اسلامی تہذیب


نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد جو تہذیب دنیا میں پیداہوئی، اُس کی بنیادی قدر عبودیت تھی۔ اِس کے معنی یہ تھے کہ معاشرہ خدا پر ایمان اور اُس کے ساتھ بندگی کے تعلق کو محورومرکز کی حیثیت دیتا اور زندگی کے تمام معاملات کو اِسی محور سے متعلق کرتا ہے۔ آزادی اُس میں بھی ایک بڑی قدر تھی، لیکن وہ بندگی سے آزاد نہیں تھی۔ اِس تہذیب کے اخلاقی تصورات میں کوئی ابہام نہ تھا۔ وہ خدا کے الہام سے تصویب حاصل کرتے تھے۔ اِس کے شاعر، ادیب، فلسفی، حکیم، سائنس دان اور ارباب سیاست، سب اِس معاملے میں بالکل واضح تھے اور اپنے نتائج فکر بالعموم اِسی حوالے سے پیش کرتے تھے۔ چنانچہ اِس سے جو تہذیبی روایت قائم ہوئی اور کم و بیش ایک ہزار سال تک مسلمانوں کے اجتماعی وجود کا احاطہ کیے رہی، اُس کے عناصر یہ تین تھے:

ایک حفظ فروج،

دوسرے حفظ مراتب،

تیسرے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔

حفظ فروج کے معنی یہ تھے کہ لوگوں کو اِس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ معاشرے میں بدکاری کو عام کریں، مرد مردوں سے اور عورتیں عورتوں سے علانیہ جنسی تعلقات پیدا کریں، اِسی تعلق کی بنا پر اکٹھے رہیں یا جنسی اعضا اور جنسی معاملات دوسروں کے سامنے کھولیں۔

حفظ مراتب کے معنی یہ تھے کہ خلقت کے لحاظ سے تمام انسان، بے شک برابر ہیں، مگر رشتوں میں برابری نہیں ہے۔ چھوٹوں کے لیے بڑے، اولاد کے لیے والدین، شاگردوں کے لیے استاد اور بیوی کے لیے شوہر برتری کے مقام پر ہیں۔اِن کے لیے تادیب و تنبیہ کا حق مانا جائے گا اور اِن کی عزت اور اِن کا احترام ہر حال میں قائم رکھا جائے گا۔

امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے معنی یہ تھے کہ معاشرہ خیروشر کے مسلمات سے بے تعلق نہیں رہے گا۔ انسانی فطرت میں جو چیزیں خیر کی حیثیت سے پہچانی جاتی ہیں اور جنھیں پوری انسانیت مانتی ہے اور جن چیزوں کو فطرت شر سمجھتی اور پوری انسانیت جن سے نفرت کرتی ہے، اُن سے لوگوں کو ہر حال میں روکا جائے گا۔

یہ تہذیبی روایت انسانیت کا حسن اور اُس کے چہرے کا جمال تھی۔ اِس کا زوال انسانیت کا زوال ہے۔ انسانی حقوق، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لیے دور جدید کا انسان جتنا حساس ہے، اے کاش وہ اِس روایت کی بازیافت کے لیے بھی اتنا ہی حساس ہو جائے۔