی نہیں جو ''الاعتصام ''نے بیان کیا ہے۔ وہ تھوڑا سا تردد کر کے اگر لغت سے رجوع کرلیتے تو انھیں معلوم ہو جاتا کہ 'نفخ الشیطان فی منخریہ'یا 'نفخ الشیطان فی انفہ' اصل میں بیانیہ جملہ نہیں، بلکہ محاورہ ہے جو بالعموم کسی کے کمال کو بیان کرنے کے لیے بولا جاتا ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے اس حد تک تجاوز کیا جس حد تک جانا اس کے لیے مناسب نہ تھا۔

دیکھیے، تاج العروس میں ہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: یقال للمتطاول الی ما لیس لہ.(۲؍۲۸۳)

''یہ اس شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو اس حد تک پہنچ جائے جو حقیقت میں اس کے لیے نہ ہو۔''

اقرب الموارد میں بیان ہواہے:

نفخ الشیطان فی انفہ: تطاول الی ما لیس لہ.( ۲؍۱۳۲۶)

'' شیطان نے اس کے ناک میں پھونک ماری یعنی اس نے اپنے متعلق ایسی بڑھ چڑھ کر باتیں کہیں جو درحقیقت اس میں نہیں تھیں۔''

یہاں یہ بھی واضح رہے کہ عربی زبان کے استعمالات میں شیطان کا لفظ حرمت یا شناعت کے مفہوم میں صریح نہیں ہے۔ روایتوں میں اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کو شیطان کی نسبت سے بیان فرمایا ، مگر اس سے آپ کا مقصودانھیں حرام یا شنیع قرار دیناہر گز نہیں تھا۔ بخاری کی روایات، رقم ۳۰۴۶، ۳۰۴۹ میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 'التثاؤب من الشیطان' (جماہی شیطان کی طرف سے ہے)، 'الحلم من الشیطان' (خواب شیطان کی طرف سے ہے) ۔ اسی طرح ترمذی، رقم ۱۹۳۵میں ہے: 'العجلۃ من الشیطان' (جلد بازی شیطان کی طرف سے ہے)۔مسلم، رقم ۷۸۹ میں ہے:الکلب الاسود الشیطان '(کالا کتا شیطان ہوتا ہے)۔مسلم،رقم ۲۴۹۱ میں آپ کے یہ الفاظ بھی نقل ہوئے ہیں: ان المرأۃ تقبل صورۃ شیطان و تدبر فی صورۃ شیطان' (عورت شیطان کی صورت میں آتی اور شیطان کی صورت میں لوٹتی ہے)۔ترمذی ، رقم ۱۵۹۷میں ہے: الراکب شیطان والراکبان شیطانان(ایک سوار ایک شیطان ہے اور دو سوار دو شیطان ہیں)۔ ترمذی ہی کی ایک اور روایت، رقم ۲۶۷۲ میں آپ کے یہ الفاظ درج ہیں: العطاس والنعاس والتثاؤب فی الصلاۃ والحیض والقیء والرعاف من الشیطان (نماز میں چھینک اور جماہی اور حیض، قے اور نکسیر شیطان کی طرف سے ہے)۔

اس ساری بحث کے باوجود 'نفخ الشیطان فی منخریھا' کے حوالے سے ہماری رائے یہ ہے کہ یہ جملہ اگر سند کے اعتبار سے اس لائق ہے کہ اسے روایت کا حصہ تصور کیا جائے تو پھر بھی قرین قیاس یہی ہے کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کرنے کے بارے میں توقف کیا جائے۔ اس لیے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمومی ذوق کے خلاف محسوس ہوتی ہے کہ آپ غنا جیسی چیز کے بارے میں تحسین کا اسلوب اختیار کریں گے جو بہرحال اشتغال بالادنیٰ کے زمرے میں آتی ہے۔

رقص

ہم نے اپنے مضمون میں تین ایسی روایتیں نقل کی ہیں جن میں 'زفن' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔

مسلم کی روایت رقم ۸۹۲ میں سیدہ عائشہ کے الفاظ ہیں:

جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد فدعانی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فوضعت راسی علی منکبہ فجعلت انظر الی لعبھم .

''ایک مرتبہ عید کے روزحبشی مسجد میں رقص کا مظاہرہ کرنے لگے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نے آپ کے شانے پر سر رکھا اور ان کا کرتب دیکھنے لگی۔ ''

احمد بن حنبل، رقم ۱۲۵۶۲ میں حضرت انس سے روایت ہوا ہے:

کانت الحبشۃ یزفنون بین یدی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ویرقصون ویقولون: ''محمد عبد صالح''.

'' حبشہ کے لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ناچ رہے تھے اور یہ گا رہے تھے : محمدصالح انسان ہیں۔''

ترمذی، رقم۳۶۹۱ میں سیدہ عائشہ کے حوالے سے بیان ہوا ہے:

کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم جالسا فسمعنا لغطا وصوت صبیان فقام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاذا حبشیۃ تزفن والصبیان حولھا فقال یا عائشۃ تعالي فانظری.

''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم(ہمارے درمیان ) تشریف فرما تھے۔ یک بہ یک ہم نے بچوں کا شور سنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے ۔پھر( ہم نے دیکھا کہ) ایک حبشی عورت ناچ رہی تھی۔ بچے اس کے ارد گرد موجود تھے۔ آپ نے فرمایا : عائشہ ، آ کر دیکھو۔''

ان روایتوں میں ہم نے 'زفن' کے معنی ناچ اور رقص کے کیے ہیں اور اس بنا پر یہ استدلال کیا ہے کہ یہ فن بھی موسیقی کی طرح زمرۂ مباحات میں شامل ہے ۔ لہٰذا اس کی علی الاطلاق حرمت کا حکم صادر نہیں کیاجا سکتا۔ اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' کی تنقید حسب ذیل ہے:

''''زفن'' کے معنی رقص نہیں بلکہ رقص کی طرح اچھلنے اور پاؤں اوپر نیچے کرنے کے ہیں... حبشیوں کا ''زفن'' چلنے کی ایک قسم ہے جو لڑائی کی ابتدا میں چلی جاتی ہے۔ اس کے معنی اگر رقص بلکہ''ماہر فن رقاص'' کے ہیں تو پھر کہنا چاہیے کہ اس فن کا مظاہرہ مسجد میں ہونا چاہیے۔ مسجدیں اللہ تعالیٰ کے ذکر و عبادت اور تعلیم و تعلم کے لیے نہیں، بلکہ ماہرین فن رقص کے لیے بھی کھلی رہنی چاہییں۔ کیونکہ حضرت عائشہ ہی کی روایت میں ہے کہ''جاء حبش یزفنون فی یوم عید فی المسجد''الخ(مسلم ج:۱،ص:۲۹۲)'' حبشی لوگ عید کے روز مسجد میں'' رقص'' کر رہے تھے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا تو میں نے اپنا سر آپ علیہ الصلاۃ والسلام کے کندھے پر رکھا اور میں ان کے کھیل کی طرف دیکھنے لگی ۔'' ...اگر ''حبشیۃ تزفن'' سے ''ماہر فن رقاصہ'' مراد ہے ''حبش یزفنون'' کے معنی بھی ''ماہر فن رقاص'' ہونا چاہیے اور اس ''فن رقص'' کا مظاہرہ مسجد میں ہونا چاہیے اور انھیں معاذ اللہ ''Dancing club'' قرار دینا چاہیے ۔ '' (۱۱؍۵۷:۱۹)

جذبات کو انگیخت کرنے والی اس تقریرمیں ہمارے استدلال پر نقد کی اگر کوئی بات ہے تو وہ فقط یہ ہے کہ ''زفن کے معنی رقص نہیں ، بلکہ رقص کی طرح اچھلنے اور پاؤں اوپر نیچے کرنے کے ہیں''۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ کوئی شخص کہے کہ تناول کرنے کے معنی کھانے کے نہیں، بلکہ کوئی چیز منہ میں ڈال کرچبانے اور پھر نگل لینے کے ہیں ۔ بہرحال اس تنقید کی اساس چونکہ لفظ 'زفن' کا لغوی مفہوم ہے، اس لیے اس کی تردید کے لیے یہی کافی ہو گا کہ چند نمائندہ لغات کے حوالے یہاں درج کر دیے جائیں۔ ان حوالوں میں یہ بات قارئین کے لیے دلچسپی کا باعث ہو گی کہ ان میں سے بعض میں جہاں 'یزفنون' کا معنی 'یرقصون' کیا گیاہے ، وہاں حوالے کے طور پرسیدہ عائشہ کی درج بالا حدیث ہی نقل کی گئی ہے:

الزفن: الرقص،... ومنہ حدیث عائشۃ، رضی اللّٰہ عنہا: قدم وفد الحبشۃ فجعلوا یزفنون ویلعبون ای یرقصون.(لسان العرب۱۳؍ ۱۹۷)

'' زفن کے معنی رقص کے ہیں.... حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا وفد آیا تو وہ ناچنے اور کھیلنے لگ پڑے یعنی رقص کرنے لگ پڑے۔ ''

الزفن اللعب والدفع.ومنہ حدیث عائشۃ ، رضی اللّٰہ عنہا: قدم وفد الحبشۃ فجعلوا یزفنون ویلعبون ای یرقصون.(النہایہ، ابن اثیر ۲؍۳۰۵)

''زفن کا معنی کھیلنا اور دھکا دینا ہے۔ حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حبشہ کے لوگوں کا وفد آیا تو وہ ناچنے اور کھیلنے لگ پڑے یعنی رقص کرنے لگ پڑے۔''

الزفن: الرقص(الصحاح ۵؍۲۱۳۱)

''زفن کے معنی رقص کے ہیں۔''

زفن زفنا: رقص. و فلانا: دفعہ.(المعجم الوسیط ۱؍ ۳۹۵)

''زفن کے معنی ناچنے اور کسی کو دھکا دینے کے ہیں۔''

زفن: یزفن زفنا: رقص. ہ: دفعہ.

''زفن کے معنی ناچنے اور کسی کو دھکا دینے کے ہیں۔''(الرائد ۱/ ۷۷۷)

زفن : رقص.(المنجد ۳۰۱)

''زفن کے معنی ناچنا ہیں۔''

اس روایت کی بحث میں ہم نے بیان کیا تھا:

'' بعض دوسری روایتوں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجود تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ ''

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ''الاعتصام ''نے لکھا ہے:

''ہم ان کی اس جسارت پر اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں، الفاظ کی جادو گری اور مینا کاری سے انھوں نے جو اوراق سجائیں ہیں اور اپنی ذہنی عیاشی کو جواز بخشنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہرین فن کے غناء اور پیشہ ور رقاصاؤں کے رقص سے ''لطف اندوز''ہونے کا علی الاطلاق جو ثبوت انھوں نے پیش کیا، وہ ان کی اپنی کج بحثی بلکہ کج فہمی کا نتیجہ ہے۔'' (۱۱؍۵۷:۱۸)

مذکورہ جملے سے ہمارا مدعا ہر گز وہ نہیں ہے جسے ''الاعتصام'' نے اخذ کیا ہے۔ہمارے مدعا کے لحاظ سے اگر اس جملے کو پڑھا جائے تویہ اس طرح ہو گا:

'' ماہر فن مغنی اور مغنیات اور رقاص اور رقاصائیں عرب میں موجودتھیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم (لوگوں کے)ان کے فن سے لطف اندوز ہونے کو معیوب نہیں سمجھتے تھے۔ ''

یہاں یہ بات پوری طرح واضح رہنی چاہیے کہ ہم نے اپنے مضمون میں رقص وموسیقی یا دیگر فنون لطیفہ کی طرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذاتی میلان کا کوئی تاثر ظاہر نہیں کیا۔ ہمارے نزدیک یہ بات مسلم ہے کہ کھیل تماشے، شعرو شاعری اور مصوری وموسیقی جیسی چیزوں سے آپ کی ذات اقدس ہمیشہ بالا رہی ہے۔ روایتوں میں بعض فنون لطیفہ کا ذکر اگر آپ کی نسبت سے آیا بھی ہے تو ان سے فقط ان فنون کی اباحت معلوم ہوتی ہے، پسندیدگی اور اشتغال کا ادنیٰ درجے میں بھی کوئی تاثر نہیں ہوتا۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فنون لطیفہ من جملۂ مباحات ہیں اور الہامی شریعتوں نے انھیں کبھی ممنوع قرار نہیں دیا، مگر اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسالیب جب حد اعتدال سے متجاوز ہو جائیں تو یہی مباحات نمودونمایش، فخرواستکبار اور اشتغال بالادنیٰ کا مظہر بن جاتے اور انسان کو آخرت سے غافل کر کے دنیا پرستی کی طر ف راغب کردیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کے نبی ان میں مستغرق ہونے اور انھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے ایسی چیزوں کو اصلاً جائز قرار دیا، انھیں اوڑھنا بچھونا بنا لینے کو ناپسند کیا اور اپنے طبعی میلان اور منصبی ذمہ داریوں کی وجہ سے اپنی ذات کی حد تک ان سے بالعموم گریز ہی کا رویہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے اپنے مضمون کا اختتام ہی دیلمی کی اس روایت پر کیا ہے کہ زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک نوجوان گیت گاتا ہوا گزرا تو آپ نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا: یاشاب ھلا بالقرآن تغنی؟ ''اے نوجوان تو قرآن کو غنا سے کیوں نہیں پڑھ لیتا؟''

خوش الحانی کی تحسین

اس عنوان کے تحت ہم نے بخاری کی روایت رقم ۴۷۶۱ نقل کی تھی۔ اس میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو موسیٰ اشعری کی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت سن کر ارشاد فرمایا کہ تجھے تو قوم داؤد کے سازوں میں سے ایک ساز دیا گیا ہے۔

اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے ہم نے بیان کیا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تحسین فرمانے کا سبب خوش الحانی ہے۔یہ چیز ظاہر ہے کہ تلاوت کے علاوہ بھی کہیں موجود ہو گی تو پسندیدہ ٹھہرے گی۔چنانچہ اللہ کی حمد و ثنا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت یا دیگر اچھے مضامین کے اشعار کو اگر خوش الحانی سے پڑھا جائے تو ان سے محظوظ ہونے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی جائے گی۔ مزید براں اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 'مزامیر آل داؤد' کے الفاظ مثبت انداز سے استعمال فرمائے ہیں ۔ ان کے استعمال سے آپ نے گویا سیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی قوم کے بارے میں بائیبل کی ان روایات کی تصدیق فرما دی ہے جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد وثنا کے لیے آلات موسیقی استعمال کیا کرتے تھے۔

ہمارے اس نقطۂ نظر پر ''الاعتصام'' کی تنقید حسب ذیل ہے:

''روایت میں ''مزمار '' کا لفظ آیا ہے جس سے ظاہر بینوں اور موسیقی پرستوں کو دھوکا لگا، اسی بنا پر اس کا یہاں معنی ''ساز ''کیا گیا اور محرف بائیبل کے بعض بیانات کی بنیاد پر یہ بھی کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیبل کی تصدیق فرما دی جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد و ثنا کے لیے آلات موسیقی استعمال کرتے تھے۔ بلا شبہ ''مزمار ''کے معنی ساز کے ہیں۔ لیکن اس سے مراد یہاں حسن صوت ہے...یوں نہیں کہ حضرت ابو موسیٰ ''مزمار'' بجاتے اور قرآن پڑھتے تھے یا حضرت داؤد علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے گیت آلات موسیقی پر گاتے تھے... علاوہ ازیں حضرت عبداللہ بن عمر سے مروی ہے کہ مشرق سے دو آدمی مدینہ طیبہ حاضر ہوئے، انھوں نے وعظ کیا تو صحابۂ کرام نے ان کے واعظ و خطبہ پر بڑے تعجب کا اظہار کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ''بعض بیان جادو ہوتا ہے۔'' یہاں بھی خوش بیانی اور حسن صوت کو جادو سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تو کیا یہاں بھی یہ کہا جائے گا کہ آپ نے خوش بیانی اور خوش الحانی کو جادو سے تعبیر کیااور آپ نے مثبت انداز میں ان کی خوش الحانی کے جادو کا ذکر کیا۔ لہٰذا جادو اور سحر بھی حرام نہیں۔ حالاں کہ معمولی سمجھ بوجھ رکھنے والاانسان بھی جانتا ہے کہ دونوں جگہ صرف خوش الحانی کی تحسین و توصیف ہے مزامیر یا سحر کی نہیں۔''(۱۱/۵۷:۲۳۔۲۴)

اس تقریر دل پذیر پر ہماری فقط دو گزارشات ہیں۔

اولاً، یہ ہم نے کہاں بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ تحسین آمیز کلمات سے مراد خوش الحانی یا حسن صوت نہیں، بلکہ مزمار(ساز )ہے۔ ہم نے تو اس روایت کا عنوان ہی ''خوش الحانی کی تحسین'' قائم کیا ہے اور اس کے تحت نہایت صراحت کے ساتھ یہ لکھا ہے کہ ''نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوش الحانی کو پسند فرماتے تھے۔'' یہ نہیں لکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مزامیر یا آلات موسیقی کو پسند فرماتے تھے۔چنانچہ اس ضمن میں سوائے اس کے کیاکہا جا سکتا ہے کہ ایسی بات کے لیے لغت میں کذب، دروغ ، جھوٹ ، بہتان اور بددیانتی کے الفاظ مستعمل ہیں۔

جہاں تک مزامیر آل داؤد کی تصدیق کے حوالے سے ہماری بات کا تعلق ہے تو اس ضمن میں ہمارا حسن ظن یہی ہے کہ غالباً ہماری بات اہل الاعتصام کی سمجھ میں نہیں آ سکی۔ ہم اس کی مزید وضاحت کیے دیتے ہیں۔ہم نے بیان کیا تھا:

''مزامیر آل داؤد کے الفاظ کے استعمال سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گویاسیدنا داؤد علیہ السلام اور ان کی قوم کے بارے میں بائیبل کی ان روایات کی تصدیق فرما دی ہے جن کے مطابق وہ اللہ کی حمد وثنا کے لیے آلات موسیقی استعمال کیا کرتے تھے۔''

ہمارا یہ استدلال اگرچہ بہت سادہ ہے، مگر ہم مزید وضاحت کے لیے حدیث ہی سے اس کی ایک مثال پیش کر دیتے ہیں۔ توقع ہے کہ اس کے بعد ہماری بات سمجھ میں آ جائے گی۔

بخاری کی روایت رقم ۱۳۱۹میں بیان ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ اگر میرے پاس احد پہاڑکے برابر سونا ہو تو میں اسے ضرورت مندو ں میں تقسیم کر دوں۔اس روایت کی بنا پر اگر یہ کہا جائے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ سے اس بات کی تصدیق ہو گئی ہے کہ کرۂ ارض پر احد نام کا پہاڑ پایا جاتا ہے تو یہ غلط نہ ہو گا ۔ 'مزامیر آل داؤد' کے الفاظ سے ہمارے استدلال کو ایسے ہی سمجھنا چاہیے۔

اس بحث کے ساتھ ہی ''احادیث اور موسیقی'' کے باب پر ''الاعتصام'' کی تنقید پایۂ تکمیل کو پہنچتی ہے۔