اسلامی حکومت


انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ حکومت قائم کرکے زندگی بسر کرتا ہے۔ اِس کا پہلا ظہور اُس وقت ہوا ، جب لوگوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے قبیلوں کے لیے سرداروں کا انتخاب کریں گے۔ پھر یہی سردار جب دوسرے قبیلوں پر حملہ کرکے اپنی سرداری اُن پر بھی مسلط کر دینے میں کامیاب ہو گئے تو مفتوحہ علاقوں کے مالک بن بیٹھے اور بتدریج اِس نے خاندانی بادشاہی کی صورت اختیار کر لی۔بعد کے زمانوں میں اِنھی بادشاہوں نے بڑے بڑے فاتحین کی حیثیت سے سلطنت ہاے عام کی بنیادڈالی اور وہ حکومتیں وجود میں آئیں جنھیں ہم سامانی سلطنت، رومی سلطنت اور اِس طرح کی بعض دوسری سلطنتوں کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ سلطنتیں تو اب ختم ہو چکی ہیں، مگر بادشاہتیں کئی جگہ باقی ہیں اور زیادہ تر آئینی بادشاہتوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ چند ملکوں کو چھوڑ کر ہر جگہ یہی صورت حال ہے۔ اِن مستثنیات میں ایک سعودی عرب کی بادشاہت ہے۔ یہ ابھی تک اپنے اصل جاہ و جلال کے ساتھ قائم ہے۔ اِس طرح کی بادشاہت میں قانون کیا ہو گا؟ اِس کا فیصلہ بادشاہ اور اُس کے اعیان و اکابر کرتے ہیں۔ سعودی حکومت محمد بن عبدالوہاب کی اصلاحی تحریک کے نتیجے میں قائم ہوئی تھی۔ چنانچہ اپنی تاسیس کے پہلے دن ہی سے اُس نے فیصلہ کر رکھا ہے کہ اُس کا ملکی قانون اسلامی شریعت ہے۔ سنی علما کی بڑی اکثریت بادشاہت کو خلاف شریعت نہیں سمجھتی اور شریعت کی جو تعبیر سعودی حکومت نے اختیار کر رکھی ہے، اُس سے فی الجملہ متفق بھی ہے۔ اِس لیے اُن کے خیال میں یہ ایک اسلامی حکومت ہے اور اِسی حیثیت سے وہ اِس کے ساتھ وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔

دورحاضر میں اسلام کا جو انقلابی فکر پیدا ہوا، اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ صرف صالحین کی منظم اقلیت ہے جو لوگوں پر حکومت کا حق رکھتی ہے۔ خدا سے پھرے ہوئے لوگ اگر حکومت کر رہے ہیں تو درحقیقت غاصب ہیں ۔ صالحین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اُن سے اپنا یہ حق واپس لینے کی جدوجہد کریں۔ شیعہ تعبیر میں یہی چیز معصومین کی حکومت اور ولایت فقیہ جیسے تصورات کی صورت میں پہلے سے موجود تھی۔ چنانچہ سنی اور شیعہ علما نے بھی جگہ جگہ اپنی جماعتیں اِسی مقصد سے قائم کر رکھی ہیں اور نئے تعلیم یافتہ لوگ بھی کئی ملکوں میں صالحین کی یہ منظم اقلیت پیدا کرکے اپنی تعبیر کے مطابق اسلامی حکومت قائم کرنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اِن میں سے بعض جگہ یہ جدوجہد کامیابی سے ہم کنار بھی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر ایران میں جہاں امام خمینی کی قیادت میں علما اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور گذشتہ ربع صدی سے پوری طاقت کے ساتھ حکومت کر رہے ہیں۔ اِسی طرح افغانستان میں جہاں حکومت پاکستان کی مدد اور تعاون سے اِنھی علما کے شاگردوں نے اپنی حکومت قائم کر لی تھی جو بدقسمتی سے ۹ ستمبر کے حادثے کی نذر ہو گئی اور اب اپنے احیا کے لیے نیٹو ممالک کی فوجوں کے ساتھ برسرجنگ ہے۔

اِس پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کیا چاہتا ہے؟ قرآن و حدیث کا دقت نظر کے ساتھ مطالعہ کیا جائے تو یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ اسلام کا اصل مخاطب فرد ہے۔ وہ اُس کے دل و دماغ پر اپنی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ چنانچہ اُسی کو پابند کرتا ہے کہ اپنے پورے وجود پر خدا کی حاکمیت تسلیم کرے۔ اُس کا خدا جس طرح انسانوں کا رب اور انسانوں کا معبود ہے، اُسی طرح انسانوں کا بادشاہ بھی ہے، اِس لیے ضروری ہے کہ عبادت کے ساتھ اُس کی اطاعت بھی کی جائے اور جس معاملے میں کوئی قانون یا ضابطہ اُس نے مقرر کر دیا ہے، اُس کے سامنے انسان ہمیشہ سرتسلیم خم رکھے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ وہ معاشرے کو بھی مخاطب کرتا ہے، لیکن اُس وقت جب معاشرے کے افراد اپنے وجود پر یہ حکومت تسلیم کر لیتے ہیں۔ اُس وقت کسی جدوجہد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اُن کے معاشرتی ، سماجی، تہذیبی اورسیاسی رویوں میں آپ سے آپ اسلام کا ظہور ہو جاتا ہے۔ لہٰذا خدا کی شریعت میں کوئی حکم اگر معاشرے سے متعلق ہے تو بغیر کسی تردد کے وہ اُس کے نفاذ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

اسلامی حکومت یہی ہے۔ یہ اِس طریقے سے قائم ہوتی ہے تو خدا کی رحمت زمین پر سایہ کرتی ہے۔ لیکن نہ قائم ہو، تب بھی کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے، اِس لیے کہ اسلام کا ہدف یہ حکومت نہیں، بلکہ تزکیۂ نفوس ہے۔ اُس کی دعوت خدا کی اُس بادشاہی کے لیے ہے جو قیامت کے دن اِسی تزکیے کے نتیجے میں حاصل ہو گی۔ وہ لوگوں کو جہنم سے بچنے اور خدا کی اِس ابدی بادشاہی میں داخل ہونے کی دعوت دینے کے لیے آیا ہے، دنیا میں اپنے ماننے والوں کی حکومت قائم کرنے کے لیے نہیں آیا۔ تاہم جو لوگ اِس 'اخری تحبونھا'* کے لیے بے تاب ہیں، پچھلی ڈیڑھ صدی کے تجربات اُنھوں نے بھی دیکھ لیے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ یہ حقیقت اب اُنھیں بھی تسلیم کر لینی چاہیے کہ اسلامی حکومت نہ شاہی فرمان سے قائم ہوتی ہے، نہ علما کی آمریت سے اور نہ خدائی فوج داروں کی کسی جماعت کے لوگوں پر مسلط ہو جانے سے۔ یہ ہدف نہیں، بلکہ نتیجہ ہے جو اسلام اور اسلامی شریعت پر لوگوں کے شرح صدر سے نکلتا ہے اور اِسی طرح نکلنا چاہیے۔ یہ اِس طرح نکلے گا تو وہ حکومت قائم ہو گی جسے لفظ کے ہر مفہوم میں اسلامی حکومت کہا جاسکے۔ اِس حکومت کا قیام مقصود ہے تو سیاست بازی میں اپنا وقت ضائع کرنے اور جہاد و قتال کے نام پر خود مرنے اور بے گناہوں کو مارنے کے بجاے پوری قوت دو چیزوں پر صرف کر دی جائے:

ایک یہ کہ وعظ و تذکیر سے ، علم و استدلال سے، تعلیم و تربیت سے یہ حکومت لوگوں کے دل و دماغ پر قائم کرنے کی کوشش کی جائے، یہاں تک کہ اُن کے ارباب حل و عقد کو بھی اسلام اور اسلامی شریعت کے بارے میں وہی شرح صدر حاصل ہو جائے جو اسلام کی دعوت لے کر اٹھنے والوں کو حاصل ہے۔

دوسرے یہ کہ ہر جگہ جمہوریت اور جمہوری اقدار کو فروغ دیا جائے تاکہ لوگ سیاست و معیشت میں اسلام کے تقاضے پورے کرنے کے لیے تیار ہو جائیں تو کوئی استبداد اُن کی راہ میں حائل نہ ہو سکے۔ استبدادی قوتوں کے خلاف جدوجہد درحقیقت فتنے کے خلاف جدوجہد ہے اور فتنہ قرآن کے مطابق قتل سے بڑا جرم ہے جس کے مرتکبین، خواہ وہ بادشاہ ہوں یا آمر اِسی کے مستحق ہیں کہ دنیا کے اسٹیج سے ہمیشہ کے لیے رخصت کر دیے جائیں۔

* الصف۶۱:۱۳۔ ''وہ دوسری چیز جسے تم پسند کرتے ہو۔''