اسلام اور ریاست


عام طور پر بیان کیا جاتا ہے کہ پاکستان کے بانی اُسے ایک اسلامی جمہوری فلاحی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ بعد کے زمانوں میں بھی پاکستان کے بارے میں یہی تصور قائم رہا۔ اِس وقت جو لوگ انقلاب اور تبدیلی کے علم بردار بن کر اٹھے ہیں، وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں۔ پاکستان کے عوام سے پوچھا جائے تو اُن کی ایک بڑی اکثریت بھی اِسی تصور کی تصدیق کرتی ہے۔ جمہوری اور فلاحی ریاست کے بہترین نمونے اِس وقت مغربی دنیا میں موجود ہیں، اِ س لیے اِن تصورات کو سمجھنا چنداں مشکل نہیں ہے۔ لیکن 'اسلامی' سے کیا مراد ہے؟ اِس کا ایک نمونہ سعودی عرب کی بادشاہت اور دوسرا ایران کی پاپائیت ہے۔ اسلام کو براہ راست اُس کے ماخذ سے سمجھنے کی کوشش کی جائے تو وہ اِن دونوں کو قبول نہیں کرتا۔ چنانچہ ضروری ہے کہ مسلمانوں کے نظم اجتماعی سے متعلق اسلام کے مطالبات یہاں بیان کر دیے جائیں تاکہ لوگ اِس روشنی میں اپنے رہنماؤں کے وعدوں اور اقدامات کا جائزہ لے سکیں۔

یہ مطالبات درج ذیل ہیں:

۱۔ جو لوگ اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا کا آخری پیغمبر مانتے ہوں، نماز کا اہتمام کرتے ہوں، ریاست کو زکوٰۃ ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، اُنھیں مسلمان سمجھا جائے گا اور اسلامی شریعت نے جو حقوق خاص اُن کے لیے مقرر کر دیے ہیں، وہ ہر حال میں ادا کیے جائیں گے۔

اِس کے معنی یہ ہیں کہ وہ کسی کی رعایا نہیں، بلکہ برابر کے شہری ہوں گے۔ قانون اور ریاست کی سطح پر اُن کے مابین کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ اُن کے جان و مال اور آبرو کو حرمت حاصل ہو گی، یہاں تک کہ ریاست اُن کی رضامندی کے بغیر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی ٹیکس بھی اُن پر عائد نہیں کر سکے گی۔ اُن کے شخصی معاملات، یعنی نکاح، طلاق، تقسیم وراثت اور اِس نوعیت کے دوسرے امور میں اگر کوئی نزاع اُن کے درمیان پیدا ہو جائے گی تو اُس کا فیصلہ اسلامی شریعت کے مطابق ہو گا۔ روز و شب کی نمازوں، ماہ رمضان کے روزوں اور حج و عمرہ کے لیے اُنھیں تمام ضروری سہولتیں مہیا کی جائیں گی۔ نماز اور زکوٰۃ کے سوا اُنھیں قانون کی طاقت سے اسلام کے کسی ایجابی حکم کا پابند نہیں کیا جائے گا۔ اُن پر عدل و انصاف کے ساتھ اور 'اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ' کے طریقے پر حکومت کی جائے گی۔ اُن کے قومی املاک اجتماعی ضرورتوں کے لیے خاص رہیں گے، اُنھیں نجی ملکیت میں نہیں دیا جائے گا، بلکہ اِس طرح نشوونما دی جائے گی کہ جو لوگ معیشت کی دوڑ میں پیچھے رہ جائیں، اُن کی ضرورتیں بھی اِن املاک کی آمدنی سے پوری ہوتی رہیں۔ وہ دنیا سے رخصت ہوں گے تو اُن کی تجہیز و تکفین مسلمانون کے طریقے پر ہو گی، اُن کا جنازہ پڑھا جائے گا اور اُنھیں مسلمانوں کے قبرستان میں اور اُنھی کے طریقے پر دفن کیا جائے گا۔

۲۔ نماز جمعہ اور نماز عیدین کا اہتمام حکومت کرے گی۔ یہ نمازیں صرف اُنھی مقامات پر ادا کی جائیں گی جو ریاست کی طرف سے اُن کے لیے مقرر کر دیے جائیں گے۔ اِن کا منبر حکمرانوں کے لیے خاص ہو گا۔ وہ خود اِن نمازوں کا خطبہ دیں گے اور اِن کی امامت کریں گے یااُن کی طرف سے اُن کا کوئی نمائندہ یہ ذمہ داری ادا کرے گا۔ ریاست کے حدود میں کوئی شخص اپنے طور پر اِن نمازوں کا اہتمام نہیں کر سکے گا۔

۳۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اصلًا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ادارے ہوں گے۔ چنانچہ معاشرے کے صالح ترین افراد اِن اداروں کے لیے کارکنوں کی حیثیت سے منتخب کیے جائیں گے۔ وہ لوگوں کو بھلائی کی تلقین کریں گے اور اُن سب چیزوں سے روکیں گے جنھیں انسان ہمیشہ سے برائی سمجھتا رہا ہے۔

۴۔ ریاست اپنے دشمنوں کے معاملے میں بھی قائم بالقسط رہے گی۔ حق کہے گی، حق کی گواہی دے گی اور حق و انصاف سے ہٹ کر کبھی کوئی اقدام نہیں کرے گی۔

۵۔ ریاست کے اندر یا باہر اگر کسی سے کوئی معاہدہ ہوا ہے تو جب تک معاہدہ باقی ہے، لفظ اور معنی، دونوں کے اعتبار سے اُس کی پابندی پوری دیانت اور پورے اخلاص کے ساتھ کی جائے گی۔

۶۔ مسلمانوں میں سے کوئی شخص اگر قتل، چوری، زنا، فساد فی الارض اور قذف کا ارتکاب کرے گا اور عدالت مطمئن ہو جائے گی کہ اپنے ذاتی، خاندانی اور معاشرتی حالات کے لحاظ سے وہ کسی رعایت کا مستحق نہیں ہے تو اُس پر وہ سزائیں نافذ کی جائیں گی جو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دعوت کو شرح صدر کے ساتھ قبول کر لینے کے بعد اِن جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کے لیے اپنی کتاب میں مقرر کر دی ہیں۔

۷۔ اسلام کی دعوت کو اقصاے عالم تک پہنچانے کے لیے ریاست کی سطح پر اہتمام کیا جائے گا۔ دنیا کی کوئی طاقت اگر اِس میں رکاوٹ پیدا کرے گی یا ایمان لانے والوں کو جبر و تشدد کا نشانہ بنائے گی تو ریاست اپنی استطاعت کے مطابق اِس رکاوٹ کو دور کرنے اور اِس تشدد کو روکنے کی کوشش کرے گی، اگرچہ اِس کے لیے تلوار اٹھانی پڑے۔*

_______________

* اسلام کے مآخذ میں اِن مطالبات کے دلائل کے لیے دیکھیے، ہماری کتاب: ''میزان''