اسلام اور موسیقی


[جاوید احمد غامدی کے افادات پر مبنی]

انسان کو اللہ تعالیٰ نے احسن تقویم پر پیدا کیاہے۔ چنانچہ فکر و عمل میں حسن و خوبی کی جستجو اس کی خلقت کا لازمی تقاضا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ شر کے مقابلے میں خیر کا طالب اور سیئات کے برعکس حسنات کا تمنائی ہے۔ وہ نفرت، جھوٹ، ظلم اور بے انصافی کے بجائے اخلاص و محبت، صدق و صفا اور عدل و انصاف کا داعی اور ظلمت کے بجائے نور، تعفن کے بجائے خوش بو اور بدنمائی کے بجائے رعنائی کا مشتاق ہے۔ تہذیب و تمدن کا ارتقا درحقیقت حسن وخوبی کی جستجو ہی کی داستان ہے۔ اس کا لفظ لفظ بتا رہا ہے کہ انسان نے ہمیشہ بہترین کا انتخاب کیا ہے ۔ نشو و نما کے لیے اسے غذا کی ضرورت تھی۔ وہ اسے خار و خس اور ساگ پات سے بھی پورا کر سکتا تھا، مگر اس نے انواع و اقسام کے خوش ذائقہ کھانوں کو دستر خوان پر سجایا۔ سترپوشی اس کی حیا کا تقاضا تھا، یہ بوریااوڑھ کر اور ٹاٹ لپیٹ کر بھی پورا ہو سکتا تھا، مگر اس نے ریشم و دیبا اور اطلس و کم خواب کا انتخاب کیا۔ رہنے بسنے کے لیے اسے مسکن درکار تھا، اس کا بندوبست جنگلوں اور صحراؤں میں غاروں، خیموں اور جھونپڑیوں کی صورت میں بھی ہو سکتا تھا، مگر اس نے شہر آباد کیے اور ان میں عالی شان محلات آراستہ کیے۔ میل جول میں اسے ابلاغ مدعاکی ضرورت تھی ۔ یہ اشاروں سے نہ سہی تو سادہ بول چال سے بھی کیا جا سکتا تھا، مگر اس نے کلام کے ایسے اسالیب وضع کیے کہ زبان شعر و ادب کے قالب میں ڈھل گئی۔ انسان کی اس تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فطرت ہی یہ ہے کہ وہ اپنے ہر اقدام میں حسن و خوبی کا خوگر ہے۔اس کی ظاہری و باطنی حسیات اور ان کے لوازم اس کے ذوق جمال کے آئینہ دار ہیں۔ چنانچہ یہ اس کا حسن نظر ہے کہ وہ گرد و پیش کی تزیین و آرایش کرتا اور اپنے تصورات کو تصویروں میں ڈھالتا ہے، یہ اس کا حسن بیان ہے کہ وہ لفظوں کو مرتب کرتا اور ان کے آہنگ اور معانی کی تاثیر سے شاعری تخلیق کرتا ہے، یہ اس کا حسن صو تہے کہ وہ آواز میں درد و سوز اور لحن و غنا پیدا کرتا اور اس کے زیر و بم سے راگ اور سر ترتیب دیتا ہے اور یہ اس کا حسن سماعت ہے کہ وہ اپنے ماحول کی آوازوں سے مسحور ہوتا اور انھیں محفوظ کرنے کے لیے ساز تشکیل دیتا ہے۔موسیقی درحقیقت اس کے حسن صوت اور حسن سماعت کا مجموعی اظہار ہے۔ چنانچہ یہ اس کے ذوق جمالیات کی تسکین کاباعث بنتی اور اس کے داخلی وجود کے لیے حظ و نشاط کا سامان کرتی ہے۔

موسیقی انسانی فطرت کا جائز اظہارہے، اس لیے اس کے مباح ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے، مگر بالعموم یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اسلامی شریعت اسے حرام قرار دیتی ہے۔ ہمارے نزدیک اس تصور کے لیے شریعت میں کوئی بنیاد موجود نہیں ہے۔ دین میں کسی چیز کے جواز یا عدم جواز کے لیے فیصلہ کن حیثیت قرآن و سنت کو حاصل ہے ۔ ان کی سند کے بغیر شریعت کی فہرست حلت و حرمت میں کوئی ترمیم و اضافہ نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ ایمان کا تقاضا ہے کہ جن امور کو یہ جائز قرار دیں،انھیں پورے شرح صدر کے ساتھ جائز تصور کیا جائے اور جنھیں ناجائز قرار دیں ، فکر و عمل کے میدان میں ان کے جواز کی کوئی راہ ہر گز نہ ڈھونڈی جائے۔

کسی معاملے میں دین کا نقطۂ نظر جاننے کے لیے اہل علم کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے شریعت کے یقینی ذرائع یعنی قرآن و سنت سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پھرحدیث کی کتابوں میں درج نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب روایات کی تحقیق کی جاتی ہے۔اگر موضوع سے متعلق روایات موجود ہوں تو عقل و نقل کے مسلمات کی روشنی میں ان سے رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ضرورت ہو تو قدیم الہامی صحائف کا مطالعہ بھی کیا جاتا ہے اور صحابۂ کرام کے آثار کی روایتیں بھی دیکھی جاتی ہیں ۔انجام کار قرآن ، حدیث اور فقہ کے علماے سلف و خلف کی شروح اور توضیحات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس طریق کار کے مطابق جب ہم موسیقی کے بارے میں مختلف مصادر سے رجوع کرتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے بین الدفتین موسیقی کو براہ راست یا بالواسطہ ، کسی اسلوب میں بھی ممنوع قرار نہیں دیا گیا ۔ سنن کی فہرست میں کسی ایسے عمل کا ذکر نہیں ہے جسے حرمت غنا کا مبنیٰ بنایا جائے۔ذخیرۂ حدیث میں صحیح اور حسن کے درجے کی متعدد روایات موسیقی اور آلات موسیقی کے جوازپر دلالت کرتی ہیں۔ ان کی ممانعت کی روایتیں بھی موجود ہیں، مگر ان میں سے بیش تر کو محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ تاہم ان کے مضامین سے معلوم ہوتا ہے کہ ممانعت کا سبب ان کی بعض صورتوں کا شراب ، فواحش اور بعض دوسرے رذائل اخلاق سے وابستہ ہونا ہے ۔ قدیم صحائف میں سے بائیبل میں واضح طور پر یہ بیان ہوا ہے کہ سیدنا داؤد علیہ السلام نہایت خوش الحان تھے اورساز و سرود کے ذریعے سے اللہ کی حمد و ثنا کرتے تھے۔آپ پر نازل ہونے والی کتاب ''زبور'' ان الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے جو آپ نے بربط پر گائے تھے۔ صحابۂ کرام کے آثار میں پسند و ناپسند، دونوں طرح کی روایات موجود ہیں۔جہاں تک علما اور محققین کے کام کا تعلق ہے تو بعض علما نے تفسیربالماثور کے طریقے پر قرآن کے چند الفاظ کا مصداق غنا کو قراردیا ہے اور اس بنا پر موسیقی کی حرمت اور شناعت کا رجحان ظاہر کیا ہے۔علماے حدیث حرمت موسیقی کی اکثر روایتوں کو کمزور قرار دیتے ہیں۔اس سلسلے میں بعض علما کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ کتب حدیث میں کوئی ایک روایت بھی ایسی نہیں ہے جسے صحیح کے درجے میں شمار کیا جائے۔ فقہاے کرام کی اکثریت موسیقی کی حرمت کا حکم لگاتی ہے۔ اس ضمن میں ان کی بناے استدلال بالعموم وہی روایات ہیں جنھیں علماے حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

اس موضوع پر علوم دین کے مصادر سے ممکن حد تک رجوع کے بعد ہمارا نقطۂ نظر یہ ہے کہ موسیقی مباحات فطرت میں سے ہے۔ اسلامی شریعت اسے ہر گزحرام قرار نہیں دیتی۔ لوگ چاہیں تو حمد، نعت، غزل، گیت، یا دیگر المیہ، طربیہ اور رزمیہ اصناف شاعری میں فن موسیقی کو استعمال کر سکتے ہیں۔شعر و ادب کی ان اصناف میں اگر شرک و الحاد اور فسق و فجور جیسے نفس انسانی کو آلودہ کرنے والے مضامین پائے جاتے ہوں تو یہ بہرحال مذموم اور شنیع ہیں ۔ اس شناعت کا باعث ظاہر ہے کہ نفس مضمون ہے۔نفس مضمون اگر دین و اخلاق کی روسے جائز ہے تو نظم ، نثر ، تقریر، تحریر، صدا کاری یا موسیقی کی صورت میں اس کے تمام ذرائع ابلاغ مباح ہیں، لیکن اس کے اندر اگر کوئی اخلاقی قباحت موجود ہے تو اس کی حامل مخصوص چیزوں کولازماً لغو قرار دیا جائے گا ۔چنانچہ مثال کے طور پر اگر کسی نعت میں مشرکانہ مضامین کے اشعار ہیں تواس نعت کی شاعری ناجائز سمجھی جائے گی ، صنف نعت ہی کو غلط قرار نہیں دیا جائے گا ۔ اسی طرح اگر کوئی نغمہ فحش شاعری پر مشتمل ہو تواس کے اشعار ہی لائق مذمت ٹھہریں گے، نہ کہ اصناف شعر و نغمہ کو مذموم تصور کیا جائے گا۔ تاہم کسی موقع پر اگر کوئی اخلاقی برائی کسی مباح چیز کے ساتھ لازم و ملزوم کی حیثیت اختیار کر لیتی ہے تو سد ذریعہ کے اصول کے تحت وہ چیزوقتی طور پر ممنوع قرار دی جا سکتی ہے ۔